سیکولر ازم کا سرطان

سیکولرازم  ایک وسیع الجہات اور سریع الارثر نظر یہ ہے جو اپنے معتقدین کی فکر میں انقلاب برپا کردیتا ہے۔تصور کائنات یعنی انسان کے کائنات میں مقام سے لے کر زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں سیکولرازم پر یقین رکھنے والوں کے خیالات  یکسر بدل جاتے ہیں چونکہ یہ نظریہ مسیحی یورپ کی دینی آمریت کے خلاف رد عمل کے طور پر پروان چڑھا اسی لیے سیکولرافراد میں مذہب کے خلاف شدید نفرت اور عمومی بغاوت کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے وہ اگر کسی بات کو درست بھی سمجھتے ہوں جونہی انہیں معلوم  ہو جائے کہ اس بات کا سر چشمہ مذہب کی تعلیمات ہیں تو وہ اس سے شدید بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے اس کو جنوبی انداز میں مسترد کر دیتے ہیں ان کے اندر مریضانہ عقل پرستی بلکہ الحاد پرستی کا نفسیاتی مرض پیدا ہو جا تا ہے ذرا معتدل مزاج کے سیکولرافراد خدا کے باوجود سے تو کلیۃ انکار نہیں کرتے مگر یوم آخرت  جنت اور دوزخ کے معاملات  انہیں محض علامتی باتیں لگتی ہیں جن کا حقیقت سے کو ئی تعلق نہیں ہے (نعوذ باللہ)

ایسے معتدل حضرات اخلاقی بزدلی کا شکار ہوتے ہیں وہ کھیل کر پبلک میں تو مذہب کا انکار نہیں کرتے لیکن اپنی نجی محفلوں میں مذہب کو رجعت پسندی کہہ کر اپنی "ترقی پسندی" کا اعتبار قائم کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں مذہب کا جومنافقانہ اور خانہ زاد مجہول سا تصور ان لوگوں نے قائم کر رکھا ہے۔اس کی رو سے یہ لوگ نماز، روزہ، حج وغیرہ ضروری بلکہ نامعقول رسومات (Rituals)کا نام دیتے ہیں ۔مغرب کے سیکولردانشوروں نے مذہبی عبادات کے لیے(Rituals) کی ترکیب گھڑا کر ایسے نوآموز سیکولرافراد کے منہ میں ڈال دی ہے اب یہ موقع بے موقع اس کی جگالی کا شغل فرما کر مولویوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں اپنی تمام ترمذہب دشمنی کے باوجود یہ حضرات یہ دعوی کرنے سے باز نہیں رہتے کہ مذہب کا اصل مقصود انسان دوستی ہے عبادات تو اس مذہب کے زمرے میں آتی ہیں جنہیں مولویوں نے مسخ کر رکھا ہے تاکہ وہ اپنی پیٹ پوجا کر سکیں انسان دوستی ایک اور مغالطہ آمیز ترکیب ہے جو ان حضرات کے ورد زبان رہتی ہے اور یہ پاکستان جیسے مذہبی معاشروں میں اس اصطلاح کو عوام کی طرف سے ردممکنہ عمل کے خلاف ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں وہ اس"انسان دوستی" جس کے لیے انگریزی میں "ہیومن ازم" کی اصطلاح مروج ہے کا وہ مفہوم پاکستانی عوام کے سامنے قطعاً پیش نہیں کرتے جو انگریزی زبان کے انسائیکلوپیڈیا یا بنیادی ماخذوں میں موجود ہے ہیومن ازم کی اصطلاح اپنے مفہوم کے اعتبار سے سیکولرازم  کے بہت قریب ہے اس کا مختصر مطلب یہ ہے کہ کائنات میں خدایا مفہوم کے اعتبار سےسیکولرازم  کے بہت قریب ہے۔ اس کا مختصر مطلب یہ ہے کہ کائنات میں خدایا مافوق الطبیعاتی وجود کی بجائے انسان ہی درحقیقت اصل مرکز و محور ہے الہامی تعلیمات کی بجائے انسانی  عقل عام انسانوں کے لیے زیادہ بہتر انداز میں سوچ سکتی ہے ہیومن ازم دراصل "خداپرستی"کے مقابلے میں"انسان پرستی"کادرس دیتی ہے۔ سیکولرازم  میں" دنیا پرستی "اور ہیومن ازم میں" انسانی پرستی دراصل ایک ہی فلسفہ کے دو رخ ہیں مگر پاکستان کے سیکولردانشور اپنی مخصوص "انسان دوستی" کے سر چشمے بابا بلھے  شاہ بابا فرید اور اس طرح کے دیگر صوفی شعراءکی تعلیمات میں بڑی فریب کاری سے ڈھونڈ نکالتے ہیں اور ان صوفیا سے لوگوں کی اندھی عقیدت کا استحصال کرتے ہوئے بے حد غیر محسوس انداز میں لادینیت کا پر چار کرتے رہتے ہیں پاکستان کے علماء کو یہ سیکولرافراد حقارت سے ملا اور آج کل انسانی حقو قیوں کی ایک جدید سیکولر نسل انہیں "جنوبی اور جہادی ملا" کے القابات عطا کرتی ہے ملا کالفظ سنتے ہی ان کے چہرے کی رنگت بدلنا شروع ہو جا تی ہے اور ان کے روشن خیال ذہن سے ترقی پسندانہ گالیاں جھاگ بن بن کر اڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ملا کو انھوں نے محض نام کے طور پر استعمال کرنا ہو تا ہے ورنہ ان کاا صل ہدف اسلام ہی ہو تا ہے۔

آپ جب بھی ان کی ترقی پسندانہ (درحقیقت ملحدانہ) سوچ کی تردید کے لیے قرآن و سنت کا حوالہ دیں تو یہ سیکولر افراد بغیر کوئی وقت ضائع کئے فتوی اچھال دیں گے۔ "جناب چھوڑئیےیہ سب ملا کی کارستانی ہے ملانے اسلام کی من چاہی تعبیر نکالی ہوئی ہے ورنہ اسلام تو روشن خیال لبرل اور بے حد ترقی پسندانہ مذہب ہے کٹھ ملائیت نے اسلام کو جدید زمانے میں بے حد بگاڑ کر رکھ دیا ہے ہم مہذب ملکوں میں ملاؤں کی اس تنگ نظری کے باعث وحشی سمجھے جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ "۔۔۔آزادی نسواں کی علمبردار سیکولر خواتین تو بات بات میں ملاؤں پر برسنا اپنی ذہنی اور روحانی صحت کی حفاظت کے لیے ضروری سمجھتی ہیں ۔عورتوں کی نصف وراثت کا معاملہ ہو یا مردوں کے لیے طلاق کا حق مخصوص کرنے کی بات ہو یا پھر مردو زن کے اختلاط کے منافی کوئی قرآن و سنت سے حوالہ یا پھر حجاب جس سے یہ بے حد خارکھاتی ہیں کی بات ہو۔ ایسی کوئی بات کر کے متکلم کو اپنی آبرو کے لالے پڑ جاتے ہیں وہ چھوٹتے ہی اسے تنگ نظر ظالم عورت دشمن رجعت پسند اور شہوت پرست ملا کے"ریڈی میڈ" قسم کے خطابات کا تختہ مشق بنانا شروع کردیں گی۔ انہیں قرآن سے خود یہ حوالہ جات دیکھنے کی تجویز دی جائے تو کہتی ہیں ۔"ہم عربی تو جانتی نہیں ہیں مولویوں نے قرآن کا غلط ترجمہ کر کے عورتوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی سازش کی ہے۔

سیکولرازم  کے متاثرین کے مختلف درجات ہیں یاد رکھئے سیکولرازم  ایک فکری سرطان ہے جو قومی جسد کے اعضا ئے رئیسہ کو تباہ کر کے پوری قوم کو اس کے نظریاتی اساس یعنی اس کی روح سے اسے جدا کر کے اسے فکری اور روحانی موت سے دوچار کر دیتا ہے اس مرض کے جراثیم جس فرد یا معاشرے میں نفوذ کر جائیں آہستہ آہستہ بڑھتے رہتے ہیں سر طان کے مرض کے متعلق یہ بات بتائی جاتی ہے کہ اگر اسے ابتدائی مرحلے میں کنٹرول کر لیا جا ئے تو یہ مہلک ثابت نہیں ہو تا مریض کسی نہ کسی صورت میں زندہ رہتا ہے لیکن اگر اس پر توجہ نہ دی جائے تو پھر اچانک اس کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ اور مریض آناً فاناً موت کے اندھے غار میں غائب ہو جا تا ہے اس کے عز یز و اقارب بے بسی سے اپنی آنکھوں کے سامنے اس کی اس جہان فانی سے رخصتی کا ہو لناک منظر دیکھتے رہ جاتے ہیں یہی مثال معاشروں کو لگے ہوئے سیکولرازم  کے سر طان پر بھی صادق آتی ہے مغربی معاشرہ اپنی تباہی کے آخری دہانے پر ہے اس تباہی کے پس پشت اگر غور کیا جا ئے تو اس کا سبب سیکولرازم  کا سر طان ہی ہے مغربی دانشوروں نے اس فکری سرطان کو آزادیوں کا سر چشمہ سمجھ کر بڑھنے دیا اس کے علاج کی بات تو ایک طرف وہ اسے مرض سمجھنے کے لیے ہی تیار نہ تھے ۔آج وہ سر پکڑ کر بیٹھےہوئے ہیں اور یہ مرض لاعلاج صورت اختیار کر چکا ہے۔

اگرچہ بیسویں صدی کے آغاز میں جرمن مفکر اوسوالڈ اسپنگلر نے"زوال مغرب " کے عنوان سے اپنی کتاب میں مغرب  کے اس مرض کی طرف توجہ دلائی تھی کچھ اور مفکر ین نے بھی مغرب کے بڑھتے ہوئے اخلاقی زوال کے خطرات سے اہل یورپ کو متنبہ کرنے کی کو شش کی مگر ان کی ساری کاوشیں صدا بصحرا ثابت ہوئیں ۔آزادیوں اور جنسی آوارگیوں میں مست مغرب اس طرح کے اہل دانش کو پرانے وقتوں کے لوگ سمجھ کر دھتکارتا رہا اور آج خاندانی نظام کو بچانے کے لیے اہل مغرب بالکل اس طرح کی بے حصول کوششیں کر رہے ہیں جس طرح کہ ایک فزیشن خون کے سرطان کے مریض کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کے علاج کا اس مریض کوکو ئی نہیں فائد نہیں ہو گا۔

ممکن ہے بعض حضرات راقم کی طرف سے سیکولرازم  کے لیے فکری سر طان کی ترکیب کو قبول کرنے میں تامل کا شکارہوں۔مگر یورپ و امریکہ میں جنسی ہوسنا کی کی تسکین کے یہ گھٹیا اور عام مناظر بے نکاحی ماؤں کی گود میں حرامی بچوں کی بہاریں خاندانی ادارے کی تباہی الحاد وزندیقیت کا سیلاب حیوانیت و شہوانیت کے ابلتے جذبات عورتوں مردوں میں ہم جنس پرستی جیسے غلیظ رجحان میں روز بروز اضافہ عورتوں میں حیا و شرم کا فقدان نسوانی حقوق کے نام پر بے حیائی کا پر چار مادہ پرستی اور ہوس پرستانہ خود غرضی  کے غیر انسانی واقعات سمندری ساحلوں پارکوں اور ائیرپورٹوں پراباحت مطلقہ کی شرمناک حرکات آخر ان سب مظاہر کے اسباب کیا ہیں۔ہر عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی سوچ کار فرما ہو تی ہے مندرجہ  بالا چند اور دیگر جرائم اور قباحتوں کی بنیادی وجہ مغربی معاشرے کی الہامی تعلیمات سے رو گردانی اور سیکولرازم (لادینیت) کی پذئرائی ہے ایسے مظاہر کا ظہور صرف مغربی معاشرے تک ہی محدود نہیں ہے یہ پاکستان جیسے اسلامی معاشرے میں بھی رونما ہو سکتے ہیں اور کہیں کہیں ہو رہے ہیں ہمارے ذرائع ابلاغ سیکولرازم کو جس طرح فروغ دے رہے ہیں اس کے نتا ئج یہاں بھی وہی ہوں گے جو مغرب میں قابل مشاہدہ ہیں۔

سیکولرازم کے فتنہ کا شکار بعض وہ مسلمان بھی ہیں ،جو اپنے آپ کو"اسلامی مفکر "سمجھنے کی خوش فہمی میں بھی مبتلاہیں یہ لو گ ہیں جن پر اس مرض کا ثر ابھی ابتدائی منزل سے آگے نہیں بڑھتا ۔ یہ اسلام کی ہر بات کو سیکولر نقطہ نظر سے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں دراصل ان پر جدید یت کا دورہ پڑتا رہتا ہے شروع شروع میں جب کسی اسلامی مفکر کو سیکولرازم کا دورہ پڑتا ہے تو وہ غلا احمد  وہ پرویز اور رفیع اللہ شہاب کی صورت اختیار کر لیتا ہے یہ رفیع اللہ شہاب پر اسی سیکولرازم کاا ثر ہی ہے کہ موصوف انگریزی زبان میں اسلام کی ترقی پسند انہ تعبیر پر مبنی اپنے مضامین لکھتے رہتے ہیں چند ماہ قبل روز نامہ "دی نیشن " میں ان کا ایک مضمون شائع ہوا جس میں مو صوف نے اسلام کے دور اول میں پائی جانے والی  کنیز وں اور لونڈیوں کو جدید دور کی اصطلاح میں "ورکنگ وومن"قراردیا اور پھر ان کی مثال سے استنباط کرتے ہوئے آج کل کی ورکنگ وومن" کے لیے پردہ غیر ضروری ہونے کا فتویٰ صادر فرمادیا۔ موصوف چونکہ انگریزی  زبان میں لکھتے ہیں اسی لیے علماء کی گرفت سے بھی بچے رہے موصوف  روشن خیال عورتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے جنوں میں قدیم عرب معاشرے کی لونڈیوں اور آج کل کی ملازم بیگمات کے درمیان خفظ مراتب کو یکسر فراموش کر گئے سیکولرازم  کے مرض میں تھوڑا سا اضافہ ہو تا ہے تو فرد کی شخصیت میں جو تبدیلی رونما ہوتی ہے وہ جسٹس محمد منیر اور اصغر خان کی طرح کی شخصیات کی افزائش میں بدل جاتی ہے۔ سیکولرازم کے سر طان کی آخری منزل میں پہنچے ہوئے "لبرل"لوگ سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسی ارواح خبیثہ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ملعون رشدی نے اپنے ناول"شیطانی آیات"کے متعلق دفاع کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں یہ بکواس کی۔(استغفراللہ)

“It is an attempt to write about religion and revelation from the point of view of a secular  person.” (Times of India:8.10.88)

یہ (کتاب) مذہب اور وحی کے بارے میں ایک سیکولرآدمی کا نقطہ نظر بیان کرنے کی کو شش ہے"

جو لوگ سیکولرازم کا مطلب "ریاستی معاملات میں غیر جانبداری " ہی بتاتے ہیں انہیں سلمان رشدی کے اس بیان پر توجہ دینی چاہئے ۔کیا پاکستان کے لبرل دانشور یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ وہ سیکولرازم کے بارے میں سلمان رشدی سے زیادہ جانتے ہیں؟ملعونہ تسلیمہ نسرین جس نے اپنے ناول میں قرآن مجید کے متعلق سخت اہانت آمیز باتیں لکھی تھیں وہ آزادی اظہار کے اس سیکولرتصور کی روشنی میں ان خرافات کا جواز بناتی ہے ہمارے پاکستان میں بھی تسلیمہ  نسرین کی ہم خیال این جی اوز کی کئی بیگمات موجود ہیں مگر رائے عامہ کے خوف کی وجہ سے اور کچھ رشدی اور تسلیمہ کی عبرتناک دربدری اور روپوشی کی وجہ سے ان میں اپنے غلیظ خیالات کو ظاہر کرنے کی جراءت نہیں ہو سکی۔

آئیے سیکولرازم کے انسانی فکرپراثرات کو مزید واضح کرنے کے لیے پاکستان کے چند سیکولر افراد کے شائع شدہ بیانات کا تجزیہ  کریں۔

1۔چوہدری اعتزاز احسن:

پاکستان کے سیکولر دانشور اپنے دل کی گہرائی میں اسلام کے عصری تقاضوں کا ساتھ دینے اور جدید دور میں اس کے قابل عمل نظام ہونے کے بارے میں شکوک کا شکار ہیں۔وہ اپنی فکر کے اعتبار سے اسلام کو عالمگیر نظام سمجھنے میں بھی تامل کا شکار ہیں چوہدری اعتزاز  احسن ایڈووکیٹ ایک معروف دانشور ہیں موصوف پاکستان کے وزیرداخلہ بھی رہ چکے ہیں ۔ کچھ عرصہ پہلے "انڈس ساگا"کے نام سے ایک مضبوط کتاب بھی تحریر کر چکے ہیں اس کتاب میں انھوں نے اسلام اور نظریہ پاکستان کے مقابلے میں قدیم ہندی کلچر کے گن گائے ہیں ارشاد احمد حقانی صاحب نے گذشتہ سال اپنے کالموں میں چوہدری اعتزاز  احسن کی کتاب کے قابل اعتراض حصوں کی نشاندہی بھی کی تھی مئی 99ء میں راقم الحروف نے انہیں ہمدرد سنٹر میں تقریر کرتے ہوئے سنا جس میں مو صوف نے برملا یہ کہا کہ ہم ہمیشہ اس فرق (ہندو مسلم) کو ہی بیان کرتے رہتے ہیں جس سے ہماری قومی نفسیات پر منفی اثرات پڑے ہیں انھو ں نے اپنے مخصوص انداز میں دو قومی نظریہ کی مخالفت کی ۔ حاضرین میں سےایک فرد نے چٹ کے ذریعے ان کے اس بیان پر انہیں احتجاج بھی بھجوا یا۔ہندو مسلم کے ایک ہونے کا علمی اظہار انھوں نے اپنی صاحبزادی کی شادی کی تقریب کے دوران عملی صورت میں کیا جب بھارت سے کثیر تعداد میں ہندو اس تقریب کے مہمان تھے۔
12مئی 1990ء کو چوہدری اعتزاز  احسن نے شریعت بل کی تیسری خواندگی کے موقع پر اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا:
"شریعت جو ریگستانی معاشروں کے لیے تھی اور ریگستانی معاشرے بھی ایسے کہ خانہ بدوش۔۔۔اور خانہ بدوش بھی ایسے کہ جہاں بیٹی ،بہن اور عورت کی وہ عزت نہ تھی جو وجلہ و فرات کے زرعی معاشروں میں تھی ۔وہ شریعت یہاں وادی سندھ میں نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
جناب نعیم صدیقی نے چوہدری اعتزاز  احسن کے اس توہین آمیز بیان کے خلاف ہفت روزہ "زندگی" میں مفصل مضمون  تحریر کیا۔ جناب نعیم صدیقی کے درج ذیل درد بھرے جملے ملاحظہ فرمائیے۔
"ان الفاظ کو پڑھ کر انداز ہ ہو تا ہے کہ ایک تو وقت کے اس ماہر خطابات کو سرے سے شریعت اور اسلامی نظام کا علم ہی نہیں کہ اس کی تعلیم کیا تھی جو شخص اسلام اور اس کی شریعت کو نہ جانے اسے کس ڈاکٹر نے یہ نسخہ لکھ دیا ہے کہ وہ ضروراس موضوع پر خیال کرے۔۔۔!!   
آخر متذکرہ بیان کی روح اور سلمان رشدی کی ہفوات میں کتنی ڈگری کا فرق ہے۔ چوہدری اعتزاز  احسن صاحب اگر اسلام سے لفظی بھلائی بھی نہیں کر سکتے تو انہیں کون سی جماعت حکماء و فلاسفہ نے مشورہ دیا ہے کہ وہ ضرور اسلام کی صف میں رہیں ۔شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم  پسند نہیں تو جائیے شریعت بش اور شریعت لینن کے پاؤں پڑئیے آخر اسلام پر لایعنی کرم فرمائی  کس لیے؟
۔۔۔ریگستانی معاشرے کے لفظوں سے شریعت اسلامی کے وزن ووقعت میں کمی کرنے کی سعی رائیگاں پر تو رحم آتا ہے۔۔۔کس فخر سے کہتے ہیں کہ وادی سندھ میں وہ ریگستانی شریعت کیوں؟جی وادی سندھ کوکون سے سرخاب کے پر لگے ہیں۔ کیا محض موہن جوڈرو،ہڑپہ اور ٹیکسلا کی کھدائیوں کو سر مایہ حیات سمجھا  جائے اور اس بات کو نظر انداز کر دیا جائے کہ وادی سندھ پر ڈاکوؤں اور تخریب کاروں کا راج ہے۔۔۔کس شخص کا ایسی پست اور نامعقول ذہنیت کے ساتھ اسمبلی میں بیٹھنا جسے سنجیدہ معاملات میں اختلاف کا شائستہ اسلوب بھی نہ آتا ہو۔بجائے خود ایک علامت عذاب ہے۔۔۔حضرت چوہدری اعتزاز  احسن اس عظیم الشان سیاسی  طبقہ دانشوراں سے تعلق رکھتے ہیں جو مخالف دین رجحانات کو قوم پر اختیارات پاکر جبراً ٹھونسنےکی کوشش کرتاہے۔۔۔ چوہدری اعتزاز  احسن کو کسی اچھے روحانی معالج کی ضرورت ہے۔"(ہفت روزہ زندگی لاہور :22تا 28جون 1990ء)
2۔احمد بشیر : یورپ میں سیکولر ازم کی بھیانک صورت اشتراکیت کے روپ میں سامنے آئی۔اشتراکیت نے تومذہب کو، افیون قراردے کر سرے سے مذہب کی اہمیت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
پاکستان میں بدترین سیکولر طبقہ وہ ہے جس نے اشتراکیت کو اوڑھنابچھونا بنا رکھا ہے سوشلزم اور سیکولرازم اپنے مزاج اور نظریہ کے اعتبار سے الحاد اور مریضانہ مادہ پرستی پر مبنی نظام فکر ہیں ۔ احمد بشیر کو پاکستان کے اشتراکیوں میں ایک کٹر ،باغی اور بزرگ سیکولر دانشور کی حیثیت سے جا نا جا تا ہے۔ راجہ فتح خان نامی ایک شخص نے ارشاد احمد حقانی  صاحب کی جانب  سے پاکستان میں "اسلام جمہوریت اور سیکولرازم "کے متعلق شروع کی گئی بحث میں حصہ لیتے ہوئے حقانی صاحب کو ایک مفصل خط لکھا۔اس خط میں راجہ فتح خان احمد بشیر کو پاکستان میں مادہ پرستوں کے نمائندے اور علامات کے طور پر ان الفاظ میں پیش کرتا ہے۔
"مادیت والوں کا اس پر اعتراض ہے کہ اگر خالق کے بغیر کوئی چیز ےخلیق نہیں ہو سکتی تو خود خالق کائنات کو کس نے تخلیق کیا ہے "(نعوذ باللہ ) اس طرح یہ دونظریات ایک دوسرے کو قائل کر ہی نہیں سکتے ۔نہ کوئی احمد بشیر کسی ارشاد احمد حقانی کو قائل کر سکتا ہے اور نہ کوئی ارشاد احمد حقانی کسی احمد بشیر کو"(2اپریل 1999ء روزنامہ جنگ ادارتی صفحہ)
ان سطور میں احمد بشیر کے چاہنے والے نے احمدبشیر کا جو نقشہ کھینچا ہے اس میں بڑے  فخر سے اسے ملحد اور خدا کے وجود کا منکرظاہر کیا ہے حقیقت یہ ہے کہ انتہا پسند سیکولر افراد مذہب سے متفر ہونے کے بعد بالآخرالحاد پرستی کو ہی اپنا مذہب بنا لیتے ہیں۔
احمد بشیر ملحد ہونے کے ساتھ ساتھ رقص و موسیقی و شراب نوشی کا بھی دلدادہ ہے اکتوبر1996ءمیں کل پاکستان موسیقی کانفرنس کے موقع پر احمد بشیر نے کتھک ڈانس کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ" ہمارے مولوی اس تفریح طبع پر مبنی رقص کی خوا مخواہ مخالفت کرتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ(نعوذ باللہ ) حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  بھی رقص دیکھا کرتے تھے آدم اور حوا بھی (نعوذ باللہ ) ناچتے ہوئے جنت سے نکلے تھے"
اس طرح کے ملحد افراد رقص کا یہ شوق خود پورا کرتے رہیں تو غالباًان پر کوئی اعتراض نہیں کرے گا۔لیکن یہ دریدہ دہن اپنے مکروہ افعال کو رسالت مآب  صلی اللہ علیہ وسلم   جیسی پاکیزہ منزہ ہستی کے ساتھ منسوب کر کے شارع اسلام کی سخت توہین کے مرتکب ہوتے ہیں اور ایسا یہ جان بوجھ کر کرتے ہیں۔ علماء نے احمد بشیرکے اس بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس پر توہین رسالت کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔ مجلس احرار کے ترجمان نے بالکل صحیح تبصرہ کیا۔ انھوں نے کہا" حضرت آدم  علیہ السلام  اور حضرت حوا  علیہ السلام  ناچتے ہوئے جنت سے نہیں نکلے تھے بلکہ احمد بشیر اس دنیا میں اچھلتا کودتا اور اودھم مچاتا ہوا آیا ہو گا۔جمعیت علمائے اسلام کے راہنما مولانا امجد خان نے بیان میں کہاکہ۔
"احمد بشیر بد بخت نے ( نعوذ باللہ) رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی شان میں گستاخی کی ہے۔ حضور نے کبھی رقص نہیں دیکھا یہ اس خبیث شخص نے الزام لگایا ہے۔"
احمد بشیر نے مختلف افراد کے خاکوں پر مبنی ایک کتاب تحریر کی جس کا عنوان تھا "جو ملے تھے راستے میں"۔۔۔اس کتاب میں بے دین احمد بشیر نے علی الاعلان اور برملا اپنی شراب نوشی کی عادت کاذکر کیا۔ ایک سیکولرآدمی خونی رشتے ناطوں کے حوالے سے کس قدر بے حمیت اور بے غیرت بن جا تا ہے اس کا اندازہ احمد بشیرکے درج ذیل الفاظ سے بخوبی لگا یا جا سکتا ہے جو اس نے مذکورہ کتاب میں اپنی بہن پروین عاطف کے بارے میں تحریر کئے۔
"پروین میری بہن اس زمانے میں ایم اے میں پڑھتی تھی اور لاہورمیں رہتی تھی ۔ وہ ایسی حسین لڑکی تھی کہ میں اس کا بڑا بھائی ہو کر چوری چوری اس کی طرف دیکھتا اور سوچتا اللہ میاں !تونے یہ بت کس فرصت کی گھڑی میں گھڑا ہو گا۔ یہ چاند ہمارے صحن میں کیسے اتر آیا۔ پروین کے نین کاجل بن کالےاس کی کلائیاں گجروں بنا مہکتیں اس کے رخساروں کے گرد بھنورے منڈلاتے اب اس نیلے گنبد کی ساری ٹائلیں اکھڑ چکی ہیں مگر چھت کی گولائی پر ابھی چاندنی چھٹکتی ہے پروین کو اپنے حسن کی خوشبو کا احساس نہ تھا وہ ململ کے موٹے کپڑے پہنتی  سر پر کھدر کی چادر لے کر بس میں بیٹھ جاتی اور اس طرح کتابوں کا بستہ لے کر واپس آجاتی ۔ اس کے ہم جماعت اس کے پیچھے گھر تک آتے مگر اسے کبھی پتا نہ لگا۔ وہ مس یوینورسٹی کے نام سے مشہور تھی مگر اس نے کبھی آئینہ نہ دیکھا "(روزنامہ خبریں 2/نومبر 1996ء اقتباس از مضمون اسرار بخاری بحوالہ راجپال کے جانشین )
قارئین کرام !یہ ہے مکروہ چہرہ اور گھٹیا کرداران لوگوں کا جو اس مملکت خدادادمیں اسلامی شریعت کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہیں۔ مذکورہ بالا الفاظ کسی سیکولرازم کے سرطان زدہ ایک جنسی حیوان کے علاوہ اور کون لکھ سکتا ہے یہ لوگ اخلاق اور دانائی کی ہر بات کی مخالفت کرتے ہیں مگر پھر بھی"دانشور" کہلاتے ہیں۔اب ذرا غور فرمائیے پاکستان میں یہ اپنی پسند کا سیکولرازم نافذ کرنے میں کامیاب ہوجائیں توکیااس ملک کی اخلاقی بنیادیں قائم رہ سکیں گی؟
3۔خالداحمد:پاکستان کے سیکولر طبقہ میں اچھی خاصی تعدادایسے صحافیوں اور"دانشوروں "کی ہے جو یا قادیانی ہیں یا قادیانیت کے زبردست حامی ہیں ان کے نام مسلمانوں سے ہیں اسی لیے ناواقف لوگ ان کے علم و حکمت اور استدلال سے دھوکہ کھا جاتے ہیں کہ شاید ان کا مؤقف خالصتاً علمی تجزیہ پر مبنی ہے۔ یہ اسلام پسندوں کو ہمیشہ متعصب اور جنگجو تنگ نظر اور اپنے آپ کو روشن خیال غیر جانبداراور ترقی پسند ظاہر کرتے ہیں ۔یہ طبقہ بات کو پردوں میں چھپا کر بالواسطہ مطلب براری کی صہیونی طریقہ کار میں یدطولیٰ رکھتا ہے اس طرح کے دانشور اپنے الحاد ، مذہب دشمنی ، پاکستان دشمنی اور عوام دشمنی اور عوام دشمنی کو دجل و فریب کےغلاف  میں لپیٹ کر بیان کرتے ہیں ان کی اکثریت کسی نہ کسی سیکولر تنظیم کی تنخواہ ادارہے یہ طبقہ اپنے اثرات کے اعتبار سے غالباً سیکولر طبقوں میں سب سے زیادہ خطرناک ہے راقم الحروف کے نزدیک خالد احمد اس طبقہ کے نمائندترین اور معروف ترین فرد ہیں موصوف"فارن سروس "کوچھوڑ کر عرصہ دراز سے صحافت کے پیشہ  سے وابستہ ہیں انگریزی اخبارات"فرنٹیر پوسٹ اور "دی نیشن"کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں ایک وقت تھا کہ یہ پاکستان کی انگریزی صحافت میں مہنگے ترین صحافی سمجھے جاتے تھے خالد احمد سکبند قادیانی ہیں سیکولرازم کے نام پرقادیا نیت کے مقاصد کو جس فنکارانہ چابک دستی سے اس شخص نے آگے بڑھایا شاید ہی کسی اور صحافی نے ایسا کیا ہو۔سیکولر حلقوں میں خالد احمد کو اونچے درجہ کا دانشور سمجھا جا تا ہے اردو صحافت کو بھی موصوف منہ مارتے رہے ہیں "آج کل"کے نام سے ہفت روزہ نکالتے تھے جو کامیاب نہ ہو سکا ۔آج کل نجم سیٹھی کے"دی فرائیڈے ٹائمز" میں لکھتے ہیں۔مگر قابل اعتماد ذرائع کے مطابق اس کا بھاری مشاہرہ عاصمہ جہانگیرکے انسانی حقوق کمیشن سے وصول کرتے ہیں ۔کچھ عرصہ پہلے ان کے کالموں پر مبنی ایک ضخیم کتاب انحرافات کے نام سے چھپی ہے۔یہ کتاب پاکستان کے سیکولر طبقہ کی فکر کا نچوڑ ہے اپنے مضامین میں خالد احمد بار ہا اسلامی سزاؤں کو جدید دور میں ناقابل عمل اور غیر موزوں قراردے چکے ہیں قانون توہین رسالت کے خلاف جتنے مضامین ان صاحب کے قلم سے نکلے ہیں شاید ہی اس جنونی جذبے کے ساتھ کسی اور سیکولر صحافی نے تحریر کئے ہوں گے۔ پاک انڈیا پیپلز فورم کے پر دھان دانشوروں میں ان کا شمار ہو تا ہے مسئلہ کشمیر پر ان کا موقف وہی ہے جو گزشتہ دنوں این جی اوز کی بیگمات ظاہر کرتی رہی ہیں اسلامی نظام کے نفاذ کی ہر تحریک کی مخالفت یہ اپنا ایمان سمجھتے ہیں مغربی تہذیب کو پاکستان میں متعارف کرانا ان کی صحافتی جدو جہد میں شامل ہے پاکستان میں سیکولر ازم کے انتھک اور مستقل مزاج مبلغ سمجھتے جاتے ہیں رنگا رنگ ثقافتوں کے نام پر پاکستان میں سیکو لر افراد کا جو گروہ صوبہ پرستی اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف کام کر رہا ہے خالد احمد اس کے ہر اول دستہ میں شامل ہے۔ علماء اور دینی طبقہ سے اس ،لبرل،اور رواداری کادرس دینے والے دانشور کو شدید کدورت اور نفرت ہے۔ یہ ان پر برسنے اور ان کی تذلیل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے پاکستان میں صہیونی لابی کے سر مائے سے کام کرنے والی این جی اوز پراپیگنڈہ  کے لیے جن صحافیوں کے قلم کا سہارا لیتی ہیں خالد احمد ان میں نمایاں ترین قلمکار ہیں خالد احمد پاکستان کے اٹیمی پروگرام کے شدید مخالف ہیں اور یہ بات سیکولر افراد کی اکثریت میں قدر مشترک ہے۔ خالد احمد جہاد کے کتنے خلاف ہیں اس کا اندازہ ان کے مضمون کے عنوان "جہاد سے جرائم کی نمود"سے بخوبی لگا یا جا سکتا ہے۔
4۔ڈاکٹر مبارک علی:
ڈاکٹر مبارک علی بائیں بازوکے معروف مورخ ہیں تاریخ پر اشتراکی نقطہ نظر سے بیس سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں سیکولرازم کے پر جوش حامی ہیں سیاست اور مذہب کی تفریق پر یقین رکھتے ہیں یورپی معاشرے میں سیکولرازم کے ارتقاپر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں۔
"یورپ میں صنعتی ترقی کے عمل کے نتیجہ میں جو سیاسی معاشی اور سماجی تبدیلیاں آئیں انھوں نے نہ صرف پرانی اقدار روایات اور نظریات کو کمزور کیا اور توڑ ابلکہ اس خلا کو نئے اداروں اور افکار سے پر کیا اس سارے عمل میں سیاست اور مذہب دوجداچیزیں رہیں اور یہی وجہ تھی کہ یورپ کے معاشرے میں جمہوریت اور سیکولرازم کی روایات فروغ پاسکیں غیر ثقافتی معاشروں میں مذہب اور سیاست کو ایک سمجھاجا تا ہے اسی لیے سیاسی حاکمیت کا جواز مذہب میں تلاش کیا جا تا ہے۔
مذہب اور سیاست میں تفریق ایک ایسا نظر یہ ہے جس پر ہر سیکولرفرد یقین رکھتا ہے سیکولرازم کے کے نفاذکا پہلا نتیجہ پہ یہی ہو گا ۔پاکستان جیسی اسلامی مملکت میں اس نظریہ کے نفاذ کے مضمرات کیا ہوں گے ہم اس پر آگے اظہار خیال کریں گے۔
5۔عاصمہ جہانگیر : Feminismیا تحریک آزادی نسواں کاا صل سر چشمہ بھی سیکولرازم ہے عورتوں کے حقوق کے نام پر عالمگیر فتنہ برپا کیا جا رہا ہے اسی تحریک کے نتیجے میں یورپ میں خاندانی نظام تباہی کے کنارے پر پہنچ چکا ہے۔

عاصمہ جہانگیر عورتوں کے حقوق کی پاکستان میں سب سے بڑی چمپئن سمجھی جاتی ہے اسےپاکستان  کے علاوہ یورپ کے سیکولر اداروں کی مکمل تائید و تعاون حاصل ہے۔ یہ عورت پاکستان میں سیکولرازم کے نفاذ کے لیے جنون میں مبتلا ہے وہ بارہا سیکولرازم کے نفاذ کا مطالبہ کر چکی ہے 17/جولائی 1994ء کو تو عاصمہ جہانگیرنے بڑے اعتماد سے یہ اعلان کیا۔" ہم ملک میں سیکولرازم لائیں گے"(روزنامہ جنگ) اس سیکولرعورت کے نظریات بے حد خطرناک ہیں یہ بے باک اور گستاخ عورت اپنے بیانات میں اہانت رسول کی مرتکب بھی ہو چکی ہے۔17مئی1996ءکی شام اسلام آباد ہوٹل میں ایک سیمینار کے دوران عاصمہ جہانگیر نے شریعت بل کے خلاف تقریر کرتے ہوئے حضور نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو (نعوذباللہ ) نہ صرف جاہل کہا بلکہ تعلیم  سے نابلد ان پڑھ اور نہایت ست کے الفاظ استعمال کئے۔ عاصمہ کے اس بیان پر سخت احتجاج ہوا جو بعد میں C۔295،قانون توہین رسالت کی منظوری کی صورت میں منتج ہوا۔

متعدد بیانات میں عاصمہ نے کہاکہ پاکستان میں قوانین مذہبی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں اس نے اسلامی قوانین کو بار ہا غیر انسانی اور وحشیانہ کہا۔ عاصمہ نے خواتین کے جلوس کی قیادت کی انھوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا:" ملاں گردی بند کرو ۔پاکستان بچانا ہے تو مولوی کو بھگاناہے۔

"امن کا دشمن ملا"جمہوریت اور سیکولرازم لازم و ملزوم ہیں"۔مولوی کا نام سنتے ہی عاصمہ آپےسے باہر ہو جاتی ہے۔ 1997ء میں خواتین حقوق کمیشن کی رپورٹ درحقیقت عورت فاؤنڈیشن اور شرکت گاہ کی رپورٹوں پر مشتمل تھی اس رپورٹ کی تیاری میں سب سے زیادہ کردار عاصمہ جہانگیر نے ادا کیا۔ اس رپورٹ میں سفارش کی گئی تھی کہ حد ود آرڈ یننس کو منسوخ کیا جا ئے اور وفاقی شرعی عدالت کو ختم کیا جا ئے اسی  رپورٹ میں اسقاط حمل کی اجا زت کی سفارش بھی کی گئی اور سب سے عجیب بات یہ کہ بیوی سے زنا بالجبر Marital Rapeکے مرتکب شوہروں کو عمر قید کی سزا دینے کی سفارش بھی کی گئی ۔
عاصمہ بیجنگ کانفرنس کی خرافات مثلاً ہم جنس پرستوں کے بنیادی حقوق اسقاط حمل کا حق وغیرہ کو درست سمجھتی ہے۔ جون 2000ء میں نیویارک میں ہونے والی بیجنگ پلس فائیو کانفرنس میں جو بے حیائی کا ایجنڈا پیش کیا گیا عاصمہ جہانگیر اور این جی اوز کی دیگر بیگمات نے اس کی مکمل تائید کی۔
عاصمہ جہانگیر کی بھارت یا ترا وہاں بھارتی جاسوسوں سے ملاقاتیں واہگہ باڈرپر بھارتی  فوجیوں میں مٹھائی تقسیم کرنے اور ہندوؤں کے ساتھ رقص کے واقعات تو ابھی چند ہفتے پہلے کا معاملہ ہے۔
مندرجہ ذیل بالا سطور میں راقم نے چوہدری اعتزاز احسن احمد بشیر خالد احمد ڈاکٹر مبارک احمد اور عاصمہ جہانگیر کے خیالات کو مختصر الفاظ میں پیش کیا ہے ان میں سے ہر ایک فرد ایک مخصوص سیکولر گروہ کا نمائندہ ہے یہ فہرست نہ تو مکمل ہے اور نہ ہی پاکستان میں تمام سیکولر گروہوں کی سوچ کی اس سے مکمل نمائندگی سامنے آتی ہے مگر ان پانچ افراد کی سوچ کے مجموعہ کو سامنے رکھا جائے تو پاکستان میں سیکولرازم کے حامیوں کی اکثریت کے نظریات کی اصل حقیقت کو سمجھنے میں خاصی مدد ملتی ہے۔اگر انسان کا عمل اس کی سوچ کا آئینہ دار ہوتا ہے توپھر ان افراد کے فکرو عمل روشنی میں پاکستان میں سیکولرازم کا نفاذکس قدر خطرناک مضمرات کا حامل ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہےان افراد کے نظریات سے سیکولرازم کا جو مفہوم سامنے آتا ہے اس سے سیکولرازم سے مراد محض "غیر جانبداری" نہیں بلکہ صریحاً الحاد اور اسلام دشمنی ہے۔ ان کے خیالات علامات ہیں اس فکری سرطان کی جس کا مرض انہیں لاحق ہے۔  


چوتھاحصہ



سیکولر ازم کے نفاذ کےمضمرات

آئین پاکستان کی روسے پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے۔اسلام پاکستان کا سرکاری مذہب ہے ۔پاکستانی آئین قر آن وسنت کی بالا  دستی کے اُصول پر قائم ہے۔یہی وجہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 227 کی رو سے قرآن وسنت کے منافی کسی قسم کاقانون جوقرآن وسنت سے متصادم ہو ،کہ اسلام کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔بالفرض پاکستان میں سیکولرازم کو نافذ کردیاجائے،تواس سے جو گھمبیر انقلاب رونما ہوگا اور اس بنیادی تبدیلی کے پاکستان کے ریاستی ڈھانچے اور سماجی اداروں پر جو اس کے اثرات مرتب ہوں گے اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔اسلام کے بنیادی اصول کے مطابق حاکم حقیقی صرف اللہ ہے۔قرآن مجید میں متعدد آیات میں اس بنیادی حقیقت کوواضح کیاگیا ہے۔مثلا ارشادہوتا ہے: إِنِ الْحُكْمُ إِلالِلَّهِ (یوسف)یعنی"حکم کسی کا نہیں مگر اللہ کا"
ایک اور جگہ فرمایا:
"أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ "
"خبردار،اسی کے لیے حکم کرنا ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے۔"(الانعام:62)

اسلامی نظریہ کے مطابق حکومت اور سلطنت کی اصل مالک ذات باری تعالیٰ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ کے نمائندے کی حیثیت سے جہاں شریعت کے ترجمان ہیں وہاں مسلمانوں کے سیاسی سربراہ بھی ہیں۔بعد میں آنے والے خلفاء اور مسلم حکمران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی اس سیاسی حیثیت کے ذمہ دار متصور ہوتے ہیں جو ایک مقدس امانت ہے۔اسلامی ریاست کا مقصود ہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام دنیا میں اس کی شریعت کے مطابق نافذ کرے۔سید سلیمان ندوی فرماتے ہیں:
"اس عقیدہ کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ یہ مانا جائے کہ احکام کے اجراء اور قوانین کے وضع کا اصل حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔البتہ اس نے اپنی شریعت میں احکام اور قوانین میں جوکلیات اور قواعد بیان فرمادیئے ہیں ان کے تتبع سے اہل علم اور مجتہدین دین نئے نئے احکام جزئیہ مستنبط کرسکتے ہیں"
وہ مزید لکھتے ہیں:۔
"اہل عقل اپنی ناقص عقل سے جو کچھ کہتے ہیں اگر وہ حکم الٰہی کے مطابق نہیں ہے تو گو اس میں کچھ ظاہری مصلحتیں ہوں مگر حقیقی مصلحتوں کے جاننے کے لیے امر  غائب اور مستقبل کا صحیح علم ہونا ضروری ہے۔اوریہ انسان کے بس سے باہر کی بات ہے۔اس لیے حقیقی مصلحتیں اسی حکم میں ہیں جس کو خدائے عالم الغیب نے نازل فرمایا"(سیر النبی صلی اللہ علیہ وسلم :جلد ہفتم،صفحہ :174)
اسلام کے ان اساسی نظریات کا موازنہ اگر سیکولر ازم کے بنیادی تصورات سے کیاجائے،تو دونوں میں بعد المشرقین ہے۔سیکولرازم میں خدائی احکام کی بجائے  عقل کی تاویلات کو اہمیت دی جاتی ہے۔سیکولرازم کی بنیاد ہی مذہب سے نفرت اور بیزاری پر مبنی ہے۔اگر سیکرلر ازم کو پاکستان میں نافذ کردیاجائے۔تو اس کا پہلا نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلام ریاست کا سرکاری مذہب نہیں رہے گا۔کیونکہ سیکرلرازم کے مطابق مذہب ایک شخصی معاملہ ہے جس کا ریاستی اُمور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔جب مذہب کی سرکاری حیثیت ختم ہوجائے تو پھر قرآن وسنت کی قانونی ڈھانچے میں بالادستی بھی قائم نہیں رہے گی۔کوئی بھی قانون چاہے وہ قرآن وسنت سے کس قدر متصادم ہو۔اُسے چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔اب تک پاکستان میں یہ صورت ہے کہ اگرچہ اسلامی شریعت کا مکمل نفاذ عمل میں نہیں لایاگیا،جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکمران طبقہ اسلام سے مخلص نہیں ہے۔مگر رائے عامہ کے دباؤ کے تحت پاکستان کے کسی بھی سیکرلر حکمران کو قرآن  وسنت کی صریحاً خلاف ورزی پر مبنی کسی بھی قانون کو نافذ کرنے کی اب تک جراءت نہیں ہوئی ہے۔مثلا ًپاکستان کے کئی حکمران شراب نوشی میں مبتلا رہے ہیں لیکن پاکستان میں شراب نوشی کو جائز قراردینے کا حوصلہ کسی کو بھی نہ ہوا۔پاکستان میں ابھی تک سودی نظام رائج ہے۔ مگر کسی بھی صدر یا وزیر اعظم یا کسی فوجی حکمران نے سود کو جائز قرار دین کی ہمت نہیں کی۔سودی نظام کو جاری رکھنے میں مختلف تاویلات سے کام لیا جاتارہا ہے اور مستقبل میں غیر سودی نظام رائج کرنے کے وعدوں    پر عوام کو مسلسل ٹرخایا جاتا رہا ہے۔اگر سیکولر ازم کو پاکستان کی نظریاتی اساس تسلیم کرلیا جائے تو پھر شراب نوشی اورسودی کاروبار کو اگر کوئی جائز قرار دیتا ہے تو اس کو چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔

2۔پاکستان کا سیکرلر طبقہ جو آج کل سیکولر ازم نافذ کرنے کامطالبہ کررہاہے اور سیکولرازم کو محض "ریاستی غیر جانبداری" کا نام دیتاہے۔اگر اسے مکمل اقتدار مل گیا تو پھر یہ محض غیر جانبدار نہیں رہے گا۔دینی طبقہ علماء اور اسلام پسندوں کے خلاف یہ جس طرح کی شدید نفرت کرتے ہیں،اس کا عملی مظاہرہ اقتدار پر قبضہ کرنے کے فوراً بعد سامنے آجائے گا۔ترکی اور دیگر اسلامی ممالک میں لادینیت پسندوں نے علماء  کو جس بہیمانہ  تشدد اور ذلت آمیز سلوک کا نشانہ بنایا وہ اسلامی  تاریخ کا  تاریک  ترین باب ہے۔جب لادینیت پسند اقتدار میں نہیں ہوتے تو یہ برداشت اور رواداری کے ترانے گاتے ہیں،مگر اقتدار میں آکر ان پر وحشت اور بربریت غالب آجاتی ہے۔ترکی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔1998ء میں ترک پارلیمنٹ کی رکن ایک خاتون محترمہ مردہ کی محض اس جرم کی  پاداش میں نہ صرف پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کردی گئی بلکہ انہیں ملک بدر  بھی کردیا گیا کہ وہ اسمبلی کے اجلاس میں سرپر سکارف لے کرآئی تھیں جو کہ اسلامی خواتین کے شرم وحیا کی علامت ہے ۔ترکی کے بظاہر مسلمان مگر  اصل میں روشن خیال لادینیت پسندوں کو ان خواتین پر توکوئی اعتراض نہیں ہے۔جو اسمبلی میں یورپی لباس اسکرٹ وغیرہ پہن کر آتی ہیں۔مگر ایک خاتون رکن کے سکارف پہننے سے ان کا سیکولر خطرے میں پڑ جاتاہے۔

3۔یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اگرچہ اقتدار کی قوت سے لوگوں کے دلوںسے اسلام سے وابستگی کا مکمل خاتمہ کرنا ممکن نہیں ہے جیسا کہ سوویت یونین کی سنٹرل ایشیاء پر ظالمانہ اجارہ داری کے  باوجود مسلمان ریاستوں سے اسلام کو ختم نہیں کیا جاسکا۔اور جیسا کہ اتاترک اور اس کے سیکولر جانشینوں کی تمام تراسلام دشمن کاروائیوں کے باوجود ترکی میں ایک دفعہ پھر عوام میں اسلام پسندوں کو مقبولیت حاصل ہورہی ہے۔مگر یہ حقیقت  فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اگر اقتدار پر سیکولر طبقہ قابض ہوجائے اور ان کا اقتدار طوالت اختیار کرجائے تو اس ملک  میں اسلام پسندوں کی اخلاقی وسیاسی طاقت میں کمی آنے کے ساتھ ساتھ اسلامی  تعلیمات کے  فروغ کا سلسلہ بھی متاثر ہوتا ہے۔حکمران طبقہ کا اسلام کے خلاف زہریلا پراپیگنڈہ نوجوان نسل کے اذہان کو متاثر کردیتا ہے جس کے نتیجے میں ان کی اسلاف سے محبت میں کمی آجاتی ہے۔وسطی ایشیا کی مسلمان  ریاستوں کے مسلمان اگرچہ کافر نہیں ہوئے سچی بات یہ ہے کہ  روسی کمیونسٹوں کی اسلام پرقدغنوں کی وجہ سے وہ صحیح معنوں میں مسلمان بھی نہ رہ سکے۔یہی وجہ ہے کہ سوویت یونین سے آزاد ہونے کے باوجود ازبکستان ،تاجکستان،قازقستان اور دیگر وسط ایشا کی مسلمان ریاستوں پر جو گروہ قابض ہے۔وہ نظریاتی اعتبار سے اب بھی اشتراکی ہے۔سیکولر ریاست میں چونکہ آزادی اظہار کے نام پر عریانی وفحاشی کو خوب  تشہیر دی جاتی ہے۔ذرائع ابلاغ جنسی شہوت  رانی کو ہوادینے والے پروگرام نشر کرتے ہیں جو نوجوان نسل کے اذہان کو مسموم کردیتے ہیں،اسی لیے قوم کی اچھی خاصی  تعداد ان سفلی لذات کوشیوں کی عادی ہوجاتی ہے۔ایک وقت ایسا آتا ہے کہ سیکولر ریاست میں ایک بہت بڑا گروہ پیدا ہوجاتا ہے۔جو اپنے آپ کو اسلامی قوتوں کو حریف سمجھتے ہوئے سیکولرازم کا اسی طرح جذباتی انداز میں دفاع کرتاہے۔جس طرح مذہبی طبقہ اسلام یا کسی دوسرے مذہب کا کرتا ہے۔یورپ اور ترکی میں بالکل یہی صورت رونما ہوتی ہے۔اب اگر یورپی ملک میں سیکولرازم کے خلاف بات کی جائے،تو وہاں کے ذرائع ابلاغ  کے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے طوفان کھڑا کردیتے ہیں اور بات کرنے والے کو منہ چھپانا مشکل ہوجاتا ہے۔

4۔پاکستان کے لادینیت  پسند مغرب زدہ طبقہ کا اصل ہدف ہی یہ ہے کہ ترقی کے نام پر اس ملک میں مغربی تہذیب اور الحاد کو رواج دیاجائے۔وہ خود سوچنے سمجھنے یا آزادانہ تحقیق کی صلاحیت سے محروم ہے۔ان کا فکر حقیقی سرچشمہ تہذیب مغرب ہی ہے۔یورپی مفکرین کے افکار کی جگالی کو ہی یہ لوگ دانشوری کا نام دیتے ہیں۔پاکستان کے بدیسی اشتراکیوں کو کوئی تحریر دیکھیں یا ان کی تقریر سنیں۔ڈیڑھ درجن اشتراکی اصطلاحات کو گھما پھرا کر یہ لوگ موقع بے موقع بیان کرتے رہتے ہیں۔یہی حال مغربی تہذیب کے دلدادگان کا ہے۔پاکستانی کلچر،اُردو زبان،مقامی لباس،مقامی کھانوں اور مقامی اقدار سے انہیں قطعاً کوئی دلچسپی نہیں ہے،بلکہ اُن سے یہ نفرت کرتے ہیں۔مقامی اقدار سے نفرت کے اظہار کو یہ روشن خیالی کا نام دیتے ہیں۔ اگر اس ملک میں سیکولرازم کو نافذ کردیاجاتا ہے۔تو سرکاری ذرائع ابلاغ میں قومی ثقافت کو معمولی سی جھلک جو آج ہم د یکھ پاتے ہیں،یہ بھی مفقود ہوجائےگی۔اتاترک نے ترکوں کو  ترکی ٹو پی پہننے سے منع کردیا،اس نے اعلان کیا کہ  ترکوں کا لباس غیر مہذب اور ٖغیر شائستہ ہے لہذا اس نے مغربی لباس کا  پہننا ضروری قرار دیا۔اس نے عربی رسم ا لخط کی بجائے رومی  رسم الخظ جاری کیا جس کے نتیجے میں  ترکوں کی آنے والی نسلیں مسلمانوں کے عظیم تاریخی ورثہ اور کتب سے بے گانہ ہوکر رہ گئیں۔

5۔پاکستان میں سیکولر ازم کے نفاذ کی صورت میں سب سے زیادہ زور دینی مدارس پر پڑنے کا امکان ہے۔پاکستان کا لا دین طبقہ دینی مدارس کو"دہشت گردی کے اڈے" قرار دے کر ان پر  پابندی لگانے کا مطالبہ کررہاہے۔امریکہ اور یورپی ممالک کو بھی دینی مدارس کا وجود ایک آنکھ نہیں بھاتا کیونکہ ان مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ مغربی  تہذیب سے نفرت  کرتے ہیں اور  پاکستان میں الحاد کے  فروغ میں مزاحم بنے ہوئے ہیں۔وزیر داخلہ معین الدین حیدر کا جو بیان 11 جون 2000ء کو نیویارک میں چھپا،اس میں مبینہ طور پر انہوں نے کہا کہ وہ ایسے دینی مدارس پر پابندی عائد کردیں گے جومغرب کے خلاف نفرت  پھیلا رہے ہیں۔پاکستان میں این جی اوز کا نیٹ ورک دینی مدارس کو بدنام کرنے کی گھٹیا مہم شروع کئے ہوئے ہے۔اب اگر یہ صورت ہے تو سیکولرازم کے نفاذ کے بعد سنگین صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔مصطفیٰ کمال اتاترک نے خلافت کاخاتمہ کرتے ہی دینی مدارس پر پابندی عائد کردی تھی۔

6۔سیکولرازم میں کسی ایسے نظام تعلیم کو برداشت نہیں کیاجاتا جس میں مذہبی تعلیمات کا ذکر ہو، پاکستان کے موجودہ نظام تعلیم میں ایک خاص  تناسب سے اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کو مختلف درجات میں نصاب کا حصہ بنایا گیاہے۔اگر پاکستان کو خدانخواستہ سیکولر ریاست بننے دیا گیا تو یہاں کا نظام تعلیم یکسر لادینی اور مذہبی دشمن ہوجائے گا۔اسلامیات اور مطالعہ پاکستان جیسے مضامین کو شامل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔تعلیمی اداروں کا ماحول لبرل اور ماڈرن ہوجائے گا۔یونیورسٹیوں میں ہی نہیں بلکہ کالجوں میں بھی مخلوط  تعلیم کو رائج کردیا جائے گا۔تعلیمی اداروں میں جنسی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے گا۔یہ بات تو پہلے ہی یونیسکو کے پروگرام میں شامل ہے۔موسیقی اور لہوولعب کے پروگراموں کے تعلیمی اداروں میں انعقاد پر کسی قسم کی قد غن نہیں ہوگی۔کسی ایسے فرد کو تعلیمی اداروں میں ملازمت نہیں ملے گی جو سیکولرازم پر یقین نہ رکھتا ہو۔مصر کی سیکولر حکومت نے طالبات پر پابندی لگادی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں سکارف اوڑھ کر نہیں جاسکتیں۔پاکستان کے لادینیت پسند ان سے پیچھے نہیں رہیں گے۔ آزادانہ اختلاط کی وجہ سے نوجوان نسل میں جنسی بے راہ  روی فروغ  پائے گی۔پاکستان جیسی اسلامی مملکت میں خداوہ دن نہ دکھائے جب تعلیمی اداروں میں نے نکاحی مائیں زیر تعلیم ہوں جیسا کہ جدید یورپ میں ہورہاہے۔

7۔پاکستان میں این جی اوز نے عورتوں کے حقوق کے نام پر پہلے ہی فتنہ کھڑا کررکھا ہے۔سیکولرازم کے نفاذ کے بعد پاکستانی خاندانی نظام کا شیرازہ بکھر جائے گا۔پاکستان میں  طلاقوں کی شرح میں ہوش ربا اضافہ ہوجائےگا۔لبرل عورتیں یورپ کی طرح کھل کھلا اپنے آشناؤں کے ساتھ میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا شروع ہوجائیں گی اور قرآن  وسنت کی  رُو سے ان پر گرفت نہیں کی جاسکے گی۔این جی اوز خواتین کے لیے ہر وہ حق مانگ رہی ہیں جس میں ان کی آزادانہ مرضی کو دخل ہو۔یورپ کی عورتوں نے اسی آزادانہ مرضی کا حق استعمال کرتے ہوئے ہم جنس پرستی کو بنیادی حقوق میں شامل کروالیا ہے۔ازدواجی عصمت دری کی سزا بھی نافذکی گئی،تو کئی شوہروں کو جیل کی ہواکھانی پڑے گی۔خواتین جب چاہیں گی،مردوں کو طلاق دے کر نئی منزلوں کا سفر اختیار کرلیں گی۔سیکولر ازم کے نفاذ کے بعد پاکستان میں گھریلو زندگی کانقشہ یکسر بدل جائے گا۔اسقاط  حمل کی اجازت کی وجہ سے جنسی بے راہ روی کا سیلاب آجائے  گا۔

8۔پاکستان کے سیکولر ریاست بننے سے جہاد کشمیر کو سخت نقصان پہنچے گا۔پاکستان کا سیکولر  گردش خیال طبقہ جہاد کو دہشت  گردی  تصورکرتاہے۔سیکولر د انشور پاکستان میں جہادی کلچر کے فروغ پانے کا واویلا کررہے ہیں۔اور اسے سول سوسائٹی کے لیے شدید خطرہ قرار دے رہے ہیں۔راقم الحروف نے کئی سیکولر افراد کو مسئلہ کشمیر کو پاکستان کے لیے سرطان کہتے ہوئے سنا ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کو بھول جائے۔پاکستان کا  سیکولر طبقہ بھارت سے خاص الفت رکھتا ہے۔وہ پاکستان اور بھار ت کے درمیان جغرافیائی سرحدوں کی موجودگی پر  سخت پریشان ہے۔وہ بھارت میں آزادانہ آمدورفت اور میل ملاپ کا حامی ہے۔بھارت میں جا کر پاکستان کے خلاف زبان درازیاں کرنا ان کا معمول ہے۔وہ بھارت اور  پاکستان کے کلچر میں کوئی  فرق تسلیم کرنے کوتیار نہیں ہے۔

9۔پاکستان کا سیکولر طبقہ صوبوں کے حقوق کے نام پر وفاق پاکستان کے خلاف سازش میں مصروف ہے۔یہ محض حسن اتفاق نہیں ہے کہ الطاف حسین ،سرائیکی صوبہ تحریک کے سربراہ تاج لنگا،پختونخواہ کا مطالبہ کرنے والے بلوچستان کے محمود  اچکزئی،عطاءاللہ مینگل وغیرہ سب سیکولر ہیں۔پاکستان کو اگر سیکولر ریاست بنادیاجائے تو علاقائی ،لسانی اور نسلی  تعصبات کو مزید ہوا ملے گی۔پاکستان دشمنوں کو اپنی سازشوں  پر عمل درآمد کرانے میں سازگار فضا میسر آئے گی۔

10۔سیکولرازم کے نفاذ کے بعد پاکستان میں سب سے اہم تبدیلی یہ آئے گی کہ پاکستان اپنے قیام کے جواز سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔پاکستان کا صحیح تشخص ،اس کی اسلام سے وابستگی  ہے۔سیکولر ازم کا ہدف پاکستان جیسے اسلامی معاشرے کو اسلامی تشخص سے محروم کرکے اس میں مغربی تہذیب کی ملحدانہ اقدار کو پروان چڑھانا ہے۔ہمارے سیکولر دانشوروں کو  پاکستان کے نام کے ساتھ"اسلامی جمہوریہ"کے الفاظ تک پسند نہیں ہیں۔حال ہی میں تحریک استقلال کے رہنما اصغر خان نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کے نام سے اسلامی کا لفظ ختم کردیا جائے۔یہ محض اصغر خان کی سوچ نہیں ہے۔پاکستان کا ہر قاتل ذکر دانشور جو سیکولرازم پر یقین رکھتاہے یہی  فکر رکھتا ہے۔پاکستان کے اسلامی  تشخص کو برقرار رکھنے کا سوال پاکستان کے مستقبل اور بقا کے سوال سے جڑا ہوا ہے۔یہ ایک  عظیم چیلنج ہے جو اہل پاکستان کو  فکری ارتداد کا شکار پاکستانیوں کی طرف سے دیا جارہاہے۔بیرونی اعتبار سے پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کا ذمہ تو پاکستان کی مسلح افواج نے  لے ر کھاہے۔مگر اس مملکت خدادادکی نظریاتی سرحدوں کی ذمہ داری  کون سنبھالے گا؟یہ ہم سب کے سوچنے کی بات ہے۔اگر ہم ایک زندہ قوم کی طرح سے اپنا و جودبرقرار  رکھنا چاہتے ہیں،تو اس اہم قومی مسئلہ سے چشم پوشی نہیں کرسکتے۔سیکولرازم ایک  عظیم  فتنہ ہے جس کی بیخ کنی انفرادی جدوجہد کی بجائے اجتماعی  تحریک کے ذریعہ ہی ممکن ہے!!