اسلام کا تصّور آخرت اور مُعاشی زندگی

آخرت ، اسلام کا ایک اہم سیاسی تصور جو انسانوں کی فکر و سوچ اور معاشی روّیوں پر بہت گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آخرت کی زندگی ہی حقیقی اور لافانی زندگی ہے۔ انسان کی کامیابی کا مطلوب و مقصود اسی زندگی میں سرخروئ ہے یہ دنیا انسان کے لیے ہے لیکن انسان آخرت کے لیے ہے۔ خالق و مالک کائنات نے اس دنیا پر انسان کو آزمائش کے لیے بھیجا ہے۔ یہ دنیا دراصل دارالامتحان ہے موت و حیات کا سلسلہ اسی مقصد کے لیے بنایا گیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلْمَوْتَ وَٱلْحَيَو‌ٰةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْغَفُورُ‌ ﴿٢...سورۃ الملک
''وہی ہے جس نے موت و زندگی کو بنایا تاکہ تمہیں آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی۔''

دنیوی زندگی میں انسان کو دی گئی تمام قوتیں، صلاحیتیں ، وسائل و ذرائع، سامان عیش و عشرت اور بے شمار خفیہ اور ظاہری نعمتیں، ہر طرح کی معاشی اور دیگر سرگرمیاں، بھاگ دوڑ، گہما گہمی اور لیل و نہار کے سلسلے ختم ہوجانے والے ہیں۔ سورہ الرحمٰن میں اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت کی چیدہ چیدہ نعمتوں کا ایک خوبصورت موازنہ فرمایا ہے۔ اسباب دنیا کے تذکرے کا اختتام ان الفاظ میں کیا ہے۔
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ﴿٢٦﴾ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَ‌بِّكَ ذُو ٱلْجَلَـٰلِ وَٱلْإِكْرَ‌امِ ﴿٢٧...سورۃ الرحمن
''ہر چیز جو اس زمین پر ہے، فنا ہوجانے والی ہے اور صرف تیرے جلیل و کریم رب کی ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔''

یہ دنیا دارالعمل ہے اور آخرت دارالجزا، جہاں انسان کو اپنے ہر چھوٹے بڑے اچھے اور بُرے کام کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّ‌ةٍ خَيْرً‌ا يَرَ‌هُۥ ﴿٧﴾ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّ‌ةٍ شَرًّ‌ا يَرَ‌هُۥ ﴿٨...سورۃ الزلزال
''پھر جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بھی بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا''

ہر آدمی اپنے اچھے بُرے اعمال کی کمائی کا خود ہی ذمہ دار ہوگا۔ وہ اسکی ذمہ داری کا بوجھ کسی دوسرے کے سر پر ڈال کر خود کو بَری نہیں کراسکے گا۔
وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ‌ وَازِرَ‌ةٌ وِزْرَ‌ أُخْرَ‌ىٰ...﴿١٦٤﴾...سورۃ الانعام
''ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے۔ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔''

رسول اللہ ﷺ نے دنیا کو آخرت کی کھیتی قرار دیتے ہوئے فرمایا ''الدنیا مزرعة الآخرة'' ''یعنی انسان اس دنیا میں جو کچھ بوئے گا وہی آخرت میں کاٹے گا۔'' اسے دنیا میں جو نعمتیں میسر ہیں ان سب کے بارے میں وہ جواب دہ اور مسئول ہے۔ اسے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ موت برحق ہے۔ ہر ذی روح نے اس کا ذائقہ ضرور چکھنا ہے (سورہ انبیاء:35) جب وہ مرتا ہے تو اپنی ساری کمائی یہیں چھوڑ دیتا ہے اور قبر کی آغوش میں خالی ہاتھ اتار دیا جاتا ہے۔ اس کی زمینیں، کھیت، مکانات، کاروبار، پلازے، کاریں موٹریں، بینک بیلنس، سب پیچھے رہ جانے والے وارثوں کے کام آتا ہے۔ ارشاد نبوی ہے:
''یقول العبد مالي مالي! وإن ماله من ماله ثلاث ما أکل فأفنی أو لبس فأبلی أو أعطی فاقتنی وما سوی ذلك فھو ذاھب و تارکه للناس'' 1
''بندہ یہ کہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال، حالانکہ اس کے مال میں سے اس کی اپنی صرف تین چیزیں ہیں ایک وہ جسے کھا کر ختم کردیا، دوسری وہ جسے پہن کر بوسیدہ کردیا، تیسری وہ جسے صدقہ کرکے اپنے لئے محفوظ کرلیا، اس کے سوا سب کچھ اس کے ہاتھ سے جانے والا ہے جسے لوگوں کے لیے چھوڑ دے گا۔''

گویا اس کے استعمال و خرچ سے بچ جانے والا سارا مال اس کے وارثوں کے حصے میں آتا ہے اور یہی اہل و عیال اور عزیز و اقارب جن کے لیے زندگی بھر تگ ودو کرتا ہے اور بسا اوقات اپنے مالک حقیقی کی حدود کو بھی پھلانگ جاتا ہے۔ جب آخرت میں وہ شخص اس کے حضور حاضر ہوگا تو یہ رشتے اس کے کچھ بھی کام نہیں آئیں گے۔ اس لیے دانشمندی کا یہ تقاضا ہے کہ دوسروں کی دنیا سنوارنے کے لیے اپنی آخرت برباد نہ کرے۔

ارشاد ربانی ہے:
يَوْمَ لَا يُغْنِى مَوْلًى عَن مَّوْلًى شَيْـًٔا وَلَا هُمْ يُنصَرُ‌ونَ ﴿٤١...سورۃ الدخان
'' وہ ایسا دن ہوگا جب کوئی عزیز و ساتھی کسی عزیز و ساتھی کے کام نہیں آئے گا۔''

آدمی کے سب تعلق دار اگر اپنے اپنے دنیوی کاموں سے فرصت نکال سکیں تو اس کاجنازہ پڑھ کر اس کی میت کو لحد میں اتارنے تک اس کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ جونہی وہ اس پر مٹی کی دبیز تہیں ڈال دیتے ہیں تو وہ اپنے اعمال کے حوالے ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اس کا مال و اسباب بھی زیادہ سے زیادہ اس کے جنازے کی دھوم دھام، کفن کی عمدگی اور قبر کی پختگی تک اس کا معاون بن سکتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں نہ تو اسے عذاب قبر سے رہائی دلا سکتی ہیں نہ عذاب دوزخ سے، لہٰذا انسان کو چاہیے کہ ان نیک اعمال کی فکر کرے جو اسے دنیا میں بھی عزت و اطمینان دے سکتے ہیں اور آخرت کے تمام مراحل میں بھی اسے فوز و فلاح سے ہمکنار کرسکتا ہیں۔

ارشاد نبوی ہے:
''یتبع الميت ثلاث فيرجع اثنان و یبقی واحد۔ یتبعه أھله و ماله و عمله فیرجع أھله و ماله و یبقی عمله'' 2
''میت کے ساتھ (قبر تک) تین چیزیں جاتی ہیں، جن میں سے دو واپس لوٹ آتی ہیں اور ایک باقی رہ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ اہل و عیال، مال اور عمل جاتے ہیں، عیال و مال تو واپس آجاتے ہیں مگر عمل باقی رہ جاتا ہے۔''

بقول علامہ اقبال ؎

یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند

بتاں وہم و گماں لا الٰہ الا اللہ 3

جب انسان وہم و گمان کی اس دنیا سے نکل کر آخرت کی حقیقی زندگی میں قدم رکھے گا، اور میدان حشر میں ا س کی کامیابی و ناکامی کا فیصلہ ہونے لگے گا تو اس کی کیا کیفیت ہوگی؟ قرآن میں ایک جگہ اس کی یوں جھلک پیش کی گئی ہے۔

وَلَا يَسْـَٔلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا ﴿١٠﴾يُبَصَّرُ‌ونَهُمْ ۚ يَوَدُّ ٱلْمُجْرِ‌مُ لَوْ يَفْتَدِى مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍبِبَنِيهِ ﴿١١﴾ وَصَـٰحِبَتِهِۦ وَأَخِيهِ ﴿١٢﴾ وَفَصِيلَتِهِ ٱلَّتِى تُـْٔوِيهِ ﴿١٣﴾ وَمَن فِى ٱلْأَرْ‌ضِ جَمِيعًا ثُمَّ يُنجِيهِ ﴿١٤﴾ كَلَّآ ۖ إِنَّهَا لَظَىٰ ﴿١٥﴾ نَزَّاعَةً لِّلشَّوَىٰ ﴿١٦﴾ تَدْعُوامَنْ أَدْبَرَ‌ وَتَوَلَّىٰ ﴿١٧﴾ وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰٓ ﴿١٨...سورۃ المعارج
''اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اولاد کو، اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو، اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا، اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دے دے اور یہ تدبیر اسے نجات دلا دے۔ ہرگز نہیں! وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپیٹ ہوگی جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی۔ پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اس شخص کو جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا۔''

اسلام نے دنیا کی زندگی، اس کے سازو سامان اور اسباب و وسائل کی آزمائشی نوعیت کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کیا ہے ۔ تاکہ انسان اسے مقصد زندگی بنا کر جو مختصر سی عمر اور مہلت عمل اسے ملی ہے وہ ان کے حصول ہی میں ضائع نہ کردے۔ انسان یہاں پر جتنا مال و متاع اکٹھا کرے اور عیش و عشرت کے جتنے بھی مواقع اسے میسر آئیں بہرحال وہ ختم ہونے والے ہیں۔ اگر وہ انہیں ظلم و استحصال سے حاصل کرے گا تو آخرت کی ابدی زندگی میں اسے ضرور عذاب میں مبتلا ہونا پڑے گا۔ کوئی صاحب عقل آدمی انتہائی محدود اور عارضی لذت کے بدلے میں مستقل بدحالی اور دائمی مصائب کا شکار ہونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ ارشاد ربانی ہے:
وَمَآ أُوتِيتُم مِّن شَىْءٍ فَمَتَـٰعُ ٱلْحَيَو‌ٰةِ ٱلدُّنْيَا وَزِينَتُهَا ۚ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيْرٌ‌وَأَبْقَىٰٓ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ﴿٦٠﴾ أَفَمَن وَعَدْنَـٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَـٰقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَـٰهُ مَتَـٰعَ ٱلْحَيَو‌ٰةِ ٱلدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ مِنَ ٱلْمُحْضَرِ‌ينَ ﴿٦١...سورۃ القصص
''تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ محض دنیا کا سامان اور اس کی زینت ہے اور جو کچھ اللہ کےپاس ہے وہ اس سےبہتر اور پائیدار تر ہے کیا تم لوگ عقل سےکام نہیں لیتے؟ بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو، اسے پانے والا ہو، کبھی اس شخص کےبرابر ہوسکتا ہے جسے ہم نے صرف حیات دنیا کا سروسامان دے دیا ہو پھر وہ قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو؟''

بقول سید ابوالاعلیٰ مودودی:
''اللہ کا دین انسان سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ اس دنیا کی متاع حیات سے استفادہ نہ کرے اور اس کی زینت کو خواہ مخواہ ہی لات مار دے۔اس کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ وہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دے۔کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی، اور دنیا کا عیش کم تر ہے اور آخرت کا عیش بہتر، اس لیے دنیا کی وہ متاع اور زینت تو انسان کو ضرور حاصل کرنی چاہیےجو آخرت کی باقی رہنے والی زندگی میں اسے سرخرو کردے۔ یا کم از کم یہ کہ اسے وہاں کے ابدی خسارے میں مبتلانہ کرے۔ لیکن جہاں معاملہ مقابلے کا آپڑے، یعنی دنیا کی کامیابی اور آخرت کی کامیابی ایک دوسرے کی ضد ہوجائیں وہاں دین حق کا مطالبہ انسان سے یہ ہے اور یہ عقل سلیم کا مطالبہ بھی ہے کہ آدمی دنیا کو آخرت پہ قربان کردے اور اس دنیا کی عارضی متاع و زینت کی خاطر وہ راہ ہرگز اختیار نہ کرے جس سے ہمیشہ کے لیے اس کی عاقبت خراب ہوتی ہو۔'' 4

حضرت خولہ بنت قیس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
''إن ھذا المال خضرة حلوة من أصابه بحقه بورك له فیه رب متخوض فیما شاءت به نفسه من مال اللہ و رسوله لیس بقوم القیامة إلا النار''5
''یہ مال تو سرسبز و شیریں ہے اس کے لیے جس ن اسے حق کے ساتھ لیا، اُس کو اس میں برکت دی جائے گی، بہت سی خواہشات نفسانی کی پیروی کرنے اور اللہ اور اس کے رسول کے مال میں سے لینے والے ایسے ہیں جن کے لیے قیامت کے دن دوزخ کے سوا کچھ نہیں۔''

انسان کے لیے دنیا کی چیزوں میں بڑی کشش رکھی گئی ہے۔ وہ اپنی فطری رغبت ہی کی وجہ سے ان کی طرف کھچا چلا جاتا ہے۔ اپنی ذاتی خواہشات و ضروریات کی تسکین کے لیے دوسروں کے اموال غصب کرتا ہے۔ ان کی راہوں میں رکاوٹ بنتا ہے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے دوسروں کی تمناؤں کا خون کرتا ہے ۔ اس سے پورا معاشی نظام ظلم و استحصال کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔ اس کا علاج یہی ہے کہ اس کے سامنے دنیا کے سامان اور آخرت کی نعمتوں کی حقیقت واضح کردی جائے۔ ارشاد ربانی ہے:
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ ٱلشَّهَوَ‌ٰتِ مِنَ ٱلنِّسَآءِ وَٱلْبَنِينَ وَٱلْقَنَـٰطِيرِ‌ ٱلْمُقَنطَرَ‌ةِ مِنَ ٱلذَّهَبِ وَٱلْفِضَّةِ وَٱلْخَيْلِ ٱلْمُسَوَّمَةِ وَٱلْأَنْعَـٰمِ وَٱلْحَرْ‌ثِ ۗ ذَ‌ٰلِكَ مَتَـٰعُ ٱلْحَيَو‌ٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ وَٱللَّهُ عِندَهُۥ حُسْنُ ٱلْمَـَٔابِ ﴿١٤﴾ قُلْ أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيْرٍ‌ۢ مِّن ذَ‌ٰلِكُمْ ۚ لِلَّذِينَ ٱتَّقَوْاعِندَ رَ‌بِّهِمْ جَنَّـٰتٌ تَجْرِ‌ى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ‌ خَـٰلِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَ‌ٰجٌ مُّطَهَّرَ‌ةٌ وَرِ‌ضْوَ‌ٰنٌ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ بَصِيرٌ‌ۢ بِٱلْعِبَادِ ﴿١٥...سورۃ آل عمران
''لوگوں کے لئے مرغوبات نفس، عورتیں، اولاد، سونے چاندی کے ڈھیر، چیدہ گھوڑے، مویشی اور زرعی زمینیں، بڑی خوش آئند بنا دی گئ ہیں، مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کے سامان ہیں۔ حقیقت میں جو بہتر ٹھکانا ہے وہ تو اللہ کے پاس ہے۔ کہو میں تمہیں بتاؤں کہ ان سے زیادہ اچھی چیز کون سی ہے؟ جو لوگ تقویٰ کی روش اختیار کریں ان کے لئے ان کے رب کے پاس باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہاں انہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل ہوگی، پاکیزہ بیویاں ان کی رفیق ہوں گی اور اللہ کی رضا سے وہ سرفراز ہوں گے۔''

انسان طبعاً حریص واقع ہوا ہے اس حرص و لالچ کی کوئی حد نہیں ، اس میں اتنا ہی زیادہ اضافہ ہوتا ہے جتنا زیادہ آدمی کے مال و دولت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ارشاد نبوی ہے:
''لوکان لابن آدم و ادیان من مال لابتغٰی و اديا ثالثاً ولا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب و یتوب اللہ علی من تاب'' 6
''اگر اولاد آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ چاہتا ہے کہ اسے تیسری بھی ملے اس کا پیٹ مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھرتی۔ اللہ تعالیٰ صرف اسی کی طرف رجوع کرتا ہے جو توبہ کرتا ہے۔''

اور ایک مرتبہ فرمایا:
''يهدم ابن آدم و یثب منه اثنان الحرص علی العمر والحرص علی المال'' 7
''آدمی بوڑھا ہوجاتا ہے مگر اس میں دو چیزیں جوان ہوجاتی ہیں، ایک زندگی کی حرص اور دوسری مال کی حرص۔''

یہی حرص فی الحقیقت دنیا کے بیشتر فسادات کی جڑ ہے۔ یہ انسانوں کو حیوان اور دنیا کو دوزخ بنا دیتی ہے۔ دنیا کے معاشی بحرانوں پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ بے جا حرص و ہوس پر قابو پانے کی تدابیر اختیار کی جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرور دو جہاںﷺ نے معیشت میں اعتدال اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:
''اے انسانو! اللہ سے ڈرو اور اپنی خواہشات میں میانہ روی اختیار کرو کیونکہ کوئی جان اس وقت تک نہیں مرتی جب تک اس کا رزق پورا نہیں ہوجاتا، اگرچہ اس میں دیر لگے لہٰذا اللہ سے ڈرو اور طلب رزق میں اعتدال اختیار کرو، جو حلال ہے اسے حاصل کرو اور جو حرام ہے اسے چھوڑ دو۔'' 8

ایک اور مقام پر حضورﷺ نے حرص پر قابو پانے کے لیے حیات آخرت کے مقابلے میں دنیا کی بے توقیری کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:
''ما مثل الدنیا في الآخرة إلامثل ما یجعل أحدکم أصبعه في الميم فلینظر بما یرجع'' 9
''دنیا کی مثال آخرت کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈالے اور پھر یہ دیکھے کہ اسکی انگلی پہ کتنا پانی لگا ہوا ہے۔''

حرص کا مقابلہ کرنے کے لیے بہترین ہتھیار جو کسی انسان کو میسر آسکتا ہے وہ قناعت ہے۔ اس سے وہ دنیا میں بھی پراطمینان زندگی بسر کرسکتا ہے اور آخرت میں بھی فوز و فلاح سے ہمکنار ہوسکتا ہے۔ ارشاد نبوی ہے:
''قد أفلح من أسلم ورزق کفافا وقنعه اللہ'' 10
''فلاح پاگیا وہ شخص جو اسلام لایا اور اسے بقدر کفایت رزق دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے قناعت عطا فرمائی۔''

اسلام یہ تصور دیتا ہے کہ دنیا میں کسی کو مال و دولت مل جانا لاسمی بھلائی کی دلیل نہیں ہے اور نہ ہی یہ اللہ تعالیٰ کی رحمتون، کرم نوازیوں اور مہربانیوں کا معیار ہے۔ نہ ہی اس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے خوش ہے اور وہ اس کے محبوب بندے ہیں۔ یہ تو محض مادہ پرست لوگوں کی کج فہمی ہے کہ اپنی کامیابیوں کو مال و اولاد کے پیمانوں سے ماپتے ہیں۔ حالانکہ انہیں اصل حقیقت کا شعور ہی نہیں ہے۔
أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِۦ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ ﴿٥٥﴾ نُسَارِ‌عُ لَهُمْ فِى ٱلْخَيْرَ‌ٰ‌تِ ۚ بَل لَّا يَشْعُرُ‌ونَ ﴿٥٦...سورۃ المعارج
''کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو انہیں، مال و اولاد دیئے جارہے ہیں تو گویا انہیں بھلائیاں دینے میں سرگرم ہیں؟ نہیں اصل معاملے کا انہیں شعور نہیں ہے۔''

يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ﴿٨٨...سورۃ الشعراء

ترجمہ ''اس دن نہ مال فائدہ دے گا اور نہ اولاد۔''

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں رزق کی تقسیم کے کچھ اپنے اصول اور مقاصد رکھے ہیں۔ اس کی اپنی حکمتیں اور مصلحتیں ہیں۔ اس میں اس نے مومن و کافر کا کوئی فرق نہیں رکھا۔ تاکہ وہ اپنے عقیدہ و عمل میں آزاد رہیں اور اس پر ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے کے لئے معاشی طور پر مجبور نہ ہوں اور پھر کافروں کومال و اسباب دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ کے نزدیک اس دنیا کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے چنانچہ حضرت سہل ؓ فرماتے ہیں کہ ہم حضورﷺ کے ساتھ ذوالحلیفہ میں تھے کہ آپ نے ایک مردار بکری کو ٹانگ اٹھائے پڑے دیکھا تو فرمایا! کیا تم دیکھ رہے ہو کہ یہ اپنے مال کے نزدیک کتنی حقیر ہے؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اللہ کے نزدیک دنیا اس سے کہیں زیادہ حقیر ہے جتنا کہ یہ اپنے مالک کے نزدیک حقیر ہوسکتی ہے۔ اگراللہ کے نزدیک دنیا کی کوئی حیثیت ہوتی تو کافر کو اس میں سے پانی کا ایک قطرہ بھی کبھی نہ دیتا۔11

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی دیتا ہے جو اس دنیا کے فوری اور جلد حاصل ہونے والے فوائد و مفادات کو اپنا مقصود بنا تے ہیں اور ان کی ساری تگ و دو بس یہیں تک محدود ہوتی ہے اور ان لوگوں کو بھی دیتا ہے جن کے پیش نظر آخرت ہوتی ہے۔
مَّن كَانَ يُرِ‌يدُ ٱلْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُۥ فِيهَا مَا نَشَآءُ لِمَن نُّرِ‌يدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُۥ جَهَنَّمَ يَصْلَىٰهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورً‌ا ﴿١٨﴾ وَمَنْ أَرَ‌ادَ ٱلْءَاخِرَ‌ةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰٓئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورً‌ا ﴿١٩﴾ كُلًّا نُّمِدُّ هَـٰٓؤُلَآءِ وَهَـٰٓؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَ‌بِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَآءُ رَ‌بِّكَ مَحْظُورً‌ا ﴿٢٠...سورۃ الاسراء
''جو کوئی (اس دنیا میں) جلدی حاصل ہونے والے فائدوں کا خواہشمند ہو، اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں، پھر اس کے حصہ میں جہنم لکھ دیتے ہیں جسے وہ تاپے گا ملامت زدہ اور رحمت سے محروم ہوکر اور جو آخرت کا خواہشمند ہو اور اس کے لیے سعی کرے جیسی کہ اس کے لیے سعی کرنی چاہیے، اور ہو وہ مومن، تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی۔ اُن کو بھی اور اِن کو بھی ، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیئے جارہے ہیں، یہ تیرے رب کا عطیہ ہے اور تیرے رب کی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔''

طالبان دنیا اور طالبان آخرت کی تگ و دو کے نتائج میں فرق یہ ہے کہ طالبان آخرت کو دنیا میں اپنے مقدر کا رزق اور حصہ تو ملتا ہی ہے مگر آخرت میں بھی اس میں اضافہ ہوگا۔ لیکن طالبان دنیا کا سارا حساب اس دنیا ہی میں چکا دیا جاتا ہے۔ ان کی معاشی جدوجہد کے فطری ثمرات اور ان کے بعض اچھے اور فلاحی کاموں کے سارے فوائد انہیں دنیا ہی میں دے دیئے جاتے ہیں۔ وہ مال و دولت، جاہ و منصب، عزت و شہرت میں سے جس چیز کے مستحق ہوتے ہیں اسے چند روزہ زندگی میں حاصل کرلیتے ہیں۔ آخرت میں ان کے لئے کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
مَن كَانَ يُرِ‌يدُ حَرْ‌ثَ ٱلْءَاخِرَ‌ةِ نَزِدْ لَهُۥ فِى حَرْ‌ثِهِۦ ۖ وَمَن كَانَ يُرِ‌يدُ حَرْ‌ثَ ٱلدُّنْيَا نُؤْتِهِۦ مِنْهَا وَمَا لَهُۥ فِى ٱلْءَاخِرَ‌ةِ مِن نَّصِيبٍ ﴿٢٠...سورۃ الشوری
''جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے اس کی کھیتی کو ہم بڑھا دیتے ہیں اور جو کوئی دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے دنیا ہی میں سے دیتے ہیں، مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔''

ایک مرتبہ حضرت عمر فاروقؓ رسول اکرمﷺ کے بالا خانے میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ آپؐ کھجور کی ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ جس پر کوئی بستر نہیں تھا، اس لیے چٹائی کے ابھرے ہوئے حصوں کا نشان آپؐ کے پہلو میں پڑ گیا تھا اور آپؐ نے ایک ایسے تکیے پر ٹیک لگا رکھی تھی جس کے اندر کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ رو دیئے اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی امت کے حالات میں کشادگی پیدا کردے، فارس اور روم کے لوگ تو فراخی میں رہتے ہیں اور دنیا انہیں خوب ملی ہوئی ہے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی نہیں کرتے۔ آپؐ نے تکیے کی ٹیک چھوڑ دی اور فرمایا ''اے ابن خطاب کیا تو شک میں مبتلا ہے؟ یہ تو ایسے لوگ ہیں جن کے اچھے کاموں کا صلہ جلدی سے اس دنیا کی زندگی میں مل گیا ہے۔'' ایک اور روایت میں ہے کہ کیا تم اس سے خوش نہیں ہو کہ انہیں دنیا ملے اور ہمیں آخرت''12

حیات آخرت کے ایمان و یقین اور انکار و تذبذب، پر انسان کی انفرادی و اجتماعی معاشی زندگی کا دار و مدار ہوتا ہے۔ اس سے دو ایسی مختلف ذہنیتیں تشکیل پاتی ہیں جو اس کے معاشی رویوں کا رُخ تبدیل کردیتی ہیں اور ا س کی معاشی سرگرمیوں کو مسلسل اپنی گرفت میں رکھتی ہیں۔

آخرت پر ایمان یقین رکھنے والا شخص کبھی دینار و درہم کا بندہ نہیں بن سکتا، اور نہ ہی وہ اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا سکتا ہے کیونکہ وہ اس حقیقت کو پالیتا ہے کہ دنیا کی ان گنت، متنوع بار بار پیدا ہونے والی اور نت نیا روپ اختیار کرنے والی خواہشات ایک سراب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جن کے پیچھے بھاگنے والا تھک ہار کر اپنی زندگی گنوا بیٹھتا ہے لیکن ان کی مکمل تسکین کبھی نہیں کرسکتا، یہ تو صرف آخرت کی زندگی ہے جس میں اس کی ہر خواہش پوری ہوگی۔ اسے اپنے رب کا یہ فرمان سہارا دیتا ہے۔
وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِىٓ أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ ﴿٣١...سورۃ فصلت
''وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم خواہش کرو گے تمہاری ہوگی۔''

آخرت کا تصور انسان کو رزق میں اعتدال و میانہ روی کی راہوں پر گامزن کرتا ہے۔ اس پر پختہ یقین رکھنے والا شخص کاروبار زندگی میں حصہ لیتا ہے اپنی صلاحیت و بساط کے مطابق اپنے معیار زندگی کو بھی بلند کرتا ہے مگر وہ مال و دولت پر بھوکے بھیڑیوں کی طرح نہیں جھپٹتا۔ اس کے حصول خرچ اور انتقال و استعمال میں کبھی ناجائز اور حرام ذرائع اختیار نہیں کرسکتا۔ جس شعبے کو اختیار کرتا ہے اس میں امانت و دیانت اس کا شعار ہوتی ہے ۔ نہ وہ خود ظلم کرتا ہے اور نہ اپنے سے اوپر والوں کے ظلم و استحصال میں کسی طرح کی مدد و معاونت کرتا ہے۔ اور نہ ہی اپنے سے نیچے والوں کی زیادتیوں اور حرام خوریوں کو کسی صورت برداشت کرسکتا ہے کیونکہ اس کا اصل عہد و پیمان اور وفاداری اس کائنات کے خالق و مالک سے ہوتی ہے۔ وہ اس کی خوشنودی اور اس کی جزا کی آس میں دنیا کے ہر نقصان اور خوف و خطر کا مردانہ وار مقابلہ کرسکتا ہے۔ وہ لوگوں کے حقوق کسی مجبوری ، دباؤ اور احتجاج کے امکان کی بنا پر نہیں بلکہ اس لیے ادا کرتا ہے کہ اس کا فرض ہے اور اس فرض کو پورا کرنے سے اسے قلب و ذہن کے اطمینان کی دولت میسر آتی ہے۔ دنیا کی عارضی زندگی اس کا مطلوب و مقصود نہیں ہوتی اس لیے وہ مادہ پرستوں سے مرعوب نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کی سینت و آرائش اس کی نظروں کو خیرہ کرتی ہے۔ نہ ہی ایسے لوگوں سے زیادہ میل ملاپ رکھنے اور دوستی و تعلقات مضبوط کرنے کی اس میں آرزو ہوتی ہے۔ اس لیے وہ اپنے وسائل کے اندر رہ کر زیادہ راحت و سکون کی زندگی بسر کرتا ہے۔ قناعت و توکل کی نعمت اسے دنیا کی بے شمار پریشانیوں اور اذیتوں سےبھی نجات دلاتی ہے اور آخرت میں بھی بلند درجات کا اسے مستحق بناتی ہے۔ فوز و فلاح ہی اس کا مقدر ہے، اسے اگر خوشحال اور وسائل کی فراوانی میسر آتی ہے تو............. خیرات، صدقہ اور شکرو سپاس کے ذریعے اسے حاصل کرتا ہے اور اگر تنگی و قلت کا سامنا کرتا ہے تو صبر وقناعت کے ذریعے اسے پالیتا ہے دونوں صورتوں میں اس کے درجات و مراتب بلند ہوتے ہیں۔

آخرت کا شعور انسان کو ایثار پیشہ بناتا ہے اس کے دل کو محبت، اخوت، ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبات سے لبریز کردیتا ہے۔ وہ ضرورت مند کی حاجت روائی کرکے مسرور و شاد ہوتا ہے اور ہمیشہ لوگوں کو فقر و افلاس، قرض و مرض اور مسائل و مشکلات کے چنگل سے نکالنے کے لیے سرگرم عمل رہتا ہے۔ وہ معاشی معاملات میں عدل و احسان کا رویہ اختیار کرتا ہے احتکار و اکتناز، ناجائز منافع خوری، جھوٹ و دھوکہ اور دیگر اخلاقی دائروں میں ایک انقلاب برپا ہوجاتا ہے لوگوں کے تمام باہمی معاشی معاملات و تعلقات ہمدردانہ، پراعتماد اور مستحکم ہوجاتے ہیں اور تمام عاملین پیدائش کو بلا تردد جائز حصے اور حقوق ملتے رہتے ہیں۔

تصور آخرت پورے معاشی نظام پر بھی انتہائی خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے۔ نظام، افراد ہی کے رویوں سے معرض وجود میں آتا ہے اور وہی اسے چلاتے ہیں اور اسے مضبوط و مستحکم بھی کرتے ہیں اس کا بناؤ یا بگاڑ افراد ہی کی سوچ اور طرز عمل پر منحصر ہوتا ہے۔ اس لیے لوگوں کے صالح اعمال پورے نظام کو عدل و انصاف، اور امن و آشتی سے ہمکنار کردیتے ہیں۔ نفسا نفسی کے خاتمے اور اعتماد و تعاون کی عمومی فضا کی وجہ سے بڑے بڑے معاشی بحرانوں سے نجات مل جاتی ہے تمام لوگ اپنی ذمہ داریاں پورے خلوص و جذبے سے ادا کرتے ہیں اور اپنے اوپر عائد شدہ حقوق و واجبات خوشدلی اور دیانتداری سے ادا کرتے ہیں اس لیے ریاست کی مالیات مضبوط ہوتی ہے اور معاشرے کی تعمیر و ترقی کے لیے بڑے بڑے منصوبوں پر عمل کرنا آسان ہوجاتا ہے، سرمایہ کاری کو فروغ ملتا ہے اور تمام مادی و انسانی وسائل کا صحیح اور بھرپور استعمال ہوتا ہے اور بھوک و افلاس کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

یہ محض ایک مفروضہ نہیں بلکہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔ اسلام نے بہت قلیل عرصے کے اندر سب سے پسماندہ ، بے آب و گیاہ اور غربت و افلاس کے مارے ہوئے خطے کے لوگوں کو پوری دنیا کا امام بنا دیا۔ زمینیں وہی تھیں، آلات و اوزار میں بھی کوئی بڑا تغیر نہیں ہوا تھا لیکن نئے اور منفرد تصورات نے ایک ایسے معاشی نظام کو جنم دیا جس نے اللہ کی رحمتوں،نعمتوں اور برکتوں کے دروازے کھول دیئے اور معاشی حالات کی کایا پلٹ دی پھر اسلامی ریاست کی سرحدیں جہاں جہاں تک وسیع ہوتی گئیں وہاں وہاں آسودگی اور خوشحالی کا دور دورہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ بعض علاقوں میں ڈھونڈے سے بھی زکوٰة لینے والا نہیں ملتا تھا۔


حوالہ جات
1. مسلم: کتاب الزہد والرقائق
2. مسلم : کتاب الزہد والرقائق
3. ضرب کلیم:15
4. تفہیم القرآن، ج3 ص655
5. ترمذي، کتاب الزهد: باب أخذالمال بحقه
6. مسلم : کتاب الزکوٰة
7. مسلم : کتاب الزکوٰة
8. ابن ماجہ: کتاب التجارات
9. ترمذی و ابن ماجہ: کتاب الزہد
10. ترمذی: کتاب الزہد
11. ترمذی و ابن ماجہ: کتاب الزہد

 12. بخاری:کتاب المظالم