قرآنِ کریم کی دستوری حیثیت اور اس کاتاریخی ارتقاء
امریکا نے نائن الیون کے حادثے کو بہانہ بنا کر جن جہادی قوتوں کو کچلنے کے لیے افغانستان پر حملہ کیا تھا، بیس سال کے بعد انہی کے ہاتھوں ہزیمت و شکست خوردگی کے زخم چاٹتے ہوئے بھاگا ہے ، جنہیں مٹانے کا عزم لے کر 44 ممالک کی افواج اور انٹیلیجنس ایجنسیز کا لشکر جرار آیا تھا اور پھر مزید 20 سال اسلامی تہذیب اور افغانی اَقدارکو مٹاتے رہے،ایسی تمام ترجدو جہدکےبعداسلام الإسلام یعلوا ولا یعلی.[صحيح البخاري،ترجمةالباب:79] بن کر اٹھا اور اب ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ،إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾ [الإسراء: 81] کا نقارہ چار دانگ عالم میں بج رہا ہے۔ طالبان کی ایسی جان گسل محنتوں کے بعد امریکا اور طالبان کے درمیان جو معاہدہ ہوا، ا س کے مطابق طالبان کو ’جمہوریت ‘کے بجائے ’امارت اسلامیہ ‘ کے اعلان کا شرف حاصل ہوا ۔
واضح رہے کہ مومنوں کو خوشی اور شادمانی کے لمحات میں ہر وقت چوکنا رہنے بھی کی ضرورت ہے ، کیونکہ شیطانی قوتوں کو تا قیامت مہلت ملی ہوئی ہے ۔ اب منافقت کا دور دورہ ہے ، جیسا کہ قرآن مجید نے خبردار کیا ہے :
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَاعَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ (118) هَاأَنْتُمْ أُولَاءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلَا يُحِبُّونَكُمْ وَتُؤْمِنُونَ بِالْكِتَابِ كُلِّهِ وَإِذَا لَقُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا عَضُّوا عَلَيْكُمُ الْأَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ قُلْ مُوتُوا بِغَيْظِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (119) إِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُوا بِهَا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (120﴾[آل عمران: 118 - 121]
ترجمہ: مومنو! غیروں کو اپنا رازدار نہ بنانا ،یہ لوگ تمہاری خرابی میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کریں گے بلکہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں مشقت کا سامنا رہے ۔ ان کی زبانوں سے تو بغض ظاہر ہو چکا ہے جبکہ جو کچھ ان کے سینوں میں مخفی ہے ،وہ کہیں زیادہ خطرناک ہے ، اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تمہیں اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دی ہیں....جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم ایمان لے آئے،لیکن جب وہ تنہا ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے سبب انگلیاں کاٹنے لگتے ہیں ، ان سے کہدو : اپنے غصے میں مر جاؤ! اللہ تمہاری دلی سازشوں سے خوب واقف ہے۔اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر تمہیں رنج پہنچے تو خوش ہوتے ہیں، لہذا اگر تم تکلیفوں کو برداشت اور نافرمانی سے کنارہ کشی کرتے رہو گے تو ان کا فریب تمہیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا، یہ جو کچھ کرتے ہیں، اللہ اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔
واضح رہے کہ اگرچہ امریکہ نے طالبان کے شکنجوں میں آئی اپنی گردن چھڑانے کے لیے ان کے بعض اہم مطالبے مان لیے ہیں ، لیکن   وہ افغانستان میں اسلامی نظام ِ حکومت اور افغانی اقدار و تہذیب کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا ؟! اب سپر قوتوں کی یہ کوشش ہے کہ کسی طرح افغانستان کے اندر قبائلی اور فرقہ وارانہ ٹوٹ پھوٹ ہو جیسا کہ نوے کی دھائی میں بھی لسانی (پشتو اور فارسی ) تفرقہ کی بناء پر طالبان کی حکومت کو مضبوط نہیں ہونے دیا گیا تھا ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ امریکا اور اس کے حواریوں کا سب سے بڑا ہتھیار مسلمانوں کی ’ فرقہ وار یت‘ ہے۔ ان کا ہمیشہ یہی حربہ رہا ہےکہ وہ جہاں بھی قبضہ کرنا چاہتے ہیں ،وہاں پہلے مذہبی ، لسانی یا نسلی تفریق کے ذریعے قوموں کو کمزور کرتے ہیں پھر   ان کے ملک و ملت پر قبضہ کرلیتے ہیں۔
چنانچہ معاہدے میں یہ مان لینے کے باوجود کہ امریکا افغانستان کے معاملے میں مداخلت نہیں کرے گا، اس کی پوری کوشش رہی  کہ شمالی علاقہ جات کے فارسیوں اور جنوب کے پشتونوں کے درمیان لسانی مسئلہ کھڑا کرکے جنگ کا ’ڈرامہ‘ رچایا جائے ، لیکن طالبان کی اتنی بڑی قربانیوں کی بنا پر رب العالمین نے رحم کرتے ہوئے اس فتنے کا ابتدائی خاتمہ تو کر دیا ہے جبکہ مستقبل کا خدا حافظ !
اب ان کی بھر پور کوشش ہے کہ دستور سازی کے بہانے مسلمانوں میں فرقہ بندی کو ہوا دی جائے اور عراق ، شام ، یمن اور لیبیا وغیرہ کی طرح یہاں بھی مذہبی اور مسلکی ہوّا کھڑا کرکے شیعہ اور سنی وغیرہ کو باہم لڑایا جائے۔
ملت اسلامیہ کی تاریخ شاہد ہے کہ حکومتیں قومی ہوں یا رنگ و نسل اور لسانی دھڑوں پر مبنی، ان سب کو متحد کرنے کا واحد حل قرآن کریم کو ’دستور‘ تسلیم کر لینے کا اعلان ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اسلامی مملکت کا دستور’ قرآن مجید‘ ہی تھا ۔ چنانچہ جب دو شخص آپؐ کی خدمت اقدس میں اپنا کیس لے کر حاضر ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کرنے سے پہلے ہی بتا دیا :
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ»[ صحيح البخاری :2724]
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میں تمہارے درمیان لازماً کتاب اللہ(اللہ کی شریعت)سے فیصلہ کروں گا ۔
خطبہ حجۃ الوَداع میں نبی اکرم ﷺ نے جب اپنی امت کو زندگی کے اہم شعبوں کے لئے اسلام کی بنیادی تعلیمات کا نچوڑ پیش کیا تھا تو ان میں یہ ہدایت بھی شامل تھی :
«وَلَوِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللهِ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا».[ صحيح مسلم:1838]
اپنے حکمران کی اطاعت کرو خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، جب تک وہ تمھارے معاملات کو اللہ کی کتاب (قرآن)کے مطابق چلاتا رہے۔
یہ حقیقی اعلان تھا کہ اسلامی حکومت کا ’دستور‘ قرآن ہی ہوتا ہے جس کی رو سے فرد و معاشرہ ہو یا سیاست و معیشت کے معاملات ، سب کا کتاب وسنت کے دائرے میں رہنا ضروری ہے ، یہی نفاذ شریعت ہے ۔
رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے بعد خلافت راشدہ کا آغاز ہوا، تو مملکت اسلامیہ کا دستور قرآن و سنت ہی تھا ، بلکہ خلافت کا تصور ہی یہ ہے کہ وحی الہی (کتاب وسنت ) کی پابندی کرتے ہوئے انتظام و انصرام اور جہاد و قتال وغیرہ حکمرانی کے تمام معاملات شرعی ہدایات کے مطابق انجام دیے جائیں ۔
آں حضرت ﷺ کے بعد جب خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ منتخب ہوئے تو انہوں نے بیعت کے بعد پہلا خطبہ ارشاد فرمایا :
جب تک میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کروں تم میری اطاعت کرنا لیکن اگر میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کروں تو تم پرمیری کوئی اطاعت فرض نہیں ہے۔ اچھا اب جاؤ!نماز پڑھو، اللہ تم پر رحم فرمائے۔ [البدایہ والنہایۃ ۵/۲۴۸]
یہی قرآن وسنت کی دستوری حیثیت کا اعلان تھا گویا خلافت راشدہ کا آغاز ’قرآن وسنت‘ کو حکومتی دستور تسلیم کرنے کے ساتھ ہوا تھا۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق ؓنے بھی اپنے پہلے خطبے میں یہی اعلان کیا تھا اور اس میں یہ اضافہ بھی فرمایا تھا کہ میں کتاب وسنت کے ساتھ ساتھ اپنے پیش رو خلیفہ کی روایات بھی قائم رکھوں گا، جبکہ خلیفہ ثالث حضرت عثمانؓ کی خلافت کا فیصلہ کرتے وقت متفقہ ’مجاز اتھارٹی‘ حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے جب حضرت عثمان بن عفانؓ کی خلافت کا اعلان کیا تو ان کی بیعت اسی شرط پر کی تھی :
«أُبَايِعُكَ عَلَى سُنَّةِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَالخَلِيفَتَيْنِ مِنْ بَعْدِهِ»[صحيح البخاری : 7207]
میں آپ کی بیعت اس شرط پر کرتا ہوں کہ آپ’ کتاب وسنت‘ کی پیروی کریں گے اور نبی ﷺ کے دو خلفاء   ابوبکرؓ وعمر ؓ کی روایات کی پاس داری رکھیں گے۔ اسے خلافت ِ راشدہ بھی کہتے ہیں ۔
ان کے بعد حضرت علی ؓ( کرم اللہ وجہہ )نے بھی اپنی حکومت کی بنیاد اسی ’منہا ج‘ کو قرار دیا تھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ شریعت اور خلفاے راشدین کے فیصلوں کو اسلامی حکومت میں صرف راہ نما اصول یا ماخذ ِقانون (Source of Law  ) کا درجہ حاصل نہیں ہے بلکہ خود کتاب و سنت بنیادی قانون اور دستور کی حیثیت رکھتے ہیں، آجکل کتاب وسنت کی اسی دستوری حیثیت کا انکار دستور و قانون سازوں کے ہاتھ میں قرآن وسنت سے انحراف کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ عہد نبوت سے لے کر’ اختتام خلافت‘ تک تمام اسلامی حکومتوں کا دستور ’قرآن مجید‘ رہا ہے۔ جس کی دائمی حتمی تعبیر ’سنت ‘ ہے اُسے شریعت بھی کہتے ہیں ۔
مزید وضاحت کے لئے چند خاص واقعات پیش ہیں حضرت حسن بن علی ؓ نے جب اپنی حکومت امیر معاویہؓ کے سپرد کی تو یہی شرط لگائی تھی ، اس صلح کی بشارت رسول اللہ ﷺ نے پہلے دے دی تھی :
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَى فَخِذِهِ وَيَقَوْلُ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ ابْنِي هَذَا سَيِّدًا، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يُصْلِحَ اللهُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنْ أُمَّتِي».[السنن الكبرى للنسائي (9/ 104) حدیث نمبر:10011]
حضرت انس ؓبیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دےرہے ہیں ،جبکہ حضرت حسن بن علیؓ آپ کی ران پر بیٹھے ہیں ، چنانچہ آپ فرمارہے تھے : مجھے امید ہے کہ میرا یہ بیٹا ’سردار‘ ہوگا   اور مجھے یہ بھی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ا س کے ذریعے میری امت کے دو گروہوں میں صلح کرا دے گا ۔
حضرت حسنؓ اور امیر معاویہ ؓ  نے انتقالِ اقتدار  کے جس معاہدے پر دستخط کیے تھے ، اس کے متعلق تاریخ الحموی میں واضح طور پر لکھاہے :
هذا ما صالح علیه الحسن بن علی بن أبی طالبؓ معاویة بن أبی سفیان ؓ علی أن یسلم إلیه ولایة أمر المسلمین علی أن یعمل فيهم بکتاب الله و سنة نبیه ﷺ و سیرۃ الخلفاء الصالحین ۔ [تاریخ الحموی :77]
یہ وہ نوشتہ ہے جس پر حسن بن علی ؓ نے معاویہ بن ابی سفیانؓ کے ساتھ مصالحت کی ہے، انہوں نے مسلمانوں کی ولایت و حکومت کو امیر معاویہؓ کے سپرد اس شرط پر کیا ہے کہ وہ مسلمانوں میں کتابِ الہی، اس کے رسولؐ کی سنت اور خلفاء راشدین ؓکے طریقے پر عمل پیرا ہوں گے ۔
خلافت راشدہ کے بعد خلافت بنو امیہ اور خلافت بنو عباس میں بھی دستور ’قرآن‘ ہی تھا ۔ جس کی دائمی تعبیر سنت رسول ؐ ہے۔ خلافت عباسیہ کے دوسرے خلیفہ منصور کی امام مالک  سے ملاقات میں ’قرآنی دستور‘ کی ’ نئی تعبیر   ‘متعین کرنے کا مسئلہ  پیش آیا  تو امام مالک  نے ایسی کسی بھی’ دستاویز‘ کو تیار کرنے سے معذرت کر لی تھی پھر اس کے پوتے ہارون الرشید  کو جب پتہ چلا کہ امام دار الہجرہ مالک بن انس  نےسنت و حدیث پر مشتمل ایک اہم کتاب ترتیب دی ہے ، تو اس نے حاضر ہوکر عرض کی کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کی کتاب (مؤطا ) کو ہی کعبہ شریف میں لٹکا کر پوری’ اسلامی خلافت‘ کے لئے اسے حتمی تعبیر قرار دے دوں  ؟ تو امام مالک نےفرمایا: اس میں احادیث رسول ﷺ کے ساتھ ساتھ صحابہ اور تابعین کے اجتہادات بھی موجود ہیں ، اس لیے میں قطعاً یہ نہیں کہہ سکتا کہ ’ مؤطا ‘ دستور ِ قرآن کی مکمل تعبیر ہے گویا ’مؤطا ‘کو قرآن کریم کی  حتمی تعبیر کے طور پر پوری ’اسلامی خلافت‘ میں تسلیم کرانا مناسب نہیں ہے ۔[الطبقات لابن سعد                :9/441]
اسی بناء پر امام مالک رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کی طرف اشارہ کرکے فرمایاکرتے تھے :
«كل أحد يؤخذ من قوله ويرد إلا صاحب هذا القبر _ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ _ هو من قول مالك رحمه الله، بل في الطبراني من حديث ابن عباس __رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ __ رفعه: ما من أحد إلا يؤخذ من قوله ويُدَعُ .وأورده الغزالي في الإحياء بلفظ: ما من أحد إلا يؤخذ من علمه ويترك إلا رسول الله__ صلى الله عليه وسلم _ ومعناه صحيح.»[1] دوسرے الفاظ میں:«ما من أحد إلا يؤخذ من قوله ويرد إلا صاحب هذا القبر»[ البداية والنهاية:14/ 160]
ان عبارتوں کا خلاصہ (مفہوم )یہ ہے کہ کسی بھی شخص کی بات لی جاسکتی ہےا ور ردّ بھی کی جاسکتی ہے سوائے اس قبر والے( نبی ﷺ ) کے ۔
حاصل یہ ہے کہ امام مالک  اور دیگر ائمہ کے نزدیک قرآن کی دستوری حیثیت پر تو اتفاق تھا لیکن فقہاء اور قضاۃ کے مختلف فیصلوں کو وہ اسلامی مملکت میں مستقل تعبیر قرار دینا غلط سمجھتے تھے کیونکہ اس کی حتمی تعبیر صرف سنت ِ رسول ؐ ہے ،جس کی جزوی تدوین کا ایک اچھا نمونہ ’ مؤطا‘ ضرور ہے لیکن وہ کامل و اکمل نہیں ہے۔
خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد سعودی عرب پہلا اسلامی ملک ہے جس نے 1924ء میں حجاز پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد جب باقاعدہ  المملکةالعربيةالسعوديةکے نام سے ایک ’ اسلامی مملکت‘ کی بنیاد رکھی تو اہم مسئلہ ’دستور ‘ بنانے کا تھا ، چنانچہ بعض مصری علماء اور قانون دانوں نے مشورہ دیا کہ ہم آپ کو ایک مثالی   فقہ و قانون  تیار کر دیتے ہیں جو کتاب و سنت کا جوہر ہوگا ، لیکن شاہ عبدالعزیز  آل سعود نے یہ کہہ کر ان کی یہ تجویز مسترد کردی کہ میں قرآن کو نافذ کر رہا ہوں ، جس میں یہ جوہر پہلے ہی موجود ہے ،لہذ مسلمانوں کے لئے ا للہ کی کلام ’قرآن‘ بحیثیت    ’دستور ‘  کافی ہے ۔ جب UNO کی تشکیل کے بعد تمام رکن ممالک نے اپنے اپنے دساتیر UNO کو دیے تو   وہاں سعودی عرب کے خانےمیں قرآن مجید ہی رکھا گیا ۔ اب تک شاہ عبدالعزیز اور ان کی اولاد  کتاب وسنت کی صورت میں اپنے زیر نگیں قبائل اور علاقوں کو متحد رکھتے ہوئے اپنے حکومتی نظام کو کامیابی سے چلا رہی ہے ۔ اگرچہ جلالۃ الملک عبدالعزیز آل سعود کے بیٹے ’ملک فہد ‘نے یکم مارچ 1993ء کو شیخ ابن باز  اور شیخ محمد بن صالح العثیمین جیسے علماء کے مشورے سے ’نظام الحکم ‘کے نام سے اہم دستوری نکات کو تحریری شکل بھی دے دی ہے اور سعودی عرب کے شاہ فہد نے پہلی دفعہ جلالۃ الملک کے بجائے’ خادم الحرمین الشریفین‘ کا لقب اختیار کر لیا ۔
پچھلے دنوں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا : مملکت کا آئین ہمیشہ کے لیے ’قرآن و سنت ‘ طے ہو چکاہے۔ ہم اپنے مملکت کے نظام الحکم کے روشنی میں ہی اپنے حکومتی نظاموں کو بہترین اجتہاد اور مصالح سے تشکیل دیتے رہیں گے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں کتاب وسنت( شریعت) کا نفاذ تو ’ تقنین ‘(Legislation) کے بغیر ہی ہے جبکہ وہ ذیلی قانون سازی کو ’ نظام ‘ کا نام دیتے ہیں، جنہیں ان کی مجلس ِ شوریٰ(Parliment)   طے کرتی ہے ۔سعودی عرب کی کئی جامعات میں رجالِ کار کی تیاری کے لئے کلیات الشر يعة و الأنظمة جاری اور ساری ہیں۔
دنیا بھر میں جدید قانونی تصورات میں یہ مسلمہ امر ہے کہ کسی بھی دینی ریاست و حکومت کا دستور ’الہامی کتاب‘ ہی ہوتی ہے ،اسی بناء پر یہودی ریاست ’اسرائیل‘ کا دستور’ تورات ‘ہی ہے ۔
احباب بخوبی جانتے ہیں کہ تقریباً چالیس سال قبل ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مدنی ﷾ نے مشہور قانون دان جناب ایس۔ ایم۔ ظفر اور مرحوم جسٹس بدیع الزمان کیکاؤس  وغیرہ کے ساتھ مل کر نفاذ شریعت کے لئے علماء اور قانون دانوں کی ٹریننگ شروع کی تھی[2]، اب یہی انسٹی ٹیوٹ خادم الحرمین الشریفین کے مرسوم ملکی (Royal Edict) جاری ہونے کے بعد بین الاقوامی حیثیت اختیار کر چکا ہے
استقلال پاکستان کے لیے مسلمانان ہند نے جو  تحریک شروع کی تھی ، اس کی باگ ڈور نامور قانون دان مسلم لیگ کے صدر جناب قائد اعظم محمد علی جناح جو برطانوی سامراج کے ایکٹ (1935ء) کی رو سے 1937ءمیں انتخابات کا حشر دیکھ چکے تھے ، نے جب حیدر آباد (دکن) 1940ء کے اہم اجتماع میں مجوزہ ’پاکستانی دستور‘ مُسکت جواب دیا تو آپ نے ’دستور سازی‘ کی بجائے پاکستان کا دستور’ قرآن مجید ‘ ہی کو قرار دیا تھا ۔
بانی پاکستان قائد اعظم جناب محمد علی جناح نے آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے اجلاس منعقدہ 15 نومبر 1942 ء میں خطاب کرتے ہوئےیہ بھی فرمایا:
’’مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟ پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں؟ مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل ’قرآن کریم ‘نے وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا تھا۔ الحمد للہ ! قرآن مجید ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا ۔‘‘
قائد اعظم مرحوم اس وقت دوہری مشکلات میں تھے : ایک برطانوی سامراج کا دستوری جبر اور دوسرا مسلمانوں کو متحد رکھنے کے لئے قرآن کی دستوری حیثیت ۔پاکستان کے گورنر جنرل کوبرطانوی تاج کے نمائندہ ہونے کی یہ قانونی مجبوری 1956ء کے دستور تک رہی ، اس کے بعدہی گورنر جنرل کی بجائے ’صدر پاکستان‘ کا لقب اختیار کیا گیا ۔شریعت اور قانون سازی کی یہی مجبوری پاکستان کو ابھی تک ’ نفاذ شریعت‘ میں حائل ہے
اگست ۴۴ء میں کانگرسی راہ نما گاندھی کو جو تفصیلی خط قائد اعظم  نے تحریر کیا، اس میں کہا :
’’قرآن مسلمانوں کا ضابطہ حیات ہے۔ ا س میں مذہبی اور مجلسی، دیوانی اور فوج داری، عسکری اور تعزیری، معاشی اور معاشرتی غرضیکہ سب شعبوں کے احکام موجود ہیں۔ وہ مذہبی رسوم سے لے کر روزانہ امور حیات تک، روح کی نجات سے جسم کی صحت تک، جماعت کے حقوق سے لے کر فرد کے حقوق وفرائض تک، اخلاق سے لے کر انسدادِ جرم تک، زندگی میں سزا وجزا سے لے کر عقبیٰ کی جزا وسزا تک ہر ایک فعل، قول، حرکت پر مکمل احکام کا مجموعہ ہے۔‘‘
2 جنوری 1948 ء کو کراچی میں اخبارات کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئےفرمایا :
’’اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس میں اطاعت اور وفا کا مرکز اللہ تعالی کی ذات ہے جس کی تعمیل کا عملی ذریعہ قرآن کے احکام و اصول ہیں۔ اسلام میں اصلا      ً نہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے، نہ پارلیمنٹ کی، نہ کسی شخص یا ادارے کی۔ قرآن کریم کے احکام ہی سیاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدیں مقرر کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسلامی حکومت :قرآنی احکام و اصولوں کی حکومت ہے۔‘‘
6دسمبر 1943 کو کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے 31 ویں اجلاس سے خطاب کے دوران قائد اعظم نے فرمایا تھا :
’’ وہ کون سا رشتہ ہے جس سے منسلک ہونے سے تمام مسلمان’ جسد واحد‘ کی طرح ہیں ، وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار ہے ، وہ کون سا لنگر ہے جس پر امت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے ؟ وہ رشتہ ، وہ چٹان ، وہ لنگر اللہ کی کتاب’ قرانِ کریم ‘ہے۔ مجھے امید ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے ، قرآنِ مجید کی برکت سے ہم میں زیادہ سے زیادہ ’اتحاد‘ پیدا ہوتا جائے گا۔ ایک خدا ، ایک کتاب ، ایک رسول ، ایک امت ۔‘‘
واضح رہے کہ قائد اعظم کے سامنے’قرآن‘ ہی مسلمانوں کے اتحاد کا ضامن تھا۔اس طرح انہوں نے 23 مارچ 1940ء میں ’قرار دادِ پاکستان‘ سے ’تحریک پاکستان‘ میں زور پیدا کرنے کے لئے پاکستان کا مجوزہ دستور ’قرآن کریم ‘کو ہی  قرار دے کر مسلمانوں کو انتشار سے بچایا تھا ۔ اب سعودی عرب کے بعد افغانستان کے طالبان کو جو دستوری مشکل در پیش ہے، اس کا حل یہی قرآن کریم کو دستور قرار دینے کا اعلان ہے ۔
جنرل محمد ضیاءالحق بھی 1977ء میں مارشل لاء کے ذریعے حکمران بنے تو ان کا پہلا نعرہ ’نفاذ شریعت‘ ہی تھا ۔ 1985ء میں جب دو علماء سینٹ کے ممبر بنے تو انہوں نے’ نفاذ شریعت بل‘ پیش کیا، جس پر ان دیوبندیوی علماء کے علاوہ پاکستان کے مختلف مذہبی اور سیاسی گروہوں نے اختلافات کی پٹاریاں کھول دیں ۔چنانچہ جنرل محمد ضیاء الحق کے اٹارنی جنرل حاجی غیاث الدین نے تمام مکاتب فکر، دینی سیاست کا دعویٰ کرنے والی سیاسی تنظیموں اور اسلام پسند وکلاء کے نمائندگان کو کئی دن اکٹھا بٹھایا ، جنہوں نے سینٹ کے مجوزہ ’شریعت بل‘ کے اندر مناسب ترامیم کرکے ایک متفقہ شریعت بل(1986ء) تیار کیا ،جس کی قانونی تائید کے لئے ’ متحدہ شریعت محاذ‘ کی طرف سے 9 ویں آئینی ترمیم کی صورت ایک مزید’ دستاویز‘ پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ۔(متفقہ شریعت بل کا متن مقالہ کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں )
اسی متفقہ شریعت بل کی تحریک کے لئے’    نفاذ شریعت محاذ ‘ تشکیل پایا تھا جس کا نمائندہ  وفد (حافظ عبدالقادر روپڑی حافظ عبدالرحمن مدنی اور محمد اسمعیل قریشی ایڈوکیٹ پر مشتمل )شیعہ مکتب فکر کی اہم درسگاہ ’جامعۃ المنتظر ‘ کے ذمہ داران سے بھی ملا ،تو انہوں نے بھی اس پر دستخط کر دیے ، یہ تمام مکاتب ِ فکر کے اتفاق کی اہم روئیداد ہے ۔اس طرح عالمی سطح پر پہلی دفعہ دو سیاسی بلاک شیعہ اور سنی اکھٹے ہوئے ۔اس سارے معاملے میں ا ہم رول مدیر اعلیٰ ماہنامہ محدث’ ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مدنی ‘ کا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے سابقہ شریعتوں میں یہی حکم دیا تھا کہ ان امتوں کا دستور ’وحی‘ ( کتاب اللہ) ہوگی ۔ جو اس سے ہٹ کر کسی چیز کو دستور بنائے یا اس کی رو سے فیصلہ کرے وہ فاسق ، ظالم اور کافر ہوگا ۔
کافر اور ظالم قرار دینے کے بعد کی آیات ملاحظہ فرمائیں :
﴿وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (47) وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ الْحَقِّ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَكِنْ لِيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ (48) وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ (49) أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ (50﴾[المائدة: 47 - 50]
’’ اور اہل انجیل کو چاہیے کہ جو احکام اللہ نے اس میں نازل فرمائے ہیں، اسکے مطابق حکم دیا کریں، کیونکہ جو اللہ کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق فیصلے نہ کریں ، وہی لوگ نافرمان ہیں۔اے پیغمبر ؐ ! ہم نے تم پر سچّی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان سب پر نگہبان بھی ہے تو جو حکم اللہ نے نازل فرمایا ہے،اسی کی رو سے فیصلہ کرنا اور حق جو تمہارے پاس آ چکا ہے، اسکو چھوڑ کر انکی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک امت کے لئے الگ دستور اور طریقہ مقرر کیا ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا مگر جو حکم اس نے تم کو دیئے ہیں ان میں وہ تمہاری آزمائش کرنی چاہتا ہے، سو نیک کاموں میں آگے بڑھو کیونکہ تم سب کو اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ پھر جن باتوں میں تم کو اختلاف تھا وہ تم کو بتا دے گا۔ ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ جو حکم اللہ نے نازل فرمایا ہے اسی کی رو سے ان میں فیصلہ کرنا اور انکی خواہشوں کی پیروی ہرگز نہ کرنا بلکہ ان سے محتاط رہنا کہ کسی حکم سے جو اللہ نے تم پر نازل فرمایا ہے، یہ کہیں تم کو بہکا نہ دیں۔ اب اگر یہ لوگ نہ مانیں تو جان لو کہ اللہ چاہتا ہے کہ ا ن کے بعض گناہوں کے سبب ان پر مصیبت نازل کرے جبکہ کثیر تعداد تو نافرمان ہی ہے ۔پس کیا یہ زمانہ جاہلیت کے سے فیصلے کے خواہشمند ہیں؟ یقین رکھنے والوں کے لئے اللہ سے اچھا فیصلہ کس کا ہو سکتا ہے !
کتنی خوفناک وعید ہے:جو لوگ قرآن کو دستور نہیں بناتے اور اسے اپنے معاملات میں حَکَم نہیں سمجھتے ،قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ خود ان کے خلاف مستغیث بن کر کھڑے ہوں گے ۔:
﴿وَقَالَ الرَّسُولُ يَارَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا ﴾[الفرقان: 30]
ترجمہ :اور پیغمبر ؐ خود روز قیامت مستغیث ہوں گے: اے پروردگار! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔
جو لوگ مغربی دنیا سے مرعوب ہونے کی وجہ سے مستشر قین کے حوالوں کو اہمیت دیتے ہیں، ان کے لئے انگریزی اور دوسری زبانوں میں ان گنت تائیدات ہمارے سامنے ہیں ،لیکن طوالت سے بچتے ہوئے ہم نے وہ تمام حوالے چھوڑ دیے ہیں۔ مزید اہم حوالوں کے لئے جناب محمد عطاءاللہ صدیقی  کا مقالہ بعنوان: قرآن ، آئین پاکستان اور قائد اعظم    ماہنامہ محدث نمبر338 اور مولانا زاہدالراشدی کا مقالہ بعنوان قرآن کریم اور دستورِ پاکستان الشریعہ گوجرانوالہ مجریہ جون 2010ءپڑھیں ۔
تاہم فرانس کے مشہور جرنیل حاکم نپولین بونا پا رٹ(م:1821ء) کا قرآن کو جامع ترین کتاب دینے کا اعتراف اس لئے ذکر کر دیتے ہیں کہ سیکولر دنیا میں فرانسیسی انقلاب( 5 اکتوبر 1789ءتا 1794ء ) کی ایک دھوم ہے جس کے بعد   نپولین نے پوری سیکولر دنیا کو نہ صرف دستور دیا ،بلکہ وہ دنیا کی دستور سازی کا ’امام‘ بن گیا۔عثمانی خلافت نے اسی کی نقل کرتے ہوئے اسلام کے دیوانی نظام کی ضابطہ بندی ’مجلة الأحکام العدلية ‘ کی صورت تيار کرکے 1876ء تا 1923ء(سقوط خلافت تک)نافذ رکھی ۔چنانچہ ’نپولین‘ قرآن کی اہمیت کا ببا نگ دُھل اعتراف یوں کرتا ہے ۔
‘‘I hope the time is not far off when I shall be able to unite all the wise and educated men of all the countries and establish a uniform regime based on the principles of Qur'an which alone
are true and which alone can lead men to happiness’’.[8][3]
’’مجھے امید ہے کہ وہ وقت دور نہیں ، جب میں اس قابل ہو جاؤں گا کہ تمام ممالک کے دانش مند اور تعلیم یافتہ لوگوں کو قرآن کے اصولوں کی بنیاد پر اکٹھا کر کے ایک حکومت تشکیل دوں ،کیونکہ صرف یہی وہ اصول ہیں  جو’ سچے‘ہیں  اور جولوگوں کو خوشی مہیاکرسکتےہیں ‘‘-
ہمیں امید ہے کہ اگر طالبان سعودی عرب وغیرہ کی طرح تمام مسلمان گروہوں کو متحد کرنے کے لیے ’قرآن مجید‘ کے ’دستور‘ ہونے کا فوری اعلان  کر دیں تو سب کی زبانیں بند ہو جائیں گی۔ سعودی حکومت کی لمبی تاریخ ہے کہ دنیا نے انہیں سالہا سال  کن مشکلات سے دو چار ہوتےہوئے اپنے مفادات اور اغراض کے تحت باری باری   تسلیم کیاتھا؟ ہم اپنی گفتگو کو علامہ اقبال  کی ’ضرب کلیم ‘ سے ایک رباعی پر ختم کرتے ہیں :
ہے زندہ فقط وحدتِ افکار سے ملّت                               وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
وحدت کی حفاظت نہیں بے قُوّتِ بازو                            آتی نہیں کچھ کام یہاں عقلِ خدا داد
نوٹ: قرآن کریم بلاشبہ تمام اسلامی ممالک کا دستور ہونا چاہیے ، جس کی برکت سے وہ انتشار ختم ہو سکتا ہے جو ترکی میں ’ سقوط ِ خلافت ‘ کے بعد نہ صرف رونما ہوا بلکہ ’ خلافت عثمانیہ ‘ کی موت پر یہ عہد بھی لیا گیا کہ ایک مکمل صدی ’خلافت‘ کا نام بھی نہیں لیا جائے گا ۔ شاید اسی لئے اب یہ نعرہ بھی ’گالی‘ بن چکا ہے ، حالانکہ اسلامی حکومتوں کو اس ’لقب‘ سے کون روگ سکتا ہے ۔؟ سقوطِ خلافت (1923ء) کے بعد (2023ءتک ) تو سوسال بھی پورے ہو جائیں گے ۔بڑے مدنی صاحب کے خالو ’چوہدری نذیر احمد ‘ مرحوم (سابق ایڈوکیٹ جنرل مغربی پاکستان) نے 1950ء میں یہ خواب دیکھا تھا لیکن ابھی تک یہ تشنئہ تعبیر ہے ۔عالمی قوتوں نے اسی خطرہ کے پیش نظر نام نہاد ’اسلامو فوبیا‘ کو ’ دہشت گردی‘ سے جوڑ رکھا ہے ، لہذا مسلمان ملکوں کی بھی Liberalism کی طرف مسابقت جاری ہے ۔اللہ تعالیٰ OIC کو UNO کی طرح قوت اور اعتماد دے۔ وما ذالك على الله بعزيز.
تمام مكاتب ِ فكر كامتفقہ شریعت بل
۳۰؍ اگست ۱۹۸۶ء کو لاہور میں 'متحدہ شریعت محاذ پاکستان' کے زیر اہتمام جملہ دینی مکاتبِ فکر کی نمائندہ کمیٹی نے شریعت بل کے ترمیم شدہ مسودے پر اتفاق کیا اور مؤرخہ ۲۶ء اکتوبر ۱۹۸۶ء جامعہ نعیمیہ، لاہور میں ہزاروں علماء اور مشائخ کے’ عظیم الشان کنونشن‘ میں مولانا سمیع الحق شہید ہی کی طرف سے، قاضی عبد اللطیف کی تائید کے ساتھ ترمیمی شریعت بل کے لئے قرار داد پیش کی گئی جو متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ سطورِ ذیل میں کمیٹی کی رپورٹ حذف کر کے خالص شریعت بل کا متن پیش خدمت ہے۔
واضح رہے کہ اسی رپورٹ کی روشنی میں متحدہ شریعت محاذ نے آئین میں مجوزہ 9ویں ترمیم کی اصلاح و تکمیل کا مطالبہ بھی کیا تھا، تاکہ شریعت بل دستور سے ہم آہنگ رہے، گویا آئین میں مطلوبہ9ویں ترمیم شریعت بل کی قانونی منظوری کی بنیادتھی جسے ’نفاذِ شریعت ‘ کہتےہیں ۔(محدث)
ابتدائیہ:
ہر گاہ کہ قرار دادِ مقاصد، جو پاکستان میں شریعت کو بالا دستی عطا کرتی ہے، کو دستور اسلامی جمہوریۂ پاکستان ۱۹۷۳ء کا مستقل بالذات حصہ بنا دیا گیا ہے۔
اور ہر گاہ کہ مذکورہ قرار دادِ مقاصد کے اغراض کو بروئے کار لانے کے لئے ضروری ہے کہ شریعت کے فی الفور نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔
دفعہ نمبر (1): مختصر عنوان، وسعت اور آغازِ نفاد:
الف) اس ایک کو 'نفاذِ شریعت ایکٹ ۱۹۸۶ء' کہا جائے گا۔
ب) یہ ایکٹ تمام پاکستان پر وسعت پذیر ہو گا۔
ج) اس ایکٹ میں شامل کسی امر کا اطلاق غیر مسلموں کے شخصی قوانین پر نہ ہو گا۔
د) یہ ایکٹ فوری طور پر نافذ العمل ہو گا۔
دفعہ نمبر (2): تعریفات:
اس ایکٹ میں تاوقت یہ کہ متنسے کوئی مختلف مفہوم مطلوب ہو، مندرجہ ذیل اصطلاحات سے وہ مفہوم مراد ہے جو ذیل میں اُنہیں دیا گیا ہے۔ یعنی:
الف) 'قرار دادِ مقاصد' سے مراد وہ مفہوم ہے جو آرٹیکل ۲؍ الف، دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان ۱۹۷۳ء میں اسے دیا گیا ہے۔
ب) 'مقررہ' سے مراد اس ایکٹ کے تحت مقررہ قواعد ہیں۔
ج) 'شریعت' سے مراد قرآن و سنت ہیں۔
توضیح:
قرآن و سنت کے اَحکام کی تعبیر کرتے ہوئے درج ذیل مآخذ سے رہنمائی حاصل کی جائے گی:
(1) سنت خلفائے راشدین (2) تعامل اہلِ بیت عظام و صحابہ کرام
(3) اجماعِ اُمت (4) مسلمہ فقہائے اسلام کی تشریحات و آراء
دفعہ نمبر (3): شریعت کی دیگر قوانین پر بالاتری:
کسی دیگر قانون، رواج، تعامل یا بعض فریقوں کے مابین معاملہ یا لین دین میں شامل کسی بھی امر کے اس سے مختلف ہونے کے باوجود شریعت، پاکستان میں بالا تر قانون کی حیثیت سے مؤثر ہو گی۔
دفعہ نمبر (4): عدالتیں شریعت کے مطابق مقدمات کا فیصلہ کریں گی:
ملک کی تمام عدالتیں تمام اُمور و مقدمات بشمول مالی اُمور وغیرہ میں شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کی پابند ہوں گی اور شریعت کے خلاف فیصلوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہو گی۔ اگر کسی عدالت میں یہ سوال اُٹھایا جائے کہ آیا کوئی قانون یا فیصلہ شریعت کے منافی ہے، تو اس مسئلہ کے تصفیہ کے لئے وفاقی شرعی عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔
دفعہ نمبر (5): وفاقی شرعی عدالت کا دائرۂ اختیار:
وفاقی شرعی عدالت کا دائرہ اختیارِ سماعت و فیصلہ، بلا استثنیٰ تمام اُمور و مقدمات پر حاوی ہو گا۔
دفعہ نمبر (6): شریعت کے خلاف احکامات دینے پر پابندی:
انتظامیہ کا کوئی بھی فرد، بشمول صدرِ مملکت اور وزیر اعظم، شریعت کے خلاف کوئی حکم نہیں دے سکے گا اور اگر کوئی ایسا حکم دیا گیا، تو اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہو گی اور اسے وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا جا سکے گا، بشرطیکہ شکایت کنندہ کے لئے کوئی اور قانونی مداوا موجود نہ ہو۔
دفعہ نمبر (7): عدالتی عمل اور احتساب:
حکومت کے تمامعمال، بشمول صدرِ مملکت، اسلامی قانونِ عدل کے مطابق احتساب سے بالاتر نہیں ہوں گے۔
دفعہ نمبر (8):
مسلمہ اِسلامی فرق کے شخصی معاملات ان کے اپنے اپنے فقہی مسالک کے مطابق طے کئے جائیں گے۔
دفعہ نمبر (9): غیر مسلم کو تبلیغ کی آزادی:
یہ شق حذف کر دی گئی ہے، کیونکہ دفعہ (1) کی شق (ج) کے بعد اس کی ضرورت نہیں۔

سفارشی دفعہ نمبر (10): علمائے دین کو جج مقرر کیا جائے:
تمام عدالتوں میں حسبِ ضرورت تجربہ کار اور جید علمائے دین کا بحیثیتِ جج اور معاونین عدالت تقرر کیا جائے۔
سفارشی دفعہ نمبر (11) ججوں کی تربیت کے انتطامات:
علومِ شرعیہ اور اسلامی قانون کی تعلیم اور ججوں کی تربیت کا ایسا انتظام کیا جائے گا کہ مستقبل میں علومِ شرعیہ اور خصوصاً اسلامی قانون کے ماہر جج تیار ہو سکیں۔
دفعہ نمبر (12): قرآن و سنت کی تعبیر کا طریق کار:
قرآن و سنت کی تعبیر کا طریق کار وہی معتبر ہو گا جو مسلمہ مجتہدین کے علم اُصولِ تفسیر اور علم اُصول حدیث و فقہ کے مسلمہ قواعد اور ضوابط کے مطابق ہو۔
دفعہ نمبر (13): عمالِ حکومت کے لئے شریعت کی پابندی:
انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ کے ہر فرد کے لئے فرائضِ شریعت کی پابندی اور محرمات سے اجتناب لازم ہو گا۔ ''جو شخص اس کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا، وہ مستوجبِ سزا ہو گا۔ (یہاں کوئی سزا متعین کر دی جائے) بشرطیکہ کسی دیگر قانون کے تحت یہ جرم مستوجبِ سزا نہ ہو۔''
دفعہ نمبر (14): ذرائع ابلاغ کی تطہیر:
تمام ذرائع ابلاغ سے خلافِ شریعت پروگراموں، فواحش اور منکرات کی اشاعت ممنوع ہو گی۔ جو شخص اس کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا، مستوجبِ سزا ہو گا (یہاں متعین طور پر سزا کا ذکر کرنا مناسب ہو گا، مثلاً دو سال قید با مشقت اور جرمانہ) بشرطیکہ کسی دوسرے قانون کے تحت یہ جرم مستوجبِ سزا نہ ہو۔
دفعہ نمبر (15): حرام کی کمائی پر پابندی:
خلافِ شریعت کاروبار کرنا اور حرام طریقوں سے دولت کمانا ممنوع ہو گا۔ جو شخص اس کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا، مستوجبِ سزا ہو گا (یہاں سزا متعین کی جائے) بشرطیکہ کسی دوسرے قانون کے تحت یہ جرم مستوجبِ سزا نہ ہو۔
دفعہ نمبر (16): بنیادی حقوق کا تحفظ:
شریعت نے جو بنیادی حقوق باشندگان ملک کو دیئے ہیں، ان کے خلاف کوئی حکم نہیں دیا جائے گا۔
دفعہ نمبر (17): قواعد سازی کے اختیارات:
اس ایکٹ کے مقاصد کے حصول اور شریعت کے عملی نفاذ اور اس قانون پر عمل در آمد کرانے کے لئے مرکزی حکومت کو اختیار ہو گا کہ ضروری قواعد وضع کرے، ان قواعد کا نفاذ اس دن سے ہو گا جس دن مرکزی حکومت اُنہیں گزٹ میں شائع کرے گی۔
نمائندگان کے دستخط
محمد عبد القیوم ہزاروی (ناظم اعلیٰ جامعہ نظامیہ رضویہ، لاہور)
                                             حافظ عبد الرحمٰن مدنی (رابطہ علمائے اہل حدیث پاکستان)
محمد اجمل  خاں (نائب امیر مرکزیہ جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان)
محمد اسلم سلیمی (نائب قیم جماعت اسلامی، پاکستان)
                                                       میاں شیر عالم ایڈووکیٹ (نائب صدر ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس)
حوالہ جات:
[1]      قال السخاوي في (المقاصد الحسنة: 327 رقم: 815)
[2]      ان مساعی میں ہائیکورٹ کی انتظامیہ نےملکی حالات کا جائزہ لے کر ججوں وغیرہ کے لئے بین الاقوامی تعاون کی   غرض سے ایک’ سکیم ‘بنائی تھی جسے جنرل محمد ضیاء الحق  کو پیش کیا گیا تو انہوں نے غور و فکرکے لئے اسے ساتھ ہی رکھا ۔ جب ان کے طیارے کا المناک حادثہ ہوا تو یہی ’سکیم ‘ ان کے سامان میں سے جلنے سے بچ گئی تھی ۔ چنانچہ ان کے جانشین صدر پاکستان جناب غلام اسحاق خاں    سےایک اہم وفد ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مدنی ﷾ کی معیت میں جناب جسٹس گل محمد خاں  اور جسٹس خلیل الرحمن خاں وغیرہ پر مشتمل صدرِ پاکستان سے ملا تو انہوں نے ’جج حضرات کی شرعی ٹریننگ ‘ کی بجائے شریعت کی ’متفقہ دفعہ وار تقنین‘ پر زور دیا ، اس موقع پر وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس جناب گل محمد خاں  نےایمان افروز الفاظ میں یوں جواب دیا کہ ’شریعت تو’ وحی الہٰی‘ ہوتی ہے جو کتاب وسنت کی صورت میں ہمارے پاس   محفوظ ہے ،کیا ہم کتاب وسنت سے بہتر ’تعبیر ِ دین ‘ کی صورت   کوئی’ فقہ وقانون‘ تیار کر سکتے ہیں ‘۔ اس جواب پر مجلس میں خاموشی چھا گئی ۔
[3] [8]( Napolean Bonaparte as Quoted in Christian Cherfils, ‘Bonaparte et Islam,’ Pedone Ed., Paris, France, 1914, pp. 105, 125)