مطلقہ عورت کا شوہر کی جائیداد میں حق ملکیت
وراثت کا شرعی تصور اور جدید عدالتی رجحان
مطلقہ عورت کا شوہر کی جائیداد میں حق ملکیت
وراثت کا شرعی تصور اور جدید عدالتی رجحان
مغرب کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اپنے یہاں کی مادر پدر آزاد تہذیب اور لادین معاشرت کو مملکت خداداد پاکستان میں عام کرے ، اس مقصد کے لیے وہ سیاسی اور معاشی دباؤ بھی ڈالتے ہیں اور اپنی این جی اوز کے ذریعے میدان بھی ہموار کرتے ہیں ،سیاست دانوں کے ذریعے خلاف اسلام قانون سازی کراتے ہیں اور ججز کے ذریعے ایسے فیصلے کراتے ہیں جن کے نتیجے میں یہاں الحاد اور لادینی معاشرہ جنم لے ۔کئی ججز اپنے حلف کے برخلاف مغرب کی سہولت کاری میں فیصلے صادر کرتے رہتے ہیں ۔
ایسا ہی ایک فیصلہ مارچ 2026 کے آواخر میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے خواتین کے حقوق کے حوالے سے جاری کیا ہے جس میں ریاست کو چند ایسی سفارشات پیش کی ہیں جو اسلامی نظامِ معیشت و معاشرت کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہیں۔ ان سفارشات کا شرعی محاکمہ پیش خدمت ہے۔
سفارشات کا متن اور مفروضہ
جج صاحب رقمطراز ہیں کہ:
’’ہر وہ بیوی جس نے دورانِ نکاح اپنے شوہر کے ساتھ ازدواجی زندگی بسر کی ہو، اسے یہ تصور کیا جائے گا کہ اس نے گھریلو محنت، بچوں کی پرورش اور گھریلو نظم و نسق کے ذریعے خاندان کی فلاح و بہبود میں حصہ ڈالا ہے۔ لہذا نکاح کے دوران حاصل کی گئی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد میاں بیوی کے درمیان منصفانہ تقسیم کے قابل ہو گی۔‘‘
ایک مقام پر لکھتے ہیں
’’شادی کے بعد شوہر کی ملکیت میں آنے والی ہر جائیداد، نکاح کے برقرار رہنے کے دوران یا طلاق کے بعد یا شوہر کی وفات کی صورت میں، بیوی کے ساتھ برابر تقسیم کی جائے گی۔ اس طرح یہ شرط بغیر کسی نئی قانون سازی کے پاکستان میں بیوی کے جائیداد کے حقوق کے تحفظ اور ان کی مؤثر تصدیق کا ایک متبادل ذریعہ ثابت ہوگی۔‘‘
محترم جج صاحب نے یہ بھی لکھا کہ ’’ اس ضمن میں ہر بچی کو سکول کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر اس کے ازدواجی حقوق کے بارے میں اگاہی دی جائے‘‘۔
اس تحریر کا ایک ایک لفظ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہ عدالتی نزاکتوں کی بجائے ایک خاص ’’خود ساختہ مفروضے‘‘ کی بنیاد پر لکھی گئی ہیں۔ ان سفارشات میں دس حوالوں سے قرآن و سنت کی صریح تعلیمات اور اسلامی معاشرت کی مخالفت ہے۔
1۔ حقِ ملکیت: رشتہ بمقابلہ شرعی ضابطہ
اسلامی قانون میں کسی دوسرے کی جائیداد میں حقِ شراکت محض ’’جذباتی رشتے ‘‘ یا ’’سہولت کاری ‘‘ سے پیدا نہیں ہوتا۔ شریعت میں ملکیت کے حصول کے چار بنیادی ذرائع ہیں: تجارت، ہبہ، وراثت، اور وصیت۔
کسی شخص کی ذاتی محنت سے بنائی گئی جائیداد کا نصف حصہ محض نکاح کی بنا پر کسی دوسرے کے نام کر دینا ’’حقِ ملکیت‘‘ پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔ اگر اس منطق کو تسلیم کر لیا جائے تو کل کلاں کوئی بھی چچا یا ماموں یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس نے یتیم کی پرورش کی، لہذا وہ اس کی جائیداد میں نصف کا شریک ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ:
﴿وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ﴾ [سورة البقرة: 188]
’’اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔‘‘
فرمانِ نبوی ﷺ:
لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ[1].
’’کسی مسلمان کا مال اس کی دلی رضا مندی کے بغیر حلال نہیں ہے۔‘‘
2۔ وراثت کا ضابطہ اور ثبوتِ ملکیت
وراثت میں ملکیت کا ثبوت صرف اصل مالک کی وفات کے بعد ہوتا ہے، وہ بھی ان حصوں کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے خود طے فرمائے ہیں۔
قرآن نے بیوہ کا حصہ 1/8 یا 1/4 مقرر کیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
﴿ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ ﴾
[سورة النساء: 12]
’’ اور عورتوں کے لیے ربع ہے جو تم چھوڑ جاؤاگر تمہاری اولاد نہ ہو ، اگر تمہاری اولاد ہو تو انہیں آٹھواں حصہ ملے گا اس میں سے جو تم نے چھوڑا ہو ۔‘‘
عورت چوتھے یا آٹھویں حصے کو ’’نصف‘‘ کر دینا اللہ کی مقرر کردہ حدود کو چیلنج کرنا ہے۔
3۔ نفع و نقصان کی تقسیم میں تضاد
عدالت کی سفارش صرف "اثاثہ جات" (نفع) تک محدود ہے۔
اگر شادی کے بعد مرد مقروض ہو جائے، تو کیا طلاق کے وقت وہ قرض بھی بیوی کے کھاتے میں ڈالا جائے گا؟ شریعت کا قاعدہ ہے: ’’الغنم بالغرم‘‘ (نفع، نقصان کی ذمہ داری کے ساتھ مشروط ہے)۔ محض نفع میں شراکت اور نقصان سے لاتعلقی انصاف کے منافی ہے۔
4۔ گھر سنبھالنے کی خدمت پر جائیداد میں حصہ
اگر بنیاد یہ ہے کہ ’’گھر سنبھال کر مرد کو کمانے کے قابل بنایا گیا‘‘ تو اس میں پہلا حق ماں اور بہنوں کا ہے جنہوں نے برسوں اسے پالا۔
فرمانِ نبوی ﷺ: ’’أنت ومالك لأبيك‘‘ (تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے) ۔ کیا اس منطق کے تحت ماں اور بہنیں بھی مرد کی کمائی میں سے نصف حصہ مانگیں گی؟ ویسے ہمارے ہاں عموماً رشتہ کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے کہ لڑکا برسر روزگار ہو، یعنی وہ نکاح سے پہلے جو پاؤں پر کھڑا ہوا اور نکاح کے بعدبلاجواز ہی ایک عورت کو اس کی کل محنت میں سے نصف کا مالک بنا دیا گیا!!
اگر گھریلو محنت، بچوں کی پرورش اور گھر کے نظم و نسق میں حصہ لینے کو جائیداد میں نصف ملکیت کی بنیاد قرار دیا جائے، تو پھر یہ حق صرف بیوی کے ساتھ ہی مخصوص کیوں ہو؟ اگر بیوی ملازمت کرتی ہے اور مالی طور پر خاندان میں حصہ ڈالتی ہے، تو کیا اس منطق کے مطابق شوہر کو بھی اس کی جائیداد میں نصف کا حق نہیں
ملنا چاہیے؟
مزید یہ کہ بہت سے خوشحال گھرانوں میں گھریلو کام، بچوں کی دیکھ بھال اور دیگر ذمہ داریوں کے لیے ملازمائیں اور خادمائیں رکھی جاتی ہیں، جبکہ بیوی عملاً ان امور میں براہِ راست شریک بھی نہیں ہوتی۔ اگر اصل بنیاد ’’گھریلو خدمت‘‘اور ’’خاندان کی سہولت‘‘ ہے، تو پھر اصولاً جائیداد میں حصہ داری کا زیادہ حق ان ملازماؤں اور خادماؤں کو ہونا چاہیے جو عملاً یہ خدمات انجام دیتی ہیں۔
اسی طرح اگر ایک ڈرائیور روزانہ صاحبِ خانہ کو دفتر بروقت پہنچاتا ہے، بچوں کو اسکول لے جاتا اور واپس لاتا ہے، اور خاندان کی سہولت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، تو کیا اس منطق کے مطابق اسے بھی صاحبِ خانہ کی آمدنی یا جائیداد میں حصہ دار قرار دیا جانا چاہیے؟ اگر یہ کہا جائے کہ ملازمین کو ان کی خدمات کے عوض تنخواہ دی جاتی ہے، تو پھر یہی اصول بیوی کے بارے میں بھی لاگو ہوگا، کیونکہ وہ بھی شوہر کی آمدنی سے اپنا مکمل نفقہ، رہائش، سہولیات اور معاشرتی تحفظ حاصل کرتی ہے۔
اگر گھر سنبھالنے کے عوض بیوی کو شوہر کی جائیداد کے نصف حصے کا حق دیا جائے، تو یہ حق صرف طلاق کے وقت ہی کیوں ظاہر ہو؟ زوجیت برقرار رہتے ہوئے اس کا عملی نفاذ کیوں نہ کیا جائے؟ یعنی جیسے ہی شوہر تنخواہ حاصل کرے یا کوئی آمدنی کمائے، اسے قانونی طور پر پابند کیا جائے کہ وہ فوراً اس کا نصف بیوی کے اکاؤنٹ میں منتقل کرے، تاکہ مستقبل میں کسی مالی نقصان یا حادثے کی صورت میں بیوی کا مبینہ “نصف جائیداد” کا حق متاثر نہ ہو۔ یعنی خاوند کمائی کرے تب بھی مصیبت اور کمائی نہ کرے تو بھی پریشانی !!
درحقیقت یہ سوالات اس تصور کی منطقی بنیادوں اور اس کے عملی نتائج پر سنجیدہ غور و فکر کی دعوت
دیتے ہیں۔
5۔ زمینی حقائق: یکسوئی یا ذہنی دباؤ؟
عدالت نے فرض کر لیا کہ ہر بیوی شوہر کو ’’یکسو ‘‘ کرتی ہے۔ اس بات کا تعین کون کرے گا کہ بیوی نے سکون دیا یا وہ مسلسل ذہنی دباؤ کا باعث بنی جس سے مرد کی صلاحیتیں متاثر ہوئیں؟ کیا ایسی صورت میں بیوی پر ’’جرمانہ ‘‘ عائد ہوگا؟ اس لحاظ سے یہ فطری و قرآنی اصول: ﴿ وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى ۙ۰۰۳۹﴾ [سورة النجم: 39] ’’اور یہ کہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی‘‘۔ کے منافی ہے۔
6۔ ابہام اور غرر (Uncertainty)
نکاح نامہ میں ایسی شرط شامل کرنا جس میں مستقبل کی غیر متعین جائیداد کی تقسیم کا ذکر ہو، فقہی اعتبار سے ’’غرر‘‘ ہے۔ حدیثِ نبوی:
نهی رسول الله ﷺ عن بیع الغرر[2].
’’رسول اللہ ﷺ نے غیر یقینی سودے سے منع فرمایا۔‘‘
یہ سفارشات اس حدیث کے بھی مخالف ہیں۔
7۔ نکاح، طلاق و وفات کے بعد مالی حقوق: قرآنی ضابطے بمقابلہ عدالتی مفروضے
عدالتِ عالیہ کی یہ سفارشات کہ طلاق کے وقت شوہر کی آدھی جائیداد بیوی کو دے دی جائے، قرآنِ کریم کے ان واضح اور مفصل احکامات کی صریحاً مخالفت ہے جو نکاح ،طلاق، خلع اور وفات کی صورت میں مالی حقوق کے تحفظ کے لیے نازل کیے گئے ہیں۔
شریعتِ اسلامیہ نے نکاح کے آغاز سے انجام تک، میاں بیوی کے مالی حقوق کو چار واضح صورتوں میں تقسیم کیا ہے، جو عدالتی سفارشات کے برعکس ایک متوازن اور مبنی بر انصاف فطری نظام فراہم کرتی ہیں:
پہلی صورت :دوامِ نکاح اس صورت میں بیوی کے تمام اخراجات (نان و نفقہ، رہائش) اور مہر مرد کے ذمے ہیں، جبکہ دونوں کی انفرادی ملکیت مکمل طور پر جدا اور محفوظ رہتی ہے۔
دوسری صورت :طلاق
اس کے علیحدہ تفصیلی احکام ہیں جن میں سے چند ایک اس مضمون میں درج ہیں ۔
تیسری صورت: خلع (بیوی کی جانب سے علیحدگی) اگر علیحدگی بیوی کی مرضی سے ہو، تو وہ مہر سے دستبردار ہو کر رشتہ ختم کرتی ہے؛ یہاں بھی شوہر کے اثاثوں میں کسی حصے کا کوئی شرعی تصور موجود نہیں۔
چوتھی صورت وفات: شوہر کے انتقال کی صورت میں بیوی کو اس کے ترکے سے مقررہ وراثت (آٹھواں یا چوتھا حصہ) ملتی ہے، جو ’’نصف جائیداد‘‘ کے غیر شرعی تصور سے قطعی مختلف ہے۔
قابلِ غور امر یہ ہے کہ طلاق کی نوبت تب آتی ہے جب فریقین کے مابین نباہ کی صورت باقی نہیں رہتی، خواہ غلطی کسی کی بھی ہو، مرد نے اپنی سوچ اور حالات کے مطابق اسے زندگی کے سفر سے الگ کرنا مناسب سمجھا۔ اب یہاں شریعتِ مطہرہ کا وہ فطری اور عدل پر مبنی قانون سامنے آتا ہے جو درج ذیل صورتوں میں جائیداد کی تقسیم کے بجائے متعین حقوق فراہم کرتا ہے:
الف: خلوتِ صحیحہ کے بعد طلاق کی صورت میں حقِ مہر
اگر میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہو چکا ہو، تو عورت اپنے طے شدہ حقِ مہر کی مکمل حقدار ہے، وہ جتنا بھی زیادہ ہو۔ خاوند کو اس میں سے ایک روپیہ بھی واپس لینے یا روکنے کا حق نہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ:
﴿وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ وَّ اٰتَيْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَيْـًٔا اَتَاْخُذُوْنَهٗ۠ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِيْنًا۰۰۲۰ وَ كَيْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا۰۰۲۱﴾ [النساء: 20-21]
’’اور اگر تم ایک بیوی ( کو طلاق دے کر اس )کی جگہ دوسری بیوی لانا چاہو اور تم انہیں ڈھیر سارا مال (بطور مہر) دے چکے ہو، تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو۔ کیا تم اسے بہتان باندھ کر اور صریح گناہ کے ذریعے واپس لو گے؟ اور تم اسے کیسے واپس لے سکتے ہو جبکہ تم ایک دوسرے سے مل چکے ہو اور وہ تم سے مضبوط عہد لے چکی ہیں۔‘‘
ب: رخصتی سے قبل طلاق کی صورت میں نصف مہر
اگر صرف نکاح ہوا اور رخصتی یا خلوت نہیں ہوئی اور طلاق کی نوبت آگئی تو شریعت نے بغیر کوئی فائدہ اٹھائے نصف مہر دینے کا حکم دیا ہے ۔ حالانکہ یہاں وہ ’’مشقت اور خدمت‘‘سرے سے موجود ہی نہیں جسے عدالت بنیاد بنا رہی ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ:
﴿ وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ ﴾
[البقرة: 237]
’’اور اگر تم انہیں ہاتھ لگانے (رخصتی) سے پہلے طلاق دے دو جبکہ تم ان کا مہر مقرر کر چکے ہو، تو مقررہ مہر کا آدھا حصہ (دینا لازم) ہے۔‘‘
ج: خلع کی صورت میں مالی ذمہ داری
اگر عورت اپنی مرضی سے علیحدگی (خلع) چاہتی ہے، تو وہ مالی طور پر خاوند سے کچھ لینے کی مجاز نہیں، بلکہ اسے اپنا حقِ مہر یا اس کا کچھ حصہ واپس کرنا پڑ سکتا ہے تاکہ مرد کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ہو۔
ارشادِ باری تعالیٰ:
﴿وَ لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ شَيْـًٔا اِلَّاۤ اَنْ يَّخَافَاۤ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ﴾ [البقرة: 229]
’’اور تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم نے انہیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے کچھ واپس لو، سوائے اس کے کہ دونوں کو ڈر ہو کہ وہ اللہ کی حدود قائم نہ رکھ سکیں گے۔ پس اگر تمہیں ڈر ہو کہ وہ اللہ کی حدود قائم نہ رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہیں جو وہ (عورت) بدلے میں دے کر جان چھڑائے۔‘‘
د: وفات کی صورت میں وراثت کا حق
ازدواجی زندگی کے دوران شوہر کی وفات کی صورت میں بیوی مہر کے ساتھ ساتھ اللہ کے طے کردہ حصوں (1/4 یا 1/8) کے مطابق وراثت کی حقدار ہے۔ حتیٰ کہ اگر طلاقِ رجعی کی عدت کے دوران شوہر کا انتقال ہو جائے، تب بھی وہ وراثت کی حقدار ٹھہرتی ہے۔
یہ حقوق اس ’’نصف جائیداد ‘‘ کے خود ساختہ تصور سے کہیں زیادہ متوازن اور عدل پر مبنی ہیں جو دیگر ورثاء (یتیم بچوں اور بوڑھے والدین) کے حقوق کو پامال کر کے صرف ایک فریق کو نوازنے کی بات کرتا ہے۔
ان تفصیلات سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم نے نکاح و طلاق کے ہر مرحلے اور ہر صورت کے لیے الگ الگ مالی ضابطے بیان فرمائے ہیں۔ عدالتی سفارشات ان تمام قرآنی تفصیلات کو بالائے طاق رکھ کر ایک ’’یک طرفہ معاشی حل ‘‘ پیش کر رہی ہیں، جو نہ صرف شریعت کے خلاف ہے بلکہ انسانی عقل اور فطرت کے بھی منافی ہے کیونکہ یہ نکاح کے مقدس رشتے کو ایک ’’تاوان‘‘ یا ’’تجارتی جرمانے ‘‘ کی شکل دے رہا ہے۔
8۔قرآنی نظامِ طلاق: تلافی یا تاوان؟
قرآنِ کریم میں طلاق کی صورت میں جائیداد کی غاصبانہ تقسیم کے بجائے دو مقامات پر نہایت بلند پایہ اخلاقی و مالی ضابطے بیان کیے گئے ہیں، جو درج ذیل ہیں:
1۔ قبل از رخصتی طلاق اور ’’متاع ‘‘ کا حکم
اگر نکاح کے بعد رخصتی یا مہر کے تعین سے پہلے طلاق کی نوبت آ جائے، تو ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِيْضَةًوَّ مَتِّعُوْهُنَّ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۲۳۶﴾[البقرة: 236]
’’تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم عورتوں کو رخصتی یا مہر کے تعین سے پہلے طلاق دے دو اور انہیں کچھ فائدہ (ساز و سامان) دو؛ خوشحال اپنی استطاعت کے مطابق اور تنگ دست اپنی حیثیت کے مطابق، دستور کے موافق فائدہ دینا نیکی کرنے والوں پر لازم ہے۔‘‘
2۔ مطلقا مطلقہ خواتین کے لیے عام ضابطہ
سورہ البقرہ ہی میں عمومی طور پر مطلقہ عورتوں کے لیے ایک عمومی حق مقرر کیا گیا ہے:
﴿وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِيْنَ۰۰۲۴۱﴾ ]البقرة: 241[
’’اور طلاق یافتہ عورتوں کے لیے بھی مناسب طور پر کچھ فائدہ (ساز و سامان) دینا لازم ہے، یہ پرہیزگاروں پر ایک حق (ذمہ داری) ہے۔‘‘
بعض اہل علم کے نزدیک یہ ’’متاع‘‘ (کچھ مال یا کپڑےوغیرہ ) دینا واجب کے درجے میں ہے۔اور سب طلاق یافتہ خواتین کے لیے متاع ہونا چاہیے ۔
جبکہ بعض دیگر اہل علم کے نزدیک یہ صرف ان طلاق یافتہ عورتوں کے لیے ہے جن کے حق مہر طے نہیں ہوئے تھے ۔
بہر صورت جب اللہ تعالیٰ نے طلاق کی صورت میں ’’کچھ کپڑے، تحائف یا معمولی رقم‘‘ کو کافی قرار دیا ہے، تو کوئی عدالت اسے ’’آدھی جائیداد ‘‘ میں کیسے بدل سکتی ہے؟
اس کا مقصد طلاق کی وجہ سے عورت کے ٹوٹنے والے دل کی تلافی کرنا ہے۔ یہ کوئی ’’جائیداد کی تقسیم‘‘ نہیں بلکہ ایک اخلاقی مرہم ہے تاکہ جدائی کے وقت تلخی کے بجائے حسنِ سلوک باقی رہے۔
قرآن مجید نے اس ادائیگی کو شوہر کی موجودہ مالی حیثیت سے جوڑا ہے: ﴿ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ ﴾ (خوش حال اپنی استطاعت کے مطابق اور تنگ دست اپنی حیثیت کے مطابق دے)۔ حضرت ابن عباسؓ کے مطابق امیر شخص ایک خادم یا قیمتی جوڑا دے اور غریب اپنی وسعت کے مطابق محض تین کپڑے ہی دے دے[3]۔
اللہ تعالیٰ نے اسے ﴿ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِيْنَ ﴾ (نیکی کرنے والوں پر حق) قرار دیا ہے۔ امام شعبیؒ کے بقول، اگر یہ جائیداد کی طرح کوئی قانونی قرض یا لازمی حصہ ہوتا تو قاضی اس پر لوگوں کو قید کرتے، لیکن تاریخِ اسلام میں کسی قاضی نے متاع نہ دینے پر کسی کو قید نہیں کیا، کیونکہ یہ ’’اخلاقی و سماجی تلافی‘‘ ہے، ’’تجارتی جرمانہ‘‘
نہیں ہے ۔
اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید مالی تاوان کے بجائے اخلاقی تلافی پر زور دیتا ہے۔ عدالتِ عالیہ کی سفارشات اس لحاظ سے بھی قرآن مجید کی تعلیمات کے یکسر خلاف ہیں کہ قرآن مجید میں میاں بیوی کے درمیان نباہ نہ ہونے کی صورت میں ’’مالی جرمانے‘‘ کے بجائے ’’اخلاقی تلافی‘‘ اور ’’احسان‘‘ کا راستہ
دکھایا گیا ہے۔
9۔اسلامی تصورِ ملکیت کی نفی اور "کمیونٹی پراپرٹی" کی مغربی نقالی
ان عدالتی سفارشات کا تاریک ترین پہلو یہ ہے کہ یہ اسلام کے "انفرادی حقِ ملکیت" (Individual Ownership) کے تصور کو یکسر نظر انداز کر کے مغربی تصورِ "اشتراکی ملکیت" (Community Property) کی بھونڈی نقالی کرتی ہیں۔
اسلام نے نکاح کے بعد بھی میاں بیوی کے معاشی وجود کو ایک دوسرے میں ضم نہیں کیا۔ شریعت کی رو سے بیوی اپنی جائیداد کی تنہا مالک ہے اور شوہر اپنے اثاثوں کا خود مختار مالک ہے۔ میاں بیوی میں سے کوئی بھی دوسرے کی جائیداد میں محض رشتہ ازدواج کی بنا پر ’’شریکِ ملکیت‘‘ نہیں بن جاتا۔
مغربی ممالک میں رائج ’’کمیونٹی پراپرٹی ‘‘ کا تصور اس مفروضے پر مبنی ہے کہ شادی کے بعد دونوں کے اثاثے ایک ہو جاتے ہیں۔ جبکہ اسلام نے عورت کو ’’معاشی خود مختاری‘‘ عطا کی ہے۔ اگر شوہر کی جائیداد میں بیوی کا نصف حصہ تسلیم کر لیا جائے، تو پھر عدل کا تقاضا یہ ہوگا کہ بیوی کی اپنی وراثت، مہر اور ذاتی کمائی میں بھی شوہر کو نصف حصہ دیا جائے، جو کہ اسلام کے مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے۔
قرآنِ کریم نے ہر فرد کو اس کی کمائی کا مالک قرار دیا ہے: ﴿ لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا وَ لِلنِّسَآءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ﴾ [سورة النساء: 32] ’’مردوں کے لیے اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کے لیے اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا‘‘۔ جب اللہ تعالیٰ نے دونوں کی کمائی اور حصوں کو الگ الگ بیان فرما دیا، تو ریاست یا عدالت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ شوہر کی انفرادی ملکیت کو زبردستی ’’مشترکہ ملکیت‘‘ میں تبدیل کر دے۔
10۔احکام زکوۃ اور انفرادی ملکیت کے اسلامی تصور کے منافی
اسلام میں مالی ذمہ داریاں بھی انفرادی ہیں۔ زکوٰۃ، صدقات اور دیگر مالی فرائض ہر ایک پر اس کی ذاتی ملکیت کے حساب سے فرض ہوتے ہیں۔ اگر ملکیت کو مشترکہ قرار دے دیا جائے تو زکوٰۃ اور وراثت کا پورا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
11۔ مالی تحفظ کے شرعی تصور کے منافی ہے
یہ فکری مغالطہ دور کرنا نہایت ضروری ہے کہ اسلام خواتین کے معاشی تحفظ کا مخالف ہے۔ شریعتِ مطہرہ میں خاص صورتوں اور انفرادی حالات کے مطابق نکاح کے وقت اضافی مالی شرائط طے کرنے کی فقہی گنجائش موجود ہے، جسے فریقین اپنی باہمی رضا مندی سے طے کر سکتے ہیں۔ لیکن جس انداز میں عدالتِ عالیہ کی یہ سفارشات مرتب کی گئی ہیں، وہ انفرادی ضرورتوں کے حل کی بجائے پورے ’’نکاح ‘‘ کے سماجی ادارے کو ہی ایک ’’کاروباری شکل ‘‘ دینے کی کوشش ہے۔
نکاح ایک ایسا میثاقِ غلیظ (مضبوط عہد) ہے جس کی بنیاد مروت، ایثار اور صلہ رحمی پر ہے۔ اگر اسے قانونی جبر کے ذریعے ’’پرافٹ شیئرنگ‘‘ (Profit Sharing) کے تجارتی معاہدے میں بدل دیا گیا، تو خاندان کا وہ اخلاقی ڈھانچہ منہدم ہو جائے گا جو مسلم معاشرے کی پہچان ہے۔
اسلامی قوانین کے ہوتے ہوئے خواتین کو کسی اضافی تحفظ کی ضرورت نہیں ہے ۔ جبکہ عدالت کا یہ فیصلہ خالصتاً مغربی سوچ و فکر سے متاثر ہو کر دیا گیا ہے جو نہ تو ہمارے معاشرے کی ساخت کے مطابق ہے اور نہ ہی ہماری دینی تعلیمات کے ۔
یہ سفارشات عورت کے تحفظ کے نام پر درحقیقت مرد کے حقِ ملکیت پر حملہ ہیں، اور اسلام کے انفرادی مالی تشخص کے تصور کو مغرب کے لادینی افکار کے تابع بنانے کی ایک منظم کوشش محسوس ہوتی ہیں۔ مغرب میں ایسے قوانین کے نتیجے میں نکاح کا مضبوط خاندانی ادارہ کمزور بلکہ بعض معاشروں میں تقریباً ختم ہوکر رہ گیا ہے۔ مردوں نے جب دیکھا کہ طلاق کی صورت مرد کو اپنی آدھی جائیداد سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں تو انہوں نے چور دروازے تلاش کئے اور بنا شادی کے عورتوں کے ساتھ رہنا شروع کر دیا ۔ جب جی بھرا تو اپنا کوٹ اٹھایا ، دروازہ کھولا اور ہمیشہ کے لیے نکل گئے ۔ اس بیچ اولاد ہو گئی تو وہ بھی عورت کی ذمےداری ٹھہری ۔ بربادیوں کی بارش بھی جب اترتی ہے تو پہلا قطرہ تنہا ہوتا ہے ،
اس طرزِ زندگی کا سب سے بڑا نقصان خود عورت کو اٹھانا پڑا ہے، جو نکاح کے ذریعے حاصل ہونے والے معاشی، معاشرتی اور خاندانی تحفظ سے محروم ہوگئی۔ نتیجتاً جوانی بے سمتی اور عدمِ استحکام میں گزرتی ہے، جبکہ بڑھاپا اولڈ ایج ہومز کی تنہائیوں کی نذر ہوجاتا ہے۔
جب ایک عورت گھر، خاندان اور تحفظ سے محروم ہوجائے تو اس کی اولاد ماں کی شفقت اور باپ کے تحفظ سے کیسے بہرہ مند ہوسکتی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ خاندانی نظام کی تباہی درحقیقت پوری انسانی نسل کے اخلاقی اور معاشرتی بحران کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔
ریاست اور مقتدر علمی حلقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مغرب کی اس بھونڈی نقالی کے بجائے، اسلام کی درخشندہ فقہی روایت سے رہنمائی لیں، جہاں عورت کا تحفظ بھی یقینی ہے اور ملکیت کے الٰہی ضابطوں کا تقدس بھی پامال نہیں ہوتا۔ (ڈاکٹر عبید الرحمن محسن)
[1] مسند أحمد عن عمرو بن يثربی:20695
[2] صحيح مسلم :1513
[3] تفسير ابن كثير (1/ 641) ، تفسیر سورۃ البقرۃ ، آیت :236