زکات سے مساجد کی تعمیر : ایک شرعی جائزہ
زکات سے مساجد کی تعمیر : ایک شرعی جائزہ
عبدالرحمن عزیز
زکوۃ کے پیسے سے مسجد کی تعمیر اور اس کے انتظامات کرنے کے حوالے سے اہل علم کے ہاں مختلف ہاے نقطہ نظر پائے جاتے ہیں ، یہ مضمون بھی ایک نقطہ نظر کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ، اگر کوئی اہل علم اس مسئلے میں اس سے مختلف نقطہ نظر پیش کرنا چاہتے ہوں تو اس کے لیے ماہنامہ محدث کے صفحات حاضر ہیں ۔ ادارہ |
اسلامی معاشرے میں مسجد کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اس لیے اس کی تعمیر، ترقی اور انتظام مسلم معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ ﴾ [التوبة: 18]
’’مساجد وہی آباد کرتے ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘
رسول اللّٰہ ﷺ نے ہجرت کے بعد قبا میں سب سے پہلے مسجد تعمیر فرمائی، پھر مدینہ پہنچ کر بھی مسجد ہی کو اسلامی معاشرے کی بنیاد بنایا۔ بعد کی اسلامی حکومتیں بھی مساجد کی تعمیر و تدبیر کو اپنی ذمہ داری سمجھتی رہیں۔
موجودہ دور میں صورت حال بدل چکی ہے۔ حکومتیں بالعموم دینی اداروں کی سرپرستی سے دست کش ہیں، عام مسلمانوں کے لیے زمین خرید کر مسجد تعمیر کرنا اور اس کا انتظام چلانا دشوار ہے ،اور اہل ثروت بھی زکات کے علاوہ اتنے تبرعات نہیں نکالتے جو اس ضرورت کے لیے کافی ہوں۔ اس بنا پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا زکات کے مال سے نئی مساجد تعمیر کی جا سکتی ہیں یا پرانی مساجد کا انتظام کیا جا سکتا ہے؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ قرآن مجید نے زکات کے مصارف متعین فرما دیے ہیں:
﴿اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِيْنِ وَ الْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِي الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِيْنَ وَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِيْلِ ﴾[التوبة: 60]
’’ صدقات تو دراصل فقیروں ، مسکینوں اور ان کارندوں کے لیے ہیں جو ان (کی وصولی ) پر مقرر ہیں۔ نیز تالیف قلب ، غلام آزاد کرانے ، قرضداروں کے قرض اتارنے ، اللہ کی راہ میں اور مسافروں پر خرچ کرنے کے لیے ہیں ۔‘‘
اس آیت سے واضح ہے کہ زکات کے مصارف منصوص ہیں، ان میں اپنی طرف سے کمی بیشی نہیں کی جا سکتی۔ البتہ اصل بحث یہ ہے کہ کیا مسجد کی تعمیر و تدبیر کو ان مصارف میں سے کسی مصرف، خصوصاً ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘، کے تحت داخل کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ بعض علماے کرام اس کے قائل ہیں، جب کہ بعض اسے درست نہیں سمجھتے۔اس مختصر مضمون میں دونوں گروہوں کا موقف اور ان کے بنیادی دلائل پیش کیے جاتے ہیں۔
قائلین کے دلائل
جو علماے کرام زکات کے مال سے مسجد کی تعمیر اور انتظام و انصرام کو جائز سمجھتے ہیں، ان کے نزدیک زکات کا مقصد مسلم معاشرے کی انفرادی و اجتماعی، دینی و دنیوی ضروریات کو پورا کرنا ہے، اور مسجد مسلمانوں کی اہم ترین اجتماعی دینی ضرورت ہے۔ ان کے دلائل کا خلاصہ یہ ہے:
- موجودہ دور میں حکومتیں تعمیرِ مساجد کی ذمہ داری نہیں اٹھاتیں، جب کہ امرا بھی زکات کے علاوہ اتنے عطیات نہیں دیتے کہ ضرورت کے مطابق مساجد تعمیر ہو سکیں۔
- مسجد مسلمانوں کی ایسی دینی ضرورت ہے جس کا کوئی حقیقی متبادل نہیں۔
- آیتِ مصارف میں ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘ ایسا مصرف ہے جس کے تحت مساجد کی تعمیر اور انتظام و انصرام کو داخل کیا جا سکتا ہے۔
مانعین کے دلائل
جو علماے کرام مسجد کی تعمیر و تدبیر پر زکات خرچ کرنے کو درست نہیں سمجھتے، ان کے دلائل یہ ہیں:
- زکات کے مصارف منصوص ہیں اور انھیں کلمۂ حصر کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اس لیے ان میں اضافہ یا تبدیلی جائز نہیں۔
- مصارفِ زکات کو لامِ تملیک کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، لہٰذا زکات اسی کو دی جا سکتی ہے جو مالک بننے اور تصرف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ مسجد چوں کہ کوئی فرد نہیں کہ مالک بن سکے، اس لیے اسے زکات نہیں دی جا سکتی۔
- انسان اپنی زکات ایسی ذمہ داری پر خرچ نہیں کر سکتا جو خود اس کے ذمے ہو جیسے شوہر بیوی کو زکات نہیں دے سکتا۔ مسجد کی تعمیر مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے، اس لیے اس پر زکات خرچ نہیں کی جا سکتی۔
مانعین کے دلائل کا تجزیہ
سب سے پہلے مانعین کے دلائل کا جائزہ لیتے ہیں۔
زکات کے مصارف کا منصوص ہونا
اس میں شک نہیں کہ قرآن مجید نے زکات کے مصارف منصوص کر دیے ہیں، اس لیے اپنی طرف سے کوئی نیا مصرف پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اگر مسجد کی تعمیر و تدبیر انھی منصوص مصارف میں سے کسی مصرف، خصوصاً ’’ فی سبیل اللّٰہ‘‘، میں بغیر تکلف شامل ہو جائے تو یہ اعتراض باقی نہیں رہتا۔ اس کی تفصیل آ رہی ہے۔
کلمۂ حصر کا مسئلہ
مانعین کی ایک دلیل یہ ہے کہ آیتِ مصارف میں ’’ إِنَّمَا‘‘ کا لفظ آیا ہے جو حصر کے لیے ہے، لہٰذا مصارفِ زکات میں کسی قسم کا اضافہ یا تغیر ممکن نہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ’’ إِنَّمَا‘‘ عموماً حصر کے لیے آتا ہے لیکن عربی اسلوب میں اس کا استعمال صرف حصر ہی کے لیے نہیں بل کہ تاکید اور اضافی حصر کے لیے بھی ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں، جیسے:
﴿اِنَّمَا النَّسِيْٓءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ ﴾ [التوبة: 37]
﴿اِنَّمَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ ﴾ [التوبة: 45]
﴿اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِيْرٌ ﴾ [هود: 12]
احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آیتِ مصارف میں ایسا حصر مراد نہیں جو ہر نوع کی وسعت کو بند کر دے۔ رسول اللّٰہ ﷺ نے صدقہ کے اونٹ قبیلہ عرینہ کے لوگوں کو استعمال کے لیے دیے[1]، فی سبیل اللّٰہ وقف اونٹ کو حج کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی[2]، ایک مقتول کی دیت صدقہ کے اونٹوں سے عطا فرمائی[3]۔ اس کے برعکس بنو ہاشم اور بنو مطلب کو فقر و حاجت کے باوجود صدقہ لینے سے منع فرمایا[4]۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت کا حصر اپنی خاص معنوی جہت رکھتا ہے، محض لفظی تنگی نہیں۔
بعض علما کے نزدیک یہاں حصر فی نفسہٖ مصارف پر نہیں، بل کہ منافقین کی حرص کے مقابلے میں ہے۔ سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقین چاہتے تھے کہ مالِ صدقات ان کی خواہش کے مطابق تقسیم ہو، اس پر
اللّٰہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ یہ مال خواہشات کے لیے نہیں، متعین مستحقین کے لیے ہے۔
شاہ ولی اللّٰہ فرماتے ہیں:
فالحصر فِي قَوْله تَعَالَى: ﴿اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ﴾ إضافي بِالنِّسْبَةِ إِلَى مَا طلبه المُنَافِقُونَ فِي صرفهَا فِيمَا يشتهون ... والسر فِي ذَلِك أَن الْحَاجَات غير محصورة وَلَيْسَ فِي بَيت المَال ... غير الزَّكَاة كثير مَال، فَلَا بُد من توسعه لتكفي نَوَائِب الْمَدِينَة[5].
یعنی آیت میں حصر اضافی ہے، منافقین کی خواہشات کے مقابلے میں۔ نیز اسلامی معاشرے کی ضروریات محدود نہیں ہوتیں، اور جب بیت المال میں زکات کے علاوہ کوئی بڑا مستقل ذریعہ نہ ہو تو مصارف میں ایسی وسعت ناگزیر ہو جاتی ہے جو اجتماعی ضروریات کو پورا کر سکے۔
اس سے واضح ہوا کہ آیتِ مصارف میں حصر کا مطلب یہ نہیں کہ ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘ کے مفہوم کو صرف ایک ہی صورت تک محدود کر دیا جائے، بل کہ اصل بحث یہ ہے کہ شرعاً ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘ کا مفہوم کتنا وسیع ہے۔
لامِ تملیک کا مسئلہ
مانعین کی ایک دلیل یہ ہے کہ آیتِ مصارف میں لامِ تملیک آیا ہے، اس لیے زکات صرف اسے دی جا سکتی ہے جو مالک بننے اور تصرف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ چوں کہ مسجد کوئی شخص نہیں کہ مالک بن سکے، اس لیے اسے زکات نہیں دی جا سکتی۔
اس دلیل پر پہلی بات یہ ہے کہ لام ہمیشہ تملیک کے لیے نہیں آتا، بل کہ اس کے کئی معانی ہیں۔ علامہ سیوطی ؒنے ’’ الإتقان‘‘ میں لام کے متعدد معانی ذکر کیے ہیں، اصولِ فقہ کی معروف کتاب ’’حصول المأمول‘‘ میں بھی اس کے بائیس معانی بیان ہوئے ہیں۔ شرحِ جامی میں ہے:
اللام للاختصاص بملکیة أو بغیر ملکیة
یعنی لام اختصاص کے لیے آتا ہے، خواہ وہ ملکیت کے ساتھ ہو یا ملکیت کے بغیر۔
اسی بنا پر علماء کے ہاں آیتِ مصارف کے لام کی تعیین میں اختلاف ہے۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:
إن اللام في قوله للفقراء لبيان المصرف لا للتمليك[6].
یعنی آیت میں ’’ للفقراء‘‘ کا لام بیانِ مصرف کے لیے ہے، تملیک کے لیے نہیں۔
اس کی ایک عملی دلیل یہ بھی ہے کہ عہدِ نبوی، عہدِ خلفاے راشدین اور بعد کے ادوار میں حکومت کے نمائندے زکات وصول کرتے تھے، اور زکات دہندگان کی ادائیگی اسی وقت شمار ہو جاتی تھی، حالاں کہ مستحقین کو مال بعد میں پہنچتا تھا۔ عمالِ زکات مالِ زکات میں حسبِ مصلحت بعض تصرفات بھی کرتے تھے،مثلاً خیبر کے عامل نے زکوۃ کی کھجوروں میں سے ردی کھجوریں بیچ کر عمدہ کھجوریں حاصل کیں [7]۔ حضرت معاذ کا اہلِ یمن سے جو اور مکئی کی زکوۃ میں یہ کہتے ہوئے کپڑے وصول کیے کہ تمہارے لیے آسان اور مدینہ میں رہنے والے اصحاب محمد ﷺ کے لیے زیادہ مفید ہیں [8]۔ اگر آیت کا لام قطعی طور پر تملیک ہی کے لیے ہوتا تو عامل، جو خود مالک نہیں تھا، ایسے تصرف کا مجاز نہ ہوتا۔
بالفرض آیت کے شروع میں لام کو تملیک کے لیے مان بھی لیا جائے تو بھی زیرِ بحث مسئلے پر اس کا اثر نہیں پڑتا، کیوں کہ آیت میں پہلے چار مصارف لام کے ساتھ اور آخری چار ’’فی‘‘ کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ علامہ فخر الدین رازیؒ کے بیان کے مطابق پہلے چار مصارف میں مالکانہ تصرف کا پہلو نمایاں ہے، جب کہ بعد کے چار مصارف میں مصرفیت کا پہلو غالب ہے۔
اس بنا پر مسجد کی تعمیر و تدبیر کا تعلق اگر ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘ کے مصرف سے ثابت ہو جائے تو لامِ تملیک کا اعتراض سرے سے باقی نہیں رہتا کیوں کہ زیرِ بحث مسئلہ پہلے چار مصارف کا نہیں بل کہ ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘ کے مفہوم کا ہے۔
مسجد کی تعمیر اور مصرف ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘
مصارفِ زکات کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو ان میں بیش تر مصارف شخصی اور انفرادی نوعیت کے ہیں، لیکن ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘ ایسا مصرف ہے جس کا تعلق مسلمانوں کے اجتماعی دینی مفاد سے بھی ہو سکتا ہے۔ مسجد چوں کہ مسلمانوں کی اہم ترین اجتماعی دینی ضرورت ہے، اس لیے اگر ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘ کو وسیع معنی میں لیا جائے تو تعمیرِ مساجد کو اس کے تحت داخل کرنے میں کوئی مانع نہیں رہتا۔
اصل اختلاف یہی ہے کہ مانعین ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘ کو جہاد کے ساتھ خاص کرتے ہیں، جب کہ قائلین اسے عام امورِ خیر تک وسیع سمجھتے ہیں۔ اب قرآن، حدیث اور ائمہ مفسرین کی آرا کی روشنی میں دیکھا جائے گا کہ ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘ کا مفہوم کیا ہے؟
فی سبیل اللّٰہ کا مفہوم
اس میں شک نہیں کہ قرآن و حدیث میں ’’سبیل اللّٰہ‘‘ کا اطلاق بکثرت جہاد پر ہوا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر جگہ اس سے صرف جہاد ہی مراد ہو۔ قرآن مجید اور احادیث میں متعدد مقامات پر قتال کے علاوہ دیگر دینی کاموں کو بھی ’’سبیل اللّٰہ‘‘ کہا گیا ہے۔
فی سبیل اللّٰہ: قرآن مجید کی روشنی میں
قرآن مجید میں مال خرچ کرنے کے باب میں ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘ کا استعمال وسیع معنی میں بھی ہوا ہے، مثلاً ارشاد ہے:
﴿مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ﴾[البقرة: 261]
اگر یہاں ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘ سے مراد صرف جہاد لیا جائے تو لازم آئے گا کہ سات سو گنا اجر صرف جہاد میں خرچ کرنے پر ہو حالاں کہ انفاقِ خیر کی دوسری صورتیں بھی اس بشارت میں داخل ہیں۔
﴿اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى ﴾
[البقرة: 262]
کیا احسان جتلانے اور اذیت دینے کی ممانعت صرف جہاد میں خرچ کیے گئے مال کے ساتھ خاص ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ حکم ہر نیک مصرف میں خرچ کیے گئے مال کو شامل ہے۔
﴿لِلْفُقَرَآءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ﴾ [البقرة: 273]
یہاں بھی ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘ کو صرف میدانِ جہاد کے ساتھ خاص کرنا مشکل ہے کیوں کہ مراد وہ فقرا ہیں جو دینی مصروفیت اور عفتِ نفس کے باعث کسب و معاش کے لیے آزادانہ نقل و حرکت نہیں کر سکتے۔
اسی طرح سورۃ التوبہ میں مال کو جمع کر کے ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘ خرچ نہ کرنے پر وعید آئی ہے۔ [التوبة: 34] اور سورۃ النور میں مہاجرین کو ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘ کہا گیا ہے۔ [النور: 22]
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ ’’سبیل اللّٰہ‘‘ کا مفہوم جہاد سے شروع ضرور ہوتا ہے مگر ہر جگہ اسی میں محصور نہیں رہتا۔
فی سبیل اللّٰہ: احادیث کی روشنی میں
احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘ کو صرف جہاد کے ساتھ خاص نہیں فرمایا بل کہ بعض دوسرے دینی مصارف کو بھی اس میں شامل کیا ہے۔ امِّ معقل رضی اللّٰہ عنہا سے رسول اللّٰہ ﷺ نے حج پر نہ جانے کی وجہ پوچھی تو انھوں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس ایک ہی اونٹ تھا جسے میرے خاوند نے فی سبیل اللّٰہ وقف کر دیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
فَهَلَّا خَرَجْتِ عَلَيْهِ، فَإِنَّ الْحَجَّ فِي سَبِيلِ الله[9].
’’تم اسی پر حج کے لیے کیوں نہ نکلیں؟ بلاشبہ حج بھی فی سبیل اللّٰہ ہے۔‘‘
یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ وہ اونٹ فی سبیل اللّٰہ وقف تھا، اس کے باوجود رسول اللّٰہ ﷺ نے حج کو بھی فی سبیل اللّٰہ میں داخل فرمایا۔
امام بخاری نے بھی اسی معنی کی تائید میں چند آثار ذکر کیے ہیں۔ ابو لاس سے مروی ہے کہ
نبی اکرم ﷺ نے انھیں صدقہ کے اونٹ حج کے لیے عطا فرمائے۔ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے منقول ہے کہ زکات کے مال سے غلام آزاد کیا جا سکتا ہے اور حج کے لیے بھی دیا جا سکتا ہے۔ حضرت حسن بصری نے بھی مجاہدین اور ایسے شخص کو زکات دینے کی اجازت دی ہے جس نے حج نہ کیا ہو، پھر انھوں نے آیتِ مصارف تلاوت فرمائی[10]۔
اسی طرح حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما سے ایک شخص کی وصیت کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کوئی چیز فی سبیل اللّٰہ دینے کی وصیت کی تھی تو انھوں نے فرمایا :
الْحَجُّ فِي سَبِيلِ اللهِ ِ[11].
’’حج بھی فی سبیل اللّٰہ ہے۔‘‘
اسی طرح طلبِ علم کو بھی فی سبیل اللّٰہ قرار دیا گیا ہے؛ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ حَتَّى يَرْجِعَ[12].
’’جو شخص طلبِ علم کے لیے نکلے، وہ واپس آنے تک فی سبیل اللّٰہ ہے۔‘‘
ان احادیث و آثار سے واضح ہوتا ہے کہ ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘ کا اطلاق جہاد پر غالب ضرور ہے لیکن ہر جگہ اس کے ساتھ خاص نہیں۔ حج، آزادیِ غلام، طلبِ علم اور دوسرے دینی مصالح بھی حسبِ موقع اس میں داخل
ہو سکتے ہیں۔
فی سبیل اللّٰہ کا معنی صحابہ و تابعین کی نگاہ میں
صحابۂ کرام میں حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر اور تابعین میں حضرت حسن بصری رحمہ اللّٰہ کے اقوال اوپر گزر چکے ہیں؛ مزید دیکھیے:
امام اوزاعی بیان کرتے ہیں کہ امام زہری سے ایک خاتون کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنے مال کا تہائی حصہ اپنے خاوند کے لیے فی سبیل اللّٰہ وصیت کیا تھا۔ امام زہری نے فرمایا کہ یوں کہنا درست نہیں بل کہ یوں کہے کہ یہ مال فی سبیل اللّٰہ ہے، میرا خاوند اسے جہاں مناسب سمجھے خرچ کرے[13]۔
امام مجاہد سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کہا تھا کہ میری ہر چیز اللّٰہ کے راستے میں ہے۔ امام مجاہد نے فرمایا:
لَيْسَ سَبِيلُ اللَّهِ وَاحِدًا، كُلُّ خَيْرٍ عَمِلَهُ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ[14].
’’اللّٰہ کا راستہ کوئی ایک نہیں، آدمی جو بھی نیکی کرے وہ فی سبیل اللّٰہ ہے۔‘‘
فی سبیل اللّٰہ کا معنی ائمہ کرام کی نظر میں
امام فخر الدین رازی آیتِ مصارف کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کے ارشاد ’’وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ‘‘ کا ظاہر لفظ اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ اسے مجاہدین تک محدود کر دیا جائے۔ اسی بنا پر قفال نے اپنی تفسیر میں بعض فقہا سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے صدقات کو تمام وجوہِ خیر میں خرچ کرنا جائز قرار دیا ہے جیسے مردوں کی تکفین، قلعوں کی تعمیر اور مساجد کی آبادی، کیوں کہ ’’وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ‘‘ کا لفظ ان سب کو عام طور پر شامل ہے۔
امام رازی نے اس قول پر کوئی رد نہیں کیا۔ اسی طرح ’’الروض النضیر‘‘ کے شارح نے بھی اسی راے کو پسند کیا ہے۔
مجمع فقہی کا فتویٰ
المجمع الفقهي الإسلامي نے اپنے دسویں اجلاس منعقدہ مکہ مکرمہ میں اللّٰہ تعالیٰ کے فرمان ’’وَفِي سَبِيلِ الله‘‘ کے مفہوم اور اس میں علما کے اختلاف کا جائزہ لیا۔ مجمع کے مطابق اس مسئلے میں دو معروف آرا پائی جاتی ہیں: ایک یہ کہ ’’فی سبیل اللّٰه ‘‘ سے مراد صرف جہاد اور مجاہدین ہیں، اور یہی جمہور فقہا کا موقف ہے۔ دوسری راے یہ ہے کہ اس کا مفہوم وسیع ہے اور اس میں ہر وہ کام داخل ہے جس سے دین اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچے، جیسے مساجد کی تعمیر و مرمت، مدارس کا قیام، سرحدوں کی حفاظت اور عام رفاہی مصالح۔
مجمع نے دلائل پر بحث کے بعد دوسری راے کو ترجیح دی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘ کو جہاد کے ساتھ خاص کرنا ضروری نہیں، بل کہ اس میں اعمالِ بر اور اجتماعی دینی مصالح بھی داخل ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت کے موقع پر مسجد کی تعمیر اور اس کے انتظام و انصرام کو بھی اسی مصرف کے تحت شامل کیا جا سکتا ہے۔
ذاتی ذمہ داری اور مصرفِ زکات
مانعین کا ایک استدلال یہ ہے کہ آدمی اپنی ذمہ داری زکات سے پوری نہیں کر سکتا، مثلاً خاوند اپنی بیوی پر اور باپ اپنی اولاد پر اپنی زکات خرچ نہیں کر سکتا۔ ہمارے نزدیک اس اصول کی اصل صورت یہ ہے کہ آدمی اپنی زکات اپنی ذاتی اور بہ راہِ راست ذمہ داریوں پر صرف نہیں کر سکتا لیکن اگر کوئی کام صرف اسی کی ذمہ داری نہ ہو بل کہ اس میں دوسرے لوگ بھی شریک ہوں اور اس سے عام مسلمان مستفید ہوتے ہوں تو وہاں زکات خرچ کرنے کی گنجایش پیدا ہو جاتی ہے، مثلاً ایک شخص اپنے علاج پر اپنی زکات خرچ نہیں کر سکتا لیکن کسی ایسے ہسپتال کو زکات دے سکتا ہے جس سے عام مریضوں کے ساتھ وہ خود یا اس کے زیرِ کفالت افراد بھی فائدہ اٹھائیں۔ اسی طرح وہ اپنے بچوں کی تعلیم پر اپنی زکات نہیں لگا سکتا لیکن ایسے مدرسے کو زکات دے سکتا ہے، جہاں دوسرے بچوں کے ساتھ اس کے بچے بھی پڑھتے ہوں۔ اس بنا پر کوئی شخص اپنی ذاتی نماز کے لیے مخصوص مسجد اپنی زکات سے تعمیر نہیں کر سکتا لیکن اگر مسجد عام مسلمانوں کے لیے وقف ہو تو اس پر زکات خرچ کرنا اس اصول کے خلاف نہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی شرعی یا اجتماعی ذمہ داری ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس کی مدد زکات سے کی جا سکتی ہے۔ قرآن مجید نے باپ کی وفات کی صورت میں اس کے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری اس کے وارث پر رکھی ہے:
﴿وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ﴾ [البقرة: 233]
اس کے باوجود اگر چچا یا وارث اس ذمہ داری کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو زکات سے اس کی مدد کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اگر مسجد کی تعمیر اہلِ علاقہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے لیکن وہ اس کی استطاعت نہیں رکھتے تو دوسرے مسلمان اپنی زکات سے ان کا تعاون کر سکتے ہیں۔ رسول اللّٰہ ﷺ اور خلفاے راشدین کے عہد میں بیت المال کے مال کو اجتماعی مصالح پر خرچ کیا جاتا تھا اور اس میں ہر موقع پر یہ تفریق منقول نہیں کہ فلاں کام زکات کے مال سے ہو گا اور فلاں کام غیر زکات کے مال سے۔
معاصر علما کی آرا
معاصر علما میں بھی بعض اہل علم نے ضرورت کے موقع پر مسجد کی تعمیر و انتظام میں زکات صرف کرنے کی گنجایش بیان کی ہے۔
فضیلۃ الشیخ حافظ محمد شریف ﷾ سے سوال کیا گیا کہ کیا زکات کا مال مسجد پر خرچ کیا جا سکتا ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ زکات کا مال مسجد پر خرچ کرنا جائز ہے، خصوصاً جب اس کی ضرورت ہو اور مقامی لوگ یہ اخراجات برداشت نہ کر سکتے ہوں۔ ان کے نزدیک سورۃ التوبہ کی آیتِ مصارف میں مذکور ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘ میں جہاد بھی داخل ہے اور ہر وہ دینی مصلحت بھی جو اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مسلمانوں کے اجتماعی فائدے کے لیے وقف ہو۔ اسی بنا پر اسلامی مدارس، طلبہ دین اور دینی مراکز بھی اس مصرف میں داخل ہو سکتے ہیں کیوں کہ یہ دین کی بقا، ترویج اور اس کی فکری و عملی سرحدوں کی حفاظت کا ذریعہ ہیں۔
شیخ موصوف نے یہ بھی واضح کیا کہ ’’فی سبیل اللّٰه ‘‘ کو صرف جہاد کے ساتھ خاص کرنے پر کوئی صریح نص موجود نہیں، بل کہ قرآن مجید کے متعدد مقامات سے اس کے اطلاق میں وسعت معلوم ہوتی ہے۔ انھوں نے امام بخاری ، شاہ ولی اللّٰہ ، نواب صدیق حسن خاں ، مولانا ثناء اللّٰہ امرت سری اور فتاویٰ علماے حدیث میں مذکور سید سلیمان منصور پوری رحمہ اللّٰہ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے مسجد کو بھی ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘ کے زمرے میں داخل قرار دیا، بالخصوص جب ضرورت موجود ہو۔
اسی طرح فضیلۃ الشیخ عبداللّٰہ ناصر رحمانی ﷾ سے زکات کے مال سے مسجد بنانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ حضرت عمر نے اپنے دورِ خلافت میں زکات کے مال سے مسجد تعمیر کرائی تھی، لہٰذا ضرورت کے موقع پر اس میں کوئی حرج نہیں۔
دارالافتاء مصر کا فتویٰ
دارالافتاء مصر کے مفتیوں سے جب اس مسئلے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے پہلے جمہور فقہا کا موقف نقل کیا کہ چاروں ائمہ کے نزدیک زکات کو مساجد کی تعمیر میں خرچ کرنا جائز نہیں کیوں کہ اس میں تملیک نہیں پائی جاتی اور ان کے نزدیک تملیک زکات کا ایک بنیادی تقاضا ہے۔
اس کے بعد مفتیانِ دارالافتاء نے دوسرے قول کا ذکر کیا کہ بعض فقہا کے نزدیک زکات کو مساجد کی تعمیر اور دیگر وجوہِ خیر میں خرچ کیا جا سکتا ہے کیوں کہ آیتِ مصارف میں ’’وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ‘‘ کا لفظ عام ہے اور ’’سبیل اللّٰہ‘‘ کا اطلاق ہر ایسے نیک کام پر ہو سکتا ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کی رضا اور مسلمانوں کے دینی فائدے کے لیے ہو۔ اس راے کو قفال نے بعض فقہا سے نقل کیا ہے؛ ابن قدامہ نے ’’المغنی‘‘ میں حضرت انس اور حسن بصری رحمہما اللّٰہ سے بھی نقل کیا ہے اور ’’الروض النضیر‘‘ کے مصنف نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔
دارالافتاء مصر نے اسی دوسرے قول کو راجح قرار دیا، خصوصاً اس صورت میں جب کسی بستی کو مسجد کی حقیقی ضرورت ہو، وہاں فرض نماز، جمعہ اور عیدین کے لیے کوئی مسجد موجود نہ ہو اور خرچ ضرورت کی حد تک ہو، اسراف نہ کیا جائے۔ اس بنا پر اگر کوئی شخص ایسی ضرورت کے موقع پر اپنی واجب زکات مسجد کی تعمیر میں صرف کر دے تو دارالافتاء مصر کے نزدیک اس کی زکات ادا ہو جائے گی اور اسے اس پر ثواب بھی ملے گا[15]۔
موجودہ تناظر میں راجح موقف
گذشتہ ادوار میں اسلامی حکومتیں بیت المال سے مساجد کی تعمیر و تدبیر کا انتظام کرتی تھیں، اس لیے اس وقت مساجد پر زکات صرف کرنے کی عمومی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔ بہت سے مانعین کے فتاویٰ بھی اسی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔
موجودہ دور میں صورت حال بدل چکی ہے۔ بیش تر مسلم حکومتیں مساجد، مدارس اور دینی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری قبول نہیں کرتیں، جب کہ مسلمانوں کے پاس ایسا اجتماعی بیت المال بھی موجود نہیں جس سے یہ ضروریات پوری کی جا سکیں۔ تبرعات اختیاری ہیں اور اہل ثروت کے لیے بھی زکات کے علاوہ مستقل رقوم نکالنا آسان نہیں رہا۔ ایسی صورت میں اگر کسی علاقے کو مسجد یا دینی مرکز کی حقیقی ضرورت ہو اور مقامی لوگ اس کے اخراجات برداشت نہ کر سکتے ہوں تو ’’فی سبیل اللّٰہ‘‘ کے وسیع مفہوم کے تحت زکات سے تعاون کی گنجایش موجود ہے؛ البتہ یہ گنجایش ضرورت، عدم استطاعت، عدم اسراف اور شفاف مصرف کی شرط کے ساتھ ہونی چاہیے تاکہ فقرا و مساکین کا حق متاثر نہ ہو اور زکات واقعی دینی و اجتماعی مصلحت میں صرف ہو۔
[1] صحیح بخاری :6802
[2] سنن ابی داؤد : 1989، مزید تفصیل آرہی ہے
[3] صحیح بخاری : 6898
[4] صحیح مسلم :1072
[5] حجۃ اللہ البالغۃ : 2/70
[6] فتح الباری :3/332
[7] صحیح بخاری :2201
[8] صحیح بخاری ، تعلیقاً قبل الحدیث :1448
[9] سنن ابی داؤد :1989
[10] صحیح بخاری ، تعلیقاً قبل الحدیث :1468
[11] مصنف ابن أبی شیبہ (6/220):30840
[12] سنن ترمذی :2647، الأحادیث المختارۃ (6/124):2119
[13] مصنف ابن أبی شیبہ (6/237):31026
[14] مصنف ابن أبی شیبہ (6/220):30839
[15] https:// dar-alifta.org/ar/tatwa/details/16073