محترم و مکرم مولانا عبدلرحمٰن مدنی صاحب ۔۔ زادکم اللہ عزا و شرفا
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ                     مزاجِ گرامی!
"محدث" الحمدللہ ہر ماہ باقاعدہ مل رہا ہے بلکہ اس کے وقیع مضامین کی بنا پر اس کے آنے کا انتظار رہتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ آپ کی خدمات کو قبول فرمائے اور اس ماہنامہ کے ذریعے جو علمی جہاد آپ کر رہے ہیں، اے شرفِ قبولیت سے نوازے ۔۔ آمین!
گذشتہ ماہ محرم الحرام 1419ھ کے شمارہ 5 میں ایک مضمون کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں جسے مولانا عبدالرحمٰن عزیز نے "سانحہ کربلا میں افراط و تفریط کا جائزہ" کے عنوان سے رقم فرمایا ہے۔ میرا خیال تھا کہ کوئی رجل رشید اس پر توجہ فرمائے گا مگر اس کے بعد شمارہ نمبر 6 موصول ہوا تو یہ خیال خواب ثابت ہوا یا کسی مہربان نے شائد اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ اس لئے مجبورا اپنے احساسات کا اظہار آپ کی خدمت میں ارسال کر رہا ہوں۔ اُمید ہے کہ آئندہ شمارہ میں اسے شائع کر دیں گے تاکہ اس موضوع سے متعلق ایک دوسرا پہلو بھی قارئین کرام معلوم کر سکیں۔ (اثری)
ارشاد الحق اثری
1999
  • اگست
سوال: اگر كوئى شخص صرف عاشورا كا روزہ ركهتا ہے اور ساتھ نويں محرم كا روزہ نہيں ملاتا تو اس كے بارے ميں شريعت مطہرہ كا كيا حكم ہے ؟جواب : شيخ الاسلام ابن تيميہ اس كے متعلق فرماتے ہيں :" عاشو را كا روزہ ايك سال كے گناہوں كا كفارہ ہے اور صرف عاشورا كا روزہ ركهنا مكروہ نہيں ہے-"
مختلف اہل علم
2007
  • فروری
محرم الحرام ہجری تقویم کا پہلا مہینہ ہے جس کی بنیاد نبی اکرمﷺکے واقعہ ہجرت پر ہے۔ گویا مسلمانوں کے نئے سال کی ابتدا محرم کے ساتھ ہوتی ہے۔ ماہِ محرم کے جو فضائل و مناقب صحیح احادیث سے ثابت ہیں، ان کی تفصیل آئندہ سطور میں رقم کی جائے گی اور اس کے ساتھ ان بدعات و خرافات سے بھی پردہ اُٹھایا جائے گا جنہیں اسلام کا لبادہ اوڑھا کر دین حق کا حصہ بنانے کی مذموم کوششیں کی گئی ہیں۔
مبشر حسین
2003
  • اپریل
تمہید: اللہ ربّ العزت نے جب سے زمین وآسمان پیدا فرمائے ہیں ، مہینوںکی تعدادبارہ مقرر کی ہے یعنی محرم،صفر ،ربیع الاول ، ربیع الثانی ، جمادیٰ الاولیٰ ، جمادیٰ الثانیہ ،رجب ، شعبان ، رمضان ، شوال ، ذوالقعدہ ، ذوالحجہ … ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں : محرم، رجب ،ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور ان میں سے محرم الحرام کی نسبت اپنی طرف کی ہے۔
امام ابن تیمیہ
2000
  • اپریل