جولائی 2026ء

مولانا امین احسن اصلاحی کا مبلغ علم

مولانا امین احسن اصلاحی کا مبلغ علم

پروفیسر محمد رفیق

 

مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کے بارے میں اگر چہ ایک مخصوص حلقہ یہ حسن ظن رکھتا ہے کہ وہ بہت بڑے عالم دین اور عربیت کے ماہر تھے ، جب تک ان کی کتب کا مطالعہ نہیں کیا تھا ہم بھی اس پروپیگنڈے کے زیر اثر یہی سمجھتے رہے ،  مگر  جب ان کی کتب کا مطالعہ کیا تو بقول شاعر 

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا                 جو چیرا  تو اِک قطرۂ خوں نہ نکلا

اور بقول میردرد

خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سُنا افسانہ تھا

 ہم نے جب ان کی’مایہ ناز ‘ تفسیر ’’ تدبر قرآن ‘‘ کا ناقدانہ جائزہ لیا تو یہ تعجب انگیز اور افسوس ناک صورت حال  سامنے آئی کہ وہ تو

  • دین اسلام کے بہت سے بنیادی امور سے بھی بے بہرہ ہیں ۔
  • انہیں لغت ، قرآن ، حدیث ، فقہ ، سیرت اور تاریخ سے متعلق اکثر معلومات عامہ سے بھی نا واقف ہیں۔
  • وہ احادیث صحیحہ کا انکار کرتے ہیں ۔
  • وہ کئی اسلامی مسلمات کے منکر ہیں ۔
  • وہ ’’ نظم ‘‘ کے نام پر قرآن کی تفسیر بالرائے مذموم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔

یہ الزامات نہیں بلکہ وہ حقائق ہیں جن کا ثبوت آپ کو اس مضمون سے بآسانی مل جائے گا اور اس سے آپ کو اصلاحی صاحب کی  ’’ علمیت ‘‘ کا حال بھی معلوم ہوجائے گا۔

1۔ کیا ابلیس شیطان مر چکا ہے ؟

قرآن  مجید ، حدیث رسول اور اجماع امت سے ثابت ہے کہ جس ابلیس شیطان نے آدم ﷤ کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا ، اللہ تعالیٰ نے اس کو قیامت تک کے لیے مہلت حیات دے رکھی ہے تاکہ وہ اپنی وسوسہ اندازی کے ذریعے انسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہے ، جیساکہ قرآن مجید میں ہے :

﴿قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِيْمٌۙ۰۰۳۴ وَّ اِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى يَوْمِ الدِّيْنِ۰۰۳۵قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِيْۤ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ۰۰۳۶قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَۙ۰۰۳۷اِلٰى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ۰۰۳۸﴾[الحجر: 34- 38]

’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہاں سے نکل جا کیونکہ  تو مردود ہے ، اور روز جزا تک تجھ پر لعنت ہے ۔ وہ کہنے لگا : میرے پروردگار ! پھر مجھے اس دن تک (زندہ رہنے کی ) مہلت دے دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے  ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تجھے  مہلت دی جاتی ہے اس دن تک جس کا وقت معلوم ہے ۔‘‘

دوسری جگہ اس بات کو یوں بیان کیا گیا ہے ، فرمایا:

﴿قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِيْمٌۚۖ۰۰۷۷ وَّ اِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِيْۤ اِلٰى يَوْمِ الدِّيْنِ۰۰۷۸ قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِيْۤ اِلٰى  يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ۰۰۷۹ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَۙ۰۰۸۰اِلٰى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ۰۰۸۱﴾ [ص: 77 - 81]

’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: نکل جا یہاں سے یقیناً   تو مردود ہے ، اور روز قیامت  تک تجھ پرمیری  لعنت رہے گی۔  وہ کہنے لگا : میرے پروردگار ! پھر مجھے اس دن تک مہلت دے دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے  ۔ فرمایا: اچھا! تجھے  مہلت دی جاتی ہے اس دن تک جس کا وقت (مجھے)معلوم ہے ۔‘‘

 مگر اصلاحی صاحب  قرآن کی ان نصوص اور امت کے مسلمہ دینی عقیدے سے کتنے بے خبر ہیں ، کہ وہ  ابلیس شیطان کو زندہ نہیں مانتے بلکہ اس کی وفات کے قائل ہیں ، وہ  لکھتے ہیں :

’’شیطان کوئی مستقل مخلوق نہیں ہے بلکہ جنوں اور انسانوں میں سے جو دلوں میں وسوسہ اندازی کا پیشہ اختیار کرلیں وہ شیطان بن جاتے ہیں ۔جس شیطان نے بابا آدم کو دھوکا دیا ، قرآن میں تصریح ہے کہ وہ جنوں میں سے تھا ۔ جو لوگ اس کو ایک مستقل مخلوق اور زندہ ہستی سمجھتے ہیں ان کا خیال غلط ہے [1]۔‘‘

گویا قرآن کی نصوص پرمبنی   پوری امت مسلمہ کا یہ عقیدہ غلط  ہے کہ ابلیس آج بھی زندہ ہے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے کام میں لگا ہوا ہے ، اس کے برعکس اصلاحی صاحب کا عقیدہ بلاکسی دلیل کے درست  ہے یا اسے درست مان لیا جائے ،فیاللعجب !

2۔ کیا فرشتے بھی حکم شرعی کے مکلّف مخلوق ہے ؟

اہل علم جانتے ہیں کہ اسلامی شریعت کی رو سے صرف دو مخلوقات یعنی جنات اور انسان ہی  شرعی احکام کے مکلف ہیں ۔ وہی آخرت میں اپنے اعمال  کے جوابدہ اور مسؤل ہوں گے ۔ اس کے بعد نیک جنات اور انسان جنت میں جائیں گےاور برے جنات اور انسان جہنم میں ڈالے جائیں گے ۔انسانوں کے مکلف شریعت  ہونے کے بےشمار دلائل ہیں ۔ قرآن مجید نے جنوں کے مکلف شریعت ہونے کے متعلق فرمایا:

﴿وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِيَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِيْنَ۰۰۲۹قَالُوْا يٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِيْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِيْقٍ مُّسْتَقِيْمٍ۰۰۳۰يٰقَوْمَنَاۤ اَجِيْبُوْا دَاعِيَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ يَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ يُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ۰۰۳۱وَ مَنْ لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللّٰهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِي الْاَرْضِ وَ لَيْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءُ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۰۰۳۲﴾ [الأحقاف: 29 - 32]

’’ جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو آپ کی طرف لے آئے تھے جو قرآن سن رہے تھے۔ جب وہ اس مقام پر آ پہنچے تو(ایک دوسرے سے ) کہنے لگے : خاموش ہوجاؤ۔ پھر جب قرآن پڑھا جاچکا تو وہ ڈرانے والے بن کر اپنی قوم کے پاس واپس آئے ۔ کہنے لگے : اے ہماری قوم ! ہم نے ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے، وہ اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق  کرتی ہے، حق کی طرف اور سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے ۔ اے ہماری قوم ! اللہ کی طرف بلانے والی کی بات مان لو اور اس پر ایمان لے آؤ، وہ تمہاے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے بچالے گا۔‘‘

 پوری امت کا اجماع ہے کہ شریعت کے مکلّف صرف انسان اور جن ہیں ۔

مگر اصلاحی صاحب کی  شریعت سے بے خبری کا یہ عالم ہے کہ وہ جنات اور انسانوں کے علاوہ فرشتوں کو بھی ایک مکلف مخلوق مانتے ہیں ۔ چنانچہ انہوں نے سورۃ البقرۃ (2/30-39) کی تفسیر میں لکھا ہے :

’’ قرآن مجید نے مکلّف مخلوقات کی حیثیت سے تین مخلوقات کا ذکر کیا ہے ۔ فرشتے ، جنات اور بنی آدم  ...  اصل مقصود اس سجدے سے فرشتوں کی اطاعت اور وفاداری کا امتحان ہی تھا[2] ۔‘‘

گویا اس طرح اصلاحی صاحب بھی  ’’ فرمانبردار ‘‘ فرشتوں کے جنت میں داخل ہونے اور ’’ نافرمان ‘‘ فرشتوں کے جہنم کی آگ میں ڈالے جانے کے قائل نظر آتے ہیں۔ وا    ا سفا

3۔ کیا کوئی رسول کبھی قتل نہیں ہوا ؟

یہ حقیقت قرآن مجید کے واضح نصوص سے ثابت ہے کہ بدبخت بنی اسرائیل (یہود) کے ہاتھوں جس طرح بہت سارے نبی قتل ہوئے اسی طرح کئی رسول بھی قتل ہوئے تھے ۔ جیساکہ یہود  سے فرمایا گیا ہے :

﴿اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيْقًا كَذَّبْتُمْ وَ فَرِيْقًا تَقْتُلُوْنَ۰۰۸۷﴾

                                                                                                                                                                                        [البقرة: 87]

’’ تو کیا جب کبھی کوئی رسول تمہارے پاس وہ چیز لے کر آیا جو تمہارے نفس کو پسند نہ آئی تو تم نے تکبر کیا ، پھر بعض رسولوں کو تم جھٹلایا اور بعض کو تم نے قتل کردیا ۔‘‘

بالکل یہی مضمون سورۃ آل عمران (3/183)، سورۃ المائدہ (5/70) میں بھی بیان ہوا ہے ۔

مگر اصلاح صاحب کو چالیس برس تک قرآن میں  تدبر کرنے کے باوجود یہ واضح حقیقت نظر نہیں آئی،   وہ اس سے لاعلم اور بے خبر ہی رہے ۔ چنانچہ انہوں نے سورۃ آل عمران (3/183) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا :

’’ رسولوں کی اس امتیازی حیثیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے دشمنوں کو یہ مہلت نہیں دیتا کہ وہ ان کو قتل کردیں ۔ چنانچہ رسولوں میں سے کسی کا بھی قتل ہونا ثابت نہیں[3] ۔‘‘

مزید انہوں نے سورۃ ق ٓ (50/14) کی تفسیر میں بھی لکھا ہے  کہ :

’’ رسولوں میں سے کسی کا اس کی قوم کے ہاتھوں قتل ہونا ثابت نہیں[4] ۔‘‘

4۔ کیا قرآن کی صرف ایک ہی متواتر قراءت ہے ؟

 دنیا کا ہر مستند قاری اور عالم دین جانتا ہے کہ قرآن مجید کی  سبعہ بلکہ عشرہ متواتر قراءات  ہیں ، یا ان کے ساتھ پڑھنے کی اجازت ہے ۔صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے قرآن کے  بعض مقامات کو ایک سے زیادہ طریقوں اور قراءتوں کے ساتھ پڑھا ہے [5]۔اسی طرح صحابہ کرام بھی  قرآن کو ایک زیادہ قراءات کے ساتھ  تلاوت کرتے تھے [6]۔

مگر اصلاحی صاحب کے مبلغ علم کا حال یہ ہے کہ وہ قرآن کی ایک قراءت کے علاوہ باقی متواتر قراءات کو غیر معروف اور شاذ قرار دیتے  ہیں ۔ چنانچہ انہوں نے اپنی تفسیر میں کئی مقامات پر  لکھا   ہے:

  • ’’ اس نوعیت کا ایک اور فتنہ بعض ملکوں میں اٹھ رہا ہے کہ وہاں ایسے قرآن چھاپے جار ہے ہیں جس میں مصحف عثمانی کی معروف و متواتر قراءت (قراءت حفص مراد ہے ) کو نظر انداز کرکے دوسری
    غیر معروف اور شاذ قراءتیں  اختیار کرلی گئی ہیں ۔’’ تدبر قرآن ‘‘ میں اس طرح کے فتنوں کا سر میں نے اچھی طرح کچل دیا ہے [7]۔‘‘
  • ’’ قراءتوں کا اختلاف بھی اس تفسیر (تدبر قرآن ) میں دور کردیا گیا ہے ۔معروف اور متواتر قراءت وہی ہے جس پر یہ مصحف ضبط ہوا ہے جو ہمارے ہاتھوں میں ہے[8]۔‘‘
  • ’’ ہمارے نزدیک متواتر اور مشہور قراءت صرف مصحف ہی کی قراءت (قراءت حفص)ہے اور ہم غیر متواتر قراءات پر قرآن کی کسی آیت کی تلاوت کو صحیح نہیں سمجھتے [9]۔‘‘

یہ اسی طرح کا جاہلانہ اور احمقانہ دعویٰ ہے جیسے کوئی حنفی یہ دعویٰ کرے کہ دنیا میں صرف ایک ہی اسلامی فقہ ہے اور وہ فقہ حنفی ہے ، باقی تمام فقہیں غلط ، غیر معروف اور فتنہ ہیں ، فیا للعجب !

5۔ جمع و تدوین قرآن کا کام کیسے ہوا ؟

سورۃ حم السجدۃ  (41/41-42) کی تفسیر کرتے ہوئے اصلاحی صاحب نے جمع  و تدوین قرآن کے بارے میں لکھا ہے :

’’ یہ بھی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آ نحضرت  صلعم نے اپنی حیات مبارکہ کے آخری رمضان میں یہ مذاکرہ دو مرتبہ فرمایا۔ پھر اسی ترتیب اور اسی قراءت کے مطابق پورا قرآن ضبط تحریر میں لایا گیا اور بعد میں خلفائے راشدین نے اسی کی نقلیں مملکت کے دوسرے شہروں میں بھجوائیں[10] ۔‘‘

ان کے اس بیان کے مطابق .... :

  • نبی ﷺ کی حیات مبارکہ ہی میں پورے قرآن کو ضبط تحریر میں لایا گیا تھا ۔
  • رسول اللہ ﷺ کی ایک ہی قراءت کے مطابق پورا قرآن لکھا گیا ۔
  • پھر خلفائے راشدین نے اسی قرآن کی نقلیں مملکت کے دوسرے شہروں کو بھجوائیں ۔

اہل علم جانتے ہیں کہ قرآن کے جمع و تدوین سے متعلق مولانا اصلاحی کی یہ تینوں آراء جہالت اور قلت علم پر مبنی غلط باتیں ہیں۔

علوم قرآن کا ایک ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ میں قرآن کو  کتابی صورت میں جمع کر کے نہیں لکھا گیا ، بلکہ  یہ کام عہد صدیقی میں جنگ یمامہ کے بعد سر انجام دیا گیا۔

اسی طرح اہل  علم جانتے ہیں کہ قرآن کسی ایک قراءت کے مطابق نہیں لکھا گیا تھا ، کیونکہ نبی کریم ﷺ،  صحابہ کرام ، اہل عرب اسے ایک سے زیادہ قراءتوں کے ساتھ پڑھتے تھے ۔

ایک ہی قراءت کے مطابق لکھنے کا مطلب قرآ ن کو نقطوں اور اعراب کے ساتھ لکھنا ہے جب کہ اس وقت تک قرآن سمیت کسی عربی عبارت میں نقطے اور اعراب لکھنے کا رواج ہی  نہیں تھا ، بلکہ اس وقت تک  اعراب اور نقطے  ایجاد ہی نہیں ہوئے تھے ۔یہ بہت بعد کی ایجاد ہیں ۔

یہ  دعویٰ بھی غلط ہے کہ خلفائے راشدین نے دور نبوی کے لکھے ہوئے قرآن کی ایک ہی قراءت کے مطابق نقلیں تیار کرکے مملکت کے دوسرے شہروں میں بھیجی تھیں ۔ یہ کام سیدنا عثمان غنی ﷜ نے کیا تھا اور وہ خلیفہ راشد سوم تھے ، خلفائے راشدین نہیں تھے ۔

6۔ کیا حروف مقطعات متعلقہ سورتوں کے نام ہیں ؟

اصلاحی صاحب کا ایک اور دعویٰ ان کے مبلغ علم کی  ’’وسعت ‘‘ کو ظاہر کرتا ہے  ، ہے  کہ جن  سورتوں کے شروع میں حروف مقطعات آئے ہیں وہ ان سورتوں کے قرآنی نام ہیں ، جو اللہ تعالیٰ نے رکھے ہیں۔  انہوں نے سورۃ البقرۃ کی پہلی آیت ’’ الٓـمٓ ‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے  حروف مقطعات کے بارے میں لکھا ہے :

  • ’’ یہ جس سورت میں بھی آئے ہیں بالکل شروع میں اس طرح آئے ہیں جس طرح کتابوں ، فصلوں اور ابواب کے شروع میں ان کے نام آیا کرتے ہیں  ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان سورتوں کے
     نام ہیں [11]۔‘‘
  •  ’’ چونکہ یہ نام اللہ تعالیٰ کے رکھے ہوئے ہیں ۔ اس وجہ سے آدمی کو یہ خیال ہوتا ہے کہ ضرور یہ کسی نہ کسی مناسبت پر رکھے گئے ہوں گے[12] ۔‘‘
  •  ’’دونوں ( سورۃ   البقرۃ  اور سورۃ آل عمران )کا قرآنی نام  ’’ الٓـمٓ ‘‘ ایک ہی ہے [13]۔ ‘‘
  •  پھر سورۃ یوسف کے بارے میں لکھتے ہیں :

’’ الٓـر ۔یہ اس  سورہ کا قرآنی نام ہے ۔ یہی نام سورہ یونس اور سورۃ ہود کا بھی ہے ۔ نام میں اصل مقصود تسمیہ ہوتا ہے ، اس وجہ سے ان کے معانی کی کھوج کرید کی ضرورت نہیں ہے ۔ بس اتنی بات یاد رکھنی چاہیے کہ ناموں کا اشتراک معانی و مطالب کے اشتراف کی دلیل ہوتا ہے [14]۔‘‘

ان کے دعوے کے مطابق قرآن کی چار سورتوں ، البقرۃ ، آل عمران ، العنکبوت اور الروم کا یک ہی قرآنی نام ’’ الٓـمٓ ‘‘ قرار پایا ۔

سورۃ یونس ، ہود ، یوسف اور ابراہیم ان چاروں سورتوں کا یک ہی قرآنی نام ’’ الٓـر ‘‘ سمجھا جائے گا۔ 

سورۃ المومن ، الزخرف ، الدخان ، الجاثیہ اور الاحقاف  پانچوں سورتوں کا ایک ہی نام ’’ حٰـم ‘‘ ٹھہرتا ہے ۔

کسی بھی چیز کا  نام رکھنے سے مقصود اس شےکی پہچان ہوتا ہے ۔ اگر پہچان ہی باقی نہ رہے  توا س کا نام رکھنا بالکل فضول اور بے کار عمل ہے ۔

غور کیجئے ! چار یا پانچ سورتوں کا ایک ہی نام ہے تو ان کی الگ الگ پہچان کیونکر ہوگی  ؟

 یہ دعویٰ بھی کس قدر حقیقت سے بعید ہے کہ’’ ناموں کااشتراک معانی و مطالب کے اشتراک کی دلیل ہوتا ہے ‘‘۔  اگر یہ درست ہے تو بتائیے سورۃ البقرۃ اور سورۃ العنکبوت  میں ، سورۃ آل عمران اور سورۃ الروم میں کن معانی و مطالب کا اشتراک پایا جاتا ہے جس کی بنا پر  ان کے ناموں میں اشتراک موجود ہے ۔

اگر حروف مقطعات  اللہ تعالیٰ کے رکھے ہوئے قرآنی نام ہیں تو امت مسلمہ آج تک اس نادر حقیقت سے کیوں بے خبر رہی اور اس گناہ عظیم کی کیوں مرتکب ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ کے رکھے  ہوئے سورتوں کے قرآنی نام چھوڑ کر  ان کی جگہ خود  نام گھڑ  لیے ؟  اس طرح کے دعوے کرنا علم کی نہیں بے علمی اور جہالت کی دلیل ہے ۔

7۔ سجدہ تلاوت سے بے خبری یا دانستہ چشم پوشی 

اہل علم جانتے ہیں کہ قرآن مجید میں 15 سجدے ہیں جو قرآنی کی روایات اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں۔ جہاں دورانِ تلاوت  سجدہ کرنا مشروع  و مسنون یا واجب ہے ۔

مگر  اصلاحی صاحب کے مبلغ علم کا حال یہ ہے کہ ان کی پوری تفسیر ’’ تدبر قرآن ‘‘ میں سجدہ تلاوت کا کہیں ذکر نہیں ملتا ۔ یہ ان کی بے خبری بھی ہوسکتی ہے اور دانستہ اعراض و گریز بھی ہوسکتا ہے جو کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے ۔

8۔ قرآنی سورتوں کے فضائل سے بے خبری یا دانستہ اغماض 

قرآن مجید کی بعض سورتوں کے فضائل صحیح احادیث سے ثابت ہیں ،جیسے  سورۃ الفاتحہ ، سورۃ البقرۃ ، سورۃ آل عمران ، سورۃ الکھف ، سورۃ الملک  ، سورۃ الاخلاص اور معوذتین  وغیرہ ۔ مگر یہ تعجب اور افسوس کی بات ہے  کہ تفسیر ’’ تدبر قرآن ‘‘ میں کسی سورۃ کے فضائل نہیں لکھے گئے ۔ یہ صحیح احادیث کا انکار ہے یا ان سے دانستہ اغماض اور چشم پوشی  یا پھر جہالت و بے خبری کا شاخسانہ ہے  ؟

کچھ تو ہے  جس کی پردہ داری ہے

9۔ سورۃ الاخلاص قرآن کا ایک تہائی حصہ ہے

صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ سورۃ الاخلاص قرآن کے ایک تہائی حصے کے برابر ہے ۔ اس کے بارے میں صحیح بخاری  میں ہے  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ القُرْآنِ[15].

’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہ (سورۃ الاخلاص) قرآن کے ایک تہائی حصے کے برابر ہے ۔‘‘

 یہ روایت صحیح مسلم :1886 اور ترمذی :2896 میں بھی آئی ہے ۔

مگر اصلاحی صاحب کے مبلغ علم کا حال یہ ہے کہ انہوں نے سورۃ الاخلاص کی فضیلت سے متعلق احادیث کو بعض عارفین قرآن کا قول سمجھ رکھا ہے ۔ چنانچہ اس حوالے سے انہوں نے لکھا ہے کہ

’’ یہ سورۃ نازل ہوئی جو نہایت چھوٹی چھوٹی کل چار آیتوں پر مشتمل ہے لیکن معانی کے اعتبار سے اس کو بعض عارفین قرآن نے ثلث قرآن کے برابر قرار دیا ہے[16] ۔‘‘

10۔قرآنی لفظ ِ ’’ بِاَيْىدٍ ‘‘ کے کیامعنیٰ  ہیں ؟

اصلاحی صاحب کے مبلغ علم اور خصوصاً ان کی عربی میں مہارت  کو اس ایک مثال سے جانچا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے سورۃ الذاریات (51/47) آیت :

﴿وَ السَّمَآءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ۰۰۴۷﴾ [الذاريات: 47]

’’اور آسمان کو ہم بنایا قدرت کے ساتھ اور ہم بڑی ہی وسعت رکھنے والے ہیں ۔‘‘

میں وارد لفظ ’’ بِاَيْىدٍ ‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :

’’ اَيْىدٍ ‘‘ کے معروف معنی تو ہاتھ کے ہیں لیکن یہ  قوت و قدرت کی تعبیر کے لیے بھی آتا ہے [17]۔‘‘

دیکھ لیجئے ! اصلاحی صاحب کو عربی زبان کے دو مختلف الفاظ  ’’ أید ‘‘(  طاقت )اور ’’ ید ‘‘  (ہاتھ) کے معانی کا فرق معلوم نہیں جب کہ ان دونوں لفظوں کے مادے (Root)  بھی الگ الگ  اور ان کے معنی جدا جدا ہیں  ۔ پہلے کا مادہ  (ء ی د ) ہے اور دوسرے کا   مادہ (ی دی ) ہے ۔ قرآن مجید میں ان دونوں الفاظ کے  الگ الگ استعمالات بھی موجود ہیں ، مثلاً

  1. سورۃ ص ٓ (38/17)میں داؤد﷤کو (ذا الأید ) ’’قوت والا ‘‘ کہا گیا ہے ۔
  2. سورۃ صٓ (38/44) میں ایوب ﷤سے کہا گیا ہے : (خذ بیدک ضغثا)  ’’ اپنےہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا لیں ‘‘۔

اب دونوں کو ایک بنا دینا کس قدر کم علمی اور بے خبری ہے ۔

11۔ لفظ ’’ مثانی ‘‘ کے معنیٰ و مفہوم

اصلاحی صاحب کے مبلغ علم کا حال یہ ہے کہ ان کو قرآنی لفظ ’’ مثانی  ‘‘ کے معنی اور مفہوم کی خبر نہیں۔ چنانچہ  اس بارے میں انہوں نے سورۃ الحجر (15/87) کی تفسیر میں لکھا ہے :

’’ ظاہر ہے کہ  ’’ مثانی ‘‘ مثنیٰ کی جمع ہے اور  مثنیٰ بار بار دھرائی جانے والی  چیز کو نہیں کہتے بلکہ اس چیز کو کہتے ہیں جو دو دو کر کے ہو[18] ۔‘‘

مولانا صاحب کی یہ رائے لغت کے بالکل خلاف ہے’’ مثانی ‘‘ مثنیٰ کی نہیں  ’’مثناۃ  ‘‘  کی جمع ہے جس کے معنی   ’’دھرائی جانے والی چیز‘‘ کے ہیں ۔ قرآن نے سورۃ الفاتحہ  کو سبع مثانی (الحجر 15/89) کہا ہے  کیونکہ اس کی سات آیات ہیں جو نمازوں میں بار بار دھرائی جاتی ہیں۔قرآن کو بھی ان معنوں میں مثانی (الزمر 39/23) کہا گیا ہے کہ اس میں مضامین کو بار بار دھرایا گیا ہے ۔

مشہور امام لغت علامہ زمخشری  نے اپنی تفسیر’’ الکشاف ‘‘میں لکھا ہے  :

سَبْعاً سبع آيات وهي الفاتحة...الْمَثانِي من التثنية وهي التكرير، لأن الفاتحة مما تكرر قراءتها في الصلاة وغيرها الواحدة مثناةأو مثنية[19].

’’  سبعاً سے مرا د  سات آیتیں یعنی سورۃ الفاتحہ ہے ...المثانی : یہ تثنیہ سے بنا ہے جس کے معنیٰ دہرانے کے ہیں کیونکہ سورۃ الفاتحہ نماز وغیرہ میں بار بار پڑھی جاتی ہے ، اس کا واحد مثناۃ یا مثنیۃ ہے ۔‘‘

عربی زبان کے نہایت معتبر  اور مستند لغت  ’’ لسان العرب ‘‘  میں ماہر لغت امام  فراۃ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ مثانی سے مراد دہرائے جانے والے مضامین  کا مجموعہ یعنی قرآن ہے :

مثانی: أی مکرراً  أی کرر فیه الثواب و العقاب

’’ مثانی : یعنی بار بار دہرایا ہوا کہ اس میں ثواب و عذاب کو باربار دہرایا گیا ہے ۔‘‘

عربی زبا کے ایک اور مشہور  و مستند لغوی عالم   ابن فارسؒ کی  ’’ معجم مقاییس  اللغہ  ‘‘ میں ہے کہ

المثناة:ما قرئ من الکتاب و کرر ۔ قال الله تعالیٰ:﴿وَ لَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ﴾ [الحجر: 87] أراد أن قراءتھا تثنی و تکرر [20].

’’  مثناۃ: ایسی چیز جسے کتاب سے پڑھا جائے اور اسے بار بار دہرایا جائے ، اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ ’’ ہم نے آپ کو سات دہرائی جانے والے آیات دیں ‘‘ سے مراد ہے کہ اسے بار بار پڑھا اور دہرایا جاتا ہے ۔‘‘

اما المفسرین طبریؒ  نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ

المثانی: جمع مثناة، ان القرآن انما قیل له مثانی لأن القصص و الأخبار کررت فیه مرة بعد أخری [21].

’’مثانی : مثناۃ کی جمع ہے ، قرآن کو اس لیے  مثانی کہا گیا ہے کہ اس میں قصص  و واقعات یکے بعد دیگرے دہرائے گئے ہیں ۔‘‘

امام زرکشی ؒنے لکھا ہے :

إِنَّمَا سُمِّيَ الْقُرْآنُ كُلُّهُ مَثَانِيَ لِأَنَّ الْأَنْبَاءَ وَالْقِصَصَ تُثَنَّى فِيهِ وَيُقَالُ إِنَّ الْمَثَانِيَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَ لَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ ﴾ [الحجر:87] هِيَ آيَاتُ سُورَةِ الْحَمْدِ سَمَّاهَا مَثَانِيَ لِأَنَّهَا تُثَنَّى فِي كُلِّ رَكْعَةٍ[22].

’’پورے قرآن کو مثانی (بار بار دہرائی جانے والی کتاب) اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں واقعات اور قصے بار بار بیان کیے گئے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿ وَ لَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ ﴾ میں 'مثانی' سے مراد سورۂ فاتحہ کی سات آیات ہیں۔ اسے مثانی اس لیے کہا گیا ہے  کہ اسے نماز کی ہر رکعت میں بار بار پڑھا جاتا ہے۔‘‘

 مذکورہ لغت کی شہادتوں کے باوجود  یہ دعویٰ کرنا کہ  ’’ ’’ مثانی ‘‘ مثنیٰ کی جمع ہے اور   مثنیٰ بار بار دھرائی جانے والی  چیز کو نہیں کہتے بلکہ اس چیز کو کہتے ہیں جو دو دو کر کے ہو[23]‘‘ یقیناً بے خبری اور لاعلمی کی دلیل ہے ۔

12۔ سنت کی نص کو فقہ کا مسئلہ سمجھ لینا

سنت کی نصوص سے ثابت ہے کہ شادی شدہ  زانی کے لیے حد رجم ہے ، مگر اصلاحی صاحب  اس منصوص حکم کو ایک عام فقہی اور اجتہادی مسئلہ قرار دیتے ہیں ، یہ ان کا مبلغ علم ہے یا شر انگیزی ؟ ۔ چنانچہ انہوں نے سورۃ النور (24/2) کی تفسیر میں لکھا ہے کہ

’’ اس آیت کے ظاہر الفاظ کا جہاں تک تعلق ہے وہ تو ہر قسم کے زانی اور ہر قسم کی زانیہ کے لیے عام ہیں لیکن ہمارے فقہا نے اس عموم پر بعض قیدیں عائد کی  ہیں ۔ جن میں بعض صحیح ہیں ، بعض ہمارے نزدیک غلط ہیں اور بعض محتاج تفصیل ہیں [24] ۔‘‘

’’ پانچویں قید تقریباً تمام فقہا نے  اس پر یہ عاید کی ہے کہ اس حد کا تعلق صرف اس زانی سے ہے جس کی شادی نہ ہوئی ہو یا شادی تو ہوئی ہو لیکن ابھی اس نے مباشرت نہ کی ۔ رہے وہ جن کی شادی بھی ہوچکی ہو اور جو مباشرت بھی کرچکے ہیں تو ان کے لیے سزا رجم کی ہے [25]۔ ‘‘

’’ اس آیت پر فقہا  کی یہ قید بڑی اہم ہے ۔ اس کو تخصیص  کہیے یا نسخ ، مجرد   اخبار احاد کی بنا پر قرآن کے کسی حکم عام کو اس طرح مقید یا منسوخ کردینا بہرحال ایک ایسی بات ہے جس پر دل مطمئن نہیں ہوتا[26]۔‘‘

’’ ہمارے فقہا کی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے مجرم کی حالتوں میں سے ایک حالت کو مناطِ حکم قرار دے دیا ، درآں حالیکہ اس کا تعلق مناطِ حکم سے نہیں ہے، اس طرح کی چیزیں تو ہر جرم کی سزا  نافذ کرتے وقت ملحوظ رکھی جاتی ہیں [27]۔ ‘‘

اس طرح اصلاحی صاحب نے  فقہ ، فقہا اور مناطِ حکم کی آڑ میں سنت کے ایک ثابت شدہ منصوص حکم کا انکار کیا ہے جو کہ صریحاً جہالت ، گمراہی اور فتنہ انگیزی ہے ۔

13۔ کیا واقعۂ افک (6ھ) صحیح احادیث میں مذکور نہیں ؟

سیدہ عائشہ ﷞ سے متعلق واقعۂ افک صحیح احادیث میں  مذکور ہے [28]۔ لیکن ان صحیح احادیث سے اصلاحی صاحب کی بے خبری اور لاعلمی کا حال یہ ہے کہ انہوں نے صحیح احادیث سے ثابت شدہ اس واقعہ افک کو محض تاریخ و سیرت کا واقعہ قرار دیا ہے ، جیساکہ منکرین حدیث اور مستشرقین کا طریقہ ہے  کہ وہ ہماری کتب احادیث کو تاریخ کی حیثیت اور درجہ دے کر ان میں مذکور واقعات کی اپنی من مانی تاویل و توجیہ کرلیتے ہیں ۔چنانچہ اصلاحی صاحب نے  [سورۃ النور :24/11 ]کی تفسیر میں صحیح احادیث سے صرف نظر کرتے ہوئے واقعہ افک کو تاریخ و سیرت کا ایک واقعہ  کے طور پر لکھا ہے :

’’ تاریخ و سیرت کی کتابوں سے واقعہ کی نوعیت  یہ معلوم ہوتی ہے کہ نبی ﷺ  غزوہ بنی مصطلق (واقع 6ھ) سے مدینہ واپس آرہے تھے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ایک الگ اونٹ پر تھیں...[29]۔‘‘

14۔ کیا نبی ﷺ نے کبھی اپنی قوم کے لیے بددعا فرمائی ؟

اصلاحی صاحب کا دعویٰ ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی قوم کے لیے کبھی بددعا نہیں فرمائی ۔ چنانچہ انہوں نے سورۃ الدخان (44/10،11) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ

’’ اپنی پوری قوم کےلیے نبی ﷺ کی طرف سے اس طرح (قحط) کی بد دعا کا ذکر صرف اس تفسیری  روایت ہی میں ملتا ہے اس کے سوا کوئی اور  شہادت اس کی موجود نہیں ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی قوم کے لیے  بد دعا فرمائی ہو [30]۔‘‘

’’ اہل مکہ کے لیے کسی ایسے قحط کی بددعا آپ ﷺ کیسے کرسکتے تھے جس سے لوگ مردار کھانے پر مجبور ہوجائیں [31]۔‘‘

ہم سمجھتے ہیں کہ ان کا مذکورہ دعویٰ ان کی کم علمی اور جہالت پر مبنی ہے کیونکہ کفار مکہ کے لیے نبی ﷺ نے جو قحط کی بددعا فرمائی تھی اس کا ذکر صرف کسی تفسیری روایت میں نہیں ہے ، بلکہ اس کا ذکر صحیح بخاری  اور کتب سیرت میں بھی موجود ہے ۔

  • سیدنا عبد اللہ بن مسعود ﷜ سے روایت ہے کہ مکے میں نبی اکرم ﷺ کی بد دعا سے قحط پڑ گیا ، تو مشرکین نے کہا اگر یہ قحط دور کردیا جائے تو ہم ایمان لے آئیں گے ، مگر جب وہ قحط دور کردیا گیا تو وہ ایمان نہ لائے [32]۔
  •  علامہ شبلی نعمانی نے اپنی کتاب ’’ سیرت النبی ﷺ ‘‘ میں ’’ قریش پر قحط سالی کا عذاب ‘‘ کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ

’’ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے پہلے بھی یہ بیان کیا جاچکا ہے کہ جب قریش نے آپ ﷺ کی مخالفت کی تو آپ ﷺ نے ان پر  بددعا کی کہ خدا وندا ! ان کو سات سال تک قحط میں مبتلا رکھ ، جس طرح تو نے حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں سات سال تک مستقل قحط کو قائم رکھا تھا ۔ چنانچہ ان پر ایسا سخت قحط پڑ ا کہ لوگوں نے بھوک کے مارے مردار اور چمڑے کھائے ، یہاں تک کہ جب لوگ آسمان کی طرف دیکھتے تو وہ ان کو دھوئیں کی طرح نظر آتا تھا ، یہ حالت دیکھ کر ابو سفیان آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ اے محمد ! تم خدا کی اطاعت اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہو ، حالانکہ خود تمہاری قوم تباہ ہورہی ہے اس لیے خدا سے دعا کرو ۔ آپ ﷺ نے دعا فرمائی اور بارش ہوئی جس نے قحط کی مصیبت کو دور کردیا ۔ اس کے بعد پھر قریش نے حسب دستور آپ ﷺ کی مخالفت شروع کی تو قیامِ مکہ ہی کے زمانے میں خدا نے آپ ﷺ کی زبان سے یہ پیش گوئی قریش کو سنائی کہ آئندہ اس کا انتقام ایک اور سخت گرفت سے لیا جائے گا ۔ وہ گرفت بدر کی لڑائی تھی ، چنانچہ سورۃ دخان(44/6-10) کی ان آیتوں  میں اسی  واقعہ کا ذکر ہے [33]۔ ‘‘

15۔ مسلمانوں کے باہمی اختلافات کا فیصلہ کون کرے گا؟

اصلاحی صاحب نے مسلمانوں کے تمام باہمی اختلافات کو دور کرنے کے لیے اپنی تفسیر کے مقدمے میں ایک نسخہ تجویز کیا ہے ، انہوں نے لکھا ہے کہ

’’ ہر شخص جانتا ہے کہ اس ملت مسلم کی شیرازہ بندی قرآن مجید کی حبل اللہ المتین ہی کے ذریعے ہوئی ہے اور تمام مسلمانوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سب مل کر اس کو مضبوطی سے پکڑیں اور متفرق نہ ہوں ۔ اس ہدایت کا یہ فطری تقاضا ہے کہ ہمارے درمیان جتنے بھی اختلافات پیدا ہوں  ہم ان کے فیصلے کے لیے قرآن کی طرف رجوع کریں[34] ۔‘‘

جبکہ خود قرآن مجید نے رفع اختلاف کے لیے درج ذیل نسخہ تجویز کیا ہے :

﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِيْلًاؒ۰۰۵۹﴾

 [النساء: 59]

’’ اےایمان والو!  اطاعت کرو اللہ کی ، اطاعت کرو رسول کی اور ان کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہیں۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیزمیں اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیردو ۔ اگر تم واقعی اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو ، یہی طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اس کا انجام بہت اچھا ہے ۔‘‘

یعنی مسئلے کو حل کرنے کے لیے  قرآن اور حدیث دونوں  کو ملاکر  دیکھا جائے ۔لیکن اصلاحی صاحب نے حدیث کے حکم  ہونے کی حیثیت ختم کرکے تنہا قرآن کا تذکرہ کیا ہے  ۔اب یہ ان کی جہالت و لاعلمی ہے یا شر انگیزی ہے ۔

جو لوگ صرف قرآن  کے فیصلے مانتے  ہیں ان کے دل میں یہ خناس ہوتا ہے  کہ وہ حدیث و سنت کا انکار کرنا چاہتے ہیں ، وہ حدیث و سنت کی صحت پر عدم اطمنان کا اظہار کرتے ہیں ، افسوس کہ اصلاحی صاحب کا بھی یہی حال ہے ۔

16۔ کیا عمرہ کی ادائی کے لیے بھی متعین مہینے ہیں؟

ایک عام مسلمان بھی جانتا ہے  کہ حج کے لیے تو ذو الحجہ کا مہینہ متعین ہے ، اس  مہینے کے مخصوص دنوں میں مناسک حج ادا کیے جاسکتے ہیں لیکن عمرہ ادا کرنے کے لیے کوئی مہینہ یا مدت مقرر نہیں ہے اور اس پر اجماعِ امت ہے کہ سال کے کسی بھی مہینے میں اور کسی بھی وقت  عمرہ ادا کیا جا سکتا ہے ۔

مگر اصلاحی صاحب کے  مبلغ علم کا حال یہ ہے کہ وہ عمرہ کو بھی حج کی طرح حج کے مہینوں (شوال ، ذو القعدہ اور ذو الحجہ ) ہی میں ادا کیے جانے تک محدود سمجھتے ہیں ۔ چنانچہ انہوں نے سورۃ البقرۃ (2/197) کی تفسیر میں لکھا ہے کہ

’’ موقع دلیل ہے کہ حج کا لفظ یہاں حج اکبر اور حج اصغر یعنی حج اور عمرہ دونوں ہی کے لیے استعمال ہواہے .....اشهر معلومات  سے مقصود ، ایام معدودات  کی طرح ان کے معین و محدود ہونے کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ یہ کچھ ایسی غیر محدود و غیر معین مدت نہیں ہے کہ حج یا عمرہ کی نیت کرنے والا ان کی پابندیو کے تصور سے گھبرا ٹھے ۔ بس چند معلوم و متعین مہینے ہیں تو جو شخص ان میں حج یا عمرہ کا عزم کرے وہ ان کی پابندیوں کو نباہے[35]۔‘‘

17۔  آیات قرآن کے فواصل اور سجع

صاحبِ ’’ تدبر قرآن‘‘  نے سورۃفاطر (35/39)کی تفسیر میں لکھا ہے کہ

’’ غور کیجئے تو اس پیرے جس کو خاتمۂ سورۃ کی حیثیت حاص ہے ، فواصل یعنی قوافی بدل گئے ہیں ۔ قوافی کی یہ اچانک تبدیلی متکلم کے لب و لہجہ کی تبدیلی کی دلیل ہوتی ہے اور اس تبدیلی سے مقصود مخاطب کو ایک نئے پہلو سے متوجہ کرنا ہوتا ہے[36]۔‘‘

انہوں نے اس مقام پر فواصل (آیات کے آخریا ہم آواز اور ہم آہنگ الفاظ ) کو قوافی (قافیہ کی جمع ) قرار دیا ہے ، جبکہ ان کو قافیہ نہیں بلکہ سجع کہا جاتا ہے ۔

اسی طرح انہوں نے سورۃ القارعہ (101/10) کی تفسیر میں لکھا ہے :

’’ ماھية ‘‘ میں ’’ ہ ‘‘ سکتہ کی ہے جو قافیہ کی رعایت سے آئی ہے [37]۔‘‘

اس سے معلوم ہو اکہ وہ علوم القرآن کی اصطلاحات سے ناواقف اور نابلد ہیں جس کی رو سے آیات کے آخری ہم آواز اور ہم آہنگ الفاظ کو سجع کہا جاتا ہے نہ کہ قافیہ۔ قافیہ تو شاعری کی اصطلاح ہے اور سب جانتے ہیں کہ  قرآن شعر و شاعرنہیں ہے بلکہ نثریہ  کلام ہے ۔

آیات کے فواصل کو قافیہ کہنا قرآن شاعری کہنے کے مترادف ہے ،مثال کے طور پر سورۃ الکوثر کی تینوں آیات کے آخر میں الکوثر ، وانحر اور  الابتر کے الفاظ سجع کہلاتے ہیں ۔ ان کو قافیہ کہنا گویا  قرآن کے  شاعرانہ کلام ہونے کا اعتراف ہے اور  یہ کفار کے اس طعن و اعتراض کی تائید اور ہم نوائی  ہے جو وہ قرآن کو اللہ تعالیٰ کا کلام ماننے کی بجائے اسے شاعری قراردے کر جھٹلاتے تھے ۔ اور قرآن نے ان کے اس الزام کی کئی مقامات پر تردید کی ہے ۔

اس سے معلوم ہوا کہ صاحبِ ’’تدبر قرآن ‘‘ نے ’’ سجع ‘‘ کو قافیہ کہہ کر اس بات کا ثبوت فراہم کر دیاہےکہ انہیں آیات کے سجع اور شاعری کے قافیہ /ردیف کا فرق ہی معلوم نہیں ۔ فیا للعجب !

18۔ لقب اور کنیت میں فرق معلوم نہیں

اصلاحی صاحب کے مبلغ علم کا حال یہ ہے کہ انہیں لقب اور کنیت کا فرق معلوم نہیں ہے ۔ انہوں نے سورۃ اللہب کی تفسیر میں لکھا ہے :

’’ اس سے معلوم ہوا کہ اس لفظ (تبت) کے اندر ہجو و مذمت کا کوئی پہلو نہیں ہے بلکہ صرف ابو لہب کے اقتدار کے زوال اور اس کی تباہی کی پیش گوئی ہے ۔ یہ امر بھی  ملحوظ رہے کہ یہاں اس کا ذکر کنیت کے ساتھ ہوا ہے اور اہل عرب جب کسی کاذکر کنیت کے ساتھ کرتے ہیں تو اس میں فی الجملہ احترام
 مدِ نظر ہوتا ہے [38]۔‘‘

اس تفسیر میں کئی پہلو غلط ہی نہیں بلکہ قلت تدبر ، کم علمی اور جہالت پر مبنی ہیں، مثلاً :

قرآن نے جس ابو لہب کی مذمت کی ہے اسے مولانا صاحب ابو لہب کے ’’ احترام ‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں ۔

انہوں نے لفظ ’’ ابو لہب ‘‘ کو اس کی کنیت قرار دیا ہے حالانکہ اس کے چاروں بیٹوں میں سے کسی بیٹے کا نام ’’لہب ‘‘ نہیں تھا جس کے نام پر وہ اپنی کنیت ’’ ابو لہب ‘‘ رکھ لیتا۔  ابو لہب تو اس کا لقب تھا۔ جس کا سبب یہ  تھا کہ وہ بہت خوبصورت اور اس کا رنگ شعلہ رو تھا ۔ عربی میں شعلے کو لہب کہتے ہیں ، ابو لہب کے معنیٰ’’ شعلے جیسے چہرے والا ‘‘ کے ہیں ۔ تمام مفسرین نے اس کے لقب کی یہی وجہ لکھی ہے ، اس کے علاوہ علامہ شبلی نعمانی  نے اپنی کتاب ’’ سیرت النبی ﷺ ‘‘ میں طبقات ابن سعد کے حوالے سے لکھا ہے کہ :

’’ خود عبد المطلب نےاپنے بیٹے عبد العزیٰ کو ابو لہب کا لقب دیا تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ ابو لہب نہایت حسین و جمیل تھا اور عرب میں گورے چہرے کو شعلۂ آتش  کہتے ہیں ، فارسی میں بھی آتشیں رخسار کہتے ہیں [39]۔‘‘

پھر بعد میں دوسرے لوگوں نے بھی اسے اسی لقب (ابو لہب ) سے پکارنا شروع کردیا اور و ہ اسی لقب سے مشہور ہوگیا ۔ اسی لیے قرآن نے اس کا ذکر اس کے اسی لقب سے کرکے اس کا یہ انجام بھی بتا دیا کہ وہی ابولہب آخرت میں﴿ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ۰۰۳﴾’’ شعلے والی آگ ‘‘ میں ڈالا جائے گا ۔

اس طرح اصلاحی صاحب نے پہلے تو یہ غلطی کی کہ ابو لہب کے لقب کو اس کی کنیت قرار دےدیا اور پھر ’’بنائے فاسد علی الفاسد ‘‘ کے طریقے پر یہ بھی فرمادیا کہ قرآن نے اہل عرب کے دستور کے مطابق ابو لہب کا ذکر اس کی کنیت کے ساتھ کرکے اسے ایک قابل احترام ہستی کے طور پر پیش کیا ہے ۔انا لله و انا الیہ  راجعون

 

[1]         تدبر قرآن :9/677

[2]                تدبر قرآن:1/ 165-164

[3]         تدبر قرآن:2/106

[4]                تدبر قرآن:7/542

[5]                ملاحظہ فرمائیں : سنن ابی داؤد :3983،3991، سنن ترمذی :2983

[6]                ملاحظہ فرمائیں : صحیح بخاری :2419، صحیح مسلم :1899

[7]         تدبر قرآن، دیباچہ :8/7،8

[8]                تدبر قرآن، دیباچہ :8/8

[9]                تدبر قرآن:5/99

[10]              تدبر قرآن:7/112،113

[11]              تدبر قرآن:1/82

[12]              تدبر قرآن:1/83

[13]              تدبر قرآن:2/9

[14]        تدبر قرآن:4/188

[15]    صحيح بخاری :6643

[16]               تدبر قرآن :9/649

[17]              تدبر قرآن :7/626

[18]              تدبر قرآن : 4/377

[19]              الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل ، تفسیر سورۃ الحجر، آیت :87

[20]              ابن فارس :1/392

[21]              تفسیر طبری :6/4927

[22]                البرهان فى علوم القرآن:1/ 245

[23]              تدبر قرآن : 4/377

[24]               تدبر قرآن :5/364

[25]              تدبر قرآن :5/365

[26]              تدبر قرآن :5/365

[27]              تدبر قرآن :5/374

[28]              ملاحظہ فرمائیں : صحٰح بخاری : 4141، سنن ترمذی :3180

[29]              تدبر قرآن :5/374

[30]              تدبر قرآن :7/273

[31]              تدبر قرآن :5/274

[32]                        صحیح بخاری : 4821،4822،4823

[33]              علامہ شبلی نعمانی ، سیرت النبی ﷺ : 3/314

[34]              تدبر قرآن ، مقدمہ :1/21

[35]              تدبر قرآن :1/484

[36]              تدبر قرآن :6/388

[37]               تدبر قرآن :9/515

[38]              تدبر قرآن :9/632

[39]              سیرت النبی ﷺ از شبلی نعمانی :1/108