موضوع زیر بحث کا سلسلہ کا دوسرا سوال یہ ہے  کہ کیا کسی غیر مسلم اور غیر اہل کتاب کا جھوٹا کھانا پینا کسی مسلم کے لئے جائز ہے یا نہیں؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ کسی غیر مسلم اور غیر اہل کتاب کا جھوٹا کھانے پینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے بشر ط یہ ہے کہ وہ کھانا یا اشیاء مشروب حلال اشیاء سے تیار کیاگیا ہو،جس برتن میں اسے پکایا اور رکھا گیا ہو وہ  دونوں پاک ہوں۔ یا کم از کم ان برتنوں کی نجاست کا علم نہ ہو۔جس غیر اہل کتاب شخص نے اسے کھایا پیا ہو وہ ظاہری وہ ظاہری نجاست حقیقی سے پا ک ہو۔ نیز بظاہر اس جھوٹے کھانے یا مشروب میں کوئی نجاست پڑی ہوئی نظر نہ آتی ہو۔اس حلت کی دلیل یہ ہے کہ ہرنبی آدم کا لعاب دہن بلا تفریق رنگ ونسل وبلا امتیاز دین ومذہب طاہر وپاک ہے
غازی عزیر
1989
  • دسمبر
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّ ٱلَّذِينَ تَوَفَّىٰهُمُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ ظَالِمِىٓ أَنفُسِهِمْ قَالُوا۟ فِيمَ كُنتُمْ ۖ قَالُوا۟ كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِى ٱلْأَرْ‌ضِ ۚ قَالُوٓا۟ أَلَمْ تَكُنْ أَرْ‌ضُ ٱللَّهِ وَ‌ٰسِعَةً فَتُهَاجِرُ‌وا۟ فِيهَا ۚ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَآءَتْ مَصِيرً‌ا ﴿٩٧﴾ إِلَّا ٱلْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ ٱلرِّ‌جَالِ وَٱلنِّسَآءِ وَٱلْوِلْدَ‌ٰنِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا ﴿٩٨﴾ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَعْفُوَ عَنْهُمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَفُوًّا غَفُورً‌ۭا ﴿٩٩...سورۃ النساء
محمد بن صالح العثیمین
2007
  • اپریل
سوال:ہمارے ساتھ بہت سے غیر مسلم کام کرتے ہیں کیا انہیں ان کے تہواروں پر مبارک دینا یعنی میری کرسمس (Merry Christmas) یا ہیپی نیو ایئر(Happy new year)کہنا جائز ہے ؟ علاوہ ازیں کیا ان کے تہواروں ، جشن منانے کے مقامات پر ان کی دعوت پر جانا جائز ہے ؟ جبکہ یہ کام کسی اعتقاد کی بنا پر نہیں بلکہ محض مروّت کے تقاضے وغیرہ کی بنا پر کئے گئے ہوں ؟
محمد بن صالح العثیمین
2004
  • جنوری