حافظ صاحب ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے جنہوں نے سن شعور سے زندگی کی آخری سانس سے اپنی تمام صلاحیتیں پیغام نبوت کو عام کرنے اور اس پر اُٹھنے والے شبہات کی وضاحت کرنے میں کھپا دیں۔ اس سلسلہ میں آپ نے بلاخوفِ ملامت کلمہ حق کو سربلند کرنے کی طویل اور مسلسل جدوجہد کی۔ اپنے 55 سالہ علمی دور میں ہر علمی کاوش پر نہ صرف ان کی گہری نظررہتی بلکہ اس نیک مشن میں کوشاں رہنے والوں کی آپ ہر لحاظ سے سرپرستی بھی کیا کرتے۔ پھر اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی حیات مستعار میں ان کی متعدد کتب بالخصوص تفسیر 'احسن البیان' کے ذریعے انہیں جس طرح پوری دنیا میں قبول عام عطا فرمایا، وہ ان کے اپنے خالق ومالک کے ہاں بلند درجات کی قوی دلیل ہے۔ ان کی مبارک زندگی اس امر کا بین ثبوت اور ہمارے لئے باعثِ سبق ہے کہ دنیوی وسائل سے دور کوئی ہستی بھی اگر خلوص دل سے اپنی صلاحیتوں کو پیغام نبوت کے فروغ وذیوع کے لئے صرف کرنے کا پختہ عزم کرلے، اور اس کے لئے اپنی سی پوری کوشش بجا لاے تو اللّٰہ تعالیٰ دنیا میں ہی اس کے ذریعے ایسا عظیم علمی ذخیرہ مرتب کروا دیتے ہیں جو اس کے اپنے دور کے ساتھ ساتھ رہتی دنیا کے لئے ہدایت کی راہیں روشن کرتا اور ایسا کرنے والے کے لئے مؤثر صدقہ جاریہ ثابت ہوتا ہے۔حافظ صاحب کا ہر میدان میں پھیلا ہوا علمی کام ، ایک ادارے اور جماعت کی خدمات کے ہم پلہ ہے جس نے دورِ حاضر میں اہل حدیث اور اہل دین حضرات کی بے شمار میدانوں میں رہنمائی کی ۔آپ کی جہود علمیہ کا دائرہ عقائد وعبادات سے شروع ہوکر، سیاست وعدالت، فقہ وقضا، سماج ومعاشرت اور باطل افکار کی بیخ کنی کے وسیع تر پہلوؤں کو محیط ہے۔
آپ کے سوانح حیات اور علمی کارہاے نمایاں، اپنے فاضلانہ قلم سے آپ خود لکھ چکے تھے، جو ان کے فرزندِ گرامی حافظ عثمان یوسف ﷾عنقریب مستقل کتاب میں شائع کرنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔ مجلہ 'محدث' سے ان کے دیرینہ خصوصی تعلق کے ناطے ، اپنے عزیز محترم ڈاکٹر جواد حیدر صاحب سے ان کی وفات پر خصوصی تحریر لکھوا کر ہدیہ قارئین کی جارہی ہے، جس پر حافظ صاحب کے فرزند محترم نے بھی نظرثانی کی ہے۔ح۔م
اس سال جس قدر کبار اہل علم اور حاملین کتاب وسنت دنیا سے رخصت ہوئے اور جس قدر اللّٰہ کی غیر معمولی نشانیاں دیکھنے میں آئیں، یوں لگتا ہے ہےجیسے اللّٰہ رب العزت نے اہل دنیا کے لیے آزمائش اور امتحان کی نئی صورتیں پیدا فرما دی ہیں۔
ان کبار اہل علم وفن میں مولانا عطاء اللّٰہ ڈیروی؛ مولانا انعام الحق؛ شیخ عیاض نحوی؛ پروفیسر حافظ ثناءاللّٰہ خان،لاہور؛ پروفیسر مولانا عبد الرحمٰن لدھیانوی، لاہور؛ شیخ الحدیث مولانا عبد الرشیدراشد ہزاروی؛شیخ الحدیث مولانا عبدالحمید ہزاروی؛ شیخ القراء قاری یحییٰ رسولنگری، ساہیوال؛ نائب شیخ الحدیث مولانا یونس بٹ، فیصل آباد؛ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف اور ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہم اللّٰہ،مدینہ منورہ کے علاوہ انڈیا سے تعلق رکھنے والے نامور اہل علم مفسر قرآن ڈاکٹر محمد لقمان سلفی؛ مولانا فضل الرحمٰن محمدی، مالیگاؤں؛مولانا یوسف جمیل جامعی، کرنول اندھرا؛ پروفیسر عین الباری عالیاوی، کلکتہ؛ داعئ اسلام محمد ریاض موسی مالیباری، کیرالا؛ ڈاکٹر ولی اختر ندوی، دہلی؛ شیخ علاء الدین ندوی، سابق اُستاذ جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں؛حکیم عبد الحنان سلفی، دہلی؛ مولانا شمس الضحیٰ، مالدہ؛ ڈاکٹر عبد الباری، سدھارتھ نگر، یوپی رحمہم اللّٰہ اس جہانِ فانی سے کوچ فرما گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون
رحمهم الله جمیعًا وغفرلهم والحقهم بالنبیین والصدیقین والشهداء والصالحین!
یہ تمام علماء ومشایخ یقیناً عظيم مقام ومرتبہ کے حامل تھے ۔ اللّٰہ ان کے درجات بلند فرمائے اور انبیا وصدیقین اور شہدا وصالحین کا ساتھ نصیب فرمائے۔ ان کی وفات دلوں پر ایسی بھاری ثابت ہوئی گویا خون کا یہ منجمد ٹکڑا ابھی آنکھوں کے راستے بہہ پڑے۔ذہن ایسے قلق میں مبتلا ہوئے کہ ابھی بدن کی حکومت سے دستبردار ہوجائیں۔ روح ایسی شکستگی کا شکار ہوئی کہ جیسے ابھی ساتھ چھوڑ جائے!!
انہی اساطين علم میں سے عالمِ اسلام کی ایک عظیم شخصیت، عالمی شہرت کے حامل محقق ومصنف اور قرآن وسنت کے داعی ومحافظ مولانا حافظ صلاح الدین یوسفؒ 20؍ ذی القعدہ 1441ھ مطابق 12؍جولائی 2020ءبروز اتوار دنیاے فانی سے عالم بقا کے راہی ہوئے۔مولانا صلاح الدین یوسف ﷫ کو خدائے باری تعالیٰ نے جس مقام ومنزلت سے نوازا ، وہ انہی کا خاصہ تھا۔
آپ کے بارے مورخ اہل حدیث محترم مولانا اسحاق بھٹی نے ایک سے زائد مضامین لکھے۔ لکھتے ہیں:
"میانہ قد، گداز جسم، گندمی رنگ، گول چہرہ، گھنی سفید داڑھی، آنکھوں میں ذہانت کی چمک۔ باطن کا معاملہ اللّٰہ جانے یا وہ جانیں۔ بہ ظاہر خوش مزاج، شلوار قمیص میں ملبوس، یہ ہیں ہمارے دوست حافظ صلاح الدین یوسف۔! پاکستان کے مشہور عالم اور مشہور محقق ومصنف۔!''
اس کے بعد قدرے اختصار سے حالاتِ زندگی تحریر فرمائے ہیں۔ (دبستانِ حدیث: 578، مختصراً)
آپ کا اصل نام حافظ محمد یوسف ، جبکہ قلمی نام حافظ صلاح الدین یوسف تھا۔ آپ اگست 1945ء میں ہندوستان کی ریاست جے پور، راجستھان میں پیدا ہوئے۔آپ کے والدِ گرامی حافظ عبد الشکورؒ اپنے چھے بہن بھائیوں میں اکیلے عقیدۂ توحید کی نعمت سے سرفراز ہوئے۔اُنہوں نے 1949 ء میں انڈیا سے پاکستان ہجرت کی۔ پہلے پہل حیدر آباد قیام فرمایا، پھر کچھ عرصہ بعد کراچی تشریف لے گئے۔ اُنہوں نے اپنے لختِ جگر محمد یوسفؒ (مولانا صلاح الدین یوسفؒ) کو مسجد رحمانیہ میں مولانا بشیر تبتی ﷫ کے ہاں ناظرہ قرآن کی تعلیم دلوائی۔انہی کے کہنے پر حفظِ قرآن کے لیے دارالعلوم سعودیہ میں داخل کروایا اور آپ نے خداداد ذہانت سے قاری محمد اشفاقؒ صاحب کے پاس ایک سال کے مختصر عرصہ میں قرآنِ مجید کو اپنے سینے کا نور بنا لیا۔ خاندانی رجحانات کی بنا پر آپ رسمی تعلیم حاصل نہ کرسکے، لیکن کسے معلوم تھا کہ علم وحکمت کے ایسے سیل رواں ثابت ہوں گے جس کے سامنے جہل اور نادانی کے خس وخاشاک کسی طور نہ ٹھہر سکیں۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ اُردو کی ایک کتاب 'دستور المتقیٰ' والد گرامی قدر سے پڑھی اور پھر گھر کے قریب ایک کتابوں کی ریڑھی والے بزرگ سے کتابیں لے کر پڑھتے رہے۔یوں اُردو لکھنا پڑھنا سیکھ لیا۔
اس کے بعد باقاعدہ دینی علوم کا آغاز بھی دارالعلوم سعودیہ سے کیا جو بعد میں سولجر بازار، کراچی منتقل ہونے پر دار الحدیث، رحمانیہ کے نام سے موسوم ہوا۔یہاں مولانا عبد الوہاب ﷫جیسی جامع المعقول والمنقول عظیم شخصیت ناظم ومہتمم تھی۔آپ اڑھائی برس تک اس جلیل القدر عالم کی صحبت سے فیض یاب ہوتے رہے۔ کراچی ہی میں مولانا عبد الرشیدؒ کی صحبت میسر آئی، جنہوں نے مطالعے کے شوق کی آبیاری میں معاونت کی۔ دورِ طالب علمی میں ہی آپ نے بہت سے ادبی اور جماعتی رسائل کا مطالعہ فرمایا۔ جن میں ماہنامہ ترجمان القرآن، تجلی،چراغِ راہ، فاران، سیارہ، میثاق ،شہاب، ہفت روزہ ایشیا اور رحیق جیسے رسائل شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ آپ دیگر کتب کا مطالعہ بھی فرماتے رہے۔جن مصنفین کو آپ نے زمانہ طالب علمی ہی میں پڑھ لیا تھا ان میں مولانا ابوالحسن ندوی، مولانا عبدالسلام ندوی، مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا شبلی نعمانی، قاضی سلیمان منصور پوری اور مولانا سید سلیمان ندوی ﷭ جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ پھر مولانا صلاح الدین یوسف ﷫ کم و بیش پندرہ برس کی عمر میں لاہور تشریف لائے اور دارالعلوم تقویۃ الاسلام لاہور میں داخل ہوئے۔ آپ مولانا عطاء اللّٰہ حنیف بھوجیانی ﷫ سے کراچی میں ملاقات کر چکے تھے اور ان سے مطالعہ کی بابت کافی راہنمائی بھی لی۔ جب آپ لاہور تشریف لائے تو مولانا عطاء اللّٰہ حنیف ﷫ کے مکتبہ سلفیہ تشریف لے جاتے۔ وہاں مطالعہ کے ساتھ ساتھ مولانا سے علمی استفادہ بھی کرتے رہے۔ آہستہ آہستہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تصنیف کا کام بھی شروع کردیا۔ آپ نے زمانہ طالبعلمی میں ہی تین خوب صورت مضامین لکھے جو اس وقت کے مجلّات میں شائع ہوئے۔ آپ کا پہلا مضمون 'میں بھی وہاں موجود تھا، ضبط سخن نہ کر سکا' کے عنوان سے چھپا جو آپ نے میلاد النبی کی ایک مجلس میں حاضری کے بعد لکھا اور یہ الاعتصام ا گست 1965ءمیں شائع ہوا۔ بعد میں آپ کا یہ مضمون ان کی کتاب 'عید میلاد کی تاریخی وشرعی حیثیت' میں شامل ہوا۔ ایک مضمون پاکستانی صحافت پر'جو پیرہن اس کا ہے،وہ مذہب کا کفن ہے!'کے نام سےلکھا۔ اس کے بعد آپ کا تیسرا مضمون :'خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے' کے عنوان سے الاعتصام ہی میں شائع ہوا۔
آپ کے معروف اساتذہ میں مولانا محمد عطاء اللّٰہ حنیف بھوجیانىؒ ، قارى بشير احمد تبتیؒ، قارى عبيد اللّٰہ بلتستانىؒ، حافظ محمد اسحاق، حافظ عبد الرشيد گوہڑوی، مولانا عبد الرشيد مجاہد آبادى اور مولانا عبد الحميدجیسی عظیم ہستیوں کا نام شامل ہے۔
آپ مفسر قرآن اور محقق ومصنف ہونے کے ساتھ ساتھ مشیر وفاقی شرعی عدالت پاکستان، رکن مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی پاکستان، مدیر شعبہ ترجمہ و تحقیق و تصنیف دارالسلام لاہور، ایڈیٹر ہفت روزہ 'الاعتصام' لاہور اورسرپرست شعبہ تحقیق و تالیف المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، ڈیفنس کراچی بھی رہے۔1998ء میں ایک سال آپ نے ماہنامہ 'محدث' کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیے، پھر اپنی وفات تک محدث کی مجلس ادارت کی زینت رہے۔ بحیثیتِ عالم آپ کی وفات یقیناً ایک عالَم یعنی جہان کی وفات ہے۔آپ جہاں اعلیٰ اخلاق کی حامل طبیعت، عجزوانکساری اور اخلاص وخشیت میں گوندھی فطرت کے مالک تھے، وہاں اتباعِ سنت اور اثباتِ حق کے لیے انتہائی پرجوش جذبات بھی رکھتے تھے۔آپ ایک عرصہ تک خطابت کے فرائض کے ساتھ ساتھ قرآن مجیداور حدیثِ مبارکہ کے دروس بھی دیتے رہے۔
مولانا نے یوں تو 100 سے زائدبے مثل کتب تصنیف فرمائیں،جو بہت سے لوگوں کی علمی سیرابی اور ہدایت کا ذریعہ بھی بنیں۔ تاہم ان میں 'تفسیر احسن البیان'کو جو مقبولیت حاصل ہوئی، بیان سے باہر ہے، کیونکہ یہ تفسیر شاہ فہد کمپلیکس، سعودی عرب سے شائع ہونے کے بعد اک عرصہ تک حجاجِ کرام کو بطور تحفہ دی جاتی رہی۔ یوں یہ تفسیر پوری دنیا کے اُردو دان طبقے تک پہنچ گئی۔ مزید برآں یہ تفسیر بین الاقوامی اشاعتی ادارے دار السلام سے بھی شائع ہوتی رہی۔ یہ تفسیر اختصار اور جامعیت کا بہترین نمونہ ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ مولانا کی نجات کے لیے یہ ایک تفسیر ہی کافی ہے تو غلط نہ ہوگا۔ تفسیراحسن البیان کے علاوہ آپ اپنے آخری ایام میں ایک تفصیلی تفسیر بھی مرتب فرما رہے تھے اور لوگوں سے اس کی تکمیل کے لئےدعا کی درخواست بھی کرتے، لیکن اس کے مکمل ہونے سے قبل ہی حکم باری تعالیٰ آن پہنچا اور داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔
اس کے علاوہ مولانا کی تصنیف 'خلافت وملوکیت کی تاریخی وشرعی حیثیت' بھی بہت مقبول ہوئی۔یہ آپ کی پہلی باقاعدہ تصنیف تھی ،جسے صرف بائیس برس کی عمر میں آپ نے لکھا۔یہ کتاب درحقیقت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تصنیف 'خلافت وملوکیت'میں صحابہ کرامؓ پر اُٹھنے والے بعض اعتراضات کا جواب ہے۔
مولانا نے عقائد وعبادات، نکاح وطلاق، فقہ واجتہاد، سماج ومعاشرت، سیاست وعدالت جیسے متنوع پہلووں پر گرانقدر تحقیقی وتنقیدی کتب تصنیف فرمائیں۔فکرِ فراہی، مولانا اصلاحی اور فتنۂ غامدی پر الگ الگ تین کتب تصنیف فرمائیں۔ 'اجتہاد اور تعبیرِ شریعت سے متعلق پارلیمنٹ کے دائرہ کار' پر مستقل کتاب تحریر کی۔آپ کی تحریریں سادہ، عام فہم، سلاست وروانی کا بہترین نمونہ ہونے کے ساتھ دلائل وبراہین سے مزین اور موضوع پر مکمل گرفت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
مولاناساری زندگی احقاقِ حق اور ابطال باطل کا فریضہ سر انجام دیتے رہے،لیکن انداز اتنا سلجھا ہوتا کہ تنقید کرتے وقت اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ آپ بے مثال ذہانت و فطانت اور مؤمنانہ بصیرت سے مالامال تھے۔آپ کے علم و عمل اور زہد وتقویٰ میں امتیاز، قدیم و جدید مسائل پر دسترس، اپنے دور کے علمی وسیاسی حالات پر گہری نظر کی بدولت آپ بجا طور 'اپنے دور کا امام' کہلائے جانے کے مستحق ہیں۔
آپ کی وفات پربنتِ بشیر نے لکھا:
''عالی مرتبت ، عالی صفات ، عالی مقام ، فنا فی الله کے عملی پیکر، جامع کمالات وصفاتِ حمیدہ، حلم وتقوٰی اور عاجزی و انکساری کا نمونہ تھے۔ وہ سادہ اور ہر قسم کے تصنع سے پاک شخصیت کے مالک تھے۔ مگر ان کا علمی رعب و دبدبہ سامنے بیٹھے ہوئے سامعین کو اپنے سحر میں لے لیتا تھا۔ وہ جس موضوع پر بھی گفتگو کرتے، سامعین پر اس میں اپنی مہارتِ تامّہ کا تاثر چھوڑ دیتے۔ بڑے بڑے علمی مسائل کو اس سہولت کے ساتھ بیان کردیتے کہ سننے والے انگشت بدنداں رہ جاتے۔بڑی شائستہ گفتگو فرماتے، محبت و اُلفت کا مجسم پیکر تھے۔لوگوں کے سوالوں پر اکتاہٹ کا اظہار کرنے کی بجائے محبت سے سوالوں کے جواب دیتے۔''
مولانا صلاح الدین یوسف ﷫نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں ایک سو سے زائد عظیم کتب تصنیف فرمائیں :
1۔تراجم وتفسیرقرآن
1. تفسیر سورہ فاتحہ
2. تفسیر 'احسن البیان '
3. ترجمۃ القرآن ( لفظی )
4. معانی القرآن الکریم
5. ترجمہ وتفسیر تیسواں پارہ
6. تفسیر ترجمان القرآن (نظرثانی)
7. راہِ ہدایت (نظر ثانی)
2۔تراجم وتشریح حدیث اور حجیت حدیث
8. رياض الصالحین: ترجمہ وفوائد
9. سنن ابی داؤد،4جلد(نظرثانی، اضافہ)
10. سنن ابن ماجہ،5جلد(نظرثانی، اضافہ)
11. منحة الباری ترجمہ الأدب المفرد للبخاری
12. تنقیح الرواة في تخريج أحاديث المشکوة
13. نميمة الصبي في ترجمة الأربعين از نواب صديق حسن کی تسہیل وتنقیح
14. عظمتِ حدیث اور اس کے تقاضے
15. فکر فراہی اور اس کے گمراہ کن اثرات
16. فتنۂ غامدیت (ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ)
17. مولانا امین احسن اصلاحی (اپنے حدیثی اور تفسیری نظریات کی روشنی میں)
3۔اصلاحِ عقائد
18. توحيد اور شرک كى حقیقت مع مغالطات
19. یا اللّٰہ مدد
20. قبر پرستی ؛ایک حقیقت پسندانہ جائزہ
21. قبر پرستی: قبر پرستوں کے دلائل کا جائزہ
22. قبر پرستوں کے جال میں
23. ایصالِ ثواب اور قرآن خوانی
4۔ صحابہ کرام
24. 'خلافت وملوكيت' کی تاريخى وشرعى حيثيت
25. اسلامی خلفاء وملوک ؛غلط فہمیوں کا ازالہ
26. فضائل صحابہ و اہل بیتﷺ
5۔ عبادات
27. نمازِ محمدىﷺ
28. نمازِ مسنون مع ادعیہ ماثورہ
29. نماز کے بعض اہم مسائل
30. آدابِ نماز اور خشوع کی اہمیت ووجوب
31. کیا عو توں کا طریقہ نماز مر دو ں سے مختلف ہے؟
32. نمازِ جنازہ کے احکام و مسائل
33. مشہور کتاب حصن المسلم؛اُردو ترجمہ
34. رمضان ؛فضائل اور احكام ومسائل
35. رمضان المبارک؛ فضا ئل فوائدو ثمرات احکام و مسا ئل اور کرنے والے ضرو ری کا م
36. فضائل عشرہ ذو الحجہ اور احكام عيد الاضحىٰ
37. رسوماتِ محرم الحرام اور سانحۂ کربلا
38. اہل سنت اور محرم الحرام
39. جشن عید میلاد النبی ﷺ؟
40. زکوٰۃ وعشر کے احکام اور مسائل وفضائل
41. واقعۂ معراج اور اس کے مشاہدات
42. مسئلہ رؤیت ہلال اور بارہ اسلامی مہینے
6۔سماج و معاشرت
43. اسلامی معا شر ت
44. حقوق الامہ
45. حقوق العباد
46. کھانے پینے کے آداب
47. سونے جاگنے کے آداب
48. سلام کے آداب واحکام
49. حقوقِ مرداں ،حقوق نسواں
50. خواتین سے متعلقہ بعض اہم مسائل؛ احادیث کی روشنی میں
51. عورتوں کے امتيازى مسائل وقوانین: حکمتیں اور فوائد
52. ایامِ مخصوصہ میں عورت کا قرآن پڑھنا اور چھونا
53. اسلامى آداب ِمعاشرت؛ صحیح احادیث کی روشنی میں
54. اسلامی لباس؛آداب واحکام
7۔ خاندان اور نکاح وطلاق
55. حقوق الوالدين
56. حقوق الاولاد
57. حقوق الزوجين
58. حقوق وفرائض
59. مسنون نکاح اور شادی بیاہ کی رسومات
60. شادی بیاہ
61. بارات اور جہیز کا تصور ؛مفاسد اور حل
62. مفرور لڑکیوں كا نكاح اور ہمارى عدالتيں (مسئلہ ولایت نکا ح کا تحقیقی جا ئزہ)
63. ایک مجلس میں تین طلاقیں اور اُس کا شرعی حل
64. مسئلہ طلاقِ ثلاثہ اور علماء احناف
8۔ سیاستِ شرعیہ اورنظام عدل
65. نفاذِ شریعت؛ كيوں اور كيسے؟
66. اجتہاد اور تعبیر شریعت کے اختیار کا مسئلہ؛ پارلیمنٹ اہل ہے یا باصلاحیت علماے اسلام؟
67. عورت کی سربراہی کا مسئلہ اور شبہات ومغالطات کا جائزہ
68. حد رجم کی شرعی حیثیت اور شبہات کا جا ئزہ
9۔ اہل حدیث
69. اہل حدیث اور اہل تقلید
70. تحریکِ جہاد اور اہل حدیث واحناف
71. اہل حدیث کا منہج اور احناف سے اختلاف کی حقیقت ونوعیت
72. گناہوں سے کیسے بچیں (نظرثانی، اضافہ)
مولاناساری زندگی احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کا فریضہ سر انجام دیتے رہے،لیکن انداز اتنا سلجھا ہوتا تھا کہ تنقید کرتے وقت کبھی اخلاقیات کے اعلیٰ پیمانوں سے انحراف نہ برتا۔ ان کی ذہانت و فطانت،علم و عمل، زہدوتقویٰ، قدیم و جدید مسائل پر دسترس، حالاتِ حاضرہ پر نظر، عصری تقاضوں کے ادراک اور مؤمنانہ بصیرت نے انھیں دورِ حاضر کا امام بنادیا۔ آپ کی تحقیقی کاوشیں عقائد وعبادات کی اصلاح کے ساتھ ساتھ، اجتماعیات میں سیاسی، عدالتی ، معاشی اور سماجی مسائل تک پھیلی ہوئی ہیں۔آپ کی تحریر عام فہم، سلاست اور رواں اُسلوب کی آئینہ دار ہے۔
جیسا کہ پیچھے ذکر ہوا کہ آپ نے 12؍ جولائی 2020ء بروز اتوار شب 12:20 پربجے، اپنے گھر میں وفات پائی۔ آپ کی نمازِ جنازہ فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا مسعود عالم ﷾نے پڑھائی۔ آپ کے محبین کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ ہر مکتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں مسلمانوں نے آہوں اور سسکیوں کے ساتھ اللّٰہ عزوجل کے حضور آپ کے لیے دعائے مغفرت فرمائی اور آپ کے موحد ہونے کی گواہی دی۔محترم ڈاکٹر حافظ حسن مدنی کی ان کے فرزند حافظ عثمان یوسف کو تجویز اور محترم علامہ ابتسام الٰہی ظہیر کی آمادگی پر آپ کی نمازِ جنازہ مرکز اہل حدیث لارنس روڈ میں ادا کی گئی، وہاں ایک ایسا جم غفیر اُمنڈ آیا کہ اس عظیم الشان مرکزمیں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی، حتی کہ تہ خانے تک بھر گئے اور لوگوں کو باہر کھڑا ہونا پڑا۔
آپ کا دوسرا جنازہ مولانا ارشاد الحق اثری﷾ نے اسی مرکز میں پڑھایا، اور آپ کو جامعہ منظور الاسلامیہ کے سامنے صدر قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا، جہاں آپ کے بڑے بیٹے حافظ عثمان یوسف ﷾نے تدفین کے فوری بعد رقت آمیز دعا کرائی۔
آپ پر ناصبیت کا الزام
مولانا حافظ صلاح الدین یوسفؒ ایک غیر جانبدارمحقق اور منصف مزاج عالم تھے۔ آپ جمیع اہل بیت ، حسنین کریمین اور ان کے والدین رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کے لیے قلبی محبت رکھتے تھےاور کئی بار آپ نے فرمایا کہ ان پر تو ہمارے ماں باپ بھی قربان اور ان کے بارے کوئی برا سوچنے والا کبھی مسلمان نہیں ہوسکتا۔اس کے ساتھ ساتھ آپ دفاعِ صحابہ پر بھی کمربستہ رہے۔ایک بار مرکز اہل حدیث لارنس روڈ میں علماے کرام کے ایک بھرپور اجلاس میں آپ نے صحابہ کرام کی عزت وناموس پر بے مثال گفتگو فرمائی، اس میں راقم الحروف بھی شریک تھا۔ آپ نے فرمایا کہ ہمیں یزید کا دفاع اس لیے کرنا پڑتا ہے کہ اس سے سیدنا معاویہ پر طعن وتشنیع کا دروازہ کھلتا ہے۔ اسی اجلاس کے موقع پر مولانا ابویحییٰ نورپوری نے ان سے ملاقات کی اور ناصبیت کے بارے دریافت کیا۔ آپ لکھتے ہیں:
''کچھ سال پہلے مرکز اہل حدیث لارنس روڈ میں علماء کا اجلاس تھا تو راقم الحروف (ابویحییٰ نورپوری)اور استاذِ گرامی شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری ﷾اُنہیں علیحدگی میں خاص طور پر ملے اور ان سے دریافت کیا کہ لوگ آپ کے بارے میں ایسا تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اہل بیت کے بارے میں آپ کا نظریہ اہل سنت والا نہیں، تو اُنہوں نے دو ٹوک انداز میں فرمایا کہ ''سیدنا علی، حسن وحسین اور سیدہ فاطمہ کے بارے میں ذرا برابر بھی برا سوچنے والا کبھی مسلمان نہیں ہو سکتا۔
اُنہوں نے سیدنا حسین کے نکلنے کو 'سیاسی عمل' کہا تو روافض ونیم روافض نے پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ ان کی توہین کر دی گئی۔ جو لوگ خود سیدنا حسین کے سفر کو 'خروج' کہتے ہیں، وہ اس عمل کو سیاسی کہے جانے کو کیسے گستاخی کہہ رہے ہیں؟ کیا سیدنا علیؓ سے سیدہ عائشہ، طلحہ وزبیر اور سیدنا معاویہ کا اختلاف اہل سنت کے نزدیک سیاسی مسائل پرنہیں تھا؟
کیا کبھی کسی سنّی نے اس اختلاف کو سیاسی کہنے پر گستاخی کا فتوی لگایا...؟
اگرچہ ہماری تحقیق میں ان کا سفر ذاتی تھا، کسی حاکم سے ٹکر اُنہوں نے کبھی لی ہی نہیں، لیکن اگر کوئی اسے حاکم سے ٹکر سمجھتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس عمل کو سیاسی اختلاف ہی کہے گا، اس سے کون سی گستاخی لازم آتی ہے؟
یاد رکھیں کہ ہم اہل سنت سیدنا حسین سمیت تمام اہل بیت سے لازوال محبت رکھتے ہیں، ہمارے ماں باپ ان پر قربان... اس محبت کے لیے ہمیں کسی رافضی یا نیم رافضی دشمن صحابہؓ کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ ''
محترم عمار سعیدی اور محترم فیضان فیصل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ناصبیت کے الزام کے بارے جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
''جو حضرات مجھے ناصبیت کی طرف منسوب کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو یزید کی اس حد تک مخالفت کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ ،حضرت مغیرہ بن شعبہ اور دیگر بہت سے جلیل القدر صحابہ کی اہانت کر گزرتے ہیں۔ میرا موقف یہ ہے کہ ہمارا اصل مقصد صحابہ کا دفاع ہے جبکہ یزید صحابی نہیں، لیکن یزید کا دفاع اس لیے ضروری ہے کہ اس کی آڑ میں قصرِ صحابیت پر نقب زنی کی جاتی ہے۔ لہٰذا یزید پر لعنت وملامت دراصل قصرِ صحابیت تک پہنچنے کا چور دروازہ ہے۔
دوم، یہ کہ تاریخی طور پر بھی جو کچھ یزید کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے ،اس کا کوئی صحیح ثبوت نہیں اور صحابہ کرام نے اس کو خلیفۃ المسلمین اور امیر المؤمنین تسلیم کیا تھا، بلکہ عالم اسلام میں اس کی خلافت تسلیم کی جا چکی تھی۔ تو اس لحاظ سے وہ بالکل شرعی امیر تھا اور اس کا دفاع کرنا صحابہ کو بچانے کے لیے ضروری ہے۔
پھر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ جو گروہ ہمیں ناصبیت سے منسوب کرتا ہے، وہ اس اصطلاح سے واقف ہی نہیں۔ ناصبیت کا مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ حضرت علی، حضرت حسین رضی اللّٰہ عنہما اور اہل بیت کے خلاف باتیں کی جائیں جبکہ ہم تو الحمد للہ ان کا بھی دفاع کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم تو صحابہ کے دفاع کے مشن پر ہیں اور حضرت علی اور حضرت حسین رضی اللّٰہ عنہما بھی جلیل القدر صحابہ ہیں؛ ان کی توہین ہم کس طرح کر سکتے ہیں !''
سو یہ حضرات ناصبیت کی طرف منسوب کرکے جھوٹا الزام لگاتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ ناصبیت اور رافضیت میں زیادہ خطر ناک کون سا فتنہ ہے تو ظاہر بات ہے کہ اصل فتنہ تو رافضیت کا ہے۔ اور جو لوگ یزید پر لعن طعن کرتے ہیں تو یہ بھی اصل میں رافضیت کا راستہ ہموار کرتے ہیں اور در پردہ وہ روافض ہی کی سہولت کاری کا کردار ادا کرتے ہیں۔"
آپ کے بارے میں اہل علم کے تاثرات
a جامعہ لاہور الاسلامیہ کے رئیس ومہتمم اور مجلّہ 'محدث' کے مدیر اعلیٰ، ہمارے اُستاذِ گرامی مولانا ڈاکٹر حافظ عبد الرحمٰن مدنی ﷾ فرماتے ہیں:
''اہل حدیث علماے کرام میں حافظ صلاح الدین یوسف صاحب ان گنتی کے چند حضرات میں شامل ہیں جو عبادات سے لے کر سماج وقانون کے ہر پہلو پر صحابہ کرام کے منہج کی بہترین ترجمانی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے مسلکی حمیت کے ساتھ ان کو محدثین کرام پربے پناہ اعتماد عطا کیا ہے۔ آپ کے موئے قلم کا شاہکار تصانیف، ان علمی میدانوں کو وسیع ہیں جن پر لکھتے ہوئے بہت سے اہل علم کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔ ہردم قرآن وسنت کی فروغ میں اپنی تمام صلاحیتوں اور اوقات کو لگانے والے حافظ صلاح الدین یوسف علما کی آن اور شان ہیں۔ بالخصوص دورِ حاضر کے انکار حدیث کے فتنوں کے بارے میں آپ کا قلم بڑا غیوراور آپ کی جدوجہد بڑی مثالی ہے۔اللّٰہ تعالیٰ ان تمام عظیم خدمات کا بہترین صلہ اور اجرجزیل ان کو عطا فرمائے۔''
b شیخ التفسیر مولانا عبد السلام بھٹوی ﷾نے ایک بار مولانا صلاح الدین یوسفؒ کی شخصیت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا:
"میں مولانا صلاح الدین یوسفؒ کو بچپن سے جانتا ہوں۔ میں لاہور میں دورانِ حفظ مولانا عطاء اللّٰہ حنیفؒ کے پاس آیا جایا کرتا تھا، جہاں مولانا سے بھی ملاقات ہوجاتی۔ مولانا عطاء اللّٰہ حنیفؒ میرے والد صاحب کے ہم سبق اور مہربان ساتھی ہونے کی وجہ سے مجھے اپنے بیٹوں کی طرح عزیز رکھتے تھے۔ اسی طرح حافظ صلاح الدین یوسف صاحبؒ پر بھی بے حد شفقت فرماتے اور اپنی خاص تربیت میں رکھتے۔اس زمانے میں مولانا مودودیؒ نے 'خلافت وملوکیت' لکھی،جسے پڑھنے کے بعدمجھے بڑی پریشانی لاحق ہوئی۔اس کا جواب محمود عباسی نے'تبصرہ محمودی بر ہفواتِ مودودی' کے نام سے لکھاجس کانام بڑا سخت اور انداز بڑا ہی جارحانہ تھا، البتہ اس سے مجھے کئی باتیں ملیں۔ لیکن اس کا جو جواب مولانا عطاء اللّٰہ حنیفؒ نے اپنی نگرانی میں مولانا صلاح الدین یوسفؒ سے لکھوایا، وہ بہت ہی شاندار اور مبنی بر اعتدال تھا۔اس کے بعد مولانا لکھتے رہے اور بہت سے مضامین اور کتب تحریر فرمائیں۔ پھر آپ نے جب اللّٰہ کی توفیق سے قرآن مجید کی تفسیر 'احسن البیان'لکھی تو اللّٰہ تعالیٰ نے اسے بہت قبولِ عام عطا فرمایا اور سعودی عرب کی حکومت نے اسے شائع کرنا منظور کیا تو لاکھوں نسخے پوری دنیا میں پھیلے، لوگ اس سے بہت مستفید ہوئے۔میں بھی اپنی'تفسیر القرآن الکریم' میں اس سے استفادہ کرتا رہا ہوں۔میں نے جب اللّٰہ کی توفیق سے ترجمہ قرآن لکھا توحافظ صاحب نے اس پر بہت ہی حوصلہ افزائی کی، البتہ جب تفسیر لکھی تو گویا دریا ہی بہہ پڑا، آپ نے ازخود، بغیر کسی مطالبے کے ایک بہت ہی مفصّل تبصرہ تحریر فرمایا جو 'الاعتصام'میں بھی شائع ہوا۔ مختصر یہ کہ آپ بہت محبت بھری توجہ فرماتے تھے۔اکثر فون کرلیا کرتے تھے اور میں بھی فون کرکے ان کا حال پوچھتا رہتا۔''
c محترم پروفیسر ساجد میر ﷾ (امیر مرکزی جمعیت اہلِ حدیث) نے مولانا کی وفات پر فرمایا:
''مولانا صلاح الدین یوسف رحمہ اللّٰہ عظیم محقق ومفسر اور بے مثل صحافی و ادیب تھے۔ آپ نے ساری عمر دینِ حق کی ترویج میں صرف کردی۔ آپ کی دینی و مسلکی خدمات کو جس قدر سراہا جائے، کم ہے۔ آپ کی تفسیر 'احسن البیان' علماء اور عوام میں یکساں مقبول ہے۔ آپ نے نہ صرف توحید وسنت کا پرچم سربلند کیا، بلکہ شرک وبدعات اور کفر والحاد کا بھی خوب قلع قمع کیا۔ معاشرے میں کسی بھی قسم کا فتنہ کھڑا ہوا تو مولانا صلاح الدین یوسف مرحوم کا قلم اس کے محاسبے کے لیے تیار ہوگیا۔آپ کے قلم کی کاٹ کسی تیز دھار تلوار سے کم نہ تھی جس نے اثباتِ حق کے لیے کسی ملامت گر کی ملامت کی کبھی پروا نہ کی۔ آپ کا سانحۂ ارتحال نہ صرف میرے لیے بلکہ تمام اہل حدیث اور سارے دینی طبقے کے لیے انتہائی دکھ اور غم کا باعث ہے۔ اللّٰہ اُنہیں کروٹ کروٹ جنت عطا فرمائے۔''
d آپ کی وفات پر کبار اہل علم نے شدید رنج وغم کا اظہار فرمایا۔ انڈیا سے امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند محترم اصغر علی سلفی صاحب نے لکھا:
''آپ کی وفات سے جومنہجی،اصلاحی،تربیتی اور علمی و تحقیقی خلا پیدا ہوا ہے، اس کا پر ہونامشکل ترین نظرآرہا ہے کیونکہ آپ کی شخصیت گوناگوں صلاحیتوں کی حامل تھی۔آپ مسلک و منہج میں زرِ خالص اور لولوئے آبدارتھے جو بحارِ علم اور انہارِ فکروفن اور محیطِ فقہ و ادب میں غوطہ زنی اور شناوری اور ہم نشینی کے عوض پروان چڑھے تھے۔آپ کی فکر میں سنجیدگی و متانت، خیالات میں انتہائی پاکیزگی اورعلم میں گہرائی تھی اور إنما یخشی الله من عباده العلماءکے بموجب خشیتِ الٰہی اور رسوخ فی العلم میں معروف اور مشہور علماے وقت،اولیاءاللّٰہ، علماے راسخین کی صحبتِ کیمیا اثر سے کندن اورحقیقی جوہربن کرنکلے تھے جسے محدث بھوجیانی جیسے اہل علم و فکر نے اور زیادہ نکھار دیا تھا۔ آپ کی زبان و بیان اور اُسلوبِ نگارش نہایت سنجیدہ ،جاذب ،علمی و تحقیقی اوربے نظیرہے جس کی چاشنی اور اثرانگیزی ؏'از دل خیزد بردل ریزد 'کا صحیح مصداق ہے۔یوں تو ان کی ساری تصنیفات بے مثال اور لاجواب ہیں لیکن تفسیر احسن البیان بیت القصید (قصیدہ کے بہترین شعر) کی حیثیت رکھتی ہے، وہیں آپ کی جوانی کی تحریرخلافت و ملوکیت اپنے موضوع پر شاہکار ہے۔"
e ان کے دوست اور ساتھی پروفیسر ڈاکٹر مزمل احسن شیخ ﷾نے ان کی وفات پر لکھا کہ
''معتدل فکر کے مسلکی حمیت کے حامل، اہل قلم علما کی شان، مفسرقرآن، ہمارے مربی حافظ صلاح الدین یوسف بھی اللّٰہ کے حضور پہنچ گئے۔ قلم سے انتہائی مثبت کام لیا، 100 سے زیادہ کتب کے مؤلف تھے۔ تفسیر احسن البیان ، حج کے موقع پر ہر حاجی کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں تحفے میں ملتی ہے۔ یہ قیامت تک کے لئے محترم حافظ صاحب کے لئے صدقہ جاریہ ہے۔ شیطانی قوتوں کے خلاف تحریری جہاد ان کا شعار تھا۔ ''
سیدی حافظ صلاح الدین یوسف نے لاہور کی جس مسجد میں 1963ء میں امامت سنبھالی اور درس وتدریس کے فرائض انجام دیے، وہیں خطبہ جمعہ بھی دینے لگے۔ میرا بھی قیام وہیں مسجد میں ان سے کسبِ فیض اور صحبت سے منور ہونے کا سبب بنا۔ (کچھ عرصے بعد مسجد سے ہمیں رخصت ہونا پڑا)
شروع میں مسجد میں خطیبوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا لیکن آپ اپنے فرائض منصبی کو بطریق احسن انجام دیتے رہے۔ آخر کار انتظامیہ کو سمجھ آ گئی کہ اصلاح وفلاحِ اُمت کے لیے اصل انداز اور پیغام محترم حافظ صاحب رحمہ اللّٰہ کا ہی ہے۔
سادگی اور منکسر مزاجی کا یہ عالم تھا کہ مسجد کے اوپر ایک طویل عرصہ قیام کیا، اگرچہ شرقی غربی ہونے کی وجہ سے سہولیات عنقا تھیں۔ پنکھے بھی گرم ہوائیں دیتے تھے۔ لیکن مردِ درویش نے درخو اعتنا نہ سمجھا، یہاں تک کہ شادی بھی وہیں ہوئی، بچے بھی ہوئے اور تصنیف وتالیف کا تفسیری کام بھی فرش پر بیٹھ کر انجام دیتے رہے۔ پھر وقت آیا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں اپنا فقیرانہ محل عطا کیا۔ جہاں سے وہ اللّٰہ کی رحمت سے جنت الفردوس کے مکین بنے۔ پنجاب کے پروفیسروں کی ٹریننگ کے دوران رابطہ کار ہونے کی حیثیت سے میری درخواست پر کمالِ شفقت سے شاندار اصلاحی خطاب فرمایا۔
محترم حافظ نذر احمد آسان لفظی با محاروہ ترجمہ مرتب کر رہے تھے۔ متفق علیہ ترجمے کی تیاری کے دوران مولانا عزیز زبیدی (مدیر 'محدث') کی علالت کی وجہ سے سیدی حافظ یوسف صاحب سے نمائندگی کی درخواست کی گئی لیکن آپ نے معذرت فرمائی، ظاہر ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان سےعظیم کام لینے تھے، لہٰذا بندہ عاجز کو اس نمائندگی کی سعادت ملی۔ تکمیل پر توثیق کے لیے حاضر ہوا تو سیدی نے جستہ جستہ ترجمہ دیکھ کر تحسین بھی فرمائی اور توثیق بھی۔ الحمدللہ!
دو سال قبل بندہ نے اللّٰہ کے فضل سے مطب عبدالوحید سلیمانی کی کچھ ادویہ پیش کیں تاکہ ضعف کا ازالہ ہو سکے۔ الحمد للہ درخواست پر وہاں سے مزید ادویہ منگوا کر استعمال کرتے رہے اور ماشاءاللّٰہ دمِ آخر تک ہشاش بشاش رہے۔ وفات سے چاردن قبل فون پر دل نشیں محبت بھری آواز سن کر گمان نہ ہوا کہ اتنی جلدی ابدی سفر پر روانہ ہو کر ہم فقیروں کو جدائی کا صدمہ دے جائیں گے۔ اللّٰہ ان سے راضی ہو!!
میری اہلیہ محترمہ کا جنازہ محترم حافظ صاحب نے ہی پڑھایا۔ رضینا بقضاء الله وصبرنا على بلائه... ہم اللّٰہ کی قضا پرراضی ہیں اور اس کی آزمائش پر اس کی توفیق سے ہی صبر کرتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ جنت الفردوس میں ہم سب کو جمع فرمائے۔آمین!''
f محترم ابتسام الٰہی ظہیر ﷾نےمولانا کی وفات پر ایک مستقل کالم تحریر فرمایا،آپ نے لکھا:
'' آپ صاحبِ قلم وقرطاس تھے اور جہاں آپ نے 100 سے زائد مفصل تحقیقی اور علمی کتب تحریر کیں وہیں پر بعض مختصر مضامین بھی تواتر اور تسلسل کے ساتھ تحریر فرماتے رہے۔ ماہنامہ 'محدث' میں مسلسل لکھنے کے ساتھ ساتھ کئی برس تک علمی رسالے 'الاعتصام' کے مدیر بھی رہے اور آپ کے زیر ادارت نکلنے والے اس رسالے میں چھپنے والے مضامین کا معیار نہایت علمی اور تحقیقی ہوا کرتا تھا اور لوگ بڑے ذوق و شوق سے ان مضامین کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔ آپ نے جہاں پر دیگر بہت سے اہم عناوین پر تحاریر رقم کیں، وہیں پر حالاتِ حاضرہ اور قومی مسائل پر بھی مستند، باحوالہ اور زبردست تحریر لکھا کرتے تھے اور کتاب و سنت کی روشنی میں قومی مسائل کا بہت ہی خوبصورت انداز میں حل پیش کیا کرتے تھے۔
آپ نے ایک مرتبہ والدِ گرامی علامہ احسان الٰہی ظہیر کے خانوادے کے بارے میں بھی ایک تفصیلی تحریر لکھی جس میں جہاں پر علامہ احسان الٰہی ظہیر کے والدِ گرامی حاجی ظہور الٰہی اور محترم چچا جان ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کا ذکر تھا، وہیں پر آپ نے اس مضمون میں میری بھی بہت حوصلہ افزائی کی اور مستقبل کے حوالے سے نیک توقعات کا اظہار فرمایا۔ یہ آپ کا حسنِ ظن تھا اور میری یہ کوشش ہے کہ اللّٰہ تبارک وتعالیٰ مجھے اُن کی توقعات پر پورا اترنے کی توفیق دے۔ مختلف شخصیات اور خاندانوں پر لکھی جانے والی تحریروں سے حافظ صاحب کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو سامنے آتا ہے کہ وہ کس انداز میں مختلف دوست احباب سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا کرتے تھے۔
حافظ صاحب نے ذاتی اعتبار سے انتہائی سادہ زندگی گزاری، تواضع اور عجز و انکساری آپ کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔ آپ لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور خندہ پیشانی سے پیش آتے۔ طلبہ اور مسائل پوچھنے والوں سے آپ دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ گفتگو کیا کرتے۔''
g محترم ڈاکٹر حافظ حسن مدنی ﷾، ایڈیٹر مجلّہ 'محدث' لاہور لکھتے ہیں:
''محترم حافظ صلاح الدین یوسف ﷫کی وفات ایسے دکھ کی طرح ہے جو وجود میں اُتر جاتا ہے اور کسی لمحے اس سے چھٹکارا نہیں ملتا۔جن کی موجودگی سے نعمت کا احساس طاری رہتا اور جن کے چلے جانے کے اندیشوں سے راتیں بے چین ہو جاتیں، آہ کہ وہ رفیق اعلیٰ سے جاملے۔ان کے اُٹھ جانے سے ہونے والے دکھوں اور مشکلات کا اندازہ تو ان کو ہے جو ان سے پیچیدہ علمی عقدے حل کرایا کرتے اور حافظ صاحب کمال انکساری سے بڑے بڑے مسئلے لمحوں میں کھول دیا کرتے۔ ان کا فون ہر وقت رہنمائی کے لئے کھلا ملتا اور ان کے دروازے ہر لمحے خوش آمدید کہتے۔عوام ان کی عظمت کیا جانیں کہ جن کو علم وفضل سے کوئی زیادہ تعلق ہی نہیں رہا۔ اہل حدیثوں کی علم و قلم کی مسند آج ویران ہوگئی۔ قلم و قرطاس سے وابستہ اہل حدیث یتیم ہوگئے۔ اس دور میں 100 سے زیادہ کتب میں کتاب وسنت کا پرچار کرنے والی ان کے ہم پلّہ کوئی فاضل ہستی ہمیں دور دور تک نظر نہیں آتی۔وہ حدیث وسنت کے ایک غیور خادم تھے، مقام رسالت پر کبھی مفاہمت نہ کرتے، اہل بدعت سے کنارہ کش رہتے، اہل حدیثوں سے بلا امتیاز والہانہ محبت اور ان کی سرپرستی کرتے۔ جب میں نے ندوة المحدثین سے شائع شدہ ، 'جہاد پر اہل حدیث کی اعلیٰ خدمات' پر ان کی تصنیف پڑھی تو ان کی حمیت و غیرت اور تاریخی معلومات پر حیران رہ گیا۔ ان سے تذکرہ کیا تو بڑے خوش ہوئے کہ الحمد للہ ان کاوشوں کو پڑھنے والے موجود ہیں۔
اپنے دور کے ہر صاحبِ قلم کو ہی نہیں، دین کے ہر مخلص خادم کو ان کی سرپرستی اور مسلسل حوصلہ افزائی میسر آئی۔ مجھے ان کی بیس برس کی مسلسل سرپرستی حاصل رہی ، میں نے کتنی تحریریں لکھی اوران کا فون آتا، جس میں محبت آمیز حوصلہ افزائی ہوتی، کہیں ضروری اصلاح بھی فرما دیتے۔ آپ نے ہمیں لکھنا سکھایا، مسلسل لکھنے کا حوصلہ دیا اور پھر لمحہ لمحہ سرپرستی کی۔
حضرت حافظ صلاح الدین یوسف ﷫ سے زیادہ اپنے چھوٹوں کا دھیان کرنے والا اور حوصلہ افزائی کرنے والا میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔ ان کے رابطہ کرنے پر میں شرمسار ہوجاتا، ہمیشہ کھڑے ہوکر ان کا فون سنتا اور ان کے حکم کی بجا آوری کی کوئی نہ کوئی صورت نکالنے میں رہتا۔ حافظ صاحب علم کے پہاڑ تھے، آخری 60 سال کی علمی دنیا ان کی انگلیوں پر تھی، ہر معاملے پر مراجع اور تفصیلات سے آگاہ کرتے۔ ''
h شیخ خورشید احمد سلفی﷾،شیخ الجامعہ جامعہ سراج العلوم السّلفیہ، جھنڈا نگر ،نیپال لکھتے ہیں:
''حافظ صاحب کوئی عام قسم کے عالم نہیں تھے بلکہ کثیر الجہات اور تہہ بہ تہہ شخصیت کے مالک تھے۔ وہ نابغہ روزگار علما میں سے تھے۔ یقیناً وہ ترجمانِ کتاب و سنت اور فداے سلفیت تھے ۔ان کا ذہن و فکر اتباعِ سنت کے سانچے میں ڈھلا ہوا تھا۔ وہ مسلک و منہج میں زرِ خالص اور لولوئے آبدار تھے ،ان کی فکر میں بڑی سنجیدگی و متانت اور خیالات میں انتہائی پاکیزگی تھی ۔موصوف نے جو عظیم الشان کارنامہ انجام دیا ہے، وہ آبِ زر سے لکھے جانے کے لائق ہے۔تفسیر قرآن کی خدمت ایسی قابل قدر ہے کہ صرف اسی ایک پر وہ سونے سے تولے جانے کے لائق تھے۔ریاض الصالحین کا ترجمہ اور تشریح بےمثال ہے۔ دفاعِ صحابہ و دفاعِ حدیث کے باب میں 'خلافت وملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت' کو تو خطیب الاسلام علامہ عبد الرؤف رحمانی نے اس صدی کا بڑا اہم کارنامہ قرار دیتے ہوئے،نوبل پرائز کا مستحق گردانا تھا ۔اس سے ان کی مراد بحث و تحقیق میں معیار کی بلندی اور سنت کی پاسداری تھی۔ ان کے علاوہ ان کی متعدد قلمی کارنامے اور علمی یادگاریں ہیں۔مجھے ذاتی طور سے ان کی تحریریں بےحد پسند تھیں اور طلبہ کو ان کے مطالعے کی رغبت دلاتا رہتا تھا۔''
i پروفیسر قاضی طاہر علی ہاشمی صاحب نے تحریر فرمایا:
''دیگر اکابر علماء اہل سنت کی طرح حافظ صاحب ﷫ بھی زندگی بھر 'دفاعِ صحابہؓ'کے موضوع سے وابستہ رہے۔ یہ موضوع بجائے خود عبادت اور ایک اہم دینی فریضہ ہے کیونکہ صحابہ کرامؓ کے مجروح ہوجانے کے بعد قرآن مجید، ذخیرۂ حدیث اور نبوت و رسالت سبھی مشکوک ہوجاتے ہیں۔''
''ہر دور میں علماے حق دفاع صحابہؓ کا فریضہ سر انجام دیتے رہے، جن میں بجا طور پر محترم جناب حافظ صلاح الدین یوسف ﷫ کا اسم گرامی بھی ہے جو عالم شباب سے لے کر اپنی وفات تک دفاعِ صحابہؓ کا پرچم تھامے اور بلند کئے رہے۔''
j محترم ابوبکر قدوسی ﷾ نےلکھا:
'' میں بہت دور بیٹھا ہوں ...کل صبح دم سفر کے لیے گھر سے نکل کر شام ڈھلے منزل پر پہنچا...تھکا ہارا جلد سو گیا ۔دھوپ اوپر اٹھ آئی تو خبر ملی کہ حافظ صاحب رخصت ہو گئے ...دل پر عجیب سا بوجھ پڑ گیا ... ایک کے بعد ، قطار اندر قطار یوں بزرگ رخصت ہو رہے تھے کہ جیسے اندھیری رات میں بادل اُمڈ آئیں اور ان بادلوں کی کسی آوارہ ٹکری کے بیچ سے کوئی ستاروں کی لڑی اپنے رخ سے نقاب ہٹاے،مسکرائے ،آنکھ جھپکے ، بادل آنکھ مچولی کھیلے اور پھر سے آ جائے ،اور ستارے کھو جائیں ۔کل حافظ صلاح الدین یوسف رخصت ہوئے،میں فون پر عثمان یوسف سے تعزیت کرتے ہوے کہہ رہا تھا کہ ان کی وفات کا جتنا غم ہے، اتنا ہی غم ان کے جنازے میں شرکت نہ کرنے کا ہے ۔ایک روز مکتبہ قدوسیہ پر بیٹھے ...ہاں تینتیس برس گذرے ۔اداس کر دینے والا دن تھا ، حافظ صاحب مجھے ایک ڈھلتی شام کا قصہ سنا رہے تھے، مارچ کے آخری عشرے کا آغاز تھا ۔اس برس مارچ بہت ٹھنڈا تھا ، ایک دم اُداس کر دینے والا ...حافظ صلاح الدین یوسف نمناک آنکھوں سے بتا رہے تھے:
''میں اسی جگہ مکتبہ قدوسیہ پر مولانا عبد الخالق قدوسی کے ساتھ بیٹھا تھا ، ایک دم وہ کچھ اداس سے ہو گئے ...اور کہنے لگے کہ بس اب دنیا سے جی اُٹھ سا گیا ہے ...میں نے کچھ شوخ سا ہو کے کہا کہ اپنی کتب ہماری لائبریری (الاعتصام ) کے لئے وصیت کر دیجئے ...مولانا قدوسی جیسے مزید اداس ہو کے بولے کہ اگر میرے بچے مدرسے میں گئے تب ان کی ، اور اگر لارنس روڈ پر لائبریری بن پائی تو وہاں کے لئے۔ وگرنہ آپ کی ۔ دو دوستوں کی آپسی یہ بے تکلفانہ گفتگو تھی ۔ کچھ عرصہ بعد میں نے اسی کو اپنے والد کی وصیت جانا اور ان کی کتب مولانا عطاء الله حنیف کی لائبریری کو دے دیں ۔''
k پیغام ٹی وی سے وابستہ محترم یوسف سراج صاحب نے لکھا:
'' زندگی میں جو سب سے پہلی تفسیر میں نے پڑھی اور اللّٰہ کا کلام مجھے سمجھ میں آیا اور میں نے جس عبارت سے اُردو ادب کا حظ اُٹھایا ،وہ مفسر قرآن مولانا صلاح الدین یوسفؒ کی لکھی ہوئی تفسیر 'احسن البیان' تھی۔اسے پڑھ کر نہ صرف قرآن سمجھنے کی کتاب لگا بلکہ رواں عبارت کا لطف الگ سے دل ودماغ کو سرشار کرتا رہا۔ یہ کتاب مجھے نہ ملتی تو نہ جانے کب تک میں قرآن کو محض عبادت کی کتاب ہی سمجھتا رہتا۔''
l مجلہ البیان، کراچی سے وابستہ محترم حماد امین چاولہ نے لکھا:
''آج جہاں بہت سے محبانِ دین و علم محترم شیخ کی جدائی پر غمگین ہیں، وہیں المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر بھی خود کو علمی وروحانی طور پر یتیم محسوس کررہا ہے۔یقیناً جب سے ہمارے ادارے کے شعبہ تحقیق و تالیف کو شیخ ﷫ کی علمی سرپرستی حاصل ہوئی گویا کہ ایک نئی روح ہو جو اس میں پھونک دی گئی ہو۔ابھی حالیہ ہی شیخ ﷫ کی جنازہ کے احکام و مسائل پر مشتمل ایک جامع تالیف جو ایک انسائیکلوپیڈیا سے کم نہیں، ادارہ سے شائع کی گئی... اصل میں ادارہ فضیلۃ الشیخ علامہ عبد اللّٰہ ناصر رحمانی ﷾کی خواہش ، حکم اور سرپرستی میں دفاعِ حدیث کے موضوع پر ایک موسوعہ ترتیب دینا چاہتا تھا جس کے لیے محترم مفسرِقرآن فضیلۃ الشیخ حافظ صلاح الدین یوس﷫ سے گزارش کی گئی کہ وہ ادارہ کے شعبۂ تحقیق و تالیف کی سرپرستی بھی کریں اور اس موسوعہ کا آغاز بھی جسے شیخ نے شفقت فرماتے ہوئے قبول فرمایا اور اسی سلسلہ میں ابتدائی دو جلدیں بڑے اہم و منفرد موضوعات پر ادارہ سے شائع بھی کی جاچکی ہیں جبکہ مزید پر مشاورت جاری تھی۔شیخ علم کا وہ سمندر تھے جس سے جتنا چاہو، استفادہ کرتے رہو... ابھی ایک کتاب مکمل فرماتے کہ پیچھے دوسری بھی تیار ہوتی جس کی طباعت کے منتظر رہتے۔''
m معروف قلم کار محترم اعجاز حسن صاحب نےکئی اقساط میں مولانا کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کے احوال بڑی خوبصورتی کے ساتھ رقم فرمائے ہیں۔ اُنہوں نے مولانا صلا ح الدین یوسف ؒ کو قلم وقرطاس کا صلاح الدین ایوبی قرار دیا۔ لکھتے ہیں:
''میرے ایوبی کے مورچے سے ایسے گوہر تخلیق ہوتے کہ اہل باطل کی صفوں میں کھلبلی مچ جاتی۔ عاجزی ایسی کہ محترم اعجاز حسن صاحب کی قرآن مجید کے ترجمے سے متعلق نشان دہی پر فوراً اصلاح فرمائی اور شکریہ بھی ادا کیا۔ لکھتے ہیں:
''محترم اعجاز حسن صاحب! آپ کا مکتوبِ گرامی ملا۔ اس میں آپ نے سورہ ہمزہ کی آخری دو آیات کے ترجمے میں تقدیم و تاخیر کی غلطی کی نشان دہی فرمائی ہے۔ جزاك الله أحسن الجزاء! ہم اس توجہ فرمائی پر آپ کے شکر گزار ہیں۔ ان شاءاللّٰہ جب بھی موقع ملا، اس کی تصحیح کر دی جائے گی۔''
مولانا انتہائی شاکر وصابر اور راضی بہ رضا رہنے والی عظیم شخصیت تھے۔ ایک انٹرویو میں ازواج اور اولاد سے متعلق جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
''بیوی الحمد للہ ایک ہی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے بیوی ایسی عطا کی ہے جو ظاہری اور باطنی ہر قسم کی خوبیوں سے آراستہ ہے۔ اس لیے کبھی دوسری شادی کا سوچا بھی نہیں۔ ایک ہی بیوی سے بڑی خوشگوار زندگی گزری ہے اور ابھی تک گزر رہی ہے۔ بس دعا فرمائیں کہ بقیہ زندگی بھی اسی طرح بھرپور انداز سے گزر جائے جس طرح اب تک گزری ہے۔
الحمد للہ میرے سات بچے ہیں؛ چار بیٹیاں اور تین بیٹے۔ چاروں بیٹیاں شادی شدہ ہیں اور اپنے اپنے گھروں میں خوش و خرم ہیں۔''
ïمولانا ادب اور شعر کابھی ایک خاص ذوق رکھتے تھے، اپنے انٹرویو میں فرماتے ہیں:
''شعری اور ادبی ذوق ہونا اصحابِ علم کے لیے بہت اچھا ہے۔ اس میں کمی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے علماء ادبی چیزوں کا مطالعہ نہیں کرتے، اشعار وغیرہ نہیں پڑھتے۔ ہمارے علماء کو یہ کمی دور کرنی چاہیے۔ ہر صاحبِ علم کے اندر یہ ذوق ہونا چاہیے۔ اس کے بڑے فوائد ہیں۔ بول چال میں بھی تقریر میں بھی اور تحریر میں بھی۔علاوہ ازیں ٹی وی اور نیٹ وغیرہ نے لوگوں کی ترجیحات بدل دی ہیں۔ ان کے پاس وقت ہو یا نہ ہو، وہ ٹی وی پروگراموں کو دیکھنا ضروری سمجھتے ہیں۔ لیکن افسوس بلکہ ماتم والی بات یہ ہے کہ دینی جرائد و رسائل اور دینی و علمی کتب کا مطالعہ ان کے معمولات ہی سے خارج ہے، حالانکہ یہ ان کی ایک علمی ضرورت ہے۔ مطالعے سے ذہنی اُفق بھی وسیع ہوتا ہے۔''
ï علمی اختلافات بارے مولانا صلاح الدین یوسفؒ کا کہنا یہ ہوتا کہ یہ اختلاف فطری ہوتے ہیں، جنہیں علماء کی سرپرستی میں کم کیا جاسکتا ہے، ختم نہیں کیا جاسکتا، فرماتے ہیں:
'' اختلافات فطری ہی ہوتے ہیں، اُنہیں خود پیدا کردہ کہنا تو درست نہیں۔ اس کی وجہ بنیادی طور پر یہ ہوتی ہے کہ سب اہل علم اپنی اپنی تحقیق کرتے ہیں اور نتائج تحقیق ایک دوسرے سے اختلاف پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ اختلافات فطری ہی ہیں، ان کو غیر فطری یا پیدا کردہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ اس کا حل کیا ہے؟ اس کا اصل حل تو یہ ہے کہ علماء کی ایسی کمیٹی بنے جو ان تمام مسائل پر اور اس کے ساتھ ساتھ مسائلِ حاضرہ پر تحقیقی انداز سے گفتگو کرے۔ ان مسائل پر مقالے لکھے جائیں، ان کو وقت دیا جائے، مقالے مرتب کروائے جائیں اور ان پر بحث و مباحثہ ہو تو اس طرح اختلافات کچھ کم کیے جا سکتے ہیں، پھر بھی مکمل طور پر ختم نہیں کیے جا سکتے لیکن بہت حد تک ان کو مؤثر انداز سے حل کیا جا سکتا ہے۔''
ïجدید مفکرین اور دیگر فکری گمراہی میں مبتلا لوگوں کا لٹریچر پڑھنے کے بارے مولانا کا نقطہ نظر ان کی مسلکی وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے، فرماتے ہیں:
'' ان حضرات(مولانا مودودیؒ اور سید قطبؒ وغیرہم) کا لٹریچر موجودہ مسائل کے حل کے لیے یقینا مفید ہے، لیکن اس کے بعض خطرناک اور زہریلے اثرات بہرحال ہیں۔ اس لیے جو نو آموز اور نو خیز طلبہ ہیں، ان کے لیے ان کا پڑھنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کا حل اصل میں یہ ہے کہ پہلے ہمارے نوجوان علما کو اپنے جید علماے کرام کی تحریروں کا گہری نظر سے مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ ان کے اندر صحیح معنوں میں اپنی مسلکی عصبیت پیدا ہو جائے اور وہ صحیح نقطہ نظر سے آشنا ہو جائیں بلکہ جید علما کے مقالات کو اس حد تک پڑھیں کہ ان کے اندر ایسی حس پیدا ہو جائے کہ وہ کسی کے افکار کو پڑھتے ہوئے اس میں موجود انحراف کو فوراً محسوس کر لیں۔ جب اس قسم کی صلاحیت ان میں پیدا ہو جائے تو پھر وہ ان حضرات کا لٹریچر پڑھیں، ان شاء اللّٰہ اُمید ہے کہ وہ گمراہی کی بجائے افادیت کا باعث بنے گا۔ عام شخص کے لیے ان حضرات کا لٹریچر پڑھنا مفید کم اور نقصان دہ زیادہ ہے۔ پڑھنے والے کے اندر فکری انحرافات پیدا ہو سکتے ہیں۔ صرف وہی طلبہ ان کتب سے کما حقہ استفادہ کر سکتے ہیں جو اپنے علما کی تحریریں پڑھ کر حق و باطل کے امتیاز کی صلاحیت پیدا کر چکے ہوں۔''
ïاہل حدیث تنظیموں سے وابستگی بارے آپ نےفرمایا:
''ہماری جماعت کی کئی تنظیمیں ہیں اور سب ہی مسلکِ اہلحدیث کی دعوت دیتی ہیں، لہٰذا کسی ایک تنظیم سے اس طرح وابستہ ہو جانا کہ دوسری تنظیموں سے رابطہ اور تعلق ختم کر دیا جائے، قطعاً غلط اور نامناسب رویہ ہے جو بد قسمتی سے مختلف تنظیموں سے وابستہ لوگوں میں پایا جاتا ہے۔''
کتاب 'مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف ؓ ؛شخصیت و خدمات '
تیاری کے مراحل میں
والدِ گرامی مفسر قرآن،مصنفِ کتبِ کثیرہ، فقیہ ومحدث،شریعت وقانون کے ماہر،کہنہ مشق صحافی
مولانا حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللّٰہ کی شخصیت، حیات اور علمی، ادبی، دینی ومذہبی کثیر الجہات خدمات پر مشتمل ایک جامع کتاب زیر ترتیب ہے جو کہ ا ن کے جاری کردہ مکتبة ضیاء الحدیث کے زیر اہتمام عنقریب منظر عام پر آئے گی۔جس میں والد گرامی کے شاگردان،منتسبین ،ہم عصرعلماء اور اکابر کے تاثرات اورمضامین ومقالات شامل ہوں گے۔ان شاءاللّٰہ!
والد گرامی سے متعلق اپنے تاثرات ومضامین ہم تک لازمی پہنچادیں۔جزاکم اللّٰہ خیراً
حافظ محمد عثمان یوسف مدنی پتہ: 40؍ 124 شاداب کالونی، علامہ اقبال روڈ،گڑھی شاہو،لاہور
موبائل: 4945467 0335-و0322 ای میل: This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.