ستمبر 2012ء

ناموسِ رسالؐت پر ایک اور وار!

الله تعالیٰ نے رحمت للعالمین، سیدالمرسلین اور شافع المذنبین محمد کریمﷺ کے ذریعے انسانیّت پر اپنے احسان کومکمل فرمایا، بلاشبہ بنی نوع انسانیت پر یہ احسان اللہ کا دین 'اسلام' ہے اور جس ہستی کے ذریعے نازل ہوا، اس کی بعثت کو بھی اللہ عزوجلّ نے انسانیت کے لئے 'احسانِ عظیم'قرار دیا۔ اس احسانِ عظیم کی قدرومنزلت اور حقیقت و کیفیت کا اندازہ انہی پاکیزہ نفوس کو ہےجنہیں اسلام کی اس رحمت وبرکت سے فیض اُٹھانے کا موقع ملا ہے۔
محمدﷺ اللہ کے محبُوب پیغمبر ہیں، اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں آپ کی صفات بیان کرتے اور آپ پر طنز واستہزا کے تیر چلانے والوں کو اپنی ناراضی کی وعید دیتے ہیں۔ کبھی محبوبِِ کریم کو اس اذیّت پر دلاسہ دیتے، کبھی اُن کے غم واندوہ کو اپنے تکذیب قرار دیتے، کبھی دریدہ دہن لوگوں سے آپ کو بچانے کی ذمہ داری لیتے اور کبھی نبی کریمﷺ کو یومِ حشر کے انتظار کی تلقین کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں درجنوں بار نبی کریؐم کا تذکرہ اپنی ذاتِ جلّ جلالہ کےساتھ کیا ہے، آپ کو رفعتِ ذکر کا وعدہ دیا ہے جس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ نبی کی شان اور یہ فضیلت اسی بنا پر ہے کہ آپؐ کی ذات ستودہ صفات پیامِ الٰہی کی مبین ومحافظ ہے۔ اپنے کلام میں اللہ عزوجلّ کس انداز میں دنیا کے ظالم لوگوں کی شقاوت کا تذکرہ کرتےہیں:
﴿يـٰحَسرَ‌ةً عَلَى العِبادِ ۚ ما يَأتيهِم مِن رَ‌سولٍ إِلّا كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ ٣٠﴾....سورة يٰس
''ان بندوں پر حسرت ہو! ان کے پاس کوئی بھی رسول نہیں آتا، لیکن اُس کا مذاق اُڑانے سے نہیں چوکتے۔''
نبی کی شان میں گستاخی کرنا بدترین گناہ اور بدترین وعیدکا مصداق بننا ہے، جس طرح روزِ قیامت وہ لوگ جو نبیﷺ کے ہاتھ سے واصل جہنم ہوں گے، بدترین عذاب کا صلہ پائیں گے، اسی طرح وہ لوگ جنہوں نے انبیا ﷩ جیسی مقدس ہستیوں کی ذات وشان میں زیادتی کی ہوگی، بدترین انجام کے مستحق ہوں گے۔ نبی کریمﷺ کا فرمان ہمیں نہیں بھولنا چاہئے جس میں آپ نے غزوۂ اُحد میں الم ناک لہجے میں فرمایا کہ ''وہ لوگ کیسے فلاح یافتہ ہوں گے جنہوں نے اپنے نبی کے چہرے کو زخم آلود کردیا۔''1
نبی کریمﷺ کی شانِ اقدس میں زیادتی کا ارتکاب بدترین گناہ ہی نہیں، سنگین ترین جرم بھی ہے۔ جولوگ اسے ماں باپ کی نافرمانی اور قطع رحمی کی طرح محض ایک گناہ سمجھتے ہیں، وہ غلطی پر ہیں۔ اسلام کی رو سے اہانتِ رسول بدترین جرم ہے، جس کی سزا دینا خلافتِ اسلامیہ کا فرض ہے۔ نبی کریمﷺ کی ذات پر طعن وتشنیع آپ پر ایک بہتانِ عظیم بھی ہے۔ جس طرح کسی جرم کے ارتکاب پر محض توبہ اور رجوع کافی نہیں ہوتے، بلکہ چوری یا زنا کی طرح عوام میں ظاہر ہوجانے کے بعد اس کی سزا دینا مسلم حکمرانوں کے لئے واجب ہوجاتا ہے، اسی طرح اہانتِ رسول کا سنگین جرم بھی مستوجبِ سزا ہے۔ اگر مسلمان حکمران اس کی سزا دینے سے احتراز کرتے ہیں ، تو وہ اپنے شرعی فریضہ سے واضح انحراف کے مرتکب ہوتے ہیں۔
جہاں تک آپ ﷺ کے مقام و فضیلت کا تعلق ہے تو جس کی حفاظت اور رفعت ِذکر کی ذمہ داری اللہ جلّ جلالہ کی ہو، اس کو کون نقصان پہنچا سکتا ہے!! نبی کریمﷺ کی دعوت کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو عفو ودرگزر کی تلقین کی تھی، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ شاتمین رسالت کو ذاتِ جلّ جلالہ نے کبھی معاف نہیں کیا اور عفو ودرگزر کے اُس دور میں بھی شانِ رسالت میں حرف گیری کرنے والے اللہ کی بدترین پکڑ کا شکار ہوئے تھے، تاریخ ہر ہر شاتم رسول کے بدترین انجام سے ہمیں خبردار2 کرتی ہے۔ مدینہ منورہ میں چلے آنے کے بعد ایسے بدبختوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا حکم دے دیا گیا اور شاتمانِ رسالت مآب کی سرکوبی کے لئے آپ خود مہمّات روانہ کرتے، صحابہ کی مجالس میں صلاے عام دیا کرتے اور اللہ تعالیٰ سے ایسے رسالت کے پروانوں کی مدد کی فریاد کیا کرتے۔ ایک بار محمد بن مسلمہ نے آپ کی دعوت پر لبیک کہا، ایک بار سیف الاسلام سیدنا خالدؓ بن ولید ، ایک بار سیدنا زبیر نے اور حسانؓ بن ثابت کو تو آپ نے خود بزبانِ شعر ظالموں کاجواب دینے کی تلقین کی، اور روح القدسؑ کے ذریعے اللہ سے اُن کی مدد ونصرت کے طالب ہوئے۔ رحمۃ للعالمین ﷺکا قلبِ اطہر ظلم وبدزبانی کے اوچھے ہتھکنڈوں پر زخمی ہوجایا کرتا اور آپ اپنے صحابہ کو شانِ رسالت کے تحفظ کے لئے اُبھارا کرتے۔
اہانتِ رسول کے ذریعے تین طرح کے حقوق میں زیادتی کا ارتکاب کیا جاتا ہے، اللہ کے حق میں جس نے آپ کی ذات کو پیغامِ رسالت کا مرکزومحور بنایا۔پھرنبی کریمﷺ کی ذات کا حق اس سے متاثر ہوتا ہے کہ آپ پر سبّ وشتم اور الزام تراشی کرکے ، صریح بہتان کا ارتکاب کیا جاتا ہے؛ یہ آپ کا شخصی حق ہے۔ اور توہین رسالت کے ذریعے شمع رسالت کے پروانوں یعنی محبانِ رسول اور پوری اُمّتِ محمدیہ کا حق مجروح کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان تینوں حقوق کو مجروح کرنے والا بدبخت ترین انسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نبی کریمﷺ کی اپنی اُمّت کے لئے شفقت کی گواہی قرآن میں دیتے ہیں ، لیکن وہ خالق رحمت ہستی بھی ایسے شقی القلب بدبختوں کو کیفر کردار تک پہنچائے بغیر نہیں رہ سکتی۔ علامہ ابن قیم جوزیہ اس سنگین جرم کی بابت واضح الفاظ میں قرار دیتے ہیں:
«إن كان هٰذا في أول الأمر حيث كان ﷺ مامورًا بالعفو والصفح وأيضًا فإنه كان يعفو عن حقه لمصلحة التاليف وجمع الكلمة ولئلا ينفِّر الناس عنه ولئلا يتحدثوا أنه يقتل أصحابه وكل هٰذا يختص بحياته ﷺ»3
''اس جیسے واقعات اوّلین دور کے ہیں جب آپ ﷺ معافی اور درگزر کرنے کا حکم دیے گئے تھے۔ اس وقت آپ تالیف ِ قلب، کلمہ اسلام کو مجتمع رکھنے اور لوگوں کے متنفر ہوجانے کے ڈر سے معافی کا راستہ اختیار کیا کرتے اور اس لئے بھی کہ دشمن یہ نہ کہتے پھریں کہ آپ تو اپنے ساتھیوں کو قتل کردیتے ہیں۔ الغرض شتم رسول پر تمام قسم کی معافیاں آپﷺ کی حیاتِ طیبہ سے ہی مخصوص ہیں۔''
سیرتِ نبویؐ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی حیاتِ مبارکہ میں ذاتِ رسالت مآب ﷺ نے ذاتی حق سے عفو ودرگزر برتا لیکن جب بھی اسلام یا منصبِ رسالت پر حرف آیا،اس کے تحفظ میں آپ کی رحمت وشفقت کبھی آڑے نہ آئی۔ اسی رحمتِ مجسمﷺ نے اسلام کے دفاع کے لئے درجنوں جنگیں لڑیں، بدبخت دشمنانِ اسلام کو کیفر کردار تک پہنچایا اور مسلم معاشرہ میں گناہ اور بدامنی پھیلانے والوں کو سنگین سزائیں دیں۔محاربین عکل اور عرینہ کی سزائیں ہوں یا رجم وقطع ید کی عقوبات، اسلام کے تقاضے پورے کرنے میں آپ نے کبھی کوئی کسر نہ چھوڑی۔
شمع رسالت کے پروانوںؓ نے منصبِ رسالت میں حرف گیری کرنے والوں کو زندہ رہنے کا حق نہیں دیا۔ ایک نہیں، کئی احادیث سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں غیرمسلم شاتمان کو صحابہ کرامﷺ نے انجام بد سے ہم کنار کرکے چھوڑا، وہ بدبخت عصما بنتِ مروان کی طرح اسلامی ریاست کے شہری ہوں یا جزیرہ عرب وخیبر کے یہودی یا مشرک، چاہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوکر کفر کی طرف لوٹنے والے عبد اللہ بن سرح ہوں یا عبد اللہ بن خطل... اُن کو قتل کرنے میں بیت اللہ الحرام کی حرمت وتقدس بھی آڑے نہ آئی ۔جب قانون وشرع سے شتم رسالت کے مسلّمہ مجرموں کو سزا دلوانے کی قوی اُمید ہو تو قانون وشریعت سے مدد لینا اسلام کا تقاضا ہے، لیکن اگر قانون عصمت ومنصبِ رسالت کی حفاظت سے قاصر ہو تو مسلمان اس امر کا فیصلہ اپنے ایمان وایقان کے پیمانے سے کرتا ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مسلم خلفا نے رسالت کے تقدس کو اپنا فرضِ اوّلین جانا اور اس کے لئے جہاد کیا۔شانِ رسالت میں دست دراز ی کرنے والے بدترین دہشت گردی کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ اربوں مسلمانوں کے دلوں کو ہی چھلنی نہیں کرتے، بلکہ بنی نوع انسانیت کے شرف کو پامال کرتے ہیں۔ وہ اس شخصیتﷺ پر تہمت لگا کر گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں جس نے انسانیت کو جینا سکھایا۔ جس نے انسان ہی نہیں، اللہ کی ہر مخلوق کے لئے رحمت پر مبنی احکامات جاری کئے۔کئی صدیاں قبل انسانیت کو قعر مذلت سے نکالا اور رہتی دنیا تک انسانیت کے لئے آپ منارۂ رشد وہدایت ہیں اور آپ نے اپنی اُمّت کی صلاح وفلاح کے لئے اپنی ہر صلاحیت اور فکر کھپا دی۔
جن لوگوں نے ناموس رسالت کے ان حالیہ رکیک حملوں کا جائزہ لیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ کوئی مسلمان یا سلیم القلب شخص ان مکروہ کلمات ومناظر کو چند لمحات کے لئے نہیں دیکھ سکتا۔ اگر مغرب کے دہشت گردی کے خلاف مزعومہ نظریۂ جنگ کو بھی تسلیم کرلیا جائے تو انتہاپسندوں کی یہ جنگ تو چند سو لوگوں کو ہلاک کرنے کا باعث بنی اور اس سے امریکہ کے جڑواں ٹاور تباہی سے دوچار ہوئے اور امریکہ دنیا بھر کو اپنے پیچھے مجتمع کرکے، اپنے مفروضہ دہشت گردوں کوسبق سکھانے نکل کھڑا ہوا۔ دوسری طرف ذات رسالت مآب اور ان کی اَزواجِ مطہرات کے خلاف حالیہ دہشت گردی کو دیکھا جائے تو اس سے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو دلوں کو چھلنی کرتے اور اُنہیں شدید اذیّت سے دوچار کرتے ہوئے ابلاغی ونظریاتی دہشت گردی کی گئی۔ ملّتِ اسلامیہ کی عظمت وسطوت کے نشان محمد عربی علیٰ صاحبہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم کو اپنی ہفوات کا نشانہ بنایا گیا، جو انسانیت کی فلاح وصلاح کے لئےتمام مذاہب کے ماننے والوں کے ہاں مسلّمہ ہستی کے مقام پر فائز ہیں۔ امریکہ چند ایک دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے میدانِ کارزار میں نکل کھڑا ہوا اور کئی مسلمان ممالک میں عشر ہ بھر سے ہلاکت وبربریت کا طوفانِ بلاخیز مسلط کئے بیٹھا ہے، جبکہ دوسری طرف آج ستاون مسلم ممالک میں کسی میں بھی یہ جرات نہیں کہ وہ دنیا کے اس بدترین دہشت گرد کی سرکوبی کے لئے کوئی سنجیدہ اقدام تو کجا، واضح الفاظ میں مذمّت ہی کرسکے۔ مسلم اُمّہ کی یہ بےغیرتی اور کمزوری واقعتاً عبرت ناک ہے جس پر دلِ مسلم خون کے آنسو روتا ہے۔
دنیا آج اپنی ترقی اور چمک دمک پر نازاں ہے اور اسے ترقی اور تمدن کا سنہرا دور قرار دیتی ہے۔ انسانی دانش اپنے عروج پر مفتخر ہے اور مغربی معاشروں کو عظمتِ انسانیت کی درخشندہ مثال کے طورپر پیش کیا جاتا ہے،لیکن قرآن اوراسلامی تعلیمات کی رو سے دیکھا جائے تو آج کا دور ظلمت وتاریکی اورشقاوت و بدبختی سے عبارت ہے۔ اس دور میں اللہ کے دین کے خلاف تمام صلاحیتوں کو جمع کرکے اپنے خبثِ باطن کو پھیلانے کی تمام مساعی کی جارہی ہیں۔ اللہ کے دین اسلام، اللہ کی کتاب قرآن، اسلام کے نام لیوا راسخ مسلمان، اسلام کے محافظ مجاہدین، مسلمان کے شعارداڑھی، مسلم عورت کے شعار حجاب، اللہ کے گھروں مساجد کے مینار، اللہ کے دیے ہوے نظام حیات اور سب سے بڑھ کر نبی رحمت محمد ﷺ کے خلاف بدبخت انسانوں نے اپنی زبانوں کو دراز کردیا ہے۔ تاریخ کے کسی دور میں اللہ کا دین اسلام، ذلّت و نکبت کی اس پستی میں نہیں پہنچا جس کا آج سامنا کیا جارہا ہے۔ شعائر اسلام کے خلاف کئی دہائیوں سے جاری اہل کفر کی مسلسل کوششیں مسلمانوں کے لئے فی زمانہ حقیقت کھول دینے کے لئے کافی ہیں، لیکن مسلمان ہیں کہ خوابِِ غفلت سے بیدار ہی نہیں ہوتے۔ مسلمانوں کو حاصل اللہ کی نعمتیں ان پر دنیا کا دھوکہ ختم ہی نہیں کرتیں اور اُنہیں اپنی روش بدلنے پرمجبور نہیں کرتیں، ان کی غفلت کی رات طویل ہوتی جاتی ہے اور نوید ِسحر کا مرحلہ ہی نہیں آتا۔
اس بدتردور میں نبی اسلامﷺ کی شان رسالت میں کی جانے والی گستاخیاں، اس تکرار، تسلسل، ڈھٹائی، وسعت اور بڑے پیمانے پر جاری ہیں، جن کا ماضی میں کوئی وجود نہیں ملتا۔ ماضی کا مسلم حکمران دیبل میں کسی ایک مسلم خاتون کی عصمت دری پر تڑپ اُٹھتا اور اس کے نتیجے میں آنے والے لشکرِ اسلام سے آخرکار پورا برصغیر اسلام کے نور سے منور ہوجاتا، کبھی وا معتصماہ کی پکارپر مسلمان خلیفہ بے چین ہواُٹھتا اور روم کے شہروں انقرہ وعموریہ کو زیرنگین لا کر دم لیتا۔ کبھی خلیفہ ہارون الرشید وقت کے امام سے پوچھتا کہ اہانتِ رسول پر میری ذمہ داری کیا ہے، توامام دار الہجرت بے چین ہوکر جواب دیتے کہ ''اس اُمّت کو دنیا میں جینے کا حق نہیں رہتا جس کے نبی کی توہین کردی جائے۔'' لیکن آج دو ارب تک پہنچنے والے مسلمان، لاکھوں تک پہنچنے والی مسلم افواج، پانچ درجن مسلمان ریاستیں، دنیا کے بہترین اَموال ونعم سے معمور مسلم سرزمینیں، عظیم تجارتی راستوں کی نگہبان مسلم حکومتیں ذلّت ورسوائی کو قبول کئے خوابِِ غفلت میں مدہوش ہیں۔ ان میں ایٹمی قوت پاکستان بھی ہے؛ وہ تیل جس سے دنیا کا پہیہ چلتا ہے، اس کی دولت سے مال مالا عرب ریاستیں بھی ہیں، اورصنعت وٹیکنالوجی کی حامل جنوب ایشیائی مسلم ممالک بھی ہیں۔ ان ممالک پرمسلط حکمرانوں کے محلات اور جاہ وحشم دیکھیں تو ماضی کے بادشاہوں کی شان وشوکت ہیچ نظر آئے ،لیکن ان سب کے ہوتے ہوئے، مسلم اُمّہ پر ذلّت ومسکنت مسلط کر دی گئی ہے۔ جب کسی قوم وملّت کی عظمت کو نشان کو سرنگوں کرنے کی ناروا کوششیں جاری ہوں تو اس قوم کے قائدین کا عزت وسربلندی کی جھوٹی علامتوں اور مصنوعی جاہ وحشم پر مطمئن ہونا جانا شرمناک نہیں تو اور کیا ہے!!
امام مالک کا فرمان بالکل درست ہے کہ دنیا میں ہر مسلمان کی شناخت ذاتِ رسالت مآب سے ہوتی ہے، آخرت میں بھی ان کا تعارف 'محمدی' ہوگا اور نبی کریمﷺ ہمارے ساتھ روزِ محشر پیش ہوکر ،ہماری کثرت پر فخر کریں گے، لیکن جب اپنی شناخت کی حفاظت سے اتنے زیادہ انسان اور اتنی بڑی افواج عاجز آجائیں تو پھر سمجھنا چاہئے کہ کہیں ضرور ایسا بدترین مغالطہ ہے جس میں اس دور کی اُمتِ محمدیؐہ گرفتار ہے۔ ظاہر ہے کہ یا تو مذکورہ بالا حقائق درست نہیں یا اسلام کےنام لیواؤں کا اپنے نبی سے محبت کا دعویٰ جھوٹا ہے!!
درحقیقت یہ وہی زمانہ ہے جب اسلام کاصرف نام اور قرآن کے صرف حروف باقی ہیں، اسلام اور قرآن پر عمل کرنے اور اُنہیں جاننے والے خال خال ہی ملتے ہیں۔ اکثر وبیشتر مسلمانوں کی صورتِ حال تو یہی ہے، مسلم عوام میں اسلامی شعور کی صورتِ حال قدرے بہتر ہے ،لیکن مسلم حکمران تو ملّی جذبہ اور غیرت وحمیت سے بالکل عاری ہیں۔ اس لحاظ سے فی زمانہ اسلام اور شعائرِ اسلام کی توہین دراصل مسلم حکمرانوں کی بے غیرتی اور بے حمیتی کا نوحہ ہے۔
آج بعض معذرت خواہانہ مسلم دانشور یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ ناموسِ رسالت اور توہین اسلام کی یہ مذموم کاروائیاں چند ایک کھلنڈرے اور نادان لوگوں کا فعل ہیں،یہی موقف مغربی حکمرانوں نے بھی اپنا رکھا ہے جبکہ یہ دعویٰ حقائق کے سراسر خلاف ہے۔ 2004ء میں جرمنی اخبارات میں کئی ایک رپورٹیں شائع ہوئیں جس میں بتایا گیا کہ ویٹی کن چرچ دنیا میں اسلام کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے بڑے پیمانے پر رقوم جمع کررہا ہے، اور اس فنڈ کو نبی کریمﷺ کی شخصیت کو مسخ کرنے کے لئے استعمال میں لایا جائے گا۔ پھر5 تا 8 مئی 2005ء کو جرمنی میں عیسائی عمائدین کا نمائندہ اجلاس ہوا جس میں امریکی دانشور گریفن ٹارپلے کے مطابق ، ڈنمارک کے اخبار جیلانڈر پوسٹن میں گستاخانہ کارٹون شائع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ خاکے ازاں بعد یورپی ممالک کی نصابی کتب میں بھی شائع کئے گئے۔ اٹلی کے ایک وزیر نے اس موقع پر خاکوں والی شرٹ تقسیم کرنے اور پہننے کا اعلان کیا۔ یورپی پارلیمنٹ نے ڈنمارک کے بائیکاٹ کو پورے یورپ کا بائیکاٹ قرار دیتے ہوئے اس مذموم اقدام کے خلاف یک جہتی اور تائید کی پوری قوت استعمال کی۔اسی پر بس نہیں بلکہ بہت سے اخبارات نے اس کی دیکھا دیکھی ان خاکوں کو بڑے پیمانے پر شائع کیا اور جیلانڈرپوسٹن کو تو باقاعدہ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ باشعور قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ اخبارات کسی قوم کے مجموعی رجحان کا عکاس ہوتے ہیں اور جب تک اس اقدام کے بارے رائے عامہ ہموار نہ پائی جائے اس وقت تک کوئی اخبار ایسا بڑا قدم نہیں اُٹھا سکتا۔ تازہ حالات میں ریاست ہائےمتحدہ امریکہ جہاں تسلسل سے اسلام مخالف اقدامات ہورہے ہیں، اس کا صدربھی لفظی مذمت پر اکتفا کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں قرار دیتا ہے کہ
''توہین آمیز فلم جیسے اقدامات کو روکنا ممکن نہیں، اس لئے اس فلم کے خلاف پرتشدد مظاہروں کا کوئی جواز نہیں۔ وہ ممالک جن میں مظاہرے ہورہے ہیں ، ان میں سفارتخانوں کے حفاظتی اقدامات بہتر کرنے کی بجائے احتجاج کا سلسلہ ختم کرنا ہوگا۔ کیونکہ آزادئ اظہار کے خلاف احتجاج کا کوئی جواز نہیں بنتا۔''
امریکی صدر کا یہ بیان اس طرزِفکر، حفاظت اور تائید کا بھرپور عکاس ہے جس سے فائدہ اُٹھا کر پیغمبر رحمتﷺ کی ناموس کو پامال کرنے کی مذموم کوشش جاری ہیں ۔یہ موقف اکیلے امریکی صدر کا ہی نہیں، بلکہ 2006ء میں پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ شانز دہم نے جرمنی کے دورہ کے موقع پر اسلام کے خلاف دریدہ دہنی یوں کی تھی کہ ''اسلام کا تصورِ جہاد خدا کے مقاصد اور فطرت کے خلاف ہے، اسلام تلوار کی نوک سے ہی پھیلا ہے، مسلمان وحشیانہ پن کے اندھیروں سے باہر نکلیں۔'' ظاہر ہے کہ مذہب اور ریاست کی نامور ترین شخصیات کے اس نوعیت کے بیانات کے بعد مغربی اقوام کے ان اقدامات کو کوئی نادان شخص ہی ، ان کے انفرادی فعل قرار دے کر اپنے آپ اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرے گا۔ پھر ان جرائم کےخلاف جو مضحکہ خیز سزائیں مغربی عدالتوں نے دی ہیں، یا اُن کو جس طرح وسیع پیمانے پر مغربی قوموں نے پھیلایا ہے، اور ابھی تک اپنے بد عزائم پر مُصر نظرآتے ہیں، اس سے ان کے قومی رجحانات پوری طرح آشکارا ہوجاتے ہیں۔
ستمبر2012ء میں یہودی لابی کی تائید سے تیار ہونے والی شانِ رسالت میں گستاخی پر مبنی فلم پر عالم اسلام میں شدید احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔11 ستمبر کو لیبیا میں امریکی سفیر کی ہلاکت سے لے کر، دنیا بھر کے امریکی سفارتخانوں کے سامنے کیا جانے والا مسلمانوں کا احتجاج ، اس غم وغصّہ کو ظاہر کرتا ہے جومسلم اُمّہ میں اس مکروہ فلم کے بارے پایا جاتا ہے۔ میڈیا پر چھائے ہوئے دانش ور ، اس احتجاج کے غیرموزوں اور نامناسب ہونے کا دُکھڑاروتے نظر آئے ،لیکن غالباً اُن کے مرعوب ذہنوں نے اس فلم پر احتجاج کے ذریعے مسلمانوں میں امریکہ کے خلاف پائی جانے والی شدید نفرت کا ادراک نہیں کیا۔امریکہ اپنی رعونت وبربریت کا جو اظہار کئی برسوں سے لگاتار کرتا چلا آرہا ہے، مسلم اُمّہ کے نوجوان اس کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، اس پر طرہ کہ امریکی پادری اور یہودی لابی کی دہشت گردی نے اس غم وغصّہ کو شعلہ جوالہ کردیا۔ جن لوگوں کو اس احتجاج میں شریک ہونے کا موقع ملا یا جو براہِ راست ان مناظر کو دیکھ پائے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ محمد عربیﷺ کے اُمّتیوں میں کیسا غم وغصّہ تھا ، جو وہ اپنے راستے میں آنے والی ہر امریکی علامت کو ختم کردینے پر تلے ہوئے تھے۔ مسلم دنیا میں ان دنوں ہونے والا احتجاج ، بظاہر اس فلم کے حوالے سے ہے، لیکن یہ درحقیقت امریکی جبر وبربریّت کے خلاف مسلمانوں میں پائے جانے والی شدید نفرت کا اظہار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی ادارے ،اس احتجاج کا باریک بینی سے جائزہ لیتے نظر آئے۔ حقوق انسانی کے بلند بانگ نعرے لگانے والی امریکی حکومت کو اپنے ہاں ہونے والی ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے حقوق کی کوئی پامالی اور ابلاغی دہشت گردی تو نظر آئی، اس حوالے سے اپنے کسی فرض کو تو اُس نے نہیں جانا ، لیکن اسے یہ دھمکی دینا ضرور یاد رہی کہ جن لوگوں نے امریکہ کے خلاف جذبات کا اظہار کیا ہے، اُن کا پورا نوٹس لیا جائے گا۔ یہی وہ رویہ ہے جس سے یہ صہیونی دہشت گردی جنم لے رہی ہے۔
اس موقع پر یہ تکلیف دہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ دیگر مسلم ممالک کی طرح پاکستان کے میڈیا پر بھی بے ضمیر اور بے دل لوگوں کا قبضہ ہے۔ یہاں کے میڈیا پر وہ لوگ چھائے ہوئے ہیں جنہیں غیرتِ ایمانی اور حبِ نبویؐ سے بہت کم حصہ نصیب ہوا ہے۔ پاکستانی میڈیا کے کارپردازوں کو لاکھوں افراد کی حبِ رسول سے معمور ریلیاں تو نظر نہیں آئیں، نہ ہی ان کو نمایاں کرنے کی اُسے کوئی توفیق ملی۔ اس انتشار پسند اور یہودیت نواز میڈیا کی ساری توجہ اس احتجاج کے مثبت پہلؤوں کو اُجاگر کرنے کی بجائے انتشار وہلاکت کی طرف منعطف رہی، گویا کہ احتجاج کے بارے یہ ایک طے شدہ روش تھی جس کا اظہارکیا گیا۔ یہ میڈیا ہی تھا جس نے پاکستان کے دل لاہور اور دیگر دسیوں پاکستانی شہروں میں ہونے والے منظّم وپرامن احتجاج کو نمایاں کرنے کی بجائے پوری توجہ لاہور کے امریکی قونصل خانے، اور کراچی وپشاور کی چند تخریبی کاروائیوں پر مرکوز رکھی۔ افسوس کہ فلم میں کی جانے والی بدترین دہشت گردی کو، احتجاج کی بے اعتدالیوں کے پردہ میں چھپانے کی کوشش کوئی مسلمان نہیں کرسکتا !!
میڈیا کا یہ تخریب پسند طبقہ اپنی شر پسند مزاج کی بنا پر ہر برائی کو ہی نمایاں کرتا اور ہر خیر کو معمول کا واقعہ سمجھ کر نظر انداز کرتا ہے۔ اسی کو سنسنی خیزی اور ابلاغی تخریب کاری قرار دیا جاتا ہے۔ کیا صرف احتجاج کا یہی بدنماچہرہ ہی کیمرہ فلیش کا مستحق ہے یا لاکھوں مسلمانوں کی پرامن ریلیاں بھی میڈیا کی کسی توجہ کا مستحق ہوسکتی اور کسی خبر کا عنوان بن سکتی تھیں۔ میڈیا کی یہی شرپسندی اور منتخب اخلاقیات ہیں کہ اسلام پسندی کا کوئی عظیم الشان مظہر تو خبر سے محروم رہتا ہے اور اسلام کے خلاف اُٹھنے والی معمولی سی کوتاہی بھی بریکنگ نیوز کے طورپر پھیلا دی جاتی ہے۔ یہ پاکستانی میڈیا ہی ہے جس کو امریکی فلم کی مذمت میں تو کچھ کہنے کی توفیق نہیں ملتی، لیکن اس کے خلاف احتجاج پر نت نئی رہنمائی اور تلقین ضرور نمایاں کردی جاتی ہے۔ اس میڈیا نے آسیہ مسیح، رمشا مسیح اور توہین اسلام کے متعدد واقعات کو پیش کرنے میں وہ دلچسپی نہیں دکھائی جتنی وہ اِن کی مذمت میں ہونے والی پروگراموں کی صورت پیش کررہا ہے۔پاکستانی میڈیا کے ذریعے احتجاج کے تلخ پہلووں کوہرجہت سے پیش کرکے، مسلم اُمّہ کے چہرے کو مسخ کیا گیا، لیکن کیا اس میڈیا کے ذریعے احتجاج کو منظّم ومؤثر کرنے کی کوئی تدبیر، کوئی رہنمائی اور کوئی مباحثہ ومکالمہ بھی دیکھنے کو ملا۔ میڈیا کایہی وہ رویہ ہے جس کی بنا پر احتجاجات میں تخریب کاری کا عنصر شامل کرنا نادانوں کے لئے ایک مجبوری بن جاتا ہے، کیونکہ اس کے بغیر میڈیا کی کوئی توجہ ہی حاصل نہیں ہوسکتی۔ ہتک آمیز فلم کے خلاف ہونے والی احتجاج کی غلط رپورٹنگ کو 'میڈیا کی تخریب کاری' قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
کیا میڈیا پر جلوہ افروز ہونے والے لوگ مسلمان نہیں کہ ناموسِ رسالت کا تحفظ ان کی بھی ذمّہ داری میں شامل ہو یا اس کی فکر بھی صرف متشرع مسلمانوں کو ہی کرنی ہے۔سوچنے کی بات ہے کہ کیا میڈیا سے وہ لوگ وابستہ نہیں ہیں، جنہوں نے اپنے ناموں کے ساتھ محمد عربی کا مبارک لفظ زیبِ عنوان کررکھا ہے؟ کیا اُنہیں محمد ﷺ سے کوئی تعلق نہیں اور کیا ان کا کوئی فریضہ نہیں کہ وہ اُمتِ اسلام کے ساتھ شانہ بشانہ چلیں۔ کیا اُنہیں شفاعتِ نبویؐ کے بغیر ہی حشر کا میدان عبور کرلینا ہے، پھر وہ اپنے فرض کو جانتے اور سمجھتے کیوں نہیں؟
اسلام کی رو سے ابلاغ کا مقصدلوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلانا اور انہیں اللہ کا بندہ بنانے کی جدوجہد کرنا ہے، تبلیغ، بلاغ اور ابلاغ ایک ہی جیسے مادہ سے مشتق الفاظ ہیں اور اس سے ابلاغ کی معنویت واضح ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف مغربی ابلاغ کا مقصد لوگوں میں خواہشاتِ نفس کو پروان چڑھانا، سنسنی خیزی کو رواج دینا، برائی وفحاشی کو زیبِ عنوان بنانا اور انسان کو نفس کا بندہ بنانا ہے۔ ہمارا سرکش میڈیا بعینہٖ اس یورپی ابلاغ کا چربہ اور کافرانہ نظریۂ ابلاغ کا عکاس ہے۔ اس میڈیا کا حقیقی چہرہ ان پاپا رازی فوٹو گرافروں کی صورت نظر آتا ہے جو کسی بھی حادثے کو انجام پانے سے بچانے کے بجائے ہرہرزاویے سے اس کی تصویر سازی کرنے اور اپنے چینل پر بریکنگ نیوز کے طورپر نشر کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ اگرمسلمانوں کے اربابِ ابلاغ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں تو ان کے پردہ وقرطاس سے وہ پیغام بآسانی اقوامِ عالم تک پہنچایا جاسکتا ہے جس کی اُمّتِ مسلمہ کواشد ضرورت ہے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمانوں کے مفاد پرست حکمرانوں کی طرح مسلمانوں کا میڈیا بھی زرپرست مالکان کے قبضے میں ہے، جن سے روپے پیسے کے ذریعے ہر شر کی تشہیر کروائی جاسکتی ہے۔پاکستانی میڈیا میں اس کی درجنوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔
نبئ اسلامﷺ اور شعائرِ اسلام کے خلاف اہانت وتمسخر کی اس بدترین مہم اور اس کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج سے ایک اور بات روزِ روشن کی طرح آشکار ا ہے کہ مسلم حکمرانوں اور مسلم عوام کے مابین خلیج وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ گہری سے گہری ہوتی جارہی ہے۔ مسلم عوام اسلام کے خلاف ہونے والے مظالم سے دل برداشتہ ہیں، لیکن ان کے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ستاون مسلم ممالک کی نمائندہ تنظیم او آئی سی کی حیثیت ایک مردہ گھوڑے سے زیادہ نہیں اور اسے اس الم ناک مرحلے پر ماضی کی طرح کسی بامقصد اقدام کی کوئی توفیق نہیں ہوئی، اس کی وجہ اس کے سوا کیا ہے کہ یہ تنظیم ان مفاد و زَرپرست حکمرانوں کی رہین منت ہے جن کے نزدیک ہر چیز پران کا ذاتی مفاد مقدم ہے۔ اگر ذاتی جاگیروں کی طرح پھیلی اُن کی حکومتوں پر کوئی زد پڑتی ہو تو اس تنظیم کے تن مردہ میں بھی انگڑائی اور بیداری کی کوئی لہر دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اسلام اور شعائر اسلام پر کوئی حملہ اُن کے لئے اس بنا پر قابل توجہ نہیں، کیونکہ اس سے ان سے آقائے ولی نعمت کی پیشانی پر شکن نمودار کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ یہ حکمران ہر لمحہ علما کو اتحاد کی تو بے جا تلقین کرتے نظر آتے ہیں جبکہ اس مرحلہ پر پوری اُمتِ محمدیہ متفق ومتحد ہے لیکن کاش ان حکمرانوں میں بھی اسلام نہیں تو کم ازکم نبی اسلامﷺ کی حرمت وناموس کے لئے کسی درجہ میں اتحاد ہوجائے تو دنیا کا کفر چند لمحوں میں ایسی شنیع حرکات سے توبہ کرلے۔اس وقت عالم اسلام کے سیاسی اتحاد کی ضرورت ہے!!
جس طرح کسی گھر کے مکین ہزار احتجاج کریں، کسی تعلیمی ادارے کے طلبہ اختلاف کا ہر اُسلوب اپنائیں ،لیکن ان کے بڑے اور نگران، اس انتشار وپریشانی کو متعلقہ اداروں تک منتقل نہ کریں تو اُس کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور یہ بے چینی اندر ہی گھٹ کر رہ جاتی ہے، اسی طرح مسلم ممالک کے عوام احتجاج و اختلاف سے باہم کٹ مرنے لگیں ،لیکن ان کے حکمرانوں کے لبوں سے کوئی حرفِ شکایت ادا نہ ہو تو اُن کی ساری مشقّت وکلفت بے کار اور ضائع ہو جاتی ہے۔بعینہٖ یہی صورتحال اُمتِ مسلمہ کی ہے۔ مسلمانوں کے اس احتجاج سے ہمارے دشمنوں کو اُمّہ میں پائی جانے والی بے چینی کا تو اندازہ ہوتا ہے، لیکن وہ بھی اس کمتر درجے میں کہ وہ اس کے مداوے کی تدبیر میں لگ جاتے ہیں۔ ان حالات میں سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ عوامُ الناس اپنے اضطراب کو کس طرح اپنے حکمرانوں اور دنیا تک پہنچائیں۔ شریفانہ احتجاج کو تومیڈیا خبرہی تسلیم نہیں کرتا، کجا یہ کہ اس کا کوئی اثر منتقل ہو۔ جب تک کوئی شرانگیزی نہ ہو اور بڑے پیمانے پر لوگوں کو پریشان نہ کیا جائے، حکام کو بھی کوئی فکر لاحق نہیں ہوتی۔ سچ ہے کہ بے مقصد اور بے فائدہ احتجاج بھی ، مغرب کے انہی کھوکھلے حقوق میں سے ایک ہے، جن سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے آج کسی بھی مذہب کی توہین کو اظہارِ رائے کا حق باور کرنے کا مغالطٰہ دیا جاتا ہے۔درحقیقت اہل کفر کی یہ دریدہ دہنی انہی تلخ حقائق کے ادراک کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے...!! ہمیں علم ہے کہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی طرف سے انبیاء ورسل کی اہانت پر قانون سازی کے نیم دلانہ مطالبے سے کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوگی، جب تک ملت کے بزعم خود قائدین ا س پر کوئی سنجیدہ پیش قدمی اور بامقصد دباؤ قائم نہ کریں گےاور کسی قانون سازی یا عالمی عدالتِ جرائم میں ایسے معاملات پر توجہ دیا جانا ایک خواب ہی رہے گا۔
بعض لوگ ان دنوں ، ناموسِ رسالت اور اسلام کے خلاف جاری حملوں پر علم وفضل اور دلائل کے انبار جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ درحقیقت اسلام اور شعائر اسلام کے خلاف جاری مغرب کی یہ جنگ، اُن کی اسلام سے نفرت وعداوت کا منہ بولتا اظہار ہے۔ مغرب میں خود برطانوی قانون میں، سیدنا عیسیٰ اوریہودی اقوام پر ہونے والے مزعومہ مظالم (ہولو کاسٹ) کی ایک مخصوص تعبیر کو تسلیم نہ کرنے پر کئی ایک سنگین سزائیں موجود ہیں۔ امریکی دستور اور مغربی قوانین کے جس نام نہاد تحفظ اورآزادئ اظہار کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے، انہی قوانین میں اس کی واضح حدود بھی موجود ہیں، راقم اپنے سابقہ مضامین میں تفصیل سے مغرب کے یہ دوغلے معیارات پیش کرچکا ہے۔ اور حال ہی میں مصر ولیبیا اور انڈیا و ملائشیا میں مغربی ویب سائٹوں کا اپنے صدر دفاتر سے بند کردیا جانا مغرب کی کھوکھلی پالیسی کو ہی ظاہر کرتا ہے۔ جن دنوں مغربی میڈیا اسلام کے خلاف اپنے خبثِ باطن کا اظہار کررہا ہے، انہی دنوں انہی مغربی ذرائع ابلاغ نے یہودیت کی ہمدردی میں ایسے تمام ہتک آمیز مواد کو منظر عام سے ہٹادیا ہے جن سے ان کی شرارت وخباثت کا بخوبی علم ہوجاتا ہے۔
مغرب میں ہتکِ عزت کے دفاع کا حق توہر شخص کو حاصل ہے، ازالۂ حیثیت عرفی کے لئے درجنوں قوانین موجود ہے، مغرب کا ظالم انسان ہر فرد کو تو اپنے عزت کے تحفظ کا حق دیتا ہے لیکن صد افسوس کہ جب اللہ کی برگزیدہ ہستیوں اور پیغمبران علیہم السلام کی بات آتی ہے تو یہ اہل مغرب اظہارِ رائے اور انسانی حقوق کی ہفوات شروع کردیتے ہیں۔دراصل یہ معرکہ مذہب اور اِلحاد کا ہے، جسے دھوکہ دینے کے لئے قوانین کی غلط تعبیر کا سہارا لیا جاتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی شخص کو بدنام کیا جائے تو اُس کے تحفظ کی بجائے اس کو انسانی حقوق کا چارٹر تھما دیا جائے گا۔ عین انہی دنوں برطانوی شاہی خاندان کی بعض نامناسب تصاویر شائع ہوئی ہیں تو ان کی جھوٹی عزت کے تحفظ کے لئے قانون حرکت میں آیا اور گرفتاریاں تک عمل میں آئی ہیں،اس موقعہ پر آزادی اظہار کا غلغلہ کیوں بلند نہیں کیا گیا؟ یہ مغرب کے مکار وعیار ذہن اور مغرب کے ٹکڑوں پر پلنے والا میڈیا کی کارستانی ہے جو تصویر کا محض ایک رخ پیش کرتا ہے!!
درحقیقت مغرب کا یہ مکروہ چہرہ ، اس کے اپنے نعروں: رواداری اور پرامن دنیا کی تکذیب ہے۔مذہبی شعائر اور شخصیات پر حملہ کسی مسلمان نے نہیں کیا، جس پر گذشتہ بیس سال کی گواہی کافی ہے اور نہ ہی یہ اسلام کی تعلیم ہے، دوسری طرف یہ دہشت گردی مغربی اقوام کے حصّے میں آئی ہے، اس سے بخوبی پتہ چل جاتاہے کہ دنیا کو خطرہ مسلمانوں کی بجائے اہل کفر کی دہشت گردی سے ہے جو نظریات وعقائد سے بڑھ کر اقوام وملل کے خلاف جارحیت وبربریت کا وتیرہ اپنائے ہوئے ہیں۔اسلام جس طرح جبر سے نہیں بلکہ اپنے پیغام کی بدولت پھیلا ہے اور غیرمسلموں نے اپنے مذاہب کو ترغیب وتحریص اور جبر وتشدد کےذریعے پروان چڑھایا ہے ، اسی طرح مغربی اقوام کی یہ موجودہ نسل بھی اسی ابلاغی جبر وقوت کا اظہارکرکے بزور اپنے نظریات کو ٹھونسنا چاہتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مغرب کی الحادی تعلیم سے فیض یافتہ مسلمان بھی ان حقائق کو جان اور سمجھ بوجھ لیں اور اہل مغرب کی اسلام سے نفرت و تعصّب اور دوہرے معیارات کا جائزہ لے کر اپنے فکر وذہن کی تشکیل نو کریں۔
مسلمانوں کےمغربی تعلیم یافتہ طبقے پر بخوبی واضح ہوجانا چاہئے کہ امن اور عزت بھیک مانگ کر یا رواداری اور انسانی حقوق کے مغربی مغالطوں کے ذریعے نہیں ملتی۔ امن وسلامتی کا اس کے سوا کوئی طریقہ نہیں کہ مخالف کو اپنی قوت سے ڈرا کر، اس پر رعب مسلط کرکےاُسےامن رہنے پر مجبور کیا جائے جسے قرآن نے ترہبون بہ عدو اللہ وعدوکم سے تعبیر کیا ہے، یہ حقیقت گو کہ کڑوی ہے لیکن مفادات کی اسیر دنیا کا ضابطہ کل بھی یہ تھا اور آج بھی یہی ہے۔ مغربی تہذیب اپنے عروج وکمال کے دور میں اپنے دعووں کی تکذیب خود اپنی زبان سے کررہی ہے اور اسلام کا نظریۂ امن درست ثابت ہورہا ہے۔ پھر بھی مسلمان نہ سمجھیں اور خوابِِ خرگوش کے مزے لیتے رہیں تو اہانت وتذلیل کا یہ سلسلہ کہیں نہیں رکے اور تھمے گا۔ (ڈاکٹر حافظ حسن مدنی)


حوالہ جات
1.  فَقَالَ: «كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى الله» (جامع ترمذی: 2928)

2. شاتمانِ رسول پر اللہ کی پکڑ کی تفصیلات جاننے کے لئے دیکھئے کتاب:' گستاخ رسول کی سز ا'از مولانا محمد منیر قمر

3. زاد المعاد از علامہ ابن قیم جوزیہ: 5؍59