جولائی 2026ء

بانی مرکزی جمعیت اہل حدیث

مولانا داؤد غزنوی﷫

أحوال زندگی، تحریکی جدوجہد اور منہجِ تعامل

بانی مرکزی جمعیت اہل حدیث

مولانا داؤد غزنوی﷫

أحوال زندگی، تحریکی جدوجہد اور منہجِ تعامل

مرکزی جمعیت اہل حدیث کی بنیاد  ۲۴ ۔جولائی ۱۹۴۸ء کو رکھی ۔ اس کے بانی اراکین میں مولانا داود غزنوی، مولانا حافظ محمد گوندلوی، حافظ عبد اللہ محدث روپڑی، مولانا محمد اسماعیل سلفی،  مولانا حنیف ندوی، مولانا عطاء اللہ حنیف،  مولانا معین الدین لکھوی، مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی، مولانا محی الدین قصوری،  مولانا محمد اسحاق بھٹی اور پروفیسر عبد القیوم ﷭وغیرہ شامل تھے[1]۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث کے پہلے امیر مولانا داود غزنوی   دوسرے مولانا محمد اسماعیل سلفی، تیسرے حافظ محمد گوندلوی، چوتھے مولانا معین الدین لکھوی اور پانچویں پروفیسر ساجد میر ﷭ تھے[2]۔

ہمارے اس سلسلہ ہائے مضامین میں ان پانچوں امرائے مرکزی جمعیت اہل حدیث پر پانچ مضامین شائع ہوں گے، ان شاء اللہ عزوجل، کہ جس میں عقیدہ ومنہج، تعلیم وتحریک، اخلاق وتربیت، دعوت وتنظیم  اور درس وتدریس کے حوالے سے ان حضرات  کےعلم وعمل کو قلمبند کیا جائے گا تا کہ وہ معاصر اہل حدیث نوجوانوں کے لیے علمائے اہل حدیث کی  تحریکی جدوجہد اور مسلکی  تاریخ سے واقفیت کے ساتھ  راہ عمل بھی  بن سکیں۔

پیدائش، ابتدائی تعلیم   اور اولاد

 مولانا  محمد اسحاق بھٹی ﷫ مولانا داود غزنوی ﷫ کی پیدائش اور ابتدائی تعلیم  کے بارے لکھتے ہیں:

’’مولانا جولائی ۱۸۹۵ء کے آخری ہفتے یا اگست ۱۸۹۵ء کے پہلے ہفتے میں بمقام امرتسر پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد حضرت الامام مولانا عبدالجبار غزنوی اور مولانا عبدالاول غزنوی سے حاصل کی۔ اردو حساب وغیرہ کے لیے مولانا گل محمد کے سامنے زانوئے شاگردی تہہ کیا۔ پھر عازمِ دہلی ہوئے اور وہاں مولانا حافظ عبداللہ غازی پوری اور بعض دیگر اساتذہ سے اکتسابِ علم کیا۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد کچھ عرصہ اپنے والدِ مکرم کی جگہ مدرسہ غزنویہ امرتسر میں مسندِ تدریس پر متمکن رہے۔ بعد ازاں تحریکِ خلافت کے زمانے میں سیاسیات میں آگئے اور آزادیِ وطن کے لیے مختلف اوقات میں دس سال کے لگ بھگ ملک کی مختلف جیلوں میں قید رہے[3]۔‘‘

مولانا  محمد اسحاق بھٹی ﷫ مولانا داود غزنوی ﷫ کی دو بیویوں اور اولاد کے بارے لکھتے ہیں:

’’ان کی پہلی بیوی ۱۹۳۸ء میں یا اس کے پس و پیش وفات پا گئی تھیں۔ ۱۹۴۵ء میں انہوں نے دہلی کے ایک معزز گھرانے میں دوسری شادی کی۔ اس وقت پہلی بیوی سے ایک بیٹی اور دو بیٹے...... سید عمر فاروق غزنوی اور سید ابوبکر غزنوی...... موجود تھے… سید عمر فاروق غزنوی کی ضلع شیخوپورہ میں آٹھ یا نو مربعے ذاتی زرعی زمین تھی اور ٹیوب ویل، ٹریکٹر وغیرہ سب کچھ تھا۔ سید ابوبکر غزنوی انجینئرنگ یونیورسٹی (لاہور) میں شعبہ اسلامیات کے صدر تھے۔ یہ دونوں بیٹے مولانا سے علیحدہ تھے… سید ابوبکر غزنوی کو اللہ نے بڑے اعزازات سے نوازا اور وہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے وائس چانسلر مقرر کیے گئے۔ وہ اسی منصب پر فائز تھے کہ انہوں نے ۱۶۔ اپریل ۱۹۷۶ء کو ایک حادثے سے لندن میں وفات پائی… پہلی بیوی سے مولانا کی تینوں اولادیں اللہ کے فضل سے نہایت آسودہ حال تھیں اور زندگی کی تمام راحتیں اور آسائشیں انہیں حاصل تھیں، اللہ ان کی قبریں نور سے بھرے۔ آمین… دوسری بیوی سے مولانا کی وفات کے وقت چار بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔ ان میں سے تین دس سے سولہ برس کی عمر کے تھے اور تین ان سے کم سن۔ اپنی والدہ مکرمہ سمیت یہ گھرانہ سات افراد پر مشتمل تھا[4]۔‘‘

سیاسی زندگی

مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ مولانا داود غزنوی ﷫ کی سیاسی زندگی   کے بارے لکھتے ہیں:

’’جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے۔ مولانا غزنوی مختلف اوقات میں مندرجہ ذیل جماعتوں کے عہدے دار رہے:

پنجاب خلافت کمیٹی کے ناظم اعلیٰ،مجلس احرار ہند کے ناظم اعلیٰ،جمعیت علمائے ہند کے نائب صدر، کانگریس کمیٹی پنجاب کے صدر،خضر وزارت کے خلاف مسلم لیگ کی تحریک کے ڈکٹیٹ،۱۹۵۳ء کی خلاف مرزائیت تحریک کے سلسلے میں قائم کردہ مجلس عمل کے ناظم اعلیٰ اور مرکزی جمعیت اہل حدیث کے صدر (اور امیر)[5]۔ ‘‘

مولانا  محمد اسحاق بھٹی ﷫ مولانا داود غزنوی ﷫ کی کانگرس  کے پلیٹ فارم سے  ملکی و ملی  سیاسی جدوجہد    کے بارے لکھتے  ہیں:

’’انگریزی حکومت کے خلاف کانگرس کی’’ہندوستان خالی کرو‘‘ تحریک جب ۸۔ اگست ۱۹۴۲ء کو شروع ہوئی تو لاہور سے مولانا غزنوی کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ وہ اس زمانے میں  کانگرس سے تعلق رکھتے تھے۔ انھیں سنٹرل جیل لاہور میں رکھا گیا تھا۔ مولانا ستمبر ۱۹۴۵ء تک تین سال اس جیل میں قید رہے اور یہ ان کی سیاسی زندگی کی آخری قید تھی۔ پہلی مرتبہ وہ تحریک خلافت (۱۹۱۹ء) میں قید ہوئے تھے۔ آزادی وطن کے لیے وہ ملک کی مختلف جیلوں میں دس سال  کے لگ بھگ قید رہے [6]۔ ‘‘

مولانا  محمد اسحاق بھٹی ﷫ کے بقول مولانا داود غزنوی ﷫ کانگرس کے پلیٹ فارم سے پنجاب اسمبلی کے ممبر بھی منتخب ہوئے تھے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’مولانا دوود غزنوی اس زمانے میں پنجاب کانگرس کے صدر تھے اور پنجاب میں وہ واحد مسلمان تھے جو کانگریس کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ ۱۹۴۶ء کے وسط میں وہ کانگریس سے استعفی دے کر مسلم لیگ میں شامل ہو گئے تھے[7]۔‘‘

کانگرسی سکھوں کو مولانا داود غزنوی ﷫ پر اس بات کا غصہ تھا کہ وہ پنجاب کانگرس کے صدر کیوں تھے۔  مولانا  محمد اسحاق بھٹی ﷫ لکھتے ہیں:

’’مولانا ۱۹۴۵ء میں پنجاب کانگرس کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ اس وقت آل انڈیا کانگرس کے صدر مولانا  ابوالکلام آزاد تھے۔ اس پر سکھ لیڈر ماسٹر تارا سنگھ نے ایک اخباری بیان میں کہا تھا کہ کانگریس دو مولاناؤں کے قبضے میں ہے۔ ملکی سطح پر مولانا ابوالکلام آزاد کے قبضے میں اور صوبائی سطح پر ملک کے ایک بڑے صوبے پنجاب میں مولانا داؤد غزنوی کے قبضے میں......! اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان پر کسی زمانے میں محمود غزنوی نے یکے بعد دیگرے سترہ حملے کیے تھے اور اس ملک کے غیر مسلموں کو سخت اذیتوں میں مبتلا کیا تھا۔ اب پنجاب کے غیر مسلموں کو داؤد غزنوی پریشان کر رہے ہیں۔ محمود غزنوی کا تعلق بھی افغانستان سے تھا اور داؤد غزنوی کے آباواجداد بھی کچھ عرصہ پہلے اسی ملک سے پنجاب میں آکر آباد ہوئے تھے[8]۔‘‘

البتہ کانگرسی ہندوؤں میں مولانا داود غزنوی ﷫ کا احترام موجود تھا۔ مولانا  محمد اسحاق بھٹی ﷫ لکھتے ہیں:

’’مولانا غزنوی تحریکاتِ آزادی کی جدوجہد کے سلسلے میں ملک کی مختلف جیلوں میں محبوس رہے۔ کچھ عرصہ الٰہ آباد جیل میں بھی بسر ہوا۔ یہ پنڈت جواہر لال نہرو کا شہر تھا اور یہ خاندان مولانا کا اس قدر احترام کرتا تھا کہ جیل میں ان کا ناشتہ اور دو وقت کا کھانا جواہر لال کے گھر سے بھیجا جاتا تھا۔ اس کا اہتمام خود جواہر لال نہرو کی بہن وجے لکشمی پنڈت کرتی تھیں[9]۔‘‘

کانگرس کو خیر آباد کہنے کے بعد مولانا داود غزنوی ﷫ مسلم لیگ میں شامل ہو گئے تھے۔ اور مسلم لیگ کے تحت بھی وہ پنجاب اسمبلی کے ممبر رہے۔ مولانا  محمد اسحاق بھٹی ﷫ لکھتے ہیں:

’’عارضی حکومت (انٹیرم گورنمنٹ) کے زمانے میں پنجاب کی طرف سے مسلم لیگ نے مرکزی اسمبلی کی رکنیت کے لیے پنجاب اسمبلی کے جن تین ممبروں کو نامزد کیا تھا، ان میں سے ایک مولانا داود غزنوی تھے[10]۔‘‘

کانگرس اور مسلم لیگ کے علاوہ جمعیت علمائے ہند کے پلیٹ فارم پر بھی مولانا داود غزنوی ﷫ بہت سرگرم اور متحرک رہے۔ مولانا  محمد اسحاق بھٹی ﷫ لکھتے ہیں:

’’ ۱۹۴۲ء کے مارچ میں جمعیت علماے ہند کا سالانہ اجلاس لاہور میں مولانا سید حسین احمد مدنی کے زیر صدارت منعقد ہوا۔ مولانا سید داود غزنوی مجلس استقبالیہ کے ناظم تھے۔انھوں نے اجلاس میں شرکت کے لیے کثیر تعداد میں علما وزعما کو دعوت نامے بھیجے تھے۔ ہمارے علاقے کے بھی بہت سے لوگوں کو دعوت شرکت دی گئی تھی۔ دعوت نامے پر مولانا کی دستخطی مہر ثبت تھی، جس میں’’محمد داود غزنوی‘‘ کے الفاظ کندہ تھے[11]۔

مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ لکھتے ہیں کہ مولانا داود غزنوی ﷫  جمعیت علماے ہند کے نائب صدر رہے ہیں :

’’ ۱۹۴۵ء کے اکتوبر کا مہینہ تھا کہ جمعیت علماے ہند نے (اپنے مرکزی دفتر واقع گلی قاسم جان دہلی میں) انتخاب کے سلسلے میں آئندہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے اپنے ہم خیال مسلمانوں کی سیاسی جماعتوں کا اجلاس بلایا۔ اس اجلاس میں متعدد معروف شخصیتوں نے شرکت کی، جن میں سید حسین احمد مدنی، مولانا سید داود غزنوی، مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا احمد سعید دہلوی، مولوی فضل الحق، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، خواجہ عبد المجید، مولانا سید میاں، مولانا بخش سومرو، مولانا عبد الواحد، مولانا عبد المجید سوہدروی اور مولانا عطاء اللہ حنیف﷭ کے نام قابل ذکر ہیں۔ میں بھی اس میں شامل تھا۔ اجلاس،  جمعیت علماے ہند کے صدر  مولانا حسین احمد مدنی کی صدارت میں منعقد ہوا تھا، مولانا داود غزنوی اس زمانے میں جمعیت علماے ہند کے نائب صدر تھے[12]۔‘‘  

مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ لکھتے ہیں کہ مولانا حسین احمد مدنی ﷫، مولانا داود غزنوی ﷫ کی اقتداء میں نماز پڑھنا چاہتے تھے لیکن مولانا داود غزنوی ﷫ ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے کو ترجیح دیتے تھے:

’’تین دن اجلاس جاری رہا اور مولانا نے اس میں پوری دلچسپی لی۔ مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی جمعیت علماے ہند کے ناظم اعلیٰ تھے، وہ بار بار مولانا غزنوی کے پاس آتے اور ضروری مشورے لیتے۔ نماز کا وقت ہوا تو مولانا مدنی نے مولانا سے امامت کی درخواست کی، مگر انھوں نے مولانا مدنی ہی کی اقتدا میں نماز پڑھی[13]۔‘‘

تحریکی زندگی

مولانا داود غزنوی ﷫ نے ۱۹۴۸ء میں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کی بنیاد رکھی تھی۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ لکھتے ہیں:

’’مولانا عطاء اللہ حنیف، مولانا اسماعیل سلفی اور بعض دیگر حضرات نے مولانا سید داود غزنوی کے سامنے جمعیت اہل حدیث کی تنظیم کے لیے تجویز پیش کی ۔ مولانا غزنوی نے اس تجویز کے مختلف پہلووں پر غور کیا اور باہم مشورے سے ۲۴ ۔جولائی ۱۹۴۸ء کو دار العلوم تقویۃ الاسلام (شیش محل روڈ، لاہور) میں جماعت کے سرکردہ حضرات کا اجلاس بلایا، جس میں کم وبیش دو سو افراد نے شرکت کی۔ اسی اجلاس میں مرکزی جمعیت اہل حدیث کی تاسیس کی گئی۔ میں اس اجلاس میں شریک تھا۔ مولانا غزنوی کو متفقہ طور پر صدر منتخب کیا گیا اور پروفیسر عبد القیوم کو ناظم اعلی بنایا گیا[14]۔‘‘

مرکزی جمعیت اہل حدیث کے مالی حالات اتنے اچھے نہ تھے اور مولانا داود غزنوی ﷫ کو بعض اوقات قرض لے کر جماعت کے معاملات چلانے پڑتے تھے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ لکھتے ہیں:

’’ ایک اور واقعہ ملاحظہ ہو۔ یہ بہت ہی نازک اور اہم واقعہ ہے...... ۱۹۵۰ء کی بات ہے کہ جمعیت اہل حدیث کا خزانہ بالکل خالی تھا۔ لفظ ”خزانہ“ تو یونہی زبان قلم سے نکل گیا ورنہ عملاً تو اس زمانے میں اس کا تصور بھی نہیں تھا...... مولانا محمد داؤد غزنوی اور مولانا محمد اسماعیل سلفی کی طرف سے جو علی الترتیب جمعیت اہل حدیث کے صدر اور ناظم اعلیٰ تھے، حکم ہوا کہ میں صوفی عبداللہ صاحب کے پاس اوڈاں والا (ضلع فیصل آباد) جاؤں اور ان سے جمعیت کے لیے پانچ سو روپے قرض لاؤں[15]۔‘‘

معاش وروزگار

مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫، مولانا داود غزنوی ﷫ کے ذریعہ آمدن کے بارے  لکھتے ہیں:

’’اسمبلی کے رکن کو اس زمانے میں تین سو روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی اور تین سو روپے ماہانہ آمدنی پر انکم ٹیکس وصول کیا جاتا تھا۔ بعض دفعہ مولانا مجھے اسمبلی سے چیک لانے کے لیے بھیجتے، تنخواہ میں سے تین روپے کاٹ کر دو سو ستانوے روپے کا چیک ملتا تھا۔ ان دنوں میں یہی ان کی آمدنی تھی اور کوئی ذریعہ آمدنی نہ تھا[16]۔ ‘‘ 

مولانا داود غزنوی ﷫ بہت خود دار تھے۔ روکھی سوکھی پر گزارا کر لیتے تھے لیکن جمعیت اہل حدیث سے ایک روپیہ نہ لیتے تھے، تنخواہ کی مد میں بھی نہ لیتے تھے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی﷫لکھتے ہیں:

’’مولانا انتہائی خوددار تھے۔ بظاہر آمدنی کا کوئی خاص ذریعہ نہ تھا اور اس کا کسی سے اظہار نہ کرتے تھے۔ اس کا احساس مجھے ایک ہی ہفتے میں یکے بعد دیگرے پیش آنے والے دو واقعات سے ہوا۔ ایک دن ہم انارکلی سے باہر اور لوہاری دروازے کی طرف کھڑے تھے اور شیش محل روڈ جانا چاہتے تھے۔ مولانا نے اپنی عادت اور معمول کے خلاف سالم تانگہ نہیں لیا بلکہ عام سواریوں کے ساتھ تانگے میں بیٹھے اور بیٹھتے ہی مجھے کہا، چلیے آج اسی پر چلتے ہیں۔ شیش محل روڈ پر آئے تو دو آنے سواری کے حساب سے دو سواریوں کے چار آنے تانگے والے کو دیے۔ چوتھے یا پانچویں دن میں نے دیکھا کہ درزی کو بلا کر ٹھنڈی پرانی شیروانی اسے دی اور کہا کہ یہ یہاں یہاں سے پھٹ گئی ہے، اسے الٹا دو۔ پھر مجھ سے فرمایا: ”مولوی اسحاق! پرانی چیزیں اگر ٹھیک ہو سکیں تو انہیں ٹھیک کرا لینا چاہیے۔ نواں نو دن، پرانا سو دن۔“ یہ دونوں واقعے مجھے عجیب سے لگے اور میں نے مولانا حنیف ندوی کو بتائے۔ انہوں نے کہا: ”مولانا مرکزی جمعیت اہل حدیث کے صدر ہیں اور اسی کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ کوشش کرنی چاہیے کہ مرکزی جمعیت کی طرف سے کم سے کم تین سو روپے ہر مہینے ان کی خدمت میں پیش کیے جائیں۔“ میں نے عرض کیا: ”بات تو ٹھیک ہے لیکن اس کے لیے کسی نہ کسی طرح خود مولانا سے منظوری لینے کی کوشش کرنی چاہیے۔“ چنانچہ دوسرے دن مولانا ندوی آگئے۔ ہم دونوں نے مولانا غزنوی سے اشارتاً بات کی تو فرمایا: ”ہرگز نہیں۔ میں ایک پیسہ بھی مرکزی جمعیت کے خزانے سے نہیں لوں گا۔ آپ نے میرے بارے سوچا اور مجھ سے بات کی، اس پر آپ کا شکر گزار ہوں۔ لیکن یہ بات یہیں رہنے دیجیے، کسی سے اس کا ذکر نہ کیجیے۔“ ہم نے عرض کیا کہ تمام جماعتوں کے فنڈ سے اس کے سربراہوں کی خدمت کی جاتی ہے، اس لیے کہ وہ جماعت کو وقت دیتے اور اس کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ آپ کی خدمت بھی جماعت کو اپنی استطاعت کے مطابق کرنی چاہیے۔ فرمایا: ”کوئی جماعت کسی کی خدمت کرتی ہو یا نہ کرتی ہو، مجھے اس سے بحث نہیں۔ میں کسی صورت میں اپنی جماعت سے کچھ نہیں لوں گا۔ کسی نہ کسی طرح وقت گزر رہا ہے اور گزرتا رہے گا۔“ مولانا غزنوی شاہانہ مزاج مگر درویشانہ اطوار کے مالک تھے۔ ان کا کہیں ذاتی مکان یا پلاٹ نہ تھا۔ وہ اوقاف کے مکان میں رہتے تھے اور اس کا ماہانہ کرایہ ادا کرتے تھے۔ کوئی بینک بیلنس نہ تھا۔ایک دن میں نے پوچھا:  آپ نے مکان کا کلیم داخل کیا تھا؟ فرمایا:  میرا کہیں مکان ہی نہ تھا۔ آزادی وطن سے بہت پہلے اپنی ضرورتوں کی بنا پر امرتسر والا ذاتی مکان بیچ ڈالا تھا اور خود لاہور میں چینیاں والی مسجد کے چھوٹے سے مکان میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ میں جھوٹا کلیم کیوں داخل کرتا اور اس کے لیے کلیم کمشنر کی عدالت میں کیوں جھوٹے گواہ پیش کرتا[17]۔‘‘

اوصاف واخلاق

مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ کے بقول مولانا داود غزنوی ﷫ بہت وجیہ اور خوبصورت تھے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’سادا مگر نہایت صاف ستھر الباس پہنتے تھے۔ چہرے کی ساخت، رنگ روپ اور قدو قامت سے یونانی شہزادے معلوم ہوتے تھے۔ جس طرف سے گزرتے لوگ خو بخود پیچھے ہٹے اور راستہ دیتے جاتے تھے۔ اللہ نے ان کو دولت حسن سے بھی نوازا تھا اور دولت  رعب سے بھی مالا مال کیا تھا[18]۔‘‘

مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ کے بقول ہندوستان ٹائمز کے نامہ نگار نے مولانا داود غزنوی ﷫ کے حسن وجمال پر نصف کالم چھاپ دیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں:

’’محمد داؤد غزنوی انتہائی خوب صورت، رعنا اور متوازن انسان تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب وہ پنجاب کانگریس کے صدر منتخب ہوئے تو ہندوستان ٹائمز کے نامہ نگار متعینہ لاہور (مسٹر آنند سروپ) نے مولانا کے حسن و جمال پر نصف کالم کے قریب ڈسپیچ لکھا تھا[19]۔‘‘

مولانا داود غزنوی ﷫ بے حد نفیس الطبع تھے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ لکھتے ہیں:

’’وہ بے  حد نفاست پسند تھے۔ ان کے مطالعے کی میز خاصی بڑی تھی، جس پر اسی سائز کا شیشہ رکھا ہوا تھا۔ اس پر کوئی چھوٹے سے چھوٹا دھبابھی نظر آجاتا تو جب تک اسے مٹا نہ دیتے، چین نہ آتا۔ میز پر کتابیں انتہائی سلیقے اور قرینے سے رکھتے۔ اوپر نیچے پڑی ہوئی کسی کتاب کا کوئی ادنی سا گوشہ بھی ترتیب سے باہر ہوتا تو اسے اپنے ہاتھ سے ٹھیک کرتے۔ کسی کی میز پر ادھر ادھر بکھرے ہوئے کاغذ یا  غیر مرتب کتابیں دیکھتے تو انھیں سخت ذہنی تکلیف ہوتی۔ بعض دفعہ اس کا ظہار بھی کر دیتے[20]۔‘‘

مولانا داود غزنوی ﷫ کی طبع میں نفاست اس حد تک تھی کہ مولانا چراغ حسن حسرت ﷫ نے ان کا نام مولانا نستعلیق رکھ چھوڑا تھا۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ لکھتے ہیں:

’’مولانا چراغ حسن حسرت مرحوم نے ایک مرتبہ ’’امروز ‘‘ کے حرف و حکایت میں مولانا داؤد غزنوی کی خوش ذوقی، خوش پوشی اور نفاست طبع کا ذکر کرتے ہوئے انہیں ’’نستعلیق عالمِ دین‘‘ قرار دیا تھا اور لکھا تھا کہ مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا داؤد غزنوی اگر کہیں ایک جگہ اکٹھے ہو جاتے تو دروازے بند کر کے محوِ گفتگو ہو جاتے۔ پھر انہیں کوئی پروا نہ ہوتی کہ باہر بھی کوئی بیٹھا ہے۔ اتفاق سے اُن میں فکری و علمی اتحاد کے ساتھ ساتھ نفاست اور خوش ذوقی و خوش پوشی کا بھی اتحاد تھا۔ حسرت مرحوم نے یہ بھی لکھا تھا کہ ممکن ہے دونوں ایک دوسرے کا حُسن دیکھتے رہتے ہوں۔ حسرت مرحوم کی یہ بات بالکل صحیح تھی۔ مولانا داؤد غزنوی واقعی نفیس الطبع تھے۔ وہ قلم اور کاغذ کے استعمال میں بھی اپنی خوش ذوقی اور نفاست طبع کو مجروح نہ ہونے دیتے۔ مولانا محمد اسماعیل مرحوم مضمون بھیجتے تو عام طور پر ایک طرف سے مطبوعہ کاغذ یعنی اشتہار وغیرہ کی پشت پر لکھا ہوتا۔ مولانا اس پر سخت ناگواری کا اظہار کرتے اور کہا کرتے کہ میں اس قسم کے کاغذ پر لکھ ہی نہیں سکتا۔ مجھے میلے کچیلے اور مطبوعہ کاغذ سامنے رکھ کر مضمون سوجھتا ہی نہیں۔ اُن کی عادت تھی کہ نہایت عمدہ اور سفید کاغذ پر لکھتے۔ انہیں دو چار سطریں بھی لکھنا ہوتیں، تو بھی بہتر کاغذ استعمال کرتے[21]۔‘‘

 مولانا داود غزنوی ﷫  کا پہننے اوڑھنے کا ذوق بھی بہت عمدہ تھا۔ تہبند کی نسبت شلوار کو زیادہ ساتر لباس سمجھتے تھے ۔  مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫  فرماتے ہیں:

’’بہترین لباس زیبِ تن کرتے اور نہایت صاف ستھرے رہتے۔ میٹنگ میں بالخصوص عمدہ کپڑوں میں شریک ہوتے۔ مجلس میں بعض حضرات تہبند باندھ کر آتے تو انہیں سخت ناگوار گزرتا۔ بعض دفعہ گرمیوں کے دنوں میں مولانا محمد اسماعیل مرحوم تہبند باندھ کر تشریف لاتے تو خاموش نہ رہ سکتے۔ ایک دن جمعیت اہل حدیث کی مجلسِ عاملہ میں مولانا محمد اسماعیل مرحوم تہبند باندھ کر شریک ہوئے۔ مولانا محی الدین احمد قصوری نے کہا:”جناب صدر! اپنے ناظمِ اعلیٰ سے باپردہ لباس کی وضاحت فرمائیے“۔مولانا نے مولانا محمد اسماعیل کی طرف دیکھا اور فرمایا: میں بحیثیت امیر حکم دیتا ہوں کہ آئندہ کوئی رکن مجلس تہبند باندھ کر نہ آئیں شلوار پہن کر میٹنگ میں شریک ہوں۔ بالخصوص ناظمِ اعلیٰ صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ استر  لباس شلوار ہے تہبند نہیں[22]۔‘‘

مولانا داود غزنوی ﷫  کا ادبی اور شعری ذوق بھی قابل دید تھا۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ لکھتے ہیں:

’’مولانا شاعر نہیں تھے، لیکن ادب و شعر کا پختہ اور صاف ستھرا ذوق رکھتے تھے۔ عربی، فارسی اور اردو کے بہت سے اشعار زبانی یاد تھے اور گفتگو میں بر محل پڑھتے تھے۔ اردو شعرا میں سے غالب، ذوق، میر، سودا، درد، انشا، شیفتہ، ظفر اور مومن وغیرہ کے علاوہ اقبال، ظفر علی خاں، محمد علی جوہر، جوش، جگر اور حفیظ کے اشعار ان کے ذہن میں محفوظ تھے۔ فارسی شعرا میں سے حافظ، سعدی، عرفی، فیضی، رومی، غنی کاشمیری، گرامی کا کلام انہیں یاد تھا۔ نعتیہ کلام سے بھی انہیں بہت دلچسپی تھی۔ ان کی ایک بیاض میں ان کے منتخب اشعار درج ہیں۔ یہ بیاض قید کے زمانے کی ہے، جس پر ”۱۸۔ مئی ۱۹۳۲ء، نیو سنٹرل جیل ملتان“ لکھا ہے۔ اس وقت ان کی عمر ۳۷ برس تھی[23]۔‘‘

مولانا داود غزنوی ﷫   لوگوں کے بہت کام کرتے  تھے اور صحیح معنوں میں لوگوں کے کام آنے والے تھے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ لکھتے ہیں:

’’مولانا کے پاس بے شمار لوگ مختلف علاقوں اور دور دراز دیہات سے اپنے ذاتی کاموں کے لیے آتے تھے۔ کسی کو کسی محکمے کے سیکرٹری سے، کسی کو کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے، کسی کو ملازمت کے سلسلے میں کسی وزیر یا بڑے آدمی سے سفارش درکار ہوتی تھی۔ مولانا سب کا کام کرانے کی کوشش کرتے۔ اگر ٹیلی فون کے ذریعے ممکن ہوتا تو ٹیلی فون کر دیتے۔ اگر رقعے کی ضرورت ہوتی تو رقعہ لکھ دیتے اور اگر خود جانا ضروری سمجھتے تو خود تشریف لے جاتے۔ کمزور، غریب اور بے وسیلہ لوگوں کے کام کے لیے سب سے زیادہ کوشش کرتے اور جس محکمے کے اہل کار سے اس کام کا تعلق ہوتا، اسے اللہ سے ڈراتے اور زوردار لہجے میں فرماتے کہ امیر اور مالدار لوگ تو کئی ذرائع سے کام کرا سکتے ہیں، غریبوں اور کمزوروں کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ ان کا کام ضرور کریں۔ یہ لوگ آپ کو دعا دیں گے۔ کسی کام سے آنے والا شخص دنیوی لحاظ سے چھوٹی حیثیت کا ہوتا یا بڑی حیثیت کا، متعلقہ محکمے کے اہل کاروں سے اس کا تعارف بہت اچھی طرح کراتے اور اس کی بڑائی کا اظہار فرماتے[24]۔‘‘

دیگر علماء کی تعریف میں بخل اور کنجوسی سے کام نہ لیتے تھے۔ کسی کو قابل سمجھتے تو تعریف کر دیتے تھے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫  لکھتے ہیں:

 ’’مولانا حافظ محمد حسین روپڑی﷫ کی وسعتِ مطالعہ اور درسیات سے متعلق ان کے عبور کا انہوں نے کئی دفعہ تذکرہ فرمایا۔ حضرت حافظ صاحب مرحوم ایک سال دارالعلوم تقویۃ الاسلام میں خدمتِ تدریس پر مامور رہے تھے اور مولانا ان کا بہت احترام کرتے تھے[25]۔‘‘

ذوق عبادت

اسلاف کے  تصوف کے ساتھ رغبت کے سبب مولانا داود غزنوی ﷫ میں ذوق عبادت بہت نمایاں تھا۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ لکھتے ہیں:

’’وہ باجماعت نماز پڑھتے تھے، مگر خود امامت کرانے سے گریز کرتے تھے۔ نماز میں انتہائی خشوع وخضوع کی کیفیت ان پر طاری ہو جاتی تھی۔ ہر نماز کے بعد وظائف پڑھتے اور ہاتھ اٹھا کر لمبی دعا مانگتے تھے۔ نماز فجر، نماز مغرب اور نماز عشا کے بعد بالخصوص وظائف کا سلسلہ بہت طویل ہوتا تھا۔ننگے سر نماز پڑھنا اور نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا نہ مانگنا ان کے نزدیک نہایت ناپسندیدہ فعل تھا۔ رات کو اگرچہ کتنی ہی دیر سے سوتے، مگر نماز تہجد بالالتزام پڑھتے[26]۔‘‘

مولانا داود غزنوی ﷫ تہجد اور ذکر الٰہی کے بہت پابند تھے۔ سید ابو بکر غزنوی ﷫  لکھتے ہیں:

’’ذوقِ عبادت: اُن کی شخصیت کے بعض پہلو جو مجھے عزیز تھے، ذکر کرتا ہوں: ذکرِ الٰہی بڑی کثرت سے کرتے تھے۔ رات دو تین بجے اٹھ کھڑے ہوتے اور مسلسل چار پانچ گھنٹے عبادت میں مشغول رہتے۔ تہجد زندگی بھر باقاعدگی سے ادا کرتے رہے۔ تہجد کی نماز میں بہت روتے تھے۔ اُن کے رونے کی آواز گھر والوں کو جگا دیتی تھی۔ روتے روتے اُن کی ہچکی بندھ جاتی۔ یوں معلوم ہوتا کہ کہیں چکی چل رہی ہے یا ہنڈیا اُبل رہی ہے بعض اوقات مصروفیتوں کا ہجوم ہوتا اور رات دیر تک جاگتے رہتے مگر ذوقِ عبادت اس قدر پختہ ہو چکا تھا اور شب خیزی کی عادت ایسی راسخ ہو چکی تھی کہ رات کے پچھلے پہر اٹھ بیٹھتے۔ شام کی نماز کے بعد بھی بہت دیر تک ذکر میں مشغول رہتے۔ ایک دن مجھ سے کہنے لگے: "رات میں لا الہ الا اللہ کا ذکر کرتا تھا، تو میرے منہ سے نور نکلتا تھا۔ عجیب کیفیت تھی[27]۔‘‘

تصوف اور اشغال

ملک حسن علی شرقپوری لکھتے ہیں:

’’ایک دفعہ نیلا گنبد کی مسجد میں اپنا طریقت کا سلسلہ یوں بیان فرمایا کہ  سلسلہ نقشبندیہ میں میری بیعت اپنے والدِ حضرت مولانا عبدالجبار ﷫ سے ہے اور حضرت مولانا عبدالجبار ﷫ کی بیعت اپنے والدِ حضرت مولانا عبداللہ غزنوی سے ہے۔ حضرت مولانا عبداللہ کی بیعت شیخِ وقت حضرت مولانا حبیب اللہ قندھاری سے ہے۔ حضرت مولانا حبیب اللہ قندھاری کی بیعت حضرت سید احمد شہید سے ہے[28]۔‘‘

مولانا سید داود غزنوی ﷫   کے نزدیک تصوف سے مراد تزکیہ باطن تھا۔ وہ  شریعت پر عمل ہی  کو صحیح تصوف مانتے  تھے۔شیخ ابن عربی کے وحدت الوجود کے حق میں نہ  تھے یعنی نظری  تصوف کے قائل نہ تھے۔  ان کے بیٹے سید ابو بکر غزنوی ﷫   لکھتے ہیں:

’’تفسیر، حدیث اور فقہ کے علاوہ تصوف کی کتابوں پر بھی خوب نظر تھی۔ رسالہ قشیریہ، التعرف لمذہب اہل التصوف، کیمیائے سعادت، احیائے علوم، مثنوی مولانا روم، کشف المحجوب، مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی ﷫ ، ان سب کتابوں کا مطالعہ بالاستیعاب کیا تھا۔ حضرت مجدد صاحب علیہ الرحمہ سے انہیں خاص عقیدت تھی۔ آخری بار قید کا زمانہ مکتوبات ہی کے مطالعہ میں بسر ہوا۔ فرماتے تھے: ’’تصوف میں میرے امام شیخ احمد سرہندی ﷫ ہیں‘‘۔ ایک دن یہ بھی فرمایا: ’’شریعت کا وہ حصہ جو تزکیہ باطن سے متعلق ہے، اصطلاحاً تصوف کہلاتا ہے۔ شریعت سے ہٹ کر کسی تصوف کا میں قائل نہیں ہوں‘‘۔حلول، اتحاد، وحدت الوجود اور وحدت الشہود میں فرق خوب مزے لے کر بیان کرتے تھے۔ وحدت الوجود کے خلاف تھے اور شیخ محی الدین ابن عربی ﷫ علیہ سے انہیں طبعی مناسبت نہ تھی[29]۔‘‘

تصوف میں کشف وکرامات کو غیر ضروری سمجھتے تھے اور اسے  ولایت کی کسوٹی نہیں مانتے تھے کیونکہ ان کے بقول اس کے ظہور کے لیے ایمان ہونا ضروری نہیں ہے۔ سید ابو بکر غزنوی ﷫   لکھتے ہیں:

’’کشف و کرامات: وہ اس بات کے قائل تھے کہ اولیاء اللہ کو کشف ہوتا ہے اور خرقِ عادت بات کا ظہور بھی اُن سے ہوسکتا ہے لیکن کشف و کرامت کو ولایت کی کسوٹی نہیں مانتے تھے۔ فرماتے تھے کہ کشف کافر، ملحد اور دہریے کو بھی ہوسکتا ہے۔ مجاہدے اور ریاضت سے انسان میں بعض باطنی قوتیں پیدا ہوجاتی ہیں جن کی وجہ سے ریاضت کرنے والے کو کشف ہونے لگتا ہے اور شریعت میں کشفی علوم کو حجت نہ مانتے تھے۔ اسی طرح خرقِ عادت کا ظہور فرماتے تھے کہ جوگیوں سے بھی ہوتا ہے اور یہ ریاضت کا ثمرہ ہے کسی کی ولایت کی دلیل نہیں۔ بعض صحابہؓ سے عمر بھر کسی بھی خرقِ عادت بات کا ظہور نہیں ہوا، اس کے باوجود وہ تمام اُمت سے افضل ہیں[30]۔‘‘

حضرات صوفیاء کی توجہ اور تصرف کے طریقے کو مقصد کے تابع سمجھتے تھے کہ اس کا حکم وہی ہے جس کی نیت کی گئی ہے۔ سید ابو بکر غزنوی ﷫   لکھتے ہیں:

’’توجہ اور تصرّف: توجہ اور تصرّف کے بارے میں بھی اُن کی رائے یہ تھی کہ اسے کمال اور قربِ الٰہی میں کوئی دخل نہیں اور نہ ولایت و مقبولیت کی علامت ہے کیونکہ توجہ میں یکسوئی کی مشق سے ایک فاسق و فاجر آدمی بھی اپنی ہمتِ باطنی کو مضبوط اور قوی بنا سکتا ہے۔ مسمریزم اور عملِ تنویم کا دار و مدار بھی ہمتِ باطنی کی مشق پر ہے۔ مشائخ میں بھی یہ قوت کثرتِ مجاہدہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس قوت کا استعمال اگر کسی نیک مقصد کے لیے ہو، تو اس تصرّف کو بھی محمود سمجھا جائے گا اور اگر مقصود مذموم ہے تو یہ تصرّف بھی مذموم ہوگا[31]۔‘‘

لطائف خمسہ یا ستہ کے روشن کرنے کی طرف ان کا میلان نہیں تھا، بس صرف ایک ہی لطیفہ قلب پر محنت کے قائل تھے کہ اس کا ذکر حدیث صحیح میں ملتا ہے۔ بقیہ لطائف اس کے تابع سمجھتے تھے۔ سید ابو بکر غزنوی ﷫    لکھتے ہیں:

’’مشائخِ نقشبند کے ہاں لطائفِ خمسہ میں سے ہر لطیفہ کو علیحدہ علیحدہ ذکر بنانے کی مشق کرائی جاتی ہے۔ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی ﷫ اور مولانا اشرف علی تھانوی ﷫ کی رائے یہ ہے کہ صرف قلب سے ذکر کی مشق کی جائے اور محض لطیفۂ قلب کے مسلسل اور پیہم ذکر سے وہ تمام ثمرات اور نتائج حاصل ہو جاتے ہیں جو لطائف کی مشق سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ یہ حضرات لطائف کی طرف تفصیلی توجہ کو حجاب سمجھتے ہیں۔ مشائخ کا اختلاف تفصیل کے ساتھ بیان کرنے کے بعد حضرت والد علیہ الرحمہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے طریقے کو ترجیح دیتے ہیں، حضرت لکھتے ہیں:’’احادیث میں ایسے امور کے سلسلہ میں صرف قلب ہی کا ذکر آتا ہے اور چونکہ لطائف کا شغل رکھنے والے حضرات کے نزدیک لطائفِ خمسہ میں باہم اتصال ہے، اس لیے صرف ذکرِ قلب سے ہی بقیہ لطائف میں آثار و افعالِ مذکورہ سرایت کر جاتے ہیں کیونکہ یہ مرایا متجانسہ کی طرح ہیں‘‘[32]۔‘‘

لطیفہ قلب پر محنت کر کے اس کے روشن کرنے کو حضرات صوفیاء کا اجتہاد قرار دیتے تھے، نہ کہ سنت۔ ان کے نزدیک معاملات کی طرح عبادات میں بھی  میں اجتہاد جائز تھا۔ سید  ابو بکر غزنوی ﷫  نے جب ان سے لطائف کی مشق کے بارے سوال کیا کہ اس کی دلیل کیا ہے تو مولانا داود غزنوی ﷫  نے اس کے جواب میں کہا:

’’ یہ بزرگانِ کرام کا اجتہاد ہے۔ میں نے عرض کیا: اس اجتہاد کی علت کیا ہے؟ فرمانے لگے: نزولِ انوار دافعِ وساوس ہوتا ہے، پھر انوارِ رسالت بالخصوص انوارِ رسالتِ محمدیہ بدرجہ اتم دافعِ وساوس تھے۔ جب انوارِ رسالت منقطع ہوگئے، تو وساوس اُبھرنے لگے اور عبادت میں جمعیت خاطر اور یکسوئی باقی نہ رہی۔ قرآن کے اس حکم پر عمل مشکل ہوا کہ اٹھتے بیٹھتے پہلو بدلتے ہوئے اللہ کا ذکر کرو۔ حدیث میں ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے تھے۔ انوارِ رسالت کے منقطع ہو جانے کی وجہ سے دوامِ ذکر ممکن العمل نہ رہا۔ پس دوامِ ذکر حاصل کرنے کے لیے اور عبادت میں جمعیت خاطر اور یکسوئی پیدا کرنے کے لیے بزرگانِ کرام نے اجتہاد کیا۔ فرمایا: اگر معاملات میں اجتہاد ہو سکتا ہے تو عبادات میں جمعیت خاطر پیدا کرنے کے لیے اجتہاد کیوں نہیں ہو سکتا۔ پھر ایک اور شام بندہ عاجز ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں بتایا کہ بعض علماء سے اشغالِ صوفیہ پر مجھے گفتگو کا اتفاق ہوا ہے اور وہ انہیں بدعات اور محدثات قرار دیتے ہیں۔ حضرت والد علیہ الرحمہ کی پیشانی پر شکن پڑ گئی اور فرمانے لگے: "ان علماء کا ذہن صاف ہونا چاہیے۔ جب وہ ان اشغال کو بدعات قرار دیتے ہیں تو دوسرے لفظوں میں وہ معاذ اللہ — خاکم بدہن یہ کہتے ہیں کہ حضرت شاہ ولی اللہؒ بدعتی تھے، حضرت مجدد الف ثانیؒ بدعتی تھے، حضرت شاہ عبدالعزیزؒ، حضرت مرزا مظہر جان جاناںؒ اور حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ سب بدعتی تھے۔ ایک طرف تو یہی علماء ہندوستان میں اپنی تاریخ کا آغاز ان ہی بزرگوں سے کرتے ہیں اور ان کے ساتھ نسبت ملاتے ہیں، دوسری طرف ان بزرگوں کے اجتہادات کو بدعت قرار دیتے ہیں۔ اس منطقی تضاد سے انہیں نجات پانی چاہیے‘‘[33]۔‘‘

مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫    لکھتے ہیں:

’’میرے جیسا بے عمل مولانا کے سامنے تصوف کی کوئی بات کرتا تو خوش ہوتے۔ ایک مرتبہ معلوم نہیں، کس ترنگ میں اس موضوع کا کوئی کلمہ بے خبری میں میرے منہ سے نکل گیا۔ سن کر انتہائی مسرت کا اظہار کیا اور فرمایا: مولوی اسحاق! آپ تو صوفی ہو گئے ہیں۔ یہ کہہ کر اپنی نشست سے اٹھے اور حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی مشہور کتاب التکشف جوتصوف سے متعلق ہے، ازراہ کرم میرا نام لکھ کر مجھے عنایت فرمائی اور اس کے مطالعے کی تاکید کی[34]۔‘‘

فقہی و سیاسی  آراء

مولانا داود غزنوی ﷫   کا رجحان فقہ حنبلی کی طرف زیادہ تھا اگرچہ مطالعہ تمام فقہوں کا رکھتے تھے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫   لکھتے ہیں:

’’ مسائل فقہ میں مولانا ابو الکلام آزاد کی طرح ان کا زیادہ رجحان حنبلیت کی طرف تھا۔ لیکن وسعت نظر کا یہ عالم کہ ہر قسم کا ذخیرہ فقہیات ان کے سامنے تھا اور اس موضوع پر اہل علم سے گفتگو کرتے تو بغیر کسی تکلف کے مختلف فقہی کتابوں کے زبانی حوالے دیتے اور ان کی عبارتوں کی عبارتیں پڑھتے جاتے۔ مولانا ابو الکلام آزاد سے ان کے تعلقات کی بڑی وجہ یہی اشتراک علم ومطالعہ تھا۔ فقہاے حنابلہ کے حالات میں مصر سے طبقات الحنابلۃ (جو دو جلدوں پر مشتمل ہے) شائع ہوئی تو مولانا غزنوی ہندوستان میں پہلے شخص تھے، جنھوں نے مصر سے یہ کتاب منگوائی[35]۔‘‘

فقی مسائل میں بس  اپنی رائے مثبت انداز سے بیان کر دینے  کے قائل تھے اور مخالفت کے قائل نہ تھے۔ چاروں فقہی مسالک میں مشترکہ قومی وملی  مسائل میں  اتفاق کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫    لکھتے ہیں:

’’ فقہی مسلک سے متعلق ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ اپنی بات مثبت انداز میں کی جائے، کسی کی مخالفت نہ کی جائے۔ اس کے لیے انہوں نے مختلف مواقع پر دارالعلوم تقویۃ الاسلام میں تمام مسالکِ فقہ کے سرکردہ حضرات کے کئی اجلاس بلائے اور اپنے اپنے مسلک پر قائم رہتے ہوئے مشترک مسائل میں متحد ہونے کی درخواست کی...... ربیع الاول کے دنوں میں سیرت کانفرنس کے انعقاد کی تجویز بھی پیش کی کہ تمام مسالکِ فقہ کے علماے کرام متحدہ طور پر سیرت کے موضوع پر تقریریں کیا کریں۔ مقصد محض باہمی اختلافات کو ختم کرنا یا ان میں ممکن حد تک کمی کرنا تھا۔ چنانچہ لاہور میں سیرت کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس میں شیعہ، دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث مقررین نے اس اہم موضوع پر تقریریں کیں[36]۔‘‘

مولانا داود غزنوی  کے ﷫   کے ہاں تقلید کے مسئلے میں تفصیل تھی۔ وہ عامۃ الناس کے لیے  ہر صورت میں اس کو نہ تو واجب سمجھتے  تھے اور نہ ہی بہر صورت مباح کہتے تھے۔ سید ابو بکر غزنوی ﷫    لکھتے ہیں:

  ’’تقلید کو بعض حالتوں میں واجب قرار دیتے تھے اور بعض حالتوں میں اسے جائز سمجھتے تھے۔

  •   ائمہ اہل سنت میں سے کسی ایک امام کی تقلید کو جو بغیر کسی تعین کے ہو واجب قرار دیتے تھے۔
  •  اور ایک امام معین کی تقلید بشرطیکہ اس تعین کو امر شرعی نہ سمجھا جائے مباح قرار دیتے تھے۔
  •  اور کسی ایک امام معین کی تقلید کو امر شرعی سمجھنا اور اس کی تقلید ترک کرنے کو شریعت سے خارج ہونے کے مترادف سمجھنا ناجائز قرار دیتے تھے[37]۔‘‘

مولانا داود غزنوی  ﷫   علماء پر زور دیتے تھے کہ اگر وہ صحیح حدیث اپنے امام کے قول کے خلاف پا لیں تو اپنے امام کے قول کر ترک کر دیں۔ سید ابو بکر غزنوی ﷫   لکھتے ہیں:

’’اس بات پر حضرت بہت زور دیتے تھے کہ جب تفسیر، حدیث اور فقہ پر دسترس رکھنے والے کسی عالم کو حدیثِ صحیح غیر منسوخ اپنے امام کے مذہب کے خلاف مل جائے تو اسے اپنے امام کا قول اس حدیثِ رسول اللہ ﷺ  کے لیے ترک کر دینا چاہیے۔ فرماتے تھے کہ کوئی فقیہ صحیح معنوں میں حنفی، شافعی، مالکی یا حنبلی نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ حدیثِ صحیح غیر منسوخ کو امام کے قول پر ترجیح نہ دے[38]۔ ‘‘

مولانا داود غزنوی  ﷫    کے نزدیک محقق حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی مذہب بھی یہی ہے کہ حدیث صحیح اور امام کے قول کے مخالف ہونے کی صورت میں حدیث صحیح پر عمل کرے۔ سید  ابو بکر غزنوی ﷫   لکھتے ہیں:

’’پس صحیح معنوں میں حنفی، مالکی، شافعی یا حنبلی بننے کے لیے بھی ضروری ہے کہ حدیثِ صحیح پر عمل کیا جائے، ورنہ اپنے امام کی بھی مخالفت کرے گا اور اس کی اطاعت سے بھی باہر ہوگا۔ فرماتے تھے: ’’میرا فقہی موقف وہی ہے جو حضرت شاہ ولی اللہؒ کا موقف تھا اور انہوں نے ’عقد الجید‘، ’الانصاف‘، ’حجۃ اللہ البالغہ‘ اور ’تفہیمات‘ میں شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اور یہی مذہب تھا قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ کا اور یہی مذہب تھا میاں نذیر حسینؒ کا اور یہی مذہب تھا مولانا حبیب اللہ قندھاریؒ کا۔‘‘ اہلِ حدیث اور احناف کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کی کوشش کرتے رہے اور فرقہ وارانہ عصبیت کی آگ بجھانے کی مسلسل تگ و دو کرتے رہے۔ اہل حدیث کو حضرت امام ابوحنیفہ ﷫   کے ادب و احترام کی تلقین کرتے رہے اور احناف کو حضرت امام شافعی﷫   اور حضرت امام ابن تیمیہ ﷫    کی تکریم و تعظیم ملحوظ رکھنے کی نصیحت کرتے رہے۔ اس سلسلے میں ان کے ارشادات ملاحظہ فرمایئے[39]۔‘‘

مولانا داود غزنوی ﷫   ائمہ وفقہاء  کے ادب اور احترام کے  شدت سے قائل تھے اور اس کی شد ومد سے تلقین کرتے تھے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫     لکھتے ہیں:

’’ائمہ کرام کا ان کے دل میں انتہائی احترام تھا۔ حضرت امام ابو حنیفہ ﷫  کا اسمِ گرامی بے حد عزت سے لیتے۔ ایک دن میں ان کی خدمت میں حاضر تھا کہ جماعتِ اہل حدیث کی تنظیم سے متعلق گفتگو شروع ہوئی۔ بڑے دردناک لہجے میں فرمایا:  مولوی اسحاق! جماعتِ اہل حدیث کو حضرت امام ابو حنیفہ ﷫   کی روحانی بددعا لے کر بیٹھ گئی ہے۔ ہر شخص ’ابو حنیفہ، ابو حنیفہ‘ کہہ رہا ہے۔ کوئی بہت ہی عزت کرتا ہے تو ’امام ابو حنیفہ‘ کہہ دیتا ہے۔ پھر ان کے بارے میں ان کی تحقیق یہ ہے کہ وہ تین حدیثیں جانتے تھے یا زیادہ سے زیادہ گیارہ۔ اگر کوئی بہت بڑا احسان کرے تو وہ انہیں سترہ حدیثوں کے عالم گردانتا ہے۔ جو لوگ اتنے جلیل القدر امام کے بارے میں یہ نقطہ نظر رکھتے ہوں، ان میں اتحاد
یک جہتی کیوں کر پیدا ہو سکتی ہے[40]۔ ‘‘

مولانا داود غزنوی ﷫  کے اعتدال اور رواداری کے رویوں کے سبب بعض بڑے حنفی علماء طلاق کے مسائل میں سائلین کو  ان کی طرف بھیج دیتے تھے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫    لکھتے ہیں:

’’فتوے وہ بڑی تحقیق سے لکھتے تھے۔ مسئلہ طلاق کے بارے میں مولانا احمد علی لاہوری سے اگر کوئی شخص فتوی لینے  آتا تو اسے داود غزنوی  کے پاس جانے اور ان سے فتوی لینے کی ہدایت فرماتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مسئلے میں اہل حدیث کا نقطہ نظر احناف سے مختلف ہے[41]۔‘‘

 فوتیدگی پر تعزیت کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے قائل تھے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫     لکھتے ہیں:

’’حافظ محمد ایوب (پروفیسر انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور) نے ایک مرتبہ بتایا کہ جس زمانے میں وہ مسجد چینیاں والی میں قرآن مجید حفظ کرتے تھے، ایک دن مولانا وہاں تشریف لائے اور عصر کی نماز پڑھی۔ ان کے چچازاد بھائی مولانا اسماعیل غزنوی کی وفات اس سے چند روز پیشتر ہوئی تھی۔ کچھ لوگ مولانا کے پاس تعزیت کے لیے آئے تو مولانا نے مولانا اسماعیل غزنوی مرحوم کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعائے مغفرت کی۔ تمام حاضرینِ مجلس نے ان کے ساتھ ہاتھ اٹھائے اور دعا مانگی[42]۔‘‘

مولانا داود غزنوی ﷫    کلی طور  حکومتی رائے کی مخالفت کو درست نہ سمجھتے تھے بلکہ ان کے بقول کسی کی رائے جتنے فی صد درست ہو، اتنے فی صد اسے درست کہنا چاہیے۔  مولانا حنیف ندوی ﷫    لکھتے ہیں:

”مجھے یاد ہے جب عائلی قوانین پر جمعیت اہل حدیث کی ایک مقرر کردہ سب کمیٹی میں بحث وتمحیص ہوئی، تو انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ ہمارا نقطہ نظر یہ نہیں ہونا چاہیے کہ حکومت کی طرف سے اصلاحات کے نام پر جو قدم بھی اٹھایا جاتا ہے وہ سر تا پا غلط ہے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ اس میں سے کون سے اقدامات صحیح ہیں اور کون سے غلط۔ مولانا مرحوم کا موقف اس سلسلہ میں یہ تھا کہ ہمیں ان مسائل پر سیاسی اور گروہی تعصبات سے بالا ہو کر خالص کتاب وسنت کی روشنی میں غور کرنا چاہیے۔ چنانچہ ان اصلاحات میں اگر دس فیصد بھی ہمارے نقطہ نظر کے مطابق صحیح چیزیں پائی جائیں تو ہمیں چاہیئے کہ بلا لومۃ لائم ہم جہاں نوے فیصد مسائل میں حکومت کی مخالفت کریں وہاں دس فیصد صحیح اقدامات پر اس کی تعریف بھی کریں[43]۔“

مولانا داود غزنوی ﷫   اہل حدیث کی مختلف جماعتوں میں تقسیم سے نالاں تھےاور ان کے باہمی افتراق کو ان کے مزاج کا مسئلہ سمجھتے تھے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫     لکھتے ہیں:

’’ایک دن مجھے فرمایا ہم جماعت اہل حدیث کو منظم کرنے کی کوشش تو کر رہے ہیں لیکن یہ منظم نہیں ہوگی۔ ہمیشہ دو حصوں میں بٹی رہے گی۔ فرمایا: یہ ڈڈوؤں کی پنسہری ہے۔ دو ڈڈو (مینڈک) ترازو کے پلڑے میں ڈالو، چار نکل جائیں گے۔ چار ڈالو، چھ اچھل کر باہر آ جائیں گے۔ کبھی سب کے سب ڈڈو پلڑے میں نہیں آئیں گے۔ مولانا کی یہ بات بالکل صحیح ہے۔ ان کی زندگی میں یہ جماعت صرف دو یا تین حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ اب ماشاء اللہ اس میں بہت برکت پیدا ہوگئی ہے اور سات آٹھ حصوں میں بٹ گئی ہے۔ ابھی تقسیم کی مزید امید بھی ہے اور گنجائش بھی۔ جیسے جیسے اس کے افراد بڑھتے جائیں گے، تقسیم کے عمل میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ اللہم زد فزد...... پرانے لوگ کہا کرتے ہیں کہ جتنی زیادہ اولاد ہوگی، اتنے ہی زیادہ گھر ہوں گے [44]۔‘‘

مولانا داود غزنوی ﷫   کی سیاسی رائے یہ تھی کہ جماعت اہل حدیث کو کسی  معروف سیاسی جماعت سے سیاسی اتحاد نہیں کرنا چاہے، اس سے اہل حدیث کو نقصان ہو گا۔ اہل حدیث کا اکیلے انتخاب میں حصہ لینے کا بھی فائدہ نہ ہو گا۔  البتہ اگر کسی معروف  سیاسی جماعت سے کوئی  اہل حدیث رہنما کھڑا ہو جائے  تو بقیہ  اہل حدیث کو چاہیے کہ اسے ووٹ دیں کہ  اس صورت اس  اہل حدیث  رہنما کے کامیابی کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫    لکھتے ہیں:

’’مولانا نے فرمایا: "کوئی حلقہ ایسا نہیں جہاں جماعت کی اتنی اکثریت ہو کہ اس کے ٹکٹ پر کوئی شخص کامیاب ہو سکے۔ جس جماعت کا کوئی حلقہ انتخاب نہ ہو اور اس کے ارکان مختلف مقامات میں بکھرے ہوئے ہوں، سیاسی جماعتیں اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتیں۔ جماعت اہل حدیث کا کسی سیاسی جماعت سے بطور جماعت اتحاد کرنا باعث نقصان ہوگا۔ البتہ اتحاد کی جماعتیں آپ سے فائدہ اٹھائیں گی اور ان کے امیدوار آپ کے علما سے اپنے حق میں تقریریں کرائیں گے، جلوس نکلوائیں گے اور جماعت سے ووٹ لیں گے۔ اس قسم کی بے وقوفی جماعت کو کبھی نہیں کرنی چاہیے۔ ہاں! جو اہل حدیث نمائندہ کسی سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہا ہو، اس کی مدد ضرور کرنی چاہیے، اگرچہ وہ کسی جماعت کی طرف سے ہو"۔  مولانا نے یہ بھی فرمایا کہ جماعت اہل حدیث پر ہی موقوف نہیں، کسی مذہبی جماعت کو لوگ ووٹ نہیں دیتے، صرف سیاسی جماعت کو ووٹ دیتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے ارکان سے وہ جائز و نا جائز کام بھی کرا لیتے ہیں، مذہبی جماعتوں کے ارکان سے اس قسم کے کاموں کے لیے کہنا مشکل ہوتا ہے[45]۔‘‘

مولانا داود غزنوی  ﷫   معروف  سیاسی جماعتوں کی تکفیر وتفسیق کے قائل نہ تھے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی﷫      لکھتے ہیں:

”انتخابات اور سیاسی جماعتوں کے بارے میں مولانا کا یہ نقطہ نظر ہرگز نہ تھا جو موجودہ اہل حدیث حضرات کی تنظیموں اور بعض دیگر مذہبی و اسلامی قسم کی جماعتوں کا ہے۔ وہ کسی سیاسی جماعت کو
بے دین، کافر، غدار یا دائرہ اسلام سے خارج نہ سمجھتے تھے اور مولانا غزنوی ہی پر کیا موقوف، کوئی بھی منجھا ہوا اور بڑا سیاست دان کسی کے بارے میں اس قسم کے الفاظ زبان سے نہیں نکالتا تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ جماعت اہل حدیث کا کوئی شخص کسی بھی سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر انتخاب لڑے، اس کی مدد کرنی چاہیے۔ اگر جماعت کا کوئی آدمی نہ ہو تو اپنی صوابدید کے مطابق کسی اور بہتر امیدوار کی مدد کی جائے[46]۔‘‘

مولانا داود غزنوی  ﷫   مارشل لاء اور فوجی  آمریت کے خلاف تھے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫    لکھتے ہیں:

”۱۹۵۸ء میں جب ایوب خاں نے ملک میں مارشل لا نافذ کیا تو وطن عزیز کی سیاسی فضاؤں میں خوف وہراس کی گھٹائیں چھا گئی تھیں۔ مارشل لا کے بعد پہلی عید آئی تو مولانا غزنوی نے منٹو پارک کے میدان میں عید کا خطبہ دیتے ہوئے مارشل لا کی شدید مخالفت کی اور فوجی آمریت کو کڑے الفاظ میں نشانہ تنقید بنایا[47]۔‘‘

عقیدہ ومنہج

مولانا داود غزنوی ﷫   قبر پرستی اور مزار پرستی کو شرک جلی سمجھتے تھے اور اس سے منع کرتے تھے۔ سید
ابو بکر غزنوی ﷫   لکھتے ہیں:

’’بزرگوں سے مُرادیں مانگنا: حضرت والد صاحب علیہ الرحمۃ ہر اُس بات سے جس میں شرکِ جلی یا شرکِ خفی کا ہلکا سا بھی شائبہ ہوتا یا جس بات کے منجّر اِلی الشرک  ہونے کا احتمال ہوتا، شدت سے منع فرماتے تھے۔ فرماتے تھے کہ بزرگوں کی قبروں پر جا کر اُن سے مُرادیں مانگنا شرکِ جلی ہے[48]۔ ‘‘

قبر کے پاس بیٹھ کر ذکر الٰہی  ناجائز  اور سجدہ تعظیمی کو حرام کہتے  تھے۔ سید ابو بکر غزنوی ﷫   لکھتے ہیں:

’’قبروں کے پاس عبادت کرنا: بعض لوگ بزرگوں کی قبروں پر اُن سے مُرادیں مانگنے کے لیے نہیں جاتے اور نہ اُن سے دُعا کے لیے کہتے ہیں۔ ان قبروں کو متبرک سمجھ کر ان کے پاس بیٹھ کر ذکرِ الٰہی میں مشغول ہوتے ہیں۔ فرماتے تھے کہ شریعتِ محمدیہ میں قبرستان معبد نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسجد کو ذکر اور عبادت کی جگہ مقرر فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ٹھہرائے ہوئے معبد کو چھوڑ کر قبروں کے پاس بیٹھ کر عبادت کرنا غیر صحت مندانہ رجحان ہے اور شرعاً ناجائز ہے۔

 سجدۂ تعظیمی: فرماتے تھے کہ سجدۂ تعظیمی شریعتِ محمدیہ میں حرام ہے اور جو لوگ قبروں کو سجدہ کرتے ہیں، وہ گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کرتے ہیں[49]۔‘‘

مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫    لکھتے ہیں کہ دیوبند کے مولانا احمد علی لاہوری ﷫   تمام عمر عیدین کی نماز مولانا داود غزنوی ﷫   کے پیچھے پڑھتے رہے۔ مولانا احمد علی لاہوری ﷫   کی جب وفات ہوئی تو مولانا داود غزنوی ﷫   نے فرمایا کہ آج دین کا ایک ستون گر گیا اور میرے دوستوں میں ایسا خلا پیدا ہو گیا کہ جو کبھی پُر نہ ہو سکے گا[50]۔ بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے مولانا سید ابو الحسنات ﷫   تحریک ختم نبوت کے زمانے میں مولانا داود غزنوی ﷫   کو نماز میں امامت کے لیے اصرار کرتے جبکہ مولانا ان سے اصرار کرتے۔ مولانا داود غزنوی﷫   مولانا مودودی ﷫   کا نہ صرف احترام کرتے بلکہ ان سے مشترکہ اسلامی معاملات میں مشورہ بھی کرتے تھے اور ان کی رائے کو اہمیت دیتے تھے[51] ۔تحریک عدم تعاون کے زمانے میں مولانا داود غزنوی مولانا ظفر علی خان کو اصرار کر کے پیر جماعت علی شاہ سے ملوانے لے گئے حالانکہ وہ ان کے شدید سیاسی مخالف تھے۔ پیر جماعت علی شاہ نے مولانا داود غزنوی کے لیے اپنی مسند خالی کر دی اور کہا کہ آپ سید ہیں اور بہت بڑے علمی اور مجاہد خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ خود بھی عالم ہیں اور نیک کام کے لیے نکلے ہیں۔ ہمارے معزز مہمان ہیں اور اس مسند پر آپ ہی تشریف رکھیں [52] ۔مولانا داود غزنوی ﷫   کی وفات پر مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ﷫   نے بذریعہ تعزیتی خط بتلایا کہ ایک مرتبہ مولانا نے ان سے کہا تھا کہ امام ابن تیمیہ ﷫   کا یہ معمول تھا کہ فجر کی نماز کے بعد چالیس مرتبہ یہ دعا: يا حي يا قيوم لا إله إلا أنت أصلح لي شأني كله ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين  پڑھتے تھے اور خود مولانا کا بھی یہی معمول ہے۔ مفتی محمد شفیع ﷫   فرماتے ہیں کہ اس دن سے میں نے بھی اسے اپنا معمول بنا لیا[53]۔

ایک مرتبہ کسی اختلافی مسئلے کے اندازِ بیان میں مفتی محمد حسن ناراض ہو گئے تھے تو مولانا داود غزنوی نے مولانا اسماعیل سلفی کو کہا کہ مفتی محمد حسن ہم تک اپنا شکوہ پہنچا رہے ہیں اور اس کا ازالہ ہونا چاہیے۔ اس پر مولانا اسماعیل سلفی نے مولانا داود غزنوی کو خط لکھ کر کہا کہ انہیں مفتی محمد حسن کی ناراضی پر تکلیف ہوئی ہے اور علمائے دیوبند میں سے وہی ہیں کہ جن کے علم، خلوص، تقوی اور زہد پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ وہ میرے محسن ہیں اور میرے دل میں ان کا احترام ہمیشہ رہے گا۔ [54] اور مفتی محمد حسن بھی اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ جن سے میں نے فیض حاصل کیا ہے، ان میں دو بڑی ہستیاں ہیں؛ ایک مولانا عبد الجبار غزنوی جو کہ مولانا داود غزنوی کے والد محترم تھے اور دوسرا مولانا اشرف علی تھانوی ﷫  ۔[55]

مولانا داود غزنوی ﷫   میں اس قدر وسعت فکر تھی کہ وہ ملی اور اجتماعی مسائل میں اور دین کے غلبے کی جدوجہد میں اہل تشیع کے علماء کو بھی ساتھ شامل کر لیتے تھے تا کہ اسلامی ریاست کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔ اسلامی ریاست کی بنیاد کے طور بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث اور اہل تشیع کے چوٹی کے علماء نے جو اجتماعی بائیس نکات دیے تھے، ان کے پیچھے مولانا داود غزنوی  ﷫   کی بہت سی کاوشیں کارفرما تھیں کہ انہوں نے مختلف مکاتب فکر کے علماء کے ساتھ اس وقت کے معروف شیعہ عالم دین مفتی جعفر حسین کو بھی اپنے گھر پر بلوایا تھا۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب ﷫نے اس کی تفصیل اپنی کتاب میں بیان کی ہے    ۔[56]

دیگر مسالک سے تعامل  کا منہج

دیگر مسالک کے علماء سے احترام کا تعلق: مولانا داود غزنوی a بریلوی، دیوبندی اور اہل تشیع کے علماء سے احترام کا تعلق رکھتے تھے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫   لکھتے ہیں:

’’دیوبندی، بریلوی اور شیعہ اہل علم مولانا کا بہت احترام کرتے تھے۔ مولانا بھی ان سے تکریم کے ساتھ پیش آتے تھے۔ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی اور دوسرے علماے کرام کی مسلسل کوششوں سے قراردادِ مقاصد پاس ہوئی۔ مولانا عثمانی سے ان کے بہت اچھے مراسم تھے۔ ان حضرات کی لگاتار مساعی سے ۳۱ علمائے کرام نے ۲۲ نکات مرتب کیے[57]۔‘‘

دیگرمذہبی  جماعتوں اور دینی تحریکوں  سے احترام کا تعلق: مولانا داود غزنوی ﷫   دیگر  مذہبی جماعتوں اور دینی تحریکوں کے زعماء  سے احترام کا تعلق رکھتے تھے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫   لکھتے ہیں:

’’مولانا نے عام ملکی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی اور ملک میں اسلامی نظام کی تنفیذ کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا تھا۔ چونکہ وہ علمی اور خاندانی اعتبار سے بھاری بھرکم شخصیت کے مالک تھے، اس لیے اس جدوجہد میں تمام مکاتبِ فکر کے علما نے ان کے ساتھ پورا تعاون کیا۔ مجلسِ احرار، جمعیت علماے اسلام اور جماعت اسلامی کے زعما سے بھی ان کے پرخلوص تعلقات تھے۔ انہوں نے بھی اکثر مواقع پر امورِ خیر میں ان کی مدد کی[58]۔‘‘

دیوبندی علماء سے گہرے تعلقات اور کثرت سے آنا جانا: مولانا داود غزنوی ﷫   کے بعض دیوبندی علماء سے بہت گہرے تعلقات تھے  اور ان کے ہاں کثرت سے آنا جانا تھا۔  مولانا محمد اسحاق بھٹی لکھتے ہیں:

’’مولانا مفتی محمد حسنؒ: حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے مکتب فکر سے متعلق حضرات سے بھی ان کے بہت مراسم تھے بالخصوص مولانا تھانویؒ کے خلیفہ خاص مولانا مفتی محمد حسن مرحوم سے قلبی لگاؤ تھا۔ مفتی صاحب مرحوم ایک ٹانگ سے معذور تھے، اس لیے ان کو گھر سے باہر نکلنے میں مشکل پیش آتی تھی، لیکن وہ اپنی اس معذوری کے باوجود مولانا کے پاس آتے اور دونوں کے درمیان خاصی دیر تصوف اور دیگر مسائل پر سلسلہ گفتگو جاری رہتا۔مولانا تو نمازِ عصر کے بعد ہفتے عشرے میں ایک دو مرتبہ بالعموم ان کے ہاں تشریف لے جاتے، مفتی صاحب کا بھی اصل موضوع تصوف تھا اور مولانا کا بھی۔ یہ دونوں بزرگ اکثر اسی موضوع سے متعلق گفتگو فرماتے تھے[59]۔‘‘

بریلوی  علماء سے دوستانہ اور بے تکلفانہ  تعلقات: مولانا داود غزنوی ﷫   کے بریلوی علماء سے بھی دوستانہ اور بے تکلفانہ  تعلقات تھے  اور ان کے ہاں کثرت سے آنا جانا تھا۔  مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫   لکھتے ہیں:

’’کبھی کبھی مولانا اپنی زندگی کے گزشتہ دور کی باتیں سنایا کرتے تھے۔ ایک دن بتایا کہ تحریکِ عدمِ تعاون کے زمانے میں وہ اور مولانا ظفر علی خاں ضلع سیالکوٹ کے دورے پر گئے۔ اثنائے سفر میں علی پور سیداں پہنچے تو انہوں نے مولانا ظفر علی خاں سے کہا کہ یہاں آئے ہیں تو پیر سید جماعت علی شاہ صاحب سے ملتے چلیں، لیکن مولانا ظفر علی خاں نے ان کے پاس جانے اور ملاقات کرنے سے انکار کر دیا، اس لیے کہ سیاسی معاملات میں وہ پیر صاحب کے سخت مخالف تھے، انہیں خیال تھا کہ پیر صاحب کو انہیں دیکھ کر تکلیف ہوگی۔ مولانا غزنوی نے ان سے کہا کہ سیاسیات میں مخالف اور موافقت کا سلسلہ تو جاری رہتا ہی ہے، اس کی وجہ سے میل جول بند نہیں کر دینا چاہیے...... بہر حال یہ دونوں پیر صاحب کے مکان پر پہنچے۔ ان کو پیغام بھجوایا تو انہوں نے فوراً اندر بلا لیا۔ نہایت تپاک سے ملے اور مولانا کے لیے مسند خالی کر دی اور اس پر بیٹھنے کے لیے اصرار کیا۔ فرمایا: آپ معزز مہمان ہیں، نیک کام کر رہے ہیں اور عالم دین ہیں۔ پیر صاحب کے اصرار پر مولانا ان کی مسند پر تشریف فرما ہوئے۔ پیر صاحب نے مولانا ظفر علی خاں کو بھی مولانا کے برابر مسند پر بٹھایا۔ چند منٹ یہ حضرات مسند پر بیٹھے، پھر مسند خالی کر دی، لیکن ان کی موجودگی میں پیر صاحب مسند پر نہیں بیٹھے۔ ان کو پانی پلایا، کھانا کھلایا اور نہایت تکریم کا سلوک فرمایا۔ یہ ہے شدید مسلکی اور سیاسی اختلافات کے باوجود پرانے لوگوں کے باہمی مراسم کی ایک جھلک......! س کے برعکس موجودہ لوگوں کی یہ حالت ہے کہ کسی سے ایک معاملے میں اختلاف ہے تو تمام معاملات میں اختلاف ہے۔ بول چال بند، لڑائی جھگڑا جاری، ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ زوروں پر، نہ کسی کا لحاظ، نہ کسی سے کوئی رعایت، نہ بات چیت میں احتیاط، نہ گفتگو میں شرافت......! اسے سیاست نہیں کہا جا سکتا، یہ عورتوں کے الاہنے اور ایک دوسرے پر طعن و تشنیع ہے[60]۔‘‘

بریلوی علماء سے مولانا داود غزنوی ﷫   کے تعلقات کے حوالے سے مولانا محمد اسحاق بھٹی  ﷫   لکھتے ہیں:

’’ مولانا سید ابوالحسنات مرحوم: مولانا سید ابوالحسنات مرحوم بریلوی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے، لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے مسلکی تعصبات سے ان کا دل صاف تھا۔ تحریکِ ختمِ نبوت کے زمانے میں مولانا کی وساطت سے ان کو کسی حد تک قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ نماز کا وقت آتا، تو مولانا ان سے امامت کے لیے اصرار کرتے اور وہ مولانا سے۔ مجھے کئی دفعہ مولانا کے پیغام بر کی حیثیت سے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا۔ وہ ان کا ذکر بہترین الفاظ سے کرتے[61]۔‘‘

حضرات صوفیاء سے گہرے مراسم : مولانا داود غزنوی ﷫   کا اپنے معاصر صوفیاء سے گہرا تعلق تھا۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫   لکھتے ہیں:

’’ان کے معاصرین میں جو علماے عظام طریقت وسلوک سے رسم وراہ رکھتے تھے، ان سے ان کو بالخصوص سے تعلق خاطر تھا۔ مثلاً مولانا عبد القادر راے پوری، مولانا مفتی محمد حسن امرتسری، مولانا احمد علی لاہوری، مولانا محمد علی لکھوی، صوفی عبد اللہ (ماموں کانجن)، حضرت حافظ محمد گوندلوی، مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی، مولانا عبد اللہ لائل پوری، میاں محمد باقر (جھوک دادو ضلع فیصل آباد) اور سید مولا بخش کوموی﷭ سے گہراے مراسم تھے… نہایت افسوس ہے کہ اب دعا ووظائف اور تصوف کی روایت جماعت اہل حدیث میں ختم ہو گئی ہے۔ بلکہ میں نے سنا ہے کہ بعض برخود غلط لوگ اسے بدعت قرار دیتے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون[62]۔‘‘

مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫     لکھتے ہیں:

’’مولانا غزنوی  کی عظیم خصوصیت یہ تھی کہ ان کا ظرف بہت وسیع تھا۔ انتہائی وسعت قلبی  کے مالک تھے اور ایک خاص مسلک فقہ کے پابند ہونے کے باوجود تعصبات سے ان کا دل بالکل صاف تھا۔ اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ حضرت مولانا احمد علی صاحب ﷫  عیدین کی نماز ہمیشہ ان کی اقتدا میں ادا فرماتے حالانکہ خود ان کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ پھر نہ صرف مولانا غزنوی کی موجودگی میں بلکہ ان کی غیر حاضری اور زمانہ اسارت میں بھی انہوں نے اپنے پورے حلقہ ارادت کے ساتھ منٹو پارک میں عیدین کی نماز پڑھی اور صف اول میں بیٹھے۔ مولانا احمد علی سے ان کے تعلقات بہت گہرے تھے اور یہ دونوں بزرگ ایک دوسرے کی انتہائی تکریم کرتے مشترکہ معاملات اور اسلام اور مسلمانوں کے عام مفاد کا کوئی مسئلہ سامنے آتا، تو مولانا غزنوی یا تو خود ان کی خدمت میں تشریف لے جاتے یا ٹیلیفون پر رابطہ پیدا کرتے۔ مولانا احمد علی مرحوم کی وفات کی اطلاع ملی تو مولانا نے نہایت حزن و ملال کا اظہار کیا اور فرمایا آج دین کا ایک ستون گر گیا ہے اور میرے قریبی رفقاء میں ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جو کبھی پُر نہیں ہو سکے گا۔ ساتھ ہی فرمایا: اب ہم بھی چند روز کے مہمان ہیں اور آہستہ آہستہ یہ دَور ختم ہو جائے گا۔ مولانا احمد علی کے جنازے پر آئے تو یہ عاجز ان کے ہمراہ تھا۔ راستے میں ان کی زندگی کے واقعات بیان کر کے روتے رہے[63]۔‘‘

اہل تشیع کے علماء کے ساتھ تعامل: مولانا داود غزنوی a  کی معاصر مجتہد شیعہ علماء سے بھی اچھی علیک سلیک تھی۔ مولانا محمد إسحاق بھٹی ﷫   لکھتے ہیں:

’’مولانا علما کے بے حد قدردان تھے۔ ہر مسلک کے عالم کا احترام کرتے تھے، وہ بھی انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ مولانا عبدالعظیم انصاری (سابق ناظم دفتر جمعیت اہل حدیث) کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ وہ مولانا کے ساتھ تانگے پر بیٹھے کہیں جا رہے تھے۔ مولانا نے اچانک تانگے والے سے کہنا شروع کیا، تانگہ روکو، تانگہ روکو...... تانگہ رکا تو مولانا جلدی سے نیچے اترے اور ہاتھ پھیلاتے ہوئے ایک طرف کو بڑھے، دیکھا تو ادھر شیعہ عالم مفتی کفایت حسین تانگے سے اتر کر اسی طرح ہاتھ پھیلائے مولانا کی طرف بڑھ رہے تھے۔ دونوں بزرگوں نے مصافحہ کیا اور کچھ دیر کھڑے آپس میں باتیں کرتے رہے[64]۔‘‘

سید مودودی  ﷫  سے  باہمی روابط وتعلقات

مولانا داود غزنوی ﷫   اور  سید مودودی ﷫   کے مابین  اختلاف کے باوجود بہت احترام کا رشتہ قائم تھا۔ مولانا داود غزنوی ﷫    ، سید مودودی ﷫    سے مشورہ لیتے، ان کے کام کو سراہتے اور انہیں دعائیں دیتے تھے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫    لکھتے ہیں:

’’مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی: بہت سے مسائل کی تعبیر میں اختلافِ رائے کے باوجود مولانا غزنویؒ، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا احترام کرتے اور مجموعی اعتبار سے ان کی خدمات کو سراہتے اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ خود مولانا مودودی مشترکہ اسلامی معاملات میں ان سے مشورہ کرتے اور ان کی رائے کو اہمیت دیتے۔ ایک معاملہ تو ایسا پیش آیا کہ مولانا غزنویؒ بار بار اس کا ذکر کرتے اور مولانا مودودی کو دعا دیتے تھے۔ وہ یہ کہ ۱۹۶۲ء میں حج کے موقع پر شاہ سعود مرحوم نے مدینہ یونیورسٹی کے زیرِ ترتیب نصاب اور ضروری امور میں مشوروں کے لیے مختلف ممالک کے اہلِ علم کو دعوت دی جس میں پاکستان سے مولانا داؤد غزنویؒ اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کو دعوتِ شرکت دی گئی تھی۔ مدینہ منورہ میں ان کے قیام کا انتظام ایک ہوٹل میں کیا گیا تھا۔ مولانا غزنویؒ کی بڑی صاحب زادی بھی ساتھ تھیں۔ ایک دن مولانا کو دل کا دورہ پڑ گیا اور تکلیف بہت زیادہ ہوگئی۔ ان کی صاحب زادی سخت پریشان ہوئیں کیونکہ ڈاکٹر کو بلانا ان کے لیے مشکل تھا۔ مولانا مودودیؒ کو معلوم ہوا تو فوراً تشریف لائے اور ڈاکٹر کو بلایا۔ دیر تک مولانا کے پاس بیٹھے رہے۔ لڑکی کو تسلی دی، ضروری دوائیں منگوائیں اور کئی بار مولانا کے پاس آئے۔ واپس آئے تو یہ واقعہ پوری تفصیل سے مولانا نے مختلف مواقع پر کئی بار بیان فرمایا اور ہر دفعہ مولانا مودودیؒ کا ذکر احترام سے کیا اور ان کے لیے دعائے خیر کی[65]۔‘‘

مولانا داود غزنوی ﷫  کے مدرسہ میں ایسے سلفی علماء بھی ان سے فیض حاصل کرتے تھے جو جماعت اسلامی کے رکن تھے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی  ﷫   لکھتے ہیں:

’’جماعتِ اہل حدیث اور جماعتِ اسلامی سوئی پڑی ہیں: میں الاعتصام سے منسلک تھا اور مولوی محی الدین سلفی جماعتِ اسلامی سے تعلقِ رکنیت رکھتے تھے اور جماعت کے ترجمان سہ روزہ ’’کوثر‘‘ میں کام کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ہم دارالعلوم تقویۃ الاسلام میں تعلیم حاصل کرتے تھے اور ان کی رہائش دارالعلوم ہی میں تھی۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ ہم لوگ باہر سوئے ہوئے تھے۔ فجر کی اذان ہوئی اور جماعت بھی ہوگئی، لیکن میں اور مولوی محی الدین نیند میں اس درجہ مستغرق تھے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔ نماز سے فارغ ہو کر مولانا باہر آئے، دیکھا کہ ہم سوئے پڑے ہیں۔ جگایا نہیں، فرمایا: ’’جماعتِ اہل حدیث اور جماعتِ اسلامی سوئی پڑی ہیں‘‘ یہ الفاظ بیک وقت ہم دونوں کے کانوں میں گونجے اور ہم جلدی سے اٹھ بیٹھے۔ مولانا نے اس سے آگے کچھ نہیں کہا اور اوپر چلے گئے[66]۔‘‘ 

ایوب خاں کے دور میں مولانا داود غزنوی ﷫   نے سید مودودی ﷫    کے ساتھ مل کرفوجی آمریت کے خاتمے اور جمہوریت  کی بحالی کے لیے جدوجہد کی۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی  ﷫ لکھتے ہیں:

’’فروری ۱۹۶۰ء میں ایوب خاں نے دستور بنانے کے لیے ایک آئین کمیشن مقرر کیا تھا۔ اس کمیشن کی طرف سے چالیس سوالات پر مشتمل سوال نامہ مرتب کیا گیا تھا جو اخبارات میں بھی شائع ہوا تھا اور ملک کی مشہور شخصیتوں کو سرکاری طور پر بھیجا بھی گیا تھا۔ حکومت کا مقصد یہ تھا کہ اس کا مناسب جواب دیا جائے تاکہ آئندہ دستور اس کی روشنی میں ترتیب دیا جائے۔ اس معاملے میں مولانا غزنوی نے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور دوسرے علما سے رابطہ پیدا کیا اور جامعہ اشرفیہ میں (جو اس زمانے میں نیلا گنبد لاہور میں قائم تھا) تمام مسالکِ فقہ کے علما کا اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس میں انیس علماے کرام شریک ہوئے اور ۵، ۶ مئی ۱۹۶۰ء کو دو دن گفتگو ہوتی رہی۔ جواب کا مسودہ مولانا غزنوی اور مولانا مودودی نے مرتب کیا تھا۔ ان دنوں کسی کے پاس گاڑی نہ تھی، علامہ علاؤ الدین صدیقی مرحوم کے پاس ایک گاڑی تھی۔ وہ کبھی مولانا غزنوی کو اپنی گاڑی سے مولانا مودودی کے مکان پر اچھرے لے جاتے اور کبھی مولانا مودودی کو مولانا غزنوی کی اقامت گاہ پر شیش محل روڈ لے آتے تھے۔ میں ان اجلاسوں میں شامل تھا۔ جوابی دستاویز میں کامل جمہوریت کے نفاذ اور پارلیمانی نظامِ حکومت کی واضح اور صریح لفظوں میں سفارش کی گئی تھی[67]۔‘‘

ڈاکٹر اسرار احمد ﷫سے  باہمی روابط وتعلقات

ڈاکٹر اسرار احمد ﷫ کا کہنا ہے کہ انہیں پہلی مرتبہ ساہیوال میں اہل الحدیث کی ایک کانفرنس میں مولانا داود غزنوی ﷫ کا خطبہ جمعہ سننے کا موقع ملا کہ جس میں بلا کا سوز اور انتہا کا درد تھا اور دوران تقریر مولانا کی آنکھوں میں نمی از ابتدا تا انتہا رہی اور اس حدیث کے بیان پر تو مولانا نے زار وقطار رونا شروع کر دیا کہ جس میں ایک صحابی نے آپ ﷺ سے پوچھا تھا کہ میں جنت میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے انہیں جواب میں فرمایا تھا کہ انسان جنت میں اس کے ساتھ ہو گا کہ جس سے اسے محبت ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد ﷫ لکھتے ہیں کہ مولانا کا خطبہ سن کر سب اہل حدیث علماء کے سخت ہونے کا جو میرا تاثر تھا، وہ جاتا رہا۔ [68]

ڈاکٹر اسرار احمد ﷫ لکھتے ہیں:

’’راقم الحروف کے لیے اول تو یہ فراخیِ قلب ہی بہت غیر متوقع تھی کہ جمعیت اہل حدیث کے صدر اپنی جمعیت کے لوگوں کو ائمہ اربعہ کی تعظیم و تکریم کی اس درجہ شدت کے ساتھ تلقین کریں، لیکن شیخ محی الدین ابن عربیؒ کے ساتھ حضرت کا تعظیم  آمیز کلمہ تو بہت ہی حیرانی کا موجب ہوا۔ چنانچہ جمعہ کے بعد جب ایک جگہ کھانے پر ملاقات ہوئی تو مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے عرض کر ہی دیا کہ ’حضرت! آپ نے ابن عربیؒ کا  تذکرہ تعظیم و تکریم کے ساتھ کیا حالانکہ امام ابن تیمیہؒ کی رائے ان کے بارے میں بہت سخت ہے‘۔ اس کا جو جواب مولانا مرحوم نے دیا وہ اس قابل ہے کہ سنہری حروف سے لکھا جائے اور دین کے تمام خادم اس کو حرزِ جان بنا لیں۔ میری بات سن کر مولانا نے قدرے توقف کے بعد فرمایا:’ڈاکٹر صاحب! ابن تیمیہؒ اور ابن عربیؒ دونوں ہی ہمارے بزرگ ہیں۔ اپنے آپس کے اختلاف کو وہ جانیں! ہم خورد ہیں اور خورد رہنے ہی میں عافیت سمجھتے ہیں‘۔ مولانا نے یہ الفاظ اتنے شدید تاثر کے ساتھ فرمائے کہ ساتھ ہی ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے! واقعہ یہ ہے کہ میں عرض نہیں کر سکتا کہ مولانا کے اس منکسرانہ قول سے میرے دل میں ان کی عزت میں ایک دم کس قدر اضافہ ہوا اور ان کا احترام کتنا بڑھ گیا[69]۔‘‘

ڈاکٹر اسرار احمد ﷫  کا کہنا ہے کہ رقت اور سوز مولانا کی طبیعت کا مستقل جزو تھے اگرچہ وہ اپنے مسلک میں ادنی درجے کی بھی مداہنت برداشت نہیں کرتے تھے۔ ان کا دل بہت کھلا تھا اور جس میں بھی کوئی خوبی نظر آتی تو اس خوبی کا کھلے دل سے اعتراف کرتے تھے، بھلے وہ ان سے چھوٹا ہوتا یا بڑا ہوتا [70] ۔ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ مولانا داود غزنوی ﷫  نے اپنے خطبہ جمعہ میں یہ کہا کہ ہم ائمہ اربعہ سے اختلاف رکھتے ہیں لیکن خدا شاہد ہے کہ ہمارے دلوں میں ائمہ اربعہ کا اتنا ہی احترام موجود ہے جس قدر ان کے مقلدین کے دلوں میں ہے لیکن حدیث رسول ﷺ  کی قدرو منزلت بہر حال ہمارے دلوں میں ان ائمہ کے اقوال سے زیادہ ہے۔ [71]

ڈاکٹر اسرار احمد ﷫ کہتے ہیں کہ مولانا داود غزنوی ﷫ کی اس ملاقات نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ پھر جب بھی لاہور آنا ہوا تو مولانا کی خدمت میں حاضری ضرور دی اور خود مولانا داود غزنوی ﷫ کو بھی ڈاکٹر صاحب  سے خصوصی تعلق ہو گیا۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے مولانا داود غزنوی سے حضرت مجدد الف ثانی﷫کے مکتوبات کی پہلی جلد ادھار مانگی تو کہنے لگے کہ یہ کتاب میں کسی کو ادھار نہ دیتا لیکن آپ سے خصوصی محبت ہے لہذا انکار نہیں کر سکتا۔ ڈاکٹر صاحب نے وہ کتاب ایک ماہ بعد نئی جلد بندھوا کر واپس لوٹائی تو مولانا بہت خوش ہوئے اور کہا کہ آپ کتاب کے واقعی قدر دان ہیں۔ [72]

ڈاکٹر اسرار احمد ﷫  لکھتے ہیں کہ 1962ء میں حج کی سعادت نصیب ہوئی تو مولانا بھی اس وقت رابطہ عالم اسلامی کے تاسیسی اجلاس میں شرکت کے لیے مکہ مکرمہ پہنچے ہوئے تھے اور مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ مولانا نے مجھے کہا کہ تم رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس میں میرے سیکرٹیری کے فرائض سرانجام دو اور پھر ایسا ہی ہوا۔   منی میں قیام کے دوران مولانا کی بڑی صاحبزادی پر ٹائیفائیڈ کا حملہ ہوا تو علاج بھی میں نے کیا اور سرکاری ہسپتال سے دوائی بھی میں ہی لا کر دیتا رہا کہ جس پر مولانا بہت شفقت کا اظہار فرماتے رہے۔ پھر عرفات سے واپسی پر مولانا کی جب اپنی طبیعت ناساز ہو گئی تو ان کی طرف سے قربانی بھی میں نے ہی کی۔[73]

ڈاکٹر صاحب ایک اور واقعے کے بارے بتلاتے ہیں کہ میرے ایک اہل حدیث عزیز کو مولانا داود غزنوی ﷫سے رنجش تھی اور وہ مجھے حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫ کی مجلس میں لے گئے جو ان دنوں مکہ مکرمہ میں ہی تھے۔ حافظ روپڑی صاحب ﷫ کی مجلس میں بعض لوگ مولانا داود غزنوی ﷫ کے بارے شکایات کر رہے تھے تو ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ مجھ سے وہ سنی نہ گئیں اور میں نے قدرے سختی سے کہا کہ آپ لوگ پاکستان سے دو اڑھائی ہزار میل کا سفر کر کے یہاں ارض مقدس میں آئے ہیں، یہاں تو اپنے اختلافات بھلا کر اتحاد اور اعتماد کی فضا قائم کریں۔ تو سارا مجمع سناٹے میں آ گیا اور حافظ روپڑی صاحب ﷫کی طرف دیکھنے لگا۔ تو انہوں نے ڈاکٹر صاحب کی بات کی مکمل تائید کی اور گفتگو کا رخ موڑ دیا۔ [74] ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ مولانا کے ساتھ مسجد نبوی میں کندھے سے کندھا ملا کر نماز کے لیے کھڑا ہوا تو تکبیر تحریمہ سے قبل ہی یہ دعا پڑھنی شروع کی: ﴿ اِنِّيْ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ …﴾تو مولانا نے تصحیح کی کہ تکبیر تحریمہ کے بعد یہ دعا پڑھا کریں۔[75]

وفات اور جنازہ

 مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ ، مولانا داود غزنوی ﷫ کی وفات کے بارے لکھتے ہیں:

’’پیر کے روز ۱۶۔ دسمبر ۱۹۶۳ء کو صبح پونے نو بجے میکلوڈ گنج (ضلع بہاول نگر) سے مولانا کی ایک عزیزہ کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے بات کرنے کے لیے ابھی رسیور اٹھایا ہی تھا کہ اچانک دل کا دورہ پڑا اور بستر پر گر گئے۔ فوراً دو ڈاکٹروں کو بلایا گیا۔ لیکن ان کے آنے سے پہلے ہی وہ اپنے معبودِ حقیقی سے جا
ملے تھے[76]۔‘‘

 وہ مزید لکھتے ہیں:

’’ان کے پرانے ساتھی اور جمعیت اہل حدیث کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد اسماعیل سلفی﷫ نے نماز جنازہ پڑھائی، جس میں تمام مذہبی، سیاسی اور سماجی تنظیموں کے اکابر واعیان شامل تھے۔ پاکستان کی مرکزی حکومت کے بھی متعدد سابق اور موجود وزرا شریک جنازہ تھے۔ وہ ون یونٹ کا زمانہ تھا، مغربی پاکستان کی حکومت کے اکثر وزرا اور ارکان اسمبلی جنازے میں موجود تھے۔ مولانا کی وفات کے افسوس میں لاہور کے تمام کاروباری ادارے اس دن بند رہے اور مختلف تنظیموں نے تعزیتی قراردادیں
منظور کیں[77]۔‘‘

مولانا کی وفات کے بعددوسری   اہلیہ کی آزمائش

مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫  نے اس بابت جو کچھ لکھا ہے، بہرحال وہ ایک المیہ ہے۔ اس کا ذکر اس لیے مناسب لگ رہا ہے کہ جماعتی احباب  کو توجہ دلائی جا سکے کہ جو علماء ومشائخ اور مذہبی ودینی رہنما اپنی زندگیاں دین اور جماعت کی خدمت کے لیے بے لوث ہو کر وقف کر دیتے ہیں اور اپنے پیچھے اپنے وارثین کے لیے دین کے علاوہ  کوئی جائیداد یا ذریعہ آمدن چھوڑ کر نہیں جاتے تو ہمیں ان کے اہل خانہ کی ضروریات زندگی کا خیال رکھنا چاہیے۔ اور الحمد للہ، بہت سے دوست احباب یہ کام کر رہے  ہیں۔لیکن خیر کے کام کو مزید بڑھانے میں کسی کو کیا اختلاف ہو سکتاہے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی  ﷫  لکھتے ہیں:

’’ تدفین کے بعد واپس آ کر جماعت کے چند سرکردہ ارکان دارالعلوم کی دوسری منزل میں مرکزی جمعیت کے ایک کمرے میں بیٹھ گئے اور کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر دیا گیا۔ ان حضرات کے نام یہ ہیں:مولانا محمد اسماعیل سلفی﷫ (اس وقت کی مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ناظم اعلیٰ)، میاں عبدالمجید مالواڈہ (ناظم مالیات)، مولانا غزنوی کے صاحب زادے سید ابوبکر غزنوی، حاجی محمد اسحاق حنیف (جمعیت اہل حدیث کے ناظم نشر واشاعت)، دارالعلوم تقویۃ الاسلام کے موجودہ مہتمم اور مولانا غزنوی کے حقیقی بھتیجے سید عثمان غزنوی، ان سطور کا راقم عاجز۔ سید ابوبکر غزنوی سے دریافت کیا گیا کہ مولانا کے بیوی بچوں کے جو سات افراد ہیں، ماہانہ اخراجات کیا ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ مولانا مئی ۱۹۶۲ء میں جب شاہ سعود کی دعوت پر مدینہ یونیورسٹی کے افتتاح اور حج بیت اللہ کے لیے تشریف لے گئے تھے، مجھے ان کے دو مہینے کے اخراجات کے لیے چھ سو روپے دے گئے تھے۔اور فرمایا تھا کہ مہینے کے تین سو روپے ان کو دے دینا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان چھوٹے بڑے سات افراد کا خرچ تین سو روپے ماہانہ ہے۔ سید ابوبکر غزنوی کے اس فرمان کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ مرکزی جمعیت کی طرف سے ان سات افراد کے اخراجات کے لیے تین سو روپے ہر مہینے دیے جائیں گے...... یہ فیصلہ تو ہو گیا مگر اس پر عمل نہیں ہو سکا۔ پھر کیا ہوا......؟ سنیے! ایک دن راوی روڈ (لاہور) کی ایک ہوزری کے مالک نے اخبار میں اشتہار شائع کرایا کہ انہیں پیکنگ کے لیے چند خواتین کی ضرورت ہے جو روزانہ چھ گھنٹے کام کریں گی اور انہیں پانچ روپے اجرت دی جائے گی۔ وقتِ مقررہ پر کچھ عورتیں پہنچیں اور قطار میں کھڑی ہوگئیں۔ مالک کرسی پر بیٹھا سب کے نام اور پتے پوچھتا اور رجسٹر میں لکھتا گیا اور انہیں کام کی نوعیت سمجھاتا گیا۔ چھٹے یا ساتویں نمبر پر ایک برقع پوش خاتون کھڑی تھیں۔ اس کی باری آئی تو ہوزری کے مالک نے اس کا نام اور پتا پوچھا: اس نے بتایا: "بیوہ مولانا داؤد غزنوی، شیش محل روڈ، لاہور۔" مالک نے یہ الفاظ سنے تو حیرت و تعجب سے اس کی طرف دیکھا، پھر ایک دم کرسی سے اٹھا۔ بے ساختہ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور نگاہیں نیچی کر کے خاتون کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے التجا کی: "بی بی آپ کرسی پر تشریف رکھیے۔" خاتون نے جواب دیا: "میں مزدوری کرنے آئی ہوں، کرسی پر بیٹھنے نہیں آئی۔ اگر کرسی پر بیٹھنے سے میرا اور میرے بچوں کا پیٹ بھر سکتا تو کرسیاں میرے گھر میں بہت ہیں، انہی پر بیٹھی رہتی، یہاں کیوں آتی؟" مالک کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ اس نے التجا کے لہجے میں کہا: "مہربانی فرما کر آپ یہاں تشریف نہ لایا کریں، آپ کے آنے سے مجھے شرمندگی ہوگی۔ میں دس روپے روزانہ آپ کے گھر بھجوا دیا کروں گا۔"  خاتون نے کہا: "میرے چھوٹے چھوٹے چھ بچے ہیں۔ میں اپنے ہاتھ سے کما کر انہیں روکھی سوکھی روٹی کھلانا چاہتی ہوں۔ آپ سے دس روپے فی سبیل اللہ نہیں لینا چاہتی، پھر دس روپے روزانہ آپ دیتے بھی کب تک رہیں گے"[78]۔‘‘

مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫  مزید لکھتے ہیں:

’’ مولانا کی بیوہ نے جو بلاشبہ عالی ہمت خاتون ہیں، کبھی حوصلہ نہیں ہارا۔ وہ مصائب و آلام کا نہایت جرات سے مقابلہ کرتی اور آگے قدم بڑھاتی رہیں۔ وہ یہ بھول گئیں کہ وہ ایک بڑے اور نامور شوہر کی بیوی  تھیں۔ اس خاتون نے انقلاب و تغیر کی مخالفانہ لہروں کا پامردی سے سامنا کیا اور بچوں کو تعلیم دلائی۔ بچے ماں کے بہت فرماں بردار ثابت ہوئے۔ جن لوگوں کے ان کے باپ سے مراسم تھے، ان کا اعزاز و اکرام بھی انہوں نے اپنے آپ پر ضروری قرار دے لیا[79]۔‘‘ 

 

[1]                 محمد اسحاق بھٹی،  مولانا، برصغیر میں اہل حدیث کی سرگزشت،  المکتبہ السلفیہ، لاہور، ص ۶۸-۷۱

[2]                  ایضاً: ص  ۲۲۸

[3]               محمد اسحاق بھٹی، مولانا،  نقوش عظمت رفتہ، محمد اسحاق بھٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ،  لاہور، ص ۹۶-۹۷

[4]               نقوش عظمت رفتہ: ص ۹۷

[5]               نقوش عظمت رفتہ: ص ۹۶

[6]               نقوش عظمت رفتہ: ص ۲۷

[7]               نقوش عظمت رفتہ: ص ۱۴

[8]               نقوش عظمت رفتہ: ص ۷۸

[9]               نقوش عظمت رفتہ: ص ۶۸

[10]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۱۶

[11]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۱۲

[12]             نقوش عظمت رفتہ: ۱۳

[13]               نقوش عظمت رفتہ: ص ۱۴

[14]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۱۶

[15]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۴۱

[16]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۲۰

[17]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۶۲-۶۳

[18]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۲۰

[19]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۸۸

[20]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۲۳

[21]             حضرت مولانا داؤد غزنوی، ترتیب وتحریر سید ابو بکر غزنوی، فاران اکیڈمی، اردو بازار، لاہور،  ص ۱۵۶-۱۵۷

[22]             حضرت مولانا داؤد غزنوی، ص 136

[23]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۸۳

[24]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۶۶

[25]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۸۱

[26]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۲۱

[27]             حضرت مولانا داؤد غزنوی:ص ۲۸۴

[28]             حضرت مولانا داؤد غزنوی:ص ۱۱۱-۱۱۲

[29]             حضرت مولانا داؤد غزنوی:ص ۲۸۳-۲۸۴

[30]             حضرت مولانا داؤد غزنوی:ص ۳۷۰

[31]             حضرت مولانا داؤد غزنوی:ص ۳۷۰

[32]             حضرت مولانا داؤد غزنوی:ص ۳۶۵

[33]             حضرت مولانا داؤد غزنوی:ص ۳۶۱-۳۶۲

[34]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۲۳

[35]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۲۳

[36]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۷۷

[37]             حضرت مولانا داؤد غزنوی:ص ۳۷۵

[38]             حضرت مولانا داؤد غزنوی:ص ۳۷۵

[39]             حضرت مولانا داؤد غزنوی:ص ۳۷۶-۳۷۷

[40]             حضرت مولانا داؤد غزنوی: ص ۱۳۶

[41]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۲۴

[42]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۸۱

[43]               حضرت مولانا داود غزنوی  ص 41-42

[44]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۷۲

[45]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۶۵

[46]             نقوش عظمت رفتہ: ص 49

[47]             نقوش عظمت رفتہ: 54

[48]             حضرت مولانا داؤد غزنوی:ص ۳۴۲

[49]             حضرت مولانا داؤد غزنوی: ۳۴۳

[50]             حضرت مولانا داود غزنوی، ص 144

[51]             حضرت مولانا داود غزنوی، ص 145

[52]             حضرت مولانا داود غزنوی، ص 161

[53]             حضرت مولانا داود غزنوی، ص 209-210

[54]            بزم ارجمنداں: ص 296

[55]             ایضا: ص 299

[56]             بزم ارجمنداں: ص 519

[57]             نقوش عظمت رفتہ:  ۴۹

[58]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۴۹

[59]             حضرت مولانا داؤد غزنوی: ص ۱۴۴-۱۴۵

[60]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۷۵

[61]             حضرت مولانا داؤد غزنوی: ص ۱۴۵

[62]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۲۱

[63]             حضرت مولانا داؤد غزنوی: ص 143-144

[64]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۴۶

[65]             حضرت مولانا داؤد غزنوی: ص ۱۴۵-۱۴۶

[66]             حضرت مولانا داؤد غزنوی: ص 153

[67]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۵۷

[68]             حضرت مولانا داود غزنوی،   ص 86

[69]             حضرت مولانا داؤد غزنوی:ص ۸۸

[70]             ایضا

[71]             حضرت مولانا داود غزنوی: ص 87

[72]            ایضاً: ص 89

[73]             ایضاً: ص 90

[74]             ایضاً: ص 91

[75]             ایضاً

[76]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۹۸

[77]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۹۸

[78]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۹۹-۱۰۰

[79]             نقوش عظمت رفتہ: ص ۱۰۱-۱۰۲