قادیانیوں کی شمولیت کے خلاف ہر محبِ رسول ﷺ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے!
تحریک انصاف کی حکومت کی وفاقی کابینہ نے بدھ، 29؍ اپریل2020ء کو 'قومی اقلیتی کمیشن' میں قادیانیوں کو شامل کرکے اس کمیشن کو مؤثر کرنے کی جو اُصولی منظوری دی ہے، اس کے قومی اور دینی نقصانات، متوقع فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس لئے عالمی دباؤ سے ہونے والے اس حکومتی فیصلہ کو واپس کرنے کے لئے بھر پور اور فوری جدوجہد کرنا ضروری ہے۔ یہ منظوری مسلمانوں کے نظریات اور ملی تشخص پر حملہ ہے!!
یہ عمران حکومت کی اقلیتوں کی ناز برداری کی ویسی ہی ناروا کوشش ہے جیسا کہ اس سے قبل کرتار پور بارڈر، گرجا گھروں کی توسیع وتزئین اور قومی یونیورسٹیوں میں بابا گورنانک چیئرز اور سیمینارز منعقد کرکے، ان کو مسلمانوں پر مسلسل ترجیح دینے کی افسوس ناک روش جاری ہے۔
اقوام متحدہ کے دباؤ کے تحت قائم اقلیتی کمیشنوں کے فرائض میں اقلیتوں کے احترام اور فروغ کی یقین دہانی، قانون میں ان کے تحفظ کی نگرانی، اقلیتوں کے مفادات پر حکومت کو تجاویز، ان سے ہونے والے کسی امتیاز کی رپورٹنگ اور اس کا خاتمہ، اقلیتوں کے تحفظ کے لئے تحقیقات کروانا اور اس کو نافذ کرنے کی مسلسل جدوجہد کرنا وغیرہ شامل ہے۔
یہ بجا ہے کہ اقلیتی کمیشن کا حصہ بن جانے سے قادیانیوں کا غیر مسلم تشخص عوام میں مزید نمایاں ہوگا، بالخصوص جب بعض علما کے مطالبے کے مطابق وہ کھلم کھلا اپنے غیر مسلم ہونے کا اعتراف کرکے اس کا حصہ بنیں۔ تاہم اس کے بہت سے دیگر سنگین نقصانات بھی ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
a اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ غیر مسلم تشخص اور مسلّمہ اقلیت قرار پانے کی بنا پر قادیانی اپنے بہت سے بین الاقوامی اور دستوری حقوق تو قانونی طور پر حاصل کریں گے ہی، جبکہ مسلمان ہونے کے غلط ذاتی دعوے کی بنا پر، موجودہ حالات کی طرح مسلمانوں میں بھی دھوکے سے گھسے رہیں گے اور اس طرح بھی اپنے گروہی مفادات سے چمٹے رہیں گے۔
b قومی مناصب اور کوٹے میں دو طرفہ حصہ داری: قادیانیوں کو اسمبلیوں میں لازمی نمائندگی، دوہرے ووٹ،اہم سرکاری اداروں میں غیر مسلموں کے کوٹے میں حصہ، اپنے شعائر ومعابد کے قیام وتحفظ اور اسلام کے نام پر مغالطہ آمیز عقائد کی دعوت وتبلیغ کی عالمی سرپرستی تو حاصل ہو ہی جائے گی کیونکہ ہر مسلّمہ فرقہ ومذہب کو دستور کا آرٹیکل 20 یہ سارے حقوق عطا کرتا ہے، تو دوسری طرف اُن کی بناوٹی رپورٹوں پر پاکستان کا اقلیتوں سے سلوک بھی عالمی برادری میں آئے روز نشانہ بنتا رہے گا۔ اور پاکستانی عالمی امداد ان کے فرضی حقوق میں مسلسل بہتری کرتے رہنے سے مشروط کر دی جائے گی۔
تفصیل اس کی یہ ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں 342 میں سے دس نشستیں اقلیتی اراکین کے لئے مخصوص ہیں۔ جبکہ پنجاب وسندھ کی اسمبلیوں میں 8 اور 9 نشستیں غیرمسلموں کے لئے مخصوص ہیں۔
صدر ضیاء الحق مرحوم نے پاکستان میں تمام ادیان سے وابستہ لوگوں کے لئے مخلوط انتخاب کی بجائے جداگانہ الیکشن کا نظام رائج کیا تھا، جس کے تحت غیر مسلم اقلیتیں صرف غیر مسلم اُمیدواروں کو ووٹ دے کر اسمبلی میں پہنچ سکتی تھیں۔ بعد ازاں جنرل پرویز مشرف نے 2002ء میں عالمی دباؤ پر غیرمسلموں کے لئے جنرل الیکشن میں بھی حصہ لینے کا راستہ کھول دیا۔ اس طرح ہر غیر مسلم، اقلیتی امیدوار ہونے کے ساتھ، جنرل الیکشن میں بھی حصہ لے سکتا اور غیر مسلم ووٹر، عام پاکستانی ووٹر کے ساتھ ساتھ اقلیتی ووٹر کا دوہرا ووٹ بھی ڈال سکتا ہے۔ اس طرح گنتی کے چند غیر مسلم، پاکستانی معاشرے میں مسلمانوں پر اپنی حیثیت سے دگنا دباؤ ڈال کر دوہرا فائدہ حاصل کرلیتے ہیں۔ اور جن علاقوں میں غیر مسلموں کی اکثریت ہے، وہاں غیر مسلم جنرل الیکشن کے ذریعے اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ اسی طرح قادیانی بھی اسمبلی کی دوہری رکنیت اور دوہری ووٹنگ سے فائدہ اُٹھائیں گے۔ ایک بطور قادیانی اور دوسری بطور عام پاکستانی...!!
c اسلام کے جھوٹے دعوے کے ساتھ اپنے حقوق چھیننا: جہاں تک بطور مسلم ان کے کردار کا تعلق ہے، تو آئین پاکستان کو دل سے تسلیم نہ کرنے اور پاکستان کے خلاف نفرت انگیز جدوجہد جاری رکھنے کی بنا پر، وہ مسلمانوں کے لئے حسبِ سابق مسائل ومشکلات میں اضافہ کرتے رہیں گے۔ جب اسلام آباد ہائیکورٹ کے تازہ فیصلے 2018ء کے مطابق قادیانیوں کو ہر قسم کی سرکاری ذمہ داری دینے سے قبل ختم نبوت کا باقاعدہ حلف نامہ دینا ضروری قرار پایا ہے ، تاکہ قادیانی دھوکہ دہی اور مداخلت کا سد باب کیا جاسکے، اور اس پر سنجیدگی سے تاحال کہیں عمل درآمد نہیں کیا جارہا، اور قادیانی حسب سابق ان عدالتی فیصلوں کو بھی تسلیم نہیں کرتے تو گویا مسلم معاشرے میں اپنا حصہ تو وہ پہلے ہی دھوکہ دہی سے چھین رہے ہیں، اب بطورِ غیر مسلم بھی وسیع تر مفادات حاصل کرتے رہیں گے۔
d عالمی اداروں کی سرپرستی: قادیانی اسلامی شعائر اور احکام کے استعمال کو اپنا انسانی حق قرار دیتے اور دنیا بھر کو اس دعوے کے ساتھ اپنا ہم نوا بناتے اور پاکستانی حکومت وعدالت سے بدظن کرنے کی مہم جوئی کرتے ہیں۔ عالم کفر بھی انسانی حقوق کے نام پر ان کی تائید وہم نوائی کرتا ہے۔ حالانکہ پاکستانی عدالتیں اور حکومت، نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت سے دستبرداری کے بعد اسلامی شناختوں اور احکام کے استعمال کو ان کی دھوکہ دہی اور مغالطہ آرائی قرار دیتی ہے۔ اور دھوکہ دہی انسانی حق کی بجائے جرم کے زمرے میں آتی ہے۔ اس فرق کو ملحوظ نہ رکھتے ہوئے قادیانی دنیا بھر میں اپنے من مانے حقوق کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ قومی اقلیتی کمیشن کا حصہ بن جانے کے بعد قادیانیوں کے لئے اپنی خود ساختہ مظلومیت کا اعلان کرنا اور اپنے فرضی حقوق کے لئے عالمی اداروں کی پشت پناہی حاصل کرنا آسان تر ہوجائے گا۔
e قادیانی اقلیت کی بجائے دھوکے باز دشمن ہیں: موجودہ سیاسی اصطلاح کے مطابق قادیانیوں کو 'اقلیت' قرار دینا بھی غلط ہے، کیونکہ اقلیت قرار پانے کے بعد اقوام متحدہ کے اقلیتوں کے حقوق پر 1992ء کے ڈیکلریشن کے مطابق ان کے تشخص، ثقافت، مذہب اور اس کے فروغ کا احترام ہر ریاست کی ذمہ داری قرار پاتا ہے۔ جبکہ اسلامی شریعت کی رو سے مسلم حکومت میں غیر مسلموں کو مسلمانوں میں اپنی دعوت پھیلانے کا حق حاصل نہیں ہوتا ۔ مزید یہ کہ قادیانی کسی عام غیر مسلم کی بجائے دراصل حربی اور مکار غیر مسلم ہیں، جو نہ صرف اسلام اور پاکستان کے بدترین دشمن ہیں بلکہ اسلام کا نام لے کر دھوکہ دہی کے ذریعے اسلام کے تشخص کو بگاڑنے اور مسلمانوں کو مغالطہ دینے میں لگاتار مصروف ہیں۔ اسلام میں عام کافر سے حربی کافر کے احکام مختلف ہیں، چہ جائیکہ پاکستان میں ایسے خائن اور دھوکہ باز ملک وملت دشمنوں کو برابر کے حقوق دیے جانے کی ضمانت ہی دے دی جائے۔
f قادیانیوں کو قومی مناصب دینا غلط ہے: یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ مسلم حکومت میں کسی ہندو اور عیسائی کو غیر مسلموں پر ایک حد تک اختیار واقتدار دیا جاسکتا ہے ، بعض فقہاے کرام نے غیرمسلموں کو بااختیار وزیر کی بجائے تنفیذی وزیر بننے کا موقف بھی اختیار کیا ہے، لیکن قادیانی دھوکے بازوں، مسلمانوں پر دشنام طرازی کرنے والوں اور دستور کے مخالفوں کو تو کوئی قومی منصب بھی نہیں دیا جاسکتا، تاکہ وطن کے تشخص اور مفاد کا تحفظ ہوسکے۔ جب قادیانی دستور پاکستان کو ہی دل وجان سے تسلیم نہیں کرتے تو اس کے تحت اقلیتی حقوق کا واویلا کیا جواز رکھتا ہے؟
g قادیانیوں کو اقلیت تسلیم کرنا خلافِ قانون بھی ہے:28؍ اکتوبر 1984ء کو وفاقی شرعی عدالت میں قادیانیوں نے درخواست دی تھی کہ ان کو باقی غیر مسلموں کی طرح بحیثیت اقلیت تسلیم کیا جائے اور جس طرح باقی غیر مسلم کے حقوق ہیں، ہمیں بھی وہ حیثیت دی جائے، جس پر بحث مباحثے کے بعد ان کی درخواست خارج کردی گئی تھی۔ درخواست کا نمبر of 1984 17/I اور 2/L تھا جسے وزارتِ مذہبی واقلیتی اُمور نے شائع کررکھا ہے۔ جب یہ معاملہ ماضی میں بڑے بحث مباحثے کے بعد طے ہوچکا ہے، تو نامعلوم اس پر کیوں باربار قوم کا وقت ضائع کیا جاتا ہے؟ اس فیصلے میں دیگر بہت سے دلائل کے بعد، نکتہ نمبر 16 کے آخر میں یہ قرار دیا گیا کہ
... In these circumstances, the Ordinance appears to be covered by the exception in Article 20 about its being subject to maintenance of law and order.
''1974ء کی دوسری دستوری ترمیم کے نتیجے میں جو مسلمانوں کے ایک متفقہ مطالبہ کا نتیجہ تھا ، یہ ممکن نہیں تھا کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان قرار دیں یا اپنے نظریات والے اسلام کو حقیقی اسلام کے طور پر پیش کریں۔ لیکن اُنہوں نے اس آئینی ترمیم کا کبھی احترام نہ کیا اور ماضی کی طرح اپنے نظریات کو اسلام کے نام سے ہی کتابیں اور روزناموں کے ذریعے برملا پھیلاتے رہے۔ مزید یہ کہ مسلم افراد میں بھی اپنے دھوکہ آمیز نظریات کو نفرت پیدا کرنے کے لئے انہوں نے پھیلانا جاری رکھا جس سے واضح طور پر قانون اور امن عامہ کی صورت حال خراب ہونے کا قوی امکان تھا ۔ اور یہ سب اس وقت تک جاری رہا تاآنکہ 'امتناعِ قادیانیت آرڈیننس1984ء' کو منظور کرلیا گیا۔ ان حالات میں یہ آرڈیننس قادیانیوں کو دستور کے آرٹیکل 20 سے حاصل شدہ رعایت سے استثنیٰ کا اظہار کرتا ہے کیونکہ قومی امن وامان کو بحال رکھنے کا یہی تقاضا ہے۔ ''
الغرض قادیانی دستور پاکستان کے قوانین کو تسلیم نہ کرنے پر اصرار جاری رکھیں گے لیکن اپنے وسیع دو طرفہ مفادات حاصل کرنے کے لئے اقلیتی کمیشن میں شامل ہونے کو ترجیح دیں گے۔ اور عالمی کافر برادری کو بھی اسی طرح ان کے تحفظ اور مدد کرنے کے بہتر مواقع حاصل ہوں گے۔ ان ملی وشرعی نقصانات کی بنا پر ہر محبِ رسول ﷺ کو اس قادیانیت نواز فیصلہ کی پوری مخالفت کرنی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ق کے صوبائی وزیر معدنیات جناب حافظ عمار یاسر نے اس فیصلہ کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور لاہور ہائی کورٹ میں اس کے خلاف ایک رٹ بھی کر دی گئی ہے۔ قومی اقلیتی کمیشن کی نگران وفاقی وزرات مذہبی اُمور نے بھی قادیانیوں کو کمیشن میں شریک کرنے کی مخالفت کی ہے اور وفاقی وزیر مذہبی اُمور نے بھی اپنے بیان میں اس کی مخالفت کی ہے۔
بھارت میں شہریت بل کے ذریعےمسلم اقلیت کو بے دخل کرنے، بابری مسجد کی مسماری کی حمایت میں عدالتی فیصلے اور ہندومندر کے سنگِ بنیاد، کشمیر میں مسلم اکثریت سے ظلم اور دھوکہ دہی، اور اب کورونا کو ہندوستانی مسلمانوں سے نفرت کے فروغ میں استعمال کرنے کی گھناؤنی سازشوں کے مقابل ہمارے حکام کی ملک دشمنوں کی ناز برداری اور اغیار سے دوستی ناقابل فہم اور بے غیرتی کے مترادف ہے۔
ایک طرف دنیا کورونا کی آزمائش کا شکار ہے تو دوسری طرف ہماری حکومت کوئی مثبت پیش قدمی کرنے اور دینی تقاضوں کو بجا لانے کی بجائے، مزید عالمی سازشوں کے فروغ اور ملی کمزوری پر مبنی اقدامات میں مشغول ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمارے ناعاقبت اندیش حکمرانوں کو ہدایت اور اصلاح کی توفیق دے۔ ( 28؍ اپریل 2020ء)
بعد از تحریر
چنانچہ 5؍مئی 2020ء کو وفاقی کابینہ نے قومی اقلیتی کمیشن کی منظوری دی جس میں کوئی قادیانی شامل نہیں تھا۔ وفاقی وزیر نورالحق قادری کے مطابق سندھ کی ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے چیلا رام کیولانی قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین مقرر ہوئے۔ کمیشن میں ہندو اور مسیحی برادری سے 3،3 جبکہ سکھ برادری سے 2، کیلاش اور پارسی برادری سےایک، ایک ممبر شامل ہے۔
8 ؍ مئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس کمیشن میں قادیانیوں کو نمائندگی نہ دیے جانے کے خلاف رِٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اقلیتوں کو کمیشن میں شامل کرنا ایک انتظامی معاملہ ہے، اگر اُنہیں حقوق نہیں مل رہے تو قادیانیوں کو خود عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔ ٭٭