جو شخص یہ کہتا ہے کہ ایک باحجاب اور ایک نیم عریاں عورت کو دیکھ کر مردوں کا ردّ ِ عمل ایک جیسا ہوتا ہے یا یہ کہ عورت کے بدن پر کَسے ہوئے یا اس کے اعضاء کو نمایاں کرنے والے لباس سے مردوں کے جنسی جذبات پر کوئی اثر نہیں پڑتااور اس کا جنسی جرائم سے کوئی تعلق نہیں ہے ، وہ صریحاً جھوٹ بولتا ہے، کسی خاص ایجنڈے کے تحت حقائق چھپانے کی کوشش کرتا ہے، یا بدترین احساسِ کمتری اور مغربی کلچر کی غلامی کا شکار ہے۔چند روز قبل ایک نجی چینل پر ایک اینکر کی کیفیت حیرانی کا باعث بنی۔ ویسے تو وہ پی ٹی آئی کا جیالا بنا ہوتا ہے لیکن عورتوں کے مختصر لباس کے بارے میں وزیرِاعظم کے بیان پر وہ برافروختہ تھا ۔ کسی نے لباس کے معاملے میں قرآنی حکم کا حوالہ دیا تو اس نے دو تین سوال جڑدیے کہ:پاکستان کوئی اسلامی ملک نہیں ہے، لہٰذایہاں مذہبی حوالے کیوں دیے جارہے ہیں؟ وزیرِاعظم کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ لباس پر بات کریں؟ وزیرِاعظم کوئی ریفارمر نہیں ہوتا کہ ایسی باتیں کرے۔
ایک دو اور چینلز پر بھی ایسا ہی دیکھا گیا۔ اگر کسی خاتون نے اﷲ کے حکم کا ذکر کیا تو اسے یہ کہہ کر مدافعت پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی کہ ’’مذہب کارڈ مت استعمال کریں‘‘۔ میں وزیرِاعظم کے بیان کی بات نہیں کروں   گا، اس لیے کہ میں نہیں جانتا کہ انھوں نے کس سوچ کے تحت یہ بات کی ہے ۔ دوسرا یہ کہ انھوں نے تنقید کے جواب میں چُپ سادھ لی ہے اور تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اب بھی کسی اپوزیشن لیڈر کی طرح باتیں کرتے ہیں، عمل نہیں کرتے۔ نام و ہ (غالباً عوام کی اکثریت کو خوش کرنے کے لیے) ریاستِ مدینہ کا لیتے ہیں مگر وزراء (ایک آدھ کے سوا) کچھ اور باتیں کرتے ہیں۔خواتین کے ڈیسنٹ اور با حیا لباس کی ترویج کے لیے انہوں نے عملاً کچھ بھی نہیں کیا۔
اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک میں ہماری بہنوں اور بیٹیوں کے حیاء کے قلعے کو مسمار کیا جارہا ہے، ان کے سر سے دوپٹّہ چھین لیا گیا ہے۔ مگر وہ تین سال سے حکمران ہوتے ہوئے صرف تماشا دیکھ رہے ہیں۔ مگرمیں اس موضوع پر اس لیے بات کرنے کا حق رکھتا ہوں کہ تین دھائیوں سے زیادہ Law Enforcement میں گزارنے اور جنسی تشدّد کے مرتکب سیکڑوں مجرموں کو انٹیروگیٹ کرنے کی وجہ سے ان کی سوچ سے واقف ہوں، اس لیے میں اینکرز اور دوسرے ماہرین وغیرہ (جن کے پاس صرف کتابی علم ہے) سے زیادہ باخبر ہوں۔
پہلے اینکر کے سوالوں کی جانب آتے ہیں۔ اُس کے سوال ہی اس کی ذہنی سطح کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک عام پڑھا لکھا شخص بھی جانتا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے کیونکہ اس کے آئین میں درج ہے کہ یہاں قرآن اور سنّت یعنی اﷲ اور رسول اﷲﷺ کے احکامات کے منافی نہ کوئی قانون بنایا جاسکتا ہے اور نہ اسے نافذ کیا جاسکتا ہے۔ جہاں تک دوسرے سوال کا تعلّق ہے تو معاشرے کی اصلاح قوم کے لیڈر نہیں کریں گے تو کیا فلمی ایکٹرز اور ڈانسرز کریں گے؟ ۔ معاشرے کی اصلاح حکمرانوں کے فرائض میں شامل ہے۔ اسلام کے اوّلین دور میں حکمران زبانی اور ذاتی طرزِ عمل سے قوم کی اصلاح کرتے رہے ہیں ۔قیامِ پاکستان کے فوراً بعد بیشمار لوگوں نے قائداعظم کی دیانتداری، اصول پسندی، ڈسپلن اور کفایت شعاری دیکھ کر اسے اپنایا۔ کئی باعمل علماء نے ہزاروں لوگوں کی زندگیاں تبدیل کردیں۔ معاشرے کی اصلاح میں اینکرز سمیت ہر شخص اپنا کردار ادا کرسکتا ہے اور اسے یہ فرض ادا کرنا چاہیے۔ ایک پروگرام میں مسلم لیگ ن کے محمد زبیر فرمارہے تھے کہ اب تو سعودی ولی عہد پرنس محمد نے بھی وہاں سے Moral Police ختم کردی ہے تو یہاں لباس کوmoralityیا مذہبی اقدار کی کسوٹی پر کیوں پرکھا جارہا ہے۔ارے بھائی پاکستان کے مسلمانوں کے لیے نہ سعودی عرب رول ماڈل ہے اور نہ ولی عہد کا فرمان سرچشمۂ ہدایت۔ ہمارے لیے ذریعہ ہدایت خالقِ کائنات کا فرمان اور سرچشمۂ ہدایت صرف نبی کریمﷺ کی سُنّت ہے۔ مسلم لیگ ن کو چاہیے کہ محمد زبیر کو صرف اقتصادی امور پر بات کرنے کے لیے بھیجا جائے۔پاکستان کے تمام باشعور خواتین و حضرات جانتے ہیں کہ عورت کے ستر اور اعضاء کو نمایاں کرنے والا لباس ہماری سوسائیٹی میں نامناسب اور قابلِ اعتراض سمجھا جاتا ہے۔ یورپ کے معزز گھرانوں کی خواتین بھی ایسے لباس کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتی ہیں، یورپ ہی کے کئی ممتاز اور معتبر اداروں کے سروے اور رپورٹیں چھپ چکی ہیں جن میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ عورتوں کاRevealing Dress (اعضاء کی نمائش کرنے والا لباس) مردوں کے جنسی جذبات اُبھارنے کا سبب بنتا ہے۔جب یہ جذبات بے قابو ہوجاتے ہیں تو ریپ جیسے جرائم پر منتج ہوسکتے ہیں۔ کیا اینکرز نہیں جانتا کہ فلموں اور ڈراموں میں ’’سیکسی ڈریس‘‘ کی اصطلاح عام ہے جس کا مطلب ہی ایکٹرسوں کا وہ لباس ہے جس سے فلم بینوں کے جنسی جذبات ابھارے جاسکیں۔ لاہور میں ایس پی سٹی کے طور پر مجھے چند کیسوں میں فلمی ایکٹرسوں سے بھی پوچھ گچھ کی ذمّہ داری سونپی گئی۔
اُن کا کہنا تھا کہ وہ خود تو بے حیائی والا لباس پسند نہیں کرتیں مگر کچھ ڈائریکٹر وں کی ہدایت ہوتی ہے کہ ’’ایسا سیکسی لباس پہنو جس سے دیکھنے والوں کے جذبات کو آگ لگ جائے۔‘‘ ایسی فلمیں دیکھ کر نکلنے والے تماش بین جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ نامناسب اور Vulgarلباس کے حامی میڈیا پر انتہائی بودے دلائل دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ چارسالہ بچّی نے کونسا نامناسب لباس پہنا ہوتا ہے اور وہ درندگی کا نشانہ کیوں بنتی ہے؟ ایسے واقعات میں ملوّث سیکڑوں مجرموں سے پوچھ گچھ کی گئی،ان میں سے نوّے فیصد سے زیادہ مجرم جنسی ناآسودگی کا شکار ہوتے ہیں، بعض اوقات جنسی بھوک اُن پر اس طرح سوار ہوتی ہے کہ اسے مٹانے کے لیے وہ عقل و شعور کھو بیٹھتے ہیں اور کچھ بھی کرنے پر تیار ہوجاتے ہیں۔اَسّی فیصد نے پوچھ گچھ کے دوران بتایا کہ وہ دوستوں کے ساتھ بلیو فلمیں دیکھتے رہے جس سے ان کے جنسی جذبات اس قدر برانگیختہ ہوئے کہ اُن پر شیطان سوار ہوگیا اور وہ کسی آسان ٹارگٹ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ ان حالات میں وہ اپنے کسی جاننے والے کے بچّے یا بچّی کو ورغلاتے ہیں، کیونکہ وہ بیچارے مزاحمت نہیں کر پاتے۔ جب وہ کسی معصوم بچّے یا بچّی کے ساتھ ایسی درندگی کا مظاہرہ کرچکتے ہیں تو پھر انھیں خوف لاحق ہوتا ہے کہ یہ بچی تو مجھے جانتی ہے یا یہ بچہ اب اپنے والدین کو بتادے گا اور وہ مجھے ماردیں گے، لہٰذا وہ اپنے جرم کے واحد عینی گواہ ( Victim) کو ہی قتل کردیتے ہیں تاکہ ان کے جرم کے بارے میں کوئی کچھ نہ بتاسکے۔
سوال یہ ہے کہ مجرم اس حالت تک کب پہنچتا ہے کہ جب اس کے جذبات بالکل بے قابو ہوجا ئیں۔ اَسّی فیصد کیسوں میں یہ تب ہوتا ہے جب مجرم بلیوفلمیں دیکھتا ہے۔جنسی فلموں کی اداکارائیں تو سامنے موجود نہیں ہوتیں مگر وہ تماش بینوں کے جذبات میں ایسی آگ لگا جاتی ہیں کہ اس آگ میں معاشرے کا امن اور سکون بَھسم ہوجاتا ہے۔ نامناسب لباس کے حامیوں نے نہ جانے یہ کہاں سے سن رکھا ہے کہ ریپ صرف اس لیے ہوتا ہے کہ مرد عورت کو اپنی بڑائی یا طاقت دکھانا چاہتا ہے اور یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ عورت کمزور مخلوق ہے اور مرد جس طرح چاہے اس کے ساتھ سلوک کرے۔یہ بھی ایک نہایت کمزور دلیل ہے جس کا نوّے فیصد کیسوں سے کوئی تعلّق نہیں ہوتا۔
ایک معصوم بچی کو شیطانیت کا نشانہ بناکر مجرم چار سالہ بچی کے سامنے اپنی کونسی بڑائی اور بالادستی ثابت کرنا چاہتا ہے؟ ایسا صرف چند کیسوں میں ہوتا ہے جہاں کوئی امیر یا مقتدر شخص کسی لڑکی سے شادی کرنا چاہے مگر لڑکی انکار کردے تو وہ شیطان صفت مرد اپنی ناکامی کو اپنی توہین سمجھتے ہیں اوربدلہ لینے کے لیے لڑکی کو اغوا کرکے درندگی کا نشانہ بنادیتے ہیں یا اس کے منہ پر تیزاب پھینک کر اس کا چہرہ مسخ کردیتے ہیں۔ ایسے شیطانوں کو یقیناً سرِعام سزائے موت ملنی چاہیے، راقم خود ہر فورم پر ایسے مجرموں کے لیے سزائے موت کی بات کرتا رہا ہے۔ مگر عورتوں کے نامناسب لباس کی حامی خواتین مجرموں کی حمایت میں نکل کھڑی ہوتی ہیں اور ان درندوں کو سزائے موت دینے کی مخالفت کرتی ہیں ۔یہ بھی کہاجاتا ہے کہ یورپ میں تو عورتوں نے بڑا مختصر لباس پہنا ہوتا ہے وہاں تو مردوں کے جذبات برانگیختہ نہیں ہوتے۔ ارے بھائی حقائق معلوم کریں تو آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی ۔ ایک تو یہ کہ وہاں جذبات دل میں رکھنے یا چھپانے کے بجائے لڑکیوں کے بوائے فرینڈزانھیں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔
وہاں شور اس لیے نہیں ہوتا کہ والدین اس تلخ حقیقت سے سمجھوتہ کرچکے ہیں۔ ویسے یورپ، سکینڈے نیویا اور امریکا میں ریپ اور Sexual Assaultکے واقعات پاکستانی اور اسلامی ملکوں سے کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ مختصر اور قابلِ اعتراض لباس کے حامی اچھی طرح جانتے ہیں کہ عورتوں کے Vulgar لباس پر اعتراض کرنا مجرموں کی حمایت ہرگز نہیں ہے ۔وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ بدکاری کی دعوت دینے والا لباس بھی جنسی تشدد کے واقعات کا سبب بنتا ہے۔ توپھر سوال یہ ہے کہ وہ کس کے کہنے پر اس قدر تلملا رہے ہیں ؟
عورتوں کے نامناسب لباس کا دفاع کرنے والوں کی تلملاہٹ کے پیچھے ایک تو فیشن انڈسٹری کی کھربوں روپوں کی سرمایہ کاری ہے جس کی وجہ سے انڈسٹری کے کارپردازوں نے اپنے کارندوں کو یہ ٹاسک سونپ رکھا ہے کہ جونہی کوئی عورتوں کے مختصر یا بیہودہ لباس پر تنقید کرے، فوراً تابڑ توڑ حملے کرکے اُسے خاموش کردو یا مدافعانہ رویّہ اختیار کرنے پر مجبور کردو، کہیں کوئی مذہبی یا مشرقی اقدار کے حوالے دے کر عورتوں کے لیے ڈیسینٹ یا باحیا لباس کی بات کرے تو اس پر  Victim Blamingکا الزام لگا کر ایسا دھاوا بولو کہ آیندہ کوئی لباس کو زیرِ بحث لانے کی جرأت ہی نہ کرے۔
اس جارحانہ پالیسی سے وہ ایسا ’’سازگار ماحول‘‘ پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ جس میں فیشن انڈسٹری کا کاروبار بھی پھلتا پھولتا رہے اور اُن عالمی قوّتوں کے ایجنڈے کی تکمیل بھی ہوتی رہے جو ہمارے حیا کے قلعے کو تباہ و برباد کردینا چاہتی ہیں اور اُس پر پوری قوّت سے حملہ آور ہوچکی ہیں۔
خواتین کے لباس پر مردوں کے ردِّعمل کے بارے میں ہمارے اپنے ملک کے کئی قابلِ اعتماد اداروں کی سروے رپورٹس آچکی ہیں جن کے مطابق نوّے فیصد مردوں کا کہنا ہے کہ نامناسب لباس میں عورتوں کو دیکھ کر ہمارے جنسی جذبات مشتعل ہوجاتے ہیں۔
ستّر فیصد مردوں نے اقرار کیا کہ ’’تعلیمی اداروں اور دفتروں میں دوپٹّوں سے بے نیاز لڑکیوں، عورتوں  کو دیکھ کر ہمارے جنسی جذبات بے قابو ہونے لگتے ہیں اور پھر اُن پر ہم آوازے بھی کستے ہیں اور سیٹیاں بھی بجاتے ہیں۔ باحجاب خواتین کو دیکھ کر کبھی جذبات نہیں مچلتے بلکہ دل پر ان کا رعب طاری ہوجاتا ہے۔ گھریلو ملازموں کے ہاتھوں قتل ہونے والی خواتین کے بارے میں تفتیشی رپورٹس بتاتی ہیں کہ اسّی فیصد کیسوں میں نوجوان ملازم گھر کی خواتین کو نیم عریاں دیکھ کر درندے بن جاتے ہیں اور زیادتی کرکے انھیں قتل بھی کردیتے ہیں‘‘۔
یہاں سِینہ ڈھانپنے والی قرآنی احکامات کی حکمت واضح ہوجاتی ہے، انسانوں کے خالق سے زیادہ انسانی جذبوں اور جبلّتوں سے کون باخبر ہوسکتا ہے، ربِّ ذوالجلال حکم دیتے ہیں:
﴿وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَلَا يُبْدِيْنَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ...﴾ (سورہ نور :31)
’’ اے نبی! مومن عورتوں سے کہو کہ اپنی نظریں جھکا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے جو خود ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں‘‘
خالق نے عورت کو جسمانی حسن اور کشش عطا کی ہے مگر اس کی عزّت اور عصمت کے تحفّظ کا مؤثّر انتظام بھی کیا ہے۔ سب سے پہلے مردوں کی آنکھوں پر پہرہ لگا دیا ہے کہ وہ عورت کے جسم کو نگاہ بھر کرنہیں دیکھیں گے۔
پھر عورت پر بھی لازم ہے کہ وہ نگاہیں جھکا کر رکھے اور ایسا لباس پہنے جس سے اس کا جسم نمایاں نہ ہو، اسے ایسا لباس پہننے سے منع کردیا گیا ہے جو دیکھنے والے مردوں کے جنسی جذبات میں ہیجان اور طوفان برپا کر دے۔ ہمارے لبرل دوستوں نے صرف Victim Blaming کی اصطلاح سن رکھی ہے، انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں نئی تھیوری آچکی ہے کہ “Victim is not always innocent”
Victimہمیشہ بے قصور نہیں ہوتا ۔
جاپان اور کئی دیگرترقّی یافتہ ملکوں میں جس طرح پراپرٹی کے تحفّظ کے لیے حفاظتی تدابیر بتائی جاتی ہیں، اسی طرح اب خواتین کوrapists سے بچاؤ کے لیے جو گائیڈ لائینز دی جاتی ہیں ان میںProvocative dress سے گریز بھی شامل ہے۔ چین میں نوجوان لڑکیوں کو یہ کہاوت سنائی جاتی ہے کہ ’’ گوشت ڈھانپ کر رکھیں ورنہ اس پر منہ مارنے کے لیے کُتّے اور بلّے پہنچ جائیں گے ‘‘۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جنسی زیادتی کی بہت سی وجوہات ہیں، کئی Psyco pathsبھی اس جرم میں ملوّث ہوتے ہیں۔ ایسے نفسیاتی مریضوں میں مدرسے کا مولوی بھی ہوسکتا ہے اور ہالی وڈ کا معروف فلم ڈائریکٹر بھی، جس نے Entertainmentکے تماتر اسباب میسّرہونے کے باوجود سو سے زیادہ عورتوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنادیا تھا۔
مگرعورتوں کے بیہودہ  لباس کو بالکل بری الذمّہ قرار دینا ذہنی بددیانتی ہے۔ نامناسب لباس جنسی زیادتی کی واحد وجہ نہیں مگر یہ ایک بڑا Contributory factorضرور ہے، جس طرح کسی ایسے بینک میں جس کا الارم سسٹم خراب ہو اور گارڈ بھی سو رہا ہو، ڈکیتی کی واردات ہونے کے بعد اس کے مینیجر کو مؤثر حفاظتی انتظامات نہ کرنے پر سخت سرزنش کی جاتی ہے، اسی طرح نامناسب لباس والی عورت اگر جنسی حملے کا نشانہ بنتی ہے تو مقدّمے اور سزا کا حقدار تو مرد ہی ہوگا مگر عورت کو بھی تنبیہ ضرور کی جائے گی۔ بے حیا لباس کے علاوہ فحش فلمیں اور نیٹ پردستیابPorn matarialبھی جنسی تشدّد کا ایک بڑا سبب ہے۔
دو سال قبل میں لاہور میں ایک ایسے دوست کے بیٹے کی شادی میں شریک ہوا، جس کی والدہ1947 میں آگ اور خون کے کئی دریا عبور کرکے اور اپنے خاوند، تین بیٹوں، دو بیٹیوں ، تین بھائیوں اور دو بہنوں کو قربان کر کے اپنے خوابوں کی جنّت پاکستان میں داخل ہوئی تھیں۔ شادی میں خواتین اور نوجوان لڑکیوں کے نامناسب ، revealing اور نیم عریاں لباس دیکھ کر میرے دوست کی والدہ زاروقطار رونے لگیں، کچھ عورتوں نے آگے بڑھ کر کہا، ’’خالہ جان !آپ اس خوشی کے موقع پر کیوں رورہی ہیں‘‘؟ تو معمّر اور مُدبّر خاتون (جو اس خاندان کی سربراہ بھی ہیں ) بولیں،’’ہم نے اپنے جگر کے ٹکڑے ایسے پاکستان کے لیے نہیں کٹوائے تھے جہاں لڑکیاں ایسے بیہودہ اور فحش لباس پہنیں گی اور بے حیائی میں غیر مسلموں سے بھی آگے نکل جائیں گی‘‘۔
دوسری خواتین کے ساتھ میرا دوست بھی والدہ صاحبہ کو چپ کرانے کی کوشش کرتا رہامگر نہ اُن کے آنسو  تھمتے تھے نہ ان کے دل کی پکار مدہم ہوتی تھی ، وہ مسلسل یہی کہتی رہیں،’’اگر نئے ملک میں یہی خرافات ہونی تھیں تو ہم نے اپنا خاندان کیوں برباد کرایا، ہم تو ہندوستان میں بڑے آسودہ حال تھے، ہم شہر کی سب سے بڑی حویلی میں رہتے تھے، ہمارے بزنس اور زمینیں تھیں ، ہندو اور سکھ ہمارے ملازم اور مزارعے تھے، ہم وہیں رہ جاتے، ہم تو سمجھتے تھے کہ ہم نیا ملک اس لیے بنارہے ہیں کہ وہاں اللہ اور رسولﷺ کا نظام چلے گا، وہاں عورتوں کا رہن سہن اسلام کے مطابق ہوگا، مگر یہاں تو رحمان کے بجائے شیطان کا نظام چلایا جارہا ہے۔ پھر میں نے سہاگ کیوں لٹوایا، اپنے جگر کے ٹکڑے کیوں کٹوائے، اپنی جان سے پیاری بیٹیاں اور بہنیں کیوں مروادیں‘‘؟ مجمع پر سکتہ طاری ہوگیا۔ ان کے سوالوں کا کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔
بانیانِ پاکستان علّامہ اقبالؒ،قائدِاعظم ؒ اور لیاقت علی خان اعلیٰ تعلیم یافتہ اور روشن خیال لوگ تھے مگر وہ بھی مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک، مسلم تہذیب و تمدّن کی بقاء اور حفاظت کے لیے حاصل کرنا چاہتے تھے،اگر وہ آکرآج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ جس پاکستان کا وہ خواب دیکھ رہے تھے اور جس پاکستان کے لیے لاکھوں بہنوں اور بیٹیوں کی عزّتیں قربان ہوئیں اُس پاکستان سے ہم جیسے ذہنی غلاموں نے مسلم تہذیب کا جنازہ نکال دیا ہے، وہاں احساسِ کمتری کا شکار مسلمان بیٹیاں وہی لباس پہنتی ہیں جو یورپ میں غیر مسلم عورتیں پہنتی ہیں اور اُن کے پاکستان کے ٹی وی چینلوں پر وہی بیہودہ پروگرام چلتے ہیں جو دہلی اور بمبئی میں چلتے ہیں تو وہ یہ صدمہ کبھی برداشت نہ کرسکیں گے۔
ہماری بیٹیوں اور بہنوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ عریانی ماڈرن ازم نہیں ہے۔ کم لباسی اور بے حیائی جدید دور کی ایجادات نہیں ہیں،یہ تو صدیوں پرانے دورِ جاہلیّت کا کلچر ہے، حضرت محمّدﷺ کے عظیم انقلاب سے پہلے عورتیں ، میلوں ٹھیلوں اورPublic Gatherings میں عریاں پھرتی تھیں حتّیٰ کہ خانہ کعبہ کا طواف بے لباس ہوکر کرتی تھیں۔ رسولِ خدا ﷺ نے انسانوں کو جب ایک نئی اور بہترین تہذیب کا تحفہ دیا توعورتوں کو حیاء کے جوہر سے آشنا کیا۔ خالقِ کائنات نے انسانوں کے حقوق، رہن سہن، شادی، طلاق، وراثت، خوراک اور لباس کے بارے میں واضح احکامات دیے ہیں۔ اگر ہم مسلمان کہلاتے ہیں اور اسی حیثیّت سے اپنی شناخت کرانا چاہتے ہیں تو ہمیں اللہ اور رسولﷺ کے احکامات میں سےPick and Choose  کا اختیار نہیں ہے۔
اگر ہم کسی ادارے کے ملازم ہیں تو کیا مالک یا ایم ڈی سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں آپ کے 40%احکام مانوں گا/گی مگر باقی میں میری مرضی ہوگی، ایسا کہیں گے تو فوراً نوکری سے نکال دیے جائیں گے، دنیاوی سیٹھ یا ایم ڈی کے تو ہم صرف employee ہوتے ہیں، ربّ ِ ذوالجلال کے ہم ملازم یا ورکر نہیں بلکہ غلام ہیں۔ وہاں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں حج کرلوں گا مگر سود نہیں چھوڑوں گا، یا میں زکوٰۃ دے دوں گی اور میلاد کروا لوں گی مگر لباس اپنی مرضی کا پہنوں گی اور اس معاملے میں اللہ اور رسولﷺ کی ہدایات نہیں  مانوں گی ۔
کسی پرائیویٹ کالج کی لیکچرر یہ جرأت نہیں کر سکتی کہ ادارے کے سربراہ کے احکامات کی معمولی سی بھی خلاف ورزی کرے،کوئی ٹی وی اینکر چینل منیجمنٹ کی ہدایات سے روگردانی نہیں کرتا، چاہے اُسے جانبداری کے طعنے ہی کیوں نہ سننا پڑیں۔ مگر کائناتوں کے مالک کے احکامات کی ہم کتنی آسانی اور دیدہ دلیری کے ساتھ خلاف ورزی کرتے رہتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے ہمیں کوئی guilt محسوس ہوتا ہے اور نہ خوف۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے ذہنوں میں خالقِ کائنات کے عجیب قسم کے تصورات پال رکھے ہیں۔ بہت سوں نے خالق و مالک کے غیر واضح تصور کے لیے ’اوپر والا ‘ جیسے الفاظ تراش لیے ہیں۔ ہم مسلمان کہلانے والوں کی اچھی خاصی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ’بڑے پیر صاحب‘ قسم کی کوئی شخصیت ہیں جو ہماری عید کی نماز، حج اور خیرات وغیرہ سے خوش ہوجاتے ہیں ورنہ انہیں ہمارے معاشرتی، تمدنی، سیاسی اور معاشی معاملات سے کوئی غرض نہیں،اس لیے ہمیں دنیاوی معاملات میں آسمانی ہدایت کی کوئی ضرورت نہیں۔ اﷲ کا تصور اور انسان کا اپنے خالق و مالک سے رشتہ، یہی وہ بنیادی نظریہ ہے جو ہماری سوچ اور طرز ِ عمل کی تشکیل کرتا ہے، اسی سے پوری تہذیب وجود میں آتی ہے اور اسی سے لبا س سمیت پورے کلچر کا تعین ہوتا ہے۔
ہم جیسے غلام ابنِ غلام، اور احساسِ کمتری کے مارے ہوئے کمزور ایمان والے پیدائشی مسلمان توبدیسی اقوام سے مرعوب رہتے ہیں اور ان کی نقّالی کرتے رہتے ہیں، لیکن وہ لوگ جو حق کی تلاش میں جدّو جہد کرتے ہیں اور جنہیں بڑی محنت اور ریاضت کے بعد سچّائی کی روشنی حاصل ہوتی ہے، وہ دل کی گہرائیوں سے مانتے ہیں کہ تمام کائناتوں کا مالک اور مختار اﷲ تعالیٰ ہے، اُس نے انسانوں کو ایک خاص مقصد (امتحان)کے  لیے پیدا کیا ہے، ہماری موت کے بعد وہ ہمیں دوبارہ  زندہ کرے گا اور دنیا میں کیے گئے اعمال کے مطابق ہمیں جزا یا سزا دے گا۔ وہ جانتے ہیں کہ مسلمان ہونے کا مطلب complete submissionیعنی اپنے آپ کو اﷲ کے حوالے کرنا یا اس کی غلامی میں دے دینا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اﷲ کی خوشنودی ان کی ترجیحِ اوّل بن جاتی ہے۔ پھر ایسے مرد مالِ حرام اس لیے نہیں کماتے کہ وہ اﷲ سے ڈرتے ہیں۔ ایسی خواتین لباس کا انتخاب کرتے وقت یہ نہیں دیکھتیں کہ فیشن کا کیا تقاضا ہے یا ٹرینڈ کیا ہے بلکہ وہ یہ دیکھتی ہیں کہ یہ لباس پہننے سے میرا جسم نمایاں ہوگا جس سے میرے اﷲ نے منع فرمایا ہے، لہٰذا میں ایسا لباس پہنوں گی جس کے پہننے سے رب ذولجلال مجھ سے خوش ہوں۔ اﷲ کا ڈر اور اس کی خوشنودی کا حصول ان کی زندگی کا محور اور driving forceبن جاتاہے۔
پاکستانی میڈیا اپنی کمرشل ضروریات کا قیدی ہے اور ہماری نام نہاد اشرافیہ صدیوں سے احساسِ کمتری کا شکار۔ اس لیے پاکستانی خواتین ضرورت سے زیادہ ہی مرعوبیت کا شکار ہیں مگریورپ اور امریکا میں رہنے والی نومسلم خواتین کسی قسم کےes Complex کا شکار نہیں ہوتیں اور اسلامی شعا ئر کا پورے اعتماد، جرأت اور مضبوط دلائل کے ساتھ دفاع کرتی ہیں۔ نو مسلم برطانوی صحافی ایوان ریڈلے کئی بار کہہ چکی ہیں کہ
’’ مغرب باحجاب اور پاکیزہ زندگی گزارنے والی خواتین سے خوفزدہ ہے، اسلام ہی انسانوں کو اور خصوصاً عورتوں کو سب سے زیادہ حقوق دیتا ہے۔‘‘
وہ اکثر کہتی ہیں کہ ’’میرا حجاب میرا قلعہ اور میرا سائبان ہے۔ یہ عورت کا محافظ اور باڈی گارڈ ہے۔‘‘
سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر کی بیگم کی سگی بہن ’’ لارن بوتھ‘‘ کی وڈیوز قارئین نے دیکھی ہوں گی۔ ایک تقریب میں ان کی دونوں معصوم بیٹیاں ان کے ساتھ کھڑی ہیں اور وہ حاضرین کو بتارہی ہیں کہ ’’جب کافی مطالعے کے بعد میں اسلام کی طرف راغب ہوئی تو میں نے اپنی بیٹیوں کو بتایا کہ اب میں مسلمان ہونے جارہی ہوں، اس پر انھوں نے مجھ سے کچھ سوال پوچھے، ایک سوال تھا، “Mom! will you open your chest to the public?”  (ماما کیا آپ مسلمان ہونے کے بعد بھی سینہ نمایاں کرکے لوگوں میں پھریں گی ؟) میں نے کہا “Oh no I will cover my whole body”  اس پر انھوں نے بڑے زور سے پُر مسرت نعرہ لگایا”۔ پھر وہ سامعین سے مخاطب ہوئیں ’’میرا حجاب میرے مسلمان ہونے  کاسمبل ہے، یہ میرے لیے شرف ا ور افتخار کا باعث ہے۔ مجھے حجاب سے اس لیے محبت ہے کہ میرے اﷲسبحانہ و تعالیٰ کی خوشی اور خوشنودی اِس میں ہے‘‘۔
دوسال پہلے وہ پاکستان تشریف لائیں تو ان سے ملاقات بھی ہوئی، ایک محفل میں وہ پاکستانی خواتین کو بار بار کہتی رہیں کہ ’’ پاکستانی لڑکیوں کو بتائیں کہ عریاں اور ٹرانسپیرنٹ لباس پہننا یا ٹائٹس پہن کر خود کو نمایاں کرنا ماڈرن ازم نہیں، بے حیائی ہے۔ انھیں بتائیں کہ شیطان کا پہلا حملہ عورت کے لباس پر ہوتا ہے۔
مسلم خواتین کو اپنی تہذیب اور اپنے کلچر پر فخر کرنا چاہیے، مغرب، اسلامی معاشروں سے حیاء کا سرمایہ چھین کر مسلمان لڑکیوں کو بے حیا بنانا چاہتاہے، وہ مسلمانوں کی حمیت ختم کرنے کے لیے حیاء کے قلعے کو مسمار کردینا چاہتا ہے‘‘۔
جاپانی نو مسلمہ ’‏خولہ لکاتا ‘حجاب کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں،’’ میرا حجاب میرے لیے اپنے آپ کو اﷲکے سپرد کرنے کی یاد دہانی ہے۔ حجاب پہن کر مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں اﷲ کے زیادہ قریب ہوگئی ہوں۔ جس طرح پولیس اور فوج کا سپاہی وردی میں اپنے پیشے کے تقاضوں کا خیال رکھتا ہے اسی طرح حجاب بھی مجھ سے کچھ تقاضے کرتا ہے۔ اسلام عورتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ غیر مردوں سے اپنا جسم پوشیدہ رکھیں۔ اس کی حکمت سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے۔ نیم عریاں یا ہیجان انگیز لباس کا مطلب ہوتا ہے ’اگر آپ کو میری ضرورت ہے تو میں تیار ہوں ،جب کہ حجاب واضح طور پر بتاتا ہے ’’میں آپ کے لیے ممنوع ہوں۔‘‘
میرے لیے بڑی بہن کی طرح محترم، لاہور کالج فارویمن کی سابق وائس چانسلر ڈاکٹر بشریٰ متین صاحبہ (اﷲ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائیں) سے اس موضوع پر بات ہوتی رہتی تھی۔ ایک مرتبہ کہنے لگیں، ’’مجھ سے کچھ طالبات حیاء کے بارے میں جب کہتی ہیں،’’میڈم ! حیاء تو دل میں یا آنکھوں میں ہوتی ہے، اس کا لباس سے کیا تعلق ہے‘‘تو میں انھیں بتاتی ہوں ’’بیٹا ! کچھ لوگ بیہودہ لباس کے دفاع میں ایسی باتیں کرتے ہیں۔ حیاء کا لباس سے گہرا تعلق ہے۔ جو لڑکی اپنے جسم کے فیچرز  اور اُبھار ڈھانپتی ہے وہ باحیاء ہے اور اگر کوئی لڑکی اپنے فیچرز اور خدوخال سرِ عام دکھانے میں شرم محسوس نہیں کرتی تووہ بے حیائی ہے‘‘۔ انھوں نے بتایا کہ ’’میری ایک بیٹی ڈاکٹر ہے۔ایک دن اس نے مجھے خود کہا کہ امّی میں پورے بازوؤں والی قمیض پہن کر اسپتال جایا کروں گی کیونکہ میں یہ پسند نہیں کرتی کہ وار ڈ میں مریض میرے ننگے بازو دیکھتے رہیں‘‘۔  ڈاکٹر صاحبہ نے مزید کہا ،’’ نئی نسل کو بےحیائی سے بچانا ہمارا بہت بڑا چیلنج ہے۔ دہشت گردی سے بھی بڑا!  اس کے لیے ماؤں اور ٹیچرزکو بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا، انھیں چاہیے کہ بے حیائی کے خلاف ڈٹ جائیں اور پوری جرأت سے اس کے خلاف نفرت کا اظہار کریں۔ انھوں نے اپنے فرائض سے کوتاہی برتی تو وہ مجرم ٹھہریں گی۔تاریخ کے کٹہرے میں بھی اور اﷲ کی عدالت میں بھی‘‘۔
اسلام کی اپنی تہذیب اتنی شاندار اور توانا ہے کہ اس کے پیروکار کسی اور تہذیب کی نقّالی کریں تو حیرت ہوتی ہے۔ ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو چاہیے کہ اپنی مسلم تہذیب اور اقدار کے مطابق باحیا اور باوقار لباس پہنیں اور ہماری پبلک لائف کی معروف اور مقبول ترین خواتین مادرِملّت محترمہ فاطمہ جناح، محترمہ بینظیر بھٹو، اور بیگم کلثوم نوازوغیرہ کی پیروی کرتے ہوئے سر اور چَیسٹ کو Coverکیا کریں۔ انھیں اخلاق باختہ عورتوں کی پیروی ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔
یہ درست ہے کہ قائدِ اعظمؒ پاکستان کو theocratic stateنہیں بنانا چاہتے تھے مگر وہ ایسا پاکستان ہرگز نہیں چاہتے تھے جہاں برقی میڈیا پر اسلام سے بغض رکھنے والے عناصر کا قبضہ ہواور وہ پردھان بن کر شعائرِ اسلام پر دیدہ دلیری سے حملے کریں۔ بانیانِ پاکستان سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ان کے پاکستان میں اﷲ اور رسولﷺ کے واضح احکامات پر’’مذہبی کارڈ‘‘ کا لیبل لگا کران کی توہین کی جائے گی اور مسلمانوں کی علیحدہ شناخت ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
قیامت تک کے لیے انسانوں کے رہبر و رہنما حضرت محمدﷺ کا فرمان ہے کہ ’’جس شخص میں حیاء نہیں پھر وہ جو چاہے کرے‘‘ یعنی ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ تمام زمانوں کی مسلم خواتین کی رول ماڈل جنابہ فاطمۃالزھرا﷠ اعلیٰ ترین اوصاف کا مرقع تھیں اور ان کا سب سے درخشندہ وصف حیاء تھا، کون نہیں جانتا کہ خاتونِ اعظم کی وصیت تھی کہ ’’میرا جنازہ رات کو اُٹھایا جائے تاکہ میری میّت پر بھی کسی غیر مرد کی نظرنہ پڑسکے‘‘۔
میرا وجدان کہتا ہے کہ اﷲسبحانہ و تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اس پاک سرزمین کے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی طالبات خود اٹھ کھڑی ہوں گی۔ وہ حیاء دشمن کلچر کو مسترد کرتے ہوئے اپنی تہذیبی اَقدار کا پرچم لے کر نکلیں گی اور بیہودگی کے طوفان کا رخ موڑ دیں گی اور حیاء کے قلعے پر ہونے والے حملے کو ناکام بنا دیں گی۔ مجھے یقین ہے کہ اس پاک سرزمین میں حیاء کا قلعہ کبھی مسمار نہیں ہوگا کیونکہ اس قلعے کی حفاظت کے لیے ہماری بیٹیاں اور بہنیں جب نبی اکرمﷺ اور جنابہ فاطمۃ الزھرا ﷠ کی دعاؤں کی چھاؤں میں نکلیں گی تو کائناتوں کے خالق ومالک کی نصرت بھی ان کے ساتھ ہوگی۔