اک شجر سایہ دار تھا، نہ رہا !
(پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی )
پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی بھی اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات پراسلام اور پاکستان سے محبت رکھنے والوں کے دل غمگین اور آنکھیں اشکبار ہیں۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ دلوں پر اداسی کی ایک چادر سی تن گئی ہے۔بلاشبہ وہ ایسے خوش نصیب لوگوں میں سے تھے جو دنیا میں اس طریقے سے زندگی گزارتے ہیں کہ پیچھے رہ جانے والوں کے لیے ایک مثال بن جاتے ہیں۔ آج ہر کسی کی زبان پر ان کی دینی خدمات اور جرأت مندانہ کردار کے تذکرے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے موت ایسی قابل رشک دی کہ کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے اپنی جان جان آفریں ک مزید مطالعہ