سالارِ فوج مَغفُورلَّھُم کون تھا؟

چند ماہ پیشتر ''اوّل جیش'' کے تحت جہاد قسطنطنیہ میں یزید کی شمولیت و عدم شمولیت اور قیادت پرطبع آزمائی شروع ہوئی، تو اس کے باعث قارئین میں اضطراب کا تموج پیدا ہوا اور مختلف زبانیں استعمال ہونے لگیں۔ جناب اللہ یار صاحب کی تحقیق یہ تھی کہ یزید اس لشکر میں شامل نہ تھا۔ ان کا یہ مضمون ہفت روزہ ''اہلحدیث'' میں شا ئع ہوا۔اس پر محترم صاحبزادہ برق التوحیدی نےاس موضوع پر قلم اٹھایا اور حتی الوسع یزید کو لشکر مغفور کا سالار ثابت کرنے کی کوشش کی مگر مختلف مقامات پر موصوف کی تضاد بیانی نے مضمون کی افادیت کو مجروح کردیا۔گو اس موضوع پرمجھ ایسے ناچیز کو صفحہ قرطاس پر نوک قلم کو جنبش دینے کی چنداں ضرورت نہ تھی، مگر حقیقت کی پائمالی کو ستم ظریفی خیال کرتے ہووے چند سطور پیش خدمت ہیں۔ وباللہ التوفیق!



صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت اُم حرامؓ کے گھر بیداری کے بعد آنحضرتﷺ نے دو لشکرون کو غیر مشروط طور پر مغفرت کی بشارت سے سرفراز فرمایا۔ i
بخاری شریف ہی میں ہے کہ نبی کریم علیہ التحیة والتسلیم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بدریوں کی مغفرت کا اعلان فرمایا:
''اعملوا ما شئتم قد غفرت لکم''1
کہ ''جوچاہو کرو، میں (اللہ) نے تمہیں بخش دیا۔''

اب نہ تو میدان بدر میں اللہ تعالیٰ بدریوں کویہ پیغام سنایا کہ تم مغفور ہو ، اور نہ ہی بلادِ روم میں قسطنطنیہ کی فوج کو، بلکہ یہ دونوں بشارتیں اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق، جب اس نے چاہا، پیغمبر علیہ السلام کی زبان مبارک سے سنائی گئیں۔ جبکہ آپؐ کے متعلق قرآن مجید نے بیان فرمایا ہےکہ:
وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْهَوَىٰٓ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْىٌ يُوحَىٰ ﴿٤...سورۃ النجم

مصطفٰےؐ ہرگز نہ گفتے تا نہ گفتے جبرئیل
جبرئیلش ہم نے گفتے تانہ گفتے کردگار


نیز ایک موقع پر نبیﷺ نے ایک صحابیؓ کو فرمایا تھا کہ ''جو کچھ میں کہوں اسے لکھ لیا کرو'' اس لیے کہ:
''لا یخرج منه إلا الحق'' 2
یعنی ''اس (زبان) سے صرف حق ہی نکلتا ہے۔''

لہٰذا ہر دو مقامات پر خوشخبری دیئے جانے والے مجاہدین یقیناً مغفور ہیں۔ دلائل درج ذیل ہیں:
1۔ فتح الباری میں زیر حدیث ''یغزون مدینة قیصر........'' مرقوم ہے کہ:
''قال المھلب في ھٰذا الحدیث منقبة لمعاویة لأنه أوّل من غزا البحر ولولدہ یزید لأنه أوّل من غزا مدینة قیصر۔۔۔۔الخ''3

مولانا احمد علی سہانپوری نے بھی مذکورہ حدیث کے تحت (صحیح بخاری صفحہ 1؍401) حاشیہ پر یہی الفاظ نقل کئے ہیں اور یہی الفاظ خیر الباری، عمدة القاری (صفحہ 4؍199 طبع بیروت) اور قسطلانیii میں بھی موجود ہیں۔

ترجمہ یہ ہے:
''مہلب نے کہا، اس حدیث میں حضرت امیر معاویہ کی منقبت ہے کہ انہوں نے سب سے قبل بحری جنگ کا آغاز کیا اور ان کے بیٹے یزید کے لیے کہ اس نے سب سے پہلے قیصر کے شہر پرحملہ کیا۔''

2۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں:
''وقد کان یزید أوّل من غزا مدینة قسطنطینیة'' 4
کہ ''یزید نے ہی سب سے پہلے قسطنطنیہ پر حملہ کیا۔''

3۔ اسد الغابہ میں ہے کہ:
''وکان في جیش و أمیرذٰلك الجیش یزید بن معاویة'' 5
''................. اس لشکر کا امیر یزید بن معاویہ تھا۔''

4۔ مشہور مؤرخ المسعودی نے کتاب البینہ والاشراف میں لکھا ہے کہ:
''اسلامی دور میں اسی ساحل بحرسے چل کر تین امیران جیوش اسلامی نے (جن کے آباء خلیفہ و بادشاہ تھے) قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا۔ سب سے اوّل یزید بن معاویہ، دوم مسلمہ بن عبدالملک اور تیسرے ہارون الرشید مہدی تھے۔'' 6

5۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ:
''جب یزید نے اپنے باپ معاویہ کے زمانہ میں قسطنطنیہ پر حملہ کیا تو اس کی فوج میں حضرت ابوایوب انصاریؓ جیسے جلیل القدر صحابہ بھی شریک تھے۔ یہ مسلمانوں کی سب سے پہلی فوج تھی جس نے قسطنطنیہ پرحملہ کیا۔ اور صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ ''سب سے پہلی فوج میری امت کی ، جو قسطنطنیہ پر حملہ کرے گی، وہ مغفور ہوگی۔'' 7

گویا امام ابن تیمیہ  کی تحقیق کے مطابق سب سے پہلی فوج جس نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا، اس کی قیادت یزید کے ہاتھ میں تھی۔ اسی لشکر میں حضرت ابوایوب انصاری ؓ بھی شامل تھے، چنانچہ مسنداحمد میں ہے کہ:
''إن یزید بن معاویة کان أمیر علی الجیش الذي غزا فيه أبوأیوب الأنصاري'' 8
کہ ''یزید بن معاویہ اس لشکر کا امیر تھا جس میں حضرت ابوایوب انصاریؓ نے شمولیت کرکے جہاد کیا۔''

اور اکثر مؤرخین اس پر متفق ہیں۔ چند حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں:
1۔ تاریخ خلیفہ بن خیاط المتوفی 240ھ میں ہے:
''وفیھا غزا یزید بن معاویة أرض الروم'' 9
کہ ''اسی لشکر کے ساتھ یزید بن معاویہ نے ارض روم پر فوج کشی کی۔''

2۔ طبری میں ہے کہ:
''وفیھا کانت غزوة یزید بن معاویة الروم حتیٰ بلغ قسطنطینیة و معه ابن عباس و ابن عمر و أبوأیوب الأنصاري''10
یعنی ''یہ فوج کشی جو یزید بن معاویہؓ نے ارض روم پر کی، اس میں ابن عباسؓ، ابن عمرؓ اور ایوایوب انصاریؓ بھی شامل تھے۔''
3۔ تاریخ ابن خلدون صفحہ 10 ج3 (طبع مصر) پر مرقوم ہے کہ یزید بن معاویہ بحیثیت امیر الجیش اس لشکر میں شامل تھا جس میں ابوایوب انصاریؓ تھے۔
4۔ ابن سعد نے محمد بن عمران سے نقل کیا ہے کہ جس سال یزید بن معاویہ نے اپنے والد کی خلافت میں قسطنطنیہ کی جنگ کی ، اسی سال حضرت ابوایوب انصاریؓ کی وفات ہووی اور یزید بن معاویہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ 11
5۔اصابہ میں ہے کہ یزید ابوایوب انصاریؓ کی عیادت کو آتا تھا اور وہ لشکر کا سالار تھا۔
''وعلی الجیش یزیدبن معاویة فأتاہ یعودہ'' 12
کہ ''ابوایوب انصاریؓ یزید بن معاویہ کے لشکر میں شامل تھے، اسی کو آپ نے (نماز جنازہ پڑھانے کی) وصیت کی اور اسی (یزید) نے آپؓ کی نماز جنازہ پڑھائی۔''

7۔ استیعاب میں ہے کہ:
''وکان أبوأیوب الأنصاري مع علي بن أبي طالب في حروب کلھا ثم مات بالقسطنطینیة من بلاد الروم في زمن معاویة کانت غزاته تحت رأیة یزید بن معاویة وھو کان أمیرھم یومئذ'' 13
یعنی ''حضرت ابوایوب انصاریؓ نے حضرت علیؓ بن ابی طالب کے ساتھ تمام جنگوں میں شرکت کی اور خلافت امیر معاویہ میں رومی شہروں میں وفات پائی۔ اس جنگ میں لشکر کی کمان یزید بن معاویہ کے ہاتھ میں تھی۔''

8۔ روض الانف میں ہے کہ:
''50ھ میں جب یزید کی قیادت میں قسطنطنیہ پر حملہ کیا گیا تو حضرت ابوایوب انصاریؓ کی وفات ہوئی اور انہوں نے یزید کو وصیت فرمائی تھی کہ مجھے بلاد روم کے بہت ہی قریب دفن کیا جائے۔ چنانچہ مسلمانوں نے ان کی وصیت کے پیش نظر انہیں بلاد روم کے قریب دفن کردیا۔ جب رومیوں نے یہ منظر دیکھا تو کہا، ''یہ تم کیا کررہے ہو؟'' یزید نے جواب دیا کہ ''پیغمبر خداﷺ کے جلیل القدر صحابی ابوایوب انصاریؓ کو دفن کررہے ہیں۔'' اس پر رومیوں نے کہا، ''تم کس قد راحمق ہو، کیا تمہیں اس بات کا خوف نہیں کہ ہم تمہارے جانے کے بعد قبر کھود کر اس کی ہڈیاں بھی جلادیں گے؟'' تو یزید نےکہا کہ ''خدا کی قسم ، اگر تم ایسا کرو گے تو یاد رکھو کہ سرزمین عرب میں جس قدر گرجے ہیں، ہم ان کو گرا دیں اور تمہاری جتنی قبریں ہیں، انہیں اکھاڑ دیں گے۔'' یہ جواب سن کر رومیوں نے اپنے دین کی قسمیں کھائیں اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کی قبر کی حفاطت و احترام کا عہد کیا۔'' 14

9۔ عقد الفرید میں ہے کہ:
یزید نے کہا، ''اگر مجھے خبر مل گئی کہ تم نے اس قبر کو توڑا پھوڑا یا لاش کا مثلہ کیا، تو یاد رکھو، سرزمین عرب پرایک نصرانی کو بھی زندہ نہ چھوڑوں گا۔ اور نہ ہی کسی گرجا گھر کو منہدم کئے بغیر چھوڑوں گا۔'' 15

10۔ آغانی شیعہ رقم طراز ہے کہ جب قیصر روم نے لاش نکال کر جلا دینے کی بات کہی تو یزید یہ توہین آمیز الفاظ برداشت نہ کرسکا۔ فوراً رومیوں پر دھاوا بول دیا اور فوج کو ادھر ادھر پھیر کر ایسا زبردست حملہ کیا کہ رومیون کو شکست دےکر شہر کے اندر محصور کردیا اور قسطنطنیہ کے دروازے کو لوہے کے گرز سے ضربیں لگائیں۔ ان ضربوں کی وجہ سے دروازہ جگہ جگہ سے پھٹ گیا۔ 16

خلاصہ یہ کہ اوّل الحیش کی کمان یزید بن معاویہ کے ہاتھ میں تھی اور اس لشکر میں جلیل القدر اصحابؓ رسول ؐ بھی شامل تھے۔

ھٰذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب


حوالہ جات
1. صفحہ 6 جزء ثالث طبع مصر
2. سنن الدارمی عن عبداللہ بن عمر و بن عاصؓ صفحہ 1؍103 طبع ملتان
3. فتح الباری مطبوعہ مصر و ریاض صفحہ 6؍102
4. البدایہ والنہایہ لابن کثیر طبع بیروت صفحہ 8؍229
5. اسد الغابہ مطبوعہ دارالشعب صفحہ 2؍96
6. صفحہ 140
7. حسینؓ و یزید مطبوعہ کلکتہ صفحہ 28، منہاج السنة صفحہ 245 ج2 طبع مصر
8. مسنداحمد طبع بیروت صفحہ 5؍416، البدایہ صفحہ 5؍59
9. صفحہ 196 جلد اوّل
10. صفحہ 5؍232
11. طبقات ابن سعد اُردو صفحہ 42 جلد 4
12. اصابہ صفحہ 405 جلد اوّل طبع مصر
13. صفحہ 1؍157
14. ملاحظہ ہو روض الانف شرح ابن ہشام لامام سہیل م581ھ طبع قدیم صفحہ 246 جلد دوم
15. العقد الفرید صفحہ 368 ج4 طبع مصر، ناسخ التواریخ مطبوعہ ایران صفحہ 6؍46
16. آغانی صفحہ 33 جلد 16


 

i. صحیح بخاری صفحہ 106 جزء ثانی طبع مصر
ii. حاشیہ قسطلانی کے الفاظ ہیں:
''واستدل به المھلب علیٰ ثبوت خلافة یزید و أنه من أھل الجنة'' (صفحہ 104 جلد5 طبع بیروت) (ادارہ)
کہ ''مہلب نے اس سے خلافت یزید، اور اس کے جنتی ہونے پر استدلال کیا ہے!''