''مسئلہ تقدیر؛ کتاب و سنت کی روشنی میں''

مصنف:محمد فتح اللہ گولن ٭ مترجم: محمد خالد سیف ٭صفحات :۱۶۲

شائع کردہ: ہارمونی پبلی کیشنز، اسلام آباد ٭سالِ اشاعت : ۲۰۰۹ء

تقدیر پر ایمان لانا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اسلام کے ارکانِ خمسہ کے طرح ایمانیات میں چھ چیزیں ہیں جن میں اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہونے پر ایمان لانا شامل ہے۔ اس چھٹی شے تقدیر پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ دیگر پانچ ارکان کے بغیر تقدیر پر ایمان کا پورا ہونا ممکن نہیں، ایسے ہی تقدیر کے بغیر باقی چیزوں پر ایمان کو بھی مکمل نہیں کہا جاسکتا۔

مسئلہ تقدیر کو اسلام کے ابتدائی ایام ہی سے بڑے مشکل مسائل میں شمار کیا جاتا ہے جن میں ہرلمحہ قدم پھسلنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اسی وجہ سے علماء نے اس کے بنیادی اُصولوں کو آیاتِ کریمہ اور احادیث ِشریفہ کی روشنی میں اجمالی طور پر بیان کیا ہے اور اس کے متفرق اور عمیق پہلوؤں سے بحث نہیں کی تاکہ عوام الناس کو اس مسئلہ کی دقیق تفاصیل کے بارے میں بحث کرتے ہوئے اس طرح گمراہ ہونے سے بچایا جاسکے جن سے وہ آشنا ہی نہیں۔ تقدیر کے مسائل کی اسی نزاکت کی وجہ سے امام ابوحنیفہؒ اپنے شاگردوں کو ان میں بحث و مباحثہ سے منع فرماتے تھے اور آپ سے جب پوچھا جاتا کہ آپ اس مسئلہ میں کیوں گفتگو فرماتے ہیں تو جواب دیتے کہ ''میں اس مسئلہ میں اس طرح ڈرتے ہوئے گفتگو کرتا ہوں گویا میرے سر پر پرندہ بیٹھا ہو۔''

امام صاحب کے قول کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ تقدیر میں ہر شخص کے لیے گفتگو جائز نہیں، اس مسئلہ میں گفتگو صرف اس حاذق اور ماہر شخص کو کرنی چاہئے، جو زَرگر کی طرح ماہر اور کیمیا گر کی طرح حاذق ہو۔موجودہ دور میں مادی فلسفہ پوری دنیا میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے اور وہ عقائد میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر تنقید کو پروان چڑھانے میں مصروفِ عمل ہے، تو ایسے میں مادّہ پرستوں نے محسوس کیا کہ تقدیر پر بحث کے ذریعے لوگوں کو آسانی سے گمراہ کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے اُنہوں نے پوری شدت کے ساتھ ان مسائل کو بیان کرنا شروع کردیا جبکہ مسلمان ان مسائل میں غوروخوض کرنے میں حرج محسوس کیاکرتے تھے۔

زیر نظر کتاب ''تقدیر؛ کتاب و سنت کی روشنی میں'' ایسے ہی مادہ پرست افراد کے لیے ایک تحفہ ہے جس میں جناب محمد فتح اللہ گولن نے مسئلۂ تقدیر کو کتاب و سنت کی روشنی میں سمجھانے کی کوشش کی ہے اور بڑی حد تک اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی نظر آتے ہیں۔

جناب محمد فتح اللہ گولن ترکی کے صوبہ 'ارضروم' کے شہر 'حسن قلعہ' کے ایک گاؤں 'کوروجک' میں ۱۹۳۸ء میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ایک دیندار گھرانے میں پرورش پائی۔ آپ کے والد 'رامز آفندی' علمی، ادبی اور دینی لحاظ سے قابلِ احترام شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ اُنہوں نے عربی اور فارسی کی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی اور دینی علوم اپنے علاقے کے ممتاز اساتذہ سے حاصل کئے۔ اسی دوران 'طلبۂ نور' کی تحریک سے متاثر ہوئے۔ یہ تجدید واِحیا کی ایک ہمہ گیر تحریک تھی جس کے بانی و قائد 'رسائل النور' کے مؤلف علامہ بدیع الزمان سعید نورسی تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ کے مطالعے میں وسعت اور آپ کی معلومات میں تنوع پیدا ہوتا گیا۔ آپ نے مغربی و مشرقی تہذیب اور فکر و فلسفے کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور عصری علوم جیسے فزکس، کیمیا، فلکیات اور حیاتیات وغیرہ سے بھی واقفیت حاصل کی۔

جناب محمد فتح اللہ گولن نے ۱۹۹۰ء کے بعد مختلف جماعتوں، صحافیوں، تعلیم یافتہ طبقوں اور مذاہب و اَفکار کے درمیان باہمی افہام و تفہیم اور مکالمے کی تحریک کا آغاز کیا۔ اس تحریک کے اثرات نہ صرف ترکی میں بلکہ ترکی سے باہر بھی محسوس کیے گئے۔ اس تحریک کے اثرات کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پوپ کی دعوت پر جناب فتح اللہ گولن نے ویٹی کن سٹی میں پوپ سے ملاقات کی۔

ان کے خطبات، مواعظ، لیکچرز اور مجالس پر مشتمل ہزاروں کی تعداد میں کیسٹیں لوگوں کی رہنمائی کے لیے موجود ہیں، اس کے علاوہ ان کی مطبوعہ کتب کی تعداد۲۲ ہے، جن میں سے کئی کتابیں ایک سے زیادہ جلدوں پر مشتمل ہیں۔ کئی کتابوں کا ترجمہ انگریزی، جرمن، بلغاری، البانوی، انڈونیشی، روسی اور کورین زبانوں میں ہوچکا ہے۔ اُردو زبان میں ان کی ۸ کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں ایک زیر نظر کتاب بھی ہے۔

ان کی یہ کتاب چار فصلوں پر مشتمل ہے، ہر فصل کے ذیلی عنوانات ہیں:فصل اوّل میں تقدیر کا مختلف جہتوں سے جائزہ لیا گیا ہے اور اس کے اہم ذیلی عنوانات یہ ہیں: تقدیر کے لغوی اور اصطلاحی معنی، مسئلہ تقدیر وجدانی ہے، تقدیر اور جزوی اِرادہ میں تضاد نہیں، اللہ تعالیٰ کی مشیت اور انسان کا اِرادہ، تقدیر آیاتِ کریمہ اور احادیث ِ شریفہ کی روشنی میں۔

فصل دوم میں قضا کا تقدیر سے تعلق بیان کیا گیا ہے اور اس کے اہم ذیلی عنوانات یہ ہیں: قضا و قدر علم الٰہی کی حیثیت سے، قضا و قدر تحریر کی حیثیت سے، قضا و قدر مشیت ِالٰہی کی حیثیت سے اور قضا و قدر بحیثیت ِمخلوق۔

فصل سوم میں تقدیر، اِرادہ اور ہدایت کا آپس میں تعلق بیان کیا ہے۔ چوتھی فصل میں تقدیر سے متعلق سوالات کے جوابات دیئے گئے ہیں جن میں اہم یہ ہیں: ارادہ کے جزئیات و کلیات، مشیت ِالٰہی اور انسان کی آزادی، کلی اور جزوی اِرادے کی ماہیت۔

٭ تقدیر کے لغوی اور اصطلاحی معنی کے ضمن میں محمد فتح اللہ گولن ص ۱۹ پر یوں رقم طراز ہیں:

''قدر کے لغوی معنی اندازے کے ہیں اور کسی کام کی تدبیر کرنے، اس کا فیصلہ کرنے اور اس کے بارے میں حکم صادر کرنے کے بھی ہیں۔ ان تمام معانی سے ہم یہ بات اخذ کرتے ہیں کہ قدر کے اصطلاحی معنی یہ ہیں کہ وہ فیصلہ جس کا اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اندازہ مقرر فرما دیا اور اس کے بارے میں فیصلہ کردیا۔ اس مذکورہ بالا تعریف کی آیات ِکریمہ سے تائید ہوتی ہے۔''

٭ تقدیر کی اہمیت کو مصنف ص۲۱ پر یوں بیان کرتے ہیں:

''تقدیر کو فقط علم کا عنوان قرار دینا صحیح نہیں ہے کیونکہ تقدیر کے معنی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اپنے علم کے ساتھ اشیا کی تعیین و تقدیر سے بڑھ کر اس کے سمع و بصر، ارادہ اور مشیت تک کو اپنے دامن میں لیے ہوئے ہونے ہیں، جب تقدیر کے معنی یہ ہیں تو تقدیر کا انکار گویا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی تمام صفات کا انکار ہے۔ امام احمد حنبلؒ فرماتے ہیں: ''تقدیر کا تعلق قدرت سے ہے لہٰذا جو شخص تقدیر کا انکار کرتاہے، وہ ان بہت سے اُمور کا منکر ہے جو اللہ تعالیٰ کی اُلوہیت کے ساتھ خاص ہیں یعنی اس سے اُلوہیت کا عقیدہ متزلزل ہوجاتا ہے، فکر کے نظام ٹوٹ جاتے ہیں اور مفاہیم کی بنیادیں منہدم ہوجاتی ہیں۔''

٭ تقدیر پرایمان کا نتیجہ بیان کرتے ہوئے ص۲۷ پر وہ یوں گویا ہیں:

''ہمارا کھانا پینا، سونا جاگنا، سوچنا اور بات کرنا سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا پیدا کردہ ہے، حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس کا تعلق خلق سے ہے، وہ قطعی طور پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی پیدا کردہ ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ صاحب ِایمان کہیں 'جبریت' میں مبتلا نہ ہوجائے۔ انسان جب ہر فعل کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیتا ہے تو نتیجہ کے طور پر اس کے سامنے (جزئی) اِرادہ بھی آتا ہے اور اسے ذمہ داری یاد دلاتا ہے تاکہ اس کی ذمہ داری ختم نہ ہوجائے اور اس لیے کہ انسان اپنی نیکیوں کی وجہ سے مبتلاے فریب نہ ہوجائے۔ تقدیر اپنا کام دکھاتی ہے اور اس سے کہتی ہے کہ مبتلاے فریب نہ ہو تو فاعل نہیں ہے۔ اس طرح وہ اسے غرور سے بچا لیتی ہے اور اس طرح انسان اعتدال تک پہنچ جاتا ہے اور اس اعتدال کی حفاطت سے اس کی زندگی اور کردار میں بھی ایک نظم و ضبط پیدا ہوجاتاہے۔ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ ہی کے فعل و تقدیر کی وجہ سے ہیں۔ انسان از خود اُنہیں سرانجام نہیں دے سکتا، ورنہ وہ شرکِ خفی میں مبتلا ہوجائے گا۔ البتہ نفس شریرہ اپنے شر کی وجہ سے جمیل اور جمال کو پسند نہیںکرتا بلکہ ان سے دشمنی رکھتا ہے۔ نفس امارہ بُرائیوں کی طرف راغب ہوتا ہے، اس لیے برائیوں کی ذمہ داری اس پر واقع ہوتی ہے۔ درجِ ذیل آیت ِکریمہ میں ان دونوں قاعدوں کو یکجا کردیا گیا ہے:

﴿ما أَصابَكَ مِن حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ۖ وَما أَصابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَفسِكَ...٧٩﴾... سورة النساء

''(اے آدم زاد!) تجھ کو جو فائدہ پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جونقصان پہنچے وہ تیری ہی (شامت ِاعمال کی) وجہ سے ہے۔''

٭انسانی ارادے کی حقیقت کو ص۳۳ پر یوں بیان کرتے ہیں:

''یہ صحیح ہے کہ ہم میں اِرادہ موجود ہے لیکن اس کا خارج میں کوئی وجود نہیں ہے لہٰذا یہ اس وقت مخلوق نہیں ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے ارادہ کی طرف اس طرح دیکھ سکیں کہ یہ موجود ہے پس جو اشیا موجود نہ ہوں، وہ مخلوق نہیں البتہ وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں یعنی ان کا علمی وجود ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارادہ وقدرت سے ان کا تعلق نہیں ہے۔ اگر معاملہ اس نظریہ کے برعکس ہوتا یعنی اگر ارادہ کا خارج میں بھی کوئی وجود ہوتا، جب کہ ہمارے اعضا کا وجود ہے، تو پھر معاملہ جبر تک پہنچ جاتا یعنی اگر ہمارا اِرادہ بھی ہمارے اعضا کی طرح مخلوق ہوتا اور ہمیں اس کے بارے میں اختیار تو نہ دیا جاتا لیکن اس کے بارے میں سوال ضرور کیا جاتا تو ہمارے افعال میں سے کسی فعل کی بھی ہم پر کوئی ذمہ داری نہ ہوتی۔ کسی کو بھی اپنی نیکیوں پر ثواب طلب کرنے کا حق حاصل نہ ہوتا کیونکہ اسے تو یہ کام بہرحال کرنا ہی تھا اور نیکیوں اور گناہوں میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کا اسے کوئی حق حاصل نہ ہوتا، جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ معاملہ اس طرح نہیں ہے پس انسان کا ارادہ بذاتِ خود مخلوق نہیں ہے، موجود بھی نہیں ہے بلکہ اسے ایک اعتباری وجود عطا کیا گیا ہے۔''

٭ اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ کے فعل خلق اور بندے کے کسب کو ص۱۴۱ پر یوں واضح کرتے ہیں:

''اللہ تعالیٰ نے بجلی کا جو نظام وضع فرمایا ہے ، وہ تمہارے سوئچ آن کرنے سے ماحول کو روشن کردیتا ہے لیکن بجلی کے نظام سے روشنی پیدا کرنا اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کے ساتھ خاص ہے، جس نے اسے بنایا ہے اور انسان کے اس سے جزئی طور پر کام لینے کو ہم انسان کے کسب یا جزئی ارادے سے تعبیر کرتے ہیں، جب کہ خلق اور ایجاد کا مسئلہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔''

٭ مشیت ِ الٰہی کی وضاحت کرتے ہوئے معتزلہ اور جبریہ کا ص۸۳ پر یوں ردّ کرتے ہیں :

''اللہ تعالیٰ کی مشیت کا عدم اور وجود دونوں سے تعلق ہے، ورنہ معاملہ اس طرح نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا جب کسی چیز سے تعلق ہوجائے تو وہ ہوجاتی ہے اور اگر وہ تعلق نہ ہو تو نہیں ہوتی۔ یہ فہم کی غلطی ہے کیونکہ کسی چیز کے ساتھ مشیت ِالٰہی کا عدم تعلق بالکل نہیں ہے کیونکہ عدم بھی وجود ہی کی طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی مشیت کے قبضہ میں ہے۔ اگر معتزلہ و جبریہ حدیث کے مفہوم اور اس کے دقیق معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو اس گمراہی میںمبتلا نہ ہوتے جس میں وہ مبتلا ہوگئے تھے کیونکہ رسول اللہﷺ نے دونوں معاملہ کی بیک وقت وضاحت فرمائی ہے۔''

٭ جبریہ کی گمراہی کا سبب بیان کرتے ہوئے ص۱۰۱ پر لکھتے ہیں:

''جبریہ گمراہ ہوگئے کیونکہ وہ تکوینی اور شرعی دونوں اَمروں میں فرق نہ کرسکے، اُنہوں نے ان دونوں کو خلط ملط کردیا اور انسانی ارادے کا انکار کردیا، جبکہ معتزلہ نے انسانی ارادے ہی کو بنیاد بنا لیا اور کہا کہ بندہ ہی اپنے افعال کا خالق ہے، اس طرح وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔ ہم ان دونوں طبقوں کے اچھے پہلوؤں کو لے لیتے اور اُنہیں صراطِ مستقیم پرجمع کردیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ تکوینی اور شرعی دونوں امروں میں مشیت ِالٰہی ہی اساس ہے لیکن امر شرعی میں بندے کے ارادے کوایک مرتبہ دیا گیا ہے اور یہ اسے شرطِ عادی کے طور پر شمار کرنا ہے، اگر اس کے ساتھ مشیت کا تعلق نہ ہو تو کوئی چیز وجود میں نہ آئے لیکن وہ اشیا جن کا خارجی وجود نہیں ہے ، ان کا یہ اُسلوب نہیں ہے کیونکہ مشیت ِالٰہی کا تو تمام بُرے اُمور سے بھی تعلق ہے، البتہ اللہ تعالیٰ برے امور کو پسند نہیںفرماتے یہی وجہ ہے کہ بندے کو گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے سزا ملے گی۔''

٭ ہدایت اور گمراہی کے بارے میں مشیت ِالٰہی کی وضاحت کرتے ہوئے ص۱۰۲ پر لکھتے ہیں:

''ہدایت و ضلالت کے مشیت ِالٰہی کے ساتھ ربط کو قرآنِ کریم کی بہت سی آیات میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً

﴿فَمَن يُرِ‌دِ اللَّهُ أَن يَهدِيَهُ يَشرَ‌ح صَدرَ‌هُ لِلإِسلـٰمِ ۖ وَمَن يُرِ‌د أَن يُضِلَّهُ يَجعَل صَدرَ‌هُ ضَيِّقًا حَرَ‌جًا كَأَنَّما يَصَّعَّدُ فِى السَّماءِ ۚ كَذ‌ٰلِكَ يَجعَلُ اللَّهُ الرِّ‌جسَ عَلَى الَّذينَ لا يُؤمِنونَ ١٢٥﴾... سورة الانعام

''تو جس شخص کو اللہ چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے تو اس کا سینہ تنگ گھٹا ہوا کردیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے۔ اسی طرح اللہ ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے، عذاب بھیجتا ہے۔''

اس آیت کی تشریح میں ص۱۰۳ پر لکھتے ہیں:

''جس طرح اس نے ہمیں کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے، اسی طرح اس نے ہمیں اس کام کے لیے اپنے ارادے کو استعمال کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائی ہے جو ہم کرنا چاہیں۔ ہمیں ارادہ عطا فرمانے کے باوجود مشیت و اِرادہ اس کی ذات پاک کے لیے مخصوص ہے، جبکہ ہدایت و ضلالت دونوں اس کے اختیار میں ہیں پس اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سوا نہ کوئی ہدایت دینے والا ہے اور نہ گمراہ کرنے والا۔''

٭ ان سطور کے پڑھنے سے کسی کو وہم بھی ہوسکتا ہے کہ ہدایت اور گمراہی جب دونوں اللہ کے اختیار میں ہیں تو پھر انسان اپنی ہدایت اور گمراہی میں مجبور و مضطر ہے، اس لیے ص۱۲۱،۱۲۲ پر اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''ہدایت کے مختلف اسباب و ذرائع ارسال کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ ان ذرائع کے قبول کرنے کے لیے لوگوں کو مجبور نہیں کرتے یعنی اُنہیں ایمان لانے کے لیے مجبور و مضطر نہیں کیا جاتا، جیسا کہ ہر اُمت کی طرف نبی بشیرو نذیر کو بھیجا گیا، جس نے اسے حقائق پہنچائے اور جو لوگ اپنے اِرادے کے ساتھ سننا چاہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان کے لیے ہدایت کو پیدا فرما دیتا ہے اور جو لوگ اپنے لیے گمراہی کو پسند کرلیں تو وہ اس گمراہی میں مبتلا رہتے ہیں جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ارادہ فرمایا ہوتا ہے۔''

﴿وَما كُنّا مُعَذِّبينَ حَتّىٰ نَبعَثَ رَ‌سولًا ١٥﴾... سورة الاسراء

''اور جب تک ہم پیغمبر نہ بھیج لیں، عذاب نہیں دیا کرتے۔''

حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تقدیر کے موضوع پر ایک جامع کتاب ہے جس میں اس موضوع پر پیدا ہونے والے اکثر سوالات کا جواب موجود ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ایک جیسا کیوں نہیں بنایا؛ بعض اندھے ہیں، بعض لنگڑے لولے، اسی طرح دنیا میں دولت مند اور فقیر کا اتنا بڑا فرق کیوں ہے؟مشیت ِالٰہی اور انسان کی آزادی کی حقیقت کیاہے؟ مصنف نے ان سوالات اور اس طرح کے دیگر سوالات کے عقلی اور نقلی جوابات دے کر سائل کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب ہیں۔ پوری کتاب، کتاب و سنت سے ماخوذ دلائل سے مزین ہے اور اسے اہل سنت کے نقطہ نظر کے مطابق مرتب کیا گیا ہے۔

مترجم کتاب جناب محمد خالد سیف نے ایسا رواں اور شگفتہ ترجمہ کیا ہے کہ قاری کو کتاب کے سمجھنے میں کہیں بھی دقت پیش نہیں آتی اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ کتاب اُردو زبان ہی میں لکھی گئی ہے۔ کتاب کی طباعت بھی بہت عمدہ ہے۔ کاغذ بہت اچھا استعما ل کیا گیا ہے، جس نے طباعت کو مزید چار چاند لگا دیئے ہیں۔ املائی اغلاط کا نہ ہونا نظرثانی کرنے والے کی محنت کی دلیل ہے۔ دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف، مترجم، ناشر اور اس میں حصہ لینے والے تمام افراد کو اجر ِدارین عطا فرمائے۔ آمین یاربّ العالمین!

٭٭٭٭٭