مسئلہ تراویح اور سعودی علماء
مکہ مکرمہ کی مسجد ِ حرام میں 20 تراویح کے بارے میں اکثر وبیشتر سوال کیا جاتا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت آٹھ سے زیادہ تراویح نہیں ہیں ، تو پھر بیت اللہ میں اس پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا۔ ایک طرف سعودی عرب کی تمام مساجد میں جواکثر وبیشتر حکومت کے ہی زیر نگرانی ہیں ، آٹھ تراویح پڑھی جاتی ہیں ، پھر بیت اللہ میں کیوں 20 تراویح پڑھائی جاتی ہیں ؟ تراویح کے بارے میں سعودی عرب کے جید علما کا موقف کیا ہے؟زیر نظر مضمون میں اسی مسئلہ کو زیر بحث بنایا گیا ہے۔ ح مصحیح بخاری میں مروی ہے کہ اب مزید مطالعہ
مسئلہ:رمضان المبارک میں نمازِ تراویح کتنی رکعت سنت نبوی ہیں؟ اور بیس تراویح کی کیا حقیقت ہے؟ اور کیا حضرت عمرؓ بن خطاب یا کسی دیگر صحابی سے بیس رکعت کا ثبوت ملتا ہے؟ بعض لوگ حضرت عمرؓ کی طرف نسبت کہتے ہیں کہ انہوں نے بیس رکعت کا حکم دیا تھا یا ان کے زمانے میں پڑھی گئی ہیں۔ براہِ کرم وضاحت فرما کر مشکور فرمائیں۔ (محمد شعیب پاکپتن) الجواب بعون الملک العزیز الوہاب: نمازِ تراویح آٹھ رکعت سنت نبوی ہیں۔حدیث:(1) صحیحین میں حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے مروی ہے۔« إِنَّه سَاَلَ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہ مزید مطالعہ
ایک صاحب پوچھتے ہیں کہ:رمضان المبارک آرہا ہے: یہ عبادت کا مہینہ ہے مگر لوگ رکعتوں کاجھگڑا کرکے بدمزہ کردیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ:1۔ صحیح کتنی رکعتیں ہیں؟ کیا ان سے کم و بیش بھی پڑھی جاسکتی ہیں؟2۔ حضرت عمر ؓ نے اس نماز کوبدعت کیوں کہا ہے۔اچھی سہی، بہرحال حضورﷺ نے جب پڑھی ہیں تو پھر بدعت کیوں؟3۔ کیا صحابہ نے بیس پڑھی ہیں؟ کیا ان سے اختلاف کیا جاسکتا ہے؟الجواب:واقعی یہ ماہ، ماہ عبادت ہے لیکن لوگوں نے اسے اکھاڑہ بنا ڈالا ہے۔ ہم نے اس موضوع پر ان لوگوں کو بھی جھگڑتے دیکھا ہے جو تراویح تو کجا سرے سے نما مزید مطالعہ