علاماتِ قیامت کا فہم اور درستی احوال کی راہنمائی
نبی کریم ﷺکی بیان کردہ، قیامت کی کچھ علامات بڑی واضح ہیں۔ اُنہیں دیکھ کر قربِ قیامت کا یقین ہو جاتا ہے۔اُمت اپنے اپنے حساب، ماحول اور علم کے مطابق اُنہیں جان لیتی ہے۔ قدیم اور دور ِحاضر کے اربابِ علم نے علاماتِ قیامت کی مختلف اقسام بنا کر ان کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ علامات خاص خاص مواقع کے لیے اور بڑی محدود ہیں، جبکہ علامات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ کچھ تو الفاظ کی صورت میں ہیں اور کچھ اشارات کی صورت میں۔ کچھ عبارتوں سے سمجھ میں آجاتی ہیں اور کچھ ضمنی طور پر ۔ اور ایک ایک علامات اپنے ضمن میں بہت سی علامات لیے ہوئے ہے۔ اگر لفظاً بیان کردہ علامات کو دیکھا جائے تو وہ اہل تحقیق کی نزدیک اس طرح ہے۔ علامات قیامت کو جاننے کےلیے حاشیہ میں درج کتب سے استفادہ کیا جاسکتاہے۔
اگر ان علامات قیامت میں سے ایک ایک پر غور کیا جائے تو ان کے ضمن میں پائی جانے والی علامات کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ایمان ویقین کی کمی، مادہ پرستی، دنیا سےمحبت، تہذیب وثقافت، قیام وطعام اور رہن سہن الغرض ایک ایک چیز بیان کردی گئی ہے۔
ذیل میں ایسی ہی چند ضمنی علامات بیان کی جاتی ہیں جن سے قیامت کا یقین بھی پختہ ہو گا۔ نبی کریمﷺ کی صداقت بھی عیاں ہو گی اور پیش بندی کی راہیں بھی ہم وار ہو ں گی۔
اوّل: زنا کا عام ہونا
زنا کے عام ہونے کے متعلق متعدد حدیثیں وارد ہیں:«وَيَظْهَرَ الزِّنَا» . '' اورزنا عام ہو گا۔'' یہ ایک علامتِ قیامت ہے۔اب دیکھیے كہ زنا ایک دم سے آتے جاتے نہیں ہو جاتا۔ اس کے لیے بہت لمبی چوڑی شیطانی منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ وہ ساری منصوبہ بندی اور وسائل بھی در اصل زنا کے عام ہونے کی پیش گوئی میں ضمنی طور پر شامل ہیں۔
1. جہاں تک اسبابِ زنا کا تعلق ہے تو وہ'نظر'سے شروع ہوتے ہیں۔ براہِ راست دیکھنے کی سہولت بھی جانبین کو میسر ہے جس کی راہ میں شرم وندامت کی ہلکی سی اوٹ بھی نظر نہیں آتی۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر اپنی خوبصورت تصاویر مختلف انداز میں بنا کر لگانااور ان میں مرضی کی رنگ آمیزی کرنا اورہرایک کو دیکھنے کی سہولت میسر ہونا۔ اسی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اور تشہیری مہم جوئی میں عورت کی تصویر اورہرایک کا نامناسب انداز بلا روک ٹوک استعمال ہے۔ جن کے پاس وسائل ہیں، وہ ان ماڈلز تک بھی پہنچ پاتے ہوں گے اور جن کی پہنچ ان'ستاروں'تک نہیں، وہ ان جیسوں کی تلاش میں لگ جاتے ہو ں گے۔ اس سے قبل یہ صورتِ حال نہ تھی۔ دیکھنے کی اس سہولت نے زنا کی راہ ہموار کی۔ گو حدیث ہمیں بتا رہی ہے کہ قیامت کے قریب یہ دیکھنے کی سہولت عام ہو گی۔ کیمرے کی ایجاد،فوٹو شاپ پروگرام،ہر موبائل میں کیمرہ، یہ سب ضمنی پیش گوئیاں ہیں۔اور اگر کوئی پیش بندی کے طور پر زنا سے بچنا چاہتا ہے تو دیکھنے کے جملہ ذرائع سے بچ کر رہے۔ فیس بک یا دیگر ذرائع ابلاغ پر نمودار ہونا تو کوئی ضروری نہیں لیکن اپنی عزت کا دفاع انتہائی لازمی امر ہے۔ مگر خود نمائی کے اس دور میں اور تصویر کے عام ہونے نے بڑے بڑے پاکیزہ گھرانوں سے پابندیاں اُٹھا دی ہیں۔
2. زنا کا دوسرا سبب'رابطہ'ہے۔ پہلے جانبین کا رابطہ انتہائی مشکل اور کٹھن تھا۔ جوں جوں قیامت قریب آتی جا رہی ہے، توں توں باہمی روابط بھی آسان تر اورسستے ترین ہوتے جا رہے ہیں۔ موبائل کمپنیوں نے سستے ترین پیکیج دے کر گناہ میں سہولت در سہولت پیدا کر دی ہے۔ جب ٹیلی فون کی سہولت میسر آئی تب بھی گھروں سے'نکل جانے'کے واقعات میں اضافہ ہوا اور زنا پھیلا۔ لیکن جانبین کو خطرات رہتے تھے کہ مطلوبہ'شکار'کے علاوہ فون کوئی اور نہ اُٹھا لے مگر موبائل نے یہ سہولت بھی فراہم کر دی۔ اب بلا خوف وخطر رابطے ہوتے ہیں۔
3. زنا کا تیسرا سبب جانبین کی تنہائی ہے۔ رابطے کی سہولت سے تنہائی بھی آسان ہو گئی۔ اور تنہائی کے لیے کالج، یونیورسٹی، دفاتر اور آنے جانے کے دوران مواقع بھی میسر آ گئے۔ زنا سے متعلق پیش گوئی میں ضمناً یہ بتا دیا گیا ہے کہ قیامت کے قریب غیر محرموں سے تنہائیاں میسر آئیں گی۔ جو با شعور اُمّتی ہیں اور سینوں میں اللّٰہ کا خوف اور خشیت رکھتے ہیں وہ تو تنہائیوں سے بچتے ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے مواقع میسر آجاتے ہیں۔ مخلوط نظام ِتعلیم میں اور سرکاری ونیم سرکاری دفاتر میں خواتین کا لازمی کوٹہ بھی بہت سے مواقع رکھتا ہے جس سے شاطر اور شیطانی ذہن فوراً راستہ بنا لیتا ہے۔ زنا عام ہونے کی پیش گوئی کا مطلب یہی ہے کہ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے کسی مرد یا عورت کو تنہائی کے لمحات میسر آ رہے ہیں تو وہ ان سے خود بچے۔ اس بارے میں علیحدہ سے احادیث موجود ہیں: «لاَ يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَة».
''کوئی غیر مرد کسی غیر محرم عورت سے ہر گز تنہائی اختیار نہ کرے۔''
اسی طرح فرمایا: «وَلَا تَلِجُوا عَلَى المُغِيبَاتِ».
'' جن کے خاوند موجود نہ ہوں، ان کے پاس نہ جاؤ۔''
اگر کسی انجانے میں دیکھنے اور رابطے کے مراحل طے ہو چکے ہیں تو اب بھی زنا ممکن نہیں۔ یہ اسی وقت ہو سکتا ہے، جب تنہائی میسر ہوگی۔
4. زنا کو عام کرنے کے لیے تزئین وآرائش بھی ایک سبب ہے ۔ بناوٹی خوبصورتی کے لیے بہت سے وسائل سستے داموں میسر ہیں۔ زنا کے عام ہوجانے والی حدیث میں ان کی طرف اشارہ بھی موجود ہے۔ کسی عام سے چہرے کو کسی بھی تہوار پر بیوٹی پارلر کا چکر لگوایا جائے تو وہ پرکشش اور جاذب بن جاتا ہے۔ نت نئے فیشن اور خوبصورتی پر صرف ہونے والا سرمایہ شاید ہماری بنیادی خوراک کا نصف تو ضرور ہو گا۔ جس نے دوسروں کے لیے فیشن کرنا ہے، اس نے اپنے آپ کو نمایاں بھی کرنا ہے۔ اس لیے اس کا لباس بھی ادھورا یا کم تر ہو گا۔ پردے سے یا تو بچا جائے گا یا پھر پردہ اس انداز سے کیا جائے گا جو پرکشش ہواورحقیقت میں 'نام کاہی پردہ'۔
5. اور پھر کاسمٹکس میں خوشبو کا استعمال اور مستقل طور پر خوشبو کا استعمال...جو شریعت ِاسلامیہ میں عورت کے لیے ممنوع ہے...عام ہے۔ نسوانی پر فیومز اور عطر کی ایک بہت بڑی رینج مارکیٹ میں دستیاب ہے۔
6. اسی طرح زنا کے اسباب میں گھر کے سر براہان کا اپنے گھر کی رعایا سے بے خبری بھی ہے۔لڑکیوں کےبارےمیں تو کسی حد تک دیکھ بھال کی جاتی ہےمگر لڑکےکلی آزاد ہیں۔ لوگوں کا یہ شوق تو بہت زیادہ ہے کہ وہ جان لیں کہ دنیا کہاں پہنچ چکی ہے مگر ان کو اپنے جگر گوشوں کی پروا تک نہیں۔ انہیں یہ تو پتہ ہے کہ جیسے تیسے بھی ان کے جائز اور ناجائز اخراجات پورے کرنے ہیں، مگر ان کی تربیت کا کوئی اہتمام نہیں۔ احتساب نہیں، اپنے گھروالوں کے بارے میں چوکنا اور ہوشیار رہنے کا کوئی جذبہ نہیں، حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ نے اہل ایمان کاجنت میں ہونے والا مکالمہ بیان کیا ہے کہ وہ جنت میں اپنی مسندوں پر جلوہ افروز ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے : ﴿اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِيْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِيْنَ﴾ (الطور26:52)
''بے شک ہم اس سے قبل(دنیا میں)اپنے گھروالوں کے بارےمیں چوکنے رہتے تھے ۔''
7. اسی طرح زنا کا ایک بڑا سبب خاوندوں کا معاش کے سلسلے میں اپنے گھر سے مہینوں بلکہ سالوں تک کے لیے دور رہنا ہے۔ اور 'مشترکہ خاندانی نظام 'میں پردے کا خیال نہ رکھنا اور تنہائیوں سے نہ بچنا ہے۔ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جوبیرون ممالک میں ناجائز کام کر رہے ہوتے ہیں اور اندرون ملک میں ان کی نوجوان بیویاں ان کا بدلہ چکا رہی ہوتی ہیں۔ فطرتی جذبات کو آخر کب تک دبایا جا سکتا ہے؟اسی طرح گھریلو ناچاقیاں ، بیگمات کا اپنے خاوندوں کی جائز خواہش کا خیال نہ رکھنا اور شرعی اجازت کے باوجود خاوندوں کی زیادہ شادیوں میں رکاوٹ بننا اور حکومت کا ایک سے زائد شادیوں کے لیے کڑی شرائط لگاناکہ ایسا ممکن ہی نہ رہے،یہ بھی زنا کاری کا ایک خاموش سبب ہے۔
8. زنا کے عام ہونے کے اسباب یہ بھی ہے کہ بدکاری کے اڈے عام مل جاتے ہیں، جیسے ہوٹل وغیرہ۔ پہلے یہ ضرورت کے تحت تھے جو اب فحاشی کے اڈے بنتے جا رہے ہیں۔ یہ سستے سے سستے اور مہنگے سے مہنگے کرائے پر دستیاب ہیں۔ سیر گاہوں پر، ساحلوں پر اور شہر میں ہر جگہ یہ سہولت میسر ہے۔
9. زنا کے عام ہونے کے اسباب میں سے خاص طبی اور جنسی ایجادات بھی ہیں۔ جن میں سےایک اہم بات یہ بھی ہے کہ بدکار خاتون کو اپنے شکم میں بدکار مردکے چھپائے ہوئے نطفہ حرام کو پرکھنے اور ساقط کرانے کی سہولت بہ آسانی میسر ہے،حالانکہ ان سب امور کے لیے کچھ شرائط وضوابط ہونی چاہییں۔ پہلے کی عورت کو خواہ وہ کس قدر بھی بد کار ہو، اسے یہ خدشہ تو تھا کہ اس کے رحم میں کچھ سما گیا تو وہ کیا کرے گی کیسے چھپائے گی؟ مگر آج ایسی کوئی مشکل نہیں!!
10. زنا کو قانون کی چھتری بھی میسر ہے۔ لڑکا اور لڑکی گھرسے بھاگے، راتیں بسر کیں اور کچھ دن بعد عدالتی نکاح کرکے معاشرے میں با'عزت'رہنے لگے۔ اگر ایسے ناجائز جوڑے کو یہ یقین ہو کہ اُنہیں تحفظ کے بجائے سزا دے کر ان کے گھروں میں واپس لوٹایا جائے گا تو بھلا کس میں جرات ہو گی!! گویا یہ عدالتی 'ریلیف' بھی زنا کا سبب ہے۔
الغرض! نبی اکرمﷺ نے زنا عام ہونے کی پیش گوئی فرمائی تھی اور یہ ایک پیش گوئی اپنے ضمن میں بیسیوں پیش گوئیوں کو لیے ہوئے ہے۔ یہی اعجاز نبوت ہے۔ ہماری معاشرتی بے راہ روی اور سماجی ابتری کی ایک ایک شق اور مرحلہ واضح کردیا گیا ہے۔ اب جو شخص کسی بھی مرحلے میں'زنا'کا سبب بن رہا ہے، اسے اپنے انجام کو جان لینا چاہیے۔
دوم: موٹاپا
رسول اللّٰہ ﷺ نے علاماتِ قیامت میں موٹاپے کا تذکرہ بھی کیا، حدیث نبویﷺ ہے:
«وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ». ''اور موٹاپا عام ہو گا۔ ''
یہ تو ایک پیش گوئی ہے جسے ہم اپنی آنکھوں سے پورا ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ اب اس پیش گوئی کے ضمن میں ہم جائزہ لیتے ہیں کہ موٹاپے کے اسباب کیا ہیں۔
ماہرین نے موٹاپے کے مندرجہ ذیل اسباب بتائے ہیں:
1. ورزش اور جسمانی سر گرمیوں سے پہلوتہی۔ جوں جوں قیامت قریب آتی جا رہی ہے نوجوانوں کی کھیلیں بھی محدود ہوتی جا رہی ہیں۔ کھیل کے وسیع اور کھلے میدان بھی بہت کم ہیں۔ اگر ہیں بھی تو نوجوان موبائل میں موجود کھیلوں ہی پر اکتفا کرتے ہیں۔ ہر کھیل کی موبائل ایپ بنا دی گئی ہے ۔ اکثر لوگ انہی پر اپنے شوق پورے کر لیتے ہیں۔ حالانکہ یہ صحت پر مضر اثرات ڈالتی ہے۔ ایک سروے کے مطابق ویڈیو گیمز کو دیکھنے والوں کی تعداد کروڑوں تک پہنچتی ہے۔پہلےنوجوان نسل جسمانی کھیلوں میں مصروف رہتی تھی اور اب موبائل اورنیٹ پر۔
2. موٹاپے کا ایک سبب فاسٹ فوڈز اور چکناہٹ ہے۔ شہروں سے لے کر دیہات تک، بازاروں سے لے کر محلوں تک، ہر جگہ برگرز، پیزے اور کولڈڈرنکس موجود ہیں اور ہر وقت موجودہوتے ہیں۔ خصوصاً بچے اور جوان انہیں بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ اس میں اس قدر ورائٹی ہے کہ یہ بہت مرغوب ہیں۔ ان سے موٹاپا بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں بڑی ذائقے دار اشیا تیار کرتی ہیں ،ہوم ڈلیوری کی سہولت بھی میسر ہوتی ہے۔اس کے علاوہ ہوٹلوں کی بہتات اور کھانے پینے کا شوقِ فراواں بھی موٹاپے کا سبب ہے۔
3. موٹاپے کا سبب شوگر بھی ہے اور شوگر کا باعث 'ذہنی دباؤ' ہے۔ گویا حدیث میں بتادیا گیا کہ قیامت کے قریب ذہنی تناؤ بڑھے گا۔ ذہنی تناؤ خود ساختہ ہے۔ دنیا میں آگے بڑھنے کی دوڑ ؍مقابلہ آرائی اور مادہ پرستی نے سکون کی جگہ افراتفری ، ذہنی دباؤ اور اُلجھنیں تحفےمیں دی ہیں۔
4. موٹاپے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سا کام کمپیوٹر اور مشینوں سے لیا جاتا ہے ۔ تعمیراتی میدان میں بھی، صنعت گری میں بھی حتی کہ کاریگری اور دست کاری میں بھی ہاتھوں کی جگہ مشینیں آ گئیں۔ اور آپریٹر محض بٹن دبانے کا کام کرتے ہیں ۔
5. رہتی کسر موٹر سائیکل اور جدید سواریوں نے نکال دی۔ معمولی سے اور قریبی کام کے لیے بھی لوگ پیدل چلنے کے بجائے موٹر بائیک استعمال کرتے ہیں۔ جن علاقوں اور دیہاتوں وغیرہ میں پیدل چلنے کا ذوق یا شغل باقی ہے، ان علاقوں میں اب بھی موٹاپا کم ہے۔
الغرض موٹاپے کے متعلق آپﷺ کی پیش گوئی کے ضمن میں اس سے متعلقہ بہت سی علامات سمجھ آتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے پہلے سے پیش گوئی اس لیےفرما دی تھی کہ اُمت اپنے رہن سہن، خوراک اور طرزِ زندگی میں توازن برقرار رکھے۔ مگر اور تو اور ،خود اہل علم کی اکثریت بھی اس کا شکار ہے۔
سوم: علم کا اُٹھ جانا اور جہالت کا عام ہونا
علامات ِقیامت میں سے یہ بھی ہے کہ علم اُٹھا لیا جائے گا۔ حدیث مبارکہ ہے:
«أَنْ يُرْفَعَ العِلْمُ وَيَثْبُتَ الجَهْلُ».
''علم اُٹھا لیا جائے گا اور جہالت باقی رہ جائے گی۔ ''
علماے کرام کاتیزی سے اُٹھ جانا ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں جیسا کہ پچھلے دنوں امام القراء قاری محمد یحییٰ رسولنگری ، جامعہ سلفیہ کے نائب شیخ الحدیث مولانا محمد یونس بٹ، شیخ الحدیث جامعہ محمدیہ، گوجرانوالہ: مولانا عبدالحمید ہزاروی، شیخ الحدیث دار الحدیث،اوکاڑہ: مولانا عبدالرشید ہزاروی،پروفیسر حافظ ثناء اللہ خان، پروفیسر عبد الرحمٰن لدھیانوی معروف مفسر قرآن: حافظ صلاح الدین یوسف اور مولانا عبدالحلیم شرر بن مولانا محمد علی جانباز... اللّٰہ ان اکابرین سے راضی ہو جائے اور بخشش وبلندی درجات عطا فرمائے ۔آمین!
علم اُٹھ جانے پیش گوئی کے برعکس ہمیں دینی وعصری علوم کی طرف زیادہ رجحان نظر آتا ہے۔ اس لحاظ سے حدیث کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس میں علم دین اُٹھ جانے کی بات ہے۔ کیونکہ اسی باب کی احادیث میں یہ الفاظ بھی ہیں:
«حَتَّى إِذَا لَمْ يبْق عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ...»
'' یہاں تک کہ جب ایک بھی عالم باقی نہیں بچے گا تو لوگ اپنے رؤسا جاہلوں کو بنائیں گے پھر ان سے سوالات پوچھے جائیں گے تو وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے۔''
ظاہر ہے کہ یہ علم کے بغیر فتویٰ دینا علم دین ہی سے متعلق ہو سکتا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ شریعت کے لحاظ سے' دین کے بغیر علم'جہالت ہی ہے، خواہ دنیوی اعتبار سے معاشرہ بہت تعلیم یافتہ ہو۔
اس ضمن میں دوسری بات یہ ہے کہ علم سینوں سے رخصت نہیں ہو گا بلکہ اہل علم اُٹھتے چلے جائیں گے۔ حدیث میں ہے: «إِنَّ اللّه لاَ يَقْبِضُ العِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ العِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ العِلْمَ بِقَبْضِ العُلَمَاءِ».
''بے شک اللّٰہ تعالیٰ علم لوگوں کے سینوں سے نہیں کھینچے گا بلکہ علم کو اہل علم کے ذریعے اٹھا لے گا۔''
گویا صحیح اہل علم کا وجود اُمت پر اللّٰہ کا بہت بڑا احسان ہے ۔ جس ملک یا علاقے میں اللّٰہ کا خوف رکھنے والے اہل علم نہیں ہیں، وہ علاقے اس فضل الٰہی سے محروم ہیں۔ اسی علامتِ'قیامت'کے ضمن میں اہل علم کا رخصت ہوتے چلے جانا، یا قتل ہو جانا بھی ثابت ہو رہا ہے۔
پیچھے جو شبہ پیش کیا گیا کہ بظاہر تو دینی علوم پڑھنے والے بڑھ رہے ہیں۔ ہزاروں بچے حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کر رہےہیں۔ بہت سے ادارے آن لائن علم کی نشرواشاعت میں مگن ہیں۔ خواتین کے حلقوں میں بہت سے ادارے علم کی شمع فروزاں کیے ہوئے ہیں،جبکہ پہلے ایسا نہیں تھا ۔مگر حدیث بتا رہی ہے کہ جہالت عام ہو گی اور علم اُٹھ جائے گا۔ اس کا حل بھی ایک حدیث کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے ،وہ حدیث اس طرح ہے:
نبی اکرمﷺ نے کسی بات کا تذکرہ کیا اور فرمایا: «ذَاكَ عِنْدَ أَوَانِ ذَهَابِ الْعِلْمِ».
'' یہ اس وقت کی بات ہے جب علم اُٹھا لیا جائے گا۔''
زیاد بن لبید کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اللّٰہ کے رسول ﷺ!کیسے علم چلا جائے گا، حالانکہ ہم قرآن پڑھ رہے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی پڑھا رہے ہیں اور اسی طرح روزِ قیامت تک یہ سلسلہ تعلیم جاری رہے گا۔ تو آپﷺ نے فرمایا: «أَوَلَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ لَا يَعْمَلُونَ بِشَيْءٍ مِمَّا فِيهِمَا؟»
'' کیا یہ یہود ونصاریٰ نہیں ہیں یہ بھی تورات وانجیل پڑھتے ہیں مگران میں سے کسی پر بھی عمل پیرا نہیں ہیں۔''
یہ حدیث بتا رہی ہے کہ علم کے تقاضوں کے مطابق عمل کا فقدان ہو گا اور علم کی روح نہیں ہو گی۔
اس سے معلوم ہوا کہ علِم دین 'عمل' کے لیے نہیں سیکھا جارہا بلکہ شہرت او رناموری کے لئے، اپنا سکہ بٹھانے اور اپنے نیٹ ورک کوبڑھانے کے لیے ہے ۔اس سے یہ بھی واضح ہورہا ہے کہ علمِ دین کا حصول ذریعہ آمدن کے طور پر ہوگا۔دینی دانش گاہوں میں تربیت اور عملی مشق کا فقدان ہوگا۔
اس عنوان کےتحت جو روایات ذکر کی گئی ہیں، ان سے بہت سی ضمنی علامات سمجھ آتی ہیں:
1. اہل علم اُٹھتے جائیں گے۔ ان کی جگہ ان جیسے اہل علم نہیں لیں گے۔ اس طرح رفتہ رفتہ کئی علاقوں میں کوئی بھی اہل علم باقی نہیں رہے گا۔
2. لوگوں کی قیادت اور باگ ڈور جاہلوں کے ہاتھ میں ہو گی جیسے آج کل عوامی نمائندے ہوتے ہیں۔
3. جو علم کے صحیح قدردان اور علم کے راہی ہوں گے، اللّٰہ تعالیٰ ان کے سینوں سے علم کبھی نہیں نکالے گا۔ اس لیے عموماً اہل علم جسمانی طور پر جس قدر بھی نحیف ہو چکے ہوں، علمی طور پر وہ مضبوط اور قرآن وسنت کےدلائل سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔
4. ضمناً یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اگر قرآن وسنت کی تعلیم کا حصول عمل کے ارادے سے نہیں ہے تو پھر وہ کونسے مقاصد ہیں جس کے لیے اتنے ادارے اور انسٹی ٹیوٹ کھلے ہوئے ہیں۔ گویا قرب قیامت علم دین کو بھی ایک فن اور ذریعۂ معاش کے طور پر حاصل کیا جائے گا۔
5. دینی علوم کا سر چشمہ قرآنِ مجید ہے۔ جیسا کہ صحابہ نے عرض کی کہ ہم قرآن مجید پڑھتے پڑھاتے ہیں تو پھر علم کیسے اٹھا لیا جائے گا؟ آج مدارسِ دینیہ اور جامعات میں قرآن سے رہنمائی حاصل کرنے کے علوم کو کم اہمیت دی جاتی ہے، اسے فوقیت دینے کی ضرورت ہے۔
6. یہود ونصارٰی خواہشات کی تکمیل کے لیے تاویلات کا سہارا لے کر کچھ نہ کچھ تو عمل کیا ہی کرتے تھے ۔ قرآن مجید میں بھی ان کی اپنی شریعت کے کچھ حصے کو ماننے اور کچھ کے انکار کرنے کا تذکرہ ہے مگر یہ حدیث بتا رہی ہے کہ ان کے احبارورہبان سرے سے عمل ہی نہیں کرتے تھے۔ اس سے واضح ہوا کہ جو عمل اپنی خواہشات کی تکمیل اور ذوق کی تسکین کے لیے کیا جائے، وہ عمل وکرداراللّٰہ کے ہاں اہمیت نہیں رکھتا۔ عمل کی حقیقی راہ یہی ہے کہ ہر وقت، ہر حکم کو بلا تفریق وتخصیص تسلیم کیا جائے۔ وہ حکم عقائد سے تعلق رکھتا ہو یا اعمال سے ، سیاست سے ہو یا معیشت سے، تعلیم سے ہو یا تبلیغ سے، معاشرت سے ہو یا اخلاق سے۔
7. علم اُٹھ جانے کی علامت کے ضمن میں دیکھیں تو یہ بات بھی نظر آتی ہے کہ جن دینی جماعتوں کے سربراہ اہل علم ہیں وہ بھی کلیۃً شرعی احکام پر عمل پیرا نہیں ہیں او رجوعلماء جماعتوں سے تعلق نہیں رکھتے، وہ بہت سے احکام کو نظر انداز کیے ہوئے ہیں جن کا تعلق خالصتاً اجتماعی ہے۔ جیسے اسلامی حکومت کی تشکیل اور غلبے کے لیے جستجو احکامِ شریعت میں سے ہے مگر کئی اہل علم کی کتاب زندگی میں اس موضوع کا ایک ورق بھی نظر نہیں آتا اور کئی ایک اہل علم ایسے ہیں کہ انہوں نے تبلیغ ودعوت کے شرعی ضابطوں کو سمجھوتے کی بھینٹ چڑھا دیا۔ اُنہوں نے دعوت کے بنیادی نقطۂ توحید ہی کو نظر انداز کر دیا۔
چہارم: انصاف بکے گا ...!
علاماتِ قیامت میں ایک اہم علامت یہ ہے کہ «وَبَيْعَ الْحُكْم». '' اور فیصلے فروخت ہوں گے۔''
موجودہ حالات میں یہ مشغلہ بڑا عام ہے۔ منصف بڑا فیصلہ کرنے کے بعد ' خراجِ تحسین'وصول کرنے کے لیے دیار کفار کے دورے بھی کرتے ہیں۔ اوپر سے نیچے تک، ہر سطح پر انصاف بکتا ہے۔ کبھی اپنے ہم نواؤں کے لیے انصاف کی دھجیاں بکھرتی ہیں، کبھی کفار کے مذموم مقاصد کے لیے انصاف بکتا ہے۔کبھی اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے انصاف خریدا جاتا ہے۔ کہیں ظلم وزیادتی کے لیے انصاف کی نیلامی ہوتی ہے، کہیں اقتدار چھیننے کے لیے انصاف بکتا ہے اور کہیں اقتدار کو طول دینے کےلیے انصاف کو لونڈی بنا لیا جاتا ہے۔ کبھی حلیفوں کے تحفظ کے لیے انصاف سے کھلواڑ کیا جاتا ہے اور کبھی حریفوں کو پھنسانے کے لیے انصاف بکتا ہے، کبھی سیاسی مقاصد کے لیے انصاف دست بستہ نظر آتا ہے اور کبھی مذہب کے ہاتھوں مجبورولاچار۔
غرض کہ علاماتِ قیامت میں سے انصاف بکنے والی علامت بھی بالکل واضح ہے۔ اب انصاف بکنے کے مراحل کا جائزہ لیتے ہیں جو ہمارا اصل عنوان ہے اور جس سے ضمنی طور پر بہت سی علامات قیامت سمجھ آتی ہیں:
1. جھوٹی وکالتیں ہوں گی۔ فریقین میں سے ایک تو غلطی پر ہوتا ہے مگر ظلم کو عدل ثابت کرنے کے لیے ماہر وکلا اور بڑے بڑے مانے ہوئے لوگ دستیاب ہیں۔ حتی ٰکہ نبوت کا کوئی جھوٹا مدعی کھڑا ہوا تو اس کے تحفظ کے لیے بھی وکیل میسر آ جاتا ہے۔
2. جج دباؤ میں آ کر یا لالچ میں آ کر فیصلے کرتے ہیں۔ العزیزیہ سٹیل ملز کا فیصلہ کرنے والے جج ارشد ملک کی مثال واضح ہے جس کو آخر کار نوکری سے برطرف کردیا گیا۔ پھر سابق چیف جسٹس نے آسیہ مسیح کا فیصلہ کرکے ایک ایسی مثال پیش کی جس پر ملک بھر کے عوام نے شدید احتجاج کیا۔
3. سفارش کا عام ہونا بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہے۔ فیصلہ کرتے ہوئے صاحبِ حیثیت اور عام شخص میں کھلا امتیاز کیا جاتا ہے۔ کسی سے کوئی ظلم وقتل ہو جائے تو وہ خود کو انصاف کے لیے پیش کرنے کے بجائے جج سے رابطے کے لیے کسی سفارشی کو ڈھونڈ رہا ہوتا ہے۔
4. انصاف بکنے نے رشوت ستانی کا بازار بھی گرم کر رکھا ہے۔ عدالتی نظام کی اس خرابی کی وجہ سے لاکھوں مقدمات کے فیصلے توجہ کے منتظر ہیں۔
1. جھوٹے اشٹام پیپر نکلوائے جاتے ہیں۔
2. جھوٹے انگوٹھے اور جھوٹی گواہیاں جن پر بڑے بڑے فیصلوں کا رخ بدل جاتا ہے، عام سی بات ہے۔ جبکہ حدیث میں جھوٹی گواہیوں کی پیش گوئی علیحدہ سے بھی موجود ہے۔
3. بیلف (عدالتی نامہ) لےجانے والے کبھی فریق مخالف کی عدم وصولی کے دستخط خود کر دیتے ہیں۔
4. عدالتی ریڈر سے رابطے بڑے عام ہیں ،اس کی وجہ سے تاریخیں آگے پیچھے کرنا بھی معمول ہے۔
5. انصاف کا حصول اس قدر لمبا اور مشکل ترین بنایا گیا ہے کہ بہت سے لوگ خجل خوار ہونے اور جوتے گھسانے کے بجائے صبح قیامت کے منتظر ہیں۔
5. امام مہدی کے ظہور سے پہلے رؤئے زمین پر ظلم کے دوردورے کا تذکرہ بھی حدیث میں ہے:
«يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا، كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا».
'' امام مہدی زمین کو عدل سے بھر دیں گے جیسا کہ اس سے پہلے یہ ظلم سے بھری ہوئی ہو گی۔''
اسی طرح دیگر علامات قیامت کے ضمن میں بہت سی علامات سمجھ آتی ہیں۔اس سے ہمارےسامنےبہت سےپہلوعیاں ہوتے ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ہم علاماتِ قیامت کوعلم کاموضوع اوردروس وخطبات کا عنوان بنائیں او ران سےاستفادہ کرتے ہوئے فرد اور معاشرےکی اصلاح کریں۔
اللّٰہ ہم سب کواپنے احوال درست کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین!