مجلسِ فکرِ اہلِ حدیث...تعارف و منشور
(ایک علمی و فکری پلیٹ فارم کا مجوزہ خاکہ)
مجلسِ فکرِ اہلِ حدیث...تعارف و منشور
(ایک علمی و فکری پلیٹ فارم کا مجوزہ خاکہ)
ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری
تمہید: اسلامی شریعت کی اصل بنیاد کتاب و سنت ہے۔ یہی دین کا سرچشمہ، ہدایت کا مرکز اور امت کے فہم و عمل کا دائمی معیار ہے؛ تاہم کتاب و سنت کی تفہیم، تعبیر اور ان سے اخذ و استنباط کے باب میں امت کے اندر مختلف علمی مناہج وجود میں آئے۔ یہ اختلاف محض ذوق یا گروہی وابستگی کا نتیجہ نہیں بل کہ نصوص کے فہم، اصولِ استدلال اور مقصود شارع تک رسائی کے مختلف علمی اسالیب سے پیدا ہوا۔
ان مناہج میں سب سے مرکزی اور معتبر روایت اہلِ سنت والجماعت کی ہے۔ اسی وسیع دائرے میں فقہ و اجتہاد کے باب میں اہلِ حدیث اور اہلِ راے کے رجحانات نمایاں ہوئے جب کہ عقیدہ و کلام کے میدان میں اشاعرہ، ماتریدیہ اور اہل الاثریا سلفیہ کے مکاتب سامنے آئے۔ ان سب مکاتب کا اصل موضوع کتاب و سنت ہی کی تعبیر، دینی فہم کی تشکیل اور امت کی عملی رہ نمائی ہے۔ اس لیے انھیں محض فرقہ وارانہ عنوانات کے طور پر نہیں بل کہ امت کی علمی تاریخ میں منشاے شارع تک پہنچنے کے متنوع مناہج کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
اہلِ حدیث منہج کا امتیاز
ان مختلف علمی مناہج کے اعتراف کے ساتھ ہماری علمی راے یہ ہے کہ اہلِ حدیث منہج، اہلِ سنت والجماعت کی روایت میں ایک نہایت نمایاں، مضبوط اور اقرب الی الصواب اسلوب کی نمایندگی کرتا ہے۔ اس کا اصلی امتیاز یہ ہے کہ یہ کتاب و سنت کو دینی فہم کی بنیاد قرار دیتے ہوئے حدیث و آثار، فہمِ صحابہ و تابعین اور سلفِ امت کے مجموعی علمی تعامل کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔ اس منہج میں نصوصِ شرعیہ کو محض استدلال کا ایک ذریعہ نہیں بل کہ دین کی اصل میزان اور فکر و عمل کا بنیادی معیار سمجھا جاتا ہے۔
فقہ و اجتہاد کے باب میں اہل الراے کے بالمقابل اہلِ حدیث منہج نصوص و آثار کی مرکزیت، حدیث کی حجیت، آثارِ سلف کی معنویت اور دلیل کی بہ راہِ راست قوت کو نمایاں کرتا ہے۔ اسی طرح عقیدہ و کلام کے باب میں یہ اشاعرہ و ماتریدیہ کے کلامی اسالیب کے بجاے اہلِ اثر اور سلفیہ کے اس طریقِ فکر سے نسبت رکھتا ہے جو نصوصِ وحی کی تعظیم، صفاتِ الٰہی کے باب میں تسلیم و اتباع اور صحابہ و ائمۂ سلف کے فہم کو اساس بناتا ہے اور عقلی موشگافیوں اور دور دراز تاویلوں سے دامن بچاتے ہوئے نصوص کو ظاہری معانی پر محمول کرتے ہوئے اصل حقائق کو خدا کے سپرد کرتا ہے۔
اہلِ حدیث منہاج کی یہی جامعیت اسے محض چند فقہی مسائل یا مناظرانہ مباحث تک محدود نہیں رہنے دیتی۔ یہ دراصل دین کو کتاب و سنت کی روشنی میں سمجھنے، عقیدہ و عمل کو آثارِ نبوت سے وابستہ رکھنے، اجتہاد کو دلیل کے تابع رکھنے اور امت کو بدعات، غلو، جمود اور بے اصل تعبیرات سے بچانے کا ایک مکمل علمی و عملی طریقہ ہے۔ اسی بنا پر ہم اسے اہلِ سنت والجماعت کی معیاری ترین علمی صورتوں میں سے ایک بل کہ اپنے اصول و مصادر کے اعتبار سے نہایت معتبر اور قابلِ ترجیح صورت سمجھتے ہیں۔
اختلاف، شناخت اور دعوت کا منہاج
مختلف علمی مکاتب کے اختلافات کو یک سر ختم کر دینا نہ ممکن ہے، نہ فی نفسہٖ کوئی مطلوب علمی مقصد۔ یہ مکاتب صدیوں سے کتاب و سنت کی تفہیم، تعبیر، تطبیق اور جدید مسائل میں اخذ و استنباط کا کام انجام دیتے آئے ہیں۔ اس لیے صحیح طرزِ عمل یہ ہے کہ ہر مکتب فکر اپنے اصول اور نقطۂ نظر کو دلیل و برہان کے ساتھ پیش کرے، دوسرے موقف سے اختلاف ہو تو علمی نقد کرے مگر اخلاق، احترام، شایستگی اور ادبِ اختلاف کا دامن کسی حال میں ہاتھ سے نہ چھوڑے، یعنی اختلاف ہو مگر تحقیر نہ ہو؛ نقد ہو لیکن نفرت نہ ہو؛ امتیاز ہو مگر
افتراق نہ ہو۔
اسی سلسلے میں ایک اہم مسئلہ مختلف مکاتب فکر کے امتیازی ناموں اور شناختوں کا بھی ہے۔ دعوتی میدان میں بعض اوقات یہ حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے کہ مسلکی نسبتوں اور امتیازی عنوانات کو نمایاں نہ کیا جائے بل کہ امت اور ملت کی عمومی سطح پر کام کرتے ہوئے ان شناختوں کو پس منظر میں رکھا جائے۔ یہ طریقہ اپنی جگہ مفید ہے کیوں کہ بہت سے لوگ ناموں اور عنوانات ہی سے الجھ جاتے ہیں اور اصل پیغام تک پہنچنے سے پہلے ہی ایک نفسیاتی رکاوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
لیکن علمی دنیا کا معاملہ اس سے قدرے مختلف ہے۔ یہاں کسی مکتب فکر کا نام محض ایک لیبل نہیں ہوتا بل کہ اس کے پورے منہاج، اصولِ استدلال، علمی روایت اور فکری مزاج کی نمایندگی کرتا ہے۔ اس لیے اہلِ حدیث شناخت کو علمی اعتماد، تہذیبی وقار اور مثبت شعور کے ساتھ اختیار کرنا بھی ضروری ہے تاکہ اس مکتب کے اصول، امتیازات، خدمات اور معتدل طرزِ تعامل درست صورت میں سامنے آئیں۔ مقصود یہ نہیں کہ نام کو فرقہ وارانہ کش مکش کا عنوان بنایا جائے بل کہ یہ ہے کہ ایک علمی روایت اپنی صحیح نسبت، درست تعارف اور مثبت کردار کے ساتھ امت کے سامنے آ سکے۔
علمی نمایندگی کی ضرورت
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر مکتبِ فکر میں مختلف مزاج کے علما اور اہلِ قلم پائے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ تشدد کی طرف مائل ہوتے ہیں، کچھ تساہل کا شکار ہو جاتے ہیں اور کچھ علم، بصیرت اور اعتدال کے ساتھ اپنی روایت کی نمایندگی کرتے ہیں۔ کسی بھی علمی مکتب کی صحیح ترجمانی وہی حضرات کر سکتے ہیں جو اس کے اصولِ استدلال، مصادرِ علم اور منہاجِ فکر سے گہری واقفیت رکھتے ہوں؛ نیز دلیل و برہان، شایستہ اسلوب اور علمی وقار کے ساتھ اسے پیش کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔
اہلِ حدیث مکتبِ فکر کے باب میں آج یہ ضرورت پہلے سے بڑھ کر محسوس ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے بعض اوقات اس عظیم روایت کو چند امتیازی مسائل، مناظرانہ مباحث یا فرقہ وارانہ عنوانات تک محدود کر دیا جاتا ہے حالاں کہ اہل حدیث منہج ایک جامع علمی و عملی روایت کا نام ہے۔ اس میں عقیدہ و کلام، فقہ و اجتہاد، حدیث و آثار، دعوت و اصلاح، تعلیم و تربیت، سماجی شعور، ملی مسائل اور معاصر زندگی کے مختلف گوشوں سے متعلق واضح رہ نمائی موجود ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ اہلِ حدیث فکر کو اس کی اصل وسعت اور جامعیت کے ساتھ سامنے لایا جائے۔ اکابرِ اہلِ حدیث کے علمی مزاج، دعوتی حکمت، اصولی استقامت، وسعتِ نظر اور حسنِ تعامل کو نمایاں کیا جائے۔ وہ اپنے مسلمات پر مضبوطی سے قائم رہتے تھے مگر دوسرے اہلِ علم کی خدمات کا اعتراف بھی کرتے تھے۔ وہ اختلاف کو تکفیر و تفسیق کا ذریعہ نہیں بناتے تھے اور ملی و اجتماعی مسائل میں مشترک جدوجہد کو دینی ضرورت سمجھتے ہوئے اس میں شامل ہوتے تھے۔
آج اسی طرزِ فکر کو نئے علمی اسلوب، مضبوط استدلال، ادبی زبان اور منظم صورت میں پیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اہلِ حدیث شناخت محض رد و تردید یا مناظرہ کا عنوان نہ رہے بل کہ علم، تحقیق، اعتدال، اتباعِ سنت اور خیر خواہیِ امت کی ایک مثبت اور باوقار علامت بن کر سامنے آئے۔
مجلسِ فکرِ اہلِ حدیث کی تجویز
انھی علمی، فکری اور دعوتی ضرورتوں کے پیش نظر اربابِ فکر و نظر کے سامنے یہ تجویز رکھی جاتی ہے کہ مجلسِ فکرِ اہلِ حدیث کے نام سے ایک علمی، فکری اور مشاورتی پلیٹ فارم قائم کیا جائے۔ اس مجلس کا مقصد کسی نئی جماعت، تنظیمی دھڑے، سیاسی صف بندی یا شخصی مہم کو وجود میں لانا نہیں ہوگا بل کہ اہلِ حدیث منہج کے علمی امتیازات، تاریخی خدمات، فکری توازن اور معتدل طرزِ تعامل کو منظم انداز میں سامنے لانا ہو گا۔
یہ مجلس اہلِ علم، اساتذہ، محققین، خطبا، مدرسین، صحافیوں، اہلِ قلم اور سنجیدہ نوجوانوں کے لیے ایک ایسا علمی دائرہ فراہم کرے گی جہاں اہلِ حدیث فکر کے بنیادی مباحث، معاصر چیلنجز، بین المسالک تعلقات، قومی و دینی مسائل، دعوتی ترجیحات اور علمی و فکری ذمہ داریوں پر سنجیدہ گفت گو کی جا سکے۔ اس کا بنیادی مزاج ردِ عمل، محاذ آرائی یا مناظرانہ تندی کا نہیں بل کہ تحقیق، ترتیب، مکالمہ، تربیت اور مثبت علمی تشکیل کا ہو گا۔
مجلس کا اصل کام یہ ہو گا کہ اہلِ حدیث فکر کو اس کے اصولی، تاریخی اور عملی تناظر میں واضح کرے؛ اس کے اکابر کی علمی میراث کو نئی نسل کے سامنے لائے؛ معاصر مسائل میں کتاب و سنت کی روشنی میں متوازن راہ نمائی فراہم کرے؛ اور اہلِ حدیث شناخت کو اعتماد، وقار، ذمہ داری اور خیر خواہیِ امت کے جذبے کے ساتھ پیش کرے۔
مجلس کے بنیادی اہداف و مقاصد
مجلسِ فکرِ اہلِ حدیث کے بنیادی اہداف میں سب سے مقدم یہ ہے کہ اہلِ حدیث فکر کی صحیح علمی تعبیر پیش کی جائے اور اس کے اصولی امتیازات کو دلائل، حوالہ جات اور تاریخی شعور کے ساتھ واضح کیا جائے۔ اس ضمن میں کتاب و سنت کی مرکزیت، فہمِ سلف سے وابستگی، حدیث و آثار کی حجیت، بدعات و غلو سے اجتناب، دلیل و تحقیق کا احترام اور امت کے مجموعی دینی مصالح کا شعور بنیادی نکات ہوں گے۔
اس مجلس کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہوگا کہ اکابرِ اہلِ حدیث کی علمی میراث، دعوتی حکمت، فقہی بصیرت، اعتدال پسند مزاج اور ملی خدمات کو نئی نسل کے سامنے لایا جائے۔ امام سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی، شیخ الاسلام محمد حسین بٹالوی، مولانا ثناء اللّٰہ امرت سری، حافظ عبد اللّٰہ محدث روپڑی، حافظ محمد محدث گوندلوی، سید محمد داؤد غزنوی، مولانا محمد اسماعیل سلفی، مولانا محمد حنیف ندوی، مولانا عطاء اللّٰہ حنیف بھوجیانی، مولانا عبد الجلیل سامرودی اور دیگر اکابر نے جس علمی وقار، استدلالی قوت اور دعوتی توازن کے ساتھ اس روایت کی نمایندگی کی، اس کو ازسرِ نو مرتب اور نمایاں کرنے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح مجلس معاصر دینی، فکری، معاشرتی، سیاسی، معاشی اور ملی مسائل پر اہلِ حدیث منہج کی روشنی میں مختصر، مستند اور متوازن تحریریں تیار کرے گی جو مسلک کے نمایندہ موقف کی ترجمان ہوں۔ اس کا مقصد محض ردِ عمل دینا نہیں بل کہ ایک مثبت علمی بیانیہ تشکیل دینا ہوگا جس میں اختلاف اصولی ہو، نقد علمی ہو، زبان شایستہ ہو اور مقصد دھڑے کی حمایت کے بجاےخیر خواہیِ امت ہو۔
طریق کار
مجلسِ فکرِ اہلِ حدیث اپنی سرگرمیوں کا آغاز محدود مگر منظم علمی کام سے کرے گی۔ ابتدا میں چند بنیادی موضوعات پر مختصر علمی مقالات، فکری نوٹس، تعارفی تحریریں اور مسلکی موقف کے نمایندہ بیانیے تیار کیے جائیں گے تاکہ اہلِ حدیث فکر کے اصول، امتیازات، تاریخی خدمات اور معاصر معنویت کو واضح انداز میں پیش کیا جا سکے۔ ہر تحریر میں حوالہ، استدلال، زبان اور اسلوب کے علمی معیار کا اہتمام کیا جائے گا۔
مجلس کا طریق کار مشاورت، تحقیق اور تدریج پر مبنی ہوگا۔ اہم موضوعات کا انتخاب اہلِ علم کی مشاورت سے کیا جائے گا، تحریری مواد کو نظرِ ثانی کے مرحلے سے گزارا جائے گا اور پھر اسے مناسب ذرایع سے شایع کیا جائے گا۔ سوشل میڈیا کو محض فوری ردِ عمل یا بحث و تکرار کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا بل کہ مثبت علمی تشکیل، فکری تربیت اور اہلِ حدیث منہج کے سنجیدہ تعارف کے لیے بہ روے کار لایا جائے گا۔
اس کے ساتھ علمی نشستوں، مذاکروں، آن لائن گفت گو، پوڈکاسٹس، تربیتی ورکشاپس اور محدود مشاورتی اجلاسوں کا اہتمام کیا جائے گا۔ کوشش یہ ہوگی کہ مجلس کا ہر کام وقار، اعتدال، علمی دیانت اور خیر خواہیِ امت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھے اور اہلِ حدیث فکر کا تعارف کسی تند مزاجی، تعصب یا محاذ آرائی کے بجاے دلیل، تحقیق اور شایستگی کے ساتھ سامنے آئے۔
انجمن اہلِ حدیث مصنفین
مجلسِ فکرِ اہلِ حدیث کے علمی و فکری مقاصد کو عملی صورت دینے کے لیے ایک ذیلی فورم بہ نام انجمن اہلِ حدیث مصنفین بھی پیش نظر ہے۔ اس کا مقصد اہلِ حدیث اہلِ قلم، محققین، مترجمین، مؤلفین، مدرسین اور نوجوان لکھنے والوں کو ایک منظم علمی دائرے میں جمع کرنا ہے تاکہ تصنیف، تالیف، ترجمہ، تدوین، تحقیق اور اشاعت کے کام کو باقاعدہ سمت دی جا سکے۔
اس انجمن کے ذریعے اہلِ حدیث لٹریچر کی تیاری، اکابر کی علمی میراث کا تعارف، اہم کتب و مقالات کی اشاعت، نوجوان اہلِ قلم کی تربیت، حوالہ نویسی، پروف خوانی، مضمون نگاری، دینی صحافت اور علمی اسلوب کی اصلاح جیسے کام کیے جائیں گے۔ اس کا خاص ہدف یہ ہو گا کہ نئی نسل میں ایسے اہلِ قلم تیار ہوں جو اپنے منہج کو علمی پختگی، تحقیقی دیانت، شایستہ زبان اور معاصر اسلوب کے ساتھ پیش کر سکیں۔
یہ انجمن مجلس کا الگ متوازی ادارہ نہیں بل کہ اسی کے فکری و علمی اہداف کا تصنیفی اور اشاعتی بازو ہوگی۔ مجلس جہاں فکر، منہج، مکالمہ اور علمی راہ نمائی کا کام کرے گی، وہاں انجمن اہلِ حدیث مصنفین ان مقاصد کو تحریر، تدوین، ترجمہ، اشاعت اور تربیت کے عملی میدان میں آگے بڑھانے کی کوشش کرے گی۔
عملی ترجیحات
مجلسِ فکرِ اہلِ حدیث اپنے مقاصد کے حصول کے لیے چند عملی کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھائے گی۔ ان میں سب سے پہلے ایک منظم ویب سائٹ کا قیام ہے، جہاں اہلِ حدیث فکر، تاریخ، اکابر، اصولِ استدلال، معاصر مسائل اور مجلس کی علمی سرگرمیوں سے متعلق مستند مواد یک جا کیا جائے گا۔ یہ ویب سائٹ علمی تعارف، فکری راہ نمائی اور اہلِ حدیث لٹریچر تک رسائی کا ایک معتبر ذریعہ بن سکتی ہے۔
دوسرا اہم کام سہ ماہی مجلہ فکرِ اہلِ حدیث کا اجرا ہے جو اہلِ حدیث فکر و منہاج کی علمی نمایندگی، تحقیقی مباحث، اکابر کے تعارف، معاصر مسائل پر نمایندہ تحریروں، علمی مکالمے اور نوجوان اہلِ قلم کی تربیت کے لیے ایک مستقل پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ اس مجلے کا مزاج سنجیدہ، تحقیقی، معتدل اور باوقار ہوگا۔
اسی طرح اہلِ حدیث لٹریچر کی تدوین و اشاعت، منتخب کتب و مقالات کی ازسرِ نو طباعت، تعارفی کتابچوں کی تیاری، علمی نشستوں اور تربیتی ورک شاپس کا انعقاد، پوڈکاسٹس اور ویڈیو گفت گو کا آغاز اور نوجوان لکھنے والوں کی فکری و فنی تربیت بھی مجلس کی اہم عملی ترجیحات میں شامل ہوگی۔ ان کاموں کے لیے اہلِ حدیث مشایخ، علما، مدرسین، اساتذہ، محققین، صحافیوں، خطبا اور سنجیدہ نوجوانوں سے رابطہ کیا جائے گا تاکہ یہ کام فردِ واحد یا ایک ادارے کی انفرادی کوشش کے بجاے ایک اجتماعی علمی خدمت کی صورت اختیار کرے۔
مجوزہ نظم و نسق
مجلسِ فکرِ اہلِ حدیث کے کام کو منظم رکھنے کے لیے ایک سادہ اور مؤثر نظم تجویز کیا جاتا ہے۔ چند سینئر علما، مشایخ اور اہلِ دانش پر مشتمل ایک سرپرست دائرہ ہو جو عمومی رہ نمائی فراہم کرے۔ اسی طرح علما، اساتذہ، محققین، اہلِ قلم اور مدرسین پر مشتمل ایک مجلسِ مشاورت ہو جو موضوعات کے انتخاب، عملی ترجیحات اور اشاعتی منصوبوں پر غور کرے۔
عملی امور کی ترتیب کے لیے ایک ناظم یا رابطہ کار مقرر کیا جا سکتا ہے جب کہ علمی و تحقیقی امور، تحریر و اشاعت، مکالمہ و روابط، اور نوجوان اہلِ قلم کی تربیت کے لیے مختصر کمیٹیاں بنائی جا سکتی ہیں۔ اس نظم کا مقصد عہدوں کی کثرت نہیں بل کہ علمی کام کو مشاورت، ترتیب، ذمہ داری اور معیار کے ساتھ آگے بڑھانا ہے۔
دعوتِ مشاورت
یہ پوری تجویز کوئی حتمی منشور یا مکمل تنظیمی اعلان نہیں بل کہ ایک ابتدائی علمی و فکری خاکہ ہے جسے اہلِ علم اور اربابِ فکر و نظر کے سامنے مشاورت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ چند درد مند احباب اس سمت میں غور و فکر کر رہے ہیں لیکن ابھی اس کی کوئی آخری یا متعین صورت طے نہیں ہوئی۔ مقصود یہ ہے کہ پہلے اس تصور پر اہلِ علم کی آرا حاصل کی جائیں، اس کی خامیوں کی نشان دہی ہو، اس میں ضروری اضافے اور اصلاحات تجویز کی جائیں اور پھر اجتماعی بصیرت کی روشنی میں اس کام کو آگے بڑھایا جائے۔
اس لیے اہلِ حدیث مشایخ عظام، علماے کرام، اساتذہ، محققین، خطبا، مدرسین، صحافیوں، اہلِ قلم اور سنجیدہ نوجوانوں سے گزارش ہے کہ وہ اس مجوزہ خاکے پر اپنی آرا، تجاویز اور اصلاحات عنایت فرمائیں۔ ہماری خواہش ہے کہ اہلِ حدیث فکر و منہاج کی نمایندگی علم، دلیل، اعتدال، شایستگی اور خیر خواہیِ امت کے جذبے کے ساتھ ہو اور یہ کوشش کتاب و سنت سے وابستگی، علمی روایت کے احترام، باہمی مکالمے اور مثبت اجتماعی کردار کے فروغ کا ذریعہ بنے۔ اللّٰہ تعالیٰ اس کوشش کو اخلاص، حکمت اور نفعِ عام کا ذریعہ بنائے؛ آمین۔
مذموم عصبیت ائمۂ دین کی توقیر ایمان و علم کا تقاضا ہے مگر کسی ایک امام کی ایسی عصبیت کہ حق، دلیل اور دوسرے ائمہ سب نگاہ سے اوجھل ہو جائیں، یہ اہلِ سنت کا نہیں، اہلِ اہوا کا طریقہ ہے۔امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں: ’’جو آدمی ائمۂ دین میں سے کسی ایک امام کو اس طرح اپنا محور بنا لے کہ باقی ائمہ اس کی نگاہ سے اوجھل ہو جائیں، وہ دراصل اس شخص کی روش پر جا نکلتا ہے جو صحابۂ کرام میں سے کسی ایک شخصیت کی محبت کو باقی صحابہ کی تنقیص کا ذریعہ بنا لیتا ہے؛ جیسے رافضی، جو سیدنا علی کے نام پر خلفاے ثلاثہ اور جمہور صحابہ سے بے نیازی بل کہ مخاصمت اختیار کر لیتا ہے؛ یا جیسے خارجی، جو سیدنا عثمان اور سیدنا علی پر زبانِ طعن دراز کرتا ہے۔یہی اہلِ بدعت اور اہلِ اہوا کے طور طریقے ہیں جن کی مذمت کتاب، سنت اور اجماع سے ثابت ہے؛ یہ رویے اس شریعت اور اس منہاج سے انحراف ہیں جس کے ساتھ اللّٰہ نے اپنے رسول کو مبعوث فرمایا۔ پس جو شخص کسی ایک امام کی شخصیت کو حق کا پیمانہ بنا کر اس کے لیے عصبیت اختیار کرتا ہے، خواہ وہ امام مالک کے حق میں ہو، یا امام شافعی کے حق میں، امام ابو حنیفہ کے حق میں ہو، یا امام احمد کے حق میں، یا ان کے سوا کسی اور امام کے حق میں، اس کے طرزِ فکر میں انھی گم راہ گروہوں کی ایک جھلک پیدا ہو جاتی ہے۔‘‘ (مجموع الفتاوى، ٢٢ / ١٥٢) |