كهڑے ہوكر پيشاب كرنے كى شرعى حيثيت

حالات كى نوعيت كچھ اس طرح كى ہے كہ جدت پسندى اور مغربى تہذيب سے مرعوبيت روز بروز مسلمانوں ميں مہلك وائرس كى طرح پھیلتى جارہى ہے جس كى ايك كڑى يہ بهى ہے كہ ايئرپورٹس، ہوٹلز اور ريسٹورنٹس وغيرہ ميں مغربى طرز كے پيشاب خانے اور باتھ روم بنائے جارہے ہيں جن ميں بہرصورت كهڑے ہوكر ہى پيشاب كرنا پڑتا ہے- اس كے علاوہ سفر يا كاروبار كے سلسلہ ميں مختلف ممالك ميں آمدورفت ركهنے والے حضرات بهى اس مسئلہ سے دوچار رہتے ہيں- اس سلسلہ ميں جب علما سے رابطہ كيا جاتا ہے تو بعض تنگ نظر ى اور شدت پسندى كا مظاہرہ كرتے ہوئے اسے حرام تك قرار دے ديتے ہيں اور بعض اس ميں قدرے نرمى كا پہلو اختيار كرتے ہوئے اسے جائز مع الكراہت كہہ ديتے ہيں جس بنا پر عوام ذہنى كشمكش كا شكار رہتے ہيں- اس صورتِ حال كے پيش نظرافادئہ عام كى غرض سے اس مسئلہ كى فقہى تحقيق قارئين كى خدمت ميں پيش كى جارہى ہے-

كهڑے ہوكر پيشاب كرنا حرام نہيں ہے بشرطیكہ چھینٹوں سے بچاوٴ ممكن ہو اور جن احاديث ميں كهڑے ہوكر پيشاب كرنے كى ممانعت ہے، وہ ضعيف ہيں جيسا كہ شيخ محمد صبحى حسن خلاق نے اسى بات كو ترجيح دى ہے1

جواز كے دلائل حسب ِذيل ہيں :
(1) حذيفہ فرماتے ہيں كہ نبى اكرم ﷺ گندگى كے ايك ڈھیر پر آئے: (فبال قائما) اور كهڑے ہوكر پيشاب كيا- 2
(2) عبداللہ بن دينار فرماتے ہيں كہ رأيت عبدالله بن عمر يبول قائمًا ”ميں نے عبدالله بن عمر كو كهڑے ہو كر پيشاب كرتے ہوئے ديكها ہے-“ 3
(3) حضرت انس فرماتے ہيں كہ ايك مرتبہ ہم رسول اللہ كے ساتھ مسجد ميں تهے كہ إذ جآء أعرابي فقام يبول في المسجد ايك ديہاتى نے مسجد ميں آكر كهڑے ہوكر پيشاب كرناشروع كرديا- 4

اس حديث سے اس طرح استدلال كيا گيا ہے كہ بوقت ضرورت نبى نے ديہاتى كو كهڑے ہوكر پيشاب كرنے سے منع نہيں فرمايا اور بعد ميں بهى اس پر كوئى اعتراض نہيں كيا- اُصولِ فقہ ميں يہ بات مسلم ہے كہ ”تأخير البيان عن وقت الحاجة لا يجوز
”ضرورت كے وقت سے بيان ووضاحت كو موٴخر كردينا جائز نہيں ہے-“

لہٰذا اگر ايسا كرنا ممنوع ہوتا تو آنحضرت اس ديہاتى كو اس عمل پر ڈانٹتے- البتہ اس پريہ اعتراض بهى كيا جاسكتا ہے كہ چونكہ ديہاتى كو آپ نے مسجد ميں پيشاب سے بهى منع نہيں فرمايا، اس لئے مسجد ميں پيشاب بهى جائز ہوا،ليكن يہ اعتراض درست نہيں كيونكہ ديہاتى كے قضاے حاجت كے فوراً بعد آپ نے اس پر پانى كا ايك ڈول بہا دينے كا حكم ديا-جيسا كہ حديث ميں يہ الفاظ موجود ہيں : (أمرالنبي ﷺ بذنوب من مآء فأهريق عليه) 5

يہ الفاظ مسجد ميں پيشاب كے عدمِ جواز كا واضح ثبوت ہيں تاہم آپ نے كهڑے ہوكر پيشاب كرنے پر بعد ميں بهى كوئى اعتراض نہيں كيا جس سے كم ازكم اس كے جواز كا ثبوت ضرور معلوم ہوتاہے-

صحابہ، تابعين اور ائمہ كا نقطہ نظر
بيشتر صحابہ و تابعين سے بهى يہى بات منقول ہے -مثلاً حضرت عمر بن خطاب، زيد بن ثابت، ابن عمر، سہل بن سعد، انس ، على اور ابوہريرہ سے كهڑے ہوكر پيشاب كرنا ثابت ہے- ابن سيرين اور عروہ بن زبير سے بهى اسى طرح كهڑے ہو كر پيشاب كرنا منقول ہے- البتہ ابن مسعود، شعبى اور ابراہيم بن سعد نے اس عمل سے كراہت كا اظہار كيا ہے،جبكہ امام ابن منذر رقم طراز ہيں كہ” بیٹھ كرپيشاب كرنا مجهے پسند ہے ليكن كهڑے ہوكر بهى جائز ہے اور يہ سب (دونوں طرح) رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے-“ 6

محدث العصر شيخ البانى  نے ان الفاظ ميں اپنے موقف كو واضح كيا ہے كہ
”كهڑے ہوكر پيشاب كا مكروہ نہ ہونا ہى حق ہے،كيونكہ اس كى ممانعت ميں كچھ بهى ثابت نہيں ہے، جيساكہ حافظ ابن حجر نے بهى (يہى) بيان كيا ہے اور مطلوب و مقصود چھینٹوں سے بچاوٴ ہے- وہ اس قاعدے ”مالايقوم الواجب إلا به فهو واجب“ ”جس چيز كے بغير واجب كا قيام ممكن نہ ہو ،وه بهى واجب ہے“ كى وجہ سے حالت ِقيام يا حالت ِقعود ميں سے جس كسى طرح سے بهى حاصل ہوجائے وہى واجب ہوگا-“7

امام شوكانى  فرماتے ہيں كہ
” كهڑ ے ہوكر اور بیٹھ كر دونوں طرح پيشاب كرنا ثابت ہے اور ہرايك (طريقہ) سنت سے ثابت ہے-“8

البتہ السيل الجرارميں امام شوكانى كا يہ قول منقول ہے كہ ”كهڑے ہوكر پيشاب كرنا حرام نہيں تو كم از كم شديد مكروہ بہرحال ضرورہے۔“ 9

جبكہ شيخ البانى  اس قول پر نقد كرتے ہوئے رقم طراز ہيں كہ
”يہ ايسى باتوں ميں سے ہے جو قابل التفات نہيں“-10

حافظ ابن حجر فرماتے ہيں كہ
”زيادہ ظاہر بات يہى ہے كہ رسول اللہ ﷺ كا يہ فعل بيانِ جواز كے لئے تها- (يعنى اس بات كى وضاحت كے لئے كہ كهڑے ہوكر پيشاب كرنا بهى جائز ہے)- “ 11

حاصل بحث
چونكہ يہ عمل سنت ِمطہرہ سے صحيح ثابت ہے، اس لئے اگر كوئى شخص آج بهى چھینٹوں سے بچاوٴ كے امكان كے ساتھ كهڑے ہوكر پيشاب كرتا ہے تو اس كے اس فعل پر قدغن نہيں لگائى جاسكتى بشرطيكہ پيشاب كے چھینٹوں سے بچاوٴ يقينى (i)ہو،جيسا كہ علامہ عبدالرحمن مباركپورى فرماتے ہيں كہ ”يہ رخصت آج بهى اسى طرح موجود ہے-“ 12
البتہ بعض فقہا اسے بلا عذر مكروہ كہتے ہيں اور صرف كسى عذر كى وجہ سے ہى جواز كے قائل ہيں- 13
ليكن پہلا قول ہى راجح ہے-

ممانعت كى احاديث اور ان كى استنادى حيثيت
جن احاديث ميں كهڑے ہوكر پيشاب كرنے كى صراحتاً ممانعت مروى ہے ، محدثين كے اُصولِ جرح وتعديل كى روشنى ميں وہ تمام ضعيف ثابت ہوتى ہيں-بطورِ مثال ان ميں سے چندايك كاتذكرہ ذيل ميں كيا جاتاہے :

(1) حضرت جابر فرماتے ہيں كہ (نهٰى رسول الله ﷺ أن يبول الرجل قائما) ”رسول اللہ ﷺ نے كهڑے ہوكر پيشاب كرنے سے منع فرمايا ہے-“ 14
امام بوصيرى نے اسے ضعيف كہا ہے كيونكہ اس كى سند ميں راوى عدى بن الفضل بالاتفاق ضعيف ہے- 15
شيخ البانى نے بهى اس حديث كو ضعيف قرار ديا ہے- 16

(2) حضرت عمر فرماتے ہيں كہ رسول اللہ نے مجهے كهڑے ہوكر پيشاب كرتے ہوئے ديكها تو فرمايا: ( يا عمر لا تَبُل قائما) ”اے عمر! كهڑے ہوكر پيشاب نہ كرو-“ (اس فرمان كے بعد) ميں نے كبهى كهڑے ہوكر پيشا ب نہيں كيا- 17
امام بوصيرى نے اس حديث كو بهى ضعيف كہا ہے كيونكہ اس كى سند ميں راوى عبدالكريم بالاتفاق ضعيف ہے- 18
امام ترمذى فرماتے ہيں كہ يہ راوى محدثين كے نزديك ضعيف ہے- 19
حافظ ابن حجر نے اسے متروك قرار ديا ہے- 20
امام نووى نے بهى اس حديث كو ضعيف كہا ہے- 21
نيز شيخ البانى  بهى اس كے ضعيف ہونے كے قائل ہيں- 22

ملاحظات اور ان كے جوابات
جن احباب كے نزديك كهڑے ہوكر پيشا ب كرنا جائز نہيں يا كم از كم مكروہ ہے، وہ مندرجہ ذيل احاديث سے استدلال كرتے ہيں، ليكن ان كا يہ استدلال درست نہيں جيسا كہ آئندہ سطور ميں ان كى طرف سے پيش كردہ ہر حديث كے بعد اس كى وضاحت كى جارہى ہے-
(1) حضرت عائشہ  فرماتى ہيں كہ (ما كان رسول الله يبول إلا قاعدًا)
رسول اللہ ﷺ صرف بیٹھ كر ہى پيشاب كرتے تهے-“ 23

ابوعوانہ كى روايت ميں يہ لفظ ہيں (ما بال رسول الله ﷺ قائما منذ أنزل عليه القرآن)”رسول اللہ ﷺ پرجب سے قرآن نازل كيا گيا ہے، آپ نے كهڑے ہوكر كبهى پيشاب نہيں كيا-“ بظاہر يہ حديث اگرچہ ہمارے موقف كے خلاف معلوم ہورہى ہے، ليكن فى الحقيقت ايسا نہيں ہے كيونكہ حضرت عائشہ كو جس قدر علم تها، اُنہوں نے اتنا ہى بيان كرديا؛ چنانچہ گهر كے معاملات كا تو اُنہيں علم تها، ليكن گهر سے باہر كے معاملات (يعنى گندگى كے ڈھیر پر آپ كے پيشاب كرنے) كى اُنہيں اطلاع نہيں ہوئى،جيساكہ امام شوكانى  اور عبدالرحمن مباركپورى نے اس كى طرف اشارہ كيا ہے - 24

شيخ البانى  رقم طراز ہيں كہ حضرت عائشہ كى حديث نفى ميں ہے جبكہ حذيفہ كى حديث اثبات ميں اور يہ بات اُصول ميں معروف ہے كہ مثبت كو نافى پر ترجيح ہوتى ہے،كيونكہ اس ميں علم كى زيادتى ہوتى ہے،اسلئے دونوں طرح پيشاب كرنا جائز ودرست ہے-البتہ پيشاب كے چھینٹوں سے اجتناب واجب ہے- 25

(2) جس حديث ميں مذكور ہے كہ ”آپ نے گهٹنے ميں زخم كى وجہ سے كهڑے ہوكر پيشاب كيا تها-“ وہ ضعيف ہے- 26
حافظ ابن حجر اس كى وضاحت يوں كرتے ہيں كہ ”اگر يہ حديث صحيح ہوتى تو اس ميں (مذكورہ مسئلہ كى) كفايت تهى (يعنى كهڑے ہوكر پيشاب كرنا صرف كسى عذر كى وجہ سے ہى جائز ہوتا) ليكن دارقطنى اور بيہقى نے اسے ضعيف كہا ہے-“ 27

(3) ايك روايت ميں يہ لفظ مروى ہيں (من الخطإ أن يبول الرجل قائما…)
آدمى كا كهڑے ہوكر پيشاب كرنا خطا ہے-“ 28
شيخ البانى فرماتے ہيں كہ ”يہ مرفوع ثابت نہيں ہے بلكہ زيادہ سے زيادہ يہ موقوف ہے -“29

(4) ايك روايت ميں عمر سے مروى ہے كہ (ما بُلت قائمًا منذ اَسلمتُ)
جب سے ميں مسلمان ہوا ہوں، ميں نے كهڑے ہوكر پيشاب نہيں كيا- “30
شيخ البانى  نے اس كى سند كو صحيح كہا ہے- 31

يہ روايت بهى ہمارے موقف كے مخالف نہيں ہے،كيونكہ اس ميں مجرد ايك صحابى كا فعل بيان ہوا ہے كہ اُنہوں نے كهڑے ہو كر كبهى پيشاب نہيں كيا،يہ تو بيان نہيں ہوا كہ ايسا كرنا ہى غلط ہے- جبكہ گزشتہ تمام دلائل و حوالہ جات اس بات كا ثبوت ہيں كہ كهڑے ہو كر پيشاب كرنا علىٰ الاطلاق حرام نہيں، البتہ چھینٹوں سے اجتناب بہرحال واجب ہے -كيونكہ جو شخص پيشاب كى چھینٹوں سے نہيں بچتا، وہ ايك كبيرہ گناہ كا ارتكاب كرتاہے، جيسا كہ ابن عباس فرماتے ہيں كہ نبى دو قبروں كے قريب سے گزرے تو ارشاد فرمايا كہ
ان قبر والوں كو عذاب ديا جارہا ہے اور ان ميں سے ايك كو عذاب ديے جانے كا سبب يہ ہے كہ (فكان لا يستنزه من البول) ”وہ پيشاب سے نہيں بچتا تها-“ 32

ايك اور روايت ميں حضرت ابوہريرة سے مروى ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے فرمايا:
(أكثر عذاب القبر من البول)”قبر كا اكثر عذاب پيشاب كى وجہ سے ہوتا ہے-“ 33

جس عمل كى و جہ سے عذابِ قبر يقينى ہو،لا محالہ اس سے اجتناب بهى ضرورى ہے-
اگرچہ گزشتہ دلائل كهڑے ہوكر پيشاب كے جواز كا ثبوت ہيں، ليكن يہ بات ياد رہے كہ قضاے حاجت كے لئے فطرى، طبى، طبعى اور چھینٹوں سے بچاوٴ كے اعتبار سے زيادہ مناسب وسہل طريقہ بیٹھ كر ہى پيشاب كرناہے- واللہ اعلم


حوالہ جات
1. التعليق على السيل الجرار:1/193
2. بخارى:224، مسلم:273
3. موٴطا:1/50
4. بخارى:220،ابوداوٴد:380،ترمذى:147،احمد:2/282
5. بخارى:221
6. شرح مسلم از نووى:1/133
7. اِرواء الغليل:1/95، رقم:57
8. نيل:1/150
9.  1/68
10. تمام المنة:ص65
11. فتح البارى :1/394
12.  تحفة الأحوذي:1/78
13.  مثلاً ديكهئے فتاوىٰ ہنديہ:1/50، ردّ محتار:1/31
14.  ابن ماجہ:306، بيہقى:1/102
15.  مصباح الزجاجہ:1/112
16.  ضعيف ابن ما جہ:63
17.  ابن ماجہ:308، مستدرك حاكم:1/185، بيہقى:1/102، ابن حبان:1423
18.  مصباح الزجاجہ:1/112
19.  ترمذى:كتاب الطهارة،باب ماجاء في النهي عن البول قائما
20.  ہدى السارى:ص442
21.  المجموع:2/84
22.  ضعيف ابن ما جہ:63 اورسلسلة الأحاديث الضعيفة :934
23.  ترمذى:12، ابن ماجہ:307، مسند احمد:6/136، ابوعوانہ:1/198، بيہقى: 1/101، السلسلة الصحيحة: 201
24.  نيل الاوطار :1/151، تحفة الاحوذى:1/76
25.  تمام المنة:ص63،اِرواء الغليل:1/95، الصحيحة:201
26.  مستدرك حاكم:1/182، بيہقى:1/101
27.  فتح البارى:1/442
28.  بيہقى:2/285، ابن ابى شيبہ:1/124
29.  تَمام المنة :64، إرواء الغليل:59
30.  مصنف ابن ابى شيبہ:1/124، مسند بزار:ص31 زوائدہ
31.  سلسلة الضعيفة: 934
32.  مسلم:292، بخارى:216، احمد:1/225، ابوداود:20، ترمذى:70
33.  احمد:2/326، مصنف ابن ابى شيبہ:1/131، مستدرك حاكم:1/83، صحيح ابن ماجہ :278


 i. مذکورہ مسئلہ میں کتاب وسنت کے دلائل سے اس نقطہ نظر کی گنجائش ملتی ہے ،لیکن شریعت ِمحمدیہ کا مزاج جو کتاب وسنت کی عمومی ہدایات کی روشنی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے، فتویٰ میں اُنہیں بھی ملحوظ رکھنا چاہیے مثلاً غیر اسلامی تہذیب اور کفار کی مشابہت سے احتراز بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔ علاوہ ازیں جس صورت میں مثانہ پوری طرح خالی ہو جائے، وہی زیادہ فطری ہے۔ اسلام چونکہ دین فطرت ہے اس لیے فطرت کے زیادہ قریب ہونے کی بنا پر جہاںبیٹھ کر پیشاب کرنا بہتر ہے، وہاں غیر اسلامی تہذیب سے کم از کم کراہت تو ہونی چاہیے لہٰذا جن حضرات نے مکروہ یا حرام کی بات کی ہے، ان کے سامنے یہ وجوہ بھی ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ اسلام میں عذر کے بغیر پسندیدہ طریقہ بیٹھ کر پیشاب کرنا ہی ہے۔  (محدث)