مروّجہ اسلامی بینکوں میں رائج مضاربہ کی شرعی حیثیت

﴿وَإِنَّ كَثيرً‌ا مِنَ الخُلَطاءِ لَيَبغى بَعضُهُم عَلىٰ بَعضٍ إِلَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ وَقَليلٌ ما هُم...٢٤﴾... سورة ص

''اور اکثر شراکت دار ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان دار ہوں اور نیک عمل کرتے ہوں اور ایسے لوگ کم ہی ہیں۔''

یہ امر واضح ہے کہ روپے پیسے میں اضافہ کرنے اور اسے بڑھانے کے لئے اسے کسی کاروبار میں لگانا ضروری ہے۔ اگرکسی شخص کے پاس دس لاکھ روپیہ موجود ہو اور وہ اسے کسی کاروبار میں نہ لگائے تو وہ دس سال کے بعد بھی دس لاکھ ہی رہے گا ،اس کو دس لاکھ پچاس ہزار کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس سے کوئی کاروبارکیاجائے اور کسی مصرف میں لایا جائے۔

اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں بے شمار ایسے لوگ موجود ہیں اور ہر دور میں رہے ہیں جن کے پاس سرمایہ تو موجود ہوتا ہے مگر وہ کاروبار کی صلاحیت نہیں رکھتے یا وہ کاروبار کرنا ہی نہیں چاہتے اور دوسری طرف ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کاروباری مہارت تو رکھتے لیکن اُن کے پاس سرمایہ نہیں ہوتا، لہٰذا ایک ایسے نظام کی ضرورت تھی جس سے یہ مقصد حاصل ہوسکے؛ یعنی جن لوگوں کے پاس سرمایہ نہیں، وہ ان لوگوں سے سرمایہ لے کر اس سے کاروبار کرسکیں یا ایسے لوگوں کی مدد سے اپنے پہلے سے جاری کاروبار کو ترقی دے سکیں جن کے پاس اپنی ضرورت سے زائد سرمایہ موجود ہو اور اس کا فائدہ سرمایہ کار کو بھی پہنچے۔

ظہورِ اسلام سے قبل عرب معاشرے میں اس کی دو صورتیں رائج تھیں:

1. سرمایہ دار ضرورت مند کو سرمایہ دے کر اس کا ایک طے شدہ کرایہ وصول کرتا ۔ اسلام کی نگاہ میں یہ طریقہ سرا سر باطل اور حرام ہے، کیونکہ روپیہ پیسہ ایسی چیز نہیں جس کا کرایہ لیا جاسکے ،لہٰذا قرآن نے اِسے سود قرار دے کر اس پر پابندی عائد کر دی ۔

2. سرمایہ دار اس شرط پر سرمایہ دیتا کہ کاروبار سے جو منافع حاصل ہوگا، وہ اس کے اور کاروباری فریق کے درمیان ایک طے شدہ تناسب (Ratio)سے تقسیم ہوگا ۔اس طریقِ کار کو مضاربہ کہاجاتا ہے جس کا لغوی معنی ہے :''سفر کرنا ''اور اس کا نام مضاربہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ کاروباری فریق اپنی سفری کوشش اور محنت کے بدلے نفع کا حق دار بنتا ہے۔ مضاربہ میں چونکہ سرمایہ کار اپنے مال کا کچھ حصہ الگ کر کے دوسرے فریق کے حوالے کر دیتا ہے، اس لئے بعض اہل علم اسے قراض یامقارضہ بھی کہتے ہیں جس کا معنی ہے ' کاٹنا'۔ اسلامی شریعت نے بھی اس طریقہ کار کو برقرار رکھا ہے اور بعض شرائط اور پابندیوں کے ساتھ اس کی اجازت دی ہے۔حضور نبی اکرمﷺنے خود بھی بعثت سے قبل حضرت خدیجۃ الکبریؓ کے مال سے مضاربت کی بنیاد پر تجارت کی تھی اور بہت سے صحابہ کرام نے مضاربہ کی بنیاد پر کاروبار کئے۔

مضاربہ کے بارے میں احادیثِ نبویؐہ

کتبِ حدیث میں ہمیں مضاربہ کے متعلق درج ذیل روایات ملتی ہیں:

1. سنن ابن ماجہ میں سیدنا صہیب سے مروی ہے کہ نبیﷺنے فرمایا :

«ثَلاَثٌ فِیهِنَّ الْبَرَکَةُ: الْبَیْعُ إِلَى أَجَلٍ وَالْمقَارَضَةُ وَاخْلاَطُ الْبُرِّ بِالشَّعِیرِ لِلْبَیْتِ لاَ لِلْبَیْعِ»

''تین چیزوں میں برکت ہیں:معینہ مدت کے لئے اُدھار فروخت کرنا۔مضاربہ کی بنیاد پر کسی کو مال دینا ۔گھریلو ضرورت کے لئے گندم میں جو کی ملاوٹ کرنا... نہ کہ بیچنے کے لئے (ایسا کرنا جائز نہیں)۔''

2. سنن بیہقی میں حضرت عباس جو آپﷺکے چچا ہے کے بارے میں منقول ہے :

«إِذَا دَفَعَ مَالاً مُضَارَبَةً اشْتَرَطَ عَلَى صَاحِبِهِ أَنْ لاَ يَسْلُكَ بِهِ بَحْرًا وَلاَ يَنْزِلَ بِهِ وَادِيًا وَلاَ يَشْتَرِىَ بِهِ ذَاتَ كَبِدٍ رَطْبَةٍ فَإِنْ فَعَلَ فَهُوَ ضَامِنٌ فَرُفِعَ شَرْطُهُ إِلَىٰ رَسُولِ الله ﷺ فَأَجَازَهُ»

''جب وہ کسی کو وہ مضاربت پر مال دیتے تو یہ شرط لگاتے کہ وہ یہ مال سمندر میں نہیں لے جا سکتا اورکسی وادی میں بھی نہیں لے جائے گا اور نہ اِس سے جانور خریدے گا۔ اگر اُس نے ایسا کیا تو نقصان کا ضامن وہ خود ہوگا۔ ان کی یہ شرط رسول اللّٰہﷺکے سامنے پیش کی گئی تو آپ نے اس کی اجازت دے دی۔''

تاہم یاد رہے کہ سند کے لحاظ سے مذکورہ بالا دونوں روایات ضعیف ہیں۔

3. سیدنا حکیم بن حزام بھی انہی شرائط کے ساتھ مضاربت پر مال دیا کرتے تھے۔

4. سیدنا عثمان نے بھی مضاربہ کی بنیاد پر مال دیاتھا ۔

5. حضرت عمر کے صاحبزادے عبداللّٰہ اور عبیداللّٰہ ایک لشکر کے ساتھ عراق گئے ۔ جب وہ واپس آرہے تھے تو اُن کی ملاقات بصرہ کے گورنر ابوموسی اشعری سے ہوئی ،اُنہوں نے کہا کہ میری یہ خواہش ہے کہ تمھیں کوئی فائدہ پہنچا سکوں ۔میرے پاس بیت المال کا کچھ مال ہے جو میں مدینہ منورہ میں امیر المؤمنین کی خدمت میں بھیجنا چاہتا ہوں ، میں وہ مال تمھیں بطورِ قرض دے دیتا ہوں تم یہاں سے کچھ سامان خرید لو اور مدینہ منورہ میں وہ سامان بیچ کر اصل سرمایہ بیت المال میں جمع کرا دینا اور نفع خود رکھ لینا ۔ چنانچہ اُنہوں نے ایسا ہی کیالیکن حضرت عمر اس پر راضی نہ ہوئے اور اُنہوں نے اسے مضاربہ قرار دے کر اصل سرمائے کے علاوہ اُن سے آدھا نفع بھی وصول کیا۔

6. سنن بیہقی اور مصنّف ابن ابی شیبہ میں ہے کہ حضرت علی نے فرمایا :

''مضاربہ میں ہر سرمایہ کار اپنے سرمائے کے تناسب سے نقصان برداشت کرے گا اور منافع طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم ہوگا۔''

مضاربہ کے اُصول وضوابط

مضاربہ میں دوفریق ہوتے ہیں :

1. ایک کاروبار کے لئے سرمایہ فراہم کرنے والاجسے ربّ المال کہاجاتا ہے۔

2. دوسرا کاروبار کرنے والا فریق جسے 'مضارب' کہتے ہیں۔

ربّ المال یعنی سرمایہ فراہم کرنے والا براہِ راست کاروبار یا انتظام کاروبار میں حصہ تو نہیں لے سکتا، البتہ اسے کاروباری پالیسیوں کے متعلق اعتماد میں لینا، حسابات کی تفاصیل معلوم کر نا اور کاروبار کی مناسب نگرانی کرنااس کا بنیادی حق ہے تاکہ مضارب بددیانتی اور غفلت کامرتکب نہ ہو جس سے کسی عالم ، فقیہ اور مجتہد کواختلاف نہیں، کیونکہ یہ دونوں کاروبار میں ایک دوسرے کے شریک ہیں کہ ایک کی محنت اور دوسرے کا سرمایہ شامل ہے لہٰذا انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ سرمایہ کار کو کاروبار کی نگرانی اور اس بات کو یقینی بنانے کااختیار دیاجائے کہ مضارب اپنا فرض پوری دیانت داری سے ادا کر رہا ہے یا نہیں اور اگر عقلی لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی ہے کہ ایک شخص نے خطیر رقم دی ہو اور اسے کاروبار سے بالکل ہی الگ تھلگ رکھاجائے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب امام مالک ﷫سے یہ پوچھاگیا :

''ایک شخص نے دوسرے کو مضاربت پر مال دیا ،اُس نے محنت کی جس کے نتیجے میں اسے منافع حاصل ہوا ۔اب مضارب یہ چاہتا ہے کہ وہ سرمایہ کار کی غیر موجودگی میں منافع سے اپنا حصّہ وصول کر لے تو کیایہ درست ہے ؟ اس پرامام مالک﷫نے فرمایا :

"لاَ یَنْبَغِی لَهُ أَنْ یَأْخُذَ مِنْهُ شَیْئًا إِلاَّ بِحَضْرَةِ صَاحِبِ الْمَالِ"

''جب تک ربّ المال موقع پر موجود نہ ہو مضارب کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ منافع سے اپنا حصّہ وصول کرے ۔''

مروّجہ اسلامی بینکوں میں کرنٹ اکاؤنٹس کے علاوہ بقیہ تمام اکاؤنٹس عام طور پر مضاربہ کی بنیاد پر ہی کھولے جاتے ہیں یعنی بینک میں رقم رکھنے والے ربّ المال اور بینک مضارب ہوتا ہے لیکن کسی بھی اسلامی بینک میں اس اُصول پر عمل نہیں کیا جاتا بلکہ ہر اسلامی بینک کے 'اکاؤنٹ اوپننگ فارم' میں یہ عبارت درج ہوتی ہے:

''بینک کی جانب سے متعین کردہ کوئی بھی رقم بطورِ نفع یا نقصان حتمی ہو گی اور تمام صارفین اس کے پابند ہوں گے ۔کسی صارف کو یہ حق حاصل نہیں ہو گا کہ ایسے نفع یا نقصان کے تعین کی بنیاد کے بارے میں سوال کرے ۔''

بینک کی طرف سے اکاؤنٹ ہولڈر پر یہ پابندی عائد کرنا عدل وانصاف کے منافی اور ربّ المال کی حق تلفی ہے۔اس ناروا شرط کا ہی نتیجہ ہے کہ اسلامی بینکوں کے منافع میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے مگر سرمایہ جمع کرانے والے (ڈپازٹرز) کے منافع کی شرح وہی ہے حتیٰ کہ بعض اسلامی بینکوں کے منافع میں ایک سال کے دوران ایک سو چھ فیصد تک اضافہ ہوا ہے، لیکن ڈپازٹر ز کے منافع میں اس حساب سے اضافہ نہیں کیاگیا ،صرف ایک آدھ فیصد اوپر نیچے کیاجاتا ہے جو کہ سرا سر زیادتی ہے ۔اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ مروّجہ اسلامی بنک بد دیانتی کے مرتکب ہیں اور ان میں رائج مضاربہ حقیقی معنوں میں 'اسلامی مضاربہ' نہیں ہے ۔

دوسرا اُصول

مضاربہ کے صحیح ہونے کا دوسرا اُصول یہ ہے کہ فریقین بالکل شروع میں ہی منافع کے تقسیم کی شرح طے کر لیں یعنی یہ فیصلہ کر لیں کہ منافع سرمایہ کار اور مضارب میں مساوی تقسیم ہوگا یا سرمایہ کار منافع کے ساٹھ فیصد کا اور مضارب چالیس فیصد کا حق دار ہو گا، کیونکہ مضاربہ میں منافع ہی معقود علیہ ہوتا ہے اور اگر یہ مجہول ہو تو مضاربہ فاسد ہو گا ۔ جیسا کہ اسلامی بینکنگ کیلئے اسلامی ماہرین کے طے کردہ ضوابط پر مشتمل کتاب المعاییر الشرعية میں ہے :

"یشترط في الربح أن تکون کیفیة توزیعه معلومة علمًا نافیا للجهالة ومانعًا للمنازعة"

''منافع میں یہ شرط ہے کہ اس کی تقسیم کی کیفیت اس طرح معلوم ہو کہ اس میں کوئی بے خبری اور نزاع کا امکان باقی نہ ہو۔''

جب کہ مروّجہ اسلامی بینکوں میں اکاؤنٹ کھولتے وقت منافع کے تقسیم کی شرح بالکل واضح نہیں کی جاتی بلکہ بینک اس کااعلان مضاربہ شروع ہونے کے بعد کرتاہے ۔چنانچہ اسلامی بینکوں کے اکاؤنٹ اوپننگ فارم میں یہ عبارت درج ہوتی ہے :

''بینک ڈپازٹر کے ساتھ کاروبار سے حاصل ہونے والے اجمالی نفع (Gross Income) میں اس شرح سے شریک ہوگا جس کااعلان بینک نے ہر مہینے یاعرصے کے آغاز میں کیاہوگا ۔ بینک کا حصہ وقتاً فوقتاً تبدیل ہوسکتا ہے اور اس کا بھی متعلقہ مہینے یاعرصے کے پہلے ہفتے کے اندر اندر اَوزان کے ساتھ اعلان کیاجائے گا ۔''

اس سے یہ ثابت ہوا کہ مروّجہ اسلامی بینکوں میں مضاربہ شروع کرتے وقت منافع کے تقسیم کی شرح معلوم نہیں ہوتی بلکہ بعد میں بتائی جاتی ہے اور بینک جب چاہے اس کو تبدیل بھی کر سکتا ہے جس سے مضاربہ باطل ہوجاتا ہے۔

تیسرا اُصول

شرعی نقطۂ نظر سے مضاربہ کے معاہدہ میں سرمایہ کارکا حق فائق ہوتا ہے یعنی وہ مضارب پر کسی مخصوص شخص یا کمپنی کے ساتھ لین دین کرنے یا کسی خاص جگہ پر کاروبار کرنے کی پابندی عائد کر سکتا ہے اور ان اشیا کا تعین بھی کر سکتا ہے جن کے علاوہ تجارت نہیں کی جاسکتی اور اگر مضارب اس کی ہدایات پر عمل نہ کرے تو وہ سرمایہ کار کے سرمائے کا ذمہ دار ہوگا جیساکہ حضرت حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ جب وہ کسی کو مضاربہ پر مال دیتے تو یہ شرط عائد کرتے:

"أن لاتجعل مالي في کبد رطبة ولا تحمله في بحر ولاتنزله به في بطن مسیل، فإن فعلتً شیئًا من ذلك فقد ضمنت مالي"

'' میرے مال سے جانور نہیں خریدوگے اور نہ اس سے سمندر اور کسی وادی میں تجارت کرو گے اور اگر تم نے ایسا کیا تو میرے مال کے نقصان کی ذمہ داری تم پر ہوگی ۔''

مروّجہ اسلامی بینکوں کے کھاتے داران اس حوالے سے بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ان کا کام صرف رقوم جمع کرانا ہے۔ ان رقوم سے کونسا کاروبار کرنا ہے یا بینک اس کو کہاں استعمال کرے گا ؟یہ بنک انتظامیہ کی اپنی صوابدید پر منحصر ہے،کھاتے دارن اس کے بارے میں کوئی رائے نہیں دے سکتے ۔چنانچہ ہر 'بزعم خود' اسلامی بینک کے اکاؤنٹ اوپننگ فارم میں یہ صراحت ہوتی ہے :

''بینک بحیثیتِ مضارب اپنی صوابدید پر صارفین سے وصول شدہ رقم کی سرمایہ کاری وعدم سرمایہ کاری کسی بھی کاروبار ( کاروبار ، ٹرانزیکشن ،پروڈکٹ) میں کرسکتا ہے جو بینک کے 'شریعہ ایڈوائزر' سے منظور شدہ ہو ۔''

یہ درست ہے کہ سرمایہ کار مضارب کو یہ اختیار دے سکتا ہے کہ وہ جس کاروبار اور تجارت میں پیسہ لگانا چاہے لگاسکتا ہے یا جس علاقے میں مناسب سمجھے کاروبار کر سکتا ہے لیکن مضارب کی طرف سے سرمایہ کار کا یہ حق اُصولی طور پر سلب کیاجانا غیر منصفانہ اقدام ہے جس کی تائید نہیں کی جاسکتی۔

چوتھا اُصول

مضاربہ میں سرمایہ کار یہ گارنٹی تو طلب نہیں کر سکتا کہ اسے اتنے فیصد منافع ہر حال میں ادا کیاجائے گا خواہ مضارب کوفائدہ ہو یا نقصان، کیونکہ ایسا منافع سود کے زمرے میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا، لیکن وہ مضارب سے یہ گارنٹی لے سکتا ہے کہ وہ اپنا فرض پوری دیانتداری اور تندہی سے ادا کرے گا اور ان شرائط کے مطابق ہی کاروبار کرے گا جو فریقین کے مابین طے ہوئی ہیں اور اگر معاہدے میں طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی یا اس کی غفلت اور بے احتیاطی کی وجہ سے کوئی نقصان ہوا تو وہ اس کا ازالہ کرے گاجیسا کہ المعاییر الشرعیة میں ہے :

"یجوز لربّ المال أخذ الضمانات الکافیة والمناسبة من المضارب بشرط أن لا ینفذ ربّ المال هذه الضمانات إلا إذا ثبت التعدی أو التقصیر أو مخالفة شروط عقد المضاربة"

''ربّ المال مضارب سے کافی اور مناسب ضمانتیں لے سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ ربّ المال اِن ضمانتوں کو اسی صورت نافذ کرے گا جب مضارب کی زیادتی یا کوتاہی یا عقدِ مضاربہ کی شرائط کی خلاف ورزی ثابت ہوجائے ۔''

خود اسلامی بینک بھی سیکورٹی ڈپازٹ کے بغیر اپنے کلائنٹ کے ساتھ 'اجارہ' وغیرہ کا معاملہ نہیں کرتے، لیکن ایک بھی اسلامی بینک ایسا نہیں جو اپنے ڈپازٹر کو یہ گارنٹی اور ان کا یہ اسلامی وشرعی حق دیتا ہو۔

پانچواں اُصول

کتبِ فقہ میں مضاربہ کی بحث میں ایک اُصول یہ بھی بیان ہوا ہے کہ مضاربہ کی بنیاد پر لئے گئے سرمائے سے صرف تجارت(Trading) ہی کی جاسکتی ہے ،تجارت کے علاوہ اسے کسی اور مقصد کےلئے استعمال نہیں کیاجاسکتا۔ چنانچہ امام نووی﷫فرماتے ہیں:

"عقد القراض یقتضی تصرف العامل في المال بالبیع والشراء، فإذا قارضه علىٰ أن یشتری به نخلا یمسك رقابها ویطلب ثمارها لم یجز لأنه قید تصرفه الکامل بالبیع والشراء، ولأن القراض مختص بما یکون النماء فیه نتیجة البیع والشراء وهو في النخل نتیجة عن غیر بیع وشراء فبطل أن یکون قراضًا ولا یکون مساقاة، لأنه عاقده علىٰ جهالة بها قبل وجود ملکها، وهٰکذا لو قارضه علىٰ شراء دوابّ أو مواشی یحبس رقابها ویطلب نتاجها لم یجز لما ذکرنا"

''عقدِ مضاربہ کا تقاضا یہ ہے کہ مضارب خرید وفروخت کے ذریعے ہی مال میں تصرف کرے لہٰذا جب وہ اس طرح مضاربہ کرے کہ وہ اس مال سے کھجوروں کے درخت خریدےگا اور اُن سے پھل حاصل کر(کے نفع کمائے) گا تو یہ جائز نہیں ہوگا، کیونکہ مضاربہ میں خریدو فروخت کے ذریعے تصرف کی شرط ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ مضاربہ ان معاملات کے ساتھ مختص ہے جہاں مال میں اضافہ خریدوفروخت کے نتیجے میں ہو جبکہ کھجوروں میں یہ اضافہ خریدوفروخت کے نتیجے میں نہیں، اس لیے اس کا مضاربہ باطل ٹھہرا اور یہ مساقات کا معاملہ بھی نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس صورت میں یہ کھجوروں کی ملکیت وجود میں آنے سے پہلے مجہول درختوں پر عقد ہوگا ۔اسی طرح اگر اس طرح مضاربہ کرلے کہ وہ جانور یا مویشی خریدے گا جو بذاتِ خود تو اس کے پاس محفوظ ہوں گے مگر اُن کی پیدا وار حاصل کر ے گا تو یہ بھی جائز نہیں ہوگا۔ وجہ وہی ہے جو ہم نے اوپر ذکر کی ہے یعنی یہ نفع خریدوفروخت کے نتیجے میں حاصل نہیں ہوا۔''

دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ

"لو قارضه علىٰ أن یشتری الحنطة فیطحنها ویخبزها والطعام لیطبخه ویبیعه والغزال لینسجه والثوب أو لیقصده والدبغ بینهما فهو فاسد...قارضه علىٰ دراهم على أن یشتری نخیلا أو دواب أو مستغلات ویمسك رقابها لثمارها ونتاجها وغلاتها وتکون الفوائد بینهما فهو فاسد لأنه لیس ربحًا بالتجارة بل من عین المال"

اس عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ مضاربہ کا مال تجارتی سرگرمیوں کے علاوہ دوسری پیداواری سکیموں میں استعمال نہیں ہو سکتا جیسا کہ اگر کوئی اس بات پر مضاربہ کر لے کہ وہ گندم خرید کر اسے پیسے گا اور روٹی پکا کر اسے بیچے گا اور نفع دونوں میں تقسیم ہو گا تو یہ مضاربہ فاسد ہو گا کیونکہ یہ نفع تجارت کے ذریعے حاصل نہیں ہوا بلکہ اس نے خود مال سے جنم لیاہے۔

امام ابوالقاسم عبدالکریم رافعی﷫لکھتے ہیں:

"لو قارضه علىٰ أن یشتري الحنطة فیطبخها ویختبرها والطعام لیطبخه ویبیع والربح بینهما فهو فاسد أن الطبخ والخبر ونحوهما أعمال مضبوطة یمکن الاستئجار علیها وما یمکن الاستئجار علیه فلسیغني عن الفرائض إنما القراض لما لا یجوز الاستئجار علیه وهو التجارة التي لا ینضبط قدرها"

یعنی مضاربہ کے مال سے صرف تجارت کی جاسکتی ہے دوسرے نفع بخش کاموں میں لگانے کی اجازت نہیں ہے،کیونکہ مضاربہ وہاں ہوتاہے جہاں اجارہ نہ ہو سکے اور وہ تجارت ہے۔ جہاں اجارہ ہو سکے وہاں مضاربہ کی ضرورت نہیں ہوتی ۔

فقہاے حنفیہ کے نزدیک بھی مضاربہ کا مال صرف تجارت اور اس سے متعلقہ سرگرمیوں میں ہی لگایا جاسکتا ہے ،چنانچہ فقہ حنفی کی مشہور کتاب 'ہدایہ' میں ہے:

"فینتظم العقد صنوف التجارة وما هو من صنیع التجار"

''مضاربہ کا عقد تجارتی سرگرمیوں کو ہی شامل ہے جبکہ یہ کام ( ایک خاص مسئلہ کی طرف اشارہ)تاجروں کا کا م نہیں ہے۔''

دوسری جگہ ایک مسئلہ کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

''یہ امام محمد اور امام ابو حنیفہ،کے نزدیک اس لیے جائز نہیں کہ یہ تجارت میں شامل نہیں ہے اور عقدِ مضاربہ کا مقصد صرف تجارت میں کسی کو وکیل بنا نا ہے۔''

مزید لکھتے ہیں:

''جب یہ تجارت نہیں ہے تومضاربہ میں بھی شامل نہیں ہے۔''

علامہ زکریا انصاری﷫ رقم طراز ہیں:

"لَوْ قَارَضَهُ عَلَى أَنْ یَشْتَرِیَ بِالدَّرَاهِمِ نَخْلًا لِیَسْتَغِلَّهُ وَالرِّبْحُ بَیْنَهُمَا ؛ لِأَنَّ مَا حَصَلَ لَیْسَ بِتَصَرُّفِ الْعَامِلِ وَإِنَّمَا هُوَ مِنْ عَیْنِ الْمَالِ"

''اگر کوئی اس طرح مضاربہ کر ے کہ وہ دراہم سے کھجوروں کے درخت خریدے گا تاکہ اُن کی آمدن حاصل کر ے اور نفع دونوں کے درمیان تقسیم ہو تو یہ بھی جائز نہیں ہوگا، کیونکہ اس صورت میں جو نفع حاصل ہو ا ہے، وہ مضارب کے تصرف کا نتیجہ نہیں ہے وہ تو خود مال کا کمال ہے۔''

جب کہ اسلامی بینک مضاربہ کی بنیاد پر لیا گیا سرمایہ 'اجارہ' وغیرہ میں بھی لگاتے ہیں جس سے اسلامی بنکوں میں رائج مضاربہ مشکوک قرار پاتا ہے ۔ چونکہ اس نقطہ نظر کے حق میں دلائل نہیں ہیں، اس لیے اسلامی بینکاری کے حامی بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ بنیادی طور پر مضاربہ تجارت میں ہی ہو تاہے۔ زرعی اور صنعتی منصوبوں میں اس کا استعمال اس کے مفہوم میں وسعت پیدا کر کے کیا جانے لگا ہے ۔ چنانچہ المعاییرالشرعیةمیں ہے:

"والمضاربة من الصیغ التي تستخدم غالبًا في التجارة ثم توسّعت استخداماتها حتی شملت مجالات الاستثمار التجاریة والزراعیة والصناعیة والخدمیة وغیرها"

''مضاربہ ان طریقوں میں سے ہے جو زیادہ تر تجارت میں استعمال کیا جاتاہے پھر اس کے استعمال میں وسعت پیدا ہوگئی یہاں تک کہ تجارتی،زرعی اور صنعتی سرمایہ کاری وغیرہ کو بھی شامل ہو گیا۔''

مضاربہ کے مفہوم میں یہ وسعت کس نے پیدا کی، کب کی اور کس بنیاد پر کی؟ اسلامی بینکوں کے مفتیان کرام اس بارے میں بالکل خاموش ہیں ۔

چھٹا اُصول

مضاربہ میں نفع کا صحیح اندازہ تب ہی ہوسکتا ہے جب مضاربہ کاروبار کے غیر نقد اثاثوں کو بیچ کر نقد میں تبدیل کر لیاجائے۔اسی لئے ماہرین شریعت یہ کہتے ہیں کہ مضاربہ میں 'لیکویڈیشن' (مالیت میں تبدیلی)سے پہلے منافع کی تقسیم درست نہیں ہے۔ چنانچہ معروف حنفی فقیہ جناب علامہ علاؤ الدین کاسانی﷫لکھتے ہیں :

"ویشترط لجواز القسمة قبض المالك رأس المال، فلاتصح قسمة الربح قبل قبض رأس المال"

''مضاربہ میں نفع کی تقسیم کی شرط یہ ہے کہ ربّ المال اپنے راس المال پر قبضہ کر لے۔چنانچہ اصل سرمائے کو قبضہ میں لینے سے قبل نفع کی تقسیم درست نہیں ہو گی۔''

اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر لیکویڈیشن کے بغیر منافع تقسیم کر دیاجائے اور بعد میں مال ضائع یا بازار میں مندی ہو جائے تو اس سے ربّ المال کو نقصان اٹھاناپڑے گا۔ کیونکہ اُصول یہ ہے کہ اگر کسی کاروبار کو ایک مدت کے دوران نقصان اور دوسری مدت کے دوران منافع ہو تو پہلے اس منافع سے نقصان کو پورا کیاجائے گا اور اگر نفع کی کوئی رقم باقی بچ رہی ہو تو وہ رب المال اور مضارب کے درمیان طے شدہ فارمولے کے مطابق تقسیم ہوگی۔ لیکویڈیشن سے قبل منافع کی تقسیم کی صورت میں چونکہ مضارب سابقہ مدت کے نفع سے اپنا حصہ وصول پا چکا ہوتا ہے جس کی واپسی کا مطالبہ فریقین کے مابین نزاع اور کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے اس لئے لیکویڈیشن سے پہلے منافع کی تقسیم کاعمل درست نہیں ہو سکتا ۔

اسلامی بینکوں میں چونکہ رقمیں جمع کرانے اور نکالنے کی کوئی تاریخ متعین نہیں ہے کہ تمام اکاؤنٹ ہو لڈر اسی ایک تاریخ میں رقمیں جمع کرائیں اور نکالیں بلکہ یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے اس لئے منافع کی تقسیم سے قبل غیر نقد اثاثوں کو بیچ کر نقد میں تبدیل کرنے کی نوبت نہیں آتی ،صرف ان اثاثوں کی بازاری قیمت کااندازہ کیاجاتا ہے ،عملاً کاروبار ختم نہیں ہوتا ۔یہ طریقہ علامہ کاسانی﷫ کی بیان کردہ شرط کا تقاضا پورا کرتا ہے یا نہیں ؟یہ ایک غو ر طلب پہلو ہے جس کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔


حوالہ جات

سورة ص: 24

سنن ابن ماجہ: 2289

سنن الکبریٰ: 6؍111

سنن دارقطنی:3077

موطأامام مالک، کتا ب القراض، باب ماجاء فی القراض: 688

موطأ امام مالک، کتا ب القراض، باب ماجاء فی القراض: 687

مصنّف ابن ابی شیبہ: 20336

موطأ باب المحاسبۃ فی القراض: ص 699

المعاییر الشرعية للمؤسسات المالية الأسلامية: ص 185

بلوغ المرام، باب القراض: 894

المعاییر الشرعیہ: ص 185

المجموع شرح مہذب: ۱۴؍۳۷۱

روضۃ الطالبین: ۲؍۱۸۸

فتح القدیرشرح الوجیز: ۱۲؍۱۱

الہدایۃ مع البنایۃ: ۱۰؍۵۲

الہدایۃ مع البنایۃ: ۱۰؍۸۷

البهجة الوردية ،باب القراض : ۱۱؍۴۸۰

ایضًا:ص۲۳۲

الموسوعة الفقهية الکویتية: 38؍74