• مارچ
2006
محمد اسلم صدیق
ماہنامہ 'الاعتصام' (2تا 8؍ ستمبر2005ء )میں ایک سوال کے جواب میں حافظ ثناء اللہ مدنی صاحب نے علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے سریانی زبان کے وجود کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ لکھا تھا کہ ''انجیل سریانی زبان میں تھی۔'' جس پر المَورد کے ریسرچ فیلو عبدالستار غوری صاحب نے ماہنامہ 'اشراق' (دسمبر 2005ء )میں اس موقف کی تردید کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ''انجیل ابتدا ہی سے یونانی (Greek)زبان میں لکھی گئی تھی جبکہ حضرت مسیح کی زبان ارامی Aramaicتھی۔ اور اُنہوں نے اپنے مواعظ و بشارات اسی ارامی زبان میں ارشاد فرمائے تھے، لیکن ان کے جو ارشادات بائبل کے عہد نامہ جدید کی چاروں انجیلوں اور دیگر تحریروں میں درج ہیں، وہ کبھی بھی اپنی اصلی حالت میں نہیں لکھے گئے تھے
  • اپریل
2001
ادارہ
جب سے طالبان نے افغانستان ميں بتوں كو منہدم كرنے كا اعلان كيا ہے، دنيا بھرميں ا س كے خلاف شديد ردّ ِعمل سامنے آرہا ہے بلكہ بعض لوگوں نے ان بتوں كى خريدارى كى پيشكش كى ہے اور بعض نے ان كى حفاظت پر اُٹھنے والے اِخراجات ادا كرنے كى يقين دہانى بھى كرائى ہے-كچھ ممالك اگر سفارتى دباؤ سے كام لے رہے ہيں توبعض ديگرڈرانے دھكانے سے بھى نہيں چوك رہے۔
  • مارچ
2012
عبداللہ طارق
ایمان زبان سے قول، دل سے تصدیق ا ورعمل صالحہ کا نام ہے، یہ ایمان کے تین ارکان ہیں اورجو شخص ان تینوں اراکین ایمان کا اعتقاد رکھتا ہے، وہ اہل السنہ والجماعۃ کے موقف پر ہے۔ البتہ جو شخص ان تینوں ارکان کا اعتقاد رکھنے کے باوجود عملاً کوتاہی یا گناہ کا ارتکاب کرے تو اُس سے اس کے ایمان کا درجہ تو کم ہوجاتا ہے، لیکن اس عملی کوتاہی سے وہ شخص مرجئہ نہیں بن جاتا بلکہ وہ اہل السنّہ ہی رہتا ہے
  • جنوری
2012
ابو عبداللہ

اوائل اسلام میں جب مختلف فتنوں نے سر اُٹھایا تو ائمہ اہل السنۃ کی طرف سے ان کی بھرپور علمی تردید کی گئی۔ ان میں سے 'مسئلۂ ایمان و کفر' میں ایک طرف خوارج و معتزلہ تھے تو دوسری انتہا پر مرجئہ و جہمیہ جمے ہوئے تھے ۔ جبکہ اہل السنّۃان دو انتہاؤں کے وسط میں راہِ اعتدال پر قائم تھے اور آج بھی ہیں اور یہ بھی حقیقت بلا ریب ہے کہ مرجئہ و جہمیہ کی طرف سے اہل السنۃکو خارجی ہونے کا طعنہ دیا گیا

  • جولائی
2010
آباد شاہ پوری
'اَکال الامم'سے موسوم ہندو مت کی سر زمین برصغیر پاک و ہند میں مسیحیت کی تاریخ کافی قدیم ہے،تاہم اس کی یہاں پرابتدا کا تعین مشکل امر ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں کوئی بھی باوثوق اور مستند تاریخی مصادر ومآخذ دستیاب نہیں جن سے ہندوستان میں عیسائیت کی ابتدائی آمد اور اوّلین بانی کلیسا کا قطعی تعین ہو سکے ۔
  • جون
1989
ثنااللہ مدنی
تورات،زبور،انجیل،قرآن مجید

لفظ تورات پر بحث:

تورات عبرانی زبان کا لفظ ہے۔اس کا اصل معنی شریعت یا ناموکس یعنی "سرى شئ" ہے۔یہود کی اصطلاح میں یہ پانچ چھوٹی چھوٹی کتابوں سے عبارت ہے۔
  • جولائی
1989
ثنااللہ مدنی
تورات ،زبور ،انجیل،اور قرآن مجید

لفظ قرآن مصدر ہے جس کا معنی ہے "پڑھنا " یہ اللہ عز وجل کی کتاب کا خاص نام ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی جبکہ کسی دوسری آسما نی کتاب کا بطورمعروف نام قرآن نہیں ہے نیز اس کا اطلاق قرآن کریم کے جزو کل سب پر یکساں طور پر ہوتا ہے۔
  • مئی
1989
حافظ ثناء اللہ مدنی
بلاشبہ تورات،زبور،انجیل اور قرآنِ مجید چاروں الہامی وآسمانی کتابیں ہیں۔خالقِ کائنات نے انہیں مختلف عہود میں اپنے جلیل القدر اور عظیم المرتبت پیغمبروں،حضرت موسیٰ علیہ السلام،حضرت داؤدعلیہ السلام،حضرت عیسیٰ علیہ السلام اورامام الانبیاءحضرت محمد المصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم پربالترتیب نازل فرمائیں۔ان کی آمد کا اوّلین مقصد بنی نوع انسان کی فلاح وبہبود،رشدوہدایت اور مالک الملک سے تعلق کی استواری،دین اوردنیا میں طریق حق اورراہِ نجات کی راہنمائی۔
  • فروری
1973
عزیز زبیدی
شیعہ حضرات کے رسالہ ماہنامہ ''معارف اسلام'' لاہور کا تازہ شمارہ ''علی و فاطمہ نمبر'' ہمارے سامنے ہے۔ اس فرقہ کی دوسری نگارشات اور مؤلفات کی طرح اس خصوصی نمبر کے مطالعہ سے بھی ایک قاری کو جو عام تأثر ملتا ہے وہ یہ ہے کہ:
  • مارچ
2005
سیف اللہ سپرا
دنيا ميں اس وقت زمينوں كى بجائے ذہنوں پر حكومت كى جاتى ہے اور ابلاغى قوت كے بهر پور استعمال سے افراد اور حكومتوں كى كايا پلٹى جاتى ہے-اس ابلاغى قوت كا بهرپور استعمال جس طرح يہودى كرتے ہيں، افسوس كہ مسلمانوں كو اس كا ادراك وشعور نہيں-دنيا كے مالدار لوگ اگر مسلمان ہيں تو ان كى دولت سے بهى فائدہ غير مسلم ہى اُٹهاتے ہيں جو صرف تحفظ كے نام پر يورپى بنكوں ميں پڑى گلتى سٹرتى ہے جس سے يا تو مغربى معيشت ترقى كرتى ہے يا پهر اس دولت كو امن عالم كو درپيش خطرہ كے نام پر منجمد كركے ہضم كرليا جاتا ہے-
  • جون
2003
مبشر حسین
بلاناغہ ہر سال ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو 'عید میلاد النبی ﷺ 'کے نام پر جشن منایا جاتا ہے۔ ربیع الاول کے شروع ہوتے ہی اس جشن میلاد کی تقریبات کے انتظامات شروع ہوجاتے ہیں۔ نوجوان گلی کوچوں اور چوراہوں میں راہ گیروں کا راستہ روک کر زبردستی چندے وصول کرتے ہیں۔ علما حضرات مسجدوں میں جشن ولادت منانے کے لئے دست ِسوال دراز کرتے ہیں۔
  • جولائی
2010
محمد سعید شیخ
قرآنِ مجید اللہ تبارک وتعالیٰ کی آخری نازل کردہ کتاب ہے اور اُس نے اِس کی حفاظت کا ذمہ بھی خود ہی لیا ہے:
’’ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ ‘‘ (الحجر :۹)
''بے شک ہم ہی نے یہ ذکر (قرآن) نازل کیا اور ہم ہی اسکی حفاظت کرنے والے ہیں۔''
  • جولائی
2010
عطاء اللہ صدیقی
قادیانی جماعت کی سپریم کونسل کے ڈائریکٹر مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا ہے کہ ہم قرآن کو آخری کتاب اور رسول اللہ1کو آخری نبی مانتے ہیں اور قرآن و حدیث پر عمل کو اپنا فرض سمجھتے ہیں لیکن ۱۹۷۴ء میں نام نہاد پارلیمنٹ اور نام نہاد صدر نے ہمیں آئینی طور پر غیر مسلم قرار دے کر بڑی زیادتی کی۔ بھٹو نے ہمیں غیر مسلم قرار دیا جبکہ ضیاء الحق نے۱۹۸۴ء میںپابندی لگا کر اسے عروج تک پہنچا دیا۔
  • مارچ
2005
عبدالرحمن کیلانی
اسلام ميں داخل ہونے كے لئے كلمہ شہادت كا زبان سے اقرار كرنا ضرورى ہے- اس كلمہ كے دو اجزا ہيں يعنى أشهد أن لا إله إلا الله اور أشهد أن محمدًا رّسول الله اور اگر كوئى مسلمان بهى ان دونوں اجزا يا دونوں ميں سے كسى كا زبانى يا معنوى طور پر انكار كردے، يا اس سے ايسے اعمال سرزد ہوں جن سے اس كلمہ كے كسى جزو كى ترديد ہوتى ہو تو وہ شخص دائرئہ اسلام سے خارج سمجھاجائے گا-
 
  • اپریل
2014
ارشد جاوید
مرزا غلام احمد 40؍1839ء میں پیدا ہوئے۔ 68-1864ء میں سیالکوٹ کی کچہری میں بطورِ محرّر ملازمت کی۔ اس دوران مختاری کا امتحان دیا مگر کامیاب نہ ہو سکے۔مرزا صاحب علم نجوم سے تو دلچسپی رکھتے ہی تھے، 1868ء میں سیالکوٹ سے واپسی کے بعدتسخیری عملیات اور اَوراد و وظائف کی طرف بھی متوجہ ہوئے اور تقریباً 9ماہ کی چلّہ کشی کے دوران 'مسمریزم' کی بھی مشق کی۔یہ مناظروں کا دور تھا اور ایک خاص حلقہ میں آپ مناظر اسلام کی حیثیت سے بھی معروف ہو چکے تھے ۔
  • مئی
1986
محمد صدیق
'' کہتے ہیں کہ انسان کی سعادت و شقاوت کا دارومدار انجام پر ہوتا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی اپنی ابتدائی علمی زندگی میں ذہین ہونے کی وجہ سے اچھی شہرت کے حامل رہے ہیں۔اسی بناء پر ''تدبر قرآن'' میں انکار حدیث کی نیو کو عام علماء نے نظر انداز بھی کیا۔ لیکن اپنی اس تفسیر کی تکمیل کے بعد وہ جس طرح نہ صرف سنت و حدیث کی جڑوں پر کلہاڑے چلا رہے ہیں، بلکہ اس کے لیے چن چن کر چند شاگردوں کو تربیت بھی دے
  • دسمبر
1970
عزیز زبیدی
سلف صالحین ''جماعت'' تو ضرور تھے لیکن ہماری طرح ان کو تنظیم کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ سالارِ کارواں ﷺ نے اپنے حجازی قافلہ کے لئے جو جادہ اور منزل تشخیص کی تھی، قدرتی طور پر سب کا رُخ ادھر ہی کو تھا اور اسی منزل کی طرف سب رواں دواں اور جدہ پیما تھے۔ چونکہ مجموعی طور پر ملت اسلامیہ خیر سے قریب اور شر سے دور تھی،
  • اپریل
1971
عبدالغفور رمضان پوری
ایک صورتِ ایتلاف!

اصل دین کہ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد سامنے آتا ہے تو مسلمان لومۃ لائم سے بے نیاز ہو کر اس کے سامنے جھک جائے، اسلاف اور بزرگوں کا یہی طریقہ تھا۔ مندرجہ بالا مضمون یعنی مفید الأحناف اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس میں مصنف نے ثابت کیا ہے
  • اپریل
2003
محمد علی قصوری
یہ ہوسکتا تھاکہ آیاتِ براء ت کو پادری صاحب نے بو جہ اپنی لاعلمی اور قرآن کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مدارِ فضیلت قرار دے دیا ہو اور دیدہ دانستہ ایسا حق کش رویہ اختیار نہ کیا ہو۔ لیکن ان کا یہ بیان کہ'' قرآن خود عیسیٰ کی اُلوہی صفات کا مؤید ہے'' ایک ایسا سفید جھوٹ اور صریح افترا ہے کہ اس کے بعد کسی قسم کے حسن ظن کا موقعہ ہی نہیں رہتا۔
  • مئی
2003
محمد علی قصوری
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے زیادہ کامل و اکمل زندگی کا تصور ہی ناممکن ہے۔ چنانچہ ہم اس امر کو زیادہ واضح کرنے کے لئے حضور کا مقابلہ انجیلی مسیح سے (یعنی مسیح علیہ السلام کی وہ تصویر جو انجیل میں کھینچی گئی ہے) کریں گے، اس سے جہاں ناظرین کو ہمارے دعویٰ کی تصدیق ہو جائے گی وہاں معیار و مدارِ فضیلت ِانبیا پر بھی پوری روشنی پڑے گی۔
  • جولائی
1996
عبدالرحمن کیلانی
حصہ اول:۔اس حصے میں ایسے عقائد ونظریات کا ذکر ہے جن میں کم از کم نا کی حد تک مسلمانوں اور اسماعیلیوں میں اشتراکیت موجود ہے۔
الف:ارکان اسلام۔۔۔۔۔۔۔1۔کلمہ ء شہادت
اسلام میں داخل ہونے کے لئے کلمہ شہادت کازبان سے اقرار کرنا ضروری ہے ۔اس کلمہ ک دو اجزاء ہیں۔یعنی اشهد ان لا اله الا الله اوراشهد ان محمد رسول الله اور اگر کوئی مسلمان بھی ان دونوں اجزاء یا دونوں میں سے کسی کا زبانی یا معنوی طور پر انکار کردے،یا اس سے ایسے اعمال سرزد ہوں جن سے اس کلمہ کے کسی جزو کی تردید ہوتی ہو تووہ شخص دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جائے گا۔قادیانیوں نے اس کلمہ کے دوسرے جزو کا معنوی طور پر انکار کیا۔یعنی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی رسالت کو تا قیامت واجب الاتباع تسلیم کرتے ہوئے ایک اور"نبی کی نبوت" کو تسلیم کرلیا تو پاکستان کی عدالت عالیہ نے اس فرقہ کو1975ء میں غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔
تمام اہل سنت کے برعکس اسماعیلیہ فرقہ کے کلمہ شہادت کے اجزا دو نہیں بلکہ تین ہیں:
اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان محمد رسول الله واشهدان امير المومنين علي الله(1)
علاوہ ازیں ان کے ہاں  پہلے دو اجزاء (جو سب مسلمانوں میں مشترک ہیں) کا بھی وہ مفہوم نہیں۔جو دوسرے مسلمانوں کے ہاں پایا جاتاہے۔کلمہ کے پہلے جزء لا اله الا الله کا  عام مفہوم یہ ہے کے اللہ کے سوا کوئی معبود یا عبادت کے لائق نہیں۔اگرچہ بعض مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات الوہیت یعنی مشکل کشائی اور حاجت روائی وغیرہ میں اپنے زندہ یا فوت شدہ بزرگوں اور پیروں کو بھی شامل کرلیا تاہم غیر اللہ کو سجدہ کرنا ایسا عمل ہے جسے مسلمانوں کے تمام فرقے حرام سمجھتے ہیں مگر اسماعیلی اپنے حاضر امام کو سجدہکرتے اور اس کام کو کارثواب اور اصل عبادت سمجھتے ہیں۔درج ذیل اقتباسات ملاحظہ فرمائیے:
1۔اس دنیا میں جو مومن پہلے تھے اور جو مومن  اس وقت ہیں اور جو آئندہ ہوں گے سب مومن "شاہ پیر"(2) کی عبادت کرتے تھے،کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
2۔"پیر شاہ ہمارے گناہ بخش دیتے ہیں۔۔۔امام حاضر کو ہم "پیر شاہ" کہتے ہیں(3)
  • مارچ
2005
حسن مدنی
آغا خانيوں كو قومى تعليم ميں سركارى آرڈيننس(CXIV/2002)كى رو سے بڑا اہم كردار سونپا جا چكا ہے اور وفاقى وزير تعليم نے كہا ہے كہ اس آرڈيننس يا فيصلہ كے بارے ميں پارليمنٹ ہى حتمى فيصلہ كرنے كى مجاز ہے-پارليمنٹ سے اس موضوع پر رائے دہى كروانے كا مقصد غالباً يہ ہے كہ يہى ايسا فورم ہے جہاں ملكى و قومى مفاد سے بالاتر ہو كر صرف سياسى گروپ بندى كى بنا پر قومى فيصلے كيے جاتے ہيں- اور مشرف حكومت اس سے قبل بهى اپنے متعدد فيصلوں كو اسى پليٹ فارم سے نافذ كرانے ميں كامياب رہى ہے-