مذہبی انتہا پسندی اور اس کے عملی مظاہر

اسلام ایک معتدل و متوازن دین ہے جو میانہ روی کو پسند کرتاجبکہ غلو اور انتہا پسندی کے خلاف ہے۔ قرآن و سنت میں جابجا ایسی تعلیمات موجود ہیں جو اعتدال و توازن کاسبق دیتی ہیں۔ مثلاً 'انفاق' کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :وَٱلَّذِينَ إِذَآ أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِ‌فُوا وَلَمْ يَقْتُرُ‌واوَكَانَ بَيْنَ ذَ‌ٰلِكَ قَوَامًا ﴿٦٧﴾...سورۃ الفرقان''اور اللہ کے بندے جب خرچ کرتے ہیں تو اِسراف نہیں کرتے اور نہ ہی بخل سے کام لیتے ہیں اور میانہ روی اختیار کرتے ہیں ۔ '' اسی طرح ایک جگہ ارشاد ہے :وَٱقْصِدْ فِى مَش مزید مطالعہ

پروفیسر محمد طاہر القادری کے متنازعہ افکار وکردار

انہی دنوں پروفیسر صاحب موصوف پانچ سال بعد کینیڈا سے پاکستانی سیاست میں وارد ہوکر متحرک ہوچکے ہیں۔ عام انتخابات سے عین قبل ان کی سیاسی سرگرمیوں، عوامی استقبال اورلانگ مارچ کے حوالے سے ہر ذہن میں نت نئے شبہات پائے جاتے ہیں۔ میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر بھی ان کے بارے میں مضامین اور مباحثے سامنے آرہے ہیں۔ ان کا ماضی اور حال کیا رہا ہے؟ جس کی روشنی میں ان کے مستقبل کی تصویر ہرکوئی دیکھ سکتا ہے۔ ان کی شخصیت اور کارناموں کا ایک مختصر اور چشم کشا جائزہ ہدیۂقارئین ہے۔ح مپیدائش اور تعلیم'محمد طاہر القادری' 1 مزید مطالعہ

جوابِ غزل در 'اسلام اور ریاست: ایک جوابی بیانیہ'

روزنامہ جنگ ۲۲ جنوری، ۲۰۱۵ءکے ادارتی صفحات پر ٹی وی اسکالر جناب جاوید احمد غامدی کا ایک کالم 'اسلام اورریاست: ایک جوابی بیانیہ' کے نام سے شائع ہوا۔ اس کالم کے جواب میں اصحابِ علم وفضل کی بہت سی تحریریں روزنامہ جنگ اور دیگر اخبارات کے صفحات پر شائع ہوئیں۔ مولانا تقی عثمانی صاحب نے بھی روزنامہ جنگ میں اُن کے مضمون کے مرکزی خیال کا خوب ناقدانہ جائزہ پیش کیا ہے۔ اُن کے جائزے کو آگے بڑھاتے ہوئے زیر نظر تحریر میں ہماری یہ کوشش ہو گی کہ ہم جناب غامدی کے مجموعی فکر کے تناظر میں ان کے کالم کے مختلف حصّوں مزید مطالعہ

جوابِ غزل در 'اسلام اور ریاست: ایک جوابی بیانیہ'

روزنامہ جنگ ۲۲ جنوری، ۲۰۱۵ءکے ادارتی صفحات پر ٹی وی اسکالر جناب جاوید احمد غامدی کا ایک کالم 'اسلام اورریاست: ایک جوابی بیانیہ' کے نام سے شائع ہوا۔ اس کالم کے جواب میں اصحابِ علم وفضل کی بہت سی تحریریں روزنامہ جنگ اور دیگر اخبارات کے صفحات پر شائع ہوئیں۔ مولانا تقی عثمانی صاحب نے بھی روزنامہ جنگ میں اُن کے مضمون کے مرکزی خیال کا خوب ناقدانہ جائزہ پیش کیا ہے۔ اُن کے جائزے کو آگے بڑھاتے ہوئے زیر نظر تحریر میں ہماری یہ کوشش ہو گی کہ ہم جناب غامدی کے مجموعی فکر کے تناظر میں ان کے کالم کے مختلف حصّوں مزید مطالعہ

قرآنِ مجید کے الفاظ کی اپنے معانی پر دلالت میں قطعیت اور ظنیت

یہ گفتگو ادارہ علم و تحقیق ’المورد‘ کے سلسلہ وار آن لائن ماہانہ علمی لیکچرز کی سولہویں نشست میں کی گئی۔ اسے کچھ تہذیب و تنقیح کے بعد اشاعت کی غرض سے لیکچر سے تحریری صورت دی گئی ہے۔ سوال1: قطعی الدلالۃ کا معنی ومفہوم کیاہے؟ قطعی کا لفظ قَطَع سے ہے جس کے معنی کاٹنا ہیں۔ پس ’قطعی الدلالۃ‘ میں قطعی کے معنیٰ یہ ہیں کہ لفظ میں موجود ایک سے زائد معانی کے احتمالات کا ختم ہو جانا اور محتمل معانی میں سے ایک ہی معنی کا متعین ہو جانا۔ ’دلالت‘ کا اصطلاحی معنیٰ یہاں منطق کی اصطلاح میں : دلالتِ مطابقت ، دلالتِ مزید مطالعہ