انسانی ذہن پر مادیت کے پردے جس قدر دبیز ہوتے جارہے ہیں ، مذہب کے حوالہ سے طرح طرح کے فتنے ظہور میں آرہے ہیں ۔ زیغ وضلال، زندقہ واِلحاد ،گمراہی اور بے دینی کے داعی جدیدسائنسی اُسلوب اور منطقیت کو بنیادبنا کرمذہبی روایات اور شرعی احکام پر تیشہ تنقید تیز کرتے اور نشرواشاعت کے جدید طرق سے اپنے مزعومہ ومذمومہ افکار کے زہریلے اثرات مسلم اُمہ میں پھیلا رہے ہیں ۔
سمیع اللہ فراز
2008
  • ستمبر
کسی ملک وملت کی ترقی میں تحقیق کا کردار بڑا اَہم ہے۔ ماضی میں یہ کام مسلم اہل علم ایک مقدس قومی ودینی فریضہ کی تکمیل کی خاطر انجام دیا کرتا تھے اور مسلمانوں میں درجنوں مجلدات پر مشتمل ضخیم کتب اسی ذوقِ علم کا نتیجہ ہیں، لیکن دورِ حاضر میں علم کی دریافت وتحقیق کو یونیورسٹیوں اور یہاں کے اَساتذہ وطلبہ کا فرضِ منصبی قرار دیا گیا ہے
سمیع الرحمن
2008
  • مارچ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک فرامین کی خدمت ایک عظیم المرتبت سعادت ہے۔ آپ کی 40؍ احادیث کو روایت کرنے والوں کے بارے میں زبانِ نبویؐ سے مختلف بشارتیں صادر ہوئی ہے مثلاً من حفظ علی أمتي أربعین من أمر دینہا بعثہ اﷲ یوم القیامۃ في زمرۃ الفقہائ یا ...بعثہ اﷲ فقیہًا وعالما یا ...وکنتُ لہ یوم القیمۃ شافعًا وشہیدًا وغیرہ وغیرہ ...
محمد شاہد حنیف
2008
  • فروری
”ہميں انتہا پسند مولويوں كے اسلام كى ضرورت نہيں ہے، اگر كسى كو برقعہ اور داڑهى پسند ہے تو اسے اپنے گهر تك محدود ركهے- ہم انہيں برقعہ /داڑهى ملك پر مسلط نہيں كرنے ديں گے-“    
”بعض شدت پسند مذہبى تنظيميں ہميں كئى صدياں پیچھے لے جانا چاہتى ہيں- ہميں زمانے كے ساتھ چلنا ہوگا-
عطاء اللہ صدیقی
2005
  • جنوری