استاد محترم ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مدنی ﷾ تقریبا ایک سال سے جامع بخاری کے اہم مقامات پر درس دے رہے ہیں ۔ انہوں نے ابتداء کتاب الاکراہ سے کی اور کتاب التوحید کے آخر تک دروس مکمل کیے تو پھر جامع بخاری کا ابتدائی حصہ منتخب کیا ،اس طرح وہ نہ صرف ماضی کے متنوّع افکار کا جائزہ لیتےرہتے ہیں بلکہ دور حاضر کے فتنوں کی بھی نشاندہی کرتے جاتے ہیں ۔ ہم تین شاگرد قاری فہد اللہ ، قاری مصطفیٰ راسخ اور راقم الحروف کی ایک ٹیم نے انہیں مرتب کرنے کا پروگرام بنایا ہے ، میری ذمہ داری ’کتاب التوحید‘ ہے ۔مدنی صاحب ملکی اور بین الاقوامی رابطوں کے علاوہ اپنی سرپرستی میں قائم ہونے والے اداروں کی مختلف ذمہ داریوں کی وجہ سے اپنے علمی ذوق کی خاطر خواہ آبیاری تو نہیں کر سکے تا ہم عمر بھر دروس اور مجلسی تبادلہ خیال کی صورت بھر پور شریک رہے ہیں ۔واضح رہے کہ مدنی صاحب ہر درس کے شروع میں تمہید اً موضوع کا ایک تعارف پیش کرتے رہے ہیں۔ لہذا ان کے دروس میں سے پہلے’ کتاب التوحید ‘کے مقدمہ کو تحریری شکل دی گئی ہے ۔باہمی مشاورت سے طے پایا کہ کتاب التوحید کی شرح تو مناسب وقت لے گی، تب تک ان دروس کو قسط وار ’محدث‘ میں شائع کیا جائے ۔ چنانچہ میں نے کتاب التوحید کے پہلے باب        (ما جاء .فى دعا النبى ﷺأمته إلى توحيد تبارك و تعالى)   کی پہلی     حدیث کی تشریح و ترتیب مکمل کی   جسے بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا پڑھتے ہوئے ہدیہ قارئین کر رہا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ توفیق کی ارزانی فرمائے ۔

تمہید(مقدمہ)
امام بخاری  نے کتاب کا آغاز ایمان سے ا ور اختتام توحید پر کیا ہے ، کیونکہ شریعت کی ابتداء ایمان سے ہوتی ہے اورانسانی زندگی کی آخری بات (کلمہ توحید ) ہو نا چاہیے۔
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ»] ارشاد نبوی ہے من كان آخر كلامه لا اله الا الله دخل الجنة[ جس کی آخری بات لا اله الله   ہوئی وہ جنت میں داخل ہو گیا ( أبو داود: 3/ 190)
ایمان سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کو دل و جان سے تسلیم کرنا ، زبان سے ان کا اقرار کرنا اور جوارح سے اس کے مطابق عمل کرنا ہے ۔صحیح بخاری کی پہلی کتاب’’ الایمان ‘‘ میں ایمانیات کی تفصیلات ہیں ، جبکہ کتاب ’’ التوحید ‘‘ میں قرآن وسنت کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات سے متعلق اہم نکات زیر بحث ہیں۔
توحید اور علم توحید کا باہمی تعلق
امام بخاری نےاس کتاب کا نام التوحید رکھا،   علم التوحید نہیں   ،کیونکہ توحید اور علم توحید میں فرق ہے، جس طرح حدیث اور علم حدیث میں فرق ہے ۔ حدیث سیکھنے سے مراد ہوتا ہے کہ انسان حدیثوں کے ساتھ وابستہ ہو ، ان سے استفادہ کرے اور انھیں اپنی زندگی میں داخل کرے۔ اور علم حدیث سے مراد ’فن حدیث‘ ہے ، یعنی ان علوم و فنون کا علم حاصل کرنا جو  ثبوت حدیث اور اس کے افہام و تفہیم   میں معاون ہوتے ہیں ، اسے علم الروایۃ والدرایۃ بھی کہتے ہیں۔ یہاں امام بخاری  نےکتاب التوحید کا جو عنوان قائم کیاہے ، اس سے ان کا مقصد  ذات باری تعالیٰ اور اس کے اسماء وصفات سے متعلق بحثیں ہیں ، یعنی توحید کیا ہے ؟ اسلام میں اس کا مقام کیا ہے ؟ اس کی اقسام کونسی ہیں ؟ اسے کیسے اپنانا ہے ؟ اس کی دعوت کیونکر دینی ہے ؟ چنانچہ امام بخاری  سب سے پہلے دعوت توحید کا باب باندھ کر  یہ حدیث لائے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ     کو جب یمن بھیجا تو انہیں سب سے پہلے توحید کی دعوت دینے کا حکم دیا ۔
توحید کی کتنی قسمیں ہیں اور توحید کی روح کیا ہے؟ دوسرا نکتہ یہ ہے ہر انسان کے لیے پہلا فرض کیا ہے ؟اور تیسرا ایمان کے ارتقاء کی کون کون سی صورتیں ہیں؟
توحید کی اقسام
توحید کی دو قسمیں ہیں : ایک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا علم یا معرفت الہی ، اسے ’توحید علمی خبری‘ کہتے ہیں، دوسری قسم توحید ارادی طلبی ہے ، جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کی معرفت کے بعد رب العالمین سے وہ معاملہ رکھنا جو علم اور معرفت کے مطابق ہو ،اسے ’توحید ارادی طلبی‘ کہتے ہیں ۔ علم النحو میں خبر و انشاء کا فرق معروف ہے ، اسی کو سامنے رکھ لیں ۔    اسی لیے ’توحید ارادی طلبی‘ کو ’توحید انشائی‘ بھی کہہ دیتے ہیں ۔ توحید علمی خبری دراصل’ توحید انشائی‘ کی تمہید ہوتی ہے،جبکہ اصل مقصود توحید ِانشائی ہے۔ ایمان کے بارے میں ہمارے اسلاف کا مقولہ الأیمان قول و فعل ويزيد وينقص معروف ہے ۔
خیر القرون اسلاف کے زہد و احسان کے مقابلے میں عجمی تصوف نے اللہ کی صرف معرفت پر زور دیا ہے جس کا اعلی ترین درجہ ’علم یقین‘ ہے   ۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ عبادت اصل مقصد نہیں ہے بلکہ انسانی زندگی کا مقصد صرف اللہ کی گہری پہچان ہے ۔ اہل تصوف نے اس کیلئے ایک بناوٹی حدیث قدسی کو دلیل بنایا ہے، جو یوں ہے :
«كُنْتُ كَنْزَاً مَّخْفِيّاً، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ لِكَىْ اُعْرَفَ»[ كشف الخفاء (2/ 132)] ترجمہ :میں مخفی خزانہ تھا ، میں نےچاہا کہ مجھے پہچانا جائے تو میں نے مخلوق کو پیدا کیا تا کہ میری پہچان ہو جائے۔
’فنِ حدیث ‘کی رو سے یہ حدیث ’موضوع ‘ہے ۔ معنی کے اعتبار سے بھی اس میں بڑا نقص یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے محتاج ہیں جو اللہ کے وصف سبحان اور صمد کے منافی ہے (نعوذ بالله من ذلک )
توجہ فرمائیے   کہ توحید کا مقصد اگر صرف اللہ تعالیٰ کا تعارف اور پہچان ہوتا ، تو شیطان ہم سے بہت آگے ہوتا کیونکہ   وہ ہم سے کہیں زیادہ اللہ کی معرفت رکھتا ہے ، کیا شیطان کو ہم ’مُوَحِّد‘ کہہ سکتے ہیں ۔ اسی وجہ سے بعض صوفیا کہتے ہیں کہ ابو بکر ؓاور ابلیس کا ایمان برابر ہے ۔
انبیاء علیہم السلام لوگوں کو محض توحید کا علم دینے کے لیے نہیں آتے ، بلکہ وہ  ا للہ تعالیٰ کی طلب اور ارادہ کے لیے ان کا تزکیہ بھی کرتے ہیں۔ گویا وہ امت کی اس طرح تربیت کرتے ہیں کہ ان کا برابر ایمان بڑھتا رہے۔ جیسا کہ اسلاف کے مذکورہ بالا مقولہ میں يزيدُ وينقص کا مفہوم ہے کہ ایمانی کیفیت علم و عمل کے مطابق بڑھتی گھڑتی رہتی ہے ۔
ہم نے سطورِ بالا میں تو حید کی جو دو قسمیں بیان کی ہیں: ایک علمی خبری اور دوسری طلبی ارادی یہ   شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ  اور ان کے تلامذہ   حافظ ابن قیم وغیرہ کی تعبیر ہے ،انہیں ’توحید ربوبیت‘ اور ’توحید الوہیت‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ اس میں لفظ ارادہ کو اس لیے شامل کیا گیاہے کہ طلب کی انتہائی شکل ارادہ ہوتی ہے   جو عمل کا باعث بنتا ہے۔ ارادے کے بعد انسان جو عمل کرتا ہے اس کے ساتھ ساتھ نیت رو ح کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ارشاد نبوی : انما الأعمال بالنيات (اعمال كا انحصار نيت پرہوتا ہے ) واضح ہے ۔
واضح رہے کہ ’ اسماء و صفات الہی‘ کی بحثیں بھی’ توحید ربوبیت‘   کا حصہ ہیں ،کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کی معرفت جتنی بڑھتی جائے   ، اسی کے مطابق طلب اور ارادہ میں مضبوطی آتی رہتی ہے ۔  
’ ایمان‘ دراصل انسان کی اندرونی کیفیت کا نام ہے،جب اللہ سے وابستگی اور دل بستگی ہو جاتی ہے یا اس میں بہتری آتی ہے توایمان بڑھنے لگتا ہے ۔ دنیا میں مصیبتوں یا بھاری انعامات کی صورت جو   آزمائشیں آتی ہیں وہ ایمان کی تربیت کے لئے ہی ہوتی ہیں ۔ارشاد ربانی ہے:﴿ وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً﴾ [الأنبياء: 35] ترجمہ :اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی کی صورت میں سخت آزمائش میں رکھتے ہیں۔
دوسرے لفظوں میں جب ایمان انسان میں داخل ہوتا ہے تو وہ تھوڑا ہوتا ہے ، پھر حالات کے مطابق متنوّع آزمائشوں کی صورت میں    ایمان میں کمی پیشی ہوتی رہتی ہے ۔اسی لیے صحابہ کرام ؓ         کو اگر کچھ عرصہ تکلیف نہ آتی تو وہ پریشان ہو جاتے ، کیونکہ  نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے :
«مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ» [صحيح البخاري :5645]
" جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے ، اسے مصیبت میں مبتلا کرتا ہے ۔"
کیونکہ اعمال کا دا رومدار نیت ہوتی ہے جو ایک قلبی فعل ہے ، لہٰذا اگر کوئی شخص توجہ کے بغیر﴿ لا اله إلا انت سبحانك إنى كنت من الظالمين﴾ لاکھ مرتبہ بھی پڑھ لے تو اس کا خاطرخواہ فائدہ نہیں ہوتا،اگرچہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے  بلاسمجھے پڑھنے پر کچھ ثواب تو مل جائے گا لیکن اس کا اصل مقصد حاصل نہیں ہو گا ۔ حدیث جبرئیل جسے ’ام الحدیث‘ بھی کہا جاتا ہے اس کیفیت کو احسان کا نام دیا گیا ہے ۔ چنانچہ جبرئیل سے اسلام ،ایمان اور احسان کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے نبیﷺ کا   ارشاد ہے:
«الإِحْسَانُ: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ »[صحيح البخاري:50]
   احسان یہ ہے کہ تُو اللہ کی اس طرح عبادت کر ،گویا تُو اللہ کو دیکھ رہا ہے، اگر تیری یہ کیفیت نہ بن سکے کہ (تو کم ازکم ) یہ حالت ہونی چاہیے جیسے اللہ تجھے دیکھ رہا ہے ۔
یعنی زہد و  احسان کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ ہم عبادت کرتے ہوئے گویا اللہ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں اور ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اللہ ہمیں دیکھ رہے ہیں۔اس صورت میں توحید علمی اور عملی کامل ہو جاتی ہے ،یہی دین کی تعلیم ہے ۔
بَابُ مَا جَاءَ فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ إِلَى تَوْحِيدِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
باب : آنحضرت ﷺ کا اپنی امت کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کی طرف دعوت دینا۔دعا سے مراد دعوت و پکار ہے ، کیونکہ دونوں کا معنی ’بلانا ‘ہے ۔
امت دو طرح کی ہوتی ہے : امت دعوت اور امت اجابت ۔ امت دعوت سے مراد تمام وہ لوگ جن کی طرف رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے ، انھیں ’امت دعوت‘   کہا جاتا ہے ، اس میں تمام انسان بلکہ جنات بھی شامل ہیں ، اسی لیے آپ ﷺ کو نبی الثقلین کہا جاتا ہے ۔
اور امت جابت سے مراد صرف وہ لوگ ہیں جو دعوت کو مان کر مسلمان ہوجائیں ۔ قیامت تک پیدا ہونے والے جن و انس محمد ﷺ کی ’امت دعوت ‘ ہیں ، اور قیامت تک ہونے والے مسلمان امت اجابت ہیں ۔
اس باب کا مقصد یہ بتانا ہے کہ انبیاء علیم السلام کی دعوت کا بنیادی مقصد توحید تھا، جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ ﴾[الأنبياء: 25]
’’ اور آپ سے پہلے ہم نے جو بھی رسول بھیجا اس کی طرف یہی وحی کرتے رہے کہ ’’ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں ْ۔ لہٰذا صرف میری ہی عباددت کرو ۔‘‘
اور مذکورہ بالا حدیث لانےکا مقصد یہ ہے کہ انبیاء علیم السلام کی دعوت کا نہج اختیار کرنا امت کے لئے ضروری ہے کہ اسی منہج کے مطابق’ دعوت و اصلاح ‘ کا کام کرے   ۔
تبلیغ اور دعوت
پیغام پہنچانے کے لیے دو چیزیں ہوتی ہیں : دعوت اور تبلیغ ۔ تبلیغ کا معنیٰ ہے کوئی   چیز دوسرے شخص کی طرف بتدریج پھینکتے رہنا ، جبکہ دعوت کا مطلب ہے :تدبیر و حکمت کے ذریعے اپنی بات دوسر وں کے قلوب و اذھان میں اتار کر ان سے اپنی بات منوانا ۔ اس اعتبار سے دعوت ، تبلیغ سے بلند تر چیز ہے ۔
دعوت میں حکمت بھی ہوتی ہے اور نصیحت بھی اور سب سے بڑھ کر دعوت کسی مقصد کے لیے دی جاتی ہے ، جبکہ تبلیغ بسا اوقات کسی مقصد کے بغیر بھی ہوتی ہے ، اس لیے قرآن مجید نے نبی اکرمﷺ کے بارے میں کہا ہے:﴿ لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا ﴾کہ نبی اکرمﷺ کی پکار تمہاری عام دعوتوں کی طرح نہیں ہے ، بلکہ اس کا  ایک مقصد اور مخصوص طریقہ کار ہے۔ امام بخاری نے بھی اسی چیز کوسامنے رکھتے ہوئے ’ دُعَاءَ النَّبِيِّ ‘سے مراد دعوت و پکار لی ہے ۔
اہل علم کا پہلا کام دعوت ہوتا ہے جو بھلائی کا حکم اور برائی سے روکتے ہوئے کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے ، جسے اصلاح بھی کہتے ہیں، قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے :
﴿وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ [آل عمران:104]
’’ اور تم میں سے کچھ لوگ ایسے ضرور ہونے چاہئیں جو بھلائی کی طرف بلاتے رہیں اور نیک کاموں کا حکم دیں، برے کاموں سےروکتے رہیں اور ایسے لوگ ہی مراد پانےوالے ہوتے ہیں ۔‘‘
دعوت الی الخیر کے آگے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ اس کا طریقہ کار یہ ہےکہ اسے پھیلانے کیلئے معروف کا حکم دیا جائے اور منکرات کو روکتے ہوئے انہیں مٹانے کی جد وجہد کی جائے تا کہ حقیقی کامیابی مل جائے ۔ گویا اس پیغام میں زبان سے کہتے ہوئے ہر قسم کی عملی جدوجہد بھی شامل ہے۔
دعوت اور مناظرہ
دعوت میں اخلاص کی بناء پر ہمدردی اور خیر خواہی کا جو جذبہ ہوتا ہے وہ داعی سے حکیمانہ انداز سے محنت کراتا ہے ، جبکہ مناظرہ اپنے موقف کے حفاظت اور مخالف پر غالب آنے کی غرض سے کیا جاتا ہے ، دعوت میں داعی اور مدعو کا تعلق ڈاکٹر اور مریض کا سا ہوتاہے ، جبکہ فرقہ وارانہ مناظروں میں ہر ایک دوسرے فریق کامخالف ہوتا ہے، ان کی حیثیت بسا اوقات پہلوانوں یا مخالف وکیلوں جیسی ہوتی ہے ، جس میں ہر ایک دوسرے کو ہرانا اور شکست دینا چاہتا ہے ۔اس میں ہمدردی اور خیرخواہی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ مناظرے میں فریق ثانی کی اصلاح بہت کم ہوتی ہے ۔ انبیاء علیم السلام کا اصل منہاج دعوت تھا مناظرہ تو وہ اس وقت کرتے جب فریق ثانی ہٹ دہرمی دکھاتا کیونکہ اگر فریق ثانی حق قبول کرنے کی بجائے فریق مخالف کی صورت میں مقابلے میں آجائے ، تب مناظرہ کرنامجبوری بن جاتی ہے ۔ ایسی صورت میں قرآن مجید نے مناظرے کی اجازت تو دی ہے ، لیکن وہ بھی بہتر سے بہتر انداز سے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے :
﴿وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ﴾[النحل: 125] اور ان سے ایسے طریقے سے بحث کیجئے جو بہترین ہو۔
یہاں جدل سے مراد مناظرہ    ہی ہے ۔مزید فرمایا:
﴿وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ [العنكبوت: 46]
(اے مسلمانو! ) اہل کتاب سےجھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریق سے جو بہترین ہو ۔
لہٰذا داعی کو اصل محنت دعوت پر کرنی چاہیے ، مناظرہ تب کر ے جب داعی کو مجبور کردیا جائے ، ایسا مناظرہ بھی احسن طریقے سے ہونا چاہئے ۔
دعوت اور فرقہ بندی کی مشکلات
فرقہ بندی شیطان کا بہت بڑا ہتھیار ہے ۔ جس طرح کسی شخص کو زمین کے ساتھ باندھ دیا جائے تو وہ اٹھ کر کھڑا نہیں ہوسکتا ، اسی طرح فرقہ بندی سے منسلک شخص اپنے فرقے اور اپنے فرقے کے نظریات اور مسائل سے جڑا ہوتا ہے ، ان پر اس قدر مطمئن ہوتا ہے وہ اپنے فرقے کے مخالف موقف کے متعلق سوچ و بچار تک نہیں کرتا ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ ﴾[الروم: 32] ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی میں مگن ہے ۔
جب کوئی آدمی دھڑے بندی کی بنا پر اپنی بات پر اتنا سخت ہوتا ہے کہ دلیل کی بھی ضرورت نہیں سمجھتا ، تو وہ دوسرے فریق کی بات کو اہمیت ہی نہیں دیتا  کہ اور نہ ہی اس کے دلائل پر غور کرتا ہے ، بلکہ  کھلم کھلا حق آجائے     تو بھی تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا ۔ جبکہ دعوت اسی لئے ہوتی ہے کہ کسی کو اپنے نظریات سے متعلق غلط اور دوسرے کے افکار کے حق ہونے کے بارے میں غور و فکر کے لئے آمادہ کرے ۔ کسی فرقے سے مضبوط جڑے ہوئے شخص کو دعوت دینا نہایت مشکل کام ہے ۔ اسی لیے آجکل مسلمانوں کی باہمی رواداری اور حکمت یہ ہے کہ مخالف فرقہ کے لوگوں سے مناظرے کرنے یا امتیازی مسائل پر الجھنے کی بجائے مشترکہ مسائل کو اہمیت دے کر نزاعی معاملات کی تحقیق پر توجہ دلائی جائے جیسا کہ رسو ل اللہ ؐ کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت یوں ہے :
﴿قُلْ يَاأَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ ﴾[آل عمران: 64]
آپ ان سے کہیے : اے اہل کتاب ! ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں مسلّم ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں ، نہ کسی کو اس کا شریک ٹھہرائیں گویا ہم میں سے کوئی شخص اللہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو رب نہ بنائے ۔
جب داعی اور مدعو کے درمیان نفرت کے دیوار گر جائے اور وہ باہمی افہام و تفہیم پر آمادہ ہوجائیں ، تب غیر محسوس طریقے سے امتیازی مسائل پر تحقیق بھی کرائی جا سکتی ہے ۔ دعوت کی کامیابی کا اہم عنصر عامل بن کر دعوت دینا بھی ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت ملاحظہ فرمائیں :
لم تقولون ما لا تفعلون کا صحیح مفہوم
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (2) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ (3﴾[الصف: 2، 3]
اے ایمان والو! ایسی بات کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ؟اللہ کے ہاں یہ سخت نا پسندیدہ بات ہے کہ تم ایسی بات کہو جو تم خود نہیں کرتے ۔
بعض لوگوں کو مذکورہ بالا آیت سے یہ مغالطہ ہوا ہے کہ جو کام تم نہیں کرتے ، اس کی دعوت نہیں دینی چاہئے ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ایسے لوگوں کو ملامت کی گئی ہے جو بے عمل ہوتے ہیں اور بڑھ چڑھ کر ’مبلّغ ‘ بن جاتے ہیں، کہ جن کاموں کا تم لوگوں کو حکم دیتے ہو ان پر خود عمل کیوں نہیں کرتے ہو ! ؟
عُرف عام
عرف اور معروف کا مادہ ایک ہے ، یعنی کسی معاشرہ کے مجموعی رویے کو عرف  و رواج کہتے ہیں ۔ عرف دیہی زندگی میں زیادہ مضبوط ہوتا ہے ، کیونکہ وہاں کے لوگ مشترکہ رسم و رواج میں جنم لیتے اور پلتے ہیں ، جبکہ شہروں میں ’ون ون کی لکڑی‘ اکٹھی ہوتی ہے یعنی مختلف اصناف، متنوّع علاقوں اور علیحدہ علیحدہ نسلوں کے لوگ جمع ہوتے ہیں ، ان کا کوئی مشترکہ اساسی رواج نہیں ہوتا ۔ اس لیے ان کے عرف کی کوئی  باضابطہ حیثیت نہیں ہوتی ۔ البتہ جب کچھ وقت کے بعد میل جول بڑھتے ہیں تو آہستہ آہستہ وہ قریب آتے جاتے ہیں ، تو نئے رواجات بھی جنم لیتے ہیں ، جنہیں تمدن (Civilization)کہا جاتا ہے ۔
انذار اور تبشیر
انذار اور تبشیر یعنی ترغیب و ترہیب دونوں چیزیں دعوت کا حصہ ہیں ، لیکن دعوت میں پہلے ڈرانا ہے کیونکہ انسانی مزاج یہ ہے کہ اگر ایک آدمی کوئی غلط کام کرتا ہےاور آپ اس کو چھوٹ دے دیتے ہیں   تو تمام لوگ غلط لائن پر چل پڑیں گے ۔ سزا کا خوف فوائد کی ترغیب سے زیادہ اثر رکھتا ہے ، بلکہ گناہ اور جرائم میں چونکہ جبلّی لطف اور مزہ ہوتا ہے ، لہذا اگر سخت سزا کا خوف ہو تو مجرم گناہ کی لذت کے باوجود اس سے دور رہتا ہے ۔ یہی اصولِ دعوت ہے کہ نیکی کی ترغیب کے ساتھ برائی سے ترہیب بھی ضروری ہے تا کہ ڈر اور سزا کا عنصر شامل ہو کر نیکی کا غلبہ ہو جائے ۔
اب تمہیدی گفتگو کے بعد ہم کتاب التوحید کی احادیث کا ترجمہ اور تشریح کر رہے ہیں ، وباالله التوفيق
کتاب التوحید(بخاری  ) کی پہلی حدیث
7371 - حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى اليَمَنِ». [راجع :1395]
ہمیں ابو عاصم نبیل نے زکریا بن اسحاق سے بیان کیا ، انہوں نے یحییٰ بن عبد اللہ بن صیفی سے  جو ابو معبد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ﷜نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے معاذ بن جبل ؓ کو یمن بھیجا ۔ (اسی حدیث کی تائید اگلی روایت کر رہی ہے جو یوں ہے )
7372 - وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا الفَضْلُ بْنُ العَلاَءِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: لَمَّا بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى نَحْوِ أَهْلِ اليَمَنِ قَالَ لَهُ: « إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَى أَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ تَعَالَى، فَإِذَا عَرَفُوا ذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، فَإِذَا صَلَّوْا، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً فِي أَمْوَالِهِمْ، تُؤْخَذُ مِنْ غَنِيِّهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فَقِيرِهِمْ، فَإِذَا أَقَرُّوا بِذَلِكَ فَخُذْ مِنْهُمْ، وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ» .
اور مجھے عبد اللہ بن محمد بن ابی الاسود نے بیان کیا کہ ہمیں فضل بن علاءنے بیان کیا ‘ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اسماعیل بن امیہ نے ‘یحییٰ بن محمد بن عبد اللہ بن صیفی سے بیان کیا ہے ‘ انہوں نے ابن عباس ﷠کے غلام ابو معبد سے سنا‘ انہو ں نے حضرت عبد اللہ بن عباس ﷠ سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ جب رسول کریم ﷺ نے معاذ بن جبل ﷜ کو یمن بھیجا تو ان سے فرمایا کہ تم اہل کتاب میں سے ایک قوم کے پاس جا رہے ہو ، سب سے پہلے انہیں اللہ کو ایک ماننے کی دعوت دینا جب وہ اس توحید کو اختیار کرلیں تو پھر انہیں بتا نا کہ اللہ تعالیٰ نے دن رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ نماز کے پابند ہوجائیں تو انہیں بتا نا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں’ زکاۃ‘فرض کی ہے ‘ جو ان کے امیروں سے لے کر انہی کے فقراء پر لو ٹادی جائے گی ،جب وہ اس کا بھی عہد کر لیں تو ان سے زکاۃ وصول کرنا اور لوگوں کے عمدہ مال لینے سے پر ہیز کرنا ۔
لطائف اسناد
امام بخاری  صحیح اور متصل اسناد سے روایت کے علاوہ عالی سند کا اہتمام بھی کرتے ہیں ، (عالی اس سند کو کہتے ہیں جس کا سلسلہ کم سے کم راویوں پر مشتمل ہو) سند جس قدر عالی ہوگی ، اسی قدر حدیث کی روایت میں مضبوطی بڑھے گی۔ امام بخاری  نے حضرت معاذؓ     کو یمن کی طرف بھیجنے والا واقعہ عالی سند سے پیش کر کے اس کی تفصیلات نازل سند سے بیان کی ہیں ۔
راویِ حدیث صحابی :حضرت معاذ بن جبلؓ (صحابی کا تعارف )
حضرت معاذ بن جبل﷜اولین انصاری صحابہ ﷡میں سے ہیں ،ان کا تعلق مدینہ کے بڑے قبیلے بنو خزرج سے تھا ۔ ہجرت سے قبل جب حضرت صہیب ؓ وغیرہ نے جب مدینہ منورہ میں اسلام کی دعوت شروع ہوئی توآپ ﷜ نے جلد ہی اسلام کی سچائی کو پہچان لیا اور بلا تأمل اسلام قبول کرلیا۔ آپ ان ستر خوش نصیبوں میں سے ایک ہیں جوہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں جاکر بیعت ’عقبہ ثانیہ ‘میں شریک ہوئے اور واپس مدینہ منورہ آ کر دعوت کا کام شروع کردیا ۔ مدینہ منورہ کے بیشتر نوجوان آپ کی دعوت پر مسلمان ہوئے ۔
آپ ﷜ خوبصورت شخصیت کے مالک: درازقد،خوبرو، سفید رنگ ، گہری اور موٹی آنکھیں ، چمکدار دانت، گھنکریالے خوبصورت بال ، کشادہ دست،کریم النفس اور خوش اخلاق تھے۔
جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو اور مہاجرین اور انصار کے درمیان ’مواخات‘ قائم کی۔ تو حضرت معاذ بن جبل ؓ کو حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے ساتھ ’رشتہ اخوت‘ میں باندھا گیا ۔
نبی کریم ﷺ سے آپ نے کتاب و حکمت کی تعلیم پوری تندہی سے حاصل کی اور دو اہم اعزازات پائے: صحابہ میں سب سے زیادہ حلال و حرام سے واقفیت ! جیسا کہ  رسول اللہ ﷺ کا کہنا ہے:
«وَأَعْلَمُهُمْ بِالحَلَالِ وَالحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ» [سنن الترمذي :3791]
" اور صحابہ کرام میں حلال و حرام   کو سب سے زیادہ معاذ بن جبلؓ جانتے ہیں ۔"
جبکہ دوسرا اعزاز مقرِی اور مفسّر ہونے کا ہے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«اسْتَقْرِئُوا القُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ:مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ» [صحيح البخاري:3760 ]
چار اشخاص سے قرآن کی قراءت  سیکھو : عبداللہ بن مسعود،سالم مولیٰ ابی حذیفہ ،ابیّ بن کعب اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم
فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ کی تعلیم و تربیت کے لیے حضرت معاذؓ کو متعین فرمایا ۔
[طبقات ابن سعد :2/265]
اور   غزوہ تبوک کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل ؓکو یمن کا عامل بنا دیا تو اسی موقع پر مذکورہ بالا ہدایات دیں ۔
شرح الحدیث
رسول اللہ ﷺ مختلف قبائل اور علاقوں کی طرف صحابہ کرا م کو داعی اور حاکم بنا کر بھیجا  کرتے : جب کوئی فرد یا قبیلہ مسلمان ہوجاتا تو ایک  نمایاں شخص رسول اللہ ﷺ کے نمائندے کی حیثیت سے حاکم بن کر ’شریعت کے نفاذ ‘کا فریضہ بھی انجام دیتا ۔ ایسے ہی دعاۃ اور نمائندگان میں حضرت معاذ بن جبلؓ شامل ہیں ، جنھیں رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف اپنا نمائندہ گورنر بنا کربھیجا ، تو روانگی کے وقت آپ ﷺ نے انہیں دعوت کے منہاج  ِ تدریج  کے بارے ہدایات دیں ۔
اس میں سب سے پہلی چیز توحید و رسالت کی دعوت و اصلاح ہے ۔ یہاں پر امام بخاری   کا مقصود یہی ہے ۔
شہادتین کی اہمیت
مذکورہ حدیث سےمعلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلموں کو پہلے شہادتین کی دعوت دی جائے گی تا کہ وہ ایمان لے آئیں ۔ جب توحید کی معرفت پوری طرح حاصل ہوجائے تب انہیں شریعت اسلامیہ کے دوسرے ارکان پر عمل کی دعوت دی جائے گی ،کیونکہ احکام شریعت کی باری مسلمان ہونے اور موحّد بننے کے بعد آتی ہے ۔
مذکورہ حدیث میں اگر چہ توحید الٰہی کا تذکرہ ہے ، لیکن اس سے مراد توحید اور رسالت دونوں ہیں ۔ کیونکہ شہادتین کا آپس میں ’چولی دامن ‘ کا ساتھ ہے ۔ اگر کوئی شخص توحید مانے ، لیکن رسالت محمدی کا انکار کرے تو وہ مسلمان نہیں ہو سکتا ، اسی طرح اگر کوئی شخص رسالت محمدی پر ایمان لےآئے ، لیکن توحید کے حوالے سے کج فکری کا شکار رہے ،تب بھی نجات ممکن نہیں ہے۔ اسی لیےایمان بالرسالۃ کو ایمان بالتوحید کے ساتھ جوڑ کر بیان کیا ہے تا کہ دونوں کی اکٹھے عملداری ہو ۔
دعوت کیا ہے ؟
دعوت علم کے بعد صرف زبان سےکہنے کا نام نہیں ہے ، بلکہ اعمال صالحہ پر لوگوں کو عملاً تیار کرنا ، ان کی مدد کرنا بھی دعوت دین کا حصہ ہے ، دعوت خیر کے بعد مقدور بھر معروف کو نافذ کرنا اور منکر کا خاتمہ کرنا بھی ضروری ہیں ، جیسا کہ حدیث میں ہے :
عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ الصَّلَاةِ مَرْوَانُ. فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، فَقَالَ: قَدْ تُرِكَ مَا هُنَالِكَ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ». [صحيح مسلم :49]
’’ طارق بن شہابؒ کہتے ہیں کہ مروان پہلا شخص ہے جس نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبے کا آغاز کیا، ایک آدمی اس کے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہا: ’’نماز خطبے سے پہلے ہے؟‘‘ مروان نے جواب دیا: جو طریقہ (یہاں پہلے) تھا، وہ ترک کر دیا گیا ہے۔ اس پر ابو سعیدؓ نے کہا: اس انسان نے ( صحیح بات کہہ کر) اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: تم میں سے جوشخص منکر (غیر مناسب کام ) دیکھے، اس پر لازم ہے کہ اسے اپنے قوت بازو سے بدل دے، اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو زبان سے حق کا اظہار کرے ، اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو اپنے دل سے اسے ضرور برا سمجھے ( گویا منکرات کو بدلنے کی ہر تدبیر ہونی چاہیے )اگر چہ آخری بات کمزور ایمان ہے۔
یعنی اگر آپ کے پاس طاقت ہے تو منکر کو طاقت سے روکو، اگر طاقت نہیں ہے تو زبان سے منع کرو ، اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تو کم ازکم دل میں نفرت کرو ۔ لیکن ہمارے ہاں یہ سارے کردار بگڑ گئے ہیں، آج امر بالمعروف   و نھی عن المنکر کا مطلب وعظ و نصیحت کی مجالس برپا کرنا اور مقررین کا حالات وواقعات سے قطع نظر  اچھی گفتگو کرلینا کافی سمجھ لیا گیا ہے ، حالانکہ حکمت و مصلحت سے تمام تر اصلاحی جدوجہد کی بڑی اہمیت ہے ۔
منہج دعوت و اصلاح
ہر شخص کی جا بجا مختلف حیثیتیں ہوتی ہیں ، مثلاً: ایک شخص اپنے اہل خانہ کو بہت سارے منکرات سے زبر دستی روک سکتا ہے ، لیکن دوستوں کو ایسا حکم نہیں دے سکتا ، انہیں صرف سمجھا سکتا ہے ، اسی طرح اپنے سے بڑے ذمہ دار کے لئے بعض اوقات صرف نشان دہی کر سکتا ہے، آخری درجہ برے کام کو محض دل کی نفرت کی بناء پر اس سے جدا ہو سکتا ہے ۔ اسلام کا مطالبہ یہ ہےکہ ہر جگہ پرآدمی اپنی حیثیت کےمطابق دعوت و اصلاح کا   کام کرے ۔
اس کے برعکس بعض لوگ اس قدر نرمی کے قائل ہیں کہ اپنے گھر میں بھی جدو جہد کرنے کو تیار نہیں ہیں،جبکہ  دوسری انتہاء یہ ہے کہ بعض لوگ اس قدر جذباتی ہو جاتے ہیں کہ مسلمان ملک میں رہنے کو ہی حرام باور کرتے ہوئے یہاں سے ہجرت کرنے کو فرض قرار دیتے ہیں ۔ میں بیسویں صدی کی ساتویں دہائی میں اپنے آبائی مرکز جامعہ اہل حدیث( مسجد قدس )چوک دالگراں ،لاہور میں مدرس اور ناظم تھا ۔ ہمارے پاس   دینی و نصابی کتب فروخت کرنے ایک بزرگ آیا کرتے تھے ، جن کا نام عبدا لعزیز تھا ، پیپلز پارٹی کے معروف لیڈرقیوم نظامی کے شائد بزرگ تھے ، ان کا تعلق شاہ اسماعیل شہید کی جماعت کے اس گروپ سے تھا جو بعد میں افغانستان اور پاکستان کے سرحدی آزاد علاقوں میں جہا دی تیاریوں کے دعویدار تھے ۔ جب وہ ہمارےہاں تشریف لاتے تو ان سےگپ شپ بھی رہتی تھی ۔ ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ پاکستان میں چونکہ پبلک سطح پر بھر پور اسلامی زندگی گزارنا ممکن نہیں ، اس لیے یہاں رہنا جائز نہیں ہے، یہاں سے ہجرت واجب ہے ۔ اس بارے میں وہ درج ذیل آیات سے استشہاد کرتے تھے :
﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا فَأُولَئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَسَاءَتْ مَصِيرًا (97) إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا (98) فَأُولَئِكَ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُمْ وَكَانَ اللَّهُ عَفُوًّا غَفُورًا﴾ [النساء: 97 - 99]
وہ لوگ جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں، جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز و ناتواں تھے، فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین فراخ نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے۔ پس ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری لوٹنے کی جگہ ہے۔
البتہ کمزور مرد ، عورتیں اور بچے بےبس ہیں کہ نہ تو کوئی تدبیر کر سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی راہ فرار پاتے ہیں امید ہے کہ اللہ ایسے بندوں کو معاف کر دے۔ کیونکہ اللہ بڑا معاف کرنے والا ہے اور بخشنے والا ہے۔
کم علمی اور نا تجربہ کاری کی بنا پر ان کے دلائل میں وزن معلوم ہوتا تو میرے لیے اور بعض اساتذہ کے لئے خاصی ذہنی مشکل پیدا ہوگئی ، با لا ٓخرمیں نے تایا جان (حافظ عبداللہ محدث روپڑی  )  کی خدمت میں حاضر ہوکر وہ تمام دلائل ان کے گوش گزار کیے ، تو انہوں نےفرمایا: قرآن مجید پر عمل کرنے کے لیے رسو ل   اللہ ﷺ کا طریقہ کار دیکھنا چاہیے، نبوی طریقے کے بغیر قرآن پر صحیح عمل نہیں ہو سکتا اور فرمایا :
کیا رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ سے فوری ہجرت کی تھی؟    آپ ﷺ   لوگوں کےانکار اور تشدد کے بعد بھی 13 سال مکہ مکرمہ میں رہے ، فوراً ہجرت نہیں کی، جس سے یہ اصول نکلتا ہے کہ انسان جہاں رہتا ہے جب وہاں اصلاح (   امر بالمعروف اور نہی عن المنکر )کے جملہ امکانات ختم ہوجائیں تو وہاں سے ہجرت کرنا فرض ہے۔  چونکہ نبی اکرمﷺ مکہ مکرمہ میں امر بالمعروف نہی اور عن المنکر مسلسل کرتے رہے ، اس لیے آپ ﷺ نے مکہ سے فوری ہجرت نہیں کی ، حالانکہ آپﷺ کے ساتھیوں پر بے پناہ ظلم ہو رہا تھا ۔ آپ ﷺ اس دن تک مکہ میں مقیم رہے جب تک کفار مکہ نے آپ کو ’شہید ‘ کرکے دعوت کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا پروگرام نہیں بنا لیا ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل مسلمان کا فرض دعوت الی الخیر یعنی امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے ، جب یہ فریضہ ادا کرنےمیں معاشرتی ، قانونی یا انتظامی مشکلات حائل ہوں ، اور دعوت کے کام کے ساتھ وہاں رہنا مشکل ہوجائے ، تب ہجرت کرنا واجب ہوتا ہے۔
اسی طرح کراچی کے ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی کا نقطہ نگاہ بھی دعوت کے بارے افراط و تفریط کا شکار تھا ۔ انہوں نے’حزب اللہ‘ کے نام سے ایک  تنظیم قائم کی ۔ تو دعوت کی غرض سے پنجاب بھی آئے۔ ان کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ مزاروں وغیرہ پر چلے جاتے  اور وہاں قبروں پر سجدہ کرنے یا دوسرے غلط کام کرنے والوں کو منع کرتے ہوئے انہیں بتاتے کہ غیر اللہ کو سجدہ کرنا شرک ہے ۔ وہاں ان کو خوب ’ زد و کوب ‘کیا جاتا یہاں تک کہ ان کی حالت غیر ہو جاتی ۔ اس تکلیف کے بعد وہ خیال کرتے کہ میں نے سنتِ انبیاء پوری کردی ہے ، کیونکہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کو ایسے ہی تکلیفیں دی جاتی تھیں ۔ محترم ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم جماعت اسلامی سے نکلنے کے بعد ان کے اخلاص   سے شدید متأثر ہوئے تو ایک سال  لاہور چھوڑ کر ان کے پاس کراچی چلے گئے ،تاکہ وہاں مل کر دعوتِ دین اور پیشہ وارانہ کام کریں ۔
یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ کشمکش اور فوری تصادم کا نقطہ نظر غلط ہے ، جبکہ اسلام کا مزاج سلامتی کے ساتھ دعوتی کام کرنے کا ہے ، وہ تشدد اور تصادم کو خود پیدا کرنے کی تلقین نہیں کرتا اور نہ ہی ’ فتنہ ‘ کے بغیر جنگ و قتال کا جہاد اختیار کرتا ہے ، بلکہ   تصادم تو دعوت میں رکاوٹ کا باعث ہوتا ہے ، اسی لیے آپ ﷺ نے     جنگ و جدال کی خواہش سے بھی منع فرمایا ہے ، ارشاد نبوی ہے :
«لا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ العَدُوِّ، وسَلُوا اللَّهَ العَافِيَةَ» [ صحیح بخاری: 296 ]
’’   دشمن سے مڈ بھیڑ کی آرزو نہ کرو، بلکہ اللہ سے عافیت مانگو۔‘‘
جو لوگ اس میدان میں کام کرنا چاہتے ہیں انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام میں ’جدل ‘     کا تصور صرف دفاع کے لیے ہے ۔ تبلیغ کا طریقہ کار اس سے بالکل مختلف ہے ۔دعوت کا منہاج تو یہ ہے:
﴿وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْلَمُونَ ﴾[التوبة: 6]
’’ اور اگر ان مشرکوں میں سے کوئی آپ سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دیجئے تاآنکہ وہ (اطمینان وسکون سے) اللہ کا کلام سن لے ،پھر اسے اس کی’ جائے امن‘ تک پہنچادو ۔ یہ اس لیے (کرنا چاہئے ) کہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے ۔ ‘‘
یعنی کسی مشرک کو آپ جبراً مسلمان نہیں بنا سکتے اسے پہلے  اسلام کی حقانیت سمجھائیے اور اسے امن کی جگہ پہنچائیں ، تاکہ وہ آپ کی دعوت آزاد انہ اور اپنی مرضی سے قبول کرے۔
لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ  کا یہی مطلب ہے ۔
دعوت میں تدریج
توحید و رسالت کو مان کر جب کوئی شخص اسلام میں داخل ہوجائے ، تب اسے عبادات او ر نیک اعمال کی دعوت دی جائے ، لیکن اس دعوت میں   تدریج کو ضرور ملحوظ خاطر رکھا جائے ۔
تدریج کا مطلب یہ ہے کہ داعی یک بارگی تمام شرعی احکام کا بوجھ مخاطب کی گردن پر نہ لادے ،بلکہ باری باری شریعت کے احکام لوگوں کے سامنے پیش کرے۔ ۔ دین ایک فطری نظام ہے لہذا اس نظام کو اگر حکیمانہ ترتیب سے پیش نہ کیا جائے تو مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوسکتے۔ اسی نبوی طریقِ کار کی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نےوضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ مَاهَكٍ، قَالَ: إِنِّي عِنْدَ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، إِذْ جَاءَهَا عِرَاقِيٌّ، فَقَالَ: أَيُّ الكَفَنِ خَيْرٌ؟ قَالَتْ: وَيْحَكَ، وَمَا يَضُرُّكَ؟ " قَالَ: يَا أُمَّ المُؤْمِنِينَ، أَرِينِي مُصْحَفَكِ؟ قَالَتْ: لِمَ؟ قَالَ: لَعَلِّي أُوَلِّفُ القُرْآنَ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ يُقْرَأُ غَيْرَ مُؤَلَّفٍ، قَالَتْ: وَمَا يَضُرُّكَ أَيَّهُ قَرَأْتَ قَبْلُ؟ " إِنَّمَا نَزَلَ أَوَّلَ مَا نَزَلَ مِنْهُ سُورَةٌ مِنَ المُفَصَّلِ، فِيهَا ذِكْرُ الجَنَّةِ وَالنَّارِ، حَتَّى إِذَا ثَابَ النَّاسُ إِلَى الإِسْلاَمِ نَزَلَ الحَلاَلُ وَالحَرَامُ، وَلَوْ نَزَلَ أَوَّلَ شَيْءٍ: لاَ تَشْرَبُوا الخَمْرَ، لَقَالُوا: لاَ نَدَعُ الخَمْرَ أَبَدًا، وَلَوْ نَزَلَ: لاَ تَزْنُوا، لَقَالُوا: لاَ نَدَعُ الزِّنَا أَبَدًا، لَقَدْ نَزَلَ بِمَكَّةَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَجَارِيَةٌ أَلْعَبُ: {بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ} [القمر: 46] وَمَا نَزَلَتْ سُورَةُ البَقَرَةِ وَالنِّسَاءِ إِلَّا وَأَنَا عِنْدَهُ "، قَالَ: فَأَخْرَجَتْ لَهُ المُصْحَفَ، فَأَمْلَتْ عَلَيْهِ آيَ السُّوَرِ. صحيح البخاري (6/ 185)
’’قرآن میں سب سے پہلے مفصلات کی سورتوں میں سے ایک سورۃ العلق نازل کی گئی، جس میں جنت اور جہنم (سندع الزبانية ابھی جہنم کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں) کا ذکر ہے، یہاں تک کہ جب کثرت سے لوگ اسلام کے دائرے میں آگئے تب حلال و حرام کے احکام نازل ہوئے۔ اگر بالکل شروع ہی میں حکم آجاتاکہ’ شراب نہ پیو‘ تو لوگ کہتے کہ ہم ہرگز نہ چھوڑیں گے اور اگر یہ حکم دیاجاتا کہ’ زنا نہ کرو‘ تو لوگ کہتے ہم ہرگز زنا نہ چھوڑیں گے۔‘‘ [بخاری: 4993 ]
قرآن مجید کی مکی اور مدنی سورتوں کا الگ الگ مطالعہ کریں ، تو یہ واضح ہوتا ہےکہ مکی سورتوں میں زیادہ تر ایمانیات اور اخلاقیات کی تعلیم دی گئی ہے ، جبکہ مدنی سورتوں میں احکامِ شریعت کے متعلق گفتگو کی گئی ہے ۔
حضرت حارث بن حارث العائذیؓ کی روایت سے بھی مکہ مکرمہ میں نبوی دعوت کے اسلوب پر روشنی پڑتی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں :
میں زمانہ جاہلیت میں مکہ مکرمہ گیا ، دیکھا کہ لوگ محمد ﷺ کے گرد جمع ہیں ، میں نے اپنے والد سےپوچھا کہ یہ لوگ کیوں اکٹھے ہیں ؟ اس نے کہا یہ ایک صابی (محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب کو اہل مکہ صابی یعنی ’ملغوبہ دین‘ والا کہا کرتے تھے ) کے گرد جمع ہیں ، میں نے قریب جاکر دیکھا تو آپ ﷺ انہیں توحید اور ایمان کی دعوت دے رہے تھے۔ [ التاریخ الکبیر :2/262]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ دعوت وتبلیغ میں تدریج کا لحاظ رکھا اور دوسرے مبلغین کو بھی اصولِ تدریج کی تلقین فرمائی۔جیساکہ حضرت معاذ کو تدریج اختیار کرنےکی ہدایت دی ، کہ سب سے پہلے انہیں توحید و رسالت کو قبول کرنےکی دعوت دیں ، جب وہ آپ کی یہ بات تسلیم کرکے اسلام میں داخل ہوجائیں تب آپ انہیں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں ، جب وہ نمازی بن جائیں اور ان میں ایک طرح کی اجتماعیت پیدا ہوجائے ، تو پھر انہیں بتانا کہ ان پر زکوۃ فرض ہے ۔
تکمیل شریعت اور تدریج
اللہ رب العزت نے ہمیں قرآن و حدیث میں دو چیزیں عنایت فرمائی ہیں: ایک ’شریعت ‘دوسری ’منہاج شریعت‘ ۔ شریعت سے مراد وہ تمام احکام ہیں جو تکمیل دین کےساتھ پورے ہوچکے ہیں ، جبکہ شریعت کے نفاذ اور دعوت کے طریقہ کار کو’ منہاج ‘سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ شریعت میں اب تدریج نہیں ہے کہ کوئی شخص کہے کہ جن لوگوں کو اسلام کی طرف نئی نئی دعوت دینی ہے ،ان پر شراب حرام نہیں ہے ، جیساکہ ابتدائے نبوت میں صحابہ پر حرام نہ تھی ، تو یہ نظریہ بالکل غلط ہے، کیونکہ اس وقت تک تو شریعت مکمل ہی نہیں تھی ، اب جب کہ دین و شریعت اپنی کامل شکل میں موجود ہیں ، تو اب انہیں دوبارہ ناقص بنانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ البتہ تربیت میں تدریج ہے کہ پہلے شریعت تعلیم و دین کے گول (جزاء و سزا ) کی تعلیم دیں گے تا کہ وہ عملی احکام کی تعمیل پر تیار ہو جائیں پھر احکام کی تفصیلات بتائی جائیں گی ۔
نفاذ شریعت کا طریقہ کار
جب شریعت مکمل ہوگئی ہے تو نفاذ بھی مکمل ہو گیا ،اب اسے پھر سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں کیا جا سکتا ، واضح رہے کہ قرآن مجید کا باہمی ربط ہے ،اس ربط کے ذریعے بھی قرآن مجید کا ایک مفہوم متعین ہوتا ہے جبکہ نبی اکرمﷺ کی احادیث سے بھی مفاہیم متعین ہوتے ہیں   جن کی شروط و قیود بھی واضح ہو تی ہیں ۔ شریعت کی بتدریج عملداری کی مثال یوں سمجھیے کہ ایک کافر شخص مسلمان ہونا چاہتا ہے تو سب سے پہلےلا إله الا الله محمد رسول الله پڑھے،   جب اس نے لا إله الا الله محمد رسول الله پڑھ لیا تو وہ اسلام میں مکمل داخل ہوگیا ، اب پہلے اسے نماز کی ترغیب دی جائے گی ، بعد میں درجہ بدرجہ دوسرے احکام پر عمل کرایا جائےگا ۔
اسی طرح کسی ملک اور علاقے میں حکومت کی طرف سے اسلامی شریعت کی عملداری مقصود ہو تو کلمہ طیبہ کی طرح مکمل شریعت کا اعلان ہوگا ، جبکہ دورِ حاضر میں ’قرآن ‘ کے ’دستور‘ ہونے کا اعلان کر دیا تو موقع و محل کے مطابق بتدریج شرعی احکام ( حلال و حرام ) کی ہدایات کا اجراء بھی ہوتا رہے گا ۔
نظام زکوۃ
رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذؓ کو’ منہاج دعوت‘ سمجھاتے ہوئے فرمایا: جب مسلمانوں کے لئے اقامت ِ صلاۃ کے بعد زکوۃ دینے کا مرحلہ آ جائے تو ان کے امیر لوگوں سے زکوۃ لے کر انہی کے غربا میں تقسیم کی جائے گی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات پیدا نہ ہو کہ حکمران ہمارا مال کھا رہے ہیں ، جیسے ہمارےبھائی مشرقی پاکستان کے لوگ سمجھتے تھے کہ مغربی پاکستان ہمارے دیئے ہوئے ٹیکس اور پیداوار سے عیاشی کررہا ہے ، نتیجتاً ہمارا مشرقی بازو ہم سےجدا ہوگیا۔ آج سندھ اور بلوچستان کے صوبے یہی الزام پنجاب کو دیتے ہیں کہ پنجابی ہمارا ٹیکس اور مخصوص پیداوار کھارہے ہیں ۔   اس لیے لوگوں کے ذہنوں کو شکوک و شبہات سے بچانے کےلیے اصول یہ بنایا ہے کہ جس علاقے سے زکوۃ اکٹھی کی جائے پہلے وہیں کے غرباء پر تقسیم کیجائے ۔ واضح رہے کہ مال زکوۃ وغیرہ میں امیر کا کچھ حق نہیں ہے ، البتہ حکمرانوں اور سرکاری ملازمین کے لئے شرعی ہدایت یہ ہے کہ جو غنی ہوں، وہ تو خزانہ سے تنخواہیں اور دیگر مراعات نہیں لے سکتے ، البتہ اگر   محتاج ہوں تو ملکی رواج کے مطابق تنخواہ وغیرہ لے سکتے ہیں ، جیساکہ ارشاد ربانی ہے :
﴿وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾[النساء: 6]
" اور جو سرپرست اور ذمہ دار کھاتا پیتا ہو اسے چاہئے کہ وہ ما تحتوں کے مال سے کچھ نہ لے اور جو محتاج ہو وہ اپنا حق الخدمت دستور کے مطابق لے سکتا ہے ۔‘‘
زکوۃ میں کیسا مال لیا جائے ؟
رسول اللہ ﷺ نے یمن کے گورنر حضرت معاذ ؓ کو زکاۃ لینے کا اصول بتاتے ہوئے فرمایا :
« فَإِذَا أَقَرُّوا بِذَلِكَ فَخُذْ مِنْهُمْ، وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ»
" جب وہ زکاۃ دینے پر آمادہ ہیں تو ان سے زکاۃ لیتے ہوئے عمدہ مال لینے سے پر ہیز کرنا ۔"
یعنی جب وہ زکوۃ دینے پر آمادہ ہیں تو زکوۃ لیتے ہوئے احتیاط کرنا کہ کہیں اپنے عہدے اور طاقت کے نشہ میں ان کے اچھے اور نفیس مال پر ہاتھ ڈالنے لگ جاؤ ۔ چونکہ زکاۃ اللہ کے خوف سے دی جاتی ہے ،لہذا انسانی نفسیات کا دھیان رکھا گیا ہے کہ متوسط درجے کا مال وصول کیا جائے ۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مال داروں کو رغبت دلائی گئی ہے کہ اللہ کے راستے میں پسند یدہ مال دینا حقوق کی بہترین ادائیگی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :﴿ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ ﴾[آل عمران: 92]
تم ہر گز نیکی حاصل نہ کر سکو گے جب تک کہ اپنی پسندیدہ اشیاء کی خیرات نہ کرو ۔ تم جو بھی خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ بلا شبہ اسے جاننے والے ہیں ۔مزید فرمایا:
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ ﴾[البقرة: 267]
’’ اے ایمان والو ! جو کچھ تم نے کمایا ہے اور جو کچھ ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا ہے اس میں سے اچھی چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کرو ۔ کوئی ردی چیز خرچ کرنے کا قصد نہ کرو ، حالانکہ وہی چیز اگر کوئی شخص تمہیں دے تو ہرگز قبول نہ کرو گے ،الا یہ کہ چشم پوشی کر جاؤاور بخوبی جان لو کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے اور کائنات کی سب چیزیں اس کی تعریف کررہی ہیں ۔ ‘‘
مذکورہ بالا آیت میں خبیث اور طیب کو ایک دوسرے کے مقابلے میں استعمال کیا گیا ہے ، اس سےثابت ہوا کہ یہاں طیب سےمراد عمدہ کوالٹی کا مال ہے ، اور خبیث سے مراد نکمی اور ردی چیز ہے ۔ جیساکہ درج ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے :
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ۔۔۔۔۔ كَانَتِ الْأَنْصَارُ تُخْرِجُ إِذَا كَانَ جِدَادُ النَّخْلِ مِنْ حِيطَانِهَا أَقْنَاءَ الْبُسْرِ، فَيُعَلِّقُونَهُ عَلَى حَبْلٍ بَيْنَ أُسْطُوَانَتَيْنِ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْكُلُ مِنْهُ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ، فَيَعْمِدُ أَحَدُهُمْ فَيُدْخِلُ قِنْوًا فِيهِ الْحَشَفُ، يَظُنُّ أَنَّهُ جَائِزٌ فِي كَثْرَةِ مَا يُوضَعُ مِنَ الْأَقْنَاءِ، فَنَزَلَ فِيمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ:وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ [البقرة:267] (بحواله سنن ابن ماجه :1822، صحیح )
 حضرت براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں :۔۔۔   انصار کی عادت تھی کہ جب کھجور کے درختوں کا پھل اتارا جاتا تو وہ اپنے باغوں سے کھجوروں کے چند خوشے (صدقے کے طور پر) نکالتے اور ان کو مسجد نبوی میں دو ستونوں کے درمیان ایک رسی پر لٹکا دیتے۔ نادار مہاجر ان میں سے (حسب ضرورت) کھا لیتے۔ (بعض اوقات) کوئی آدمی ان میں نکمی کھجوروں کا خوشہ بھی شامل کر دیتا اور سمجھتا کہ اتنے زیادہ خوشوں میں اس کا خوشہ بھی چل جائے گا۔ جن افراد نے ایسا کیا تھا ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: وَلَا تَيَمَّمُواٱلْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ اس میں  نکمی چیز  ( دینے کا )            کا قصد نہ کرو ۔
دوسری حدیث میں یوں ہے :
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ أَقْنَاءً، أَوْ قِنْوًا، وَبِيَدِهِ عَصًا، فَجَعَلَ يَطْعَنُ يُدَقْدِقُ فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ وَيَقُولُ: «لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَا، إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». [ سنن ابن ماجه :1821 ، حسن ]
 حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ (گھر سے مسجد میں) تشریف لائے (تو دیکھا کہ) کسی آدمی نے (کھجور کے) خوشے یا ایک خوشہ (مسجد میں) لٹکا دیا تھا۔ آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی، آپ اس خوشے کو کھٹ کھٹ چھڑی مارنے لگے اور آپ ؐفر ما رہے تھے: یہ صدقہ کرنے والا چاہتا تو اس سے بہتر صدقہ دے سکتا تھا۔ اس صدقے کا مالک قیامت کے دن نکمی کھجوریں ہی کھائے گا۔ چنا نچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«وَلاَ يَقْبَلُ اللهُ إِلَّا الطَّيِّبَ » [صحيح البخاري :1410]" اللہ تعالیٰ عمدہ کے سوا کچھ بھی قبول نہیں کرتا ۔"
حضرت انس ؓ نے اپنے شاگرد کو یہ حدیث سنائی کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے زکوۃ کے حوالے سے انہیں یوں تحریری ہدایات دیں :
أَنَّ أَنَسًا(رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) حَدَّثَهُ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ( رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) كَتَبَ لَهُ الصَّدَقَةَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « وَلاَ يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِِِِمَةٌ وَلاَ ذَاتُ عَوَارٍ وَلاَ تَيْسٌ إِلَّا مَا شَاءَ المُصَّدِّقُ»۔ [صحيح البخاري :1455]
حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت انس ؓ کو انہیں رسول اللہ ﷺ کے بیان کردہ احکامِ زکوٰۃ کے مطابق لکھا کہ زکوٰۃ میں بوڑھے، عیب دار جانور اور مینڈھا نہ لیا جائے ‘ ہاں ! اگر صدقہ وصول کرنے والا مناسب سمجھے تو( مینڈھا ) لے سکتا ہے۔
یہ جائز نہیں کہ محض گنتی پوری کرنے کے لیے   نکما اور گھٹیامال دیا جائے اور نہ ہی زکوۃ وصول کرنے والے عامل کےلیے حلال ہے کہ وہ اعلیٰ ترین مال لے کر زیادتی کرے ، اسے مظلوم کی بددعا سے بچنا چاہئے ، کیونکہ دوسری روایت میں ساتھ ہی یہ الفاظ بھی ہیں :
« وَاتَّقِ دَعْوَةَ المَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ»[ صحيح البخاري:1496]
" مظلوم کی بد عا سے بچو ، بلاشبہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی آڑ نہیں ہے ۔"
اہم فوائد
1.      انبیاء رعلیم السلام کا بنیادی فریضہ دعوت و اصلاح ہے ۔ یہی ذمہ داری امت محمؐد کی ہے ۔
2.      دعوت میں بنیادی چیز ’توحید ‘ہے ۔
3.      توحید صرف شہادتین   کا نام نہیں بلکہ معرفت الٰہی کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے گہرے تعلق اور عمل صالح پر کاربند رہنے کا نام ہے ۔
4.      شریعت کامل ہے ، اس کے کسی حکم کو موقوف نہیں کیا جاسکتا ، البتہ دعوت و اصلاح میں تدریج اختیار کی جا نی چاہیے ۔ گویا الأھم فالأھم کے اصول پر دعوت دی جائے ۔
5.      اسلامی دعوت میں پہلے توحید ، پھر نماز ، پھر زکوۃ ، پھر روزہ ، پھر دوسرے نيك اعمال ہیں ۔
6.      زکوۃ جس علاقے کے امراء  سے وصول کی جائے گی ، وہیں کے غربا پر پہلے تقسیم کی جائے گی ۔
7.      زکوۃ میں متوسط مال لیا جائے گا ، نہ اعلیٰ ترین اور نہ گھٹیا ترین ۔
مظلوم کی بددعا سے بچنا چاہئے ، کیونکہ مظلوم کی آہ اور اللہ کے ہاں قبولیت کے درمیان کوئی آڑ نہیں ہے ۔