بم دھماکوں کو 'جہاد' قرار دینا کہاں کا اسلام ہے؟!

کتابچہ بأي عقل ودین یکون التدمیر والتفجیر جہادًا ؟ کا ترجمہ
شیخ عبد المحسن العباد مدینہ منورہ کی بزرگ فاضل شخصیت ہیں، مدینہ یونیورسٹی کے ابتدائی دو ر سے آپ وہاں حدیث کے پروفیسر رہے ہیں اور سعودی عرب سے تعلیم یافتہ پاکستان کے اکثر اہل علم آپ کے شاگرد ہیں۔ سعودی عرب میں آپ کی شرعی راے کو بڑی وقیع حیثیت حاصل ہے اور مسجد ِنبویؐ میں بھی آپ باقاعدہ درس دیتے رہے ہیں۔ موصوف کا زیر نظر مضمون سعودی عرب کے حالیہ بم دھماکوں کے تناظر میں لکھا گیا ہے اور وہاں کے مخصوص حالات میں احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہوئے موصوف نے دینی رہنمائی دینے کی کوشش کی ہے۔ عالم اسلام کو درپیش دہشت گردی او ربم دھماکوں کے سلسلے میں اس مضمون میں قرآن وحدیث سے متعدد دلائل کو حسن ترتیب سے پیش کیا گیا ہے۔بعض پہلووں سے اس موضوع پر بحث کی مزید گنجائش کے ساتھ زیر نظر مضمون کا اُردو ترجمہ نذر قارئین ہے۔ (حسن مدنی)
اسلام میں 'غلو'کی مذمت
مسلمان کو راہِ حق سے ہٹانے اور گمراہ کرنے کیلئے شیطان عموماً دو قسم کے گر آزماتا ہے:
1.اگر تو مسلمان اہل معاصی میں سے ہو توشیطان اس کے لئے خواہشات اور معاصی کو کچھ اس طرح مزین کرکے پیش کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اِطاعت وفرمانبرداری سے دور ہی رہے اور اُس کا نیک کام کرنے کو دل ہی نہ چاہے۔ فرمانِ نبویﷺہے: «حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَکَارِهِ، وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ» (صحیح بخاری:۶۴۸۷، صحیح مسلم:۲۸۲۲ )
''جنت کو ناپسندیدہ اَفعال )جن کے کرنے کا دل نہ چاہے(، جبکہ جہنم کو )نفس کی( مرغوب چیزوں کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے۔''
2.اور اگر مسلمان نیکو کار اور عابد ہو تو شیطان اس کے لئے دین میں غلو اور تشدد پسندی کو اس طرح مزین کر کے پیش کرتا ہے کہ اس کی نیکی برباد ہوجاتی ہے اور اسے اپنے تقویٰ اورپرہیزگاری کا ذرّہ برابر بھی فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ غلو بھی ناپسندیدہ ہے، فرمانِ باری ہے: ﴿يـٰأَهلَ الكِتـٰبِ لا تَغلوا فى دينِكُم وَلا تَقولوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الحَقَّ...﴿١٧١﴾... سورة النساء
''اے اہل کتاب! اپنے دین کے بارے میں حد سے نہ گزر جائو، اور اللہ تعالیٰ پر بجز حق کے کچھ نہ کہو۔'' نیز فرمایا:
﴿قُل يـٰأَهلَ الكِتـٰبِ لا تَغلوا فى دينِكُم غَيرَ الحَقِّ وَلا تَتَّبِعوا أَهواءَ قَومٍ قَد ضَلّوا مِن قَبلُ وَأَضَلّوا كَثيرًا وَضَلّوا عَن سَواءِ السَّبيلِ ﴿٧٧﴾... سورة المائدة
''کہہ دیجئے اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو اور زیادتی نہ کرو اور ان لوگوں کی نفسانی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جو پہلے سے بہک چکے ہیں اور بہتوں کو بہکا بھی چکے ہیں اور سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں۔''
اسی طرح فرمانِ نبویﷺہے :
«إِیَّاکُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّینِ، فَإِنَّمَا هَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّینِ»
'' دین میں انتہا پسندی سے بچو، تم سے پہلے )اہل کتاب وغیرہ( دین میں انتہا پسندی اختیار کرنے کے سبب ہی تباہ برباد ہوگئے۔'' (نسائی وغیرہ: ۳۰۵۷ ، سلسلہ اَحادیث صحیحہ ،۱۲۸۳)
ذاتی رائے پر اعتماد اور علما سے پوچھنے میں گریز!
ان انتہا پسندوں کے لئے شیطان اپنی خواہشات کی پیروی اور دین کے غلط فہم کوبہت اچھے اعمال بنا کر پیش کرتا ہے، اور ان کے دل میں یہ بات ڈال دیتا ہے کہ علماے حق کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت نہیں تاکہ یہ علماے ربانی انہیں صحیح راہ نہ دکھلا دیں اور یہ لوگ اپنی گمراہی اور کج فہمی پر قائم رہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَلا تَتَّبِعِ الهَوىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبيلِ اللَّهِ...﴿٢٦﴾... سورة ص
''اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو، ورنہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔''
نیز فرمایا: ﴿وَمَن أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوىٰهُ بِغَيرِ هُدًى مِنَ اللَّهِ ...﴿٥٠﴾... سورة القصص
''اور اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہے؟ جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہو۔''
نیز فرمایا:﴿أَفَمَن زُيِّنَ لَهُ سوءُ عَمَلِهِ فَرَءاهُ حَسَنًا فَإِنَّ اللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشاءُ وَيَهدى مَن يَشاءُ فَلا تَذهَب نَفسُكَ عَلَيهِم حَسَر‌ٰتٍ ...﴿٨﴾... سورة الفاطر
''کیا پس وہ شخص جس کے لئے اس کے برے اعمال مزین کر دئیے گئے ہیں پس وہ انہیں اچھا سمجھتا ہے )کیا وہ ہدایت یافتہ شخص جیسا ہے؟(، اللہ تعالیٰ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے راہِ راست دکھاتا ہے۔ پس آپ کو ان پر غم کھا کھا کر اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالنی چاہئے۔''
اور فرمایا:
﴿أَفَمَن كانَ عَلىٰ بَيِّنَةٍ مِن رَبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعوا أَهواءَهُم ﴿١٤﴾... سورة محمد
''کیا پس وہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل پر ہو اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جس کے لئے اُس کا برا کام مزین کر دیا گیا ہو اور وہ اپنی نفسانی خواہشوں کا پیرو ہو؟''
اور فرمایا: ﴿هُوَ الَّذى أَنزَلَ عَلَيكَ الكِتـٰبَ مِنهُ ءايـٰتٌ مُحكَمـٰتٌ هُنَّ أُمُّ الكِتـٰبِ وَأُخَرُ مُتَشـٰبِهـٰتٌ فَأَمَّا الَّذينَ فى قُلوبِهِم زَيغٌ فَيَتَّبِعونَ ما تَشـٰبَهَ مِنهُ ابتِغاءَ الفِتنَةِ وَابتِغاءَ تَأويلِهِ...﴿٧﴾... سورة آل عمران
''وہی اللہ تعالیٰ ہے جس نے آپ پر کتاب اُتاری جس میں واضح، مضبوط آیتیں ہیں جو اَصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ آیتیں ہیں۔ پس جس کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، فتنے کی طلب اور من مانی مراد کی جستجو کے لئے۔''
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے درج بالا آیت تلاوت کی اور فرمایا:
«إِذَا رَأَیْتُمُ الَّذِینَ یَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ فَأُولٰٓئِكَ سَمَّی اﷲُ فَاحْذَرُوهُمْ» (صحیح بخاری: ۴۵۴۷، صحیح مسلم: ۲۶۶۵)
''جب تم اُن لوگوں کو دیکھو جو متشابہات کے پیچھے لگ جاتے ہیں تو ان سے کنارہ کش رہو کیونکہ یہی وہ لوگ جن کااللہ نے )اس آیت میں( ذکر فرمایا ہے۔''
نیز فرمانِ نبوی ہے :
«مَنْ یُرِدِ اﷲُ بِه خَیْرًا یُفَقِّهْهُ فِي الدِّینِ »(صحیح بخاری ۷۱، صحیح مسلم: ۱۰۳۷)
''اللہ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کو دین کی سمجھ عطا کردیتے ہیں۔''
اس حدیث ِمبارکہ کا منطوق )واضح مفہوم( ایک طرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی شخص کے ساتھ بھلائی کے ارادے کی علامت یہ ہے کہ وہ اس کو دین کی سمجھ عطا کر دیتے ہیں تو دوسری طرف اُس کا مفہوم یہ بھی ہے کہ اگر اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کسی کے ساتھ بھلائی کا ارادہ نہ فرمائیں تو اسے دین کی سمجھ حاصل نہیں ہوتی اور وہ غلط چیز کو صحیح سمجھتا رہتا ہے اور اسی پر عمل پیرا رہتا ہے۔
دین میں یہی سوئِ فہم خوارج میں بھی پیدا ہوا اور انہوں نے سیدنا علیؓ کے خلاف بغاوت کردی اور ان سے جنگ بھی کی۔ حالانکہ وہ نصوصِ شرعیہ کو صحیح طور پر سمجھ نہ سکے جیسے صحابہ کرام نے سمجھا تھا- یہی وجہ ہے کہ جب سیدنا علیؓ نے سیدنا ابن عباسؓ کو ان کے ساتھ بات چیت کے لئے بھیجا اور انہوں نے ان کے سامنے ان نصوصِ شرعیہ کا صحیح مفہوم بیان کیا تو ان میں سے ایک خاطر خواہ تعداد راہ ِحق کی طرف پلٹ آئی، اور جن کے دلوں پراللہ تعالیٰ نے مہر لگائی ہوئی تھی وہ اپنی گمراہی پر باقی رہے۔
1. سیدنا ابن عباسؓ اور خوارج کے مابین مناظرے کی تفاصیل صحیح احادیث میں ملتی ہیں۔ ان اَحادیث ِ مبارکہ میں ابن عباسؓ بنفس نفیس یہ واقعہ بیان کرتے ہیں:
میں نے خوارج سے کہا : ''میں تمہارے پاس صحابہ کرام ؓ کی طرف سے آیا ہوں تاکہ تمہیں وہ کچھ بتاؤں جو صحابہ کا مذہب ہے۔ صحابہؓ ہی وہ معزز ہستیاں ہیں جن میں قرآن کریم نازل ہوا، وہ تم سے زیادہ وحی اور اس کے مفہوم سے واقف ہیں، اور تم میں ایک بھی صحابی نہیں۔''
تو خوارج میں سے بعض نے کہا: ''قریش سے جھگڑا مت کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فرماتے ہیں:﴿بَل هُم قَومٌ خَصِمونَ ﴿٥٨﴾... سورة الزخرف
کہ''بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔''
ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کی عبادت میں اس قوم جیسی محنت کرنے والی قوم کبھی نہیں دیکھی، جن کے چہرے سحر خیزی کی وجہ سے متغیر ہوں، گویا ان کے ہاتھ پاؤں ان کی عبادت کی شہادت پیش کررہے ہیں۔پس کچھ لوگ چلے گئے، لیکن بعض نے کہا: ''ہم ضرور ان سے بات چیت کریں گے اور دیکھیں گے کہ یہ کیا کہتے ہیں؟'' تو میں نے ان سے کہا: ''مجھے یہ بتلاؤ کہ تم اللہ کے رسولﷺکے کے چچیرے بھائی، آپ کے داماد )سیدنا علیؓ( اور مہاجرین انصار سے کس چیز کا انتقام لے رہے ہو؟'' انہوں نے جواب دیا کہ تین باتوں کا۔ میں نے پوچھا: کونسی؟ تو انہوں نے جواب دیا: ''پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ اللہ کی بجائے لوگوں کو حاکم بناتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿إِنِ الحُكمُ إِلّا لِلَّهِ﴾(یوسف: ۴۰)کہ''حکم و فیصلہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔'' تو بندوں کا فیصلے سے کیا تعلق ہے؟'' میں نے کہا کہ یہ تو ایک بات ہوئی۔ انہوں نے کہا: ''دوسری بات یہ کہ علی ؓ قتال توکرتے ہیں، لیکن نہ تو مالِ غنیمت حاصل کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو قید کرکے غلام لونڈی بناتے ہیں۔ )اب دو ہی باتیں ہیں( اگر تو وہ کفار سے قتال کررہے ہیں توان کو غلام لونڈی بنانا بھی جائز ہے اور مالِ غنیمت حاصل کرنا بھی، اور اگر وہ کافر نہیں بلکہ مؤمن ہیں تو ان سے قتال کرنا ہی جائزنہیں۔'' میں نے کہا کہ یہ دو باتیں ہوئیں، تیسری بات؟ تو انہوں نے کہا : ''علیؓ نے اپنے آپ سے امیر المومنین کا لقب ختم کردیا ہے )یعنی انہوں نے اپنے آپ کو امیر المومنین کہلوانے سے روک دیا ہے(، لہٰذا وہ امیر الکافرین بن گئے ہیں۔'' میں نے کہا کہ کیا تمہارے پاس اس کے علاوہ بھی کوئی بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، بس یہی باتیں ہیں۔
میں نے ان سے کہا: ''اگر میں تمہاری تمام باتوں کا جواب کتاب اﷲ اور سنت ِرسولﷺ سے دوں تو کیا تم راضی ہوجاؤگے؟'' انہوں نے کہا کہ جی ہاں! ... تو میں نے کہا :
''اوّل تو تمہارا یہ کہنا کہ انہوں نے اللہ کے معاملے میں لوگوں کو حاکم بنایا ہے تو میں تم پر ایسی آیت تلاوت کرتا ہوں جس میں خرگوش وغیرہ کے شکار پر اس کی قیمت مقرر کرنے کا فیصلہ لوگوں کی طرف لوٹایا (یعنی ان کوحاکم قرا ردیا ) گیاہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَقتُلُوا الصَّيدَ وَأَنتُم حُرُمٌ وَمَن قَتَلَهُ مِنكُم مُتَعَمِّدًا فَجَزاءٌ مِثلُ ما قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحكُمُ بِهِ ذَوا عَدلٍ مِنكُم...﴿٩٥﴾... سورةالمائدة
کہ ''اے ایمان والو! )وحشی( شکار کو قتل مت کرو جب کہ تم حالت ِ احرام میں ہو۔ اور جو شخص تم میں سے اس کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تو اس پر فدیہ واجب ہوگا جو کہ مساوی ہوگا اس جانور کے جس کو اس نے قتل کیا ہے جس کا فیصلہ تم میں سے دو معتبر شخص کردیں۔'' تو میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا انسانوں کا فیصلہ خرگوش وغیرہ کے شکار کے معاملے میں افضل ہے یا پھر خون اور آپس میں صلح کے معاملے میں؟! تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو خود فیصلہ کردیتا اور اس معاملے میں لوگوں کو فیصل نہ بناتا۔
اسی طرح عورت اور اس کے شوہر کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَإِن خِفتُم شِقاقَ بَينِهِما فَابعَثوا حَكَمًا مِن أَهلِهِ وَحَكَمًا مِن أَهلِها إِن يُريدا إِصلـٰحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَينَهُما ...﴿٣٥﴾... سورةالنساء
''اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان آپس کی اَن بن کا خوف ہو تو ایک منصف، مرد و الوں میں سے اور ایک عورت کے گھروالوں میں سے مقرر کر و، اگر یہ دونوں صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ دونوں میں ملاپ کرا دے گا۔'' تو اللہ نے اس معاملے میں بھی لوگوں کے فیصلے کو ایک محفوظ طریقہ بنا دیا ہے۔ کیا یہ جواب واضح ہے یا اور تشفی کی ضرورت ہے؟''
انہوں نے کہا: ''نہیں،تشفی ہوچکی۔ یہ جواب بالکل واضح ہے۔''
سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا :
''رہا تمہارا یہ کہنا کہ علیؓ نے قتال کیا تو نہ کسی کو قیدی بنایا اور نہ ہی مالِ غنیمت حاصل کیا، کیا تم اپنی ماں اُمّ المومنین عائشہ صدیقہؓ کو لونڈی بناناچاہتے ہو، اور ان سے وہی کچھ روا رکھنا چاہتے ہو جو ایک لونڈی سے روا رکھا جاتاہے؟ اگر تو تم یہی کرنا چاہتے ہو تو تم کافر ہو جائو گے، اور اگر تم کہو کہ وہ ہماری ماں نہیں تو بھی تم کافر ہوجاؤ گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿النَّبِىُّ أَولىٰ بِالمُؤمِنينَ مِن أَنفُسِهِم وَأَزو‌ٰجُهُ أُمَّهـٰتُهُم...﴿٦﴾... سورةالاحزاب"کہ ''پیغمبر مؤمنوں پر خود ان سے بھی زیادہ حق رکھنے والے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں مؤمنوں کی مائیں ہیں۔'' پس تم لوگ دو گمراہیوں کے درمیان گھوم رہے ہو، جس طرف بھی تم جاؤ گے، گمراہ ہوجاؤگے۔'' تو خوارج نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ میں نے پوچھا کہ کیا یہ بات بھی واضح ہے؟
انہوں نے کہا کہ جی ہاں! میں نے کہا:
''رہا تمہارا یہ اعتراض کہ انہوں نے اپنے آپ سے امیرالمومنین کا لقب ختم کردیا ہے، تو میں تمہیں ایسی دلیل دیتا ہوں جس پر تم راضی ہوجاؤگے۔ تمہیں معلوم ہے کہ جب سہیل بن عمروؓ اور ابوسفیانؓ وغیرہ سے اللہ کے نبیﷺنے جنگ بندی کا معاہدہ کیا تو اَمیرالمومنین )سیدنا علیؓ( سے فرمایا:«اُکْتُبْ یَا عَلِي! هٰذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَیْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اﷲِ (ﷺ)» کہ ''اے علیؓ! لکھو: یہ وہ معاہدہ ہے جس پر اللہ کے رسول نے صلح کی ہے۔'' مشرکین نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں، اگر ہمیں یقین ہوتاکہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ سے قتال نہ کرتے تو نبی کریمﷺ نے فرمایا: «اللّٰهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اﷲِ، اکْتُبْ یَا عَلِي ! هٰذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَیْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُ اﷲِ » کہ ''اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں تیرا رسول ہوں، اے علی! لکھو: یہ وہ معاہدہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی ہے۔'' اللہ کی قسم! اللہ کے رسول1 علیؓ سے بہتر تھے تو جب انہوں نے رسول اللہ مٹا دیا تو کیا انہوں نے اپنے آپ کو نبوت سے خارج کر دیا؟''
ابن عباسؓ فرماتے ہیں : ''خوارج میں سے دو ہزار لوگ راہِ راست پر آگئے اور باقی اپنی گمراہی پر ہی مرے۔''(مستدرک حاکم: ۲؍۱۵۰ ،صحیح علیٰ شرطِ مسلم)
تو اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ دو ہزار خوارج راہِ راست پراس وجہ سے آئے کیونکہ سیدنا ابن عباسؓ نے ان پر حق کو بالکل واضح کردیا تھا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اہل علم کی طرف رجوع کرنے سے انسان شر اور فتنوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿فَسـَٔلوا أَهلَ الذِّكرِ إِن كُنتُم لا تَعلَمونَ ﴿٤٣﴾... سورة النحل
''پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کر لو۔''
2.مسلمانوں کا اپنے دینی اور دنیاوی معاملات میں اہل علم کی طرف رجوع کرنا ہی بہتر ہوتا ہے، اس کی دلیل صحیح مسلم کی یہ روایت بھی ہے، یزید الفقیرؒ بیان کرتے ہیں:
''میں بھی ان لوگوں میں تھا جو خوارج کی رائے اور مذہب سے متاثر ہوگئے تھے، تو ایک مرتبہ ہم )خوارج( ایک جماعت کی صورت میں نکلے۔ ہمارا ارادہ تھا کہ پہلے حج کریں گے اور پھر مسلمانوں سے قتال کریں گے۔ جب ہم مدینہ نبویہ پہنچے تو جابر بن عبداللہؓ کے پاس سے ہمارا گزر ہوا جو ایک ستون سے ٹیک لگائے لوگوں کواللہ کے نبی1 کی حدیثیں سنا رہے تھے، اس دوران انہوں نے جہنمیوں کاذکر کیا (کہ بعض لوگ جہنم سے نکال کر جنت میں ڈالے جائیں گے)۔ میں )یزید( نے اُن سے کہا کہ اے صحابی ٔ رسول! آپ لوگوں کو کیسی حدیثیں سنا رہے ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿إِنَّكَ مَن تُدخِلِ النّارَ فَقَد أَخزَيتَهُ وَما لِلظّـٰلِمينَ مِن أَنصارٍ ﴿١٩٢﴾... سورة آل عمران
کہ '' (اے اللہ!) جسے تو جہنم میں ڈالے یقینا تو نے اسے رُسوا کیا، اور ظالموں کا مدد گار کوئی نہیں۔'' اور﴿ كُلَّما أَرادوا أَن يَخرُجوا مِنها أُعيدوا فيها ...﴿٢٠﴾...سورة السجدة"کہ ''جب کبھی اس )دوزخ( سے باہر نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹادیے جائیں گے۔'' تو آپ یہ کیسی باتیں کررہے ہیں؟''
یزیدؒ کہتے ہیں کہ سیدنا جابرؓ نے فرمایا کہ کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے کہا کہ جی ہاں! فرمایا کہ کیا تم نے مقامِ محمودکے بارے میں سنا ہے جو نبی کریمؐ کو عطا کیا جائے گا؟ میں نے کہا کہ جی ہاں! فرمایا کہ یہ نبی کریمﷺ کا وہ مقامِ محمود ہے جہاں اللہ جن لوگوں کو جہنم سے نکالنا چاہیں گے، نکال لیں گے۔ پھر حضرت جابرؓ نے پل صراط اور اس سے لوگوں کے گزرنے کی کیفیت بیان کی، مجھے ڈر ہے کہ میں کچھ بھول چکا ہوں، سواے اس بات کے کہ وہ کہہ رہے تھے :
''کچھ لوگ آگ میں داخل ہونے کے بعد اس سے اس حال میں نکلیں گے کہ گویا وہ سیاہ لکڑی )یا گندم کے دانے کے کمزور خوشے( کی طرح ہوں گے، پھر وہ جنت کی نہروں میں سے ایک نہر میں داخل ہوں گے اور اس میں غسل کریں گے، پھر جب اس سے نکلیں گے تو گویا وہ کورے کاغذ )جو سفید ہوتا ہے( کی طرح ہوں گے۔''
یزیدؒ کہتے ہیں کہ جب ہم واپس آئے تو ہم نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ تم پر اَفسوس ہو، کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ یہ بزرگ )سیدنا جابر بن عبد اللہؓ( اللہ کے نبیﷺکی طرف جھوٹ منسوب کر رہے ہیں، پس ہم وہیں سے واپس ہوگئے، اور اللہ کی قسم! ہم میں سے کسی نے بھی خروج نہ کیا۔'' (مسلم: ۱۹۱، یہ حدیث ابن ابی حاتم اور ابن ابی مردویہ وغیرہ میں ہے)
امام ابن کثیرؒ نے سیدنا جابر بن عبد اللہ کی یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿يُريدونَ أَن يَخرُجوا مِنَ النّارِ وَما هُم بِخـٰرِجينَ مِنها ... ﴿٣٧﴾... سورة المائدة" کہ ''یہ چاہیں گے کہ دوزخ میں سے نکل جائیں لیکن یہ ہرگز اس میں سے نہ نکل سکیں گے۔'' کی تفسیر میں بیان کی ہے۔ (۲؍۶۲ )
درج بالا حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس جماعت کو خوارج کی یہ رائے پسند آئی کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب کافر ہوجاتاہے اور ہمیشہ آگ میں رہے گا، لیکن جب یہ سیدنا جابرؓ سے ملے اور انہوں نے انکے سامنے حق واضح فرما دیا تو یہ حق کی طرف پلٹ آئے اور اپنی باطل رائے کو چھوڑ دینے کے ساتھ ساتھ حج کرنے کے بعد مسلمانوں کے خلاف خروج کے ارادے سے بھی باز آگئے۔ یہ وہ سب سے بڑا فائدہ ہے جو ایک مسلمان اہل علم کی طرف رجوع کرکے حاصل کرسکتا ہے۔
3.دین میں غلو، راہِ حق سے انحراف اور سلف صالحین کی طریقے کو چھوڑنے کے انتہائی خطرناک اثرات ہوا کرتے ہیں ہیں۔ سیدنا حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَیْکُمْ: رَجُلٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ، حَتَّیٰ إِذَا رُئِیَتْ بَهْجَتُهٗ عَلَیْهِ وَکَانَ رِدْءاً لِلإِسْلَامِ، انْسَلَخَ مِنْهُ وَنَبَذَه وَرَآءَ ظَهْرِه، وَسَعَیٰ عَلَیٰ جَارِه بِالسَّیْفِ وَرَمَاهُ بِالشِّرْكِ»
''میں تم میں سب سے زیادہ جس شخص پر ڈرتا ہوں وہ وہ آدمی ہے جو قرآنِ کریم پڑھتا ہے حتیٰ کہ جب قرآن کا اثر اس پر نظر آنا شروع ہوتا ہے اور وہ اسلام کی ڈھال بن جاتا ہے تو اچانک وہ اسلام سے نکل جاتا ہے اور اسے اپنے پس پشت ڈال دیتا ہے، اور اپنے ہمسائے پر شرک کی تہمت لگا کر اس پر تلوار سونت لیتا ہے۔'' حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: ''اے اللہ کے رسولﷺ! ان دونوں میں سے کون شرک کے زیادہ قریب ہے؟ الزام لگانے والا یا جس پر الزام لگایاجارہا ہے'' فرمایا:«بَلِ الرَّامِي»''بلکہ الزام لگانے والا۔'' (رواہ البخاری فی التاریخ وابویعلی وابن حبان والبزار، دیکھئے: السلسلۃ الصحیحۃ للألبانی۳۲۰۱)
4. نوعمری میں غلط فہمی کا امکان غالب ہوا کرتا ہے۔ اس پر سیدنا عروہ بن زبیرؒ کی یہ حدیث دلالت کرتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اُمّ المومنین عائشہؓ سے کہا ... اور میں اس وقت نوخیز یعنی چھوٹی عمر کا تھا ... کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے: ﴿إِنَّ الصَّفا وَالمَروَةَ مِن شَعائِرِ اللَّهِ فَمَن حَجَّ البَيتَ أَوِ اعتَمَرَ فَلا جُناحَ عَلَيهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِما...﴿١٥٨﴾... سورة البقرة" کہ ''صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں، اس لئے بیت اللہ کا حج وعمرہ کرنے والے پر ان کا طواف کر لینے میں بھی کوئی گناہ نہیں۔'' میں اس شخص پرکوئی گناہ نہیں سمجھتا جو صفا و مروہ کی سعی نہ کرے، اُمّ المومنین عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا: ''ہرگز نہیں! اگر اس آیت کا مطلب یہی ہوتا جو تم کہہ رہے ہو تو آیت اس طرح ہوتی:﴿ فَلا جُناحَ عَلَيهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِما﴾حقیقت میں یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی جو منات بت کے نام کا احرام باندھتے تھے اور یہ بت 'وادی قدید' کے قریب تھا اور صفا مروہ کی سعی کو اچھا نہیں سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:﴿إِنَّ الصَّفا وَالمَروَةَ مِن شَعائِرِ اللَّهِ فَمَن حَجَّ البَيتَ أَوِ اعتَمَرَ فَلا جُناحَ عَلَيهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِما...﴿١٥٨﴾... سورة البقرة"کہ ''بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں، اس لئے بیت اللہ کا حج وعمرہ کرنے والے پر ان کا طواف کر لینے میں بھی کوئی گناہ نہیں۔''(صحیح بخاری: ۴۴۹۵)
سیدنا عروہ بن زبیرؒ کا شمار تابعین کے بہترین علماء میں ہوتا ہے، اور وہ مدینہ نبویہ کے سات معروف فقہاء میں سے ہیں۔ انہوں نے اپنی غلط فہمی کا عذر یہ پیش کیا کہ جب میں نے یہ سوال کیا تو اُس وقت میری عمر چھوٹی تھی۔اس سے یہ بات واضح ہے کہ نوعمری میں غلط فہمی کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل علم کی طرف رجوع کرنے میں ہی خیروبرکت اور سلامتی ہے۔
بم دھماکوں اور دہشت گردی کو جہاد قرار دینا کون سی عقلمندی اور دین ہے؟
درج بالا تمہید سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ابلیس لعین نیک لوگوں کی نیکی اور ان کے دین کو فاسد کرنے کے لئے خوارج کی مانند ان میں انتہا پسندی کی روش پیدا کر دیتا ہے۔ اس انتہا پسندی اور دوسرے فتنوں سے بچنے کی واحد صورت یہ ہے کہ اہل علم کی طرف رجوع کیاجائے۔ جیساکہ سیدنا ابن عباسؓ سے مناظرہ کے بعد دو ہزار خوارج اور سیدنا جابرؓ سے مباحثہ کے بعد وہ جماعت جس نے باطل کا ارادہ کیا تھا، واپس راہِ حق کی طرف پلٹ آئے۔
اسکے بعدمیں عرض کرتا ہوں کہ آج کی رات، کل کی رات کے کتنی مشابہ تھی، ریاض شہر میں آج جو بھی تباہی وبربادی دیکھنے میں آئی اور اُس سال )یعنی ۱۴۲۴ھ( کے شروع میں مکہ مکرمہ اور مدینہ نبویہ میں جو اسلحہ اور دھماکہ خیز بارود برآمد ہوا، یہ سب شیطان کے گمراہ کرنے اور غلو وانتہا پسندی کو مزین کرنے کے سبب تھا، یہ تمام کام فساد فی الارض میں داخل ہیں اور جرم کی قبیح ترین صورت ہیں، اور شیطان کا ان کو یہ باور کراناکہ یہ جہاد ہے یہ اس سے بھی فروتر ہے۔
کسی معصوم جان کو قتل کرنا، بے گناہ مسلمانوں اور معاہدین )یعنی وہ غیر مسلم جو کسی معاہدے کے بعد کسی مسلم علاقے میں داخل ہوں( کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا، جو لوگ امن میں ہیں ان کو خوف و دہشت میں مبتلاکرنا، عورتوں کو بیوہ، بچوں کو یتیم کرنا اور عمارتوں کو ان کے رہنے والوں سمیت ملیامیٹ کر دینا کس عقل اور دین کی رو سے جہاد بنتا ہے؟!
آئندہ سطور میں، میں پرانی شریعتوں میں قتل کی تعظیم اور شریعت ِ محمدیہ میں مسلمانوں کے خود کشی کرنے اور مسلمانوں اور مجاہدین کو جان بوجھ کر یا غلطی سے قتل کرنے والوں کے بارے میں کتاب و سنت کے تمام نصوص کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش کروں گا﴿لِيَهلِكَ مَن هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحيىٰ مَن حَىَّ عَن بَيِّنَةٍ ...﴿٤٢﴾... سورة الانفال" کہ ''تاکہ جو ہلاک ہو، دلیل پر )یعنی یقین جان کر( ہلاک ہو اور جو زندہ رہے، وہ بھی دلیل پر )حق پہچان کر (زندہ رہے۔'' اور میں اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ راہِ حق سے بھٹکنے والوں کو حق کی طرف ہدایت دے اور اُن کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے اور مسلمانوں کو شریروں کے شر سے بچائے۔ بے شک اللہ تعالیٰ دُعا کو سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔
سابقہ شریعتوں میں قتل کی تعظیم اور حرمت
1.اللہ تعالیٰ سیدنا آدم ؑ کے دونوں بیٹوں میں سے ایک کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
﴿فَطَوَّعَت لَهُ نَفسُهُ قَتلَ أَخيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصبَحَ مِنَ الخـٰسِرينَ ﴿٣٠﴾... سورة المائدة
''پس اسے اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر دیا اور اس نے اسے قتل کر ڈالا، جس سے نقصان پانے والوں میں سے ہوگیا۔''
2.اسی طرح اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿مِن أَجلِ ذ‌ٰلِكَ كَتَبنا عَلىٰ بَنى إِسر‌ٰءيلَ أَنَّهُ مَن قَتَلَ نَفسًا بِغَيرِ نَفسٍ أَو فَسادٍ فِى الأَرضِ فَكَأَنَّما قَتَلَ النّاسَ جَميعًا وَمَن أَحياها فَكَأَنَّما أَحيَا النّاسَ جَميعًا...﴿٣٢﴾... سورة المائدة
''اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والا ہو، قتل کر ڈالے گا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا، اور جو شخص کسی ایک کی جان بچالے، اس نے گویا تمام لوگوں کو زندہ کر دیا۔'' 
3.نبی کریمﷺنے فرماتے ہیں:
«لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا کَانَ عَلَی ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ کِفْلٌ مِنْ دَمِهَا، لِأَنَّه أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ»(صحیح بخاری: ۳۳۳۵، صحیح مسلم: ۱۶۷۷)
''کوئی شخص بھی مظلوم قتل نہیں کیا جاتا مگر آدم علیہ السلام کے بیٹے پر بھی اس کا گناہ ہوتا ہے، کیونکہ پہلا شخص ہے جس کی قتل کیا۔''
4.اللہ تعالیٰ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بابت بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے خضر ؑ سے کہا:
﴿ أَقَتَلتَ نَفسًا زَكِيَّةً بِغَيرِ نَفسٍ لَقَد جِئتَ شَيـًٔا نُكرًا ﴿٧٤﴾... سورة الكهف
''کیا آپ نے ایک پاک جان کو بغیر کسی جان کے عوض مار ڈالا؟ بیشک آپ نے تو بڑی نا پسندیدہ حرکت کی۔''
5.اللہ عز وجل نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
﴿فَاستَغـٰثَهُ الَّذى مِن شيعَتِهِ عَلَى الَّذى مِن عَدُوِّهِ فَوَكَزَهُ موسىٰ فَقَضىٰ عَلَيهِ قالَ هـٰذا مِن عَمَلِ الشَّيطـٰنِ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُضِلٌّ مُبينٌ ﴿١٥﴾ قالَ رَبِّ إِنّى ظَلَمتُ نَفسى فَاغفِر لى فَغَفَرَ لَهُ إِنَّهُ هُوَ الغَفورُ الرَّحيمُ ﴿١٦﴾... سورة القصص
''اس کی قوم والے نے اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا اس سے فریاد کی، جس پر موسیٰ )علیہ السلام( نے اس کے مکا مارا جس سے وہ مر گیا۔ موسیٰ )علیہ السلام( کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے، یقینا شیطان دشمن اور کھلے طور پر بہکانے والا ہے ۔ پھر دُعا کرنے لگے کہ اے پروردگار! میں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا، تو مجھے معاف کر دے، اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا، وہ بخشش اور بہت مہربانی کرنے والا ہے۔''
٭ ایک دفعہ سالم بن عبداللہ بن عمرؒ نے اہل عراق سے کہا :
''اے اہل عراق! تم پر تعجب ہے کہ تم صغیرہ گناہوں کے بارے میں بہت سوال کرتے ہو حالانکہ تم سب سے زیادہ کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہوتے ہو، میں نے اپنے باپ عبد اللہ بن عمرؓ سے سنا، وہ نبی کریمﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ''فتنہ وہاں سے نمودار ہوگا ... اور اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا ... جہاں سے شیطان کے سینگ نمودار ہوتے ہیں اور تم لوگ ایک دوسرے کو قتل کرو گے، )یاد رکھو!( موسیٰ کا آلِ فرعون میںسے ایک شخص کو قتل کرنا بھی غلطی تھی، اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے فرمایا:﴿وَقَتَلتَ نَفسًا فَنَجَّينـٰكَ مِنَ الغَمِّ وَفَتَنّـٰكَ فُتونًا...﴿٤٠﴾... سورة طه ''اور تو نے ایک شخص کو مار ڈالا تھا اس پر بھی ہم نے تجھے غم سے بچا لیا، غرض ہم نے تجھے اچھی طرح آزما لیا۔''( مسلم:۲۹۰۵)
سیدنا سالم ؒ کے اس قول ... کہ تم صغیرہ گناہوں کا سوال کرتے ہو اور سب سے زیادہ کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہوتے ہو ... سے اشارہ اس واقعے کی طرف ہے جو سیدنا ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ اہل عراق میں سے ایک شخص نے اُن سے مچھر کے خون کے بارے میں سوال کیا )یعنی کیا مچھر کو مارنا جائز ہے؟( تو انہوں نے فرمایا:
''اس شخص کو دیکھو! یہ مجھ سے مچھر کے خون کے بارے میں سوال کرتا ہے حالانکہ ان لوگوں نے نبیﷺکے نواسے کو قتل کیا ہے، حالانکہ میں نے نبی ﷺکو سنا کہ آپ فرما رہے تھے:«هُمَا رِیحَانَتَاي مِنَ الدُّنْیَا» کہ ''حسنؓ وحسینؓ دُنیا میں میرے پھول ہیں۔ '' (صحیح بخاری: ۵۹۹۴)
6.اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل سے فرماتے ہیں:
﴿وَإِذ أَخَذنا ميثـٰقَكُم لا تَسفِكونَ دِماءَكُم وَلا تُخرِجونَ أَنفُسَكُم مِن دِيـٰرِكُم ثُمَّ أَقرَرتُم وَأَنتُم تَشهَدونَ ﴿٨٤﴾... سورة البقرة
کہ ''اور جب ہم نے تم سے وعدہ لیا کہ آپس میں خون نہ بہانا )قتل نہ کرنا( اور آپس والوں جلا وطن نہ کرنا، تم نے اقرار کیا اور تم اس کے شاہد بنے۔''
7.اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وَكَتَبنا عَلَيهِم فيها أَنَّ النَّفسَ بِالنَّفسِ وَالعَينَ بِالعَينِ وَالأَنفَ بِالأَنفِ وَالأُذُنَ بِالأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالجُروحَ قِصاصٌ...﴿٤٥﴾... سورة المائدة
کہ''اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور دانت کے بدلے دانت اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے۔''
مسلمان کااپنے آپ کو عمداً (جان بوجھ کر) یا غلطی سے قتل کرنا
1.اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَأكُلوا أَمو‌ٰلَكُم بَينَكُم بِالبـٰطِلِ إِلّا أَن تَكونَ تِجـٰرَةً عَن تَراضٍ مِنكُم وَلا تَقتُلوا أَنفُسَكُم إِنَّ اللَّهَ كانَ بِكُم رَحيمًا ﴿٢٩﴾ وَمَن يَفعَل ذ‌ٰلِكَ عُدو‌ٰنًا وَظُلمًا فَسَوفَ نُصليهِ نارًا وَكانَ ذ‌ٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسيرًا ﴿٣٠﴾... سورة النساء
''اے ایمان والو! اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھائو، مگر تمہاری آپس کی رضامندی سے خرید وفروخت ہو، اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، یقینا اللہ تعالیٰ تم پر نہایت مہربان ہے اور جو شخص یہ سرکشی اور ظلم کرے گا تو عنقریب ہم اس کو آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ پر آسان ہے۔''
2.سیدنا ثابت بن ضحاکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
«مَنْ قَتَلَ نَفْسَه بِشَیْئٍ فِي الدُّنْیَا عُذِّبَ بِه یَوْمَ الْقِیَامَةِ»(بخاری: ۶۰۴۷،مسلم: ۱۷۶)
''جس شخص نے اپنے آپ کو جس چیز کے ساتھ قتل کیا تو اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا۔''
3.سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺنے فرمایا:
«مَنْ تَرَدَّیٰ مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَه فَهُوَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ یَتَرَدَّیٰ فِیهِ خَالِدًا مُخَلَدًا فِیهَا أَبَدًا، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَه بِحَدِیدَةٍ فَحَدِیدَتُه فِي یَدِه یَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِه فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِیهَا أَبَدًا»(صحیح بخاری: ۵۷۷۸، صحیح مسلم: ۱۷۵)
''جس شخص نے پہاڑ سے اپنے آپ کو گرا کر ہلاک کر دیا تو جہنم میں بھی وہ ہمیشہ ہمیشہ اپنے آپ کو گراتا رہے گا۔ اور جس شخص نے اپنے آپ کو کسی ہتھیار سے قتل کیا تو جہنم میں وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ اسے اپنے پیٹ میں ہمیشہ ہمیشہ گھونپتا رہے گا۔''
4.سیدنا ابوہریرہؓ سے ہی مروی ہے کہ رسول پاکﷺنے فرمایا:
«الَّذِي یَخْنَقُ نَفْسَه یَخْنَقُهَا فِي النَّارِ، وَالَّذِي یَطْعَنُهَا یَطْعَنُهَا فِي النَّارِ»
''جو اپنے آپ کو گلا گھونٹ کر مار ڈالے وہ جہنم میں بھی اپنا گلا گھونٹا رہے گا اور جواپنے آپ کو نیزے سے ہلاک کرتا ہے وہ آگ میں بھی اپنے آپ کو نیزا مارتا رہے گا۔'' (بخاری: ۱۳۶۵)
یہ حدیث ِمبارکہ مسنداحمد وغیرہ میں بھی ہے اور اس میں اضافہ ہے:
«وَالَّذِي یَتَقَحَّمُ فِیهَا یَتَقَحَّمُ فِي النَّارِ»(مسند احمد: ۹۶۱۸، وسلسلہ صحیحہ از البانی: ۳۴۲۱)
''اور جو نہر میں کود کر خودکشی کر لے وہ جہنم میں بھی داخل ہوگا۔''
5.حسن بصریؒ سے روایت ہے کہ ہمیں سیدنا جندبؓ نے اس مسجد میں حدیث بیان کی جس کو ہم ابھی تک نہیں بھولے، نہ ہی مستقبل میں بھولنے کا ڈر ہے اور نہ ہی ہمیں یہ خدشہ ہے کہ جندبؓ نے نبی کریمﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کیا ہو۔ آپ نے فرمایا :
«کَانَ بِرَجُلٍ جُرَاحٌ فَقَتَلَ نَفْسَه، فَقَالَ اﷲُ: بَدَرَنِي عَبْدِي بِنَفْسِه، حَرَّمْتُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ»(صحیح بخاری: ۱۳۲۴، صحیح مسلم: ۱۸۰)
''ایک شخص کو کوئی زخم لگ کیا تو اس نے اپنے آپ کو قتل کر لیا، اللہ نے فرمایا: میرے بندے نے اپنی جان کے بارہ میں مجھ سے سبقت لی ہے لہٰذا میں اس پر جنت حرام کر دی ہے۔''
6.سیدنا جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص زخمی ہوا، اس نے اپنے ترکش سے خنجر نکالا اور اپنے آپ کو ذبح کر ڈالا تو نبی کریمﷺ نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔'' ( صحیح ابن حبان )موارد الظمان: ۷۶۳(، صحیح ترغیب: ۲۴۵۷ از البانی )
اور جو شخص اپنے آپ کو غلطی سے ہلاک کرڈالے تو وہ عند اللہ معذور ہوگا اور اسے کوئی گناہ نہ ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وَلَيسَ عَلَيكُم جُناحٌ فيما أَخطَأتُم بِهِ وَلـٰكِن ما تَعَمَّدَت قُلوبُكُم...﴿٥﴾... سورة الاحزاب" کہ ''تم سے بھول چوک میں جو کچھ ہوجائے اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں، البتہ گناہ وہ ہے جس کا ارادہ دِل سے کرو۔''
اسی طرح﴿رَبَّنا لا تُؤاخِذنا إِن نَسينا أَو أَخطَأنا... ﴿٢٨٦﴾... سورة البقرة"کہ ''اے ہمارے ربّ! اگر ہم سے بھول چوک یا غلطی ہوجائے تو مؤاخذہ نہ فرمانا'' پر اللہ جل شانہ نے فرمایا:
«قَدْ فَعَلْتُ» کہ ''میں نے یہ دُعا قبول کی۔'' (صحیح مسلم: ۱۲۶)
مسلمان کو نا حق عمداً یا غلطی سے قتل کرنا
کسی مسلمان کے قتل کی دو صورتیں ہی ہو سکتی ہیں:
٭ حق کے ساتھ ٭ بغیر حق کے
حق کے ساتھ قتل کی صورت تو یہ ہے کہ حاکم کسی کو قصاص یا حد کی بنا پر قتل کرے۔
جبکہ بغیر حق کے قتل یا تو جان بوجھ کر ہوتا ہے یا پھر غلطی سے۔
نیچے ہم بغیر حق کے )عمداً یا غلطی کے ساتھ( قتل کا حکم ذکر کرتے ہیں:
کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کے متعلق کتاب وسنت کے واضح احکامات درج ذیل ہیں:
1.اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَمَن يَقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خـٰلِدًا فيها وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذابًا عَظيمًا ﴿٩٣﴾... سورة النساء
''اور جو کوئی کسی مؤمن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار رکھا ہے۔''
2.اللہ عز وجل نے فرمایا:
﴿وَالَّذينَ لا يَدعونَ مَعَ اللَّهِ إِلـٰهًا ءاخَرَ وَلا يَقتُلونَ النَّفسَ الَّتى حَرَّمَ اللَّهُ إِلّا بِالحَقِّ وَلا يَزنونَ وَمَن يَفعَل ذ‌ٰلِكَ يَلقَ أَثامًا ﴿٦٨﴾ يُضـٰعَف لَهُ العَذابُ يَومَ القِيـٰمَةِ وَيَخلُد فيهِ مُهانًا ﴿٦٩﴾ إِلّا مَن تابَ وَءامَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صـٰلِحًا فَأُولـٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّـٔاتِهِم حَسَنـٰتٍ وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا ﴿٧٠﴾... سورة الفرقان
''اور وہ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ نے منع کر دیا ہو۔ وہ بجز حق کے قتل نہیں کرتے، نہ وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے وہ اپنے اوپر سخت وبال لائے گا۔ اسے قیامت کے دن دوہرا عذاب کیا جائے گا اور وہ ذلت وخواری کے ساتھ ہمیشہ اسی میں رہے گا۔ سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور نیک کام کریں، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دیتا ہے، اللہ بخشنے والا مہربانی کرنے والا ہے۔''
3. اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وَلا تَقتُلُوا النَّفسَ الَّتى حَرَّمَ اللَّهُ إِلّا بِالحَقِّ﴾ (الانعام: ۱۵۱، الاسراء: ۳۳)
''اور کسی جان کو جس کا مارنا اللہ تعالیٰ نے حرام کر دیا ہے ہرگز ناحق قتل نہ کرنا''
4.اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَلا تَقتُلوا أَولـٰدَكُم مِن إِملـٰقٍ نَحنُ نَرزُقُكُم وَإِيّاهُم...﴿١٥١﴾... سورة الانعام
''اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔ ہم تمہیں اور انہیں رزق دیتے ہیں۔''
5.اللہ جل شانہ فرماتے ہیں:
﴿وَلا تَقتُلوا أَولـٰدَكُم خَشيَةَ إِملـٰقٍ نَحنُ نَرزُقُهُم وَإِيّاكُم إِنَّ قَتلَهُم كانَ خِطـًٔا كَبيرًا ﴿٣١﴾... سورة الإسراء" کہ ''اور مفلسی کے خوف سے اپنی اولاد کو نہ مار ڈالو، انہیں اور تمہیں ہم ہی روزی دیتے ہیں۔ یقینا ان کا قتل کرنا کبیرہ گناہ ہے۔''
6.خالق کائنات فرماتے ہیں:﴿قَد خَسِرَ الَّذينَ قَتَلوا أَولـٰدَهُم سَفَهًا بِغَيرِ عِلمٍ وَحَرَّموا ما رَزَقَهُمُ اللَّهُ افتِراءً عَلَى اللَّهِ قَد ضَلّوا وَما كانوا مُهتَدينَ ﴿١٤٠﴾... سورة الانعام
''واقعی خرابی میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو محض ازراہِ حماقت بلا کسی سند کے قتل کر ڈالا اور جو چیزیں ان کو اللہ نے کھانے پینے کو دی تھیں ان کو حرام کر لیا محض اللہ پر افترا باندھنے کے طور پر۔ بیشک یہ لوگ گمراہی میں پڑگئے اور کبھی راہِ راست پر چلنے والے نہیں ہوئے۔''
7.نبی کریمﷺنے فرمایا: «أَوَّلُ مَا یُقْضَیٰ بَیْنَ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ فِي الدِّمَآءِ» (صحیح بخاری: ۶۸۶۴، صحیح مسلم: ۱۶۷۸)
''روزِ قیامت لوگوں کے مابین سب سے پہلے قتل کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔''
8.نبی کریمﷺ نے اپنے حجۃ الوداع کے خطبے میں مسلمان کے خون کی حرمت کو ماہِ ذی الحجۃ، مکہ مکرمہ اور یومِ نحر کے مشابہ قرا ردے کراس کی حرمت کی بہت تاکید فرمائی۔ سیدنا ابوبکرصدیق ؓ سے روایت ہے کہ
نبی کریمﷺ نے عید کے روز ہمیں خطبہ دیا، اور فرمایا: «أَتَدْرُونَ أَيَّ یَوْمٍ هٰذَا؟» کہ ''کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟'' ہم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ بہتر جانتے ہیں، آپ کچھ دیر خاموش رہے، ہمیں گمان ہوا کہ شاید آپ اسے کسی اور نام سے موسوم کردیں گے کہ آپﷺ نے فرمایا: «أَلَیْسَ یَوْمُ النَّحْرِ؟» کہ ''کیا یہ قربانی کا دن نہیں؟'' ہم نے کہا کہ کیوں نہیں، آپ نے فرمایا: «أَيُّ شَهْرٍ هٰذَا؟ » کہ ''یہ کون سا مہینہ ہے؟'' ہم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ بہتر جانتے ہیں، آپ کچھ دیر خاموش رہے، ہمیں گمان ہوا کہ شاید آپ اسے کسی اور نام سے موسوم کردیں گے کہ آپﷺنے فرمایا:«أَلَیْسَ ذُو الْحِجَّةِ؟» کہ ''کیا یہ ذی الحجہ نہیں؟'' ہم نے کہا کہ کیوں نہیں، آپﷺنے فرمایا:«أَيُّ بَلَدٍ هٰذَا؟»کہ ''یہ کون سا شہر ہے؟'' ہم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ بہتر جانتے ہیں، آپ کچھ دیر خاموش رہے، ہمیں گمان ہوا کہ شاید آپ اسے کسی اور نام سے موسوم کردیں گے کہ آپﷺنے فرمایا: «أَلَیْسَتْ بِالْبَلْدَةِ الْحَرَامِ؟» کہ ''کیا یہ حرمت والا شہر )مکہ مکرمہ( نہیں؟''ہم نے کہا کہ کیوں نہیں، آپﷺنے فرمایا: «فَإِنَّ دِمَآءَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَةِ یَوْمِکُمْ هٰذَا فِي شَهْرِکُمْ هٰذَا فِي بَلَدِکُمْ هٰذَا إِلَیٰ یَوْم تَلْقَونَ رَبَّکُمْ، أَلا هَلْ بَلَّغْتُ؟» کہ ''پس تمہارے خون، مال اور عزتیں آج کے دن، اس مہینے اور اس شہر کی حرمت کی طرح حرام ہیں حتیٰ کہ تم لوگ اپنے رب سے ملاقات کر لو، خبردار کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟'' صحابہ کرام7 نے کہا کہ جی ہاں! آپﷺنے فرمایا: «فَلْیُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَیٰ مِنْ سَامِعٍ، فَلاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» کہ ''پس جو یہاں موجود ہے وہ غائب کو پہنچا دے کیونکہ کئی لوگ جن کو بات پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والے سے زیادہ اس کو یاد رکھتے ہیں، تم میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔''
(صحیح بخاری: ۶۸،۱۷۴۱، صحیح مسلم: ۱۶۷۹، یہ تاکید صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباسؓ: ۱۷۳۹ اور ابن عمرؓ: ۱۷۴۲ سے، اور صحیح مسلم میں سیدنا جابرؓ: ۱۲۱۸ سے بھی مروی ہے)
9.سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا: «اِجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ» کہ ''سات تباہ کن چیزوں سے بچو'' صحابہ کرام﷢ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! وہ کیا ہیں؟ ...آپﷺنے فرمایا:
«الشِّرْكُ بِاﷲِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اﷲُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَکْلُ الرِّبَا وَأَکْلُ مَالَ الْیَتِیمِ وَالتَّوَلِّي یَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ»
''شرک، جادو، کسی ایسی جان جسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اس کا ناحق قتل، یتیم کا مال کھانا جنگ کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا، پاکدامن غافل مومن عورتوں پر زنا کا الزام دھرنا۔'' (صحیح بخاری: ۲۷۶۶، صحیح مسلم: ۱۴۵)
10.سیدنا عبد اللہ ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: «لَنْ یَزَالَ الْمُؤْمِنُ فِي فُسْحَةٍ مِن دِینِه مَا لَمْ یُصِبْ دَمًا حَرَامًا »(صحیح بخاری: ۶۸۶۲)
کہ ''مؤمن کے دین میں ہمیشہ کشادگی )مغفرت کی اُمید( رہتی ہے جب تک اس سے ناحق خون سرزد نہ ہوجائے۔''
صحابی جلیل سیدنا ابن عمرؓ فرماتے ہیں: «إن من وَرْطات الأمور التي لا مخرج لِمَن أوقع نفسَه فیها سفْكُ الدّم الحرامِ بغیر حلّه»(صحیح بخاری: ۶۸۶۳)
''یقینا ناحق خون بہانا ان اُمور میں سے ہے جو انسان کو گھیر لیتے ہیں اور ان سے چھٹکارا ممکن نہیں۔''
11.سیدنا عبادہ بن صامتؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:
«تُبَابِعُونِي عَلَیٰ أَنْ لَا تُشْرِکُوْا بِاﷲِ شَیْئًا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تُسْرِقُوا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اﷲُ إِلَّا بِالْحَقِّ، فَمَنْ أَوْفَیٰ مِنْکُمْ فَأَجْرُه عَلَی اﷲِ، وَمَنْ أَصَابَ شَیْئًا مِنْ ذٰلِكَ فَعُوقِبَ بِه فَهُوَ کَفَّارَةٌ لَه، وَمَنْ أَصَابَ شَیْئًا مِنْ ذٰلِكَ فَسَتَرَهُ اﷲُ عَلَیْهِ فَأَمْرُه إِلَی اﷲِ إِنْ شَآءَ عَفَا عَنْهُ وَإِنْ شَآءَ عَذَّبَه» (صحیح بخاری: ۱۸، صحیح مسلم: ۱۷۰۹، یہ الفاظ امام مسلم ؒکے ہیں)
''مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کچھ بھی شرک نہ کرو گے، نہ زنا کرو گے، نہ چوری کرو گے اور نہ ہی کسی ایسے نفس کو جسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے ناحق قتل کرو گے۔ جس نے یہ بات پوری کی تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے، اور ان میں سے کچھ بھی کیا اور پھر دُنیا میں ہی اس کی سزا پاگیا )حد کی صورت میں( تو وہ اس کے لئے کفارہ ہوگا، اور جس نے ان میں کچھ کیا لیکن اللہ نے اس پر پردہ ڈال دیا )یعنی اسے اس کی دُنیا میں سزا نہ ملی( تو اس کا معاملہ قیامت کے دن اللہ پر ہوگا چاہے تو معاف کردے اور چاہے تو اس کو عذاب دیدے۔''
12.سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا: «مَنْ حَمَلَ عَلَیْنَا السِّلاحَ فَلَیْسَ مِنَّا»(صحیح بخاری: ۶۸۷۴، صحیح مسلم: ۱۶۱)
کہ ''جس کسی نے ہم میں کسی پر ہتھیار اٹھایا تو وہ ہم میں سے نہیں۔''
13.سیدنا ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ رسول پاکﷺنے فرمایا:
«لَا یَحِلُّ دَمُ امْرِءٍ مُسْلِمٍ یَشْهَدُ أَنْ لآ إِلٰـهَ إِلَّا اﷲُ وَأَنِّي رَسُولُ اﷲِ إِلَّا بِإِحْدَیٰ ثَلاثٍ:النَّفْس بِالنَّفْسِ، وَالثَّیِّب الزَّانِي، وَالْمُفَارِق لِدِینِه التَّارِک لِلْجَمَاعَةِ» (صحیح بخاری: ۶۸۷۸، صحیح مسلم: ۱۶۷۶)
''کسی مسلمان ... جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں (محمد)ﷺ اللہ کا رسول ہوں ... کا خون تین باتوں کے علاوہ جائز نہیں: جان کے بدلے جان، شادی شدہ زانی اور مسلمان کی جماعت کو چھوڑ کر اپنے دین سے الگ ہونے والا۔''
14.سیدنا ابن مسعودؓ ہی سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
«سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُه کُفْرٌ »(صحیح بخاری: ۴۸، صحیح مسلم: ۱۱۶)
''مسلمان کو گالی دینا فسق، جبکہ اس سے لڑائی کرنا کفر ہے۔''
15.سیدنا ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا: «أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَی اﷲِ ثَلاثَةٌ: مُلْحِدٌ فِي الْحَرَمِ وَمُبْتَغٍ فِي الإِسْلامِ سُنَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ، وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِءٍ بِغَیْرِ حَقًِ لِیُهْرِیقَ دَمَه»(صحیح بخاری: ۶۸۸۲)
کہ ''اللہ تعالیٰ کے ہاں تین قسم کے لوگ سب سے ناپسندیدہ ہیں: حرم میں الحاد )بد عقیدگی ، خون خرابہ وغیرہ( کرنے والا، اور اسلام میں جاہلیت کی رسم تلاش کرنے والا، کسی آدمی کا نا حق خون کرنے کے لئے اس کے پیچھے لگنے والا۔''
16.اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا كُتِبَ عَلَيكُمُ القِصاصُ فِى القَتلَى الحُرُّ بِالحُرِّ وَالعَبدُ بِالعَبدِ وَالأُنثىٰ بِالأُنثىٰ فَمَن عُفِىَ لَهُ مِن أَخيهِ شَىءٌ فَاتِّباعٌ بِالمَعروفِ وَأَداءٌ إِلَيهِ بِإِحسـٰنٍ ذ‌ٰلِكَ تَخفيفٌ مِن رَبِّكُم وَرَحمَةٌ فَمَنِ اعتَدىٰ بَعدَ ذ‌ٰلِكَ فَلَهُ عَذابٌ أَليمٌ ﴿١٧٨﴾ وَلَكُم فِى القِصاصِ حَيو‌ٰةٌ يـٰأُولِى الأَلبـٰبِ لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ﴿١٧٩﴾... سورة البقرة"کہ ''اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد آزاد کے بدلے، غلام غلام کے بدلے، عورت عورت کے بدلے۔ ہاں جس کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے تو اسے بھلائی کی اتباع کرنی چاہئے۔ تمہارے رب کی طرف سے یہ تخفیف اور رحمت ہے۔ اس کے بعد بھی جو سرکشی کرے اسے دردناک عذاب ہوگا۔ عقلمندو! قصاص میں تمہارے لئے زندگی ہے اس باعث تم )قتل نا حق سے( رکو گئے۔''
17.سیدنا ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک لڑکا سر عام قتل کردیا گیا تو عمر بن خطابؓ نے فرمایا: ''لو اشترك فیها أهل صنعاء لقتلتهم''کہ ''اگر اس لڑکے کے قتل میں تمام صنعاء کے رہنے والے بھی شریک ہوں تو میں سب کو قتل کرا دوں گا۔''
٭ مغیرہ بن حکیمؒ اپنے حکیم باپ سے بیان کرتے ہیں کہ چار اشخاص نے ایک بچے کو قتل کردیا، تو سیدنا عمر بن خطابؓ نے یہی کہا۔ (صحیح بخاری: ۶۸۹۶)
18.سیدنا جندب بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ
''انسان کے مرنے کے بعد جو چیز سب سے پہلے بدبودار ہوتی ہے وہ اس کا پیٹ ہے تو جو شخص یہ کرسکے کہ وہ پاکیزہ کے علاوہ کچھ نہ کھائے پس وہ ایسا ہی کرے اور جو شخص یہ کر سکے کہ چلوبھر خون بہانے کے سبب جنت اور اس میں کوئی چیز حائل نہ کی جائے تو چاہئے کہ وہ ایسا ہی کرے'' )یعنی اگر وہ چلو برابر خون بہائے گا تو اسمیں اور جنت میں فاصلہ کردیا جائے گا)
(صحیح بخاری: ۷۱۵۲)
٭ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ امام طبرانی ؒ کے ہاں یہ حدیث مرفرع بھی بیان ہوئی ہے۔ سیدنا جندبؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسولﷺسے فرماتے سنا:
«لَا یَحُولَنَّ بَیْنَ أَحَدِکُمْ وَبَیْنَ الْجَنَّةِ وَهُوَ یَرَاهَا مِلْئُ کَفِّ دَمٍ مِنْ مُسْلِمٍ أَهْرَاقَه بِغَیْرِ حِلِّه» (فتح الباری: ۱۳؍۱۳۰) کہ ''تمہارے اور جنت کے درمیان اگرچہ تم جنت کو دیکھ رہے ہو ... ایک مسلمان کا چلو برابر خون بھی ہر گز حائل نہ ہو جس کو تم نے ناحق بہایا ہو۔''
اگر اس حدیث کے مرفوع ہونے کی تصریح نہ بھی ہو تب بھی یہ حدیث حکماً مرفوع ہے، کیونکہ ایسی بات صحابی اپنے اجتہاد سے نہیں کہہ سکتا۔ بہرحال اس حدیث مبارکہ میں بغیرحق کے مسلمانوں کا خون بہانے پر بہت شدید وعید ہے۔
19.نبی کریمﷺ نے فرمایا:«وَمَنْ خَرَجَ عَلَیٰ أُمَّتِي یَضْرِبُ بِرَّهَا وَفَاجِرَهَا، وَلَا یَتَحَاشّ مِنْ مُؤْمِنِهَا، وَلَا یَفِي لِذِي عَهْدٍ عَهْدَه، فَلَیْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ»(صحیح مسلم: ۱۸۴۸)کہ ''اور جس شخص نے میری امت پر اس طرح خروج کیا کہ وہ ہر نیک وبد کو مارتا ہے، اور مؤمن شخص کے معاملے میں انجام سے نہیں ڈرتا، اور جس سے وعدہ کیا ہو اس سے وعدہ بھی پورا نہیں کرتا تو نہ تو اُس کا مجھ کوئی تعلق ہے اور نہ ہی میرا اُس سے۔''
٭ ذیل میں وہ احادیث ہیں جو اگرچہ صحیح بخاری و مسلم میں نہیں لیکن ان کو امام منذریؒ سے اپنی کتاب الترغیب و الترہیب میں بیان کیاہے اور امام محمد ناصر الدین البانی ؒ ان تمام کو اپنی صحیح الترغیب والترہیب میں بھی ذکر کیا ہے۔ (الترغیب :۳؍۲۹۳ وما بعدہ)
20.سیدنا برا بن عازبؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:
«لَزَوَالُ الدُّنْیَا أَهْوَنُ عَلَی اﷲِ مِنْ قَتْلِ مُؤْمِنٍ بِغَیْرِ حَقٍّ، وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ سَمَاوَاتِه وَأَهْلَ أَرْضِه اشْتَرَکُوا فِي دَمِ مُؤْمِنٍ لَأَدْخَلَهُمُ النَّارَ»
کہ ''البتہ پوری دُنیا کا تباہ وبرباد ہوجانا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مومن شخص کے ناحق قتل ہونے سے ہلکا ہے۔ اور اگر آسمان وزمین میں رہنے والے تمام افراد ایک مومن شخص کے قتل میں شریک ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ سب کو جہنم میں داخل کر دیں گے۔''
٭ سیدنا ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
«لَزَوَالُ الدُّنْیَا أَهْوَنُ عَلَی اﷲِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ»
''البتہ پوری دُنیا کا ختم ہوجانا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مسلمان شخص کے قتل سے کم ہے۔''
٭ سیدنا بریدہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریمﷺنے فرمایا:
« قَتْلُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اﷲِ مِنْ زَوَالِ الدُّنْیَا»
''ایک مومن شخص کا قتل حق تعالیٰ کے نزدیک پوری دُنیا کے زوال پر بھاری ہے۔''
21.سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضى الله عنهما سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:
« لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَآءِ وَأَهْلَ الْأَرْضِ اشْتَرَکُوا فِي دَمِ مُؤْمِنٍ لَأَکَبَّهُمُ اﷲُ فِي النَّارِ»
''یقینا اگر تمام اہل اَرض وسماء ایک مومن شخص کے قتل میں شریک ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ سب کو اوندھے منہ آگ میں داخل کردیں گے۔''
22.سیدنا ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ سید البشرﷺ نے فرمایا:
«کُلُّ ذَنْبٍ عَسَی اﷲُ أَنْ یَغْفِرَه إِلَّا الرَّجُلَ یَمُوتُ کَافِرًا أَوِ الرَّجُلَ یَقْتُلُ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا» ''ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو معاف فرما دیں سوائے دو گناہوں کے: ایک تو وہ شخص جو کفر کی حالت میں فوت ہوجائے، اور دوسرا وہ شخص جو کسی مؤمن شخص کو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے۔''
٭ سیدنا ابو الدرداءؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ کریمﷺکو فرماتے سنا:
«کُلُّ ذَنْبٍ عَسَی اﷲُ أَنْ یَغْفِرَه إِلَّا الرَّجُلَ یَمُوتُ مُشْرِکًا أَوْ یَقْتُلُ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا»
''جو شخص شرک پر مرے یا جو کسی مومن شخص کو عمداً قتل کرے، ان دونوں گناہوں کے علاوہ ممکن ہے اللہ تعالیٰ باقی تمام گناہوں کو معاف فرمادیں۔''
23.سیدنا ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
«إِذَا أَصْبَحَ إِبْلِیسُ بَثَّ جُنُودَه، فَیَقُولُ: مَنْ أَخْذَلَ الْیَوْمَ مُسْلِمًا أُلْبِسُهُ التَّاجَ، قَالَ: فَیَجِيئُ هٰذَا فَیَقُولُ: لَمْ أَزَلْ بِه حَتَّیٰ طَلَّقَ امْرَأَتَه، فَیَقُولُ: أَوْشَكَ أَنْ یَتَزَوَّجَ، وَیَجِيئُ هٰذَا فَیَقُولُ:لَمْ أَزَلْ بِه حَتَّیٰ عَقَّ وَالِدَیْهِ، فَیَقُولُ: یُوشِكُ أَنْ یَبَرَّهُمَا: وَیَجِيئُ هٰذَا فَیَقُولُ: لَمْ أَزَلْ بِه حَتَّیٰ أَشْرَكَ، فَیَقُولَ: أَنْتَ أَنْتَ، وَیَجِيئُ هٰذَا فَیَقُولُ:لَمْ أَزَلْ بِه حَتَیَّ قَتَلَ، فَیَقُولُ: أَنْتَ أَنْتَ، وَیُلْبِسُهُ التَّاجَ»
''جب صبح ہوتی ہے تو ابلیس اپنے لشکر )چیلوں چانٹوں( کو جمع کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تم میں جس نے آج کسی مسلمان کو ذلیل کیا تو میں اسے انعام کے طور پر تاج پہنائوں گا، نبی کریمﷺ فرماتے ہیں کہ ایک چیلا آئے گا اور کہے گا کہ میں ایک مسلمان کو وسوسے ڈالتا رہا حتیٰ کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی، شیطان لعین کہے گا کہ ممکن ہے کہ وہ پھر شادی کر لے، ایک اور چیلا آئے گا اور کہے گا کہ میں ایک مسلمان کو بہکاتا رہا حتیٰ کہ اس نے اپنے والدین کی نافرمانی کرلی، شیطان لعین کہے گا کہ ممکن ہے کہ وہ ان کے ساتھ نیک سلوک کر لے، ایک اور چیلا آئے گا اور کہے گا کہ میں ایک مسلمان کے ساتھ لگا رہا یہاں تک کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کر لیا، ابلیس کہے گا کہ ہاں ہاں تو انعام کا حق دار ہے! ایک اور چیلا آئے گا اور کہے گا کہ میں ایک مسلمان کو بہکاتا رہا حتیٰ کہ اس نے قتل کر دیا، ابلیس لعین کہے گا کہ ہاں ہاں تو انعام کا حقدار ہے! اور اسے تاج پہنائے گا۔''
24. سیدنا عبادہ بن صامتؓ سے مروی ہے کہ رحمۃ للعالمینﷺنے فرمایا:
«مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا فَاغْتَبَطَ بِقَتْلِه لَمْ یَقْبَلِ اﷲُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا»
''جو شخص کسی مؤمن کو قتل کرے اور اپنے آپ کو حق بجانب سمجھے تو اللہ تعالیٰ اس سے کوئی پس وپیش قبول نہ کریں گے۔''
اس حدیث ِمبارکہ کو امام ابوداؤدؒ نے بھی روایت کیا ہے اور وہ پھر خالد بن دہقان سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے یحییٰ بن یحییٰ غسانی سے «فَاغْتَبَطَ»کے معنی پوچھے تو انہوں نے کہا : ''الذین یقاتلون فی الفتنة، فیقتل أحدهم، فیرٰی أحدهم أنه علی هدی لا یستغفر اﷲ، یعني من ذٰلك''کہ ''وہ لوگ جو کسی فتنہ میں لڑائی کریں، پس وہ بعض کو قتل بھی کریں اور پھر اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ اس بات کی )یعنی مسلمانوں کو قتل کرنے پر( معافی بھی نہ مانگیں، یہی اس لفظ کا مطلب ہے۔''
(سنن ابی داود: ۴۲۷۰)
25.سیدنا ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
«یَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ یَتَکَلَّمُ، یَقُولُ: وُکِلْتُ الْیَوْمَ بِثَلاثَةٍ: بِکُلِّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ، وَمَنْ جَعَلَ مَعَ اﷲِ إِلٰـهًا آخَرَ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ حَقٍّ، فَیَنْطَوِي عَلَیْهِمْ فَیَقْذِفُهُمْ فِي غَمَرَاتِ جَهَنَّمِ»
''جہنم سے )قیامت کے دن( ایک گردن نکلنے گی جو کہ باتیں کرتی ہوگی، وہ کہے گی کہ مجھے آج تین کے قسم کے لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے: ہر سرکش اور کینہ پرور پر، اور اس شخص پر جس نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور الٰہ بنا لیا، اور اس شخص پر جس نے کسی جان کو ناحق قتل کیا، پس وہ گردن ان پر لپکے گی اور انہیں جہنم کی گہرائیوں میں پھینک دے گی۔''
٭درج بالا تمام آیات بینات واحادیث مبارکہ کسی کو جان بوجھ کر قتل کرنے کے بارہ میں ہیں۔ ہاں اگر کسی شخص کے ہاتھوں غلطی سے کوئی قتل ہوجائے تو اللہ نے اس پر دیت اور کفارہ رکھا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَما كانَ لِمُؤمِنٍ أَن يَقتُلَ مُؤمِنًا إِلّا خَطَـًٔا وَمَن قَتَلَ مُؤمِنًا خَطَـًٔا فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ إِلّا أَن يَصَّدَّقوا فَإِن كانَ مِن قَومٍ عَدُوٍّ لَكُم وَهُوَ مُؤمِنٌ فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَإِن كانَ مِن قَومٍ بَينَكُم وَبَينَهُم ميثـٰقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ وَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ شَهرَينِ مُتَتابِعَينِ تَوبَةً مِنَ اللَّهِ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا ﴿٩٢﴾... سورة النساء
''کسی مؤمن کو دوسرے مومن کا قتل کر دینا زیبا نہیں مگر غلطی سے ہوجائے(تو اور بات ہے)، جو شخص کسی مسلمان کو بلا قصد مار ڈالے، اس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور مقتول کے عزیزوں کو خون بہا پہنچانا ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ لوگ بطور صدقہ معاف کردیں اور اگر مقتول تمہاری دُشمن قوم کا ہو اور ہو وہ مسلمان، تو صرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرنا لازمی ہے۔ اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہد وپیمان ہے تو خون بہا لازم ہے، جو اس کے کنبے والوں کو پہنچایا جائے اور مسلمان غلام کا آزاد کرنا بھی )ضروری ہے( پس جو نہ پائے اس کے ذمے دو مہینے کے لگاتار روزے ہیں، اللہ تعالیٰ سے بخشوانے کے لئے اور اللہ تعالیٰ بخوبی جاننے والا اور حکمت والا ہے۔''
'معاہد ' کو عمداً یا غلطی سے قتل کرنا
'ذِمی' )کسی مسلم حکومت میں رہنے والے وہ غیر مسلم لوگ جو جزیہ ادا کرتے ہیں اور حکومت ِوقت ان کی جان وآبرو کی محافظ ہوتی ہے(، 'معاہد' )وہ غیر مسلم جو کسی معاہدہ کے تحت مسلم علاقے میں آئیں( اور 'مستامن' )جو غیر مسلم مسلمان حکومت یا کسی بھی مسلمان کی امان پر مسلم علاقے میں آئیں( کو قتل کرنا اسلامی شریعت میں حرام ہے اور اس بارے میں انتہائی شدید وعید وارد ہے، اس بارے میں کچھ احادیث ِمبارکہ ذکر کی جاتی ہیں :
1.سیدنا ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا:
«مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدًا لَمْ یَرَحْ رَآئِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِیحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِیرَةِ أَرْبَعِینَ عَامًا» (صحیح بخاری: ۳۱۶۶)
''جس نے کسی 'معاہد' کو قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا حالانکہ اُس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے محسوس کی جا سکتی ہے۔''
اس حدیث ِمبارکہ کو امام بخاریؒ نے کتاب الجزیۃ میں بابُ إِثْم من قَتل معاهَدا بغیر جُرم کہ 'معاہد کو بغیر جرم کے قتل کرنے کا گناہ' کے تحت جبکہ کتاب الدیات میں باب إثمِ من قتَل ذِمیّا بغیرِ جرْمکہ 'ذمی کو بغیر جرم قتل کرنے کا گناہ' کے ضمن میں ذکر کیا ہے۔ جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ درج بالا سخت ترین وعید 'ذمی' اور 'معاہد' کو بغیر جرم کے قتل کرنے پر ہے۔حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ یہاں یعنی کتاب الدیات میں امام بخاریؒ نے 'ذمی' کے بارے میں باب باندھا ہے حالانکہ اس بات کے تحت جو حدیث ہے اس میں 'معاہد' کا ذکر ہے، جبکہ کتاب الجزیۃ میں باب بھی 'معاہد' کے نام سے باندھا اور اس کے تحت حدیث میں بھی 'معاہد' کا ہی ذکر ہے، تو 'معاہد' سے مراد )امام صاحب کے نزدیک( وہ شخص ہے جس کا مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ ہو، خواہ وہ معاہدہ جزیہ کے ساتھ ہو، حاکم کی طرف سے ہدیہ کے طور پر ہو یا پھر کسی بھی مسلمان کی جانب سے پناہ کے طور پر۔ (فتح الباری: ۱۲؍۲۵۹)
٭ اس حدیث کو امام نسائی ؒ نے درج ذیل الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے:
«مَنْ قَتَلَ قَتِیلاً مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ یَجِدْ رِیحَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِیحَهَا لَیُوجَدُ مِنْ مَسِیرَةِ أَرْبَعِینَ عَامًا»(سنن النسائی: ۴۷۵۰)
''جس نے اہل ذمہ میں سے کسی کو قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے سونگھی جا سکتی ہے۔''
٭امام نسائی ؒ نے اس حدیث کو صحیح سند کے ساتھ ان الفاظ سے بھی ذکر کیا:
«مَنْ قَتَلَ رَجُلا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ یَجِدْ رِیحَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِیحَهَا لَیُوجَدُ مِنْ مَسِیرَةِ سَبْعِینَ عَامًا» (سنن النسائی: ۴۷۴۹)
''جس نے اہل ذمہ میں سے کسی کو قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو تو ستر سال کی مسافت کی سونگھی جا سکتی ہے۔''
2. سیدنا ابوبکرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:
«مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا فِيْ غَیْرِ کُنْهِه حَرَّمَ اﷲُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ» (سنن ابی داود: ۲۷۶۰، والنسائی: ۴۷۴۷، وزاد النسائی: أن یشمّ ریحہا)
'' جس نے کسی 'معاہد' کو نا حق کے قتل کیا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کردیتے ہیں۔''
٭امام نسائی ؒ کی روایت میں اضافہ ہے کہ اللہ اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام کر دیتے ہیں۔
امام منذریؒ فرماتے ہیں کہ «فِي غَیْرِ کُنْهِه» کا مطلب ہے :
''ایسے وقت کے علاوہ جس میں اس کا قتل جائز ہو یعنی کسی قسم کامعاہدہ نہ ہو۔'' (الترغیب والترہیب: ۳؍۲۹۹،منذری، الترغیب والترہیب من الحدیث الشریف، ۱۴۰۱، دار الفکر)
٭اور امام منذریؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو امام ابن حبانؒ نے اپنی صحیح میں ذکر کیا ہے جس کے الفاظ یوں ہیں:
«مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَیْرِ حَقِّهَا لَمْ یَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِیحَ الْجَنَّةِ لَتُوجَدُ مِنْ مَسِیرَةِ مِائَةِ عَامٍ »
''جس نے کسی 'معاہد' کو نا حق قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا، حالانکہ جنت کی خوشبو تو سو سال کی دوری سے بھی آسکتی ہے۔'' امام البانی ؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح لغیرہٖ ہے۔( الترغیب والترہیب: ۳؍۲۹۹)
٭درج بالا احادیث ِمبارکہ 'معاہد' کو جان بوجھ کر قتل کرنے کے بارے میں ہیں۔ جہاںتک 'معاہد' کو غلطی سے قتل کرنے کامسئلہ ہے تو اس میں دیت اور کفارہ ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَإِن كانَ مِن قَومٍ بَينَكُم وَبَينَهُم ميثـٰقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ وَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ شَهرَينِ مُتَتابِعَينِ تَوبَةً مِنَ اللَّهِ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا ﴿٩٢﴾... سورة النساء
''اور اگر مقتول )جو غلطی سے قتل ہوا ہے( اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہد وپیمان ہے تو خون بہا لازم ہے، جو اس کے کنبے والوں کو پہنچایا جائے اور مسلمان غلام کا آزاد کرنا بھی )ضروری ہے( پس جو نہ پائے اس کے ذمے دو مہینے کے لگاتار روزے ہیں، اللہ تعالیٰ سے بخشوانے کے لئے اور اللہ تعالیٰ بخوبی جاننے والا اور حکمت والا ہے۔''
آخر میں، میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اے نوجوانو! اپنی جانوں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، شیطان کے ہاتھوں ہلاکت وتباہی سے بچو، ورنہ وہ تمہارے لئے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب جمع کردے گا، اسی طرح مسلمان بزرگوں اور نوجوانوں کے معاملے میں بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مسلمان عورتوں کے معاملے میں، اپنی ماؤں، بیٹیوں، بہنوں، پھوپھیوں اور خالاؤں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، رکوع سجدہ کرنیوالے بزرگوں اور شیر خوار بچوں کے معاملے میں اللہ سے خوف کھاؤ، معصوم وناحق خون اور محترم وناحق مالوں کے معاملے میں بھی اللہ تعالیٰ سے خوف کھاؤ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿فَاتَّقُوا النّارَ الَّتى وَقودُهَا النّاسُ وَالحِجارَةُ ...﴿٢٤﴾... سورة البقرة
کہ ''اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔''
اور فرمایا:﴿وَاتَّقوا يَومًا تُرجَعونَ فيهِ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ تُوَفّىٰ كُلُّ نَفسٍ ما كَسَبَت وَهُم لا يُظلَمونَ ﴿٢٨١﴾... سورةالبقرة
''اور اُس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جائو گے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔''
نیز فرمایا:﴿يَومَ تَجِدُ كُلُّ نَفسٍ ما عَمِلَت مِن خَيرٍ مُحضَرًا وَما عَمِلَت مِن سوءٍ تَوَدُّ لَو أَنَّ بَينَها وَبَينَهُ أَمَدًا بَعيدًا ...﴿٣٠﴾... سورة آل عمران
''جس دن ہر نفس )شخص( اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اور اپنی کی ہوئی برائیوں کو موجود پالے گا، آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور برائیوں کے درمیان بہت ہی دوری ہوتی۔''
نیز فرمایا: ﴿يَومَ يَفِرُّ المَرءُ مِن أَخيهِ ﴿٣٤﴾ وَأُمِّهِ وَأَبيهِ ﴿٣٥﴾ وَصـٰحِبَتِهِ وَبَنيهِ ﴿٣٦﴾ لِكُلِّ امرِئٍ مِنهُم يَومَئِذٍ شَأنٌ يُغنيهِ ﴿٣٧﴾... سورة عبس
''اُس دن آدمی اپنے بھائی سے، اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے، اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا ۔ ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایسی فکر )دامن گیر( ہوگی جو اس کیلئے کافی ہوگی۔''
اے نوجوانو! اپنی بے ہوشی اور غفلت کی نیند سے بیدار ہوجاؤ اور زمین میں فتنہ و فساد کے لئے شیطان کے آلہ کار نہ بنو۔ میں اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ مسلمانوں کو دین کی سمجھ عطا فرمائے، اور گمراہیوں کی ظلمتوں سے چاہے وہ ظاہر ہوں یا مخفی ، اُن کو محفوظ کرے۔ وصلّی اﷲ وسلّم وبارَك علیٰ عبده ونبیّه محمد وعلیٰ آله وصحبه أجمعین، آمین یارب العالمین