(((سیکولرزم انسانی زندگی کو چھ حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔
1۔افکارونظریات۔2۔پوجا پاٹ۔3۔رسوم ورواج۔4۔معاشرت۔5۔معیشت۔6۔سیاست
پہلے تین حصوں میں وہ مذہبی آزادی کا قائل ہے۔جبکہ بقیہ تین حصوں:معاشرت ،معیشت،اور سیاست میں وہ انسانیت کے نام پر سختی سے الہامی ہدایات کو مسترد کرنے پر زور دیتا ہے۔اس وقت عالمی سطح پر اسلام اورسیکولر ازم کی فکری کشمکش چل رہی ہے،چونکہ زیادہ تر  رسوم ورواج کا  تعلق خاندان سے ہے۔ جو معاشرت کی بنیادہے۔ لہذا یہ مرحلہ سیکولرازم اور اسلام کے درمیان پل بن گیا ہے۔جس نے یہ پل پار کرلیا وہ جنگ جیت گیا۔خاندانی منصوبہ بندی کا مسئلہ درحقیقت زیادہ تر فقہی نہیں ہے بلکہ عائلی تصورات کے نام پر اسلامی عقائد پر حملہ ہے۔
محمود الرحمن فیصل
1994
  • اکتوبر
خطبہ مسنونہ:
اما بعد فاعوذ بالله من الشيطن الرجيم﴿ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّـهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّـهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿٢٧٥﴾...البقرة
"یعنی سود خور شیطانی جنون سے خبطی بن جا تے ہیں کیونکہ وہ بیع اور سود کو یکساں بتاتے ہیں ۔حالانکہ خریدو فروخت اللہ نے حلال کی ہے جبکہ سود کو حرام قرار دیا ہے پس جو شخص رب تعا لیٰ سے نصیحت ملنے پر باز آجا ئے تو اس کا سابقہ کیا کرایا معاف ہو کر معاملہ اللہ کے سپرد ہو گیا لیکن جو لوگ پھر بھی باز نہ آئیں تو وہ دائمی جہنمی ہیں ۔"
عبدالرحمن مدنی
1990
  • جولائی
آئین میں پندرھویں ترمیم کابل بعض ضروری رد وبدل کےساتھ قومی اسمبلی کےارکان کی دو تہائی اکثریت کی منظوری کےبعد سینٹ میں حتمی منظوری کےلیے پیش کردیا کیا ہے۔ پندرھویں ترمیم کےابتدائی مسودہ اورمنظور شدہ بل میں نمایاں ترین فرق، دستور کےآرٹیکل 239 میں ترمیم کی تجویز کا واپس لیا جانا ہے۔ اس کےعلاوہ مجوزہ آرٹیکل ’ 2 ب ، کی ذیلی شق ’ 3 ، کو بھی حذف کردیا گیا ہے۔ 

ابتدائی مسودہ میں آئین کےآرٹیکل 2 میں ’’2ب ،، کا اضافہ تجویز کیاگیا تھا جومزید 5ذیلی  شقات پرمبنی تھا، اب قومی اسمبلی سےمنظور شدہ بل میں چونکہ 2( ب) کی شق 3 کوحذف کردیا گیا ہے، اسی لیے اب تازہ ترین بل میں 2 ( ب) کی 4 ذیلی دفعات موجودہیں ۔ ان کی زبان ، اسلوب یاالفاظ میں ذرا برابر تبدیلی نہیں کی گئی اوریہ ابتدائی مسودہ کےسوفیصد عین مطابق ہیں ۔ قومی اسمبلی کےمنظور کردہ آرٹیکل 2۔ب کاتازہ ترین متن حسب ذیل ہے
عطاء اللہ صدیقی
1998
  • دسمبر
(گزشتہ سال جامعہ لاہورالاسلامیہ کے استاذقاری محمد فیاض صاحب کو تبلیغی مقاصد کے تحت لاؤس میں کام کرنے والے اسلامی مشن کی معاونت کے لیے بھیجا گیا تھا موصوف وہاں دوسال سے مسلم اقلیت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں امسال موسم گرم میں جب وہ وطن عزیز میں چھٹیاں گزارنے کے لیے آئے تو انھوں نے اپنے مختصر تاثرات میں انداز ہو تا ہے کہ انفارمیشن کے اس دور میں بھی زمین کے ایسے حصے موجود ہیں جن تک اسلام کا مبارک پیغام پہنچانے کی شدید ضرورت ہے ۔)
چند دن قبل لاؤس سے میری واپسی ہوئی ۔مجھے وہاں ایک سال گزارنے کا موقعہ ملا۔ اس ایک سال کے دوران بے شمار چیزیں ان کے کلچر اور ان کی تہذیب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ میری زندگی کا پہلا تجربہ ہے کہ غیر مسلموں کو اتنی قریب سے دیکھا۔اس طرح مسلمانوں کی بے کسی اور بےبسی کا بھی مشاہدہ کیا اور اسلام کو انتہائی مشکل صورت میں پایا۔یہاں اسی سفر کے حوالہ سے چند مشاہدات کا تذکرہ کروں گا۔ تاکہ وہاں کے حالات سے باقی دنیا بھی باخبر ہو جا ئے۔
لاؤس کے حدودواربعہ اور بنیادی معلومات وغیرہ کا تذکرہ کیے بغیر قارئین صحیح سمجھ نہیں پا ئیں  گے۔
حافظ محمد فیاض
0
ہمارے معاشرے میں شراب نوشی اور اس کی شرعی سزا کے حوالے سے نت نئے شبہات پیدا کئے جاتے رہتے ہیں کہ یہ سزاقرآنِ کریم میں موجودنہیں، کبھی اس سزا کی شرعی حد ہونے اور اس میں کوڑوں کی تعداد پر اعتراض عائد کردیا جاتا ہے۔ ذیل میں اس حوالے سے ایک انتہائی مفید بحث ، جس کو جامعہ لاہور الاسلامیہ میں مجھے سبقاً سبقاً پڑھانے کا موقع ملا، کا اُردو ترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔
ابو مالک کمال بن سید سالم
2014
  • اپریل