كيا نبی اکرمﷺکی نمازِجنازہ ہوئی تھی

آج کل ‏شیعہ حضرات کی طرف سے یہ سوال بہ کثرت پوچھا جاتا ہے کہ نبی کریمﷺ کا جنازہ کس نے پڑھایا تھا؟ اس سوال سے دراصل یہ ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے کہ صحابہ کرام بالخصوص صدیق وفاروق رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معاذاللہ خلافت کے لالچ میں آپ کے جنازہ کی بھی فکر نہ تھی۔ آپﷺکی وفات صحابہ کرام کے لئے اس قدراندوہ ناک تھی کہ بہت سے صحابہ کو اس کاکسی طور یقین نہ آتا تھا۔ وفات کے شدید دکھ کے پیش نظر یہ پہلو اسلامی لٹریچر میں کبھی تفصیل یا رغبت سے زیر بحث نہیں آتا۔ بہر طور اس الزام اور شبہ کے ازالہ کے لئے اور دفاعِ صحابہ کی غرض سے درج ذیل مضمون پیش خدمت ہے۔ ح م
نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے آپﷺکی نمازِ جنازہ کااہتمام کیا یا نہیں؟ پھر آپﷺکی نمازِ جنازہ باجماعت ادا کی گئی یا منفرد؟ اگر وہ منفرد جنازہ تھا تو بعد ازاں آپﷺکی نماز جنازہ باجماعت ادا کیوں نہ کی گئی؟یہ مختلف اعتراضات واشکالات ہیں جن کا ذیل ميں دلائل صحیحہ اور اقوالِ صریحہ سے موازنہ پیش کیا جائے گا اور آخرمیں صحیح دلائل کی رو سے راجح موقف کی نشاندہی کی جائے گی۔ ان شاء اللہ
پہلا اِشکال: کیا نبی کی نمازِ جنازہ پڑھی گئی تھی؟
نبیﷺکی مسنون نماز جنازہ پڑھی گئی یا آپﷺکےلئے محض دعا ہی کرائی گئی۔ اس تاریخی امر کے بارے علماے کرام میں اختلاف ہے۔امام نووی بیان کرتے ہیں:
''آپ ﷺکی نمازِ جنازہ کا اہتمام ہوا یاآپﷺکے لئے دعا کی گئی، اس بارے ایک سے زیادہ موقف پائے جاتے ہیں۔بعض علما کا قول ہے کہ آپﷺ کی نمازِ جنازہ سرے سے کسی نے پڑھی ہی نہیں بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین گروہ درگروہ حجرہ مبارک میں داخل ہوتے اور آپﷺکے لئے دعا کرکے واپس پلٹ آتے تھے۔ پھر ان علما نے آپ کی مسنون نمازِ جنازہ نہ پڑھنے کی دوعلتیں بیان کی ہیں :
1.آپﷺ کی فضیلت و عظمت کے پیش نظر آپﷺ کی نمازِ جنازہ نہ ادا کی گئی ، کیونکہ آپﷺ کو اس (نمازِ جنازہ) کی ضرورت نہ تھی۔ لیکن یہ قول درست نہیں،کیونکہ آپﷺ کو غسل دیا گیا ،جب کہ آپ غسل کے عمل سےبھی مستغنی تھے۔ چنانچہ جب آپ کے جسد ِاطہر کو دیگرفوت شدگان کی طرح غسل دیا گیا تو نمازِ جنازہ پڑھنے میں بھی چنداں حرج نہ تھا۔
2.بعض علما کہتے ہیں کہ آپﷺ کی نمازِ جنازہ کا اس لئے اہتمام نہ ہوسکا کیونکہ اس وقت کوئی امام نہ تھا۔یہ قول بھی باطل ہے، کیونکہ فرض نمازوں کی امامت کی ادائیگی معطل نہ ہوئی تھی اور ابوبکر صدیق﷜ آپ کی تدفین سے قبل ہی خلیفہ نامزد ہوچکے تھے۔''1
شرح نووی میں بعض علما کا بیان کردہ یہ موقف کہ آپﷺ کی نماز جنازہ پڑھی ہی نہیں گئی، تاریخی طور پر ثابت نہیں ہے،بلکہ صحيح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبیﷺ کی مسنون نمازِ جنازہ کا اہتمام کیا گیا تھا اور محض رسمی دعا پرہی اکتفا نہ ہوا تھا جیسا کہ درج ذیل حدیث میں اس کی صراحت موجود ہے ،ابو عسیب یا ابو عسیم بیان کرتے ہیں:
«أنه شهد الصلاة علی رسول الله ﷺ قالوا: کیف نصلی علیه؟ قالوا: ادخلوا أرسالا أرسالا قال: فکانوا یدخلون من هذا الباب فیصلون علیه، ثم یخرجون من الباب الآخر»2
''وہ نبیﷺ کی نماز ِجنازہ میں حاضر ہوئے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ آپﷺ کی نمازِ جنازہ (باجماعت یا منفرد) کیسے پڑھیں؟ اس پر صحابہ کرام نے (باہمی مشاورت سے) کہا: تم (آپﷺ کی نمازِ جنازہ میں) ٹولیوں کی شکل میں شامل ہو جاؤ۔ چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین ایک دروازے سے داخل ہوتے اور آپﷺکی نماز ِجنازہ پڑھتے، پھر دوسرے دروازے سےنکل جاتے تھے۔''
یہ حدیث اس امر کی صریح دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نےنبیﷺ کی مسنون نمازِ جنازہ پڑھی تھی، محض دعا پر ہی اکتفا نہ کیا تھا۔ چنانچہ اس قول کو راجح قرار دیتے ہوئے امام نووی تحریر کرتے ہیں:
«والصحیح الذي عليه الجمهور أنهم صلوا عليه فرادٰی، فکان یدخل فوج یصلون فرادٰى، ثم یخرجون ثم یدخل فوج آخر فیصلون کذلك»
اس بارے راجح اور مبنی برحق موقف جمہور علماء کا ہےکہ اُنہوں (صحابہ)نے آپﷺ کی انفرادی نماز جنازہ پڑھی تھی (محض دعا پراکتفا نہ کیا تھا)۔چنانچہ ایک جماعت حجرہ شریف میں داخل ہوتی تو وہ انفرادی نمازِ جنازہ پڑھ کر باہر آجاتی، پھر دوسرا گروہ داخل ہوتا اور اس طرح از خود نمازِ جنازہ کااہتمام کرتا۔3
دوسرا اِشکال: آپﷺ کی نمازِ جنازہ کا باجماعت اہتمام ہوا یا انفرادی؟
نبی اکرمﷺ کی نماز ِجنازہ کےمتعلق علما کا دوسرا اختلاف یہ ہے کہ آپﷺکی نماز جنازہ باجماعت ادا کی گئی یا ہرشخص نے از خود نمازِ جنازہ کا اہتما م کیا؟
قول اوّل:ابن قصار نے اس مسئلہ میں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے آپﷺ کی نمازِ جنازہ انفرادی طور پر پڑھی یا نماز باجماعت کا اہتما م کیا گیا؟ ....علما کا اختلاف بیان کیا ہے، پھر ان کا اس بات میں بھی اختلاف ہے کہ نما زباجماعت کی امامت کس نے کرائی تھی؟ چنانچہ ایک سند سے مروی ہے کہ ''آپﷺ کی نماز جنازہ کی امامت کے فرائض سیدنا ابوبکر نے انجام دیے تھے۔'' اس روایت پر جرح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ اس میں حرام نامی راوی ہے جس کی وجہ سے یہ روایت سخت ضعیف ہے اور ابن دحیہ کہتے ہیں:یہ روایت راویوں کے ضعف اورسند میں انقطاع کی وجہ سے قطعی باطل ہے۔4
آپﷺ کی نماز جنازہ کا باجماعت اہتمام ہونے کے بارے میں کوئی صحیح اور مستند روایت نہیں لہٰذا یہ موقف مرجوح اور ناقابل التفات ہے۔
قول ثانی: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے باہمی مشاورت کے بعد آپﷺکی نماز جنازہ کاانفرادی طور پر اہتمام کیا او رہر صحابی نے آپﷺکی نماز جنازہ اپنےطور پر ادا کی۔ یہی موقف راجح اور أقرب إلى الصواب ہے۔اس موقف کی حقانیت کے دلائل حسب ذیل ہیں:
1. ابوعسیب کی گذشتہ حدیث جس میں وضاحت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے باہمی مشاورت سے آپﷺ کی نمازِ جنازہ منفرد پڑھنے کا فیصلہ کیا تھا اور صحابہ جماعت در جماعت حجرۂ مبارک میں داخل ہوکر نماز جنازہ کا از خود اہتمام کرتے تھے۔5
2. حافظ ابن عبدالبر بیان کرتے ہیں:
«وأما صلاة الناس علیه أفذاذا یعني علی النبي ﷺ فمجمع علیه عند أهل السیر، وجماعة أهل النقل لا یختلفون»6
''نبی اکرم ﷺ کی نمازِ جنازہ انفرادی طور پر ادا کی گئی۔ سیرت نگاروں او راہل نقل کے ہاں یہ مجمع علیہ اور متفقہ مسئلہ ہے جس پر ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔''
3. امام شافعیؒ نقل کرتے ہیں:
«صلی الناس علی رسول الله ﷺ أفرادا لا یؤمهم أحد»7
''لوگوں نے رسول اللہﷺ کی نمازِ جنازہ اکیلے اکیلے ادا کی۔ کسی نے بھی اُنہیں باجماعت نماز کی امامت نہ کرائی۔''
4. ابن دحیہ ؒکہتے ہیں:
«والصحیح أن المسلمین صلوا عليه أفرادا لا یؤمهم أحد»8
''راجح اور درست بات یہ ہے کہ مسلمانوں نے آپﷺ کی فرداً فرداً نماز ِجنازہ پڑھی اور کسی بھی شخص نے نمازِ باجماعت کی امامت کے فرائض ادا نہ کئے۔''
امام نووی نے بھی اسی قول کو راجح قرار دیا ہے۔9
تیسرا اِشکال: نبیﷺ کی نمازِ جنازہ باجماعت کیوں نہ پڑھی گئی؟
صحابہ کرام نےنبی اکرمﷺ کی نمازِ جنازہ کا باجماعت اہتمام کیوں نہ کیا اوروہ کون سے عوامل و اسباب تھے جن کی وجہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے انفرادی طور پر آپﷺ کی نمازِ جنازہ پڑھنےکو فوقیت دی؟ اس بارے علما کے کئی اقوال ہیں جنہیں درج کرنے کے بعد راجح قول کی نشاندہی کی جائے گی۔
پہلا سبب: آپﷺنے اسی کی ہدایت کی تھی
ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن احمدسہیلی آپﷺکے انفرادی نمازِ جنازہ پڑھے جانے کی یہ علت بیان کرتے ہیں:
«وهذاخصوص به ﷺ ولا یکون هذا الفعل إلا عن توقیف وکذلك روي أنه أوصٰی بذلك»10
''یہ (انفرادی نمازِ جنازہ پڑھنا) آپﷺ کا خاصہ ہے۔ او ریہ فعل کسی توقیفی (منزل من اللہ) حکم کے بغیر روبہ عمل نہیں ہو سکتا تھا۔ نیز یہ بھی مروی ہے کہ آپﷺنے اس بات کا (صحابہ کرام کو) پابند کیا تھا۔''
جہاں تک انفرادی نمازِ جنازہ کا اہتمام کے نبیﷺ کا خاصہ ہونے کی بات ہے تو کتاب و سنت میں کوئی ایسی ٹھوس دلیل موجودنہیں اور ایسی روایات جس میں نبیﷺنے صحابہ کرام کو حکم دیا تھا کہ وہ آپﷺکی نماز ِجنازہ اکیلے اکیلے ادا کریں، انتہائی ضعیف اور ناقابل حجت ہیں۔ ذیل میں ہم ایسی روایات او ران کا حکم بیان کریں گے:
1. سیدنا علی نے آپ ﷺسے عرض کیا :
«یا رسول الله ﷺ ! إذا أنت قُبضتَ فمن یغسلك، وفیم نکفّنك، ومن یصلی علیك، ومن یدخل القبر؟ فقال النبي ﷺ: یا علي! أما الغسل فاغسلني أنت، والفضل بن عباس یصب علیك الماء وجبریل عليه السلام ثالثکما، فإذا أنتم فرغتم من غسلي فکفنوني في ثلاثة أثواب جدد، وجبریل عليه السلام یأتني بحنوط من الجنة، فإذا أنتم وضعتموني علی السریر فضعوني في المسجد واخرجوا عني،فإن أوّل من یصلی علي الرب عز وجلّ من فوق عرشه ثم جبریل عليه السلام ثم میکائیل ثم إسرافیل عليهما السلام ثم الملائكة زمرًا زمرًا، ثم ادخلوا فقوموا صفوفًا لا یتقدم علي أحد»11
''یار سول اللہ ﷺ! جب آپﷺ فوت ہوں گے تو آپﷺ کو غسل کون دے گا؟ ہم آپﷺ کو کفن کس میں دیں گے، آپ کی نماز جنازہ کون پڑھائے گا اور آپ کو قبر میں کون اُتارے گا؟ اس پر نبیﷺنے فرمایا: اے علی! غسل تو مجھے تم دینا، فضل بن عباس مجھ پر پانی بہائیں گے اور جبرئیل علیہ السلام تمہارے تیسرے ساتھی ہوں گے۔ سو جب تم میرے غسل سے فارغ ہوجاؤ تو مجھے تین نئے کپڑوں میں کفنانا اور جبرئیل علیہ السلام میرے لئے جنت سے حنوط (خوشبو) لائیں گے اور تم مجھے چارپائی میں رکھو تو مجھے مسجد میں رکھ کر مجھ سے پرے ہٹ جانا۔ چنانچہ سب سے پہلے جو میری نمازِ جنازہ پڑھیں گے، وہ ربّ تعالیٰ عرش کے اوپر سے (میری نمازِ جنازہ ) پڑھیں گے۔ پھر جبرئیل بعد ازاں میکائیل، اس کے بعد اسرافیل پھر تمام فرشتے جماعت در جماعت میری نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔ پھر تم حجرہ میں داخل ہونا اور صفوں میں کھڑے ہونا، کوئی بھی میرا پیش امام نہ بنے۔''
2. سیدنا عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں:
«لما ثقل رسول الله ﷺ، قلنا: من یصلي علیك یا رسول الله ﷺ؟ فبکی وبکینا وقال مهلا: غفر الله لکم وجزاکم عن نبیکم خیرًا، إذا غسلتموني وحنطتموني وکفنتموني فضعوني علی شفیر قبری، ثم اخرجوا عني ساعة، فإن أوّل من یصلي علي خلیلي وجلیسي جبریل ومیکائیل، ثم إسرافیل، ثم ملك الموت مع جنود من الملائکة، ثم لیبدأ بالصلاة على رجال أهل بیتي، ثم نساؤهم، ثم ادخلوا أفواجًا أفواجًا وفرادٰی»12
''جب رسو ل اللہﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو ہم نے عرض کی: یارسول اللہﷺ! آپ کی نمازِ جنازہ کون پڑھائے گا؟ اس پر آپﷺرو دیئے او رہم بھی اشک بار ہوگئے۔ پھر کچھ دیر بعد آپﷺنے فرمایا: اللہ تعالی تمہاری مغفرت فرمائے اور تمہارے نبی کی طرف سے تمہیں جزائے خیر دے۔ جب تم مجھے غسل دے لو ، مجھے کافور لگا لو اور مجھے کفن دے دو تو مجھے میری قبر کے کنارے رکھ دینا، پھر کچھ دیر کے لئے مجھ سے دور ہوجانا، چنانچہ سب سے پہلے میری نمازِ جنازہ میرے خلیل و ہم نشین جبرئیل و میکائیل پڑھیں گے، پھر اسرافیل، ازاں بعد ملک الموت فرشتوں کے لشکروں سمیت میری نماز جنازہ پڑھیں گے۔پھر میری نمازِ جنازہ کا آغاز میرے اہل بیت کے فرد، ان کے بعد اہل بیت کی عورتیں کریں۔پھر تم گروہ در گروہ اور تنہا تنہا داخل ہونا(اور نماز ادا کرنا)۔''
نیز اس معنی کی تمام روایات جن میں وضاحت ہے کہ نبیﷺنے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو فرداً فرداً نماز جنازہ پڑھنے کا حکم دیا تھا، ضعیف اور ناقابل حجت ہیں۔امام شوکانی اس مفہوم کی تمام روایات پران الفاظ میں تبصرہ کرتے ہیں:
«وأما ما روي أن صلاتهم علیه فرادٰی کان بوصية منه ﷺ فلم یصح في ذلك شيء»13
''اور وہ روایات جن میں منقول ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے آپﷺکی انفرادی طور پرنمازِ جنازہ آپ کے حکم کے پیش نظر ادا کی تھی، ایسی کوئی بھی روایت پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔''
دوسرا سبب : خلیفہ کے تعین کا خدشہ
نبیﷺ کی باجماعت نمازِ جنازہ کا اہتمام نہ کرنے کا دوسرا سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ چونکہ ابھی خلیفہ کی نامزدگی عمل میں نہ آئی تھی لہٰذا خدشہ تھا کہ جو شخص آپﷺکی نماز جنازہ کی امامت کرائے گا تو وہ اس عمل سے ہمیشہ کے لئے امام و خلیفہ مقرر ہوجائے گا۔چنانچہ
1. امام رملیؒ بیان کرتے ہیں:
«لأنه لم یکن قد تعین إمام یؤم القوم، فلو تقدم واحد في الصلاة لصار مقدما في کل شيء وتعین للخلافة»14
''آپﷺ کی باجماعت نمازِ جنازہ اس لئے نہ پڑھی جاسکی کہ ابھی ایسا امام و خلیفہ متعین نہ ہوا تھا جو لوگوں کو امامت کراتا۔ اور اگر کوئی نمازِ جنازہ میں آگے ہوتا تو وہ تمام اُمور میں امام ہوجاتا تھا اور خلافت کے لئے نامزد ہوجاتا۔''
2. صحیح مسلم کی شرح المنہاج میں بھی یہ سبب مذکور ہے کہ''آپ کی باجماعت نمازِ جنازہ کا اہتمام اس لئے نہ ہوسکا کہ اس وقت کوئی امام مقرر نہ ہوا تھا۔''15
آپﷺ کی باجماعت نمازِ جنازہ کے عدمِ اہتمام کی یہ علت و سبب غیر معتمد اور ناقابل اعتبار ہے، کیونکہ اس دوران نمازِ پنجگانہ کی امامت کی پابندی ہورہی تھی اور ان نمازوں کے لئے امام بھی مقرر تھا ۔پھر آپﷺ کی نماز جنازہ سے قبل ہی سیدنا ابوبکر صدیق خلیفہ نامزد ہوچکے تھے۔امام نووی اس علت کو باطل اور غیر مؤثر قرار دیتےہوئے کہتے ہیں:
«وهٰذا غلط، فإن إمامة الفرائض لم تتعطل، ولأن بیعة أبي بکر کانت قبل دفنه، وکان إمام الناس قبل الدفن»16
''آپﷺ کی نمازِ جنازہ باجماعت نہ پڑھنے کا یہ عذر کہ اس وقت کوئی امام مقرر نہ تھا، یہ دعویٰ باطل ہے، کیونکہ فرض نمازوں کی امامت کا عمل بحال تھا او راس لئے بھی یہ دعویٰ باطل ہے کہ ابوبکر ؓکی بیعت آپﷺ کی تدفین سے پہلے ہوچکی تھی او روہ اس سے پہلے خلیفہ بھی نامزد ہوچکے تھے۔''
تیسرا اور راجح سبب: براہِ راست اجروثواب کا کامل حصول
صحابہ کرام کے نبیﷺکی انفراداً نماز جنازہ پڑھنے کا تیسرا سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ آپﷺکے احترام و فضیلت کی وجہ اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی اس شدید خواہش اور لگن کی وجہ سے کہ وہ تمام انفراداً نمازِ جنازہ پڑھ کر برکت حاصل کریں،بایں طور کہ ان کا کوئی پیش امام نہ ہو اور ان کے او رنبیﷺکےدرمیان کوئی تیسرا فرد حائل نہ ہو تاکہ ان کے اجروثواب اور برکت کے حصول میں کمی واقع نہ ہو۔ یہ وہ محرکات تھے جن کی وجہ سے صحابہ کرام اجمعین آپﷺ کی نمازِ جنازہ انفرادی طور پر پڑھنے کے لئے متفق ہوئے تھے۔ اس سبب کے دلائل حسب ِذیل ہیں:
1. امام شافعی ؒبیان کرتے ہیں:
«صلی الناس علی رسول الله ﷺ أفرادًا ولا یؤمهم أحد، وذلك لعظم أمر رسول ﷺ وتنافسهم في أن لا یتولى الإمامة في الصلاة علیه واحد»17
''لوگوں نے رسول اللہﷺ کی نمازِ جنازہ فرداً فرداً پڑھی اور کسی بھی شخص نے اُنہیں نماز باجماعت کی امامت نہ کرائی ،کیونکہ ایک تو آپﷺ کی عظمت و احترام ملحوظ تھا، دوسرا صحابہ کرام کا اس اجروثواب میں ہم سری کا جذبہ موجزن تھا کہ آپﷺکی نمازِ جنازہ کی امامت کاکوئی ایک شخص مستحق نہ ٹھہرے۔(بلکہ وہ تمام لوگ اس اجر وثواب میں برابر کے شریک ٹھہریں)
نوٹ: رسول اللہ کے جنازے کے حوالے سے'احترام وعظمت والے' قول کی تائید شیعہ کتب میں موجود اس روایت سے بھی ہوتی ہے:
«فلما فرغ أمیر المؤمنین عليه السلام من غسله وتجهيزه تقدم فصلى عليه وحده ولم يشتركه معه أحد في الصلاة عليه وكان المسلمون في المسجد يخوضون فيمن يؤمهم في الصلاة عليه وأين يدفن؟ فخرج إليهم أمير المؤمنين عليه السلام فقال لهم: إن رسول الله ﷺ إمامنا حيًا وميتًا فيدخل إليه فوج بعد فوج منكم فيصلون عليه بغير إمام وينصرفون، وإن الله تعالى لم يقبض نبيًا في مكان إلا وقد ارتضاه لرمسه فيه وإني دافنه في حجرته التي قبض فيها فسلم القوم لذلك ورضوا به»18
''جب امیر المؤمنین (سیدنا علی﷜) آپ کے غسل اور تجہیز وتکفین سے فارغ ہوئے تو اُنہوں نے آگے بڑھ کر تن تنہا آپﷺ کی نمازِ جنازہ کا اہتمام کیا اور اس میں کوئی دوسرا فرد ان کے ساتھ شریکِ نماز نہ ہوا۔جب کہ دیگر مسلمان اس مسئلہ میں کہ آپ کی نمازِ جنازہ کی امامت کون کرائے اور آپ کی تدفین کس جگہ ہو؟سوچ وبچار میں مبتلا تھے،پھر امیر المؤمنین  ان کے پاس تشریف لائے اور ارشاد کیا:بلاشبہ رسول اللہ زندہ اور مردہ (دونوں حالتوں میں) ہمارے امام وپیش رو ہیں،لہذا تم گروہ در گروہ (حجرہ شریف میں) داخل ہو کر امام کے بغیر (انفرادی طور پر) آپ کی نمازِ جنازہ پڑھو اور واپس آتے جاؤ اور اللہ تعالیٰ نے نبی کو جس جگہ موت سے دوچار کیا ہے، اس نے آپ کی تدفین کے لیے اسی جگہ کو پسند کیا ہے۔ اس لیے میں آپ کو جہاں آپ کی روح قبض ہوئی ہے، حجرہ میں اسی جگہ دفنانے والا ہوں۔ چنانچہ ان کی رائے کو تمام حاضرین نے تسلیم وقبول کر لیا۔''
2. امام قرطبیؒ لکھتے ہیں:
«أرادوا أن یأخذ کل أحد برکته مخصوصًا دون أن یکون فيها تابعًا لغیره»19
''(صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین آپﷺ کی نمازِ باجماعت کے اس لئے قائل نہ ہوئے کہ) اُن میں سے ہر شخص آپﷺ کی نمازِ جنازہ کی برکت خاص کو بایں صورت حاصل کرنا چاہتا تھا کہ کوئی شخص اس برکت میں کسی دوسرے کا تابع نہ بنے (بلکہ وہ تمام اس اجروثواب اور برکت کےبرابر مستحق ٹھہریں)۔
کیا صحابیاتِ کرام بھی آپﷺ کی نمازِ جنازہ میں شریک ہوئی تھیں؟
وہ روایات جن میں آتا ہے کہ مرد حضرات کے بعد عورتوں نے بھی اِنفراداً آپﷺ کی نماز جنازہ کا اہتمام کیا تھا، وہ تمام روایات ناقابل احتجاج ہیں او راس بارے کوئی صحیح و مستند روایت موجود نہیں جس میں عورتوں کا نبیﷺ کی نمازِ جنازہ پڑھنا ثابت ہو۔ اس نوع کی کچھ روایات گزر چکی ہیں او رعورتوں کے آپﷺ کی نمازِ جنازہ پڑھنے کی عبد اللہ بن عباس سے مروی روایت بھی ضعیف ہے، جس میں آپ کی طر ف یہ قول منسوب کیا گیا ہے:
«فلما فرغوا من جهازه یوم الثلاثاء وضع على سریره في بیته ثم دخل الناس علی رسول الله ﷺ أرسالًا، یصلون علیه. حتی إذا فرغوا أدخلوا النساء، حتی إذا فرغوا أدخلوا الصبیان، ولم یؤم الناس على رسول الله ﷺ أحد»20
''پس جب بروز منگل صحابہ کرام آپﷺ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوئے تو آپ کو آپ کے گھر میں آپﷺ کی چارپائی پر رکھا گیا۔پھر لوگ گروہ در گروہ اندر داخل ہوکر نماز پڑھنا شروع ہوئے۔ حتیٰ کہ جب مرد حضرات فارغ ہوچکے تو اُنہوں نے عورتوں کو اندر بھیجا او رجب وہ (نماز سے)فارغ ہوئیں تو بچوں کو بھیجا اور لوگوں کو رسول اللہﷺ کی نماز ِجنازہ کی امامت کسی شخص نے نہ کرائی۔
کیا نبی اکرمﷺکےجسد ِاطہر کو صحابہ کرام نے یکسر نظر انداز کردیا تھا؟
شیعہ حضرات کی طرف سے بڑا واویلا کیا جاتا ہے کہ وفاتِ نبیﷺکے بعد صحابہ کرام نےنبیﷺ کو یکسر نظر انداز کردیا تھا اور وہ اس المیے کوبھول کر حصولِ خلافت کی دوڑ میں لگ گئے تھے۔ ان اعتراضات کے پس منظر میں رافضیوں کا صحابہ کرام سے دلی عداوت اور بغض و کینہ پنہاں ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ تو صحابہ کرام اجمعین کے دلوں میں آپﷺ کی وفات کا غم زائل ہوا تھا اور نہ ہی وہ اس سانحہ سے خلافت کے شوق میں اور اقتدار پر قبضہ حاصل کرنے کے لئے بے تاب تھے۔
ہوا یوں کہ انصاری صحابہ نے ایک نجی مجلس میں یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ دین کے لئے ہماری خدمات لاتعداد ہیں اور دین کی ترویج و ترقی او راستحکام میں ہمارا مرکزی کردار رہا ہے لہٰذا نبیﷺ کی جانشینی کے اصل مستحق ہم ہیں۔ اس لئے خلیفہ کی نامزدگی ہمارے قبیلہ سے ہونی چاہئے۔ اس سوچ کے پیچھے بھی کوئی اقتدار کی ہوس یا حکومت چھیننے کے عزائم پنہاں نہ تھے، بلکہ اس فکر کے پیچھے بھی دین کے استحکام اور ترویج کا جذبہ ہی کار فرما تھا۔ قبیلہ انصار کی سقیفہ بنو ساعدہ میں یہ مجلس ہورہی تھی اور اس دوران ابوبکر و عمر اور دیگر مہاجرین صحابہ مسجد نبوی ہی میں آپﷺ کی جسد ِاطہر کے قریب موجود تھے اور ابوبکر و عمر کو قبیلہ انصار کی اس منصوبہ بندی کا علم بھی مسجد ِنبوی ہی میں ہوا تھا۔
چنانچہ سیدنا ابوبکر ؓو عمرؓ انصارِ صحابہ کی اس مشاورت کے متعلق سن کر سقیفہ بنو ساعدہ میں خلافت کے حصول اور حکومت پرقبضہ جمانے کے سلسلہ میں نہیں گئے تھے بلکہ سقیفہ بنو ساعدہ میں پہنچنے کے پیچھے بھی نبیﷺکے احکامات کی تعمیل کرانے کا جذبہ کارفرما تھا،کیونکہ نبیﷺاپنی وفات سے قبل یہ حقیقت عیاں کرچکے تھے کہ خلافت قریش کا حق ہے اور خلیفہ قریشی ہی ہوگا۔چنانچہ سقیفہ بنوساعدہ میں پہنچ کر سیدنا ابوبکر صدیق نے قبیلہ انصار کو نبیﷺ کا یہ فرمان سنا یا کہ خلیفہ کا قریشی ہونا نبوی حکم ہے۔ اس حدیث کا سننا تھا کہ تمام انصار ی صحابہ فرمانِ نبویﷺسن کر حق خلافت سے دستبر دار ہوگئے اور قریشی خلیفہ کی نامزدگی کے قائل ہوگئے تھے۔ پھر ابوبکر و عمر بھی خلافت و امارت کے دل دادہ نہیں تھے بلکہ ابوبکر نے تو عمر اور ابوعبیدہ بن جراح کے نام تجویز کئے تھے کہ ان میں سے کسی ایک کو خلیفہ نامزد کرلو، لیکن عمر نے جلدی سے سیدنا ابوبکر کا ہاتھ بڑھا کر ان کی بیعت کی اور دیگر حاضرین مجلس کو بھی ترغیب دی جس پرتمام حاضرین بیعت کے لئے اُمڈ پڑے۔ یوں خلافت کا مشکل مرحلہ باتفاق نمٹ گیا اور اس قضیے کےبعد تمام صحابہ کرام مسجد ِنبوی میں حاضر ہوئے اورحضور سید الانس والجن کے جسد ِمبارک کے قریب ہی رات بسر کی۔رضوان اللہ علیہم اجمعین!
اگلے روز منگل کا دن بھی لوگوں کا خلیفہ کی بیعت کرنے میں گزرا اور نبیﷺ کی تجہیز و تکفین کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔یوں صحابہ کرام کی دانش مندی اور معاملہ فہمی کی وجہ سے خلافت کی خاطر پیش آمدہ تصادم کا خطرہ بھی ٹل گیا اور تجہیز و تکفین اور تدفین کےدوران پیش آنے والے اختلافات کابھی خاتمہ ہوا کہ تمام معاملات خلیفہ کی زیر سرپرستی بخیر حسن وخوبی انجام پائے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ وفاتِ نبیﷺکے بعد صحابہ کرام کا خلیفہ کی نامزدگی کے لئے سرگرم ہونا اور آپﷺکی تجہیز و تکفین اور تدفین میں تاخیر کی وجہ صحابہ کرام کی نبیﷺسے بے رخی اور لااُبالی پن کانتیجہ نہ تھی بلکہ ان تمام عوامل کے پیچھے نبیﷺ کی تعلیمات کی تعمیل، دینی استحکام کی فکر اور مستقبل میں مسلم اُمہ کے اتحاد کو قائم رکھنے کی سوچ ہی محرک تھی۔ نیز صحابہ کرام کی ایمان افروز بصیرت اور انتہائی دانشمندی کی وجہ سےمستقبل کے بہت سےفتنے ختم ہوگئے اور اسلامی ترقی کے راستے میں ممکنہ بہت سے خطرات کا از خود خاتمہ ہوگیا۔پھر صحابہ کرام کی نبیﷺسےمحبت و موّدت کا تو یہ عالم تھا کہ وہ تادمِ زیست نبیﷺ کو اپنا محسن و اسحان کیش مانتے رہے اور عمر بھر کبھی بھی نبیﷺ سے محبت و موّدت کے رشتے میں کبھی تنزل واقع نہیں ہونے دیا۔اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریمﷺ کی سچی محبت اورآ پ کے اہل بیت عظام اور صحابہ کرام کی مخلصانہ مودت نصیب فرمائے۔ آمین!


حوالہ جات
1المنہاج شرح صحیح مسلم از امام نووی:7‎‎‎/36

2مسنداحمد:5‎‎‎/18، الطبقات الکبریٰ لابن سعد:2‎‎/289

3شرح النووی:7‎‎‎/26

4نیل الاوطار:4‎‎‎/47

5مسنداحمد:5‎‎‎/81، طبقات ابن سعد:2‎‎‎/289

6التمہید: 4‎‎‎/397

7کتاب الأم:1‎‎‎/314

8نیل الاوطار:4‎‎‎/47

9شرح النووی:7‎‎‎/36

10الروض الانف:7‎‎‎/594،595

11معجم طبرانی کبیر:2676 یہ حدیث موضوع ہے، کیونکہ ا سکی سند میں عبدالمنعم بن ادریس بن سنان کذاب اوراس کا باپ ادریس بن سنان ضعیف راوی ہیں۔دیکھیے:مجمع الزوائد:9/130

12مستدرک حاکم:3‎‎‎/62، حلیۃ الاولیاء لابی نعیم: 1‎‎‎/168،169...یہ روایت سخت ضعیف ہے، کیونکہ اس میں سلام بن سلیمان مدائنی اورعبدالملک بن عبدالرحمن منکر الحدیث ہیں جبکہ اشعث بن خلیق ضعیف راوی ہیں۔ دیکھیے:السلسلة الضعيفة:6445

13السیل الجرار:1‎‎‎/216

14نہایۃ المحتاج:2‎‎‎/482

15شرح النووی:7‎‎‎/36

16شرح النووی:7‎‎‎/36

17کتاب الأم:1‎‎‎/314

18مرأة العقول فی شرح أخبار آل الرسول از ملا مجلسی:5‎‎‎/265، منهاج البراعة فی شرح منهج البلاغة،ص19

19الجامع لأحکام القرآن:4‎‎‎/225

20مسنداحمد:1‎‎‎/292، مسندابویعلی:22، سنن ابن ماجہ:1628، سنن بیہقی:4‎‎‎/30۔یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں حسین بن عبداللہ بن عبید اللہ ہاشمی ضعیف راوی ہے اور اس پرعلمائے جرح وتعدیل نے سخت جرح کی ہے جیساکہ یحییٰ بن معین نے کہا: ضعیف ہے۔ امام احمدؒ کا قول ہے کہ اس کی احادیث منکر ہیں اور امام بخاری کہتے ہیں کہ اس کے بارے علی بن مدینی کا قول ہے کہ میں نے اس کی احادیث چھوڑ دی ہیں ۔ ابوزرعہ کہتے ہیں کہ یہ کمزور راوی ہے او رامام نسائی نے اسے متروک کہا ہے۔ (میزان الاعتدال:1‎‎‎/537)