علمِ رسمِ مصحف کے ممتاز محقق
شیخ ڈاکٹر احمد بن احمد بن معمر شرشال کی رحلت
علمِ رسمِ مصحف کے ممتاز محقق
شیخ ڈاکٹر احمد بن احمد بن معمر شرشال کی رحلت
علم کی دنیا میں بعض لوگ شور و غوغا کے بجاے خاموشی، وقار اور استغنا کے ساتھ اپنا کام کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کا اصل سرمایہ نہ شہرت ہوتی ہے، نہ مناصب کی چمک بل کہ وہ علمی امانت ہوتی ہے جسے وہ پوری دیانت، محنت اور خشیت کے ساتھ اگلی نسلوں تک منتقل کر جاتے ہیں۔ شیخ ڈاکٹر احمد بن احمد بن معمر شرشال رحمہ اللّٰہ ایسے ہی اہلِ علم میں سے تھے۔ ان کی رحلت صرف الجزائر کے علمی حلقوں کا نقصان نہیں بل کہ پوری امتِ اسلامیہ بالخصوص علومِ قرآن سے وابستہ اہلِ تحقیق کے لیے ایک صدمہ ہے۔
مرحوم کا اختصاص علومِ قرآن کے ایک نہایت دقیق، نازک اور گراں قدر فن یعنی علمِ رسمِ مصحف اور ضبطِ قرآن سے تھا۔ یہ وہ علم ہے جو قرآن کریم کی اس مخصوص کتابت سے بحث کرتا ہے جو مصاحفِ عثمانیہ کی روایت سے منسوب ہے اور جس کی حفاظت دراصل کتاب اللّٰہ کی تاریخی، علمی اور متوارث صورت کی حفاظت ہے۔ اس فن میں محض ذوقِ مطالعہ کافی نہیں ہوتا بل کہ صبر، تتبع، ضبط، مخطوطات سے شغف، ائمہ کے اقوال کی معرفت اور اصطلاحاتِ فن کی گہری بصیرت درکار ہوتی ہے۔ ڈاکٹر شرشال رحمہ اللّٰہ نے اپنی علمی زندگی اسی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی۔
ان کا علمی سفر قرآن کریم سے شروع ہوا۔ انھوں نے حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی؛ پھر علومِ قرآن، تفسیر، قراءات اور رسم و ضبط کے میدانوں میں مہارت پیدا کی۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے انھوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور دکتوراہ کے مرحلے میں امام ابو داود سلیمان بن نجاح اندلسی کی عظیم کتاب مختصر التبيين لهجاء التنزيل کی تحقیق و دراسہ کو اپنا موضوع بنایا۔ یہ انتخاب ہی اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی علمی نگاہ سطحی موضوعات کے بجاے اصل مآخذ، بنیادی نصوص اور اس تراث پر تھی جس کے بغیر رسمِ عثمانی کی صحیح تفہیم ممکن نہیں۔
مرحوم کی علمی خصوصیت یہ تھی کہ وہ قدیم تراث کے محض ناقل نہ تھے بل کہ اس کے محقق، شارح اور مرتب تھے۔ انھوں نے مخطوطات کی تلاش، نسخوں کے تقابل، عبارات کی تصحیح، اقوال کی توثیق اور فنی اصطلاحات کی توضیح میں بڑی باریک بینی سے کام لیا۔ ان کے ہاں تحقیق کا مطلب یہ نہیں تھا کہ چند حوالوں کو جمع کر کے ایک مضمون بنا دیا جائے بل کہ یہ اصل مصادر تک پہنچنے، عبارت کو اس کے سیاق میں سمجھنے، ائمہ کے منہج کو ملحوظ رکھنے اور پھر مسئلے کو علمی امانت کے ساتھ پیش کرنے سے عبارت تھی۔
ان کی تصنیفی اور تحقیقی خدمات میں مختصر التبيين لهجاء التنزيل کی تحقیق، الطراز في شرح ضبط الخراز، أصول الضبط لأبي داود سليمان بن نجاح، مخالفات النساخ ولجان المراجعة والتصحيح لرسم المصحف الإمام، الوقف والوصل في القرآن الكريم اور علومِ قرآن و قراءات سے متعلق متعدد مقالات خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان کاموں کے ذریعے انھوں نے ایک ایسے فن کو جدید تحقیقی فضا میں نمایاں کیا جس کی اہمیت مسلم تھی لیکن جس کے متخصصین ہمیشہ کم رہے ہیں۔
ان کی خدمات صرف تصنیف و تحقیق تک محدود نہ تھیں۔ وہ تدریس، نصاب سازی، علمی کمیٹیوں، مصاحف کی تدقیق و تصحیح، قرآنی مسابقات اور جامعاتی تحقیق کے مختلف دائروں سے وابستہ رہے۔ اس پہلو سے وہ ایک ایسے عالم تھے جس نے علم کو کتابوں میں محفوظ رکھنے کے ساتھ اسے اداروں، طلبہ اور تحقیقی حلقوں تک منتقل کرنے کی کوشش بھی کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے تلامذہ، قارئین اور اہلِ اختصاص میں ان کا ذکر ہمیشہ احترام سے کیا جاتا رہا ہے۔
علماے ربانی کا اٹھ جانا درحقیقت علم کے ان چراغوں کا بجھنا ہے جن سے زمانے اپنی راہوں کو روشن کرتے ہیں۔ مگر اہلِ علم کی موت سے ان کا علمی فیضان ختم نہیں ہوتا بل کہ ان کے بعد بھی اس کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ان کی کتابیں پڑھنے والوں کے لیے رہ نمائی کا ذریعہ بنتی ہیں، ان کے تلامذہ ان کی نسبت کو آگے بڑھاتے ہیں اور ان کی محنتیں صدقۂ جاریہ کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ ڈاکٹر احمد بن احمد بن معمر شرشال رحمہ اللّٰہ نے قرآن کریم کے رسم و ضبط کی خدمت میں جو عمر صرف کی، امید ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اسے ان کے لیے ذخیرۂ آخرت بنائے گا۔
ہم ماہ نامہ محدث کی طرف سے مرحوم کے اہلِ خانہ، تلامذہ، محبین، الجزائر کے اہلِ علم اور پوری قرآنی دنیا سے تعزیت کرتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، قرآن کریم کی خدمت کو ان کے حق میں صدقۂ جاریہ بنائے، ان کی علمی مساعی کو قبول فرمائے اور امت کو ایسے محققین عطا فرماتا رہے جو کتاب اللّٰہ کی خدمت کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا شرف سمجھتے ہوں۔ (ڈاکٹر حافظ ابوعمرو)
ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا کا سانحۂ ارتحال
اسلامی معاشیات کے جلیل القدر محقق، مفکر اور عالمی شہرت یافتہ ماہرِ اقتصادیات ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا 13 جون 2026ء کو سعودی عرب میں انتقال کر گئے؛ انا للّٰه وانا الیه راجعون۔ ان کی وفات جدید اسلامی فکر، خاص طور سے اسلامی معاشیات اور اسلامی مالیات سے وابستہ علمی حلقوں کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے۔
ڈاکٹر چھاپرا ان اہل علم میں سے تھے جنھوں نے اسلامی معاشیات کو محض ایک جذباتی نعرہ یا روایتی مطالبہ نہیں رہنے دیا بل کہ اسے جدید معاشی فکر، مالیاتی پالیسی، بنکاری نظام، دولت کی تقسیم، عدل اجتماعی اور مقاصد ِشریعت کے تناظر میں ایک مربوط علمی موضوع بنایا۔ ان کی تحریروں میں یہ بات بار بار سامنے آتی ہے کہ معیشت جب اخلاق سے جدا ہو جائے تو وہ دولت پیدا کر سکتی ہے مگر عدل کی ضامن نہیں ہو سکتی؛ منڈیاں آباد کر سکتی ہے لیکن انسان کو فلاح، سکون اور معاشرتی توازن نہیں دے سکتی۔
ان کی شہرۂ آفاق کتاب Towards a Just Monetary System اسلامی مالیاتی فکر کی بنیادی کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ اسی طرح Islam and the Economic Challenge، The Future of Economics: An Islamic Perspective، The Islamic Vision of Development in the Light of Maqasid al-Shari‘ah اور Morality and Justice in Islamic Economics and Finance نے اسلامی معاشیات کے طلبہ، محققین اور پالیسی سازوں کو ایک نیا فکری افق عطا کیا۔ ان کا امتیاز یہ تھا کہ وہ سودی نظام کی محض مذمت نہیں کرتے تھے بل کہ اس کے تہذیبی، اخلاقی اور معاشی نتائج کا تجزیہ کرتے اور اسلامی اصولوں کی روشنی میں ایک عادلانہ متبادل کی راہ دکھاتے تھے۔وہ طویل عرصہ سعودی مانیٹری ایجنسی سے وابستہ رہے اور بعد ازاں اسلامی ترقیاتی بینک کے اسلامی ری سرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں تحقیقی مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ انھیں شاہ فیصل ایوراڈسے بھی نوازا گیا جو اسلامی معاشیات کے باب میں ان کی عالمی علمی حیثیت کا اعتراف تھا۔ اسی طرح سعودی حکومت نے انھیں سعودی عرب کی شہریت بھی عطا کی۔
ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ جدید علوم سے واقفیت، اسلامی مصادر سے وابستگی، علمی سنجیدگی اور اخلاقی درد مندی یک جا ہو جائیں تو ایک شخص پوری علمی روایت کو نئی جہت دے سکتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی علمی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے اور ان کے اہل خانہ، تلامذہ، محبین اور علمی دنیا کو صبر جمیل عطا فرمائے؛ آمین۔ (ڈاکٹر حافظ ابوعمرو)