ترجمان القرآن

اللہ کے بغیر دنیا میں کو ئی ما لک و مختار نہیں جو غیر اللہ کو مالک کہتے ہیں یہ کہنا مجازاًہے ۔یہ مجاز قرآن پاک میں بھی آیا ہے ۔

﴿إِنَّ اللَّهَ قَد بَعَثَ لَكُم طالوتَ مَلِكًا... ﴿٢٤٧﴾... سورةالبقرة

"اللہ نے تم پر طالو ت کو بادشاہ مقرر فر ما یا ہے ۔

﴿وَكانَ وَر‌اءَهُم مَلِكٌ...﴿٧٩﴾... سورة الكهف

"اور ان کے سامنے (کی طرف) بادشاہ تھا ۔

﴿وَجَعَلَكُم مُلوكًا﴾

"اور تمھیں بادشاہ بنایا ۔ "

بخاری ومسلم میں آیا ہے«مثل الملوك على الاسرة» اس آیت شریف میں بھی "مالك"کو "ملك"پڑھا گیا ہے دونوں طرح سے قرآت ثابت ہے اس دن کی تخصیص سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ اور دنوں کا مالک یاملک اللہ نہیں ہے اس لیے کہ پہلے کے لفظ ﴿رب العالمين﴾ فر ما دیا جو دنیا و آخرت دونوں کو شامل ہے اس آیت سے آخرت کا ہو نا ثابت ہو ا قیامت کا ہونا پایا گیا جو آخرت کا منکر ہے وہ کا فر ہے یہ لو ٹنا (آخرت) جسمانی ہے نہ کہ فقط رُوحانی اور اس دن اعمال کا حساب حقیقی ہو گا ۔خیالی اور مجازی نہ ہو گا ۔

﴿إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ ﴿٥﴾... سورةالفاتحة

"ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں ۔

اس آیت میں "جبر وقدر "دونوں کا رد ہے ،جمع کا صغیہ اس لیے ہے کہ اس جملے کا کہنے والا سارے عباد موحدین کی طرف سے خبر دیتا ہے اس لیے یہ نتیجہ بھی نکلا کہ جماعت کو پکڑے رکھے اور جماعت سے مراد اہل سنت ہیں ۔سنت کہتے ہیں حدیث کو عبادت ،اسعانت کا وسیلہ ہے اس لیے پہلے عبادت کا ذکر کیا پھر استعانت کا ،لفظ ﴿إِيّاكَ﴾کو لفظ ﴿ نَعبُدُ﴾اور ﴿ نَستَعينُ﴾ دونوں پر مقدم کیا اس سے حصر وقصر اور اختصاص عبادت اور استعانت باللہ کے ساتھ ہی مخصوص کیا گیا معلوم ہوا اللہ تعالیٰ کے علاوہ نہ کو ئی ذات لائق عبادت ہے اور نہ کو ئی مدد چاہنے کے لا ئق ہے جب پوجا کرے تو اللہ ہی کی کرے جب کا م میں مدد مانگے تو اللہ ہی سے مانگے ،

و ہ کیا ہے جو نہیں ہوتا خدا سے
جسے تم مانگتے ہو اولیا ءسے


عبادت کہتے ہیں انتہادرجے ذلت وخواری اختیار کرنے کو اور یہ ذلت و خواری سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کے لیے جا ئز نہیں عبودیت ،عبادت کا ایک ادنیٰ مرتبہ ہے استعانت یہ ہے کہ کسی سے کہا جا ئے کہ تم ہماری مدد کرو ہمارا کا بنا دو سو سارے دین کی چکی انہی دو اُمور کے گرد گھومتی ہے اس لیے بعض سلف نے کہا ہے کہ سورۃ فاتحہ سارے قرآن مجید کا بھید ہے اور فاتحہ کا بھید یہی دوکلمے ہیں کیونکہ پہلے کلمے میں شرک سے بیزاری ہے اور دوسرے کلمے میں ہر خوف اور قوت سے علیٰحدہ ہو کر اپنے ہر کا م کو اللہ عزوجل کے سپرد کرنا ہے یہ بات اور بھی بہت سی آیتوں میں آئی ہے ،جیسے

﴿فَاعبُدهُ وَتَوَكَّل عَلَيهِ...﴿١٢٣﴾... سورة هود

"تو اسی کی عبادت کرو اسی پر بھروسہ رکھو ۔"

﴿قُل هُوَ الرَّ‌حمـٰنُ ءامَنّا بِهِ وَعَلَيهِ تَوَكَّلنا...﴿٢٩﴾... سورةالملك

"کہہ دوکہ وہ جو( اللہ ) رحمٰن (ہے) ہم اسی پر ایمان لا ئے اور اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

﴿رَ‌بُّ المَشرِ‌قِ وَالمَغرِ‌بِ لا إِلـٰهَ إِلّا هُوَ فَاتَّخِذهُ وَكيلًا ﴿٩﴾... سورةالمزمل"(وہی )مشرق اور مغرب کا مالک (ہے) اور اس کے سوا کو ئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کار ساز بناؤ۔

اس سورت کے آغاز میں اللہ تعا لیٰ نے اپنی صفات حسنیٰ کے ذریعے اپنی ثناء فر ما ئی بندوں کو ارشاد فر ما یا کہ تم بھی اسی طرح اس کی ثناء اور صفت کیا کرو اس لیے جو شخص سورۃ فاتحہ پڑھنے پر قدرت رکھتا ہے مگر وہ اسے نہیں پڑھتا تو اسکی نماز صحیح نہیں ہو تی جس طرح صحیحین میں عُبادہَ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن صامت سے مرفوعًا آیا ہے اس شخص کی نماز نہیں ہو تی جس نے فاتحہ الکتاب نہیں پڑھی ۔ابن کثیر ؒ نے کہا ہے !عبادت ایک بڑا مقام ہے بند ے کو اس مقام سے شرف حاصل ہو تا ہے اس لیے کہ بندہ اللہ تعا لیٰ کی طرف سے منسُوب ہو تا ہے اللہ تعا لیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام بلند مقامات پر لفظ"عَبد"سے یاد کیا ہے جیسے : ﴿الحَمدُ لِلَّهِ الَّذى أَنزَلَ عَلىٰ عَبدِهِ الكِتـٰبَ...﴿١﴾... سورةالكهف

"سب تعریف خدا ہی کو ہے ،جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی"

دوسری جگہ فر ما یا : ﴿وَأَنَّهُ لَمّا قامَ عَبدُ اللَّهِ يَدعوهُ...﴿١٩﴾... سورةالجن

اور جب خدا کے بندے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کی عبادت کو کھڑے ہو ئے ۔" تیسری جگہ فر ما یا :

﴿سُبحـٰنَ الَّذى أَسر‌ىٰ بِعَبدِهِ...﴿١﴾... سورة الإسراء

"وہ ذات پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو )

اور فر مایا :﴿ فَأَوحىٰ إِلىٰ عَبدِهِ ما أَوحىٰ ﴿١٠﴾... سورةالنجم

"پھرخدا نے اپنے بندے کی طرف جو بھیجا سو بھیجا ۔"

غرض قرآن مجید کے نزول کے وقت دعوت دین کے اعلان کے وقت اور معراج اعلیٰ درجات میں عبد نام رکھا ۔اور جب مخالفوں کی تکذیب سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہو ئے تو فر ما یا تم عبادت میں قیام کرو ۔

﴿وَلَقَد نَعلَمُ أَنَّكَ يَضيقُ صَدرُ‌كَ بِما يَقولونَ ﴿٩٧﴾ فَسَبِّح بِحَمدِ رَ‌بِّكَ وَكُن مِنَ السّـٰجِدينَ ﴿٩٨﴾... سورة الحجر

"اور ہم جانتے ہیں کہ ان کی باتوں سے تمھارا دل تنگ ہو تا ہے تو تم اپنے پرودگار کی تسبیح کہتے اور اس کی خوبیاں بیان کرتے رہو اور سجدہ کرنے والوں میں داخل رہو۔

﴿وَاعبُد رَ‌بَّكَ حَتّىٰ يَأتِيَكَ اليَقينُ ﴿٩٩﴾... سورةالحجر

"اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے رہو یہاں تک کہ تمھاری موت کا وقت آجائے۔

صوفیاء کا یہ کہنا کہ عبادت حصول ثواب اور عذاب کو دور کرنے کے لیے بے فائدہ ہو تی ہے بلکہ ان کا کہنا ہے کہ عبادت صرف اس ذات پاک کی کرنی چاہیے جنت اور دوزخ سے کو ئی غرض نہ رکھے ،یہ بات صحیح نہیں ہے اعرابی والی حدیث میں آیا ہے کہ جب اس نے یہ کہا کہ مجھے آپ کا اور معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساگنگنانا نہیں آتا میں تو اللہ تعا لیٰ سے جنت مانگتا ہوں ،دوزخ سے پناہ چاہتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : «حولها ند ندن»

"یعنی ہم بھی تو اسی (جنت) کے گرد (کےلیے )گنگناتے ہیں ،اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا:

﴿يَدعونَ رَ‌بَّهُم خَوفًا وَطَمَعًا... ﴿١٦﴾... سورةالسجدة

"یعنی دوزخ کے ڈر اور جنت کی تمنا میں عبادت کرتے ہیں ۔

ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک لڑائی میں ہم سب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ،جب دشمن سے مُڈبھیڑ ہو ئی میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فر ما رہے تھے:

«يَا مَالِكِ يَومِ الدّينِ * إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ»

لو گ زمین پر گرتے ہیں فرشتے ان کو آگے پیچھے سے مارتے ہیں اس روایت کو بغوی ،مادردی نے کتاب "معرفہ الصحابہ میں طبرانی نے" اوسط"میں اور ابو نعیم نے "دلائل "میں ذکر کیا ہے اسی طرح کا ایک قصہ ہے کہ والی دمشق کا دشمن کے لشکر سے مقابلہ ہوا تو گھمسان کا رن پڑا اور بادشاہ نے کہا : یاَ خَالَدَ ابن وَلِیدِِ ابن تیمیہ ؒوہاں موجود تھے اور شریک جہاد تھے اُنھوں نے کہا تو یہ کیا کہتا ہے ؟بلکہ یُوں کہہ:

«يَا مَالِكِ يَومِ الدّينِ * إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ»

اُس نے اسی طرح کہا اللہ نے فتح دی ۔یہ برکت اُس کو اس کلمہ تو حید عبدت اور تفرید استعانت سے نصیب ہو ئی ۔

﴿اهدِنَا الصِّر‌ٰ‌طَ المُستَقيمَ ﴿٦﴾... سورة الفاتحة

"ہم کو سیدھے رستے پرچلا۔"

ہم کو مستقبل میں اسی طرح ہدایت نصیب فر ما جس طرح زمانہ حال میں ہدایت دی ہے اللہ نے فر مایا :

﴿وَالَّذينَ اهتَدَوا زادَهُم هُدًى...﴿١٧﴾... سورة محمد

"اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں ان کو ہدایت مزید بخشا ہے۔"

دوسری جگہ فر ما یا :

﴿وَالَّذينَ جـٰهَدوا فينا لَنَهدِيَنَّهُم سُبُلَنا...﴿٦٩﴾... سورة العنكبوت

"اور جن لو گوں نے ہمارے لیے کو شش کی ہم ان کو ضرور اپنے رستے دکھا دیں گے۔"

ہدایت کہتے ہیں راہ دکھا نے تو فیق دینے مطلب واضح کرنے اور نرمی کے ساتھ راستہ بتا نے کو جو انسان کو مطلب تک پہنچا دے مستقیم کہتے ہیں کسی چیز کے برابر اور سیدھا کرنے کو ابن کثیر ؒ نے کہا ہے کہ سارے مفسروں کا اس بات پر اجماع ہے کے صراط مستقیم وہ کھلا راستہ ہے جس میں کسی قسم کی کجی نہ ہو عرب کی ساری لغت میں اس کے یہی معنی ہیں یہاں سیدھے راستے سے مرادحق کا راستہ یعنی ملت اسلام کا راستہ ہے حدیث نورس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن سمعان میں بھی "صراط "کو اسلام فر ما یا ہے ابن کثیر ؒ نے اس کی سند کو حسن صحیح کہا ہے ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا صراط مستقیم سے مرادکتاب اللہ ہے یعنی ہم کو قرآن پر عمل کرنے کی تو فیق دے کسی نے کہا صراط مستقیم سے مراد طریقہ سنت و جماعت ہے یعنی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چلا ۔کسی نے کہا صراط مستقیم سے مراد راہ حج ہے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہمیں دین حق سکھا کسی نے کہا ہمیں جنت کے مستحقین کا راستہ دکھا پہلا قول سب سے زیادہ صحیح ہے ۔

اگر سب معنی مرد لیے جا ئیں تو بھی مانع کو ئی نہیں ہے ابن کثیرؒ کہتے ہیں مفسرین سلف و خلف کے "صراط "کے معنی اگر چہ مختلف ہیں لیکن حاصل سب کا یہی ایک بات ہے کہ اللہ و رسول کا اتباع ۔ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں صراط مستقیم وہ راستہ ہے جس پر ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا :

﴿صِر‌ٰ‌طَ الَّذينَ أَنعَمتَ عَلَيهِم﴾

"ان لو گوں کے رستے جن پر تو اپنا فضل و کرم کرتا رہا۔"

اُن لوگوں سے مراد چار قسم کے لوگ ہیں جن کا ذکر سورۃ نساء میں ہے ۔

﴿وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّ‌سولَ فَأُولـٰئِكَ مَعَ الَّذينَ أَنعَمَ اللَّهُ عَلَيهِم مِنَ النَّبِيّـۧنَ وَالصِّدّيقينَ وَالشُّهَداءِ وَالصّـٰلِحينَ ۚ وَحَسُنَ أُولـٰئِكَ رَ‌فيقًا ﴿٦٩﴾... سورةالنساء

"اور جولوگ اللہ اور اس کےرسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ قیامت کے دن ان لوگوں کے ساتھ ہوگے دین پر اللہ نے بڑافضل کیا یعنی انبیاؑء اور صدیق اورشہید اور نیک لوگ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے۔"

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اس سے مراد موسیٰؑ اور عیسیٰؑکی قوم ہے جنھوں نے اپنے دین حق کو نہیں چھوڑا یا مراد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین اہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو صاحب صدق وصفاء ہیں یا انبیاؑء یا سارے ایماندار افراد ہیں پہلا قول اولیٰ ہے اس آیت میں اس بات کا اشارہ ہے کہ سلف صالحین کا مقتدی بننا اچھا ہو تا ہے سواقتدء اور چیز ہے اور تقلید دوسری چیز اللہ نے فر ما یا :

﴿فَبِهُدىٰهُمُ اقتَدِه﴾

"تو تم ان کی ہدایت کی پیروی کرو ۔"

اُن کے راستے پر چل یعنی جس طرح وہ موحد اور دیندار تھے اسی طرح آپ بھی موحد اور حق پرست بن جا ئیں ۔

﴿غَيرِ‌ المَغضوبِ عَلَيهِم وَلَا الضّالّينَ ﴿٧﴾... سورةالفاتحة

"نہ اُن کے جن پر غصہ ہو تا رہا اور نہ گمراہوں کے۔"

طویل حدیث عدیؒ بن حاتم میں مرفوعاً ہے کہ ﴿المَغضوبِ عَلَيهِم﴾"یہود اور﴿الضّالّينَ﴾ "نصاریٰ ہیں اسے (احمدؒ) نے روایت کیا ہے ترمذیؒ نے اس کی تحسین کی اسی طرح حدیث ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں ابن مردویہؒ سے اسی آیت کی یہ تفسیر آئی ہے یہی قول سارے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین اور مفسرین کا ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں قرطبیؒ نے کہا اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ اُن کی بدعت کے سبب اُن پر ناراض ہوا اور وہ سنت سے بہک گئے کسی نے کہا اس میں سارے کا فر عاصی اور بدعتی شامل ہیں لیکن صحیح بات وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما ئی ہے کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں اُن کا طریقہ اہل ایمان کے طریقے سے جدا ہے اہل ایمان کا طریقہ علم حق اور صالح عمل دونوں پر حادی ہے یہود نے عمل نہ کیا نصاری کو علم نہ ہوا اس لیے یہود پر غصہ کیا گیا اور نصاریٰ بہکا دئیے گئے کیونکہ جو شخص عالم ہو کر ترک ہے وہ غضب کا مستحق ٹھہرتا ہے اس شخص کے برعکس جسے سرے سے کچھ علم ہی حاصل نہ ہوا جاہل رہا نصاریٰ نے حق دریافت کرنے کا ارادہ کیا تھا مگر راستہ نہ ملا اتباع حق نصیب نہ ہوا اور گمراہ ہو کر رہ گئے اگرچہ یہود و نصاریٰ دونوں ہی گمراہ اور مغضوب ہیں لیکن یہود کا خاص وصف اللہ تعا لیٰ کے غضب سے ہے جس طرح اللہ نے فر ما یا :

﴿مَن لَعَنَهُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيهِ...﴿٦٠﴾... سورة المائدة

"وہ لوگ جن پر خدا نے لعنت کی اور جن پر وہ غضب ناک ہوا ۔"

﴿فَباءو بِغَضَبٍ عَلىٰ غَضَبٍ...﴿٩٠﴾... سورةالبقرة

"تو وہ (اسکے ) غضب میں مبتلاہو گئے ۔"

اور نصاریٰ کا وصف خاص ضلالت ہے جس طرح ارشاد فر ما یا

﴿وَلا تَتَّبِعوا أَهواءَ قَومٍ قَد ضَلّوا مِن قَبلُ وَأَضَلّوا كَثيرً‌ا وَضَلّوا عَن سَواءِ السَّبيلِ ﴿٧٧﴾ لُعِنَ الَّذينَ كَفَر‌وا مِن بَنى إِسر‌ٰ‌ءيلَ عَلىٰ لِسانِ داوۥدَ وَعيسَى ابنِ مَر‌يَمَ ذ‌ٰلِكَ بِما عَصَوا وَكانوا يَعتَدونَ ﴿٧٨﴾ كانوا لا يَتَناهَونَ عَن مُنكَرٍ‌ فَعَلوهُ لَبِئسَ ما كانوا يَفعَلونَ ﴿٧٩﴾... سورة المائدة

"اور ایسے لوگوں کی خواہش کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی ) پہلے گمراہ ہو ئے اور اور بھی اکثروں کو گمراہ کر گئے اور سید ھے راستے سے بھٹک گئے جو لوگ بنی اسرائیل میں کا فر ہو ئے ان پر داؤدؑ اور عیسیٰؑ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی یہ اس لیے نافر مانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کئے جا تے تھے اور برے کا موں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو نہ روکتے تھے بلاشبہ وہ برا کرتے تھے ۔"معلوم ہوا کہ "﴿مغضوب عليم﴾اور ﴿ضالين﴾ کی تفسیر احادیث و آثار سے قطع نظر خود کلام اللہ سے بھی یہی ثابت ہے ۔اس سورت کا آغاز "حمد ہے اور سورت کا آخر "ذم "ہے اس سے معلوم ہوا کہ نیکیوں کی بنیاد اور سعادت کا حصول اللہ تعا لیٰ کی طرف تو جہ کرنے سے ہے اور تمام آفات کی جڑ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت اُن سے دور رہنا اور اللہ کی اطاعت اور عبادت سے منہ پھیرنے کا انجام غضب اور گمراہی ہے اس سورت میں چار قسم کے علوم کا ذکر ہوا ۔ایک علم اصول ہے جو "الحمد اللہ "سے لے کر "رحیم "تک موجود ہے ﴿ أَنعَمتَ عَلَيهِم ﴾ سے نبوت کی معرفت کا پتہ دیا ہے ﴿مـٰلِكِ يَومِ الدّينِ﴾سے آخرت ثابت ہو تی ہے ۔دوسرا علم فروع ہے اس علم میں سب سے بڑی چیز عبادت ہے مالی ہو یا بدنی سودہ﴿ إِيّاكَ نَعبُدُ﴾ سے ثابت ہو تی ہے ،

تیسرا علم اخلاق ہے وہ ﴿إِيّاكَ نَستَعينُ﴾ سے﴿ مُستَقيمَ ﴾ تک پایا جا تا ہے ۔

چوتھا علم تاریخ ہے گزشتہ اُمتوں میں سے کو ن "سعید "تھا کو ن "شقی "وہ ﴿أَنعَمتَ عَلَيهِم﴾سے ﴿وَلَا الضّالّينَ﴾تک دریافت ہو تا ہے امام غزالیؒ ااور امام رازیؒ نے اس سورت سے دس ہزار مسئلے نکالے ہیں اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجیدکے نزول کا سب سے بنیادی مقصد اخلاص تو حید اور شرک سے تمام واسطے کا ٹ دینا ہے یہ بات ایسی واضح ہے کہ یہاں مختلف اقوال کے نقل کی ضرورت نہیں سورۃ فاتحہ پر غور و فکر کرنے سے یہ بات واضح ہو جا ئے گی کہ اخلاص تو حید کا حکم تیس مقامات پر پایا جا تا ہے اس کی تفصیل "فتح البیان "اور "دین خالص " میں موجود ہے ابن کثیر ؒ نے کہا ہے کہ علماء کا یہ مذہب صحیح ہے کہ جو خلل"ض"اور "ظ"کے درمیان ہو جا تا ہے ہے وہ معاف ہے اس لیے کہ مخرج دونوں کا ایک دوسرے سے قریب ہے "ض"اول "حافئہ زبان "اور "اضراس" سے نکلتا ہے "ظ" نوک زبان اور اطراف ثنایا سے بر آمد ہو تا ہے دونوں حروف اقسام مجہورہ مدخوہ مطبقہ "سے ہیں اس لیے استعمال ایک حرف کا دوسرے حرف کی جگہ اُس آدمی کے لیے جس کو ان کی تمیز نہیں قابل معافی ہے اور حدیث"انا افصح من نطق بالضاد"وہ بے اصل ہے۔

اس سورت کی سات آیات ہیں باوجود اس اختصار کے کہ اس میں اللہ کی حمدو تمجید اور ثناء ہے "اسمائے حسنیٰ "اور صفات عا لیہ کا بیان ہے آخرت کا ذکر ہے بندوں کو ارشاد ہے کہ وہ ہر قسم کے ڈرا ور قوت سے بری ہو کر اللہ سے سوال اور اس کے سامنے عاجزی کریں تو حید الوہیت توحید ربوبیت اور اخلاص عبادت اپنائیں ،اللہ کو ہر قسم کے شریک نظیر اور مماثل سے پاک جا نیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رہنے کی دعا مانگیں یہاں تک کہ انہیں جنت میں انبیاؑء صدقین شہداء اور صالحین کی ہمسا ئیگی نصیب ہو اس سورت میں اعمال صالحہ کی تر غیب ہے تاکہ قیامت کے دن صالح لوگوں کا ساتھ ہو اس سورت میں ترہیب ہے ہر قسم کے باطل مذہب سے تاکہ قیامت کے دن اہل باطل کے ساتھ نہ اُٹھیں ۔انعام ایک اچھی چیز ہے اس لیے اللہ نے اس کی نسبت اپنی طرف کی اور غضب اور ضلالت بری چیز ہے اس لیے ان کے فاعل کا ذکر نہ کیا اگرچہ حقیقت میں دونوں کا فاعل اللہ ہی ہے جیسے فر ما یا :

﴿ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِم﴾

"اور اُن پر غصے ہوا ۔"

﴿ وَمَن يُضلِل فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُر‌شِدًا ﴿١٧﴾... سورةالكهف

"اور جس کو گمرا ہ کیا تو تم اس کے لیے کو ئی دوست راہ بتانے والا نہ پاؤگے

﴿ مَن يُضلِلِ اللَّهُ فَلا هادِىَ لَهُ...﴿١٨٦﴾... سورة الاعراف

"جس شخص کو اللہ گمراہ کرے اس کو کو ئی ہدایت دینے والا نہیں ۔"

اس طرح کی اور بھی آیتیں ہیں جن سے یہ بات بخوبی ثابت ہو تی ہے کہ ہدایت اور ضلات اللہ ہی کے ہاتھ ہے قدر یہ نقطہ نظر غلط ہے اُن کا کہنا ہے کہ بندے اپنے کام میں مختار ہیں جو چاہیں سو کریں وہ متشابہہ آیات سے دلیل لا تے ہیں اور جو آیتیں صریحاً ان کی تردید کرتی ہیں انکو چھوڑ دیتے ہیں سارے گمراہین کا یہی حال ہے صحیح حدیث میں آیا ہے کہ ۔

جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہہ آیا ت کی جستجوکرتے ہیں تو اُن سے بچو ۔کہ اللہ نے انہیں کا نا م لیا ہے ،:

ابن کثیر ؒ کہتے ہیں ﴿ الحَمدُ لِلَّهِ﴾قرآن میں کو ئی صحیح حجت کسی بدعتی کے لیے نہیں ہے قرآن آیا ہی نہیں ہے قرآن آیا ہی حق کو باطل سے جدا کرنے اور ضلالت کو ہدایت سے علیٰحد ہ کرنے کے لیے اس میں کو ئی تضادو اختلاف نہیں ہے ۔

﴿ تَنزيلٌ مِن حَكيمٍ حَميدٍ ﴿٤٢﴾... سورة فصلت

"وہ دانا خوبیوں والے (اللہ ) کی اتاری ہو ئی ہے ،"(جاری ہے)