مقالہ ہذا محدث نمبر 389    میں مقالہ نگار کے ناقص مسوّدے سے چھپ گیا،لہذا اب ضروری تصحیحات کے بعد اسے دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے ۔قارئین سے معذرت! (ادارہ)

مروجہ قانون میں ’ ثالثی ‘ کےلیے    انگریزی میں Arbitration کی اصطلاح ہے جبکہ اس کے بالمقابل عدالتی فیصلوں کےلیے      Judgementکا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ۔ ا گرچہ دونوں کے لئے Decision (فیصلہ) کا مشترکہ لفظ بھی بولا جاتا ہے لیکن ثالثی فیصلہ جاری کرتے ہوئے اسے انگریزی میں Award سے تعبیر کرتے ہیں جبکہ حقوق وفرائض طے کرنے کے لئے Decree جاری کی جاتی ہے ۔
چونکہ ہمارے ہاں دونوں کام عدالتیں کرتی ہیں ،اس لئے ثالثی فیصلہ کو بھی عدالتیں ہی Rule of Law بناتی ہیں حاصل یہ ہے کہ فریقین میں باہمی موافقت اور مصالحت کرانے کا طریقہ کار تحکیم (Arbitration) اور حق وباطل کو نکھارنے والے دو ٹوک عدالتی فیصلہ کو قضا (judgement) کہا جاتا ہے ۔ قرآن کریم میں میاں بیوی کے جوڑے کو بچانے کی ایک صورت یوں بیان ہے :جو آیت تحکیم میں پیش کی گئی ہے
﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا ﴾[النساء:35]
’’ اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان باہمی رشتہ ٹوٹ جانے کا خوف ہو تو ایک نمائندہ مرد والوں میں سے اور ایک عورت کے گھر والوں میں سے مقرر کرلو، اگر یہ دونوں نمائندے صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان دونوں (میاں بیوی)میں موافقت کرا دیگا، یقیناً اللہ رب العالمین دائمی علم والا پوری خبر رکھنے والا ہے۔‘‘
میاں بیوی کے نزاع کی صورت میں آیت بالا کی تطبیق اور بعض پہلوؤں کی تشریح آگے آ رہی ہے ،فی الحال دورِ صحابہ کے   مشاجرات میں حضرت علی ؓ اور امیر معاویہ ؓ کے درمیان جو تحکیم کی صورت اختیار کی گئی،خوارج کی انتہاء پسندی کے سامنے عذر کے طور پر حضرت عبداللہ بن عباسؓ نبی ؐ کی سنن کی بنیاد اسی آیت کو قرار دیتے رہے۔
جبکہ دوسری آیت کریمہ میں عدالتی فیصلہ کے بارے میں پر زور انداز اختیار کیا گیا ہے :
﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ‎﴿٦٥﴾‏
’’پس لازماً تیرے رب کی قسم !   وہ مؤمن نہیں ہوں گے ،یہاں تک کہ تجھے اس معاملہ میں فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں جب ان کے درمیان جھگڑا پڑ جائے پھر اپنے دلوں میں اس سے کوئی تنگی بھی محسوس نہ کریں بلکہ جو تو فیصلہ کرے اسے دل و جان سے پوری طرح تسلیم کر لیں۔‘‘
تحکیم کی ایک اور شکل کے بارے میں کتب احا دیث میں حضرت زبیر ؓ بن العوا م اور ایک انصاری ؓ                 کا شراج[1] کے بارے میں اختلاف و نزاع كا ذکر ہے ۔اس سے عدالتی فیصلہ اور ثالثی کی جداگانہ حیثیت اور ان کی حدود کا تعین ہوجاتا ہے ، حدیث ملاحظہ فرمائیں :
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ فِي شِرَاجٍ مِنَ الحَرَّةِ يَسْقِي بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«اسْقِ يَا زُبَيْرُ، فَأَمَرَهُ بِالْمَعْرُوفِ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ» فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ: أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «اسْقِ، ثُمَّ احْبِسْ، يَرْجِعَ المَاءُ إِلَى الجَدْرِ، وَاسْتَوْعَى لَهُ حَقَّهُ» فَقَالَ الزُّبَيْرُ: " وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ الآيَةَ أُنْزِلَتْ فِي ذَلِكَ: {فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ} [النساء: 65] " قَالَ لِي ابْنُ شِهَابٍ: فَقَدَّرَتِ الأَنْصَارُ وَالنَّاسُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْقِ، ثُمَّ احْبِسْ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الجَدْرِ» وَكَانَ ذَلِكَ إِلَى الكَعْبَيْنِ [بخاري:2362]
سیدنا عروہ بن زبیر ؓ سے مروی ہےکہ ایک انصاری شخص کا (میرے باپ ) زبیر ؓ سے حرّہ میں پانی کے بہاؤ کی نالیوں کے بارے میں، جن سے کھجوروں کے باغ سیراب ہوا کرتے تھے، جھگڑا کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زبیر ! تم پہلے اپنا باغ سیراب کر لو۔ چنانچہ اسے بھلائی کا حکم دیا پھر اپنے پڑوسی( بھائی) کے لیے جلد پانی چھوڑ دینا۔ اس پر انصاری ؓ نے کہا۔ جی ہاں! آپ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں نا ں،رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپ نے فرمایا، اے زبیر ! تم سیراب کرتے ہوئے پانی کو روکے رکھو، یہاں تک کہ پانی کھیت کی مینڈیروں تک پہنچ جائے۔ اس طرح آپ نے زبیر ؓ کو ان کا پورا حق دلوا دیا۔ زبیر ؓ کہتے تھے کہ اللہ کی قسم! یہ آیت
(فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ)
اسی بارے میں نازل ہوئی تھی ”تیرے رب کی قسم ! اس وقت تک یہ لوگ ہر گز ایمان والے نہیں ہوں گے جب تک کہ اپنے جملہ اختلافات و نزاعات میں آپ کو’’ حکم‘‘(فیصلہ کرنے والا) تسلیم نہ کرلیں۔“
 ابن شہاب زہری نے کہا کہ انصار اور دیگر لوگوں نے نبی کریمﷺ کے اس فیصلےکی بنا پر کہ ”سیراب کرتے ہوئے پانی کو روکے رکھو یہاں تک کہ پانی زمین کے منڈیروں تک پہنچ جائے۔“ یہ اندازہ لگا یا کہ پہلے پانی لگانے والے کا حق یہ ہے کہ پانی سے زمین ٹخنوں تک بھر جائے۔‘‘
انداز بیان سے واضح ہورہا ہے کہ پہلے فیصلہ کی نوعیت ثالثی کی تھی جبکہ دوسرے فیصلہ کی نوعیت حقوق و فرائض کی باریکیاں تعین کرنے کی ہے ، ہم نے سطور بالا میں عدالتی فیصلہ کے لیے یہی آیت کریمہ پیش کی ہے۔  
ہمارے ہاں کی عدالتیں کئی دفعہ ’’تحکیم ‘‘ کے اختیارات استعمال کر کے نزاعات مٹاتی ہیں   ۔اسی طرح پنچائتی فیصلوں میں بھی زیادہ تر ’’تحکیم‘‘ کا طریقہ اختیار کیا   جاتا ہے۔ہمارے عام قانون دان ایسی باریکیوں سے اگاہ نہیں ہوتے لہٰذا میں ان کے تربیتی کورسز میں تقریباً بیس سال قانون و شریعت کا تقابل کرتے ہوئے مثالوں سے ثالثی ایوارڈز ؍ ڈگری جاری کرنے کے فرق  بیان کرتا رہا ہوں ۔آزاد علاقوں کے جرگے اور گھریلو نزاعات کے حل کے لیے عموماً یہی     کردار مؤثر ہوتا ہے۔  
پہلا اعتراض
   نبی ؐ نے جب دو صحابہ ؓ کے نزاع کے بارے میں تحکیم   ( موافقت )         کا طریقہ کار اپنایا   تو کیا وہ درست فیصلہ تھا ،کیونکہ انصاری نے جب آپ ؐ پر جانبداری کا الزام لگا دیا تو آپ نے نیا فیصلہ سنا یا ۔ ان دو مختلف فیصلوں کے بیک وقت درست ہونے کی کیا توجیہ ہے؟
وضاحت :   اس امر پر تواجماع ہے کہ آپ ؐکے فیصلے غصہ کی حالت میں بھی صحیح ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ حدیث میں ہے :
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُرِيدُ حِفْظَهُ، فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالُوا: تَكْتُبُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا؟ فَأَمْسَكْتُ، حَتَّى ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: " اكْتُبْ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا خَرَجَ مِنْهُ إِلَّا حَقٌّ "(مسند احمد: 6802)
سیدنا عبداللہ بن عمرو        ؓ سے مروی ہے کہ میں ہر اس حدیث کو جو رسول اللہ ﷺسے سنتا یا د رکھنے کے لئے لکھ لیتا، تو قریش کے لوگوں نے مجھے لکھنے سے منع کر دیا، اور انہوں نے کہا : تم تو رسول اللہ ﷺسے ہر سنی ہوئی بات کو لکھ لیتے ہو حالانکہ رسول اللہ ﷺ غصے اور خو شی دونوں حالتوں میں باتیں کر تے ہیں ، تو میں نے لکھنا چھوڑ دیا، پھر رسول اللہ ﷺسے اس کا ذکر کیا، آپﷺ نے فرمایا:’’ لکھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس (زبان) سے حق بات کے سوا کچھ نہیں نکلتا‘‘
نزاع کے متعلق شرعی ہدایت پہلے موافقت (مصالحت) کرانے کی ہے جسے تحکیم Arbitration کہتے ہیں ۔حضرت عمر ؓ کے مکتوب بنام امیر معاویہؓ میں بھی یہی ہدایت ثالثی کی اہمیت اور حکمت پیش کرتے ہوئے دی گئی ہے     ۔
احرص على الصلح بين الناس ما لم يستبن لك القضاء، أو كانت بينهم قرابة، فإن فصل القضاء يورث الشنآن ( أخبار القضاة لوكيع ج1 ص 75 )
جب تک آپ کے لئے حق و باطل کے مطابق   فیصلہ کرنا واضح نہ ہو یا فریقین کے درمیان قرابت کا رشتہ ہو توآپ لوگوں میں صلح کی کوشش کریں، کیونکہ بسااوقات حق وباطل کی رو سے ’’صریح فیصلے‘‘ دشمنی پیدا کرتے ہیں۔
مقصد یہ ہے کہ نازک صورتوں میں   پہلے موافقت کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ تنازع بھی ختم ہوجائے اور فریقین باہم خوش بھی رہیں ، ورنہ فوری طور پر حق وباطل کے مطابق ایسا عدالتی فیصلہ   سنانے سے دشمنیاں جنم لیتی ہیں ۔
دوسرااعتراض
    سورۃ الانبیاء میں ایک نزاع کا ذکر کر کے انبیاء کے دو مختلف فیصلوں کا تقابل کیا گیا ہے ، قرآن مجید میں ہے :
﴿وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ (78) فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا﴾ [الأنبياء: 78،79]
اور داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو یاد کیجئے جبکہ وه ایک کھیت کے معاملہ میں فیصلہ کر رہے تھے، کیونکہ چرواہے   کی غفلت کی وجہ سے بکریاں     رات کو  چرتے ہوئے اس کھیت کا ستیا ناس کر گئی تھیں۔ ان دونوں کے فیصلے ہمارے سامنے ہیں، ہم نے سلیمان کو اس کا زیادہ صحیح فیصلہ سمجھا دیا۔ البتہ ہم نے ہر ایک کو علم و حکمت سے نواز     رکھا تھا ۔
حالانکہ حضرت داؤد ؑ نبی اور بادشاہ ہونے کی حیثیت سے فیصلہ کر چکے تھے ،حضرت سلیمان ؑ اس وقت باپ کے تابع تھے ،کیا ان کو نگرانی کا حق تھا ؟
وضاحت : یہ درست ہے کہ   حضرت داؤدؑنے اپنے منصبی (نبوی اور حکمرانی) اختیارات کے تحت جو عدالتی فیصلہ کیا تھا     اس کے بعد   حضرت سلیمانؑ کو نگرانی یااپیل کا کوئی   حق نہیں تھا، لیکن اس عدالتی فیصلے کی تنفیذ کے اعتبار سے فریقین نے ان سے رجوع کیا تو فریقین کی رضامندی کی بنا پر حضرت سلیمان ؑ نے ان میں حکیمانہ مفاہمت کرا دی ،گویا یہ عدالتی فیصلے کے بعد ’’تحکیم ‘‘       کا مسئلہ ہے ۔   واضح رہے کہ عدالتی فیصلوں کے باوجود باہمی مفاہمت کی صورتیں نکالنا حکیمانہ       رویہ   ہے جیسا کہ حضرت عمرؓ کے مذکورہ بالا خط میں امیر معاویہؓ کو پہلے صلح کی کوشش کرتے ہوئے تحکیم( موافقت) کی اہمیت   بتائی کیونکہ بسااوقات عدالتی فیصلے نافذ کرتے وقت   عملی مشکلات کا باعث بنتے ہیں ۔
ہماری اعلیٰ عدالتیں بھی آج کل دفاعی قوتوں کے علاوہ حکمرانوں یا طاقتور سیاسی لیڈروں کے خلاف اپنے فیصلوں کے بارے میں صحیح عملداری سے خائف ہوتی ہیں تو عادلانہ فیصلوں کی بجائےاین آر او جیسی صورتیں نکالتی رہتی ہیں کیونکہ ہمارے ہاں الہامی دستور (شریعت) چھوڑ کر انسانوں کے وضع کر دہ ’قانون‘ کی بالا دستی ہے ،اسی لیے ہمارا نظام عدل و احسان کی بجائے قانون کی رٹ قائم کرنے کا ہے۔[2] جو درحقیقت Establishment  کا دباؤ ہوتا ہے ۔ مختصر یہ کہ فریقین اگر رضا مند ہوں تو عدالتی فیصلہ کے کامیاب نفاذ کے لیے ’تحکیم‘       کا طریقہ کار بھی اختیار کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق عدل کے اوپراحسان کا اضافہ بھی ملحوظ ہے۔ جیساکہ حضرت سلیمان ؑ نے اپنے حکمران والد کے بعد جو تحکیم کی تھی   اسے قرآن کریم نے سراہا   ہے۔
چنانچہ سورة النحل میں عدل کے ساتھ احسان اور صلہ رحمی کی تلقین کی گئی ہے ، ارشاد باری ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ﴾[النحل:90]
’’ اللہ تعالیٰ عدل ، احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں جبکہ بے حیائی ،منکرات اور سرکشی سے منع کرتے ہیں تا کہ  تم نصیحت حاصل کرو۔‘‘
مزید برآں قرآن کریم کی سورۃ الزمر میں اچھی باتوں کو غور سے سن کر   زیادہ اچھے پہلو اختیار کرنے والوں کی   تعریف کی گئی ہے   چنانچہ ارشاد ربانی ہے :
﴿   الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ وَأُولَئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ ﴾[الزمر :18]
’’جو لوگ بات کو توجہ سے سنتے ہیں پھر اس کا زیادہ اچھا پہلو اختیار کرتے ہیں وہی لوگ اللہ کی طرف سےہدایت یافتہ ہیں اور وہ لوگ عقلمند بھی ہیں ۔‘‘
شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی پسندیدہ دعایہ تھی:
يا معلم إبراهيم ! علمني             ويا مفهم سليمان! فهمني[3]
’’اے ابراہیم ؑ کو حق کا شعور دینے والے! مجھے علمی سوجھ بوجھ عطا کر دے   اور سلیمان       ؑ             کو معاملہ سمجھانے والے ! میرا سینہ بھی کھول دے۔‘‘
ایسے ہی ایک اور معاملہ میں سیدناداؤد ؑ اور سیدنا سلیمان ؑ نے دو مختلف فیصلے کیے تھے ، جب   دو     ماؤں کے درمیان   بچہ کے حصول کے لیے نزاع تھا۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے:
كَانَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا، جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ لِصَاحِبَتِهَا: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، وَقَالَتِ الأُخْرَى: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ فَأَخْبَرَتَاهُ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: لاَ تَفْعَلْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى " قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ قَطُّ إِلَّا يَوْمَئِذٍ، وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا المُدْيَةَ» [بخاري:6769]
’’ دو عورتیں تھیں اور ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے، بھیڑیا آیا تو ایک بچے کو اٹھاکر لے گیا، اس حادثے کے بعد اس کی ماں نے ساتھی سے کہا کہ بھیڑیا تیرے بچے کو لے گیا ہے، جس پر ساتھی عورت نے جواب دیا کہ وہ قطعی طور پر تیرا ہی بچہ تھا ۔ اب دونوں عورتیں اپنا مقدمہ سیدنا داؤد ؑ کے پاس لائیں تو آپ نے فیصلہ بڑی کے حق میں کردیا۔ وہ دونوں فیصلہ سن کر سلیمان ؑ کے پاس چلی گئیں اور انہیں ساری صورتحال بتائی ۔ سلیمان ؑ نے پہلے کہا کہ چھری لاؤ، میں لڑکے کے دو ٹکڑے کرکے دونوں کو ایک ایک حصہ دے دوں گا۔ اس پر چھوٹی عورت بول اٹھی کہ ایسا نہ کیجئے، آپ پر اللہ رحم کرے! یہ بچہ بڑی عورت ہی کا ہے، یہ سن کر سلیمان ؑ   نے فیصلہ چھوٹی عورت کے حق میں کر دیا۔
ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ واللہ! میں نے سکین ( چھری) کا لفظ پہلی مرتبہ نبی ﷺ کی زبان سے اس دن سنا تھا  کیونکہ ہم چھری کے لیے اپنی زبان   میں مُدية          کا لفظ  استعمال کیا کرتے تھے۔‘‘
اس نزاع میں  حضرت داؤد ؑ نے اپنے حکومتی منصب کی رو سے عدالتی فیصلہ کیا تھا ۔ جس کے بعد جب دونوں عورتیں باہمی رضامندی سے اپنے معاملے کو   حضرت سلیمانؑ کے پاس لے گئیں تو سلیمان ؑ نے اپنی حکمت عملی کے ذریعے یہ معلوم کر لیا کہ بچہ کس ماں کا ہے ؟لہذا انہوں نے چھوٹی عورت کے حق میں فیصلہ کر دیا اور وہ اس لیے نافذ ہوا کہ یہ تحکیم تھی ۔واضح ہوا کہ عدالتی فیصل کے بعد بھی ثالثی فیصلے فریقین کی رضا مندی کی بنا پر آگے پیچھے جمع ہو سکتے ہیں   ۔ ایسی کئی   مثالیں حافظ ابن قیم  نے الطرق الحكميةمیں ذکر کی ہیں ۔
قرآن کریم نے    گھریلو نزاعات کے بارے میں     میاں بیوی کو اکٹھا رکھنے کے لیے آخری حل’ تحکیم‘ کا طریقہ بتایا ہے تا کہ خاندانی     نظام بچ جائے۔   سورۃ النساء کی   درج ذیل آیات ملاحظہ ہوں :
﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا (34) وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا (35﴾ النساء
’’ مرد عورتوں کے محافظ و منتظم (حاکم) ہیں (ایک) اس لئے کہ اللہ نے بعض (یعنی مردوں) کو بعض (یعنی عورتوں) پر فضیلت دی ہے اور (دوسرے) اس لئے کہ مرد (عورتوں پر) اپنے مال سے خرچ کرتے ہیں۔ سو نیک عورتیں تو اطاعت گزار ہوتی ہیں اور جس طرح اللہ نے (شوہروں کے ذریعہ) ان کی حفاظت کی ہے۔ اسی طرح پیٹھ پیچھے (شوہروں کے مال اور اپنی ناموس کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں اور وہ عورتیں جن کی سرکشی کا تمہیں اندیشہ ہو انہیں (نرمی سے) سمجھاؤ (بعد ازاں) انہیں ان کی خواب گاہوں میں چھوڑ دو اور (آخرکار)۔ انہیں مارو۔ پھر اگر وہ (کسی بھی سطح پر ) تمہاری اطاعت کرنے لگیں تو پھر ان کے خلاف کوئی اور اقدام کرنے کے راستے تلاش نہ کرو۔ یقینا اللہ (اپنی کبریائی میں) سب سے بالا تر اور بڑا ہے۔‘‘
مذکورہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے خاوند کو قوّام قرار دے کر گھر کا سربراہ بنا یا ہے   اور اچھی بیوی کے اوصاف﴿   قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ     ﴾   .... آیت میں ہی موجود ہیں ۔شوہر سے بار بار الجھاؤ کو ’نشوز‘ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کا پہلا علاج تین تدریجی   اقدامات کی صورت میں بتا دیا گیا ہے     ۔اگر یہ تینوں تدبیریں ناکام ہو جائیں تو رشتہ ٹوٹنے کا شدید خطرہ پیدا ہو جاتا ہے ،لہذا اس قیمتی رشتے کو بچانے کےلیے ﴿حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا﴾ کاآخری   طریقہ کار بتایا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ بربادی کی بجائے ؍خانہ آبادی کے لیے   ’جذباتی فضا‘ کو ٹھنڈے انداز میں بدل دیا جائے ۔ یعنی میاں بیوی کی طرف سے با اختیار نمائندگان مقرر کر لیے جائیں جو میاں بیوی کے درمیان مفاہمت کی کوئی راہ سوچیں تا کہ گھرانہ بچایا جا سکے ۔
مذکورہ’ حکمین‘ غلط صحیح یا حق و باطل کی باریکیاں طے کرنے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ وہ صرف صلح کے لیے کوشاں ہوتے ہیں     ۔حق وباطل (درست یا غلط) قرار دینے کا حق نہیں رکھتے گویا کہ وہ مفاہمت (تحکیم) ہوتی ہے ۔ حکمین حق و باطل کا حامل عدالتی فیصلہ نہیں کر سکتے ۔ چنانچہ   ’طلاق‘ یعنی جدائی       کا فیصلہ کرنا ان کا اختیار نہیں ہوتا ۔وہ صرف صلح کی صورتیں ہی تلاش کرسکتے ہیں ۔ علاوہ ازیں شوہر قوّام ہوتا ہے اور عورت کواس کے مال اور اولاد کے بارے میں اپنی ذمہ داریاں اس سے مشاورت ؍ ہدایت کے مطابق ادا کرنی چاہییں ۔
الحاصل
1.    تحکیم کا فیصلہ     باہمی موافقت کی بنا پر نزاعات کا پسندیدہ حل ہوتا ہے     ، خصوصاًجب عدالتی فیصلہ سے کسی مشکل پیش آنے کا خطرہ ہو ، ورنہ عدالتی فیصلہ ہی حقوق وفرائض کے سلسلے میں حق و باطل کا امتیاز بنتا ہے، لہٰذا نزاع کی صورت میں پہلے مصالحت کرانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ جیساکہ رسول اللہ ﷺ کے عمل اور حضرت عمر کی ہدایت میں مصالحت کرا نےکا پہلے ذکر ملتا ہے ، پھر عدالتی حتمی فیصلہ کا ۔
2.    البتہ اگر عدالتی فیصلہ ہوجانے کے بعد بھی فریقین مصالحت پر رضا مند ہوجائیں تو عدالتی فیصلہ کے باوجود مصالحت کرائی جاسکتی ہے ۔ جیساکہ حضرت داؤد کے فیصلوں کے بعدحضرت سلیمان نے فریقین کی رضامندی سے دونوں کے درمیان عدالتی فیصلے کے برعکس معاملے پر مصالحت کرادی ۔ یہ بہتر ہے ، کیونکہ اس سے فریقین حقیقی طور پر نزاع ختم کردیتے ہیں اور باہم چپقلش بھی پیدا نہیں ہوتی اور عدالتی فیصلے کے بعد تحکیم کی صورت میں عدل کے ساتھ احسان بھی جمع ہوجاتا ہے ، جو قابل تعریف امر ہے ۔
3.    ثالث فریقین کی باہمی رضامندی سے ہی بنائے جاسکتے ہیں اور وہ فریقین کی  باہمی طے کردہ  شروط کے تحت ہی صلح کروا سکتے ہیں ، جبکہ عدالت کا جج حکومت یا کسی بااختیار حیثیت کے حامل شخص کی طرف سے مقرر کردہ ہوتا ہے ۔
4.    فریقین میں کوئی بھی ثالث کو فیصلہ (تحکیم ) کرنے سے قبل کسی معقول وجہ کی بنا پر روک سکتا ہے جبکہ کوئی فریق عدالت کے جج کو ہٹا سکتا ہے اور نہ فیصلہ سے روک سکتا ہے ، الا یہ کہ کوئی فریق جج کو فیصلہ کے لیے نااہل یا جانبدار ثابت کردے ۔
5.    ثالث کا فیصلہ ماننا تو ضروری ہے لیکن معقول وجوہات پیش کرکے فریقین کی رضامندی سے چھوڑا بھی جاسکتا ہے ، جبکہ عدالت کے جج کا فیصلہ ہر حالت میں ماننا پڑتا ہے ، کیونکہ یہ حق و باطل کا امتیاز ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ حق وباطل کی نشاندہی صرف دیوانی معاملات میں ہوتی ہے  جبکہ دنیا   میں فوجداری امور کے متعلق شرعی حکم سزا ہو یا تاوان تو لازماً لاگو ہو گا ، اگرچہ توبہ وغیرہ کی صورت  اخروی معاملات  اللہ کے سپرد ہوتے ہیں ۔
حوالہ جات:
[1]    بڑے آبی بہاؤ سے زمینوں کو سیراب کرنے کے لئے کاشتکار         جو   چھوٹی نالیاں   نکالتے ہیں ،ان کو’ شِراج ‘ کہا جاتا ہے ۔
[2] اس حوالے سے ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مدنی کا ایک مقالہ اسلامی ملکوں کے دساتیراور عدالتی نظاموں کے تقابلی مطالعہ پر مبنی ہے،
جو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ، اسلام آباد کے 2017ء میں منعقدہ ایک سہ روزہ سیمینار میں پیش کیا تھا اور اسے مختصر طور     ماہنامہ محدث لاہور کی اشاعت مئی 2017 ء میں شائع   کر دیا گیا ہے جو    ایک     قابل مطالعہ بحث ہے   ۔
[3] إعلام الموقعين از حافظ ابن قيم :فائدہ نمبر 61