IMG_2019_04_23_14_36_11_231

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

پاکستان میں ریاستِ مدینہ کا چرچا اور کرپشن کے خاتمے کی بات ہوتی ہے اور نئی حکومت بظاہر کچھ کر دکھانے کا عزم بھی رکھتی ہے۔ تاریخ اسلامی میں ڈھائی سال کے عرصے میں خلافت ِراشدہ کو لوٹانے کاسہرا پہلی صدی ہجری کے عین اختتام پر اس شخصیت کو جاتا ہے جسے دنیا خلیفہ راشد سیدنا عمر بن عبد العزیز ﷫ کے نام سے جانتی ہے۔عمر بن عبد العزیز نےانقلاب اور تبدیلی کا آغاز اپنی ذات او راپنے گھر سے کیا تھا۔ مالی اصلاحات سے شروع ہوکر زندگی کے ہر میدان میں پھیلنے والی اس تبدیلی نےمسلم معاشرے میں دور خلافت راشدہ تازہ کردیا۔ ان کی مالی اصلاحات کا جامع تذکرہ اور طریق کار پیش خدمت ہے۔               ح م
صفر 99ھ   میں پچھلے خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کی تجہیز و تکفین کا سامان کرنے کے بعد خود حضرت عمر بن عبدالعزیز نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور خود اُس کو قبر میں اتارا ۔ تجہیز و تکفین کے بعد جب اُنہیں شاہی سواریاں پیش کی گئیں توحضرت عمر بن عبد العزیز نے یہ سواریاں واپس کر دیں اور فرمایا: ’’ میرے لیے میرا خچر ہی کافی ہے ۔‘‘
اس کے بعد پولیس افسر مع اپنے ساتھیوں کے حفاظت کے لیے آگے بڑھا تو آپ نے اس کو مع اس کے آدمیوں کوواپس کر دیا ۔ اور فرمایا:
’’ مجھے کسی سے کوئی خطرہ نہیں ہے، میں بھی تمام مسلمانوں کی طرح ایک مسلمان ہوں ۔‘‘
سلیمان بن عبدالملک کو دفن کرنے کے بعد عمر بن عبدالعزیز ﷫ اپنے خچر پر سوار ہو کر واپس اپنے گھر تشریف لائے۔ واپسی پر لوگوں کا خیال تھا کہ آپ قصر شاہی میں قیام کریں گے۔ لیکن آپ نے كہا کہ وہاں سابق خلیفہ سلیمان کے اہل وعیال ہیں، میرا جانا وہاں مناسب نہیں ۔اس لیے آپ اپنے خیمہ میں تشریف لے گئے ۔
پہلے خلیفہ کا سامان
خلفاے بنواُمیہ کے یہاں دستور تھا کہ جب خلیفہ کا انتقال ہوتا تو اس کے استعمال شدہ اشیا اس کی اولاد کو ملتی تھیں اور غیر استعمال شدہ اشیا نئے خلیفہ کی ملکیت میں آجاتی تھیں، اہل خاندان نے اسی طریقہ کے مطابق سلیمان بن عبدالملک کی اشیا کو تقسیم کرنا چاہا لیکن حضرت عمر بن عبدالعزیز بن مروان بن الحكم(م101ھ) نے ایسا کرنے سے منع کر دیا ۔ اور فرمایا:        ’’یہ اشیا نہ میری ہیں ، نہ سلیمان کی اور نہ تمہاری-‘‘
اپنے غلام مزاحم کو حکم دیا کہ                  ’’ ان سب اشیا کو بیت المال میں جمع کر دو ۔‘‘[1]
خطبہ خلافت
اس کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز مسجد میں تشریف لائے اور منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کے سامنے ایک خطبہ دیا، جس کا خلاصہ یہ ہے :
’’ لوگو ! میری خواہش اور عام مسلمانوں کی خواہش کے بغیر مجھے خلافت کی ذمہ داریوں میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ اس لیے میری بیعت کا جو طوق تمہاری گردن میں ہے میں خود اتارے دیتا ہوں ۔ تم جسے چاہو اپنا خلیفہ منتخب کر لو ۔‘‘
اس خطبہ کو سن کر لوگوں نے بلند آواز میں کہا کہ ’’ہم نے آپ کو خلیفہ بنایا ہے، اور ہم سب آپ سے راضی ہیں، آپ خدا کا نام لے کر کام شروع کر دیجیے۔‘‘
جب آپ کو اس بات کا یقین ہو گیا کہ اب کسی شخص کو ان کی خلافت سے اختلاف نہیں ہے تو اس وقت آپ نے اس بارِ عظیم کو قبول کیا اور مسلمانوں کے سامنے تقریر کی ۔ جس میں تقویٰ، فکر آخرت کی تلقین اور خلیفہ اسلام کی اصل حقیقت واضح کی ۔حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ نے فرمایا :
’’لوگو ! تمہارے نبی کے بعد دوسرا نبی آنے والا نہیں ہے اور اللہ نے اس پر جو کتاب اُتاری ہے ۔ اس کے بعد دوسری کتاب آنے والی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو چیز حلال کردی ہے وہ قیامت تک کے لیے حلال ہے اور جو چیز حرام کر دی ہے، وہ قیامت تک کے لیے حرام ہے۔ میں ( اپنے جانب سے ) کوئی فیصلہ کرنے والا نہیں ہوں بلکہ صرف ( احکام الٰہی کو ) نافذ کرنے والا ہوں ،خود اپنی طرف سے کوئی نئی بات کرنے والا نہیں ہوں ۔ بلکہ محض پیرو ہوں کسی کو یہ حق نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں اس کی اطاعت کی جائے۔ میں تم میں سے کوئی ممتاز آدمی نہیں ہوں بلکہ معمولی فرد ہوں، البتہ تمہارے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے زیادہ گراں بار کیا ہے۔
لوگو ! جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے، اس کی اطاعت واجب ہے اور جو شخص اس کی نافرمانی کرے اس کی فرماں برداری جائز نہیں جب تک میں اللہ کی اطاعت کروں، میری اطاعت کرو ۔ اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو میری فرماں برداری تم پر فرض نہیں ہے ۔
لوگو! اللہ تعالیٰ کے خوف وتقویٰ کو لازم پکڑو ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خوف ہر چیز کا بدل ہے مگر اس کا کوئی بدل نہیں ۔
لوگو! مجھ سے پہلے کچھ حکام ہوئے ہیں جن کو خوش رکھنا تم اس واسطے ضروری سمجھتے تھے تا کہ اس کے ذریعہ تم ان کے ظلم سے محفوظ رہ سکو۔
لوگو‍! میں مال و دولت کو تم سے بچابچا کر نہیں رکھوں گا، بلکہ جہاں مجھے حکم دیا گیا وہاں صرف کروں گا۔ سن رکھو خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی فرماں برداری جائز نہیں ہے ۔‘‘
حضرت عمر بن عبدالعزیز﷫ نے فرمایا:
’’میں نے آپ حضرات کو ایسے کام کے لیے جمع نہیں کیا جو میں نے ایجاد کیا ہو بلکہ میں نے تمہاری میعاد اور جس حالت کی طرف تم لوٹ کر جانے والے ہو، اس میں غور کیا تو میں نے دیکھا کہ جو لوگ اس کی تصدیق کرتے ہیں، مگر اس کی تیاری کی کوئی فکر نہیں کرتے وہ احمق ہیں اور جو لوگ اس کے سرے سے منکر ہیں، وہ ہلاک ہونے والے ہیں ۔‘‘
اس کے بعد آپ منبر سے نیچے اُتر آئے اور لوگوں کو چلے جانے کا حکم دیا ۔[2]
دوسرا خطبہ : حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ جب مسندِ خلافت پر متمکن ہوئے تو دوسرے علاقوں سے کئی لوگ دار الخلافہ تشریف لائے اور یہ لوگ اپنی اپنی ضرورتوں کے لیے دار الخلافہ میں آئے ہوئے تھے ۔ آپ نے ان تمام لوگوں کو جمع کیا اور ان کے سامنے درج ذیل خطبہ ارشاد فرمایا:
’’ لوگو! اپنے اپنے علاقوں کو واپس چلے جاؤ۔ کیونکہ جب تم میرے پاس ہوتے ہو تو میں بھول جاتا ہوں اور جب تم اپنی اپنی جگہ پر ہوتو مجھے خوب یاد رہتے ہو ۔ دیکھو‍! میں نے کچھ لوگوں کو تم پر حاکم مقررکیا ہے ۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ وہ تم میں سے بہتر آدمی ہیں۔ ہاں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ بڑوں کے اچھے ہیں۔ اگر کسی شخص پر اس کا حاکم ظلم ڈھاتا ہے تو میں آگاہ کر دینا چاہتا ہوں کہ اسے میری طرف سے اس کی اجازت نہیں ہے ( اطلاع ملنے پر اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی )۔ اور جس پر کسی قسم کا ظلم نہیں ہوا ۔ (جو یونہی یہاں آیا ہوا ہے ) اسے اپنی جگہ واپس جانا چاہیے، آئندہ میں اسے یہاں نہ دیکھوں ۔
دیکھو ! میں نے اپنے لیے اور اپنے اہل وعیال کے لیے اس مال کو ممنوع قرار دےرکھا ہے۔ اب اگر تم کو دینے میں بھی بخل کروں تو پھر میں پرلے درجے کا کنجوس ٹھہرا ۔ اگر میں کسی سنت کو بلند نہ کرسکوں یا حق وانصاف کی راہ نہ چل سکوں تو میں ایک گھڑی بھی زندہ رہنا نہیں چاہتا۔‘‘
مالِ مغصوبہ اور باغ فدک کی واپسی
حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ جب مسندِ خلافت پر متمکن ہوئے تو ان کا مطمع نظریہ تھا کہ اُموی حکومت کو خلافت راشدہ میں بدل دینا چاہیے اور وہ چاہتے تھے کہ نظام خلافت میں ایک عظیم انقلاب برپا کیا جائے اور ان کے پیش نظریہ بھی تھا کہ جب وہ اس سلسلہ میں عملی قدم اٹھائیں گے تو ان کی مخالفت میں ایک طوفان کھڑا ہو جائے گا لیکن آپ نے مصمم ارادہ کر لیا کہ وہ نظام خلافت میں ضرور تبدیلی لاکر اسے اصل پر واپس لوٹائیں گے ۔ چنانچہ آپ نے اس سلسلہ میں دو ضروری کام کرنے کا عزم کیا ۔ اور وہ دو کام یہ تھے :
غصب شدہ مال و جائیداد کی واپسی                            اور                            باغ فدک کا معاملہ
شاہی خاندان اور امرا کو دیے ہوئے سابقہ حکام کے ناجائز تحائف، حکام کے ملی خزانے سے ذاتی مصارف، عوام پر ظالمانہ ٹیکس، غیرمسلموں پر خراج کی ظالمانہ شرح ... ان سب کو سیدنا عمر نےاصل حیثیت پر لوٹایا۔
غصب شدہ مال وجائیداد کی واپسی
حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ سے پہلے خلفاے بنو امیہ نے رعایا کے مال و جائیداد پر ظالمانہ قبضہ کر لیا تھا اور ان کا اصل مالکوں کو واپس کرنا ایک مجدد خلافت اسلامیہ کا سب سے مقدم فرض تھا۔ چنانچہ آپ نے اس سلسلہ میں سب سے پہلے عملی قدم اپنی ذات اور اپنے خاندان سے شروع کیا ۔ آپ کے پاس بہت بڑی موروثی جاگیر تھی ۔ آپ کے بعض خیر خواہوں نے عرض کیا کہ
’’ اگر آپ جاگیر واپس کریں گے تو اولاد کے لیے کیا انتظام کریں گے۔‘‘
فرمایا : ’’ میں ان کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں ۔‘‘
اس کے بعد آپ نے بنی مروان کو جمع کیا اور ان سے فرمایا:
’’ بنی مروان ! تم کو شرف اور دولت کا وافر حصہ ملا ہے، میرا خیال ہے کہ امت کا نصف یا دو تہائی مال تمہارے قبضہ میں ہے۔‘‘
یہ لوگ اشارہ سمجھ گے اور عمر بن عبدالعزیز ﷫سے مخاطب ہو کر کہا :
’’ خدا کی قسم ! جب تک ہمارے سرتن سے جدا نہ ہوں گے اس وقت تک ہم یہ جائیداد واپس نہیں کر سکتے۔ خدا کی قسم ! نہ اپنے آباؤ اجداد کو کافر بنا سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی اولاد کو مفلس بنائیں گے ۔‘‘
حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ نے بنی مروان کی زبانوں سے یہ الفاظ سنے تو آپ نے فرمایا:
’’ خداکی قسم! اگراس حق میں تم میری مدد نہیں کرو گے تو میں تم سب کو ذلیل ورسوا کر کے چھوڑوں گا۔‘‘[3]
اس کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ نے عام مسلمانوں کو مسجد میں جمع ہونے کا حکم دیا۔ جب تمام لوگ مسجد میں جمع ہو گئے تو آپ نے ان کے سامنے تقریر کی۔
’’ ان لوگوں ( اُموی خلفا ) نے ہم ارکانِ خاندان کو ایسی جاگیریں اور عطیات دیے ۔ خداکی قسم! جن کے دینے کا نہ ان کو کوئی حق تھا اور نہ ہمیں ان کے لینے کا ۔ اب میں ان سب کو ان کے اصلی حق داروں کو واپس کرتا ہوں ۔ اور اپنی ذات اور اپنے خاندان سے شروع کرتا ہوں ۔‘‘
اس تقریر کے بعد عمر بن عبدالعزیز﷫ نے اپنے غلام مزاحم کو حکم دیا کہ وہ شاہی خریطہ لائے ۔ جس میں جاگیروں کی الاٹمنٹ کے آرڈر تھے۔ چنانچہ مزاحم خریطہ لائے اور پڑھ کے سناتے جاتے تھے ۔ اور عمر بن عبدالعزیز اُنہیں قینچی سے کاٹ کاٹ کر پھنکتے جاتے تھے اور ظہر کی نماز تک آپ نے تمام جاگیریں اصل حق داروں کو واپس کردیں حتی کہ ایک نگینہ بھی اپنے پاس نہ رہنے دیا ۔[4]
حافظ جلال الدین سیوطی تاریخ الخلفاء میں لکھتے ہیں کہ
عتبہ بن سعید بن ابی العاص    عمر بن عبدالعزیز ﷫ کے پاس آئے اور عرض کیا :
’’ امیر المومنین آپ سے پہلے خلفاے بنو اُمیہ ہم کو مال ومتاع سے نوازا کرتے تھے۔ عطیات مرحمت فرماتے تھے ۔ لیکن آپ نے یہ سب سلسلہ بند کر دیا ہے ۔‘‘
حضرت عمر بن عبدالعزیز﷫ نے فرمایا:
’’ تم محنت و مشقت سے کام کرو اور اپنی روزی کماؤ۔ پھر فرمایا: اے عتبہ ! تم موت کو زیادہ یاد کرو تاکہ تم اگر تنگ دست ہو تو اس میں وسعت پیدا ہو،اگر تم کو وسعت اور فراخی میسر ہے تو تم کو تنگی محسوس ہو ۔‘‘[5]
بیوی کا تمام مال اور زیورات بیت المال میں داخل کر دیا
آپ کی بیوی فاطمہ عبدالملک کی بیٹی تھی ۔ عبدالملک نے شادی کے وقت بہت سا زیور اور ایک بیش بہا قیمتی پتھر اُنہیں دیا تھا اور یہ پتھر اور زیور فاطمہ بنت عبدالملک کے پاس محفوظ تھا ۔ آپ نے اپنی بیوی سے فرمایا:
’’ تمہارے پاس جو زیور اور قیمتی پتھر ہے، یہ سب بیت المال میں جمع کر ادو ۔ اگر تم یہ زیور وغیرہ اپنے پاس رکھنا چاہتی ہو توپھر مجھے چھوڑنے کے لیے تیار ہو جاؤ ۔‘‘
اطاعت شعار بیوی نے جواب دیا:
’’ آپ میرا تمام زیور اور قیمتی پتھر شوق سے بیت المال میں جمع کر ادیجیے۔ میں زیور کے مقابلہ میں آپ کو ترجیح دیتی ہوں ۔‘‘
جب عمر بن عبدالعزیز کا انتقال ہو گیا اور حسبِ وصیت یزید بن عبدالملک خلیفہ ہوا ۔تو آپ کی زوجہ محترمہ ( اپنی بہن فاطمہ ) سے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں تمہارا تمام زیور بیت المال سے واپس لے کر تم کو دے دوں ۔
فاطمہ نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا :
’’ جو چیز میں اپنی مرضی سے اپنے خاوند کی زندگی میں دے چکی ہوں ۔ تو اب ان کے انتقال کے بعد واپس نہیں لوں گی ۔‘‘
باغِ فدک سے دستبرداری
فدک خیبر کا ایک گاؤں تھا ۔ فتح خیبر کے بعد رسول اکرم ﷺ اسے’ خالصہ ‘ قرار دے دیا تھا اور اس کی آمدنی آپ ﷺ اہل بیت اور بنی ہاشم کی ضروریات میں صرف فرماتے تھے ۔
آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ﷜ خلیفہ ہوئے تو حضرت فاطمہ ﷜ نے اس کا مطالبہ کیا لیکن حضرت ابو بکر صدیق ﷜نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ
’’ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ انبیاکے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی ۔ ‘‘ (سنن ابو داود: 2969)
البتہ میں اسے انہی مصارف میں صرف کرتا رہوں گا حن میں رسول اللہﷺ صرف فرمایا کرتے تھے حضرت صدیق اکبر ﷜ کے بعد حضرت عمر فاروق ﷺ خلیفہ ہوئے تو وہ بھی انہی مصارف میں صرف کرتے رہے جن پر رسول اللہ ﷺ صرف فرمایا کرتے تھے ۔
اس کے بعد مروان بن الحکم نے باغ فدک کو اپنی ذاتی جاگیر بنالیا ۔ اس کے بعد وراثتًہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے قبضہ میں آیا ۔سنن ابو داؤد میں ہے :
’’عبداللہ بن جریر مغیرہ سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز ﷫ بن مروان بن الحکم نے مروان کے بیٹوں کو جمع کیا جس وقت وہ خلیفہ بنائے گئے تو آپ نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا جو باغ فدک تھا تو آپ ﷺ اس کی آمدنی اپنے اہل وعیال ، فقرا اور مساکین پر خرچ کرتے تھے ۔ اور اس سے بنی ہاشم کے چھوٹے لڑکوں پر احسان کرتے تھے ۔ اور بیوہ عورتوں کے نکاح پر بھی خرچ کرتے رسول اللہ ﷺ سے حضرت فاطمہ ﷜ نے فدک کا سوال کیا تھا ۔ یعنی فدک مجھے دے دیا جائے تو آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ ﷜ کو فدک نہ دیا ۔ اور اس کی جو صورت تھی وہ اسی طرح رہی جو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں تھی۔ جب آنحضرت ﷺ کی وفات ہوئی اور حضرت ابو بکر صدیق ﷜ خلیفہ ہوئے تو اس کی صورت وہی رہی جو رسول اللہﷺ کی زندگی میں تھی۔ جب حضرت ابو بکر صدیق ﷜ کی وفات ہوئی اور حضرت عمر ﷜ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے ایسا ہی عمل کیا جس طرح آنحضرت ﷺ اپنی زندگی میں اپنے اہل وعیال اور برادران بنی ہاشم پر اور نکاح بیوگان وغیرہ پر صرف کرتے تھے، ویسے ہی حضرت عمر فاروق ﷜ نے کیا ۔ یہاں تک کہ حضرت عمر فاروق ﷜ کی وفات ہوئی۔ پھر مروان بن الحکم نے اس کو اپنی ذاتی جاگیر بنالیا یعنی اپنے لیے اور اپنے اخلاف کے لیے ۔ اور اس نے یہ اقدام حضرت عثمان ﷜ کی خلافت یا اپنی بادشاہت میں کیا۔ اس کے بعد فد ک عمر بن عبدالعزیز ﷫ کے قبضہ تصرف میں آیا تو
فَرَأَيْتُ أَمْرًا مَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام لَيْسَ لِي بِحَقٍّ وَأَنَا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ رَدَدْتُهَا عَلَى مَا كَانَتْ يَعْنِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ[6]
میں نے یہ امر دیکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو حضرت فاطمہ ﷜ کو نہیں دیا ۔ تو یہ میرے لیے سزاوار نہیں اور میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ فدک کی جو حالت عہدِ رسالت میں تھی، اس کو اسی طرف لوٹاتا ہوں ۔‘‘
مولانا عبدالسلام ندوی لکھتے ہیں کہ
’’ عمر بن عبدالعزیز ﷫ نے گورنر مدینہ ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم کو ایک خط لکھا کہ مجھے تحقیقات کے بعد معلوم ہوا ہے کہ فدک سے فائدہ اُٹھانا میرے لیے جائز نہیں ہے۔ اس لیے میں اس کو اسی حالت میں لانا چاہتا ہوں جو رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں تھی جب آپ کو میرا یہ خط ملے تو اس کو ایک ایسے شخص کے قبضہ میں دیجیے ۔ جو تمام حقوق کے محافظت کے ساتھ اس کی نگرانی کرے ۔‘‘
اموالِ مغصوبہ کی واپسی کااثر شاہی خاندان بنواُمیہ پر
حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ نے نہ صرف علاقے اور جاگیریں چھین کر بنی اُمیہ کو تہی دست کر دیا۔ بلکہ ان کے سارے امتیازت مٹا کر اُن کے نخوت و غرور کو خاک میں ملا دیا ۔آپ کے اس اقدام سے خاندان میں ان کے خلاف سخت برہمی پھیل گئی اور اُنہوں نے ہر طریقہ سے یہ پوری کوشش کی کہ عمر بن عبدالعزیز ﷫ نے جو تحریک چلائی ہے اس کو ختم کیا جائے اور اہل خاندان نے ایک دفعہ آپ سے کہا تھا کہ آپ نے جو یہ سلسلہ شروع کیا ہے ہم اس پر راضی نہیں ہیں اور ہم کسی بھی صورت میں اپنی جاگیریں واپس نہیں کریں گے ۔ اورنہ ہی مال آپ کو واپس دیں گے تو ان کے جواب میں حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ نے فرمایا تھا:
’’ یہ آپ کی خام خیالی ہے ۔ میں آپ سے تمام غصب شدہ مال واپس لے کر ان کے اصلی حق داروں کو واپس کر دوں گا۔‘‘
خاندان بنی امیہ نے طریقہ سے کوشش کی کہ عمر بن عبدالعزیز ﷫ نے جو تحریک چلائی ہے اس سے دستبردار ہوجائیں ۔چنانچہ عمر بن عبدالولید بن عبدالملک نے آپ کو ایک خط لکھا، اس خط کا خلاصہ یہ ہے :
’’ تم نے گزشتہ خلفا پر عیب لگایا ہے اور ان کی اولاد کی دشمنی سے ان کے مخالف روش اختیار کی ہے تم نے قریش کی دولت اور ان کی میراث کو ظلم و عدوان سے بیت المال میں داخل کر کے قطع رحم کیا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز ﷫ خدا سے ڈرو اور اس کاخیال کرو کہ تم نے ظلم کیا تم نے منبر پر بیٹھنے کے ساتھ ہی اپنے خاندان کو ظلم و جور کے لیے مخصوص کر لیا۔ اس خدا کی قسم جس نے حضرت محمدﷺ کو بہت سی خصوصیات کے ساتھ مختص کیا! تم اپنی اس حکومت میں جس کو تم مصیبت کہتے ہو، خدا سے بہت دور ہو گئے ۔ اپنی خواہشات کو روکو اور یقین کرو کہ تم ایک جبار کے سامنے اور اس کے قبضہ میں ہو ۔ اور اس حالت میں چھوڑے نہیں جا سکتے ۔ ‘‘
حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ اگر چہ سراپا حلم تھے لیکن آپ نے بھی اس کا سخت جواب لکھا :
’’ مجھے تمہارا خط ملا ۔ اور جیسا تم نے لکھا ہے میں ویسا ہی جواب دوں گا۔ تمہاری ابتدائی حالت یہ ہے کہ تمہاری ماں ’بنانہ‘ سکون کی لونڈی ہے جو حمص کے بازاروں میں ماری ماری پھرتی تھی اور شراب کی دوکانوں میں جایا کرتی تھی۔ اس کو ذبیان بن ذبیان نے مسلمانوں کے مالِ غنیمت سے خریدا تھا اور تمہارے باپ کو ہدیتًہ دیا ۔ اس سے تم پیدا ہوئے ۔تو کس قدر بری ہے ماں اور کس قدر برا ہے بچہ ۔اس کے بعد تم نشوونما پا کر ایک معاند اور ظالم ہوئے۔ تمہارا خیال ہے کہ میں ظالموں میں سے ہوں، میں نے تم کو اور تمہارے خاندان کو خدا کے مال سے جس میں اہل قربیٰ ، مساکین اور بیواؤں کا حق ہے محروم کر دیا ۔ لیکن مجھ سے زیادہ ظالم اورمجھ سے زیادہ خدا کے عہد کو چھوڑ دینے والا وہ شخص ہے جس نے تم کو بچپن اور سفاہت کی حالت میں مسلمانوں کی ایک چھاؤنی کا افسر مقرر کیا ۔ ارو تم اپنی رائے کے موافق ان کے معاملات کا فیصلہ کرتے رہے ۔ اس تقرر کا بجز محبت پدری کے اور کوئی مقصد نہ تھا ۔ پس پھٹکار ہو تجھ پر اور پھٹکار ہو تیرے باپ پر، جو اپنے مدعیوں سے کیوں کر نجات پائے گا۔
مجھ سے زیادہ ظالم اور مجھ سے زیادہ خدا کا عہد چھوڑنے والا وہ شخص ہے جس نے حجاج کو عرب کے خمس پر مقرر کیا ۔ جو حرام خون بہاتا تھا اور حرام مال لیتا تھا۔
مجھ سے زیادہ ظالم اور مجھ سے زیادہ خدا کا عہد چھوڑنے والا وہ شخص ہے جس نے قرۃ بن شریک جیسے اُجڈبدو کو مصر کاعامل مقرر کیا۔ جس نے راگ باجہ ، لہوو لعب اور شراب خوری کی اجازات دی۔ مجھ سے زیادہ ظالم اور مجھ سے زیادہ خدا کا عہد چھوڑنے والا وہ شخص ہے جس نے عر ب کے خمس میں عالیہ بربر یہ کا حصہ مقر کیا ۔
اگر مجھ کو فرصت ہوتی تو میں تجھے اور تیرے خاندان کو روشن راستے پر لاتا ۔ ہم نے مدتوں سے حق کو چھوڑدیا۔ اگر تم فروخت کیے جاؤ اور تمہاری قیمت یتیموں ، مسکینوں ، اور بیواؤں پر تقسم کی جائے تو کافی نہ ہوگی کیونکہ تم پرسب کا حق ہے۔ ہم پر سلام ہو اور خدا کا سلام ظالموں کو نہیں پہنچتا ۔‘‘[7]
حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ نے جو تحریک چلائی تھی اس پر وہ سختی سے عمل پیرا تھے ۔ تو مروان نے ایک بار ہشام بن عبدالملک کو اپنا وکیل بنا کر حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ کے پاس بھیجا۔ اور انہیں کہا کہ آپ حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ سے کہیں کہ اُنہوں نے جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس کو بند کر یں ۔ چنانچہ ہشام بن عبدالملک نے آپ سے آکر کہا:
’’ اے امیر المومنین! میں آپ کی خدمت میں تمام خاندان کو طرف سے قاصد بن کر آیا ہوں ۔ اور انکا مطالبہ ہے جو چاہیے کیجیے لیکن گزشتہ خلفا جو کر گئے ہیں، اسکو اسی حالت میں رہنے دیجیے۔‘‘
عمر بن عبدالعزیز﷫ نے اس کے جواب میں ہشام بن عبدالملک سے پوچھا:’’ تمہارے پاس دو دستاویز ہوں۔ ایک سیدنا معاویہ ﷜ کی اور دوسری عبدالملک کی، تو تم دونوں میں کس پر عمل کرو گے۔‘‘
ہشام نے کہا :جو مقدم ہو گی ۔                 عمر بن عبدالعزیز ﷫ نے کہا:
’’ تو میں نے کتاب اللہ کو سب سے مقدم دستاویز پایا ہے، اس لیے ہر اس چیز میں جو میرے اختیار میں ہے خواہ وہ میرے زمانہ کی ہو یا گزشتہ زمانہ سے متعلق ہو، اسی کے مطابق عمل کروں گا ۔‘‘[8]
جب بنی مروان کی کوئی تدبیر کار گرنہ ہوئی تو انہوں نے آخری حربہ استعمال کیا ۔ اور آپ کی پھوپھی کو آپ کی خدمت میں بھیجا ۔ چنانچہ وہ آئیں اور حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ سے کہا کہ
’’ عمر ! تمہارے اعزہ واقارب شکایت کرتے ہیں اور کہتے کہ تم نے ان سے غیر کی دی ہوئی روٹی چھین لی ۔ ‘‘
عمر بن عبدالعزیز ﷫ نے کہا :            ’’ میں نے ان کا کوئی حق نہیں چھینا۔‘‘
پھوپھی نے جواب دیا کہ ’’سب لوگ اس کے متعلق گفتگو کرتے ہیں اور مجھے خوف ہے کہ تمہارے خلاف بغاوت نہ کر دیں۔‘‘
عمر بن عبدالعزیز ﷫ نے فرمایا کہ
’’ اگر میں قیامت کے سوا کسی دن سے ڈروں تو خدا مجھے اس کی برائیوں سے نہ بچائے ۔‘‘
اس کےبعد ایک اشرفی ، گوشت کا ایک ٹکڑا اور ایک انگیٹھی منگوائی اور اشرفی کو آگ میں ڈال دیا جب وہ خوب سرخ ہو گئی ۔ تو اس کو اُٹھا کر گوشت کے ٹکڑے پر رکھ دیا جس سے وہ بھن گیا۔ اب پھوپھی کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ                              ’’ اپنے بھتیجے کے لیے اس قسم کے عذاب سے پناہ نہیں مانگتیں ۔‘‘
پھوپھی نے اس کا کوئی جواب نہ دیا ۔ اور خاموشی سے اُٹھ کر چلی گئیں ۔
بنی مراوان حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ کے اس عملی اقدام سے سخت ناراض تھے اور انہوں نے آپ کی مخالفت میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی لیکن ان سب مخالفتوں کا اثر حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ نے قبول نہ کیا اور اُنہوں نے جو تحریک اٹھائی اس کو مکمل کر کے چھوڑا ۔ تاہم آپ نےمختلف اخلاقی طریقوں سے اپنے خاندان کی ناراضگی کو کم کیا ۔
سیاسی اصلاحات
حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ نے مسند خلافت پر متمکن ہوتے ہی ملک میں اصلاحات کی طرف توجہ کی ۔ آپ نے سب سے پہلے صوبوں کے گورنروں کے نام ایک فرمان جاری کیا۔ جس میں آپ نے اپنے پروگرام اور عزائم سے آگاہ کیا ۔آپ کا فرمان یہ تھا:
’’ سلیمان بن عبدالملک اللہ کے بندوں میں ایک بندہ تھا ، جسے اس نے نعمتِ خلافت سے بہرہ اندوز کیا تھا ۔ اب اسکا انتقال ہو گیا اور میں اس کا قائم مقام بنایا گیا ہوں۔ اللہ نے جو ذمہ داری مجھ پر عائد کی ہے وہ بہت سخت ہے۔ اگر بیویاں جمع کرنا اور دولت سمیٹنا مجھے منظور ہوتا تو مجھ سے زیادہ کسی کیلیے اسکے وسائل مہیا نہ تھے ۔ لیکن میرا تو حال یہ ہےکہ میں خلافت کی ذمہ داری کے سلسلہ میں سخت محاسبہ سے لرزاں ہوں ۔ البتہ اگر اللہ نے رحم و درگزر سے کام لیا تو اُمید ہے کہ چھٹکارا ہو جائے ۔‘‘
اس کے علاوہ مختلف صوبوں کے گورنروں کے نام مخصوص حالات کے پیش نظر مخصوص احکام بھیجے۔ سلیمان بن ابی السریٰ کو لکھا :
’’ تم مسافر خانے بنواؤ۔ جو مسلمان ادھر سے گزرے، اس کو ایک دن اور ایک رات مہمان ٹھہراؤ اس کی ضیافت کرو ۔ اس کی سواری کے چارہ کا بندوبست کرو۔اگر مسافر مریض ہو تو اس کے علاج ومعالجہ کی طرف توجہ دو ۔ اور سرکاری خرچہ اس کو اس کے گھر پہنچانے کا بندوبست کرو۔‘‘
گورنر کوفہ عبدالحمید کو یہ حکم بھیجا کہ
’’ رعایا سے اچھا بر تاؤ کرو۔ خراج کے معاملہ میں نرمی اختیار کرو ۔ غیر آباد زمین سے خراج کا مطالبہ نہ کرو۔ اگر غیر مسلم شخص دائرہ اسلام میں داخل ہو جائے تو اس سے جزیہ وصول نہ کیا جائے ۔ ‘‘
اُمرا سے باز پرس
حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ نے اُمرا کا سختی سے احتساب کیا۔خراسان کے گورنر یزید بن مہلب کے ذمہ بیت المال کی ایک گراں قدر رقم وجب الادا تھی ۔ اس کو دربارِ خلافت میں طلب کر کے اس سے رقم کا مطالبہ کیا ۔ اس نے رقم ادا کرنے سے انکار کر دیا۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ نے یزید بن مہلب سے کہا کہ اگر تم نے رقم بیت المال میں جمع نہ کرائی تو تجھے قید کر دیا جائے گا ۔ جو رقم تم نے دبارکھی وہ تمہیں ہر حال میں ادا کرنی ہو گی ۔ اور یہ مسلمانوں کا   حق ہے اور میں اسے کسی صورت میں نہیں چھوڑ سکتا ۔ چنانچہ یزید بن مہلب کو جیل خانہ بجھوا دیا گیا ۔
یزید بن مہلب کے بیٹے مخلد کو جب اس کی اطلاع ملی کہ میرے والد کوجیل بجھوا دیا گیا ہے تو وہ امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز ﷫ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے والد کی رہائی کامطالبہ کیا۔
عمر بن عبدالعزیز ﷫نے فرمایا : ’’ میں جب تک تمہارے والد سے ایک ایک کوڑی نہ وصول کر لوں گا تمہارے والد کو نہ چھوڑوں گا۔ یہ معاملہ مسلمانوں کے حقوق کا ہے ۔‘‘[9]
یزید بن مہلب کی جگہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ نے جراح بن عبداللہ کو خراسان‎ کا گورنر مقرر کیا تو اس نے ان غیر مسلم لوگوں پر جو دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے تھے جزیہ بحال رکھا ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ کوجب اس کی اطلاع ملی تو آپ نے جراح بن عبداللہ کو لکھا کہ
’’ رسول اکر م ﷺ کودین مبین کا داعی بنا کر بھیجا گیا تھا، ٹیکس وصول کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا جو شخص نماز ادا کرے تمہیں اس سے جزیہ وصول کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ ‘‘
جراح بن عبداللہ نے اس حکم کی تعمیل شروع کردی تو لوگ گروہ درگردہ دائرۂ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ یہ حالت دیکھ کر بعض حاشیہ نشینوں نے پھر جراح کو بہکایا کہ ان لوگوں کا ختنہ کرا کے ان کے اخلاص کا امتحان لینا چاہیے۔ جراح نے اس سلسلہ میں عمر بن عبدالعزیز ﷫ کی رائے طلب کی ۔ تو آپ نے جواب دیا:
’’اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کو داعی اسلام بنا کر بھیجا تھا ۔ ختنہ کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا۔‘‘
آخر کار حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ نے جراح بن عبداللہ کو اس کے عہدہ سے معزول کر دیا۔[10]
بیت المال کی اصلاح
حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ سے پہلے خلفائے بنوامیہ کے دور میں بیت المال میں کچھ خرابیاں پیدا ہو گی تھیں ۔ آپ نے بیت المال کی اصلاح کی طرف توجہ کی آپ نے جو اصلاحات کیں اس کی مختصر تفصیل یہ ہے :
1.     آپ کے دور خلافت سے پہلے تمام آمدنیاں خمس ، صدقہ اور فے ایک جگہ جمع ہوتی تھیں ۔ ان کا علیحدہ حساب نہیں رکھا جاتاتھا۔ آپ نے حکم دیا کہ ہر قسم کی آمدنی علیحدہ علیحدہ جمع کی جائے ۔ اور اس کاعلیحدہ حساب رکھا جائے ۔[11]
2.    بیت المال مسلمانوں کا مشتر کہ خزانہ ہے، اس سے ہر مسلمان مساوی فائدہ اٹھا سکتا ہے لیکن آپ سے پہلے شاہی خاندان کا وظیفہ مخصوص تھا۔ آپ نے اس کو کلی طور پر بند کر دیا ۔[12]
3.     آپ سے پہلے کے خلفا،ان شعرا واُدبا کو جو ان کی مدح میں قصائد وغیرہ لکھتے تھے ۔ بیت المال سے انعامات دیتے تھے ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ نے یہ سب انعامات اور وظائف بند کر دیئے ۔[13]
4.     حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ سے پہلے خلفا، جب عشاء اور فجر کی نماز کے لیے مسجد میں جاتے تھے توآدمی شمع لے کر ساتھ چلتا تھا اور شمع کا خرچہ بیت المال پر پڑتا تھا ۔ جمعہ کے دن اور رمضان کے مہینے میں مساجد میں خوشبو سلگائی جاتی تھی اور اس کے مصارف بھی بیت المال سے ادا کیےجاتے تھے ۔ آپ نے یہ سلسلہ بالکل بند کردیا۔[14]
5.     بیت المال کی آمدنیوں میں خمس کے پانچ مصرف متعین ہیں جن کے علاوہ ان کو کسی دوسری جگہ صرف نہیں کی جاسکتا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ سے پہلے کے خلفا ان مصارف کا لحاظ نہیں کرتے تھے۔ مصارف میں سب سے مقدم اہل بیت ہیں لیکن ولید اور سلیمان نے اہل بیت کو ان کے حق سے محروم کردیا تھا ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ جب خلیفہ ہوئے تو آپ نے خمس کو ان کے صحیح مصارف میں صرف کیا ۔ اور اہل بیت کو ان کا حق دیا ۔[15]
بیت المال کی اصلاح ، حفاظت اور نگرانی کا آپ سختی سے نوٹس لیتے تھے ۔ اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرتے تھے حافظ ابن جوزی لکھتے ہیں کہ
ایک بار یمن کے بیت المال سے ایک دینار گم ہو گیا تو آپ نے افسر بیت المال کو لکھا کہ
’’ میں تمہاری امانت پر کوئی الزام نہیں لگاتا ۔ لیکن تمہاری بے پرواہی وغفلت کو مجرم قرار دیتا ہوں۔ میں مسلمانوں کے مال کی طرف سے مدعی ہوں، تم پر فرض ہے کہ قسم کھاؤ۔ ‘‘[16]
محاصل کی اصلاح
خراج، جزیہ اور ٹیکس ملکی محاصل ہیں اور ان کی آمدنی پر ملک اور حکومت کی بقا اور خوشحالی کا دارومدار ہے ۔ لیکن حضرت عمر بن عبدالعزیز﷫ کے دِور حکومت سے پہلے ان تمام چیزوں کا نظام ابتر ہو گیاتھا۔ اور رعا یا کے لیے یہ ٹیکس وغیرہ ایک بوجھ بن گئے تھے ۔
6.     اسلام میں جزیہ صرف غیر مسلموں سے وصول کیا جاتا ہے ۔ لیکن جب کوئی یہودی ،عیسائی اور پارسی وغیرہ اسلام قبول کرلیتا تھا تو اس سے جزیہ وصول کرتا تھا ۔
مولانا عبد السلام ندوی ’سیرت عمر بن عبد العزیز  ‘میں تاریخ مقر یزی کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ
’’ذمیوں میں جو لوگ مسلمان ہو جاتے تھے،ان سے سب سے پہلے حجاج نے جزیہ وصول کیا۔‘‘
حضرت عمر بن عبدالعزیز﷫ نے نو مسلموں سے جو جزیہ وصول کیاجاتا تھا ، اس کو ساقط کر دیا۔ آپ نے حیان بن شریح کو لکھا کہ
’’ ذمیوں میں جو لوگ مسلمان ہو گئے ہیں، ان کا جزیہ ساقط کر دیا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿فَإِن تابوا وَأَقامُوا الصَّلوةَ وَءاتَوُا الزَّكوةَ فَخَلّوا سَبيلَهُم إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ ﴿٥﴾... سورة التوبة ’’ اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز کے پابند ہو جائیں اور زکوۃ ادا کرنے لگیں تو تم ان کی راہ چھوڑ دو یقینا اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔‘‘
اور دوسری جگہ ارشاد ہے : ﴿قـتِلُوا الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَلا بِاليَومِ الءاخِرِ وَلا يُحَرِّمونَ ما حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسولُهُ وَلا يَدينونَ دينَ الحَقِّ مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتـبَ حَتّى يُعطُوا الجِزيَةَ عَن يَدٍ وَهُم صـغِرونَ ﴿٢٩﴾... سورة التوبة ’’ ان لوگوں سے لڑو جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیز کو حرام نہیں جانتے نہ دین حق قبول کرتے ہیں ان لوگوں میں سے جنہیں کتاب دی گئی ہے یہاں تک کہ وہ ذلیل وخوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں ۔‘‘[17]
7.     نوروز اور مہرجان پارسیوں کا تہوار تھا ۔ اور اس تہوار کےرسم ورواج کے پابند صرف پارسی ہو سکتے تھے۔ امیر معاویہ ﷜ نے ان تہواروں پر رعایا سے ایک معمولی رقم وصول کرنا شروع کی تھی ۔ اور اس کی مقدار ایک کروڑ درہم ہوتی تھی۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ نے یہ سلسلہ بالکل ختم کر دیا ۔ اور حکم جاری کر دیا کہ نوروز اور مہرجان کےبدلے ان کے پاس کسی قسم کی کوئی چیز نہ بھیجی جائے ۔[18]
8.     حجاج بن یوسف کا بھائی محمد بن یوسف جب یمن کا گورنر مقرر ہوا تو اس نے حجاج کی طرح ظلم وستم کا سلسلہ شروع کیا ۔ اور رعایا پر بے جا قسم کے ٹیکس عائد کر دیئے۔حضرت عمر بن عبدالعزیز﷫ نے یہ تمام ٹیکس کلی طور پر ختم کر دئے اور صرف عشر مقرر کیا ۔[19]
9.     فرات میں کچھ خراجی زمین تھی ۔ لیکن جب وہاں کے کچھ لوگ مسلمان ہو گئے اور کچھ اراضی دوسرے لوگوں کےہاتھ سے نکل کر مسلمانوں کے قبضہ میں آگئی تو وہ حسب معمول عشری ہو گئی ۔ حجاج نے اپنے زمانہ میں ان لوگوں سے بھی خراج وصول کیا ۔ عمر بن عبدالعزیز نے دوبارہ اس کو عشری قرار دیا ۔[20]
10.     حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ سے پہلے کے خلفائے بنوامیہ نے رعایا پر مختلف قسم کےٹیکس عائد کیےتھے ۔مولانا عبدالسلام ندوی کتاب الخراج از قاضی ابو یوسف کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ
’’ روپیہ ڈھالنے پر ٹیکس ، چاندی پگھلانے پر ٹیکس، عرائض نویسی پر ٹیکس ، دوکانوں پر ٹیکس ، گھروں پر ٹیکس ، پن چکیوں پر ٹیکس ، نکاح کرنے پر ٹیکس؛ غرض کہ کوئی چیز ٹیکس سے بری نہ تھی ۔ اور یہ ٹیکس ماہوار وصول کیے جاتے تھے ۔‘‘[21]
حضرت عمر بن عبدالعزیز﷫ نے یہ سب ناجائز ٹیکس موقوف کر دیے اور اس کے ساتھ آپ نے یہ اقدام بھی کیا کہ آپ كے زکوۃ وصول کرنےوالے شاہر اؤں پر بیٹھ جاتے تھے اور زکوۃ وصدقات وصول کرتے تھے لیکن جب آپ کو اس کی اطلاع ملی کہ لوگ اس طریقہ سےناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں تو اس کو موقوف کردیا اور حکم جاری کردیاکہ اب اس طرح زکوۃ اور صدقہ وصول نہ کیا جائے ۔
آپ نے ہر شہر میں ایک عامل مقرر کیا ۔ جو زکوۃ وصدقات وصول کرتا تھا ۔[22]
خراج وصول کرنے کے بارے میں عمر بن عبدالعزیز﷫ کا فرمان
خراج وصول کرنے کے بارے میں حضرت عمر بن عبدالعزیز﷫ نے ایک فرمان عبدالحمید بن عبدالرحمٰن گورنر کوفہ کے نام بھیجا ،اس فرمان سے آپ کے طرز عمل کا صحیح اندازہ ہوتا ہے ، آپ نے لکھا:
’’ زمین کامعائنہ کرو، بنجر زمین کا بار آباد زمین پر اور آباد زمین کا بار بنجر زمین پر نہ ڈالو۔ بنجر زمینوں کا معائنہ کرو۔ اگر ان میں کچھ صلاحیت ہوتو بقدر گنجائش اس سے خراج لو اور اس کی اصلاح کرو تا کہ آباد ہو جائے۔ جن زمینوں سے کچھ پیداوار نہیں ہوتی ، ان سے خراج نہ لو ۔ اور جو زمینیں قحط زدہ جائیں ان کے مالکوں سے نہایت نرمی کے ساتھ خراج وصول کرو۔ خراج میں صرف وزن سبعہ لو ۔ جن میں سونا نہ ہو ، ٹکسال اور چاندی پگھلانے والوں سے ٹیکس ، نوروز اور مہرجان کےہدیے ، عرائض نویسی اور فتوح کا ٹیکس ، گھروں کا ٹیکس ، اور نکاح کرنے کا ٹیکس نہ لو اور جو ذمی مسلمان ہو جائیں، ان پر خراج نہیں ہے ۔‘‘[23]
حوالہ جات:
[1]    سیرت ابن عبدالحکم: ص 35
[2]    تاریخ ابن اثیر :ج5 ؍ص16، سیرت ابن عبدالحکم: ص38،39
[3]    سیرت عمر بن عبدالعزیز از ابن جوزی: ص 108، ناشر دارالکتب العلمیہ، بیروت 1984ء
[4]    طبقات ابن سعد: ص 252
[5]    تاریخ الخلفاء: ص 323
[6]    سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ (بَابٌ فِي صَفَايَا رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنْ الْأَمْوَالِ)، رقم 2972
[7]    سیرت عمر بن عبدالعزیز از ابن جوزی :ص 112
[8]    سیرت عمربن عبدالعزیز از ابن جوزی :ص 119
[9]    تاریخ طبری: ج6؍ ص34، نفیس اکیڈمی، کراچی
[10] البدایہ والنہایہ: ص 188
[11] طبقات ابن سعد:ص 298
[12] تاریخ الخلفاء: 333
[13] تاریخ الخلفاء :ص 243
[14] طبقات ابن سعد :ص 299
[15] طبقات ابن سعد :ص 289
[16] سیرت عمر بن عبدالعزیز: ص 88
[17] مفسرین کرام نے ان دونوں آیات کی تفسیر میں لکھا ہے کہ : جو شخص مسلمان ہو جائے، اس کے خلاف کسی قسم کی کاروائی نہ کی جائے۔ اور قبولِ اسلام کے بعد اقامتِ صلوٰۃ اور ادائے زکوۃ کا اہتمام ضروری ہے اور جو شخص ان میں سے کسی ایک کو ترک کرے تو وہ مسلمان نہیں سمجھاجائے گا ۔
جزیہ ایک متعین رقم ہے جو سالانہ ایسے غیر مسلموں سے لی جاتی ہے جو کسی اسلامی حکومت میں قیام پذیر ہوں اور اس کے بدلے میں ان کے جان ومال اور عزت وآبرو کی حفاظت کی ذمے داری اسلامی مملکت پر ہوتی ہے ۔
[18] طبقات ابن سعد :ص 262
[19] فتوح البلدان :ص 80
[20] فتوح البلدان :ص 80
[21] سیرت عمر بن عبدالعزیز:ص 120
[22] طبقات ابن سعد :ص 279
[23] کتاب الخراج: ص 49