صحیح مسلم کی ایک حدیث میں تحریف کا علمی جائزہ

جس شخص نے بھی رسول اللہ ﷺپر جھوٹ باندھا، خواہ آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں ہو یا آپ ﷺ کی وفات کے بعد کسی زمانہ میں، اللہ تعالیٰ نے اس کو مخفی نہیں رہنے دیا، بلکہ اس کا حال لوگوں کے سامنے ضرور واضح کر دیا۔ آپ ﷺپر جھوٹ باندھنے کی بدترین صورت آپﷺ کی حدیثِ مبارکہ میں تحریف و تبدیلی کا ارتکاب کرنا ہے۔امام محدث سفیان بن عیینہ﷫ کا فرمان ہے کہ «مَا سَتَرَ اللهُ أَحَدًا یَکذِبُ فِي الحَدِیْثِ»1
'' جو بھی حدیث میں کذب بیانی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی نہیں کی۔'' محدث عبد اللہ بن مبارک ﷫ فرماتے ہیں:
«لَو هَمَّ رَجُل فِي السَّحَرِ أَن یَّکذِبَ فِي الحَدِیْثِ، لَأصْبَحَ وَالنَّاسُ یَقُولُونَ: فُلاَن کَذَّاب»2
''اگر کوئی شخص سحری کے وقت حدیث شریف میں جھوٹ بولنے کا قصد کر لے تو صبح کے وقت ہی لوگ یہ کہہ رہے ہوں گے کہ فلاں (حدیث میں جھوٹ بولنے والا) شخص کذاب ہے۔ ''
حال ہی میں٦٦٠ صفحات پر مشتمل 'گستاخ کون؟' نامی ایک کتاب چھپی ہے جو مفتی محمد حنیف قریشی بریلوی اور سید طالب الرحمٰن شاہ کے مابین مناظرہ پر مشتمل ہے اور سید امتیاز حسین شاہ کاظم ضیائی بریلوی نے اسے ترتیب دیا ہے اور کاظمی ضیائی صاحب نے اس کتاب کے مختلف مقامات پر ضروری حاشیہ جات بھی لگائے ہیں اور یہ اکثر حاشیہ جات بھی اُن کے مناظر مفتی محمد حنیف قریشی بریلوی کے اِفادات ہی سے ہیں جیسا کہ اس کی وضاحت انھوں اسی کتاب کے ص40 پر خود کی ہے۔
اَب یہ بات تو اہل علم و تحقیق کو بخوبی معلوم ہی ہے کہ فی زمانہ قبر پرست لوگ بزرگوں کی قبروں پر لاکھوں کروڑوں کے جوقبے اور مزارات تعمیر کرتے ہیں ،کتاب و سنت میں اُن کی کوئی دلیل نہیں۔قبروں پرجو مزار یا دربار تعمیر کئے جاتے ہیں، ان کا اصل مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ لوگ دور دراز سے اِن قبروں میں مدفون بزرگوں سے مرادیں مانگنے، مشکلات حل کرانے، چڑھاوے چڑھانے اور نذرانے پیش کرنے کے لئے حاضری دیں۔ اسی لئے ان پر سالانہ عرس بھی منائے جاتے ہیں تاکہ ان کی سرپرستی کرنے والے گدی نشین مال و دولت سے مالا مال ہوں۔اسی لئے ان درباروں، مزاروں کے تحفظ کی خاطر کئی ایک جھوٹ بولے جاتے ہیں اور عوام الناس کی آنکھوں میں دھول ڈالی جاتی اور اُنہیں اصل حقائق سے در پردہ رکھا جاتا ہے۔ اُنھیں یہ بتایا ہی نہیں جاتا کہ یہ رسول اللہ ﷺکے کسی فرمان سے ثابت نہیں، نہ ہی کسی صحابی سے ثابت ہیں اور نہ ہی تابعین﷭سے، حتیٰ کہ اَئمہ اربعہ امام مالک، ابو حنیفہ ،شافعی اور احمد﷭سے بھی ان کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔لیکن صد اَفسوس کہ ان درباروں، مزاروں کو ثابت کرنے اور اُنہیں اسلام کا حصہ قرار دینے کی خاطر اس عظیم ہستیﷺپر جھوٹ باندھتے بھی شرم نہیں کی جاتی، جس نے یہ فرمایا ہے:
«مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأ مَقعَدَه مِنَ النَّارِ»3
''جو کوئی مجھ پر عمداً جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔''
چنانچہ اسی کتاب 'گستاخ کون؟' کے ص 158،159 پر رسول اللہ ﷺ کی حدیث مبارکہ میں تحریف و تبدیلی کرتے ہوئے مزار و دربار بنانے کی دلیل مہیا کرتے ہوئے کاظمی ضیائی صاحب لکھتے ہیں:
''مسلم شریف جلد اوّل، ص 117 پر حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ آپ فرماتے ہیں: خَطَبَنَا رَسُولُ الله ﷺ فَأَسنَدَ ظهره إليٰ قبّة آدم فقال: «ألا لا یدخل الجنّة إلا نفس مسلمة»
''رسول اللہ ﷺ نے قبہ آدم کے ساتھ ٹیک لگا کر (ہمیں) خطبہ اِرشاد فرمایا اور فرمایا: آگاہ رہو کہ جنت میں سوائے مسلمان کے کوئی داخل نہیں ہو سکتا۔'' الحدیث
پھر کہتے ہیں: اس سے ثابت ہوا کہ قبہ گرانا واجب نہیں۔ اگر قبہ گرانا واجب ہوتا تو رسول ﷺخطبہ ارشاد فرمانے سے پہلے اس قبہ کو گرانے کا حکم اِرشاد فرماتے۔ ''4
اصل حقیقت
میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں:
خَطَبَنَا رَسُولُ الله ﷺ فَأَسنَدَ ظَهرَهُ إِلىٰ قُبَّةِ أَدَمٍ فَقَالَ: «أَلاَ لاَ یَدخُلُ الجَنَّـةَ إلَّا نَفس مُسلِمَة»5
اب اس کا اصل اور صحیح ترجمہ اس طرح ہے :
''سیدنا عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا کہ رسول اللہ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا تو اپنی کمر کو چمڑے سے بنے ہوئے ایک خیمے سے ٹیک دیا (یعنی آپﷺ نے اس چمڑے کے خیمے کے ساتھ ٹیک لگا لی) تو آپﷺ نے فرمایا :...الخ
مسلم شریف میں موجود عبد اللہ بن مسعود کی یہی حدیث صحیح بخاری میں بھی ہے، اس کے الفاظ سے بھی روشن سورج کی طرح واضح ہے کہ اس جگہ یہی ترجمہ صحیح ہے، چنانچہ صحيح بخاری میں یہ الفاظ ہیں:
«بَینَمَا رَسُولُ الله ﷺ مُضِیف ظَهرَهُ إِلىٰ قُبَّةٍ مِن أَدَمٍ یَمَانٍ»6
'' ایک دفعہ رسول اللہﷺ یمنی چمڑے کے خیمہ کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے تو آپ نے ہمیں خطبہ دیا...الخ''
لفظِ قُبّة کی تحقیق
ہم کہتے ہیں کہ لفظ قُبّہ کا معنیٰ ''چھوٹا خیمہ جو اوپر سے گول ہو'' بھی ہے۔ چنانچہ عربی لغت کی مشہور کتاب المُعجم الوسیط میں ہے:
«خَیمَة صَغِیرَة أَعلَاهَا مُستَدِیر»7
یہ خیمہ عرب کے اندر عام تھا اور وہ سفر و حضر میں بنا لیا کرتے تھے۔ مسجدِ نبویؐ کے اندر بھی بنا لیا جاتا تھا۔اس طرح کا قُبّہ(خیمہ) عرب لوگ حج کے ایام میں منیٰ و عرفات وغیرہ میں بنالیا کرتے تھے۔ یہ خیمہ چمڑے اور کپڑے وغیرہ سے بنایا جاتا تھا۔ لفظِ 'قبّہ' بمعنیٰ خیمہ کئی ایک احادیث میں وارد ہوا ہے۔ مثلاً:
1. صحیح بخاری میں ہے کہ اُمّ المومنین سیدہ عائشہؓ صدیقہ نے آپ ﷺ سے مسجد میں اعتکاف بیٹھنے کی اجازت مانگی تو آپ نے اجازت مرحمت فرمائی: فَضَرَبَت فِیهِ قُبَّةً تو اُنھوں نے مسجد میں ایک قبّہ(چھوٹا سا خیمہ)لگالیا۔ پھر اُمّ المومنین حفصہ بنت عمر بن خطابؓ کو پتہ چلا تو انھوں نے بھی ضَرَبَت قُبَّةً یعنی ایک چھوٹا سا خیمہ لگا لیا۔ اسی طرح اُمّ المومنین سیدہ زینبؓ نے بھی ایک خیمہ لگا لیا۔ آپﷺ نے جب فجر کی نماز پڑھائی تو أَبصَرَأَربَعَ قِبَابٍ یعنی مسجد میں چار خیمے لگے دیکھے۔ الخ8
اس بات کی دلیل کہ اس حدیث میں وارد لفظ قُبّہ یا قِبَاب کا معنی چھوٹا خیمہ ہی ہے، یہ ہے کہ اسی حدیث پر امام بخاری﷫ نے یہ باب بھی منعقد کیا ہے: بَابُ الأخبِیَة فِي المَسجِدِ (مسجد میں خیمے لگانے کا بیان یعنی اعتکاف کے لئے) اس حدیث میں قُبّہ کی جگہ پر اس کے راوی امام مالک﷫ نے خِبَاء(خیمہ) کا لفظ استعمال کیا ہے۔
2. امام بخاری﷫یہ حدیث باب اعتکاف النساء میں بھی لائے ہیں۔ اس میں اس کے راوی حماد بن زید نے بھی قبہ کی جگہ خباءکا لفظ ہی استعمال کیا ہے بلکہ ان دونوں یعنی امام مالک﷫اور حماد بن زید نے قبّہ کی جمع قِبَاب کی جگہ اَخبِية یعنی خِبَاء کی جمع کا لفظ استعمال کیا ہے جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس حدیث میں وارد لفظ' قبّہ' کا معنیٰ چھوٹا خیمہ ہی ہے۔
3. اسی طرح اُمّ المومنین عائشہؓ کے لئے منیٰ میں ایک ترُکی قُبّہ (یعنی چھوٹا خیمہ) لگا دیا گیا تھا تاکہ وہ عام لوگوں سے حجاب میں رہیں۔ چنانچہ صحیح بخاری میں یہ الفاظ:هِیَ فِي قُبّةٍ تُرکِیّةٍ لَهَا مذکورہیں کہ وہ اپنے ترکی خیمہ میں تھیں۔9 ابو جحیفہؓ فرماتے ہیں:
«رَأَیتُ قُبَّةً حمراءَ مِن اَدَمٍ لِرَسُوْلِ الله ﷺ»10
''میں نے رسول ﷺکے لئے لگایا گیا چمڑے کا سرخ رنگ کا چھوٹا سا خیمہ دیکھا۔ ''
ایک اور صحابی کا بیان ہے:
«دَخَلَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللهِ وَ نَحنُ فِي قُبَّةٍ فِي مَسجِدِ المَدِینَةِ... الخ»11
''رسولﷺ ہمارے پاس آئے جبکہ ہم مدینہ کی مسجد میں ایک قبہ(خیمہ) میں تھے۔''
یہی وجہ ہے کہ کاظمی ضیائی صاحب کے ہم مسلک و فکر اور بریلویہ کے نامور عالم علامہ غلام رسول سعیدی نے بھی صحیح مسلم کی اس حدیث کا ترجمہ اسی طرح کیا ہے کہ ''ایک چمڑے کے خیمے کے ساتھ رسول اللہ ﷺٹیک لگائے خطبہ دے رہے تھے۔ الخ''12
قواعدِ عربیہ یعنی علم نحو کی روشنی میں اس تحریف و تبدیلی کی وضاحت
جو اہلِ علم طلبا و مدرّسین، علم نحو ( یعنی عربی قواعد) جانتے ہیں اُنھیں خوب علم ہے کہ عربی گرامر میں اضافت کے بارے میں ایک مستقل بحث ہوتی ہے، اس کی تعریف اور مختلف اعتبار سے تقسیم ہوتی ہے اور اضافت ِمعنوی کی تین قسمیں ہوتی ہیں:
اضافتِ لامیّہ          اضافتِ بیانیہ           اضافت ظرفیہ
اگر مضاف الیہ مضاف کی جنس ہو تو اسے اضافتِ بیانیہ کہا جاتا ہے جیسے: خاَتَمُ فِضَّةٍ چاندی کی انگو ٹھی۔ اس میں انگوٹھی چاندی کی جنس سے ہےیعنی خاتم من فضّة
اگر مضاف الیہ مضاف کی ظرف ہو تو اسے اضافتِ ظرفیہ کہا جاتا ہے جیسے: صَلوٰة اللَّیل یعنی رات کی نماز یعنی اللیل (رات) نماز پڑھنے کا ظرف زمان ہے۔ اسی طرح قرآن میں وارد ﴿ بَلْ مَكْرُ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ ﴾ سے مراد: المکر في اللیل والنهار ہی ہے۔
اگراضافت کی قسم ان دونوں میں سے کوئی بھی نہ ہوتو اسے اضافتِ لامیہ کہا جاتا ہے جیسے : کِتَابُ خَالِدٍ خالد کی کتاب۔ اس میں خالد نہ کتاب کی جنس سے ہے اور نہ ہی اس کا ظرفِ زمان و مکان ہے، اس میں عام طور پر لام مقدر ہوتا ہے یعنی کِتَاب لِّـخَالِدٍ13
مسلم شریف میں وارد حدیث میں مذکورہ الفاظ :قُبَّة اَدَمٍ میں اضافتِ معنوی بیانی ہے۔ کیونکہ اس میں مضاف قُبّة بمعنی خیمہ،أدم بمعنی چمڑا کی جنس سے ہے یعنی قُبّة مِن أَدَم۔ جیسا کہ کوئی کہے ثَوبُ حَریرٍیعنی: ثَوب مِن حَرِیر ریشم کا لباس۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے: ﴿ عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُنْدُسٍ ﴾ کپڑے اور ریشم ہم جنس ہیں۔
اسی طرح قُبّة(خیمہ) اور أدَم (چمڑا)ہم جنس ہیں۔ یعنی خیمہ کا مادہ (جس سے خیمہ بنایا گیا ہے) چمڑا ہے، جیسا کہ انگوٹھی کا مادہ چاندی اور کپڑے کا مادہ ریشم ہے۔اور ان سب میں مِن مقدر یعنی پوشیدہ ہے یعنی خَاتَم مِن فِضَّةٍ، ثِیَاب مِّن سُندُسٍ اور ثَوب مِن حَریرٍ.
اب ہم اس کی دلیل بھی احادیث ہی سے مہیا کرتے ہیں کہ اس جگہ قُبَّةِ اَدَمٍ اضافتِ بیانی ہے نہ کہ لامی اور ظرفی۔ اس میں مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان میں مِن پوشیدہ ہے۔ چنانچہ بہت سی احادیث میں یہ مِن ذکر بھی ہوا ہے۔ جیسا کہ بخاری شریف میں کتاب فرض الخمس، باب نمبر 13 حدیث 4137 میں انصار صحابہ کے بارے میں مذکور ہے: فَجَمَعَهُم فِي قُبَّةٍ مِن اَدمٍ''آ دم نے اُنھیں چمڑے کے ایک قبہ (یعنی خیمہ) میں جمع کیا''
ابو جحیفہؓ کابیان ہے کہ« رَأَیتُ رَسُولَ الله ﷺ فِي قُبَّةٍ حمراء مِن اَدَمٍ»14
میں نے رسول اللہ ﷺ کو چمڑے کے ایک سرخ قُبَّه (یعنی خیمہ) میں دیکھا۔
زیرِ نظرحدیث میں لفظی و معنوی تحریف کا ارتکاب
اَب قارئین حضرات کاظمی ضیائی صاحب کی حدیثِ نبوی میں تحریف و تبدیلی بخوبی سمجھ گئے ہوں گے، وہ یہ کہ انہوں نے اس حدیث میں لفظی تحریف بھی کی ہے اور معنوی تحریف بھی۔لفظی تحریف تو یہ ہے کہ اُنہوں نے لفظِ اَدم بروزن فَرَس کو تبدیل کر کے آدَم بروزن عالَم اور قالَب بنا دیا ہے اور کتاب میں حدیث کے اندر ہی آدم لکھ دیا ہے۔
اور معنوی تحریف یہ کی ہے کہ
اولاً: ادم سے حضرت آدم مراد لئے ہیں اور ترجمہ بھی آدم ہی کیا ہے۔
ثانیاً: قُبَّةسے قبر پر بنایا گیا گنبد و مزار مراد لیا ہے۔
لاکھوں کروڑوں روپیہ خرچ کر کے مزعومہ بزرگوں کی اصلی وغیر اصلی قبروں پر جو قبے بنائے جاتے ہیں، ان کے جواز کے لئے تحریف و تبدیل کردہ یہ حدیث بطورِ دلیل پیش کی ہے۔ یعنی حدیث کا لفظ بھی بدلا اور ترجمہ بھی غلط کیا اور قبہ اَدم میں جو اضافتِ بیانیہ تھی، اسے بھی تبدیل کر کے اضافت ِلامیہ بنا دی ۔ یعنی قُبَّةٍ مِّن اَدَمٍ کو بدل کر قُبَّةٍ لآدَمَ بنا دیا۔
حالانکہ صحیح مسلم والی عبد اللہ بن مسعود کی یہی حدیث صحیح بخاری میں بھی ہے ، اس کے الفا ظ سے بھی روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ اس جگہ اضافتِ بیانیہ ہے ، چنانچہ بخاری میں یہ الفاظ ہیں:
«بَیْنَمَا رَسُوْلُ الله ﷺ مُضِیف ظَهْرَهُ إِلى قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ یَـمَان»15
یعنی ''ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ یمنی چمڑے کے خیمہ کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے تو آپ نے ہمیں خطبہ دیا۔ الخ''
قارئین! آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس حدیث میں کتنے صاف الفاظ ہیں یعنی قُبَّةٍ مِّن اَدَمٍ یَمَانٍ یمنی چمڑے سے بنایا گیا قبہ (یعنی خیمہ)
کیا حضرت آدم کی قبر مدینہ نبویہ یا مسجدِ نبوی میں ہے؟
پھر آپ حضرات ایک اور طرح سے بھی سوچیں کہ کیا سیدناآدم کی وفات مدینہ نبویہ میں ہوئی تھی؟ اور کیا ان کا قبہ یعنی دربار اور مزار مسجدِ نبویؐ میں تعمیر ہوا تھا؟ وہ مسجد نبوی کے کس کونے میں تھا؟ یا پھر مدینة النبي ﷺمیں تھا اور کہاں تھا؟ اس کا ثبوت ضیائی اور قریشی صاحب کے ذمہ ہے۔
مسجدِ نبوی میں خیمے نصب کرنے کا ذکر تو ذخیرہ احادیث میں بکثرت ملتا ہے کیا کسی حدیث شریف میں یہ بھی آیا ہے کہ آدم کا قبہ مسجدِ نبوی میں تھا یا مدینة النبي میں تھا؟یہ سب سوچنے کی باتیں ہیں۔اہلِ تحریف کو ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے،اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنا بھی چاہئے۔
اہلِ تحریف لوگ دراصل درباروں ، مزاروں سے غالیانہ محبت میں اندھے ہو چکے ہیں، ان کو ثابت کرنے اور اسلام کا حصہ قرار دینے کے لئے ہر طرح کے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ یہ حدیثِ نبوی میں تحریف و تبدیلی ان کا آخری حربہ تھا جو اُنہوں نے کر دکھایا۔ یہودیوں کی بھی یہی عادت تھی کہ وہ اپنے خود ساختہ باطل نظریات کو ثابت کرنے اور انھیں شریعت کا حصہ قرار دینے کے لئے تورات میں تحریف کر دیتے تھے، جیسا کہ قرآن اس پر شاہد عدل ہے اور اس کی تفصیل شاہ ولی اللہ دہلوی﷫ کی کتاب الفوز الکبیر میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
نصوصِ الٰہیہ میں تحریف کرنا شیوۂ یہود تھا
شاہ ولی اللہ دہلوی﷫ نے الفوز الکبیر میں یہودیوں کی گمراہیوں میں ایک گمراہی یہ بھی ذکر کی ہے کہ وہ تورات کے احکام میں لفظی یا معنوی تحریف ( تبدیلی ) کر دیتے تھے۔ وہ تورات کی آیات کے ساتھ ان چیزوں کا بھی اضافہ کر دیا کرتے تھے جو اُن سے نہیں تھیں۔ وہ تورات کی آیات کا کتمان کیا کرتے تھے۔ تورات کے احکامات کا نفاذ نہیں کرتے تھے۔ اپنے مذہب کی نہایت بے جا حمایت کرتے تھے۔16
تنبیہ: الفوز الکبیر کی شرح الخیر الکثیرکے صفحہ :135 میں ہے کہ ''قرآنی وحدیثی تحریف لفظی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قرآن یا حدیث کے کسی لفظ کو دوسرے لفظ سے بدل دینا، کسی لفظ کو بڑھا دینا یا کسی لفظ کو کم کر دینا۔''(میں کہتا ہوں:اگر کم کر دینے سے حق کی پردہ پوشی مراد ہو تو یہ کتمانِ علم میں داخل ہے جو کہ نا جائز ہے ۔)
تحریفِ معنوی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قرآن و حدیث کے کسی لفظ کا ترجمہ یا تشریح اس طرح کرنا جو شارع کی مراد کے خلاف ہو۔ شاہ ولی اللہاس بحث کے آخر میں لکھتے ہیں:
''اگر تم یہودیوں کا نمو نہ دیکھنا چاہتے ہو تو ان علمائے سُوکو دیکھ لو جو دنیا کے طالب ہیں اور اپنے بڑوں کی تقلید کے گرویدہ ہیں اور کتاب و سنت کی نصوص (یعنی صریح آیتوں اور حدیثوں) سے اعراض کرتے ہیں اور کسی عالم کے تعمق و تشدد اور اس کے استحسان کو دلیل بناتے ہیں۔ چنانچہ اُنہوں نے معصوم شارع ( نبیﷺ) کے کلام سے اعراض کیا ہے، موضوع (خود ساختہ) حدیثوں اور فاسد تاویلوں کو اپنا اُسوہ (نمونہ) بنایا ہے۔ تو تم اُن لوگوں کو دیکھو گویا یہ وہی (یہودی) ہیں۔17
فقہ حنفی کی روشنی میں قبروں پر قبے اور مزار وغیرہ بنانے کا حکم
میں کہتا ہوں کہ ان اہلِ تحریف کی یہ تحریف قرآن و حدیث کی نصوص کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ اُن کے امام یعنی ابو حنیفہ نعمان بن ثابت﷫ کے مذہب کے بھی خلاف ہے جو کہ فقہ حنفی کی اکثر کتب میں مذکور ہے۔
چنانچہ احناف کے نامور مفتی علامہ شامی حنفی لکھتے ہیں:
«عَن أَبِي حَنِیْفَةَ یَکرَهُ أَن یُبنٰی عَلَیهِ بِنَاء مِّن بَیْتٍ أَو قُبَّةٍ أَو نَحوِ ذَلِكَ لِمَا رَویٰ جَابِر نَهٰى رَسُولُ الله ﷺ ... الخ»18
اس کے بعد مسلم شریف کی حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے جیسا کہ نیچے ترجمہ سے واضح ہو رہا ہے۔یعنی امام ابو حنیفہ﷫ قبر پر کسی قسم کا مکان اور قبہ بنانا مکروہ جانتے تھے، کیونکہ جابر نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے قبروں کو پختہ بنانے اور ان پر کچھ لکھنے اور عمارت بنانے سے منع فرمایا ہے۔
امام شافعی﷫ کی شہادت
ان کی یہ تحریف امام شافعی﷫ کی صراحت کے بھی خلاف ہے۔ چنانچہ شارح صحیح مسلم علامہ شرف الدین نووی﷫ فرماتے ہیں کہ امام شافعی﷫ نے اپنی کتاب الاُمّ19 میں کہا ہے کہ «رَأَیتُ الأَئِمَّةَبِمَکَّةَ یَأمُرُونَ بِهَدمِ مَا یُبنىٰ»20
''میں نے مکہ میں دیکھا کہ قبروں پر جو کچھ بنایا جاتا تھا، ائمہ (یعنی حکام ) اس کے گرانے کا حکم دیتے تھے۔''
قبروں پر بنے ہوے قبے منہدم کرنے پرعلماے مصر کا اتفاق
علامہ جلال الدین سیوطی﷫ نے حسن المحاضرة فی تاریخ مصر والقاہرة میں21 مصر میں قبروں پر تعمیرات و قبے وغیرہ منہدم کر نے پر ملک ظاہر بیبرس کے دور کے محققین علما کا اتفاق ذکر کیا ہے۔ ملک ظاہر نے اس وقت کے فقہا ( مثلاً: فقیہ علامہ ظہیر تزمنتی اور شیخ بہاء الدین بن جُمیزی اور ان جیسے علماے وقت )سے اس کا فتویٰ طلب کیا تھا تو ان سب نے خطوط لکھے اور بیک زبان ہو کر اتفاق کیا کہ حکمران پر ضروری ہے کہ ان سب کو ڈھادے اور بنوانے والوں کو مکلف کرے کہ اس کا ملبہ کیمان میں پھینک آئیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ امام شافعی کی قبر پر بنا ہوا قبہ بھی مصر ہی میں ہے۔22
علامہ بدرالدین عینی حنفی کا موقف
احناف کے بہت بڑے علامہ اور شارح صحیح بخاری بدر الدین عینی﷫ نے قبر پر خیمہ بنانا بھی مکروہ کہا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں ہے کہ
«رَأَى ابنُ عُمَرَ فُسطاطًا علىٰ قبرِ عبدِ الرَّحمٰن فقال: اِنزِعه یا غلامُ فإنَّما یُظلُّه عَمَلُه»23
''عبد اللہ بن عمر نے عبد الرحمٰن بن ابو بکر کی قبر پر ایک خیمہ دیکھا تو اُنہوں نے ( اُمّ المومنین عائشہؓ) کے غلام سے کہا: اے غلام! اس خیمے کو اتار لو، اس کے نیک عمل ہی اس پر سایہ کریں گے۔''
علامہ عینی حنفی﷫ اس اثرکی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
«فَدَلَّ هٰذا عَلىٰ أَن نَصبَ الخِیامِ علىٰ القَبرِ مکرُوه ولا یَنفعُ الْـمَیِّتَ ذَلِكَ»24
''یعنی عبد اللہ کے اس اثر میں اس بات کی دلیل ہے کہ قبر پر خیمے نصب کرنا مکروہ ہے اور اس سے میت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔''
مسند احمد میں ابو موسیٰ اشعری کی وصیت ہے:
«لاَ تَجعَلُوا عَلىٰ قَبري بِناءً»25 ''میری قبر پر کوئی عمارت نہ بنانا۔ ''
سیدنا ابو ہریرہ نے اپنی وفات کے وقت وصیت کی تھی کہ
«لاَ تَضرِبُوا عَلَىَّ فُسطَاطً»26ا ''میری قبر پر خیمہ نہ لگانا۔ ''
تابعیِ کبیر سعید بن مسیب ﷫ نے اپنے مرض الموت میں وصیت کرتے ہوئے کہا تھا:
«إِذَا مَا مِتُّ فَلاَ تَضرِبُوا عَلى قَبرِ فُسطَاطًا»27
'' جب میں وفات پا جاؤں تو میری قبر پر خیمہ نہ لگانا۔''
تابعی کبیر محمد بن کعب قرظی﷫ نے کہا ہے:
«هَذِهِ الفَسَاطِیطُ الَّتِي عَلىٰ القُبُورِ مُحدَثَة»28
یہ خیمے جو قبروں پر بنائے جاتے ہیں،یہ بدعت ہیں۔
دوغلی پالیسی پر تعجب و حیرت
پھر حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک طرف کاظمی ضیائی صاحب فی زمانہ قبروں پر بنے قبے گرانے کو مذموم حرکت قرار دے رہے ہیں اور گرانے کے جواز کا فتویٰ دینے والوں کو 'وہابی خبیث ظالم' کہہ رہے ہیں اور دوسری طرف قبروں پر قبے بنانے کو کبیرہ گناہ اور قبے گرانے کو واجب سمجھنے والے احمد بن حجر مکی شافعی صوفی(متوفی 974ھ) کو کاظمی ضیائی کے بڑے مناظر 'مفتی' محمد حنیف قریشی صاحب اچھے اچھے بلند القاب سے ملقب کرتے ہوئے انھیں مشہور محدث ، علامہ ،نیز محدثِ کبیر، حضرت اور امام قرار دیتے ہوئے ساتھ ﷫ کی دعا بھی دے رہے ہیں۔29
حالانکہ ابن حجر ﷫مکی صاحب نے قبوں کو منہدم کرنے کا فتویٰ اپنی مشہور کتاب 'الزواجر ' میں نقل کیا ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور وہ فتویٰ یہ ہے:
«وَ تَجِبُ الـمُبَادَرَةُ لِهَدمِهَا وَهَدمِ القِبَابِ الَّتِی عَلَى القُبُورِ اِذ هِيَ اَضَرُّ مِن مَسْجِدِ الضِّرَارِ لِأَنَّهَا أُسِّسَت عَلىٰ مَعصِیَةِ رَسُوْلِ الله ﷺ لِأنَّهُ نَهٰی عَن ذَلِكَ وَ أَمَرَ بِهَدمِ القُبُورِ الْـمُشرِفةِ وَ تَجِبُ ِإزَالَةُ کُلِّ قِندِیلٍ وَ سِرَاجٍ عَلى قَبرٍ وَلاَ یَصِحُّ وَقفُهُ وَنَذرُهُ»30
''اونچی قبریں اور قبے گرانے کی طرف جلدی کرنا واجب ہے کیونکہ یہ چیزیں مسجدِ ضرار31 سے زیادہ نقصان دہ ہیں، کیونکہ ان اونچی قبروں اور قبوں کی بنیاد رسول اللہﷺ کی نافرمانی پر ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے اور اونچی قبروں کو گرانے کا حکم دیا ہے اور ہر قندیل اور چراغ جو قبروں پر جلایا جاتا ہے اس کو ختم کرنا واجب ہے اور یہ قبروں پر وقف کرنا یا اس کی نذر ماننا صحیح نہیں۔''
میں کہتا ہوں کہ ابن حجر ﷫مکی صوفی شافعی کا نقل کردہ مذکورہ بالا فتویٰ بعینہٖ صاحب تفسیر روح المعانی محمود احمد آلوسی حنفی﷫ نے بھی اپنی تفسیر روح المعانی میں نقل کیا ہے بلکہ اس کی تائید میں مزید بھی لکھا ہے حتیٰ کہ مصر میں امام شافعی ﷫وغیرہ کی قبروں پر جو قبے بنائے گئے ہیں، ان کے گرانے کے بارے میں بھی لکھا ہے جبکہ گرانے کی وجہ سے فتنہ کا ڈر نہ ہو۔32 لیکن اس کے باوجود کاظمی ضیائی صاحب نے انہیں کسی بھی بُرے لقب سے ملقب نہیں کیا۔ نہ ظالم قرار دیا، نہ وہابی کہا، بلکہ ان کے بڑے مناظر محمد حنیف قریشی صاحب نے انہیں مشہور مفسر حضرت علامہ سید محمود احمد آلوسی ﷫ سے یاد کیاہے۔33
لیکن صد افسوس کہ اسی فتوے کی بنا پر یہ لوگ کتاب وسنت کی طرف دعوت دینے والے پاک و ہند کے علمائے حدیث کو وہابی ، ظالم اور خبیث جیسے برے القابات سے ملقب کر رہے ہیں۔34 ﴿تِلكَ إِذًا قِسمَةٌ ضيزىٰ ٢٢ ﴾... سورة النجم’﴿وَسَيَعلَمُ الَّذينَ ظَلَموا أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبونَ ٢٢٧ ﴾.... سورة الشعراء
مولانا محمد حنیف یزدانی﷫ فرماتے ہیں:
''جو لوگ قبروں کو پختہ بناتے ہیں اور ان پر عالی شان گنبد کھڑا کرتے ہیں وہ دراصل ایک دکان کی بنیاد رکھتے ہیں۔قبر کی تجارت کرتے ہیں، مقبور (میت) کو ساری عمر بیچ بیچ کر کھاتے ہیں، کچی قبر آمدنی کا ذریعہ نہیں بن سکتی، وہ عام قبروں میں مل جاتی ہے، جب مرید آئیں گے تو قبرستان کی تمام قبروں میں سے کس طرح پہچانیں گے کہ ان کا 'مشکل کشا' کہاں لیٹا ہوا ہے؟ مرادیں مانگنے والوں کو پیر کا روضہ دس پندرہ کوس دور سے ہی نظر آنا چاہئے۔ اسٹیشن پر اترتے ہی گنبد دکھائی دینا چاہئے، سورج کی شعاعیں رنگین کلس سے ٹکراکر زائرین کی آنکھوں میں اُتر آنی چاہئیں، ایسے مزار پر روز کے روز چڑھاوے چڑھیں گے ، جمعرات کی جمعرات نذروں کے انبار لگیں گے۔ سال میں بہت سے تہوار بھی نیازوں کا پیشِ خیمہ بنیں گے اور عرس کے موقعہ پر تو وہ ریل پیل ہو گی کہ مدتوں نسلیں عیش کریں گی۔ یہ فائدے گنبد، قبے والی پختہ قبر کے ہی ہو سکتے ہیں.... ''
علامہ اقبال فرماتے ہیں:

جن کو آتا نہیں کو ئی فن تم ہو          نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہو
بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہو          بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو
ہو نیکو نام جو قبروں کی تجارت کرکے          کیا نہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھرکے35

شاہ ولی اللہ دہلوی﷫ فرماتے ہیں:
'' اگر آپ مشرکین کے حال ،عقائد اور اعمال کا نمونہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمارے زمانہ کے پیشہ ور لوگوں کے احوال دیکھ لو ،بالخصوص وہ جو ہندوستان کے اطراف وجوانب میں رہائش پذیر ہیں۔قبروں اور آستانوں کی طرف جاتے ہیں اور طرح طرح کے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ الخ ''36
میں کہتا ہوں اگر کوئی ناصح انہیں قرآنی آیات اور احادیثِ نبویّہ کے ساتھ نصیحت کرنے لگے تووہ سخت ناراض ہو جاتے ہیں اور ناصح کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اسے بزرگو ں اور ولیوں کا گستاخ کہنے لگتے ہیں ، جیسا کہ صاحبِ روح المعانی مفسرِ قرآن علامہ سید محمود آلوسی بغدادی حنفی اللہ تعالیٰ کے فرمان :﴿وَإِذا ذُكِرَ‌ اللَّهُ وَحدَهُ اشمَأَزَّت قُلوبُ الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَ‌ةِ وَإِذا ذُكِرَ‌ الَّذينَ مِن دونِهِ إِذا هُم يَستَبشِر‌ونَ ٤٥ ﴾.... سورة الزمر" یعنی''جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑ جاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اورجب ان کا ذکر ہوتا ہے جو اس( اللہ) کے سوا ہیں تو اچانک وہ بہت خوش ہو جاتے ہیں''کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ
''ایک دن ایک شخص اپنی شدت و تکلیف کی حالت میں کسی فوت شدہ ( اپنے بزرگ) سے مدد مانگ رہا تھا اور نِدا کر رہا تھا کہ یَا فُلَانُ! أَغِثنِي ''اے فلاں بزرگ! میری فریاد رسی کر۔'' تو میں نے اسے کہا: تو یا اللہ مدد! کہہ ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :﴿وَإِذا سَأَلَكَ عِبادى عَنّى فَإِنّى قَر‌يبٌ أُجيبُ دَعوَةَ الدّاعِ إِذا دَعانِ..... ١٨٦ ﴾..... سورة البقرة" یعنی :جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں توبے شک میں قریب ہوں ، میں پکارنے والے کی پکار قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔فرماتے ہیں جب میں نے اسے یہ آیت سنائی تو وہ غضب ناک ہو گیا ،اور مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ اس نے میرے متعلق کہا ہے کہ یہ اولیا کا منکر ہے۔37
﴿وَءاخِرُ‌ دَعوىٰهُم أَنِ الحَمدُ لِلَّهِ رَ‌بِّ العـٰلَمينَ ١٠ ﴾..... سورة يونس
نوٹ :ہما رے اسی مضمون کو اصل سمجھا جائے اور جو اس سے قبل کہیں کسی رسالہ مثلاً : ہفت روزہ الاعتصام2012ءجلد ٦٤؍شمارہ نمبر ٥ ۔٦اور ہفت روزہ اہل حدیث ٢٠١٢ء میں چھپا ہے، اس میں دو تین معنوی غلطیاں واقع ہوئی ہیں۔ عفا الله تعالىٰ عنّا وعافانامن جمیع الآفات. اٰمین


حوالہ جات

1. شرح عقیدہ طحاویہ از ابن ابی العز حنفی: 1؍229

2. شرح عقیدہ طحاویہ از علامہ ابن ابی العز حنفی ص502 بہ تحقیق و تعلیق ڈاکٹر عبد اللہ عبد المحسن ترکی

3. صحیح بخاری : 1229

4. 'گستاخ کون ؟': ص159 (راولپنڈی میں ہونے والا تاریخی مناظرہ) از سید امتیاز حسین کاظمی ضیائی

5. مسلم،کتاب الإیمان، باب بیان كون هذه الأمة نصف أهل الجنة:٥٣١، مترجم نسخہ:١؍٣٠٩

6. صحیح بخاري،کتاب الإیمان والنذور، باب کیف کانت یمین النبي:٦٦٤٢

7. المعجم الوسیط : مادہ ق ب ب

8. صحیح بخاری، کتاب الاعتکاف، باب الاعتکاف في شوال:٢٠٤١

9. صحیح بخاری، کتاب الحج، باب طواف النساء مع الرجال: ١٦١٨

10. مسند احمد: ج٤؍ص ٣٠٨

11. سنن نسائی ، کتاب تحریم الدم ، باب نمبر ١ : ٣٩٨٠

12. دیکھئے شرح صحیح مسلم: ج١؍ص ٨٤٦، از علامہ غلام رسول سعیدی بریلوی

13. اس کی تفصیل شرح ابن عقیل علیٰ الفیہ ابن مالک مبحث 'الاضافۃ' :ج٣؍42،43 میں دیکھی جا سکتی ہے نیز معارف النحو، از عبد اللہ توحیدی میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ (ص 213)

14. صحیح بخاري: کتاب الصلوٰة ، باب الصلوٰة في الثوب الأحمر: 376

15. صحیح بخاری: کتاب الأیمان والنذور ، باب کیف کانت یمین النبي ﷺ : 6642

16. صحیح بخاری ، کتاب الأیمان والنذور ، باب کیف کانت یمین النبيﷺ: ٦٦٤٢

17. الفوزالکبیر: ص 30۔32

18. فتاویٰ شامی:1؍ 627، باب صلوٰة الجنائز، مطبوعہ مصر

19. جلد اوّل

20. شرح صحیح مسلم درسی عربی ، 1؍312 سطر:٦ من الأ سفل؛ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے : فتاویٰ علماے حدیث کتاب العلم :١٢؍١٧ تا ٢٧

21. ج١،ص ١٤١

22. حسن المحاضرة:1؍ 141

23. کتاب الجنائز، باب الجرید على القبر

24. عمدة القاری: 8؍ 183

25. حدیث نمبر : ٩٤٣٩

26. مصنف ابن ابی شیبہ: ج٣؍ص ٢١٦

27. طبقات ابن سعد: ج٥؍ص ١٤٢

28. مصنف ابن ابی شیبہ : 3؍ 216

29. دیکھئے :گستاخ کون؟ ص ٤٧٦

30. الزواجر عن اقتراف الکبائر، ج١ص ١٤٩، کبیرہ گناہ نمبر ٩٣تا ٩٨

31. جو منافقین نے اسلام کو نقصان پہنچانے کی خاطر بنائی تھی جس کا ذکر سورہ توبہ کی آیت107میں ہے۔

32. روح المعانی ، جزء :15 ، ص ٢٣٨۔ ٢٣٩، آیت: ٢١ ، من سورة الکہف

33. دیکھئے گستاخ کون؟ ص ٢٨٦

34. دیکھئے گستاخ کون ؟ص ١٥٨، ١٥٩

35. دیکھئے زیارتِ قبور کا شرعی طریقہ ،ص:23،24،از مولانا محمد حنیف

36. الفوز الکبیر ،ص:٢٣،٢٤

37. تفسیر روح المعانی ،ض:٢٤،ص:١١جس شخص نے بھی رسول اللہ ﷺپر جھوٹ باندھا، خواہ آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں ہو یا آپ ﷺ کی وفات کے بعد کسی زمانہ میں، اللہ تعالیٰ نے اس کو مخفی نہیں رہنے دیا، بلکہ اس کا حال لوگوں کے سامنے ضرور واضح کر دیا۔ آپ ﷺپر جھوٹ باندھنے کی بدترین صورت آپﷺ کی حدیثِ مبارکہ میں تحریف و تبدیلی کا ارتکاب کرنا ہے۔امام محدث سفیان بن عیینہ﷫ کا فرمان ہے کہ «مَا سَتَرَ اللهُ أَحَدًا یَکذِبُ فِي الحَدِیْثِ»1
'' جو بھی حدیث میں کذب بیانی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی نہیں کی۔'' محدث عبد اللہ بن مبارک ﷫ فرماتے ہیں:
«لَو هَمَّ رَجُل فِي السَّحَرِ أَن یَّکذِبَ فِي الحَدِیْثِ، لَأصْبَحَ وَالنَّاسُ یَقُولُونَ: فُلاَن کَذَّاب»2
''اگر کوئی شخص سحری کے وقت حدیث شریف میں جھوٹ بولنے کا قصد کر لے تو صبح کے وقت ہی لوگ یہ کہہ رہے ہوں گے کہ فلاں (حدیث میں جھوٹ بولنے والا) شخص کذاب ہے۔ ''
حال ہی میں٦٦٠ صفحات پر مشتمل 'گستاخ کون؟' نامی ایک کتاب چھپی ہے جو مفتی محمد حنیف قریشی بریلوی اور سید طالب الرحمٰن شاہ کے مابین مناظرہ پر مشتمل ہے اور سید امتیاز حسین شاہ کاظم ضیائی بریلوی نے اسے ترتیب دیا ہے اور کاظمی ضیائی صاحب نے اس کتاب کے مختلف مقامات پر ضروری حاشیہ جات بھی لگائے ہیں اور یہ اکثر حاشیہ جات بھی اُن کے مناظر مفتی محمد حنیف قریشی بریلوی کے اِفادات ہی سے ہیں جیسا کہ اس کی وضاحت انھوں اسی کتاب کے ص40 پر خود کی ہے۔
اَب یہ بات تو اہل علم و تحقیق کو بخوبی معلوم ہی ہے کہ فی زمانہ قبر پرست لوگ بزرگوں کی قبروں پر لاکھوں کروڑوں کے جوقبے اور مزارات تعمیر کرتے ہیں ،کتاب و سنت میں اُن کی کوئی دلیل نہیں۔قبروں پرجو مزار یا دربار تعمیر کئے جاتے ہیں، ان کا اصل مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ لوگ دور دراز سے اِن قبروں میں مدفون بزرگوں سے مرادیں مانگنے، مشکلات حل کرانے، چڑھاوے چڑھانے اور نذرانے پیش کرنے کے لئے حاضری دیں۔ اسی لئے ان پر سالانہ عرس بھی منائے جاتے ہیں تاکہ ان کی سرپرستی کرنے والے گدی نشین مال و دولت سے مالا مال ہوں۔اسی لئے ان درباروں، مزاروں کے تحفظ کی خاطر کئی ایک جھوٹ بولے جاتے ہیں اور عوام الناس کی آنکھوں میں دھول ڈالی جاتی اور اُنہیں اصل حقائق سے در پردہ رکھا جاتا ہے۔ اُنھیں یہ بتایا ہی نہیں جاتا کہ یہ رسول اللہ ﷺکے کسی فرمان سے ثابت نہیں، نہ ہی کسی صحابی سے ثابت ہیں اور نہ ہی تابعین﷭سے، حتیٰ کہ اَئمہ اربعہ امام مالک، ابو حنیفہ ،شافعی اور احمد﷭سے بھی ان کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔لیکن صد اَفسوس کہ ان درباروں، مزاروں کو ثابت کرنے اور اُنہیں اسلام کا حصہ قرار دینے کی خاطر اس عظیم ہستیﷺپر جھوٹ باندھتے بھی شرم نہیں کی جاتی، جس نے یہ فرمایا ہے:
«مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأ مَقعَدَه مِنَ النَّارِ»3
''جو کوئی مجھ پر عمداً جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔''
چنانچہ اسی کتاب 'گستاخ کون؟' کے ص 158،159 پر رسول اللہ ﷺ کی حدیث مبارکہ میں تحریف و تبدیلی کرتے ہوئے مزار و دربار بنانے کی دلیل مہیا کرتے ہوئے کاظمی ضیائی صاحب لکھتے ہیں:
''مسلم شریف جلد اوّل، ص 117 پر حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ آپ فرماتے ہیں: خَطَبَنَا رَسُولُ الله ﷺ فَأَسنَدَ ظهره إليٰ قبّة آدم فقال: «ألا لا یدخل الجنّة إلا نفس مسلمة»
''رسول اللہ ﷺ نے قبہ آدم کے ساتھ ٹیک لگا کر (ہمیں) خطبہ اِرشاد فرمایا اور فرمایا: آگاہ رہو کہ جنت میں سوائے مسلمان کے کوئی داخل نہیں ہو سکتا۔'' الحدیث
پھر کہتے ہیں: اس سے ثابت ہوا کہ قبہ گرانا واجب نہیں۔ اگر قبہ گرانا واجب ہوتا تو رسول ﷺخطبہ ارشاد فرمانے سے پہلے اس قبہ کو گرانے کا حکم اِرشاد فرماتے۔ ''4
اصل حقیقت
میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں:
خَطَبَنَا رَسُولُ الله ﷺ فَأَسنَدَ ظَهرَهُ إِلىٰ قُبَّةِ أَدَمٍ فَقَالَ: «أَلاَ لاَ یَدخُلُ الجَنَّـةَ إلَّا نَفس مُسلِمَة»5
اب اس کا اصل اور صحیح ترجمہ اس طرح ہے :
''سیدنا عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا کہ رسول اللہ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا تو اپنی کمر کو چمڑے سے بنے ہوئے ایک خیمے سے ٹیک دیا (یعنی آپﷺ نے اس چمڑے کے خیمے کے ساتھ ٹیک لگا لی) تو آپﷺ نے فرمایا :...الخ
مسلم شریف میں موجود عبد اللہ بن مسعود کی یہی حدیث صحیح بخاری میں بھی ہے، اس کے الفاظ سے بھی روشن سورج کی طرح واضح ہے کہ اس جگہ یہی ترجمہ صحیح ہے، چنانچہ صحيح بخاری میں یہ الفاظ ہیں:
«بَینَمَا رَسُولُ الله ﷺ مُضِیف ظَهرَهُ إِلىٰ قُبَّةٍ مِن أَدَمٍ یَمَانٍ»6
'' ایک دفعہ رسول اللہﷺ یمنی چمڑے کے خیمہ کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے تو آپ نے ہمیں خطبہ دیا...الخ''
لفظِ قُبّة کی تحقیق
ہم کہتے ہیں کہ لفظ قُبّہ کا معنیٰ ''چھوٹا خیمہ جو اوپر سے گول ہو'' بھی ہے۔ چنانچہ عربی لغت کی مشہور کتاب المُعجم الوسیط میں ہے:
خَیمَة صَغِیرَة أَعلَاهَا مُستَدِیر7
یہ خیمہ عرب کے اندر عام تھا اور وہ سفر و حضر میں بنا لیا کرتے تھے۔ مسجدِ نبویؐ کے اندر بھی بنا لیا جاتا تھا۔اس طرح کا قُبّہ(خیمہ) عرب لوگ حج کے ایام میں منیٰ و عرفات وغیرہ میں بنالیا کرتے تھے۔ یہ خیمہ چمڑے اور کپڑے وغیرہ سے بنایا جاتا تھا۔ لفظِ 'قبّہ' بمعنیٰ خیمہ کئی ایک احادیث میں وارد ہوا ہے۔ مثلاً:
1. صحیح بخاری میں ہے کہ اُمّ المومنین سیدہ عائشہؓ صدیقہ نے آپ ﷺ سے مسجد میں اعتکاف بیٹھنے کی اجازت مانگی تو آپ نے اجازت مرحمت فرمائی: فَضَرَبَت فِیهِ قُبَّةً تو اُنھوں نے مسجد میں ایک قبّہ(چھوٹا سا خیمہ)لگالیا۔ پھر اُمّ المومنین حفصہ بنت عمر بن خطابؓ کو پتہ چلا تو انھوں نے بھی ضَرَبَت قُبَّةً یعنی ایک چھوٹا سا خیمہ لگا لیا۔ اسی طرح اُمّ المومنین سیدہ زینبؓ نے بھی ایک خیمہ لگا لیا۔ آپﷺ نے جب فجر کی نماز پڑھائی تو أَبصَرَأَربَعَ قِبَابٍ یعنی مسجد میں چار خیمے لگے دیکھے۔ الخ8
اس بات کی دلیل کہ اس حدیث میں وارد لفظ قُبّہ یا قِبَاب کا معنی چھوٹا خیمہ ہی ہے، یہ ہے کہ اسی حدیث پر امام بخاری﷫ نے یہ باب بھی منعقد کیا ہے: بَابُ الأخبِیَة فِي المَسجِدِ (مسجد میں خیمے لگانے کا بیان یعنی اعتکاف کے لئے) اس حدیث میں قُبّہ کی جگہ پر اس کے راوی امام مالک﷫ نے خِبَاء(خیمہ) کا لفظ استعمال کیا ہے۔
2. امام بخاری﷫یہ حدیث باب اعتکاف النساء میں بھی لائے ہیں۔ اس میں اس کے راوی حماد بن زید نے بھی قبہ کی جگہ خباءکا لفظ ہی استعمال کیا ہے بلکہ ان دونوں یعنی امام مالک﷫اور حماد بن زید نے قبّہ کی جمع قِبَاب کی جگہ اَخبِية یعنی خِبَاء کی جمع کا لفظ استعمال کیا ہے جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس حدیث میں وارد لفظ' قبّہ' کا معنیٰ چھوٹا خیمہ ہی ہے۔
3. اسی طرح اُمّ المومنین عائشہؓ کے لئے منیٰ میں ایک ترُکی قُبّہ (یعنی چھوٹا خیمہ) لگا دیا گیا تھا تاکہ وہ عام لوگوں سے حجاب میں رہیں۔ چنانچہ صحیح بخاری میں یہ الفاظ:هِیَ فِي قُبّةٍ تُرکِیّةٍ لَهَا مذکورہیں کہ وہ اپنے ترکی خیمہ میں تھیں۔9 ابو جحیفہؓ فرماتے ہیں:
«رَأَیتُ قُبَّةً حمراءَ مِن اَدَمٍ لِرَسُوْلِ الله ﷺ»10
''میں نے رسول ﷺکے لئے لگایا گیا چمڑے کا سرخ رنگ کا چھوٹا سا خیمہ دیکھا۔ ''
ایک اور صحابی کا بیان ہے:
«دَخَلَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللهِ وَ نَحنُ فِي قُبَّةٍ فِي مَسجِدِ المَدِینَةِ... الخ»11
''رسولﷺ ہمارے پاس آئے جبکہ ہم مدینہ کی مسجد میں ایک قبہ(خیمہ) میں تھے۔''
یہی وجہ ہے کہ کاظمی ضیائی صاحب کے ہم مسلک و فکر اور بریلویہ کے نامور عالم علامہ غلام رسول سعیدی نے بھی صحیح مسلم کی اس حدیث کا ترجمہ اسی طرح کیا ہے کہ ''ایک چمڑے کے خیمے کے ساتھ رسول اللہ ﷺٹیک لگائے خطبہ دے رہے تھے۔ الخ''12
قواعدِ عربیہ یعنی علم نحو کی روشنی میں اس تحریف و تبدیلی کی وضاحت
جو اہلِ علم طلبا و مدرّسین، علم نحو ( یعنی عربی قواعد) جانتے ہیں اُنھیں خوب علم ہے کہ عربی گرامر میں اضافت کے بارے میں ایک مستقل بحث ہوتی ہے، اس کی تعریف اور مختلف اعتبار سے تقسیم ہوتی ہے اور اضافت ِمعنوی کی تین قسمیں ہوتی ہیں:
 اضافتِ لامیّہ            اضافتِ بیانیہ            اضافت ظرفیہ
اگر مضاف الیہ مضاف کی جنس ہو تو اسے اضافتِ بیانیہ کہا جاتا ہے جیسے: خاَتَمُ فِضَّةٍ چاندی کی انگو ٹھی۔ اس میں انگوٹھی چاندی کی جنس سے ہےیعنی خاتم من فضّة
اگر مضاف الیہ مضاف کی ظرف ہو تو اسے اضافتِ ظرفیہ کہا جاتا ہے جیسے: صَلوٰة اللَّیل یعنی رات کی نماز یعنی اللیل (رات) نماز پڑھنے کا ظرف زمان ہے۔ اسی طرح قرآن میں وارد ﴿ بَلْ مَكْرُ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ ﴾ سے مراد: المکر في اللیل والنهار ہی ہے۔
اگراضافت کی قسم ان دونوں میں سے کوئی بھی نہ ہوتو اسے اضافتِ لامیہ کہا جاتا ہے جیسے : کِتَابُ خَالِدٍ خالد کی کتاب۔ اس میں خالد نہ کتاب کی جنس سے ہے اور نہ ہی اس کا ظرفِ زمان و مکان ہے، اس میں عام طور پر لام مقدر ہوتا ہے یعنی کِتَاب لِّـخَالِدٍ13
مسلم شریف میں وارد حدیث میں مذکورہ الفاظ :قُبَّة اَدَمٍ میں اضافتِ معنوی بیانی ہے۔ کیونکہ اس میں مضاف قُبّة بمعنی خیمہ،أدم بمعنی چمڑا کی جنس سے ہے یعنی قُبّة مِن أَدَم۔ جیسا کہ کوئی کہے ثَوبُ حَریرٍیعنی: ثَوب مِن حَرِیر ریشم کا لباس۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے: ﴿ عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُنْدُسٍ ﴾ کپڑے اور ریشم ہم جنس ہیں۔
اسی طرح قُبّة(خیمہ) اور أدَم (چمڑا)ہم جنس ہیں۔ یعنی خیمہ کا مادہ (جس سے خیمہ بنایا گیا ہے) چمڑا ہے، جیسا کہ انگوٹھی کا مادہ چاندی اور کپڑے کا مادہ ریشم ہے۔اور ان سب میں مِن مقدر یعنی پوشیدہ ہے یعنی خَاتَم مِن فِضَّةٍ، ثِیَاب مِّن سُندُسٍ اور ثَوب مِن حَریرٍ.
اب ہم اس کی دلیل بھی احادیث ہی سے مہیا کرتے ہیں کہ اس جگہ قُبَّةِ اَدَمٍ اضافتِ بیانی ہے نہ کہ لامی اور ظرفی۔ اس میں مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان میں مِن پوشیدہ ہے۔ چنانچہ بہت سی احادیث میں یہ مِن ذکر بھی ہوا ہے۔ جیسا کہ بخاری شریف میں کتاب فرض الخمس، باب نمبر 13 حدیث 4137 میں انصار صحابہ کے بارے میں مذکور ہے: فَجَمَعَهُم فِي قُبَّةٍ مِن اَدمٍ''آ دم نے اُنھیں چمڑے کے ایک قبہ (یعنی خیمہ) میں جمع کیا''
ابو جحیفہؓ کابیان ہے کہ« رَأَیتُ رَسُولَ الله ﷺ فِي قُبَّةٍ حمراء مِن اَدَمٍ»14
میں نے رسول اللہ ﷺ کو چمڑے کے ایک سرخ قُبَّه (یعنی خیمہ) میں دیکھا۔
زیرِ نظرحدیث میں لفظی و معنوی تحریف کا ارتکاب
اَب قارئین حضرات کاظمی ضیائی صاحب کی حدیثِ نبوی میں تحریف و تبدیلی بخوبی سمجھ گئے ہوں گے، وہ یہ کہ انہوں نے اس حدیث میں لفظی تحریف بھی کی ہے اور معنوی تحریف بھی۔لفظی تحریف تو یہ ہے کہ اُنہوں نے لفظِ اَدم بروزن فَرَس کو تبدیل کر کے آدَم بروزن عالَم اور قالَب بنا دیا ہے اور کتاب میں حدیث کے اندر ہی آدم لکھ دیا ہے۔
اور معنوی تحریف یہ کی ہے کہ
اولاً: ادم سے حضرت آدم مراد لئے ہیں اور ترجمہ بھی آدم ہی کیا ہے۔
ثانیاً: قُبَّةسے قبر پر بنایا گیا گنبد و مزار مراد لیا ہے۔
لاکھوں کروڑوں روپیہ خرچ کر کے مزعومہ بزرگوں کی اصلی وغیر اصلی قبروں پر جو قبے بنائے جاتے ہیں، ان کے جواز کے لئے تحریف و تبدیل کردہ یہ حدیث بطورِ دلیل پیش کی ہے۔ یعنی حدیث کا لفظ بھی بدلا اور ترجمہ بھی غلط کیا اور قبہ اَدم میں جو اضافتِ بیانیہ تھی، اسے بھی تبدیل کر کے اضافت ِلامیہ بنا دی ۔ یعنی قُبَّةٍ مِّن اَدَمٍ کو بدل کر قُبَّةٍ لآدَمَ بنا دیا۔
حالانکہ صحیح مسلم والی عبد اللہ بن مسعود کی یہی حدیث صحیح بخاری میں بھی ہے ، اس کے الفا ظ سے بھی روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ اس جگہ اضافتِ بیانیہ ہے ، چنانچہ بخاری میں یہ الفاظ ہیں:
«بَیْنَمَا رَسُوْلُ الله ﷺ مُضِیف ظَهْرَهُ إِلى قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ یَـمَان»15
یعنی ''ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ یمنی چمڑے کے خیمہ کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے تو آپ نے ہمیں خطبہ دیا۔ الخ''
قارئین! آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس حدیث میں کتنے صاف الفاظ ہیں یعنی قُبَّةٍ مِّن اَدَمٍ یَمَانٍ یمنی چمڑے سے بنایا گیا قبہ (یعنی خیمہ)
کیا حضرت آدم کی قبر مدینہ نبویہ یا مسجدِ نبوی میں ہے؟
پھر آپ حضرات ایک اور طرح سے بھی سوچیں کہ کیا سیدناآدم کی وفات مدینہ نبویہ میں ہوئی تھی؟ اور کیا ان کا قبہ یعنی دربار اور مزار مسجدِ نبویؐ میں تعمیر ہوا تھا؟ وہ مسجد نبوی کے کس کونے میں تھا؟ یا پھر مدینة النبي ﷺمیں تھا اور کہاں تھا؟ اس کا ثبوت ضیائی اور قریشی صاحب کے ذمہ ہے۔
مسجدِ نبوی میں خیمے نصب کرنے کا ذکر تو ذخیرہ احادیث میں بکثرت ملتا ہے کیا کسی حدیث شریف میں یہ بھی آیا ہے کہ آدم کا قبہ مسجدِ نبوی میں تھا یا مدینة النبي میں تھا؟یہ سب سوچنے کی باتیں ہیں۔اہلِ تحریف کو ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے،اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنا بھی چاہئے۔
اہلِ تحریف لوگ دراصل درباروں ، مزاروں سے غالیانہ محبت میں اندھے ہو چکے ہیں، ان کو ثابت کرنے اور اسلام کا حصہ قرار دینے کے لئے ہر طرح کے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ یہ حدیثِ نبوی میں تحریف و تبدیلی ان کا آخری حربہ تھا جو اُنہوں نے کر دکھایا۔ یہودیوں کی بھی یہی عادت تھی کہ وہ اپنے خود ساختہ باطل نظریات کو ثابت کرنے اور انھیں شریعت کا حصہ قرار دینے کے لئے تورات میں تحریف کر دیتے تھے، جیسا کہ قرآن اس پر شاہد عدل ہے اور اس کی تفصیل شاہ ولی اللہ دہلوی﷫ کی کتاب الفوز الکبیر میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
نصوصِ الٰہیہ میں تحریف کرنا شیوۂ یہود تھا
شاہ ولی اللہ دہلوی﷫ نے الفوز الکبیر میں یہودیوں کی گمراہیوں میں ایک گمراہی یہ بھی ذکر کی ہے کہ وہ تورات کے احکام میں لفظی یا معنوی تحریف ( تبدیلی ) کر دیتے تھے۔ وہ تورات کی آیات کے ساتھ ان چیزوں کا بھی اضافہ کر دیا کرتے تھے جو اُن سے نہیں تھیں۔ وہ تورات کی آیات کا کتمان کیا کرتے تھے۔ تورات کے احکامات کا نفاذ نہیں کرتے تھے۔ اپنے مذہب کی نہایت بے جا حمایت کرتے تھے۔16
تنبیہ: الفوز الکبیر کی شرح الخیر الکثیرکے صفحہ :135 میں ہے کہ ''قرآنی وحدیثی تحریف لفظی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قرآن یا حدیث کے کسی لفظ کو دوسرے لفظ سے بدل دینا، کسی لفظ کو بڑھا دینا یا کسی لفظ کو کم کر دینا۔''(میں کہتا ہوں:اگر کم کر دینے سے حق کی پردہ پوشی مراد ہو تو یہ کتمانِ علم میں داخل ہے جو کہ نا جائز ہے ۔)
تحریفِ معنوی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قرآن و حدیث کے کسی لفظ کا ترجمہ یا تشریح اس طرح کرنا جو شارع کی مراد کے خلاف ہو۔ شاہ ولی اللہاس بحث کے آخر میں لکھتے ہیں:
''اگر تم یہودیوں کا نمو نہ دیکھنا چاہتے ہو تو ان علمائے سُوکو دیکھ لو جو دنیا کے طالب ہیں اور اپنے بڑوں کی تقلید کے گرویدہ ہیں اور کتاب و سنت کی نصوص (یعنی صریح آیتوں اور حدیثوں) سے اعراض کرتے ہیں اور کسی عالم کے تعمق و تشدد اور اس کے استحسان کو دلیل بناتے ہیں۔ چنانچہ اُنہوں نے معصوم شارع ( نبیﷺ) کے کلام سے اعراض کیا ہے، موضوع (خود ساختہ) حدیثوں اور فاسد تاویلوں کو اپنا اُسوہ (نمونہ) بنایا ہے۔ تو تم اُن لوگوں کو دیکھو گویا یہ وہی (یہودی) ہیں۔17
فقہ حنفی کی روشنی میں قبروں پر قبے اور مزار وغیرہ بنانے کا حکم
میں کہتا ہوں کہ ان اہلِ تحریف کی یہ تحریف قرآن و حدیث کی نصوص کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ اُن کے امام یعنی ابو حنیفہ نعمان بن ثابت﷫ کے مذہب کے بھی خلاف ہے جو کہ فقہ حنفی کی اکثر کتب میں مذکور ہے۔
چنانچہ احناف کے نامور مفتی علامہ شامی حنفی لکھتے ہیں:
«عَن أَبِي حَنِیْفَةَ یَکرَهُ أَن یُبنٰی عَلَیهِ بِنَاء مِّن بَیْتٍ أَو قُبَّةٍ أَو نَحوِ ذَلِكَ لِمَا رَویٰ جَابِر نَهٰى رَسُولُ الله ﷺ ... الخ»18
اس کے بعد مسلم شریف کی حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے جیسا کہ نیچے ترجمہ سے واضح ہو رہا ہے۔یعنی امام ابو حنیفہ﷫ قبر پر کسی قسم کا مکان اور قبہ بنانا مکروہ جانتے تھے، کیونکہ جابر نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے قبروں کو پختہ بنانے اور ان پر کچھ لکھنے اور عمارت بنانے سے منع فرمایا ہے۔
امام شافعی﷫ کی شہادت
ان کی یہ تحریف امام شافعی﷫ کی صراحت کے بھی خلاف ہے۔ چنانچہ شارح صحیح مسلم علامہ شرف الدین نووی﷫ فرماتے ہیں کہ امام شافعی﷫ نے اپنی کتاب الاُمّ میں کہا ہے کہ «رَأَیتُ الأَئِمَّةَبِمَکَّةَ یَأمُرُونَ بِهَدمِ مَا یُبنىٰ»
''میں نے مکہ میں دیکھا کہ قبروں پر جو کچھ بنایا جاتا تھا، ائمہ (یعنی حکام ) اس کے گرانے کا حکم دیتے تھے۔''
قبروں پر بنے ہوے قبے منہدم کرنے پرعلماے مصر کا اتفاق
علامہ جلال الدین سیوطی﷫ نے حسن المحاضرة فی تاریخ مصر والقاہرة میں مصر میں قبروں پر تعمیرات و قبے وغیرہ منہدم کر نے پر ملک ظاہر بیبرس کے دور کے محققین علما کا اتفاق ذکر کیا ہے۔ ملک ظاہر نے اس وقت کے فقہا ( مثلاً: فقیہ علامہ ظہیر تزمنتی اور شیخ بہاء الدین بن جُمیزی اور ان جیسے علماے وقت )سے اس کا فتویٰ طلب کیا تھا تو ان سب نے خطوط لکھے اور بیک زبان ہو کر اتفاق کیا کہ حکمران پر ضروری ہے کہ ان سب کو ڈھادے اور بنوانے والوں کو مکلف کرے کہ اس کا ملبہ کیمان میں پھینک آئیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ امام شافعی کی قبر پر بنا ہوا قبہ بھی مصر ہی میں ہے۔
علامہ بدرالدین عینی حنفی کا موقف
احناف کے بہت بڑے علامہ اور شارح صحیح بخاری بدر الدین عینی﷫ نے قبر پر خیمہ بنانا بھی مکروہ کہا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں ہے کہ
«رَأَى ابنُ عُمَرَ فُسطاطًا علىٰ قبرِ عبدِ الرَّحمٰن فقال: اِنزِعه یا غلامُ فإنَّما یُظلُّه عَمَلُه»
''عبد اللہ بن عمر نے عبد الرحمٰن بن ابو بکر کی قبر پر ایک خیمہ دیکھا تو اُنہوں نے ( اُمّ المومنین عائشہؓ) کے غلام سے کہا: اے غلام! اس خیمے کو اتار لو، اس کے نیک عمل ہی اس پر سایہ کریں گے۔''
علامہ عینی حنفی﷫ اس اثرکی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
«فَدَلَّ هٰذا عَلىٰ أَن نَصبَ الخِیامِ علىٰ القَبرِ مکرُوه ولا یَنفعُ الْـمَیِّتَ ذَلِكَ»
''یعنی عبد اللہ کے اس اثر میں اس بات کی دلیل ہے کہ قبر پر خیمے نصب کرنا مکروہ ہے اور اس سے میت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔''
مسند احمد میں ابو موسیٰ اشعری کی وصیت ہے:
«لاَ تَجعَلُوا عَلىٰ قَبري بِناءً» ''میری قبر پر کوئی عمارت نہ بنانا۔ ''
سیدنا ابو ہریرہ نے اپنی وفات کے وقت وصیت کی تھی کہ
«لاَ تَضرِبُوا عَلَىَّ فُسطَاطً»ا ''میری قبر پر خیمہ نہ لگانا۔ ''
تابعیِ کبیر سعید بن مسیب ﷫ نے اپنے مرض الموت میں وصیت کرتے ہوئے کہا تھا:
«إِذَا مَا مِتُّ فَلاَ تَضرِبُوا عَلى قَبرِ فُسطَاطًا»
'' جب میں وفات پا جاؤں تو میری قبر پر خیمہ نہ لگانا۔''
تابعی کبیر محمد بن کعب قرظی﷫ نے کہا ہے:
«هَذِهِ الفَسَاطِیطُ الَّتِي عَلىٰ القُبُورِ مُحدَثَة»
یہ خیمے جو قبروں پر بنائے جاتے ہیں،یہ بدعت ہیں۔
دوغلی پالیسی پر تعجب و حیرت
پھر حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک طرف کاظمی ضیائی صاحب فی زمانہ قبروں پر بنے قبے گرانے کو مذموم حرکت قرار دے رہے ہیں اور گرانے کے جواز کا فتویٰ دینے والوں کو 'وہابی خبیث ظالم' کہہ رہے ہیں اور دوسری طرف قبروں پر قبے بنانے کو کبیرہ گناہ اور قبے گرانے کو واجب سمجھنے والے احمد بن حجر مکی شافعی صوفی(متوفی 974ھ) کو کاظمی ضیائی کے بڑے مناظر 'مفتی' محمد حنیف قریشی صاحب اچھے اچھے بلند القاب سے ملقب کرتے ہوئے انھیں مشہور محدث ، علامہ ،نیز محدثِ کبیر، حضرت اور امام قرار دیتے ہوئے ساتھ ﷫ کی دعا بھی دے رہے ہیں۔
حالانکہ ابن حجر ﷫مکی صاحب نے قبوں کو منہدم کرنے کا فتویٰ اپنی مشہور کتاب 'الزواجر ' میں نقل کیا ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور وہ فتویٰ یہ ہے:
«وَ تَجِبُ الـمُبَادَرَةُ لِهَدمِهَا وَهَدمِ القِبَابِ الَّتِی عَلَى القُبُورِ اِذ هِيَ اَضَرُّ مِن مَسْجِدِ الضِّرَارِ لِأَنَّهَا أُسِّسَت عَلىٰ مَعصِیَةِ رَسُوْلِ الله ﷺ لِأنَّهُ نَهٰی عَن ذَلِكَ وَ أَمَرَ بِهَدمِ القُبُورِ الْـمُشرِفةِ وَ تَجِبُ ِإزَالَةُ کُلِّ قِندِیلٍ وَ سِرَاجٍ عَلى قَبرٍ وَلاَ یَصِحُّ وَقفُهُ وَنَذرُهُ»
''اونچی قبریں اور قبے گرانے کی طرف جلدی کرنا واجب ہے کیونکہ یہ چیزیں مسجدِ ضرار سے زیادہ نقصان دہ ہیں، کیونکہ ان اونچی قبروں اور قبوں کی بنیاد رسول اللہﷺ کی نافرمانی پر ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے اور اونچی قبروں کو گرانے کا حکم دیا ہے اور ہر قندیل اور چراغ جو قبروں پر جلایا جاتا ہے اس کو ختم کرنا واجب ہے اور یہ قبروں پر وقف کرنا یا اس کی نذر ماننا صحیح نہیں۔''
میں کہتا ہوں کہ ابن حجر ﷫مکی صوفی شافعی کا نقل کردہ مذکورہ بالا فتویٰ بعینہٖ صاحب تفسیر روح المعانی محمود احمد آلوسی حنفی﷫ نے بھی اپنی تفسیر روح المعانی میں نقل کیا ہے بلکہ اس کی تائید میں مزید بھی لکھا ہے حتیٰ کہ مصر میں امام شافعی ﷫وغیرہ کی قبروں پر جو قبے بنائے گئے ہیں، ان کے گرانے کے بارے میں بھی لکھا ہے جبکہ گرانے کی وجہ سے فتنہ کا ڈر نہ ہو۔ لیکن اس کے باوجود کاظمی ضیائی صاحب نے انہیں کسی بھی بُرے لقب سے ملقب نہیں کیا۔ نہ ظالم قرار دیا، نہ وہابی کہا، بلکہ ان کے بڑے مناظر محمد حنیف قریشی صاحب نے انہیں مشہور مفسر حضرت علامہ سید محمود احمد آلوسی ﷫ سے یاد کیاہے۔
لیکن صد افسوس کہ اسی فتوے کی بنا پر یہ لوگ کتاب وسنت کی طرف دعوت دینے والے پاک و ہند کے علمائے حدیث کو وہابی ، ظالم اور خبیث جیسے برے القابات سے ملقب کر رہے ہیں۔ ﴿تِلكَ إِذًا قِسمَةٌ ضيزىٰ ٢٢ ﴾-﴿وَسَيَعلَمُ الَّذينَ ظَلَموا أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبونَ ٢٢٧
مولانا محمد حنیف یزدانی﷫ فرماتے ہیں:
''جو لوگ قبروں کو پختہ بناتے ہیں اور ان پر عالی شان گنبد کھڑا کرتے ہیں وہ دراصل ایک دکان کی بنیاد رکھتے ہیں۔قبر کی تجارت کرتے ہیں، مقبور (میت) کو ساری عمر بیچ بیچ کر کھاتے ہیں، کچی قبر آمدنی کا ذریعہ نہیں بن سکتی، وہ عام قبروں میں مل جاتی ہے، جب مرید آئیں گے تو قبرستان کی تمام قبروں میں سے کس طرح پہچانیں گے کہ ان کا 'مشکل کشا' کہاں لیٹا ہوا ہے؟ مرادیں مانگنے والوں کو پیر کا روضہ دس پندرہ کوس دور سے ہی نظر آنا چاہئے۔ اسٹیشن پر اترتے ہی گنبد دکھائی دینا چاہئے، سورج کی شعاعیں رنگین کلس سے ٹکراکر زائرین کی آنکھوں میں اُتر آنی چاہئیں، ایسے مزار پر روز کے روز چڑھاوے چڑھیں گے ، جمعرات کی جمعرات نذروں کے انبار لگیں گے۔ سال میں بہت سے تہوار بھی نیازوں کا پیشِ خیمہ بنیں گے اور عرس کے موقعہ پر تو وہ ریل پیل ہو گی کہ مدتوں نسلیں عیش کریں گی۔ یہ فائدے گنبد، قبے والی پختہ قبر کے ہی ہو سکتے ہیں.... ''
علامہ اقبال فرماتے ہیں:
جن کو آتا نہیں کو ئی فن تم ہو  نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہو
بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہو   بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو
ہو نیکو نام جو قبروں کی تجارت کرکے   کیا نہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھرکے
شاہ ولی اللہ دہلوی﷫ فرماتے ہیں:
'' اگر آپ مشرکین کے حال ،عقائد اور اعمال کا نمونہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمارے زمانہ کے پیشہ ور لوگوں کے احوال دیکھ لو ،بالخصوص وہ جو ہندوستان کے اطراف وجوانب میں رہائش پذیر ہیں۔قبروں اور آستانوں کی طرف جاتے ہیں اور طرح طرح کے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ الخ ''
میں کہتا ہوں اگر کوئی ناصح انہیں قرآنی آیات اور احادیثِ نبویّہ کے ساتھ نصیحت کرنے لگے تووہ سخت ناراض ہو جاتے ہیں اور ناصح کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اسے بزرگو ں اور ولیوں کا گستاخ کہنے لگتے ہیں ، جیسا کہ صاحبِ روح المعانی مفسرِ قرآن علامہ سید محمود آلوسی بغدادی حنفی اللہ تعالیٰ کے فرمان :﴿وَإِذا ذُكِرَ‌ اللَّهُ وَحدَهُ اشمَأَزَّت قُلوبُ الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَ‌ةِ وَإِذا ذُكِرَ‌ الَّذينَ مِن دونِهِ إِذا هُم يَستَبشِر‌ونَ ٤٥ یعنی''جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑ جاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اورجب ان کا ذکر ہوتا ہے جو اس( اللہ) کے سوا ہیں تو اچانک وہ بہت خوش ہو جاتے ہیں''کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ
''ایک دن ایک شخص اپنی شدت و تکلیف کی حالت میں کسی فوت شدہ ( اپنے بزرگ) سے مدد مانگ رہا تھا اور نِدا کر رہا تھا کہ یَا فُلَانُ! أَغِثنِي ''اے فلاں بزرگ! میری فریاد رسی کر۔'' تو میں نے اسے کہا: تو یا اللہ مدد! کہہ ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :﴿وَإِذا سَأَلَكَ عِبادى عَنّى فَإِنّى قَر‌يبٌ أُجيبُ دَعوَةَ الدّاعِ إِذا دَعانِ--- ١٨٦ یعنی :جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں توبے شک میں قریب ہوں ، میں پکارنے والے کی پکار قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔فرماتے ہیں جب میں نے اسے یہ آیت سنائی تو وہ غضب ناک ہو گیا ،اور مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ اس نے میرے متعلق کہا ہے کہ یہ اولیا کا منکر ہے۔
﴿وَءاخِرُ‌ دَعوىٰهُم أَنِ الحَمدُ لِلَّهِ رَ‌بِّ العـٰلَمينَ ١٠
نوٹ :ہما رے اسی مضمون کو اصل سمجھا جائے اور جو اس سے قبل کہیں کسی رسالہ مثلاً : ہفت روزہ الاعتصام2012ءجلد ٦٤؍شمارہ نمبر ٥ ۔٦اور ہفت روزہ اہل حدیث ٢٠١٢ء میں چھپا ہے، اس میں دو تین معنوی غلطیاں واقع ہوئی ہیں۔ عفا الله تعالىٰ عنّا وعافانامن جمیع الآفات. اٰمین


حوالہ جات
شیخ الحدیث جامعہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫، لاہور

شرح عقیدہ طحاویہ از ابن ابی العز حنفی: 1؍229

شرح عقیدہ طحاویہ از علامہ ابن ابی العز حنفی ص502 بہ تحقیق و تعلیق ڈاکٹر عبد اللہ عبد المحسن ترکی

صحیح بخاری : 1229

'گستاخ کون ؟': ص159 (راولپنڈی میں ہونے والا تاریخی مناظرہ) از سید امتیاز حسین کاظمی ضیائی

مسلم،کتاب الایمان، باب بیان كون هذه الأمة نصف أهل الجنة:٥٣١، مترجم نسخہ:١؍٣٠٩

صحیح بخاری،کتاب الایمان والنذور، باب کیف کانت یمین النبي:٦٦٤٢

المعجم الوسیط : مادہ ق ب ب

صحیح بخاری، کتاب الإعتکاف، باب الإعتکاف في شوال:٢٠٤١

صحیح بخاری، کتاب الحج، باب طواف النساء مع الرجال: ١٦١٨

مسند احمد: ج٤؍ص ٣٠٨

سنن نسائی ، کتاب تحریم الدم ، باب نمبر ١ : ٣٩٨٠

دیکھئے شرح صحیح مسلم: ج١؍ص ٨٤٦، از علامہ غلام رسول سعیدی بریلوی

سورۃ السبا: 33

اس کی تفصیل شرح ابن عقیل علیٰ الفیہ ابن مالک مبحث 'الاضافۃ' :ج٣؍42،43 میں دیکھی جا سکتی ہے نیز معارف النحو، از عبد اللہ توحیدی میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ (ص 213)

سورۃ الدہر:21

صحیح بخاری: کتاب الصلوٰة ، باب الصلوٰة في الثوب الأحمر: 376

صحیح بخاری: کتاب الأیمان والنذور ، باب کیف کانت یمین النبي ﷺ : 6642

صحیح بخاری ، کتاب الأیمان والنذور ، باب کیف کانت یمین النبيﷺ: ٦٦٤٢

الفوزالکبیر: ص 30۔32

فتاویٰ شامی:1؍ 627، باب صلوٰة الجنائز، مطبوعہ مصر

جلد اوّل

شرح صحیح مسلم درسی عربی ، 1؍312 سطر:٦ من الأ سفل؛ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے : فتاویٰ علماے حدیث کتاب العلم :١٢؍١٧ تا ٢٧

ج١،ص ١٤١

حسن المحاضرة:1؍ 141

کتاب الجنائز، باب الجرید على القبر

عمدة القاری: 8؍ 183

حدیث نمبر : ٩٤٣٩

مصنف ابن ابی شیبہ: ج٣؍ص ٢١٦

طبقات ابن سعد: ج٥؍ص ١٤٢

مصنف ابن ابی شیبہ : 3؍ 216

دیکھئے :گستاخ کون؟ ص ٤٧٦

الزواجر عن اقتراف الکبائر، ج١ص ١٤٩، کبیرہ گناہ نمبر ٩٣تا ٩٨

جو منافقین نے اسلام کو نقصان پہنچانے کی خاطر بنائی تھی جس کا ذکر سورہ توبہ کی آیت107میں ہے۔

روح المعانی ، جزء :15 ، ص ٢٣٨۔ ٢٣٩، آیت: ٢١ ، من سورة الکہف

دیکھئے گستاخ کون؟ ص ٢٨٦

دیکھئے گستاخ کون ؟ص ١٥٨، ١٥٩

دیکھئے زیارتِ قبور کا شرعی طریقہ ،ص:23،24،از مولانا محمد حنیف

الفوز الکبیر ،ص:٢٣،٢٤

الزمر: ٤٥

البقرة: ١٨٦

تفسیر روح المعانی ،ض:٢٤،ص:١١