کیا قرآن کی رُو سے حضرت عیسیٰ ؑمیں اُلوہی صفات تھیں؟

مسیح اور پیغمبر کی سیرت کا مقابلہ

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے زیادہ کامل و اکمل زندگی کا تصور ہی ناممکن ہے۔ چنانچہ ہم اس امر کو زیادہ واضح کرنے کے لئے حضور کا مقابلہ انجیلی مسیح سے (یعنی مسیح علیہ السلام کی وہ تصویر جو انجیل میں کھینچی گئی ہے) کریں گے، اس سے جہاں ناظرین کو ہمارے دعویٰ کی تصدیق ہو جائے گی وہاں معیار و مدارِ فضیلت ِانبیا پر بھی پوری روشنی پڑے گی۔ کیونکہ اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو جس طرح دو انسانوں کا مقابلہ کرتے وقت ان میں معیارِ ترجیح فقط وہ جوہر انسانیت ہی ہوسکتا ہے، جسے عرفِ عام میں 'کردار' اور اصطلاحِ شرع میں 'قوتِ ایمانیہ' سے تعبیر کرتے ہیں، اسی طرح جب دو انبیا یا ایک نبی اور ایک ابن اللہ (نعوذ باللہ) کا مقابلہ و موازنہ کریں گے تو اوّلاً ان کے ذاتی کردار اور بعدمیں ان کی تعلیمات اور بعد ازاں ان کی تعلیمات کے نتائج پر غور کرنا پڑے گا۔ اور ان تینوں چیزوں کے تقابل و توازن پر ہی ترجیح کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔

انبیا چونکہ توحید ِالٰہی اور تزکیۂ نفوس و تہذیب ِاخلاق کے لئے تشریف لاتے ہیں، اس لئے ان کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے وہ اللہ پر اعتماد اور تطابق ِقول و عمل ،جوکردارکے اہم ترین جزو ہیںکی پوری تصویر ہوںـ؛ ورنہ ؎

واعظانِ کیں جلوہ بر محراب و ممبر می کنند            چوں در خلوت نہ جلوت مے روند آں کار دیگر کنند


کے مصداق ہوں گے۔ اور جو خود ہی گمراہ ہو، دوسروں کو کیا ہدایت کرسکتا ہے۔ اور بالخصوص نبی ؑ جس کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ خدا کی طرف سے بندؤں کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے اور اللہ کی طرف سے لوگوں کو خدا پر اعتماد سکھلانے کے لئے مامور ہے،ظاہر ہے کہ اس کا اعتماداس درجہ کامل ہونا چاہئے کہ کوئی زبردست سے زبردست آزمائش بھی اس کے کوہِ صبر کو اپنی جگہ سے نہ ہلا سکے۔ ان تمہیدی بیانات کے بعد ہم حضرت عیسیٰ کا انجیلی کردار پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا مقصود اس سے معاذ اللہ ان کی تحقیر و تحقیق نہیں ہے، بلکہ ان کے اس کردار پر روشنی ڈالنا مقصود ہے جو ان کے نادان دوستوں نے 'اَناجیل اربعہ' میں پیش کیا ہے۔ ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دامن تو ایسے نازیبا دھبوں سے بالکل پاک ہے۔

حضرت مسیح کی سیرت ؛ اناجیل میں

حضرت مسیح علیہ السلام کی ایک تعلیم اناجیل میں 'پہاڑ کے وعظ' سے موسوم ہے۔ یعنی ایک دن حضرت مسیح نے پہاڑ پر بیٹھ کر اپنی تمام تعلیم کا لب ِلباب بیان کردیا۔ یہاں ہمیں اس سے بحث نہیں کہ ایک دفعہ گراموفون کی طرح ساری کی ساری کیسٹ ختم کرنے اور یاد کردہ دہرانے سے حاضرین پر کوئی اثر بھی ہوسکتا تھا یا نہیں؟ بلکہ ہم یہاں فقط اس کے ایک حصہ سے بحث کریں گے جو انبیا کی تعلیم کا اہم ترین جزو اور ان کے عمل کا سب سے اہم حصہ ہوتا ہے، یعنی اعتماد علیٰ اللہ (اللہ پر کامل پر بھروسہ کرنا)۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

''تم اپنی جان کی فکر نہ کرنا۔ تم میں سے ایسا کون ہے جو فکر کرکے اپنی عمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے...''

(متی :باب۶؍ آیات ۲۵ تا ۲۷)

یعنی چونکہ سب کچھ، انسان کی موت و حیات، اسے روزی دینا و سامانِ زیست مہیا کرنا خدا کے اختیار میں ہے، اس لئے اسی پر توکل رکھو کیونکہ''تمہارا آسمانی باپ تمہاری سب حاجتوں کو جانتا ہے۔'' (متی: باب۶؍ آیت ۳۲)

یعنی خدا تعالیٰ کو چونکہ تمہاری سب ضروریات کا علم ہے اور وہ ہر وقت تمہارے حال پر نگرانِ کار ہے، اس لئے اسی پر اعتماد رکھو کہ وہ کمالِ رحمت و محبت سے تمہاری سب ضروریات کو جانتا ہے اور ان کو پورا کرتا ہے اور وہ کبھی بھی تمہیں تمہارے حال پر نہیں چھوڑے گا۔ اس لئے ان کی طلب میں یا تکلیف کے وقت میں گریہ و زاری کرنا یا شکوہ و شکایت کرنا بے سود ہے!!

یہ واقعی نہایت ہی اعلیٰ تعلیم ہے۔ اور چاہئے تھا کہ معلم خود اس کا عملی نمونہ بن کر دکھاتا اور جو شخص ہر کہ ومہ کو مصیبت کے وقت میں صبر کی اور اللہ پر توکل کی تعلیم دیتا تھا، اسے چاہئے تھا کہ خود بھی مصیبت کے وقت صبر و عزیمت کا نمونہ بن کر دکھاتا۔ مگر نہیں؛ حضرت مسیح پر خود وہ وقت آن پہنچا جب وہ ابتلاؤں میں ڈالے جانے والے تھے اور ان کو معلوم ہوا کہ یہودی ان کے قتل کے درپے ہیں اور عنقریب وہ گرفتار ہوکر حاکم وقت کے سامنے پیش کئے جانے والے ہیں تو ان پر عجب بے خودی اور گھبراہٹ کا عالم طاری ہوا۔ اور اسی گھبراہٹ میں کبھی وہ اپنے شاگردوں سے اُلجھتے ہیں، کبھی بنی نوعِ انسان کی ناشکر گزاری پرکف ِافسوس ملتے ہیں۔ چنانچہ ایک عیسائی مصنف موسیوری نان اپنی 'حیاتِ مسیح' صفحہ ۱۵۹ پر اس پریشانی کا ذکر کرتے ہیں :

''ان آخری ایام میں مسیح پر جو ہمیشہ ہشاش بشاش رہتا تھا، ایک شدید غم طاری ہوا۔ تمام اناجیل کا اتفاق ہے کہ گرفتاری سے پہلے مسیح شک و مصیبت میں مبتلا تھا۔ اس کی روح اس قدرغمگین تھی، جیسے کہ قبل از وقت اس پر موت طاری ہوجاتی ہے اور اس پر نہایت سخت تاسف و افسوس مسلط تھا۔ انسانی فطرت بالآخر (نبوی فطرت پر) عارضی طور پر غالب آئی اور اسے اپنے مشن اور کام میں بھی شک ہونے لگا۔ (یعنی شاید وہ مامور من اللہ ہی نہ تھا۔ نعوذ باللہ) نہایت سخت وہشت و خوف اس پر طاری ہوا اور اس کا قلب شک سے معمور ہوگیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس پر ایک ایسی کوفت طاری ہوئی جو موت سے بھی بڑھ کر تھی۔''

چنانچہ اناجیل میں اس کی گھبراہٹ کو یوں بیان کیا گیا ہے :

''اور اپنے شاگردوں سے کہا کہ یہیں بیٹھے رہنا جب تک کہ میں وہاں جاکر دعا مانگوں اور پطرس اور زبدی کے دو نوں بیٹوں کو لے کر غمگین اور بیقرار ہونے لگا۔ اس وقت اس نے ان سے کہا: ''میری جان نہایت غمگین ہے،یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے۔ تم یہاں ٹھہرو اور جاگتے رہو۔'' پھر تھوڑا آگے بڑھا اور منہ کے بل گر کر یہ دعا مانگی : ''اے میرے باپ! اگر ہوسکے تویہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے۔'' (متی باب ۲۶؍آیت ۳۶تا۳۹)

چنانچہ مصنف ِانجیل لوقا نے تو ان کا عنوان ہی یہ باندھا ہے:

''گتسمنے کے باغ میں یسوع کی جان گئی...'' اور اس کے نیچے لکھتا ہے :

''اسنے اپنے شاگردوں سے کہا کہ دعا مانگو کہ آزمائش میں نہ پڑو اور وہ ان سے الگ ہوکر کوئی پتھر کے بٹے آگے بڑھا اور گھٹنے ٹیک کر یوں دعا مانگنے لگا کہ اے باپ! اگر تو چاہے تو یہ پیالہ مجھ سے ہٹا لے۔ تاہم میری مرضی نہیں، بلکہ تیری ہی مرضی پوری ہو اور آسمان سے ایک فرشتہ اس کو دکھائی دیا جو اسے تقویت دیتا تھا۔ پھر وہ سخت پریشانی میں مبتلا ہوکر (گویا اس فرشتہ کے نزول سے بھی اسکی تسلی نہ ہوئی) اور بھی دل سوزی سے دعا مانگنے لگا اور اس کا پسینہ گویا خون کی بڑی بڑی بوندیں ہوکر زمین پر ٹپکتا تھا۔''(لوقا: باب ۲۲؍ آیات ۴۰تا۴۴)

اور ایک تیسرے صاحب نے ان کو یوں دعا کرتے ہوئے ذکر کیا ہے:

''اب میری روح بہت ہی محزون ہے۔ میرے باپ! تو مجھے اس سخت گھڑی سے بچالے''

اسی طرح مرقس باب ۱۴ میں بھی مسیح کی ندامت ،پریشانی ،کمالِ تاسف اور جان کنی اور اس آخری وقت سے بچنے کے لئے کمالِ گریہ و زاری اور اس زندگی کے امتداد کی خواہش میں آہ و بکا کی تصویر کھینچی گئی ہے۔ چنانچہ اس کمزوری اور بے حوصلگی کو اکثر مسیحی مصنّفین نے بھی محسوس کیا ہے اور انہوں نے اس کی مختلف توجیہیں کی ہیں، جن میں سب سے معقو ل یہ ہے کہ چونکہ یہ اناجیل سب کی سب موضوع ہیں، اس لئے ساقط الاعتبار ہیں۔ مگر خیر ہمیں یہاں ان سے سروکار نہیں۔ حضرت مسیح اسی گھبراہٹ میں تھے اور کبھی ان کو خیال آتا تھا کہ اپنے شاگردوں کو تلواروں سے مسلح کردیں تاکہ گرفتار کرنے والوں کامقابلہ کریں۔ مگر پھر ان کی عقیدت اور قوتِ ایمانیہ پر بھروسہ نہ کرکے اس خیال کو ترک کرتے ہیں۔ کبھی انہیں یہ خیال ہوتا ہے کہ فرار ہوجائیں۔ مگر پھر اپنے مشن کی ناکامی کا خیال کرکے رک جاتے ہیں۔ کبھی وہ بنی نوعِ انسان کی بے وفائی کا خیال کرکے کف ِافسوس ملتے ہیں اور کبھی دنیاوی زندگی کی پرفریبی کا تصور ان کو خون کے آنسو رلاتا ہے۔ (دیکھو اناجیل اربعہ: ذکر گرفتاری و وفاتِ مسیح)

کبھی ان کے دل میں یہ خیال جاگزین ہوتا ہے کہ جوکچھ انہوں نے کیا، وہ محض بیکار تھا۔ الغرض اسی کشمکش میں حضرت مسیح اپنی زندگی کی آخری چند گھڑیاں گذارتے ہیں۔ بالآخر وہ وقت جس کا دھڑکا تھا، آن پہنچتا ہے اور حضرت مسیح گرفتار ہوکر اپنے پیروؤں کی کمال بیوفائی کا برأي العین مشاہدہ کرتے ہیں۔ (متی: باب۲۶ 'اور وہ سب، یعنی شاگرد بھاگ گئے) اور حاکم وقت کے سامنے پیش ہوتے ہیں اور ان پر سزائے موت کا فتویٰ صادر ہوتا ہے اور وہ عظیم الشان ابتلا کا وقت آن پہنچا اور حضرت مسیح صلیب پر لٹکا دیئے جاتے ہیں۔

تو اس وقت ان کا کیا حال ہوتا ہے۔ کیا ان کا پائے ثبات غیر متزلزل رہتا ہے اور اللہ پر بھروسہ قائم رہتا ہے اور وہ خوشی سے موت قبول کرتے ہیں، کیونکہ بقول عیسائیوں کے وہ خوشی سے ان کے گناہوں کے کفارہ میں لعنت کی موت مر رہا تھا۔ نہیں، بلکہ اناجیل کے اپنے بیان کے مطابق ان کا دل بیٹھ گیا اور ایک بادل نے اس کے آسمانی باپ کا روشن جمال اس سے مستور کردیا اور اسے مایوسی کی ایسی جان کنی کا احساس ہوا کہ اس کی تمام مصائب سے ہزارہا گنا زیادہ تکلیف دہ تھی۔ اور وہ فرطِ کرب سے چلایا اور جزع و فزع کرنا شروع کی، یہاں تک کہ شدتِ الم میں یہ پکار اٹھا : ''أیلي أیلي! لما سبقتني'' (متی: باب ۲۷؍ آیت ۴۶)

''خدایا، اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ہے۔''

اور بالآخر اسی طرح چلاتے چلاتے مسیح نے جان دے دی: ''پھر یسوع بڑی آواز سے چلایا اور جان دے دی۔'' (متی: باب ۲۷؍ آیت ۵۰) اور اس زندگی کا خاتمہ جو تمام عمر اپنی کمالِ قدرت اور آسمانی باپ پر توکل و اعتماد کے وعظ کہتا رہا،بقول عیسائی مصنّفین کے خاتمہ ہوگیا۔

اب ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ کہاں مسیح کی یہ تعلیم کہ خدا سے کچھ مت مانگو،کیونکہ وہ تمہاری سب ضرورتوں سے واقف ہے اور اسی پر اعتماد کرو اور مصیبت میں جزع و فزع نہ کرو اور کہاں ان کا اپنا عمل جس میں فرشتے کے یقین دلانے سے بھی تسلی نہیں ہوتی اور زندگی کی خواہش باقی رہتی ہے۔ اور بالآخر اللہ پر وہ سب اعتماد جاتا رہتا ہے اور غم و غصہ میں پکارتے ہیں:

'' اے میرے خدا، اے میرے خدا ! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ہے۔''

ہم تو ایسے نمونہ کے تصور سے بھی کانپ اٹھتے ہیں اور بالیقین کہیں گے کہ اس سے زیادہ عزم و حوصلہ کے ساتھ تو معمولی آدمیوں نے موت کے پیالہ کو منہ لگایا ہے اور اس وقت بجائے افسوس و غم و غصہ کا اظہار کرنے کے نہایت مسرت کے ساتھ اپنی روح کو قابض الارواح کے حوالہ کیا ہے۔ کہاں عیسائیوں کا یہ دعویٰ کہ مسیح کی موت عیسائیوں کے گناہ کے کفارہ کے باعث اس کی اپنی مرضی سے واقع ہوئی اور کہاں حضرت مسیح کا یہ قول : ''أيلي أيلي لما سبقتني!'' مؤخر الذکر عیسائیوں کے دعویٰ کی سب سے بڑی تکذیب ہے۔ فافهم و تدبر

نبی اکرم ﷺ کی اعلیٰ سیرت

ظاہر ہے کہ مسیح کا یہ کردار تو معمولی آدمیوں کے مقابلہ میں نہیںٹھہر سکتا، چہ جائیکہ ہم اس کا مقابلہ دنیا کے سب سے کامل انسان کے کردار کے ساتھ کریں۔ مگر اصل مقصود چونکہ یہی ہے لہٰذا ہم یونہی 'مشتے نمونہ از خروارے' آپ کی زندگی کے چند واقعات ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں جس سے ہمارے سرورِ عالمین کے کردار اور اعتماد علیٰ اللہ پر روشنی پڑے گی۔

آپﷺمع اپنے وفادار رفیق حضرت ابوبکر ؓ کے غارِ ثور میں جلوہ افروز ہیں اور آپ کے خون کے پیاسے قریش، وہ کفارِ قریش جو آپؐ کے قتل کے ارادہ سے آپ ؐ کے خانہ مبارک کے گرد جمع ہوگئے تھے لیکن ناکام رہے اور اس ناکامی نے ان کی آتش انتقام کو اور بھی برافروختہ کردیا تھا۔ وہ کفارِ قریش جو تلواروں اور برچھیوں سے مسلح تھے اور حضرت سرورِ عالمﷺکے پاس سوائے ایک عصا کے اور کچھ نہ تھا۔ وہ گروہ غار کے کنارے پہنچ جاتا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ انہیں دیکھ کر خائف ہوجاتے ہیں۔ اپنی زندگی کے لئے نہیں، بلکہ اس شمع ہدایتؐ کی زندگی کے لئے جس کے وجود سے چراغِ توحید روشن تھا، اس حیاتِ طیبہ قدسیہ کے لئے جو اخلاقِ الٰہی کا دنیا میں مجسمہ تھا، خائف ہوتے ہیں اور اپنی بے بسی کے احساس سے ہراساں ہوتے ہیں۔

اس وقت آپﷺبالکل بے خوف ہیں اور آپؐ کا چہرئہ اَقدس بشاش ہے اور اس پر تمکنت برس رہی ہے اور خوشی سے بدستور چہرہ مبارک ٹمٹما رہا ہے اور آپ ؐ مجسم صدائے زبانی بن کر فرماتے ہیں: ﴿لاتَحْزَنْ إِنَّ اﷲَ مَعَنَا﴾''اے میرے دوست! تو غم نہ کر، اللہ بلاشبہ ہمارے ساتھ ہے۔'' کیونکہ اگر کفار مسلح ہیں تو ہمارا ہتھیار خود اللہ تعالیٰ ہے۔ اگر وہ ہمارے خون کے پیاسے ہیں تو ربّتعالیٰ ہمارا نگہبان ہے۔ تو ہر گزنہ ڈر، کیونکہ مجھے مبعوث کرنیوالا، مجھے اپنے بندوں کی ہدایت پر مامور کرنیوالا خود مجھے بچائے گا۔ اللہ اکبر، ذرا توکل و اعتماد الٰہی کو ملاحظہ کیجئے !!

دوسرا واقعہ ملاحظہ ہو؛جنگ ِحنین میں جبکہ کفار کا پانچ ہزار کا لشکر نہایت جانفشانی سے تیروسنان، تلوار و تفنگ سے مسلمانوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور لشکر ِاسلامی کے پاؤں اُکھڑ جاتے ہیں اور سب ہراساں ہوکر تتر بتر ہوجاتے ہیں۔ ذات ِکریمی صفات ؐ ایک سفید خچر پر سوار ہیں اور چہار طرف سے اَعدا کے نرغے میں پھنس جاتے ہیں۔ ایسے کڑے وقت میں کیاآپؐ گھبرا جاتے ہیں۔ ايلي أيلي لما سبقتني کہتے ہیں یا اپنے انصار و معاونین کو پکارتے ہیں۔ زبانِ فیض ترجمان ؐپر آتا ہے بھی ہے تو کیا... أنا النبي لا کذب أنا ابن عبد المطلب

میرے نبی ہونے میں کوئی شک نہیں، اس لئے ناممکن ہے کہ میں شکست کھاؤں یا میدان میں پیچھے ہٹوں۔ نیز میں نہایت شریف خاندان کا شریف ترین رکن ہوں، اس لئے میرے لئے باعث ِعار ہے کہ میں دشمن کو پیٹھ دکھاؤں!!

چنانچہ آپ خچر سے اُتر کر لشکر ِکفار میں گھس گئے اور اکیلے تن تنہا پانچ ہزار کے مقابلہ میں اُتر آئے اور تمام لشکر کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اتنے میں مسلمانوں کے پاؤں بھی سنبھلے، پلٹے اور ایک ہی حملہ میں دشمن کا صفایا کردیا۔

ایک اور واقعہ لیجئے؛ حضرت سرورِ عالمﷺدرخت کے سایہ کے نیچے استراحت فرما رہے ہیں کہ آپ ؐ کے خون کا پیاسا ایک دشمن تلوار لئے ہوئے آجاتا ہے اور آپؐ کو بیدار کرکے کہتا ہے:''(اے محمدﷺ!) بتا، تمہیں آج میری شمشیر قابل تحقیق سے کون بچا سکتا ہے؟'' آپؐ نہایت اطمینان سے جواب دیتے ہیں کہ ''وہ اللہ جس کے ہاتھ میں میری اور تمہاری جان ہے، مجھے بچائے گا۔'' دشمن کے ہاتھ میں رعشہ پڑ گیا اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔ وہی تلوار آپؐ نے پکڑ لی اور کہا کہ بتلا! تجھ کو میری تلوار سے کون بچائے گا۔ اس نے رو کر کہا: آپؐ کریم ابن کریم ہیں۔ آپ نے تلوار پھینک کر فرمایا: ''کم بخت! اب بھی تیرے منہ سے اللہ نہیں نکلتا۔'' اس نے فوراً کلمہ پڑھا اور مسلمان ہوگیا۔یہ تینوں واقعات ہیں جو تقریباً تمام انگریز مؤرخین نے لکھے ہیں۔

ہم عیسائی مؤرخین کو چیلنج کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تمام زندگی اور دنیا کے جس قدر بڑے آدمی گزرے ہیں، ان کی سوانح چھان ماری کرکے اس قسم کا ایک واقعہ ٔجوانمردی اور توکل علیٰ اللہ کا پیش کریں۔ اوپر جو حالات ہم نے مسیح علیہ السلام کے انجیل سے نقل کئے ہیں اور بعد میں جو واقعات ہم نے حضرت محمد رسول اللہﷺکے انگریز مؤرخین سے نقل کئے ہیں، ان کے مطالعہ کے بعد مزید مقابلہ فضول ہے اور اس پر کچھ لکھنا بے سود محض!!

اس سے ناظرین کو صاف ظاہر ہوجائے گا کہ قول و عمل کا تطابق اور کمالِ توکل علیٰ اللہ کی موجودگی جو ایک نبی کی صفاتِ مخصوصہ میں سے ہیں، کس میں پائی جاتی ہیں۔ یہ حضرت عیسیٰ کہ خطرئہ مرگ کے وقت یہ بھی یقین نہیں رہتا (بشرطیکہ اناجیل کی کہانی تسلیم کرلی جائے) کہ اللہ تعالیٰ میرے پاس ہے،بلکہ خوف و ہراس کی شدت کے باعث وہ ایک لحظہ کے لئے خدا کے جمال کو پنہاں پاتے ہیں اور مایوسی کے عالم میں پکارتے ہیں:'' اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو مجھ کو چھوڑ گیا ہے'' اور اس کے برخلاف آنحضرت محمد رسول اللہﷺکو اس کا خیال تک بھی نہیں آتا اور وہ سخت سے سخت خطرہ کے وقت بھی کہتے ہیں کہ ''اللہ ہمارے ساتھ ہے، وہی بچائے گا۔'' ع بہ بیں تفاوت راہ از کجاست تا بہ کجا !

ناظرین کو انجیل کے بیانات دربارہ مسیح پڑھ کر یہ احساس ہوگا کہ حضرت عیسیٰ ؑکی تنزیہ (عیوب والزامات سے پاک کرنے) کی کس قدر اشد ضرورت تھی۔ یہود ان کی تاریخی تصویر تو کھینچتے ہی تھے کیونکہ وہ دشمن تھے، مگر ان کے پیرویہ عیسائی بدبخت بھی ان کی کچھ کم تاریک تصویر پیش نہیں کرتے تھے۔ اسلئے ہمارے پیغمبر سرورِ عالمﷺ کا یہ احسان عیسائی دنیا پر اس قدر عظیم الشان اور لازوال ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح کو ان سب الزامات سے بری فرمایا۔ مگر عیسائی اقوام کی سرشت میں ناشکری داخل ہے، اسلئے یہ اپنے حقیقی محسن کے احسانات کا اعتراف نہیں کرتے۔