• ستمبر
1982
اکرام اللہ ساجد
ایک شخص کئی سال سے قلعہ اسلام پر، اسلام ہی کےحصار میں رہ کر،مسلسل گولہ باری کر رہا ہے۔
’’ طلوع اسلام ،، کےنام پرغروب آفتاب اسلام اس کی زندگی کی سب سےبڑی تمنا ہے- وہ قرآن کاسہارا لےکر قرآن سےکھیلتا ، حدیث کی آڑ میں حدیث پرحملہ آور ہوتا ، صحابہ سےمحبت جتلا کر انہی کامذاق اڑاتا، دین کی پناہ حاصل کرکےدین کی بنیادیں ہلاتا ، اشتراکیت کی مذمت کرکےاشتراکیت ہی کا پرچارکرتا، مادیت پرستی سےدشمنی ظاہر کرکے مادیت کی راہ ہموار کرتا، مادیت اور روحانیت کےدرمیان بظاہر قرآنی راہ اعتدال کاحوالہ دے کرشریعت سےبیزاری کااظہار کرتا، سائنس کےنام پرعلماء دین کورگیدتا ، سائنسی علوم کےمقابلے میں علوم دین کو ہیچ سمجھتا ، تاریخ کومسخ کرتا ،آخرت کا تصوّر دلوں سےمحوکرتااورشعاراسلام کی علی الاعلان تضحیک کرتا ہے۔ اتنا شاطر، اتنا چالاک ، اس قدر ذہین لیکن اسی قدر بدباطن کہ آیات قرآنی کےمختلف ٹکڑے چنتا ، ان کوایک خاص ترتیب دےکراس خوبی سےان کوباہم مربوط کرتا اور اُن کوخوش نما معانی پہنا کرمن مانے مطالب اخذکرتا ہے
  • جولائی
  • اگست
2015
محمد نعمان فاروقی
قرآن مجىد كى سورتوں کے ناموں كو اکثر لوگ جانتے ہیں مگر کچھ ایسی آیات بھی ہیں جن کے مفسرین نے نام رکھے ہیں اور وہ تفسیر کرتے ہوئے ان کے باقاعدہ نام لیتے ہیں۔ اور آىات كے نام ركھے بھى جاسكتے ہىں جىسا كہ بعض آیات کے نام نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام ﷢ سے بھی ثابت ہیں۔عربى تفاسىر كے مطالعے كے دوران مىں ان آىات كا نام لىا جاتا ہے مگر ان كا علم نہ ہونے كى وجہ سے فہم مىں خلا رہ جاتا ہے۔ اسی ضرورت کے تحت وہ آیات پیش کی جاتی ہیں جن کے نام مفسرین کے ہاں متداول ہیں اور ساتھ ہی ان آیات کے سببِ نزول ،مختصر احکام اور نکات درج کیے جاتے ہیں۔ ان آیات کی ترتیب وہی رکھی گئی ہے جو قرآنِ مجید کی ہے۔
  • جنوری
1977
عزیز زبیدی
﴿فَما أوتيتُم مِن شَىءٍ فَمَتـٰعُ الحَيوٰةِ الدُّنيا ۖ وَما عِندَ اللَّـهِ خَيرٌ‌ وَأَبقىٰ لِلَّذينَ ءامَنوا وَعَلىٰ رَ‌بِّهِم يَتَوَكَّلونَ ﴿٣٦﴾ وَالَّذينَ يَجتَنِبونَ كَبـٰئِرَ‌ الإِثمِ وَالفَوٰحِشَ وَإِذا ما غَضِبوا هُم يَغفِر‌ونَ ﴿٣٧﴾ وَالَّذينَ استَجابوا لِرَ‌بِّهِم وَأَقامُوا الصَّلوٰةَ وَأَمرُ‌هُم شور‌ىٰ بَينَهُم وَمِمّا رَ‌زَقنـٰهُم يُنفِقونَ ﴿٣٨﴾ وَالَّذينَ إِذا أَصابَهُمُ البَغىُ هُم يَنتَصِر‌ونَ ﴿٣٩﴾...سورة الشورى

"غرض جو کچھ بھی تم کو دیا گیا ہے (وہ تو) دنیا کی زندگی کا (صرف چند روزہ) ساز و سامان ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ بہتر (بھی) ہے
  • فروری
1989
پروفیسر محمد دین قاسمی
قسط : 3
ملکیتِ مال ۔۔۔ اور ۔۔۔قرآن مجید
قل العفو (29/2) پر بحث:
قرآن کریم میں اس بات کی کیا دلیل ہے کہ افراد اپنی محنت کی کمائی میں سے صرف اس قدر کے ہی حق دار ہیں، جو فرد کا سب کی محنت کے بقدر ہو اور اس سے زائد کمائی کے وہ مالک نہیں ہو سکتے؟ اس کے جواب میں سورۃ البقرۃ کی یہ آیت پیش کی جاتی ہے:
﴿وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ ... ٢١٩﴾... البقرة 
"وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟ کہو جو بہترین چیز ہو۔"
پرویز صاحب کا استدلال یہ ہے کہ یہاں عفو کے انفاق کا حکم ہے لغتِ عرب میں چونکہ عفو المال کے معنی زائد از ضرورت ، مال کے بھی ہیں۔ اس لئے یہاں تمام زائد از ضرورت مال کے، انفاق کا حکم دیا گیا ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ لوگ فاضلہ دولت کے مالک نہیں ہو سکتے ہیں۔
  • اپریل
1973
عزیز زبیدی
الم ﴿١﴾ ذ‌ٰلِكَ الكِتـٰبُ لا رَ‌يبَ ۛ فيهِ...٢﴾... سورة البقرة


الف، لام، میم، یہ وہ کتاب ہے جس (کے کلامِ الٰہی ہونے) میں کچھ بھی شک نہیں۔

(۱) الٓمّٓ (الف، لام، میم) یہ حروف بقرۃؔ، آلِ عمرانؔ، عنکبوتؔ، رومؔ، لقمانؔ اور سجدہؔ کے شروع میں آئے ہیں۔ ان کا نام 'حروفِ مقطعات' ہے۔ ۱۱۴ سورتوں میں سے (۲۹) سورتوں کا آغاز حروفِ مقطّعات سے ہوا ہے۔ وہ کل یہ ہیں: ا، ج، ر، س، ص، ع، ق، ک، ل، م، ن، ہ، ی۔
  • مئی
1973
عزیز زبیدی
(۱) بِالْغَیْبِ (غیب کے ساتھ، غیب پر، پسِ پشت) اس کے دو معنے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا اور رسول کی بات صرف اس لئے برحق تسلیم کرنا اور ماننا کہ چونکہ اس نے فرمایا ہے۔ وہ بات ہمارے ادراک کے بس کا روگ ہو یا ہ ہو۔ دوسرے یہ کہ سامنے ہوں یا غائب اور آنکھوں سے اوجھل ہو جائیں تو ہر حال میں ان کے ایمان و اسلام میں فرق نہیں آتا۔
  • دسمبر
1973
عزیز زبیدی
گو ان سب کا حاصل ایک جیسا ہے، تاہم ان میں ایک گونہ تنوع بھی پایا جاتا ہے۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ مختصراً اس کا بھی ذکر ہو جائے تو قلب و نگاہ' پر مہر اور پردے والی بات بھی مزید واضح ہو جائے زیادہ یہ تفصیل حضرت امام ابن القیمؒ (ف۷۵۱ھ) کی کتاب 'شفاء العلیل فی مسائل القضاء والقدر و الحکمۃ والتعلیل' (ص ۹۲ تا ص ۱۰۷) سے ماخوذ ہے اور کچھ 'مفرداتِ راغب' سے۔
  • جولائی
  • اگست
1974
عزیز زبیدی
﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ اعبُدوا رَ‌بَّكُمُ الَّذى خَلَقَكُم وَالَّذينَ مِن قَبلِكُم لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ٢١ الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الأَر‌ضَ فِر‌ٰ‌شًا وَالسَّماءَ بِناءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخرَ‌جَ بِهِ مِنَ الثَّمَر‌ٰ‌تِ رِ‌زقًا لَكُم ۖ فَلا تَجعَلوا لِلَّهِ أَندادًا وَأَنتُم تَعلَمونَ ٢٢ وَإِن كُنتُم فى رَ‌يبٍ مِمّا نَزَّلنا عَلىٰ عَبدِنا فَأتوا بِسورَ‌ةٍ مِن مِثلِهِ وَادعوا شُهَداءَكُم مِن دونِ اللَّهِ إِن كُنتُم صـٰدِقينَ ٢٣ فَإِن لَم تَفعَلوا وَلَن تَفعَلوا فَاتَّقُوا النّارَ‌ الَّتى وَقودُهَا النّاسُ وَالحِجارَ‌ةُ ۖ أُعِدَّت لِلكـٰفِر‌ينَ ٢٤وَبَشِّرِ‌ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ أَنَّ لَهُم جَنّـٰتٍ تَجر‌ى مِن تَحتِهَا الأَنهـٰرُ‌ ۖ كُلَّما رُ‌زِقوا مِنها مِن ثَمَرَ‌ةٍ رِ‌زقًا ۙ قالوا هـٰذَا الَّذى رُ‌زِقنا مِن قَبلُ ۖ وَأُتوا بِهِ مُتَشـٰبِهًا ۖ وَلَهُم فيها أَزو‌ٰجٌ مُطَهَّرَ‌ةٌ ۖ وَهُم فيها خـٰلِدونَ ٢٥﴾... سورة البقرة
  • ستمبر
  • اکتوبر
1974
عزیز زبیدی
﴿إِنَّ اللَّهَ لا يَستَحيۦ أَن يَضرِ‌بَ مَثَلًا ما بَعوضَةً فَما فَوقَها ۚ فَأَمَّا الَّذينَ ءامَنوا فَيَعلَمونَ أَنَّهُ الحَقُّ مِن رَ‌بِّهِم ۖ وَأَمَّا الَّذينَ كَفَر‌وا فَيَقولونَ ماذا أَر‌ادَ اللَّهُ بِهـٰذا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثيرً‌ا وَيَهدى بِهِ كَثيرً‌ا ۚ وَما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الفـٰسِقينَ ٢٦ الَّذينَ يَنقُضونَ عَهدَ اللَّهِ مِن بَعدِ ميثـٰقِهِ وَيَقطَعونَ ما أَمَرَ‌ اللَّهُ بِهِ أَن يوصَلَ وَيُفسِدونَ فِى الأَر‌ضِ ۚ أُولـٰئِكَ هُمُ الخـٰسِر‌ونَ ٢٧﴾... سورة البقرة
  • نومبر
  • دسمبر
1974
عزیز زبیدی
﴿كَيفَ تَكفُر‌ونَ بِاللَّهِ وَكُنتُم أَمو‌ٰتًا فَأَحيـٰكُم ۖ ثُمَّ يُميتُكُم ثُمَّ يُحييكُم ثُمَّ إِلَيهِ تُر‌جَعونَ ٢٨ هُوَ الَّذى خَلَقَ لَكُم ما فِى الأَر‌ضِ جَميعًا ثُمَّ استَوىٰ إِلَى السَّماءِ فَسَوّىٰهُنَّ سَبعَ سَمـٰو‌ٰتٍ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَىءٍ عَليمٌ ٢٩وَإِذ قالَ رَ‌بُّكَ لِلمَلـٰئِكَةِ...٣٠﴾... سورة البقرة

(لوگو!) تم خدا کا کیونکر انکار کر سکتے ہو اور (تمہارا حال یہ ہے کہ) تم بے جان تھے اور اسی نے تم میں جان ڈالی۔ پھر (وہی) تم کو مارتا ہے پھر (وہی) تم کو (قیامت میں دوبارہ) جلائے گا (بھی) پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ وہی (قادر مطلق) ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی کل کائنات پیدا کی پھر (اس کے علاوہ ایک بڑا کام یہ کیا کہ) آسمان کے بنانے کی طرف متوجہ ہوا تو سات آسمان ہموار بنا دیئے اور وہ ہر چیز (کی کنہ) سے واقف ہے۔ (اے پیغمبر لوگوں سے اس وقت کا تذکرہ کرو) جب
  • مئی
  • جون
1975
عزیز زبیدی
قَالَ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔ وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّھَا ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ فَقَالَ اَنْبِؤُنِیْ بِاَسْمَآءِ ھٰٓؤُلَآءِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَکَ لَا عِلْمَ لَنَا اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ۔ قَالَ یٰٓاٰدَمُ اَنْبِئْھُمْ بِاَسْمَآءِھِمْج فَلَمَّآ اَنْبَائَھُمْ بَاَسْمَآئِھِمْ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ اِنِّیْ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ.

(خدا نے) فرمایا میں وہ (مصلحتیں) جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے اور آدم کو سب (چیزوں کے) نام بتا دیئے پھر ان چیزوں کو فرشتے کے روبرو پیش کر کے فرمایا کہ اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو تو ہم کو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1975
عزیز زبیدی
﴿وَقُلْنَا یٰٓاٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ وَکُلَا مِنْھَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ. فَاَزَلَّھُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْھَا فَاَخْرَجَھُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ وَقُلْنَا اھْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّج وَ لَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ.﴾

اور ہم نے (آدم سے) کہا: اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو سہو اور اس میں جہاں کہیں سے جی چاہے
  • جنوری
2008
محمد اسلم صدیق
نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ناخواندہ اور اَن پڑھ قوم میں مبعوث ہوئے جو من حیث القوم حساب وکتاب کی صلاحیت سے بے بہرہ اور رسم الخط و فن تحریر سے ناآشنا تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے کچھ عرصہ پہلے پورے جزیرۂ عرب میں تھوڑی سی تعداد؛ قبیلہ قریش کے دس بارہ افراد اور اہل مدینہ کے آس پاس بسنے والے یہودیوں کی ایک محدود تعداد خط و کتابت سے واقف تھی۔
  • فروری
2008
محمد اسلم صدیق
جمع وتدوینِ قرآن کے اَدوار گذشتہ تصریحات سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ قرآنِ کریم کو تین مرتبہ جمع کیا گیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے دور میں حضرت عثمان بن عفانؓ کے دور میں لیکن ان تینوں اَدوار میں جمع قرآن کی نوعیت میں واضح فرق ہے۔ ذیل میں ہم فرق کی اس نوعیت کو واضح کریں گے
  • اپریل
2008
محمد اسلم صدیق
زیر نظر مضمون کے مرتب علومِ قرآن کے حوالے سے عالم عرب کی ایک معتبر شخصیت ہیں جن کی اس موضوع پر متعدد کتب ومقالات کے علاوہ، شاگر دوں کی بڑی تعداد دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے۔ سعودی حکومت کے کنگ فہد قرآن کمپلیکس میں قرآنِ کریم کی عالمی پیمانے پر نشر واشاعت اور اصلاح کے لئے قائم کردہ کمیٹی نے ان کی کتب سے بھرپور استفادہ کیا ہے جو آپ علمیت کا مدینہ نبویہ میں حکومتی سطح پر ایک اعتراف ہے۔
  • مارچ
2008
محمد اسلم صدیق
گذشتہ صفحات میں ہم تفصیل سے واضح کرچکے ہیں کہ دور ِعثمانی میں مصاحف کی جو نقلیں تیار کرکے مختلف بلادِ اسلامیہ کو بھیجی گئیں تھیں، وہ ایسے رسم الخط پر مشتمل تھیں جو ساتوں حروف کا متحمل سکے ۔ اسی مقصد کے پیش نظر ان مصاحف کو نقطوں اورحرکات سے خالی رکھا گیا تاکہ ان حروف کی تمام متواتر قراء ات __ جو عرضۂ اخیرہ کے وقت باقی رکھی گئی تھیں اور ان کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی تھی_
  • فروری
1990
ثنااللہ مدنی
نام ونسب:

امام ابن جریرؒ کا مکمل نام ابوجعفر محمد بن جریر بن یزید ابن کثیر غالب طبری ہے۔

جائے پیدائش:
  • جنوری
1989
صدیق حسن خان
﴿وَإِذ قالَ رَ‌بُّكَ لِلمَلـٰئِكَةِ إِنّى جاعِلٌ فِى الأَر‌ضِ خَليفَةً قالوا أَتَجعَلُ فيها مَن يُفسِدُ فيها وَيَسفِكُ الدِّماءَ وَنَحنُ نُسَبِّحُ بِحَمدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قالَ إِنّى أَعلَمُ ما لا تَعلَمونَ ﴿٣٠﴾... سورةالبقرة

"اور وہ وقت یاد کیجئے جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں ۔انھوں نے کہا کیا تو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت وخون کرتا پھرے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح وتقدیس کرتے رہتے ہیں۔اللہ نے فرمایا،میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔"
  • اگست
  • ستمبر
1989
صدیق حسن خان
تذکیر قصص القرآن:

(ف) قرآن مجید میں مخلوقات کے عجائب کا علم ،ملکوت ارض وسماوات کا علم،اس چیز کا علم جو آسمان وتحت الثریٰ میں ہے۔خلق کے آغاذ کا علم،مشاہیرانبیاءؑ ورسلؑ اور ملائکہ کا نام اور گزشتہ امتوں کے احوال کا ذکر موجود ہے۔مثلا ً حضرت آدمؑ کاابلیس کے ساتھ جنت سے نکلنا،اولاد کا نام عبدالحارث رکھنا،حضرت ادریسؑ کا آسمان پر اٹھایا جانا۔نوح ؑ کی قوم کا غرق ہونا۔
  • جنوری
2013
محمد رفیق چودھری
قرآنِ مجید کے ترجمہ و تفسیر کی ضرورت ہر دور میں رہی ہے۔ اورعلماے اسلام نے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نہایت قیمتی اور قابل قدر کام کیا ہے۔صحیح فہم قرآن کے لیے چند مسلّمہ بنیادی اُصول ہیں جن کا علم ضروری ہے ، ذیل میں بالاختصار یہ اُصول بیان کئے جاتے ہیں:

1. قرآنِ مجید کو سمجھنے سے قبل آدمی اپنے دل و دماغ کو ان تصورات اور تعصّبات سے بالکل خالی کردے
  • دسمبر
2009
محمود الحسن عارف
اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ اور دستور ہے کہ وہ قوموں کو خوابِ غفلت سے جگانے اور خلافت سے متعلق اپنے فرائض و واجبات انجام دینے سے متعلق ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کے لیے اُنہیں طرح طرح کی زمینی اور آسمانی آزمائشوں سے دوچار کرتا ہے تاکہ اس کے بندے خوابِ غفلت سے جاگیں اور اپنی حقیقت اور اصلیت کو جان سکیں۔
  • اکتوبر
1996
عبدالرشید عراقی
برصغیر پاک و ہند میں خاندان ولی اللہی (حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی (م 1176ھ) نے قرآن و حدیث کی نشر و اشاعت میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ اور ان کی خدمات کا علمی شہرہ ہند اور بیرون ہند پہنچا۔ جیسا کہ ان کی تصانیف سے ان کی علمی خدمات اور ان کی سعی و کوشش کا اندازہ ہوتا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے انتقال کے بعد ان کے چاروں صاجزادگان عالی مقام حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (م 1239ھ)، مولانا شاہ عبدالقادر دہلوی (م 1243ھ)، مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی (م 1249ھ) اور مولانا شاہ عبدالغنی دہلوی (م 1227ھ) نے اپنے والد بزرگوار کے مشن کو جاری رکھا۔
ان کے بعد حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے پوتے اور مولانا شاہ عبدالغنی کے صاجزاہ مولانا شاہ اسماعیل شہید دہلوی (ش 1246ھ) نے تجدیدی و علمی کارناموں میں انقلاب عظیم برپا کر دیا۔ آپ کی کتاب "تقویۃ الایمان" نے لاکھوں بندگان الہٰ کو کتاب و سنت کا گرویدہ بنا دیا۔ اور اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ یہ کتاب اب تک لاکھوں کی تعداد میں زیور طبع سے آراستہ ہوئی۔
حضرت شاہ اسماعیل شہید کے بعد محی السنۃ مولانا سید نواب صدیق حسن خاں (م 1307ھ) کے قلم اور شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی (م 1320ھ) کی تدریس نے مسلمانان ہند کو بڑا فیض پہنچایا۔ علامہ سید سلیمان ندوی (م 1373ھ) تراجم علمائے حدیث ہند مؤلفہ ابویحییٰ امام خان نوشہروی (م 1386ھ) کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ
"بھوپال ایک زمانہ تک علمائے اہل حدیث کا مرکز رہا۔ قنوج، سہوان اور اعظم گڑھ کے بہت سے نامور اہل علم اس ادارہ میں کام کر رہے تھے۔ شیخ حسین یمنی (م 1327ھ) ان سب کے سرخیل تھے اور دہلی میں میاں نذیر حسین دہلوی کی مسند درس بچھی ہوئی تھی اور جوق در جوق طالبان حدیث مشرق و مغرب  سے ان کی درسگاہ کا رخ کر رہے تھے۔"
  • جنوری
  • فروری
1979
ثناء اللہ خان
چونکہ مسئلہ ہذا فتویٰ، تعلیق، تعاقب، تبصرہ او رجواب تبصرہ کی صورت میں کئی رسالوں میں پھیل گیا ہے۔ لہٰذا ہم محدث میں پوری بحث جمع کررہے ہیں، تاکہ قارئین ایک ہی جگہ سے مکمل استفادہ کرسکیں۔ (مدیر)

محترمی و مکرمی....... استادی المکرم ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

بعد از آداب و تسلیم یہاں سب خیریت ہے اور خداوند کریم سے دُعاگو ہوں کہ آپکا سایہ شفقت ناچیز پر ہمیشہ کیلئے باخیریت طور پر رکھے۔ آمین
  • نومبر
2010
محمد بشیر
میرا آج کا موضوع یہ ہے کہ اپنی عظیم اسلامی درسگاہوں میں کمسن بچوں کو قرآنِ کریم کی تدریس کے دوران عربی زبان کیسے پڑھائیں؟ اس سے قبل میں اپنے دو مضامین** میں سورۂ فاتحہ اور پھر سورۂ بقرہ کے پہلے رکوع کی تدریس کے دوران عربی زبان کی تعلیم و تربیت پر مثالوں سمیت لکھ چکا ہوں۔
  • جنوری
1995
صدیق حسن خان
آیت نمبر :125، "اور وہ وقت یاد کیجئے جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے جمع ہو نے اور جائے امن مقرر کیا اور حکم دیا کہ جس مقام پر ابراہیم علیہ السلام کھڑے ہوئے تھے اس کو نماز کی جگہ بنا لو ۔۔۔۔