جولائی 2026ء

ما ورائے عدالت سزائیں

شرع و قانون کی نظر میں

ما ورائے عدالت سزائیں

شرع و قانون کی نظر میں

 

ڈاکٹر جواد حیدر

دہشت گردی کا ناسور کسی طور تھمتا دکھائی نہیں دے رہا۔  پُر امن علاقے بدامنی کا شکار نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف اس ناسور کے خاتمے اور وسیع تر قومی مفاد کے نام پر بعض ایسی کارروائیاں دکھائی دیتی ہیں جو مسئلے کےحل کے بجائے  مزید پیچیدگیوں اور معاشرتی ناہمواریوں  کا سبب بن رہی ہیں۔ اس سلسلے میں قتل تک سے گریز نہیں برتا جارہا، حبسِ بے جا معمولی بات ہے، جبری گمشدگیوں کا معاملہ تاحال حل طلب ہے؛ اور اب کچھ عرصے سے نیفے میں پستول چلنے کی کارروائی بھی معمول بن گئی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مضبوط نظامِ عدل  ہی معاشرتی استحکام کی بنیاد ہے، اس کے بغیر نہ تو متوازن معاشرہ وجود میں آسکتا ہے اور  نہ ہی امن و امان قائم ہوسکتا ہے۔عرب معاشرے ہوں یا غرب، جہاں کہیں بھی دنیا میں ہمیں امن دکھائی دیتا ہے، وہاں قانون کی بالادستی، قانون کی پاسداری اور قانون پر عملداری بھی دکھائی دیتی ہے۔ جبکہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں  منظور کیے گئے انسدادِ دہشت گردی ترمیمی بل 2025 کے تحت ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے افراد کو پہلے تین ماہ حراست میں رکھا جائے گااور اگر ضرورت محسوس کی گئی تو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی منظوری سے مزید تین ماہ حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔ بظاہر یہ ترمیم دہشت گردی کے ناسور کے تریاق کے طور پر لائی گئی ہے، عین ممکن ہے کہ اس سے  فوائد بھی حاصل ہوں، لیکن درحقیقت اس ترمیم نے پورے پاکستان اور پاکستان کی ساری عوام کو عدمِ تحفظ سے دوچار کردیا ہے۔ اب کسی بھی شخص کو بآسانی گرفتار کیا جاسکتا ہے اور اس کی گرفتاری پر واویلا کام آئے گا نہ شور شرابہ، عدالت کام آئے گی نہ حکومت۔ ہمارے ہاں سیاسی مخالفین کے ساتھ جو  رویے رکھے جاتے ہیں، کچھ بعید نہیں اس قانون کا سب سے بڑا شکار سیاسی مخالفین  بن جائیں ۔ مزید برآں مذہبی و مسلکی منافرت میں بھی کسی کو محض شک کی بنیاد پر قید کیا جاسکے گااور اس پر  عوامی، عدالتی یا قانونی دباؤ کام نہیں آسکے گا۔ شاید یہی ہارڈ سٹیٹ ہے، جس کا اظہار کچھ عرصہ قبل مقتدر حلقوں کی طرف سے کیا گیا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق ’’یہ بل 3 سال کے لیے نافذ العمل ہوگا، اس دوران کسی بھی مشتبہ شخص کو 3 ماہ تک زیر حراست رکھا جاسکے گا، بل کے تحت سیکشن 11 فور ای کی ذیلی شق میں  ایک میں ترمیم کر دی گئی۔ترمیم کے تحت مسلح افواج یا سول آرمڈ فورسز کسی بھی شخص کو حفاظتی حراست میں رکھنے کی مجاز ہوں گی، ملکی سلامتی، دفاع، امن و امان، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث کسی بھی شخص کو حراست میں رکھا جا سکے گا۔متن کے مطابق مذکورہ جرائم میں ملوث شخص کی حراست کی مدت آرٹیکل 10 کے تحت بڑھائی جا سکے گی، زیر ِحراست شخص کے خلاف تحقیقات مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کرے گی۔متن کے مطابق متعلقہ تحقیقاتی ٹیم ایس پی رینک کے پولیس افسر، خفیہ ایجنسیوں، سول مسلح افواج، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں پر مشتمل ہوگی، ٹھوس شواہد کے بغیر کسی بھی شخص کو زیرِ حراست نہیں رکھا جاسکے گا[1]۔‘‘

ماورائے عدالت  کارروائیوں میں جبری گمشدگیوں کے علاوہ ایک معاملہ پولیس یا اداروں کی جانب سےخود سے سزائیں دینے کا بھی ہے۔ بہت سے  پولیس مقابلوں پر سنجیدہ حلقوں کی طرف سے شک کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ نجی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق سی سی ڈی مقابلوں کی ایف آئی آرز کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ایک ہی جیسا پیٹرن استعمال کیا گیا ہے۔ ملزمان کا پولیس پر فائرنگ کرنا، اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر ساتھیوں کا فرار ہونا اور مشکوک موٹر سائیکل سواروں جیسے جملے معمولی فرق کے ساتھ ہر جگہ دہرائے گئے ہیں۔ متعدد ایف آئی آرز میں یہ عجیب دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزم نے زخمی ہونے کے بعد اور دم توڑنے سے  پہلے ہوش میں آکر اپنا نام، پتہ اور مجرمانہ پس منظر خود بتایا۔ان بیانات کو کسی مجسٹریٹ یا میڈیکل افسر کے سامنے ریکارڈ نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی مقابلے میں آزاد گواہ یا کسی راہگیر کے زخمی ہونے کا ذکر ہے۔ یہ یکسانیت ظاہر کرتی ہے کہ یہ رپورٹس حقائق پر مبنی ہونے کے بجائے "کاپی پیسٹ" کی گئی ہیں۔لاہور ہائی کورٹ کے مطابق جعلی پولیس مقابلوں کے خلاف روزانہ تقریباً ۵۰ درخواستیں موصول ہو رہی ہیں۔۲۰۲۵ء کے آٹھ ماہ میں کم از کم ۶۷۰ سی ٹی ڈی مقابلے دستاویزی شکل میں لائے گئے۔ان مقابلوں میں ۹۲۴ ملزمان ہلاک ہوئے، جبکہ پولیس کے صرف دو اہلکار جان سے گئے۔ ماورائے عدالت قتل کے الزامات کے باوجود حکومتی شخصیات  کی طرف سے سی ٹی ڈی کی کارکردگی کو سراہا گیا ہے[2]۔

          ہمارے نقطہ نظر کے مطابق  ماورائے عدالت کسی بھی قسم کی سزا شریعت اسلامیہ سے متصادم ہونے کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی حقوق، عقلِ عامہ، اخلاقی پیمانوں اور آئینِ پاکستان کے بھی خلاف ہے۔ اسلامی شریعت کی رو سے کسی بھی شخص کو بغیر کسی ٹھوس شہادت، ثبوت یا دلیل کےکوئی سزا نہیں دی جاسکتی، نہ قتل، نہ قید، نہ جبری گمشدگی، نہ نیفے میں پستول، نہ کسی قسم کی اور سزا۔ نیز  اعترافِ جرم کے لیے بھی کوئی سزا  نہیں دی جاسکتی ہے اورنہ ہی کسی شبہے کی بنیاد پر کسی سزا سے دوچار کیا جاسکتا ہے۔سزا دینے کا اختیار صرف عدالت کا ہے، کسی بھی انتظامی افسر کو یہ اختیار حاصل نہیں۔

ثبوت کے بغیر سزا:

ہمارے ہاں رائج ان ماورائے عدالت سزاؤں اور محض شک کی بنیاد پر مہینوں قید رکھنے کے قوانین کا جائزہ لیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ ثبوت کے بغیر کسی کو سزا دینا اصلاً اسلام کے مزاج کے ہی خلاف ہے، کیونکہ جب تک کسی شخص کے خلاف کسی جرم،  زیادتی یا تقصیر کا واضح ثبوت نہ ہو تو اسے نہ تو کوئی سزا دی جاسکتی ہے، نہ ہی اس  پر کوئی مؤاخذہ یا ذمہ داری عائدکی جاسکتی ہے۔

فقہی قاعدہ:

اس سلسلے میں فقہی قاعدہ ہے کہ ’’ الأصل براءة الذمة“ اصل میں ہر شخص بری الذمہ ہے جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے۔ قرآن و حدیث کی بہت ساری نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں :

  •  قرآن مجید میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

﴿ مَا عَلَى الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌۙ۰۰۹۱﴾ ]سورة التوبة: 91[

’’نیکوکاروں  (یعنی بے قصور لوگوں) پر کوئی گرفت نہیں، اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘

ابن العربی ؒ اس آیت کریمہ سے ایک قاعدہ اخذ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وهذا عموم ممهّد في الشريعة أصل في رفع العقاب عن كل محسن[3].

اور یہ آیت  شریعت کے اس عام اور محکم اصول کی بنیاد ہے کہ ہر نیک   شخص ہر طرح کی سزا سے بری ہے۔

امام قرطبیؒ فرماتے ہیں:

هذه الآية أصل في رفع العقاب عن كل محسن .

’’ یہ آیت ہر نیک شخص کے لیے کسی بھی طرح کی سزاسے بری ہونے میں اصل ہے۔‘‘

امام ابوبکر الجصاصؒ فرماتے ہیں:

 ’’ آیت کے مفہوم میں ہر اس شخص کے لیے عموم ہے جو کسی بھی جہت سے صفت احسان سے متصف ہو ۔ ایسے شخص پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘‘

امام رازیؒ لکھتے ہیں:

هذا بعمومه يقتضي أن الأصل في حال كل مسلم براءة الذمة، وعدم توجه مطالبة الغير عليه في نفسه وماله، فيدل على أن الأصل في نفسه حرمة القتل إلا لدليل منفصل، والأصل في ماله حرمة الأخذ إلا لدليل منفصل، وأن لا يتوجه إليه شيء من التكاليف إلا لدليل منفصل؛ فتصير هذه الآية بهذا الطريق أصلًا معتبرًا في الشريعة في تقرير أن الأصل براءة الذمة[4].

’’ یہ آیت کریمہ اپنے عموم میں اس بات کی متقاضی ہے کہ  ہر مسلمان اصل میں ہر ذمہ سے بری  ہے اور اس کی جان ومال کے بارے میں کسی غیر کا مطالبہ کچھ بھی لائقِ توجہ  نہیں۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کسی مسلمان کی جان کے بارے میں اصل حکم یہ ہے کہ اس کا قتل حرام ہے، الا یہ کہ اس قتل پر  الگ سے(مستقل) کوئی دلیل موجود ہو۔ نیز اس کے مال کے بارے میں اصل یہ ہے کہ اس کا مال لینا  حرام ہے، الا یہ کہ اس پر الگ سے (مستقل) کوئی دلیل موجود ہو۔ اور اس پر کسی مستقل دلیل کے بغیر کوئی حکم بھی عائد نہیں کیا جاسکتا۔پس اس تناظر میں یہ آیت شریعت کے اس معتبر اصول کو ثابت کرتی ہے(الاصل براءة الذمة) ’’ ہر انسان اصل میں ذمہ سے بری ہے۔‘‘

عز بن عبد السلامؒ فرماتے ہیں:

 فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ عِبَادَهُ كُلَّهُمْ أَبْرِيَاءَ الذِّمَمِ وَالْأَجْسَادِ مِنْ حُقُوقِهِ وَحُقُوقِ الْعِبَادِ إلَى أَنْ تَتَحَقَّقَ أَسْبَابُ وُجُوبِهَا.[5]

’’ بیشک اللہ نے اپنے تمام بندوں کو پیدا فرمایا ہے اس حال میں کہ وہ سب ہر طرح کے ذمہ سے پاک ہیں۔ یعنی ان  پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور بندوں کے حقوق تب تک لازم نہیں  جب تک ان ذمہ داریوں کے ثابت ہونے کے اسباب ظاہر نہ ہوجائیں۔‘‘

  •  قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١﴾ ]البقرة:275 [

’’جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کے لیے وہ سود خوری سے باز آجائے، تو جو کچھ وہ پہلے لے چکا، اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔‘‘

أنَّه لمَّا نزل تحريم الربا خافوا من الأموال المكتسبة من الربا قبل التحريم، فبينت الآية أن ما اكتسبوا من الربا قبل التحريم على البراءة الأصلية حلال لهم ، ولا حرج عليهم فيه[6].

  •  ایک جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى يُبَيِّنَ لَهُمْ مَّا يَتَّقُوْنَ﴾ ]التوبة: ١١٥[

’’اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ لوگوں کو ہدایت دینے کے بعد   گمراہی میں مبتلا کرے جب تک کہ انہیں صاف صاف بتا نہ دے کہ انہیں کن چیزوں سے بچنا چاہیے۔ در حقیقت اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔‘‘

 اللہ تعالیٰ نے جب مشرکین کے لیے  مغفرت طلب کرنے کی ممانعت کردی تو جن لوگوں نے اپنے مشرک رشتہ داروں کے لیے پہلے مغفرت طلب کی تھی،  انہیں اللہ کے عذاب کا خوف لاحق ہوا، تو یہ آیت نازل ہوئی کہ جو مسلمان پہلے سے راہ راست پر گامزن ہیں اس نادانستہ غلطی پر ان کا مواخذہ نہیں ہوگا، کیونکہ انہیں براءۃ اصلیہ حاصل ہے اور یہ کہ اللہ کی طرف سے مواخذہ اس کا ہوتا ہے جو حق واضح ہوجانے کے بعد بھی باطل پر قائم رہے۔

 امین شنقیطی ؒ لکھتے ہیں:

فإنهم لمَّا استغفروا لموتاهم المشركين، فنزل قوله تعالى﴿ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا۠ لِلْمُشْرِكِيْنَ۠ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِيْ قُرْبٰى ﴾ [التوبة: ١١٣] ندموا على استغفارهم للمشركين، أنزل اللَّه الآية مبينة أن ما فعلوه من الاستغفار لهم على حكم البراءة الأصلية قبل نزول التحريم، لا مؤاخذة عليهم به حتى يحصل بيان ما ينهى عنه[7].

  • ایک آیت کریمہ میں یوں بیان ہوا ہے:

﴿وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا۰۰۱۵﴾ [الإسراء: 15]

’’اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ ہم رسول نہ بھیج دیں۔‘‘

اللہ سبحانہ وتعالیٰ کسی قوم پر تب تک عذاب نہیں بھیجتا، جب تک ان میں رسول بھیج کر حجت قائم نہ کردے۔رسول کی بعثت سے قبل عذاب نہ دینے کی وجہ انسان کو براءت اصلیہ کا حق حاصل ہونا ہے۔

  •  ایک اور آیت کریمہ میں بیان ہوا ہے:

﴿وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ﴾ [النساء: 22]

’’اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہوں ان سے ہرگز نکاح نہ کرو، مگر جو پہلے گزر چکا۔‘‘

  • نیز فرمایا:

﴿ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًاۙ۰۰۲۳﴾ [النساء: 23]

’’اور یہ (بھی تم پر حرام ہےکہ ایک نکاح میں )  دو بہنوں کو جمع کرو سوائے اس کے جو پہلے گزر چکا، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘

ان آیات میں گویا یہ کہا جارہا ہے کہ تمہاری سوتیلی مائیں بھی ماؤں ہی کے مقام پر ہیں لہذا ان سے نکاح کرنا انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ البتہ جو نکاح اس حکم کے آنے سے پہلے تک تم کرچکے  ان پر کوئی پکڑ نہیں  اور نہ ہی  ان سے پیدا شدہ اولاد ناجائز تصور ہوگی۔ اسی طرح ایک وقت میں ایک شخص کا دو بہنوں کو نکاح میں رکھنا بھی ناجائز ہے، سوائے ان کے جو نکاح پہلے ہوچکے۔  پہلے ہونے والے  نکاحوں پر پکڑ نہ ہونا  گویا براءت اصلیہ کی بناء پر ہے۔

  •  ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ ﴾ ]النساء: 135[

’’اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو۔‘‘

اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ شریعت میں سزا کا نفاذ انصاف اور گواہی سے وابستہ ہے۔ جہاں گواہی (یعنی ثبوت) نہ ہو، وہاں عدل کا تقاضا یہی ہےکہ کسی پر سزا عائد نہ کی جائے۔

  •   ﴿وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ﴾ [الأنعام: 164]

 ’’کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘

یعنی ہر شخص کی ذمہ داری اپنی ذات تک محدود ہے، جب تک کسی جرم کا یقینی ثبوت نہ ہو،اسے دوسرے کے جرم یا ذمہ داری کا شریک نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

  •   ﴿ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا ﴾ [البقرة: 286]

’’اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں ٹھہراتا۔‘‘

تکلیف کا تعلق دلیلِ شرعی اور استطاعت سے ہے۔ جب تک شرعا کوئی ذمہ داری ثابت نہ ہو،انسان ہر ذمے سے بری رہتا ہے۔

  •  ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْـَٔلُوْا عَنْ اَشْيَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ﴾ [المائدة: 101]

’’اے ایمان والو! ایسے امور سے متعلق سوال نہ کرو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کیےجائیں تو تمہیں برا لگے۔‘‘

سکوت کا یہ  حکم لوگوں کو اس معاملے سے بے خبر رکھنے کے لیے نہیں ہے ، بلکہ اس لیے ہے کہ اس میں اصلاً کام کرنے والے سے تنگی اور مؤاخذہ ختم کرنا ہے۔ گویا اس میں بھی اس اصول کی تائید پائی جاتی ہے کہ شرعی احکام کے ثبوت یا عدمِ ثبوت کے باب میں اصل براءت معتبر ہے۔

شبہے کی بناء پر سزا:

جب یہ ثابت ہوگیا کہ ہر شخص  اصل میں بری الذمہ ہے جب تک جرم  دلائل سے ثابت نہ ہو جائے۔

فقہی قاعدہ:

اس حوالے سے ایک فقہی قاعدہ ہے :

الیقین لایزول  بالشک

’’ شک کی وجہ سے یقین زائل نہیں ہوتا‘‘۔

یعنی ہر شخص کا اصل میں  ہر ذمے سے بری ہونامبنی بریقین ہے ،اب  اس یقین کو محض شبہات و احتمالات اور شکوک کی بناء پر ختم  نہیں کیا جاسکتا۔دوسرے لفظوں میں  جب تک کسی شخص  کا جرم باقاعدہ  ثابت نہ ہوجائے اسے مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ قید کیا جاسکتا ہے، نہ نظر بند، مارا پیٹا جاسکتا ہےنہ کسی اور اذیت سے گزارا جاسکتا ہے۔ اسے قانونی شکل دے دینا تو اس سے بھی اگلے درجے کا ظلم ہے۔

 اس کا بار ان لوگوں پر ہے جو ناحق کسی کو اذیت دیتے ہیں۔

﴿وَ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِيْنًاؒ۰۰۵۸﴾

                                                                                                                                                                        [الأحزاب: 58]

’’اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بےقصور اذیت دیتے ہیں انہوں نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے۔‘‘

ہمارے ہاں ایسی سزاؤں  کو بسا اوقات یہ کہہ کر جسٹیفائی کیا جاتاہےکہ ملزم بارے اشارہ یا شبہہ موجود تھا، جس کی وجہ سے اسے اٹھایا گیا یا سزا دی گئی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا شریعتِ اسلامیہ کی رو سے کسی کو شبہے، شک یا محض اشارے کی وجہ سے بڑی بڑی سزاؤں سے دوچار کیا جاسکتا ہے؟ خاص طور پر جبری گمشدگی جس میں ملزم سے زیادہ اس کے گھر والے اذیت میں ہوتے ہیں۔

قران مجید اور حدیث مبارکہ  اس قانونی اصول کی تائید کرتی ہے ۔  ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَيْـًٔا ﴾ [یونس:36 ]

 گمان حق سے کچھ کفایت نہیں کرتا۔‘‘

نیز رسول اللہﷺنے فرمایا:

 إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيْثِ.[8]

ظن (گمان) سے بچو، کیونکہ ظن (گمان) سب سے جھوٹی بات ہے۔‘‘

ظن سے مراد وہ وہم و خیال ، شک و  شبہ  اورو گمان ہے جو عقلی و نقلی دلیل سے عاری ہو۔ چونکہ شبہات پر کسی ذمے کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی ہے، اس لیے نبی کریم ﷺ نے شبہات کی بناء پر  حدود اللہ کو بھی روکنے کا حکم ارشاد فرمادیا:

ادرءوا الحدودَ بالشبهات[9].

’’شبہات کی بناء پر حدود کو روک دو۔‘‘

جب اللہ کی حدود (جو مبنی بر وحی، قطعی، اور عین عدل ہیں) شبہ کی وجہ سے ساقط ہو سکتی ہیں، تو انسانی قانون (جو وضعی، ظنی اور امکانِ خطا پر مبنی ہے) کو محض گمان، شبہ یا غیر یقینی ثبوت کی بناء پر لاگو کرنا شرعاً، عقلاً، اخلاقاً ہر  لحاظ سے نامناسب ہے۔

اسی طرح نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

البَيِّنَةُ عَلَى المُدَّعِي، وَاليَمِينُ عَلَى المُدَّعَى عَلَيْهِ[10].

 ’’دعویٰ کرنے والے کے ذمے  دلیل دینا اور انکار کرنے والے پر قسم ہے۔‘‘

گویا مدعا علیہ   ہر ذمے سے بری ہے، جب تک مدعی دلیل سے اس کے خلاف کچھ ثابت نہ کرے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ بغیر دلیل کے کسی کو اس کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں یوں بیان ہوا ہے:

لو يُعْطَى الناسُ بدعواهم لادّعى رجالٌ أموالَ قومٍ ودماءَهم، ولكن البينةَ على المدّعي واليمينَ على من أنكر[11].

’’اگر لوگوں کو ان کے دعووں  پر دیا جانے لگے ، تو وہ لوگوں کے مال اور خون کا دعویٰ کرنے لگیں گے،لیکن (اصول یہ ہے کہ) دعویٰ کرنے والے کے ذمے دلیل  اور انکار کرنے والے پر قسم ہے۔‘‘

اس حدیث مبارکہ سے یہ بات کھل کرسامنے آجاتی ہے کہ کسی کاحق ثابت کرنے یا کسی کو کسی حق سے محروم کرنے کے لیے دلیل ضروری ہے، ورنہ اصل میں وہ شخص ہر طرح کے الزام سے بری ہے۔

اصولی طور پر فیصلے کی بنیاد تین چیزوں پر ہوتی ہے:

  • اقرار (اعترافِ جرم)
  • بیّنہ (شرعی شہادت و ثبوت)
  • نکول (قسم سے انکار وغیرہ، جہاں شرعاً اس کا اعتبار ہو)

ان کے علاوہ جو کچھ ہے وہ قرائن اور شواہد کی بنیاد پر اجتہادی نوعیت کا معاملہ ہے۔ اور یہ ایک ایسی وادی میں قدم رکھنا ہے جہاں اہل تقوی داخل ہونا صریح ہلاکت شمار کرتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ

﴿وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ ﴾ [النساء: 58]

’’اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔‘‘

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے گمان سے بھی منع فرمایا ہے:

 ﴿اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَيْـًٔا ﴾ [يونس: 36]

اور بے بنیاد الزامات سے بھی منع فرمایا ہے تاکہ لوگوں کو بے جا اذیت سے محفوظ رکھا جاسکے۔

﴿وَ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِيْنًاؒ۰۰۵۸﴾

 [الأحزاب: 58]

’’اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بغیر کسی قصور کے (الزام لگا کر) ایذا دیتے ہیں، انہوں نے یقیناً ایک بڑے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے سر اٹھا لیا۔‘‘

 نیز ارشاد ہے:

﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْۤا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ۰۰۶﴾ [الحجرات: 6]

’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونا پڑے۔‘‘

اس سلسلے میں بنیادی اصول یہ ہے کہ 

المتهم بريئ حتي تثبت ادانته.

’’ملزم اس وقت تک بے گناہ ہے جب تک اس کا جرم ثابت نہ ہو جائے۔‘‘

اس لیے جن مقدمات میں ثبوت صرف ظنی نوعیت کے ہوں یا ایسے دلائل پیش کیے گئے ہوں جو یقین کے درجے تک نہ پہنچتے ہوں، ان میں مقدمہ خارج کر دینا اور بریت کا فیصلہ  زیادہ مناسب ہے، تاکہ لوگوں پر بغیر دلیل کے ظلم نہ ہو۔

یہ تو عدالتوں میں شبہات و قرائن کی بنیاد پر فیصلے کرنے کا معاملہ ہے، جہاں تک بات شبہات کی بنا پر ماورائے عدالت سزا دینے کی ہے تو اس کی سنگینی کس قدر ہے، کوئی صاحب عدل، شریعت کا عالم، ماہر امورِ سماجیات اور قانون دان ہی جان سکتا ہے۔

ماورائے عدالت سزاؤں کا آئینی وقانونی جائزہ :

پاکستان کے آئین وقانون کی رو سے بھی ماورائے عدالت کارروائیوں کا کسی طور کوئی جواز ممکن نہیں۔ آئینِ پاکستان واضح طور پر انسانی حقِ زندگی اور آزادی کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔

  •  آرٹیکل ۹ میں درج ہے:

’’کسی شخص کو زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جائے گا، ماسوائے   کہ قانون اس کی اجازت دے۔‘‘ 

ماورائے عدالت سزائیں اس بنیادی حق کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ خصوصاً ایسی پیشگی حراست جس کے لیے واضح قانونی جواز، عدالتی نگرانی یا قانون کے مطابق مقررہ طریقۂ کار موجود نہ ہو، آئین میں دیے گئے حقِ آزادی کے ساتھ ہم آہنگ نہیں سمجھی جا سکتی۔ گویا "قانون کی اجازت" کی شرط صرف عدالتی نگرانی کے ساتھ اپنا جواز رکھتی ہے، اس کے لیے محض انتظامی حکم کافی نہیں۔

  •  آرٹیکل ۱۰ واضح کرتا ہے کہ گرفتار شخص کو 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہے۔
  •  آرٹیکل ۱۰ میں درج ہے:

(1) کسی بھی گرفتار شدہ شخص کو ایسی گرفتاری کی وجوہات سے جتنی جلدی ممکن ہو آگاہ کیے بغیر تحویل میں نہیں رکھا جائے گا، اور نہ ہی اسے اپنی پسند کے قانونی مشیر (وکیل) سے مشورہ کرنے اور اس کے ذریعے اپنا دفاع کروانے کے حق سے محروم کیا جائے گا۔

(2) ہر وہ شخص جسے گرفتار کر کے تحویل میں لیا گیا ہو، اسے گرفتاری کے چوبیس گھنٹوں کے اندر (گرفتاری کے مقام سے قریب ترین مجسٹریٹ کی عدالت تک سفر کے لیے درکار وقت کو نکال کر) مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور کسی بھی ایسے شخص کو مجسٹریٹ کے حکم کے بغیر مذکورہ مدت سے زیادہ تحویل میں نہیں رکھا جائے گا۔

چوبیس گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیشی کی شرط دراصل انتظامیہ اور پولیس کے اختیارات پر آئینی نگرانی (Judicial Oversight) کا ایک  ذریعہ ہے، تاکہ ملزم کے بنیادی حقوق کا تحفظ ممکن ہوسکے۔

  •  قانون کے مطابق سلوک(آرٹیکل ۴): اس کے علاوہ ماورائے قانون یا ماورائے عدالت کسی قسم کا سلوک آرٹیکل ۴ کے بھی منافی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ

 آئین کے مطابق ہر شہری کا یہ بنیادی حق ہے کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔   ریاست کے تمام ادارے قانون کے پابند ہیں اور کسی فرد یا ادارے کو قانون سے بالاتر حیثیت حاصل نہیں۔

 آرٹیکل 4(2)(a) خاص طور پر یہ ہدایت کرتا ہے کہ کسی بھی شخص کی زندگی، آزادی، جسم، ساکھ یا جائیداد کو نقصان پہنچانے والا کوئی بھی اقدام قانون کے سوا نہیں کیا جائے گا۔

  •  انسانی وقار اور تشدد کی ممانعت (آرٹیکل۱۴): آئین انسانی وقار کو ناگزیر قرار دیتا ہے۔ آرٹیکل 14(2) دو ٹوک الفاظ میں کہتا ہے کہ کسی بھی شخص کو شہادت حاصل کرنے کی غرض سے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ یہ دورانِ حراست ہر طرح کی اذیت یا تشدد کو غیر آئینی قرار دیتی ہے۔
  •  منصفانہ سماعت کا حق (آرٹیکل۱۰۔اے): آرٹیکل 10A ہر شہری کو کسی بھی مجرمانہ الزام کی صورت میں منصفانہ سماعت (Fair Trial) اور مناسب قانونی طریقہ کار (Due Process) کا حق دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سزا دینے کا اختیار صرف عدالت کو ہے، پولیس یا کوئی دوسرا ادارہ خود جج بن کر سزا نہیں دے سکتا۔ نیز جرم ثابت ہونے تک ہر ملزم کو بے گناہ خیال کیا جانا چاہیے۔
  •  شہریوں کی برابری (آرٹیکل ۲۵): تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور قانون کے یکساں تحفظ کے حقدار ہیں۔ اگر کوئی سرکاری اہل کار قانون ہاتھ میں لیتا ہے، تو وہ بھی قانون کے سامنے جوابدہ ہے کیونکہ آئین کسی کو قانون سے بالاتر ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔

خلاصہ یہ کہ آئینِ پاکستان کے تحت کسی بھی شہری کو سزا دینا صرف عدالت کا اختیار ہے۔ لہٰذا پولیس، انتظامیہ یا کسی دوسرے ریاستی ادارے کی جانب سے قانون کے مقررہ طریقۂ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی شخص کو جسمانی، مالی یا جانی نقصان پہنچانا، یا اسے ماورائے عدالت سزا دینا، نہ صرف غیر قانونی بلکہ صریحاً غیر آئینی عمل ہے۔ ایسے اقدامات ریاست میں قانون کی حکمرانی، عدالتی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کے تصور کو مجروح کرتے ہیں۔

معاشرے پر منفی اثرات

  •  ماورائے  عدالت سزائیں چاہے کسی ڈاکو کو قتل کرنا ہو یا کسی کے نیفے میں پستول چلانا، کسی کو حبس بے جا میں رکھنا ہو یا کسی کو اٹھا لینا، سب سے پہلے یہ عمل اس بات کا اظہار ہے کہ عوام کے ساتھ ساتھ انتظامیہ بھی پاکستان کے نظام بالخصوص عدالتی سسٹم سے مایوس ہوچکی ہے۔ یہ اقدامات عدلیہ پرعدم اعتماد ہے۔  یہ اقدامات اس بات کا اعلان ہیں کہ ہمارا سسٹم بوسیدہ ہوچکا ہے، لہذا اس سے کسی قسم کی خیر برآمد ہونا ممکن نہیں۔ ماورائے عدالت سزائیں اس کا برملا اظہار ہیں اور حکومتی مشینری کا اس پر انہیں شاباش دینا اس پر مہرِ تصدیق ثبت کرنا ہے۔
  •  ماورائے عدالت سزا دینے سے بے گناہوں کے شکار ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس پر کئی ایک عملی ثبوت بھی موجود ہیں، اس کا ایک بین ثبوت آسٹریلوی شہریت یافتہ فیملی پر فائرنگ اور ایک معصوم بچی کے قتل کا حالیہ واقعہ ہے۔ جب گواہ، وکیل، جرح اور اپیل کچھ بھی نہیں ہوگا تو ایسے قتل آہستہ آہستہ معمول بن جائیں گے۔ حکومتی اہلکار اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے ایسے اقدامات کرنے سے بھی پرہیز نہیں کریں گے۔
  •  جب سرکاری ادارے خود کو قانون سے بالا خیال کریں تو قانون کی حکمرانی محض ایک دعویٰ رہ جاتا ہے۔انصاف کی بالادستی ایک خواب اور ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔  جس سے سماجی بے چینی اور نفرت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
  •  جب عدالتوں کے بجائے فیصلے اہلکاروں کے سپرد کردیے جائیں تو انتقامی کارروائیوں کی راہ  کھل جاتی ہیں  اور ذاتی عناد پر مبنی کارروائیوں کے امکانات  بھی بڑھ جاتے ہیں۔
  •  اس طرح کے اقدامات سے عوام میں مایوسی پھیلتی ہے اور محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ان کی جان، مال کچھ بھی محفوظ نہیں اور ہمیں قانونی تحفظ حاصل نہیں، بلکہ ہم بے لگام بیوروکریسی اور طاقت ور اداروں کی مرضی کے سپرد ہیں۔
  •  جب معاملات عدالتوں کے بجائے حکومتی اہلکاروں کے سپرد ہوجائیں تو ردعمل کے طور پر شدت پسندی ظہور میں آتی ہےاور عوام الناس میں انتقامی رجحانات کو تقویت ملتی ہےاور لوگ غیر قانونی راستے اختیار کرنے لگتے ہیں۔ ماورائے عدالت کارروائی اکثر باقاعدہ تفتیش اور عدالتی تحقیق کا متبادل بن جاتی ہے، جس سے جرم کے اصل اسباب اور اصل مجرم سامنے نہیں آ پاتے۔
  •  اس طرح کی کارروائیوں کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث ملک کو عالمی تنقید، سفارتی دباؤ اور بعض اوقات اقتصادی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
  •  اس طرح کی کارروائیوں کا ایک پہلو یہ بھی ہے، جس سے کسی طور صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا کہ جب ادارے  تحقیق کے بجائے غیر قانونی ذرائع اختیار کریں تو اعلیٰ معیارات پر تحقیق و تفتیش، فرانزک رپورٹس پر مبنی تحقیقات، سائنسی بنیادوں پر نتائج کا حصول رک جاتا ہے۔

الغرض بہت سی ایسی سماجی اور معاشرتی قباحتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن سے معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر عدم استحکام کی جانب بڑھنے لگتاہے۔

معاشرے پر مثبت اثرات

ماورائے عدالت کارروائیوں کے اس پہلو کو بھی سامنے رکھنا چاہیے کہ عوام   کی اکثریت ان کارروائیوں کو سراہتی ہے۔ اس سے کم ازکم یہ پہلو تو کھل کر سامنے آتا ہے کہ لوگ عدالتی نظام کے جھمیلوں سے اکتا گئے ہیں اور فوری انصاف چاہتے ہیں۔ ذیل میں عوامی رائے کے تناظر میں اس کے کچھ مثبت پہلو بھی پیش کیے جاتے ہیں:

  •  ہمارا عدالتی نظام اس قدر فرسودہ، مہنگا اور بدعنوانی کا شکار  ہے کہ عوام ظلم برداشت کرلیتے ہیں، عدالتوں کا رُخ نہیں کرتے کہ یہ ایک طرح سے نیا عذاب ہے۔ اس لیے جب ڈاکوؤں، بدکاروں اور چوروں کے خلاف کوئی کارروائی ہوتی ہے   تو ان کے سینے ٹھنڈے ہوجاتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں لوگ  جرائم سے مسلسل پریشان ہیں، خطرناک مجرموں کے خاتمے سے عوام کو اطمینان اور تحفظ کا احساس ملتا ہے۔  اگر کوئی انہیں کہے کہ یہ تو طریق کار درست نہیں تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ آپ ایسا اس  لیے کہہ رہے ہیں کہ آپ کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ اب اس لاجک کا کیا جواب دیا جائے؟
  •  اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جب خطرناک مجرموں کے خلاف سخت اور فوری کارروائی ہوتی ہے تو بعض علاقوں میں جرائم کی شرح کم ہوجاتی ہے۔ مجرم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے خلاف فوری اور سخت ردِعمل آسکتا ہے، جس سےاکثر مجرم باز رہتے ہیں۔
  •  اس سے مظلوموں کی داد رسی ہوتی اور ان کے جذبات کو تسکین ملتی ہے۔ سنگین جرائم کے متاثرین بعض اوقات فوری کارروائی کو انصاف کے مترادف سمجھتے ہیں۔جب عوام کو محسوس ہو کہ مقدمات برسوں چلتے ہیں یا مجرم ثبوتوں کی کمی سے بچ نکلتے ہیں تو وہ ایسی کارروائیوں کو نظام کی کمزوری کا متبادل سمجھنے لگتے ہیں۔
  •  منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے سرغنوں کے خلاف سخت کارروائی ان کی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے۔
  • عوام میں یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ ریاست جرائم کے سامنے بے بس نہیں۔ گویا  ایک طرح سےحکومتی رٹ مضبوط ہوتی ہے۔
  •  سنگین جرائم کے بعد عوامی اشتعال بعض اوقات فوری کارروائی سے کم ہو جاتا ہے۔
  •  سخت نتائج دیکھ کر دوسرے لوگ بھی جرم سے بچتے ہیں۔

بلاشبہ یہ فوائد حاصل ہورہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ فوائد وقتی ہیں۔ معاشرہ تب ہی مستحکم ہوتا ہے جب عدالتی نظام مضبوط ہو، قانون کی عملداری ہواور جلد انصاف فراہم کیاجائے، چنانچہ اس سلسلے میں چند سفارشات درج ذیل ہیں:

  •   قانون کی بالادستی کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔ریاستی اداروں، پولیس اور انتظامیہ کو  قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کا پابند بنایا جائے اور کسی فرد یا ادارے کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔
  •  فوجداری نظامِ انصاف کو مؤثر اور تیز تر بنایا جائے۔مقدمات کے غیر ضروری التوا، تاخیر اور پیچیدگیوں کو کم کیا جائے تاکہ مجرموں کو بروقت سزا ملے اور عوام ماورائے عدالت اقدامات کی طرف مائل نہ ہوں۔
  • پولیس کی پیشہ ورانہ تربیت اور تفتیشی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے۔جدید فرانزک، ڈیجیٹل شواہد اور سائنسی تحقیق کے ذرائع کو فروغ دے کر جرم کے ثبوت جمع کرنے کے نظام کو مضبوط بنایا جائے۔
  • گواہوں اور متاثرین کے تحفظ کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔بہت سے مقدمات کمزور گواہی یا گواہوں کے عدم تحفظ  کے سبب ناکام ہو جاتے ہیں، لہذا  گواہوں کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات ضروری ہیں۔
  • پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مؤثر احتساب کیا جائے۔اگر کوئی اہلکار اختیارات سے تجاوز کرے یا غیر قانونی کارروائی میں ملوث ہو تو اس کے خلاف شفاف اور غیر جانبدارانہ کارروائی ہونی چاہیے۔
  •  عدالتی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے۔گرفتاری، حراست اور تفتیش کے مراحل میں عدالتی نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کے بنیادی حقوق محفوظ رہیں۔
  • عوام میں قانونی شعور بیدار کیا جائے۔لوگوں کو یہ سمجھایا جائے کہ انصاف اور انتقام میں فرق ہے اور قانون کے بغیر دی جانے والی سزا بالآخر معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
  • جرائم کے بنیادی اسباب کے خاتمے پر توجہ دی جائے۔ دینی شعور دیا جائے۔ آخرت میں جوابدہی کے احساس کو فروغ دیا جائے۔غربت، بے روزگاری، منشیات، ناخواندگی اور سماجی ناانصافی جیسے عوامل پر قابو پا کر جرائم کی شرح کو کم کیا جا سکتا ہے۔
  • مجرم اور ملزم کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھا جائے۔محض الزام یا شبہے کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم قرار نہ دیا جائے بلکہ جرم کا ثبوت اور عدالتی فیصلہ ہی مجرم ہونے کا معیار ہونا چاہیے۔
  •  اسلامی اصولِ عدل کو پیشِ نظر رکھا جائے۔شریعتِ اسلامیہ نے عدل، تحقیق، شہادت اور بینات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا کسی بھی فرد کے جان، مال یا عزت کے متعلق فیصلہ واضح شرعی اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
  •  ریاستی رِٹ اور شہری حقوق میں توازن قائم رکھا جائے۔جرائم کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے، لیکن قانون کے دائرے میں ہونی چاہیے تاکہ امن و امان بھی قائم رہے اور انصاف کا معیار بھی مجروح نہ ہو۔
  •  اگر عوام میں ماورائے عدالت کارروائیوں کی حمایت بڑھ رہی ہے تو اس کی وجہ مجرموں کا سزا سے بچ نکلنا ہے۔ لہٰذا قانون سازی اور عدالتی اصلاحات کے ذریعے اس مسئلے کا مؤثر حل تلاش کیا جائے۔

جرائم کا خاتمہ ہر مہذب معاشرے کی ضرورت ہے، لیکن انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ جرم اور سزا کے درمیان قانون، ثبوت، عدالتی نگرانی اور منصفانہ سماعت کا مرحلہ موجود ہو۔ ماورائے عدالت کارروائیاں اگرچہ بعض اوقات وقتی طور پر مؤثر محسوس ہوتی ہیں، لیکن ایک پائیدار، منصفانہ اور اسلامی معاشرے کی بنیاد قانون کی بالادستی، عدل کے قیام اور ہر شہری کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر ہی استوار ہو سکتی ہے۔

 

[1]               https://www.dawnnews.tv/news/1267082

[2]               https://www.youtube.com/watch?v=ju39VvDVoV0

[3]              أحكام القرآن :2/995

[4]         تفسير الرازی :16/128

[5]        قواعد الأحكام في مصالح الأنام (2/ 51)، مكتبة الكليات الأزهرية - القاهرة

[6]         مذكرة أصول الفقه على روضة الناظر لمحمد الامین الشنفیطی ،ص:۱۹۰

[7]         مذكرة أصول الفقه على روضة الناظر لمحمد الامین الشنفیطی ،ص:22

[8]       صحیح  بخاری،۵۱۴۳

[9]      السنن الكبرى للبيهقي (8/ 57):15922

[10]    سنن ترمذی :1341

[11]    صحیح مسلم: 1711