جنوری 2023ء

ٹرانس جینڈر ایکٹ  (اردو متن)

اسے ٹرانس جینڈر پرسنز(Transgender Persons) (پروٹیکشن آف رائیٹس Protection of Rights) ایکٹ 2018 کہا جا سکتا ہے۔اِس کا اطلاق پاکستان میں ہر جگہ ہو گا۔اِس کا اطلاق فوری ہو گا۔

چیپٹر نمبر 1:تعاریف (Definitions)

تعریف یا ڈیفینیشنز (Definitions) میں ایکٹ برائے جینڈر پروٹیکشن رائیٹس (Gender Protection Rights,)، سی این آئی سی یعنی شناختی کارڈ، کمپلینینٹ(Complainant)  یعنی شکایت کُنندہ، سی آر سی مطلب بچوں کا رجسٹریشن فارم یا فارم ب / بی، جینڈر ایکسپریشن  (Gender expression) کا مطلب کسی شخص کی صنفی شناخت وہ خود یا دوسرے کیسے کرتے ہیں، جینڈر آئیڈینٹٹی (Gender identity) یعنی صنفی شناخت کا مطلب کہ وہ شخص اندر سے خُود کو کیسا محسوس کرتا ہے، بطور مرد، عورت، کُچھ کُچھ دونوں یا کُچھ بھی نہیں۔ یہ شناخت پیدائش کے وقت دِی گئی صنفی شناخت سے مُطابقت رکھ سکتی ہے اور نہیں بھی رکھ سکتی۔ اِس کے بعد گورنمنٹ یعنی حکومت سے مُراد وفاقی حکومت ہے۔

ہراسمنٹ (Harassment) سے مُراد یا ہراسمنٹ میں جِنسی، جِسمانی، ذہنی اور نفسیاتی ہراسمنٹ مُراد ہے جِس کا مطلب یہ ہے کہ سیکس کے لیے متشدد رویے، دباؤ، ناپسندیدہ سیکشوئل ایڈوائس (sexual- advice)، دعوت دینا وغیرہ سمیت ایسے تمام رویے جو اِس ضِمن میں آتے ہیں ہراسمنٹ کہلائے جائیں گے۔

نادرا کا مطلب شناختی کارڈ و اعداد و شمار کی رجسٹریشن کا اِدارہ ہے۔ نوٹیفیکیشن (Notification)جو گزٹ (Gazette)میں پبلش ہُوا ہو۔ پی ڈی ایم سی یعنی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایسوسی ایشن(Medical and Dental Association)، پی ڈی ایم سی آرڈینینس 1962ء۔

پرسکرائیبڈ (Prescribed) مطلب وفاقی حکومت نے جو قوانین اِس ایکٹ میں بنائے / پاس کیے ہیں۔ رُولز (Rules) مطلب جو قوانین اِس میں شامِل ہیں۔

ٹرانس جینڈر پرسن مطلب؛

درمیانی جِنس (خنثیٰ) مردانہ و زنانہ جِنسی اعضا کے ساتھ یا پیدائشی جِنسی ابہام، خواجہ سرا ایسا میل چائلڈ  (Mail Child)  جو بوقت پیدائش میل (Mail) درج کِیا گیا ہو لیکن جِنسی طور پر ناکارہ / خصی ہو گیا ہو، ایک ٹرانس جینڈر (Transgender)  مرد یا عورت جِس کی صنفی / جنسی شناخت یا شناخت کا اِظہار معاشرے  کی عُمومی اقدار سے ہٹ کر ہو یا اُس صنفی شناخت سے ہٹ کر ہو جو اُنہیں بوقتِ پیدائش دِی گئی تھی۔

کوئی ایسا لفظ یا الفاظ جس کی تعریف اِس ایکٹ میں نہیں کی گئی یا لِکھی گئی اُس کا مطلب وُہی لِیا جائے گا جو سی آر پی سی ( ضابطہ فوجداری 1898 ) یا پی پی سی ( 1860 ) تعزیراتِ پاکستان میں درج ہے۔

چیپٹر نمبر 2:

  • ایک ٹرانس جینڈر (Transgender)  کو اپنی جِنسی / صنفی شناخت اس شناخت کے مُطابق درج کروانے کا حق ہوگا جو صنفی / جِنسی شناخت وُہ خُود کو تصور کرتا ہے۔
  • ایک ٹرانس جینڈر (Transgender) اپنے آپ کو سب سیکشن وَن (Sub-Section One)  کے تحت اپنی تصور کردہ شناخت کے مُطابق تمام نادرا یا دیگر حکومتی اِداروں میں درج کروا سکتا ہے۔
  • ہر ٹرانس جینڈر اپنے آپ کو نادرا (NADRA) آرڈینینس 2000ء یا دیگر متعلقہ قوانین کے مُطابق اٹھارہ سال کی عُمر ہونے پر سیلف پرسِیوڈ جینڈر آئیڈینٹٹی کے مُطابق شناختی کارڈ، پاسپورٹ یا ڈرائیونگ لائسنس بنوا سکتاہے۔
  • ایک ٹرانس جینڈر جس کا شناختی کارڈ پہلے ہی بن چُکا ہے وہ بھی نادرا آرڈینینس 2000 کے مُطابق his or her سیلف پرسِیوڈ آئیڈینٹٹی (Self-perceived identity) کو اپنے شناختی کارڈ، پاسپورٹ یا ڈرائیونگ لائسنس پر درج کروا سکتا ہے۔

چیپٹر نمبر 3:

  • تعلیمی، صحت یا دیگر اِداروں میں تعلیم یا سروسز سے منع کرنا، ختم کروانا، نااِنصافی پر مبنی رویہ، نوکری کرنے پر مجبور کرنا یا چھوڑنے سے زبردستی روکنا یا امتیازی سلوک منع ہے، غیرقانونی ہے۔ جو عوامی سہولیات ہیں، جو عوام کو دستیاب ہیں اُن سے روکنا، اُن کے استعمال سے روکنا، سفری سہولیات سے روکنا، عوامی سفری سہولیات استعمال کرنے سے منع کرنا، رہائش اختیار کرنےسے روکنا، جائیداد کی خرید و فروخت، کرائے پر عمارت لینے یا وراثتی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد سے محروم کرنے یا حق سے اِنکار کرنا بالکل غیر قانُونی ہوگا۔ اُنہیں جِنسی، جِسمانی طور پر گھر یا گھر سے باہر ہراساں کرنا بھی منع ہے۔

چیپٹر نمبر 4: برائے حکومتی فرائض و ذمہ داریاں:

  • حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وُہ ٹرانس جینڈرز (Transgenders) کی معاشرے اور سماج میں مکمل اور محفوظ شمولیت کو مُمکن بنائے۔ اِن کے لیے ری ہیب سینٹرز سمیت دیگر پناہ گاہیں بنائے، میڈیکل سہولیات مُہیا کرے، نفسیاتی علاج و مدد سمیت تعلیم بالغاں کا بندوبست کرے۔
  • ٹرانس جینڈرز(Transgender) جو جَرائم میں ملوث ہوں اِن کے لیے الگ جیل خانہ جات، حوالہ جات و حوالات بنائے جائیں۔ تمام اِدارے جیسے کہ صحت کا اِدارہ یا دیگر اِداروں میں ٹرانس جینڈر ایشیو کے لیے وقتاً فوقتاً آگاہی دِی جائے۔ اِنہیں ووکیشنل ٹریننگ(Vocational training) دِی جائے تاکہ یہ اپنی روزی روٹی کا اِنتظام کر سکیں۔ اِنہیں آسان قرضے یا امداد دے کر چھوٹے کاروبار کرنے پر تیار کیا جائے۔اِن تمام معاملات کو مکمل کرنا ہی اِس ایکٹ کا مقصد ہے۔

چیپٹر نمبر 5: ٹرانس جینڈرز کے حقوق کا تحفظ:

  • وراثتی جائیداد یا وراثت سے بے دخل نہیں کِیا جا سکتا یا امتیازی سلوک نہیں روا رکھا جا سکتا۔ جو شناخت یہ اپنے آئی ڈی کارڈ پر درج کروائیں گے اُس کے مُطابق وراثتی حق ملے گا۔ بطور مَرد اندراج والے کو مَرد کا اور بطور عورت اندراج کو بطور عورت وراثتی حق ملے گا۔

جو اپنی مردانہ یا زنانہ شناخت بارے ابہام کا شکار ہیں اُن پر درج ذیل اطلاق ہو گا۔

اٹھارہ سال کی عمر ہونے پر جِن کا اندراج بطور مَرد ہے / ہو گا اُنہیں بطور مَرد جب کہ بطور عورت اندراج ہونے پر بطور عورت وراثتی حق مِلے گا / دِیا جائے گا لیکن پھر بھی اگر کِسی کو صنفی ابہام ہو گا تو دو الگ الگ اشخاص یعنی مرد اور عورت کے وراثتی حقوق کا اوسط / ایوریج حِصہ دِیا جائے گا۔ اٹھارہ سال سے کم عُمر یعنی نابالغ ہونے کی صُورت میں میڈیکل آفیسر کی رائے کے مُطابق طے ہو گا۔

  • حقِ تعلیم

اگر کوئی ٹرانس جینڈرکسی سرکاری یا پرائیویٹ تعلیمی اِدارے کی باقی شرائط پر پُورا اُترتا ہے تو اُس کو تعلیم کے حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا یا امتیازی سلوک نہیں کِیا جا سکتا۔ اُنہیں تفریحی سہولیات یا کھیلوں میں شمولیت سے منع نہیں کِیا جا سکتا۔

حکومت اِسلامی جمہوریہ پاکستان کے اُنّیس سو تہتر کے آئین کے آرٹیکل پچیس اے کے مُطابق ٹرانس جینڈرز کو لازمی اور فری تعلیم کی ضمانت دینے اور سہولیات مُہیا کرنے کے اقدامات کرے گی۔

جِنسی و صنفی امتیاز پر مبنی رویے غیر قانونی ہوں گے۔ اُنہیں اِس بنیاد پر تعلیمی اِداروں میں داخلہ دینے سے منع کرنا، روکنا یا کسی ٹریننگ پروگرام میں حِصہ لینے سے روکنا یا کسی سہولت کو استعمال کرنے سے روکنا غیر قانونی ہو گا۔

  • نوکری کا حق

اِسلامی جمہوریہ پاکستان کے اُنّیس سو تہتر کے آئین کا آرٹیکل اٹھارہ جو اِن کے لیے جائز ذریعہ آمدنی، کاروبار یا نوکری کی ضمانت دیتا ہے اُس کا اطلاق کروایا جائے۔ کوئی بھی اِدارہ، محکمہ یا تنظیم نوکری، ترقی، تقرری، تبادلے یا متعلقہ معاملات میں امتیازی سلوک نہیں کر سکتا۔ جِنسی یا صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک غیر قانونی ہو گا۔ اِس بنیاد پر نوکری دینے یا پیشکش کرنے، اُن کی کِسی جگہ آمد و رفت یا پیش رفت ، ترقی ، ٹریننگ یا ایسے ہی فوائد کے حصول سے روکنا یا محدود کرنا غیر قانونی ہو گا۔ امتیازی سلوک برائے برخاستگی وغیرہ بھی غیر قانُونی ہے / ہو گا۔

  • ووٹنگ کا حق

کسی ٹرانس جینڈر (Transgender)کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں کِیا جا سکتا وہ بمطابق اپنے شناختی کارڈ ووٹ ڈال سکتا ہے۔

  • رائیٹ ٹُو ہولڈ پبلک آفس (Right to hold public office)

عوامی عہدے کے لیے اگر کوئی الیکشن میں حِصہ لینا چاہے تو اُسے نہیں روکا جا سکتا۔

  • صحت کا حق

حکومت کو چاہیے کہ وہ میڈیکل نصاب کا دوبارہ جائزہ لے، جو ریسرچ ڈاکٹرز اور نرسنگ سٹاف کو ٹرانس جینڈرز کی صحت کے مسائل بارے ہے اُس کو مزید بہتر کیا جائے۔ اِن کو ہسپتالوں اور دیگر صحت کے مراکز پر سہولیات فراہم کی جائیں۔ اِن کو جِسمانی و نفسیاتی عِلاج، معالجے یا مدد کی فراہمی کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ جِنس کے تعین یا correction میں مدد دِی جائے۔

  • اکٹھے ہونے کا حق

بمطابق اُنّیس سو تہتر کے آئین کے آرٹیکل نمبر سولہ کے تحت دِیا جائے۔ حفاظت کا معقول بندوبست کِیا جائے۔ امتیازی سلوک نہ کِیا جائے۔

  • پبلک پلیسز(Public places) میں داخلے کی سہولت

اِس کے مُطابق ٹرانس جینڈرز کو پبلک پلیس (Public places)  میں داخلے، سہولیات کے استعمال سے جِنسی یا صنفی وجوہات پر روکا نہیں جا سکتا، امتیازی سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اِن کو روکنا یا امتیازی سلوک آئین کے آرٹیکل چھبیس (26)کی خِلاف ورزی ہو گا۔

  • جائیداد کا حق

جائیداد کی خرید و فروخت، لِیزنگ (Leasing)یا کرائے پر حصول سے بوجوہ جِنس / صنف روکا نہیں جاسکتا۔ یہ غیر قانونی ہے۔

  • بنیادی حقوق کی ضمانت

آئین میں دیے گئے تمام بُنیادی حقوق کی ضمانت دِی جائے۔ یہ حکومتی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی قِسم کے امتیازی سلوک سے روک تھام اور بچنے کے اقدامات کرے۔

  • جَرائم اور سزائیں

جو بھی ٹرانس جینڈرز (Transgenders)کو بھیک مانگنے پر رکھتا ہے یا مجبور کرے گا اُس کو چھ ماہ تک کی جیل کی سزا یا پچاس ہزار روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

چیپٹر نمبر  6:

  • اینفورسمینٹ میکنزم(Enforcement Mechanism)

آئینِ پاکستان، تعزیراتِ پاکستان اور ضابطہ فوجداری میں درج و دستیاب "remedies" کے ساتھ ساتھ متاثرہ ٹرانس جینڈر کو اگر کسی جگہ اُن حقوق سے محروم رکھا گیا یا جائے گا جو اُنہیں آئین دیتا ہے تو اُسے وفاقی محتسب، نیشنل کمیشن فار سٹیس آف ویمن یا نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس کو درخواست دینے کا حق حاصل ہو گا۔

چیپٹر نمبر7: ۔متفرق   :

  • Act having over-riding effect to any other law

اِس ایکٹ میں موجود پروژنز پہلے سے موجود قوانین سے متصادم ہونے کی صورت میں اُن پر بالا تصور ہوں گی یعنی اِن کی روشنی میں مزید معاملات برائے ٹرانس جینڈر دیکھے جائیں گے۔

  • حکومتی اختیار میں یہ شامل ہے وہ رولز (Rules) بنائے، نوٹیفیکیشن (Notification) جاری کرے یا اِس ایکٹ کے عمل درآمد کے لیے قوانین بنائے۔
  • حکومت کے پاس اختیار اور طاقت ہے کہ اگر اِس کے عمل درآمد میں کوئی مسائل یا مشکلات ہیں تو ایسے احکامات جاری کرے یا سرکاری گزٹ میں پبلش کرے۔ مسائل کو سامنے لا کر انہیں حل کرے تا کہ جلد از جلد رکاوٹ یا مشکل کو دُور کیا جا سکے۔ یہ سب دو سال کے اندر کیا جائے گا۔
  • ۔                                                                                 Statement of Objects and Reasons

ٹرانس جینڈرز کی کمیونٹی کو سماجی بے دخلی اور امتیازی سلوک کے مسائل ہیں۔ تعلیمی سہولیات کی کم یابی، بے روزگاری، صحت کی سہولیات کی کمی اور اِسی طرح کے متعدد مسائل دَرپیش ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے دو ہزار نو میں ایک رولنگ (Rulling)  پاس کی تھی کہ خواجہ سراؤں کو اُن کے بُنیادی حقوق سے کوئی قانون محروم نہیں رکھ سکتا۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل چھبیس اور ستائیس کی شِق نمبر ایک کے تحت تمام شہری قانون کی نظر میں مساوی ہیں۔ آرٹیکل اُنّیس آزادی رائے کی آزادی ہر شہری کو دیتا ہے لیکن پھر بھی ٹرانس جینڈرز کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔

ٹرانس جینڈر پرسنز پروٹیکشن(Transgender Persons Protection)  (پروٹیکشن آف رائیٹس) (Protection of Rights) بِل، دو ہزار سترہ:ٹرانس جینڈر کو ڈیفائین کرتا ہے

امتیازی سلوک سے روکتا ہے،اُسے شناخت کا حق / حقوق دیتا ہے، جو وہ خود کو کہتا یا مانتا ہے اُسے وہی شناخت دینے کی ضمانت دیتا ہے۔

کوئی اِدارہ اُسے نوکری، ترقی، تعلیم یا دیگر معاملات میں امتیازی سلوک کا نِشانہ نہ بنائے۔

حکومت کو چاہیے کہ وُہ اِن کی فلاح کے لیے اقدامات کرے۔

یہ بِل مندرجہ بالا گُزارشات کے حصول کے لیے ہے۔

پیش کردہ:

سینیٹر روبینہ خالد،سینیٹر روبینہ عِرفان،سینیٹر  ثمینہ سعید،سینیٹر کلثوم پروین ، سینیٹر کریم احمد خواجہ