• اپریل
1999
عبدالرحمن عزیز
عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی ملتِ اسلامیہ کی اہم عبادت اور شعار ہے۔ قربانی کے جانور کی عمر کے بارے میں حدیث نبوی ہے کہ "تم مسنة جانور ہی ذبح کیا کرو، اگر یہ ملنا مشکل ہو جائے تو بامر مجبوری بھیڑ کا جذعة بھی ذبح کیا جا سکتا ہے" (صحیح مسلم) مسنة عربی زبان میں سال بھر یا اس سے زیادہ عمر کی بکری کے لئے بولا جاتا ہے۔ جبکہ جذعة کا اطلاق چھ ماہ سے سال تک کی عمر کی بکری، بھیڑ کے لئے کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ مختلف جانوروں کی عمر کے اعتبار سے اس اصطلاح کا اطلاق ان پر مختلف انداز سے ہوتا ہے چنانچہ مسنة بکری کے لئے ایک سال یا اس سے زیادہ، گائے کے لئے دو سال یا اس سے زیادہ، اونٹ کے لئے 5 سال یا اِس سے زیادہ پر بولا جاتا ہے چنانچہ علماء نے مسنة سے اونٹ، گائے اور بھیڑ، بکری سے ہر ایک کا دو دانتا جانور مراد لیا ہے
  • مارچ
  • مئی
1988
غازی عزیر
ایک عزیز دوست لکھتے ہیں:

"اقامت کے جواب میں "اقامه الله وادامها" کہنا کیا صحیح احادیث سے ثابت ہے؟ ۔۔۔ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر اہل حدیث حضرات اس پر عامل ہیں لیکن حال ہی میں ایک اہل حدیث عالم سے گفتگو کے دوران یہ سنا کہ یہ کہنا صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ کیا آپ برائے مہربانی اس مسئلہ پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے؟۔۔جزاکم اللہ، والسلام"
  • دسمبر
2013
شیخ صالح المنجد
سوال: نمازِ حاجت بارہ ركعت پڑھى جاتى ہے اور ہر دو ركعت كے درمیان تشہد اور آخرى تشہد میں اللّٰہ كى حمد و ثنا اور نبى پر درود پڑھ كر پھر سجدہ كرتے ہیں۔ سجدہ میں سات بار سورۃ الفاتحہ اور سات بار آیۃ الكرسى اور دس بار لا إله إلا الله وحده لا شریك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدیر پڑھ کرپھر یہ كہتے ہیں: اللهم إني أسألك بمعاقد العز من عرشك ومنتهٰى الرحمة من كتابك واسمك الأعظم وجدك الأعلى وكلماتك التامة... پھر ہم اپنى ضرورت طلب كرتے اور سجده سے اپنا سر اٹھا كر دائیں بائیں سلام پھیر دیتے ہیں۔
  • نومبر
2004
حسن مدنی
پاكستان ميں غيرت كے جرائم كا مسئلہ پانچ برس قبل اپريل ١٩٩٩ء ميں، قومى پريس ميں اُس وقت نماياں ہوا تها جب سمیعہ عمران نامى پشاور كى ايك عورت نے اپنے شوہر كى غير موجودگى ميں گهر سے فرار ہوكر عاصمہ جہانگير كے ادارہ دستك ميں پناہ لى تهى جس كے نتيجے ميں اس عورت كو ماں باپ كے ہمراہ موجود باڈى گارڈ نے گوليوں سے دستك كے د فتر ميں قتل كرديا تها-
  • جنوری
2000
غازی عزیر
ایک استفتاء میں سائل کہتا ہے کہ ''ان دنوں ہم ابلاغ عامہ کے تمام ذرائع کی نشریات میں بکثرت عیسی سال ۲۰۰۰؁ء کی تکمیل اور تیسرے ہزار سالہ عہد کی ابتداء کی تقریب کی مناسبت سے بہت سی باتیں اور کارروائیاں ملاحظہ کرتے ہیں۔ یہودیوں اور عیسائیوں وغیرہ میں سے کفار اس تقریب کی بہت خوشیاں منا رہے ہیں اور اس موقع کو امید کی کرن تصور کرتے ہیں۔
  • اپریل
2005
عمران ایوب لاہوری
اسلام پاكيزہ مذہب ہے اور پاكيزگى و صفائى ستھرائى كوہى پسند كرتا ہے-يہى وجہ ہے كہ كتاب و سنت ميں متعدد مقامات پر طہارت و پاكيزگى اختيار كرنے كى اہميت و فضيلت بيان كى گئى ہے- اس كے دلائل ميں سے چند آيات و احاديث حسب ِذيل ہيں:
وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ‌ ﴿٤﴾ وَٱلرُّ‌جْزَ فَٱهْجُرْ‌ ﴿٥...سورۃ المدثر
  ”اپنے كپڑے پاك ركهيں اور گندگى سے احتراز كريں-“
  • جنوری
2011
حامد میر
آسیہ بی بی کا تعلق ننکانہ صاحب کے نواحی علاقے اِٹانوالی سے ہے۔ پانچ بچوں کی ۴۵ سالہ ماں آسیہ بی بی کو مقامی سیشن عدالت سے توہین رسالت کے الزام میں موت کی سزا سنائی جاچکی ہے۔ آسیہ بی بی پر الزام ہے کہ اس نے گذشتہ سال کئی افراد کی موجودگی میں توہین رسالت کی، جس کے بعد اسے پولیس کے حوالے کیا گیا۔پولیس نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۲۹۵۔سی کے تحت اس کے خلاف مقدمہ درج کیا۔
  • اپریل
2005
حسن مدنی
بين الاقوامى اسلامى يونيورسٹى كے زير اہتمام كام كرنے والے علمى ادارے ’ادارہ تحقيقاتِ اسلامى‘ اسلام آباد نے چند ماہ قبل اجتماعى اجتہاد كے عمل كو متعارف كرانے كى غرض سے اہل علم كا ايك بين الاقوامى سيمينار منعقد كرنے كا فيصلہ كيا- 19سے 22/مارچ 2005ء تك يہ سيمينار فيصل مسجد سے ملحقہ كيمپس كے آڈيٹوريم ميں منعقد ہوا۔
  • اپریل
2005
حسن مدنی
اُمت ِمسلمہ ميں چند صدياں ايسى گزرى ہيں جب اجتہاد كا دروازہ بند كركے پچهلے فقہاء ومجتہدين كى آرا پر ہى عمل كرليناكافى سمجھا جاتا رہا، ليكن موجودہ دور ميں ترقى وايجادات نے جس تيزى سے انسانى زندگى ميں محير العقول تبديلياں برپا كى ہيں، اس كے بعد وہى علما جو پہلے اجتہاد كے دروازے كو بند كرنے كاموقف ركهتے تهے، اب اسے كهولنے كے لئے آمادہ نظر آتے ہيں۔
  • جنوری
1999
نصیراحمد اختر
اجتماعی ملکیت
اجتماعی ملکیت سے مراد یہ ہے کہ "مملوکہ سے حق انتفاع صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ تمام افراد اُمت کے لئے یہ حق انتفاع موجود ہے جس میں کوئی بھی ترجیح کا حق دار نہ ہے۔
جب کسی چیز سے امت کے اجتماعی مفادات وابستہ ہوں تو اسے کسی ایک فرد کی ملکیت میں نہیں دیا جا سکتا کہ بڑی بڑی نہریں، دریا، سڑکیں، پل اور آبادی کے اردگرد چراگاہیں اور بڑے بڑے پارک، فوجی ٹریننگ سنٹر وغیرہ ۔۔ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
" الفرات ودجلة لجميع المسلمين فهم فيهما شركاء" (1)
"فرات اور دجلہ تمام مسلمانوں کے لیے ہیں اور سب ان میں برابر کے حصہ دار ہیں"
ہاں اگر اجتماعی مفاد ختم ہو جائے تو حاکم وقت اُمت کے مفاد میں جو مناسب ہو، تصرف کر سکتا ہے مثلا ایک شارعِ عام تھی پھر دوسری شارعِ عام کے وجود سے اس کا مفاد ختم ہو گیا اور اب لوگ اسے استعمال نہیں کر رہے تو حاکم وقت اسے نیلام کر سکتا ہے اور وہ اس طرح انفرادی ملکیت کی طرف بھی منتقل ہو سکتی ہے۔
  • مارچ
1971
ادارہ
نیل الاوطار / ۴۹:۲ میں فتح الباری شرح البخاری سے نقل کیا ہے کہ:۔
''بعض حنفیہ نے اذانِ سحری کی یہ تاویل کی ہے کہ یہ (اذا سحری) حقیقی اذان نہ تھی جو الفاظ مقررہ سے متعارف ہے بلکہ وہ تذکیر اور منادی کرنا تھا کما یقع للناس الیوم (جیسا کہ آج کل مروج ہے۔)''
  • نومبر
  • دسمبر
1975
عزیز زبیدی
میت کے ناخن یامونچھیں اگر بڑھ گئی ہوں۔زوجین کاایک دوسرےکوغسل دینا

1۔ ایک لمبا بیمارمرجاتاہے ، اس کی حجامت بنانے والی ہوتی ہے ، یونہی دیکھاجائے تو اس کی شکل اور ڈراؤنی لگتی ہے، اگر اس کے لب وغیرہ درست کردیئے جائیں تو کیا جائز ہے؟
  • مئی
1976
عزیز زبیدی
ایک صاحب پوچھتے ہیں:

1۔ مسجد میں جب لوگ سنتیں یا نفل پڑھتے ہیں تو کیا کوئی شخص اونچی آواز میں ذکر یا تلاوت قرآن کرسکتا ہے؟

2۔ ایسا ذکر بتائیے جو آسان ہو ، ہر حال میں پڑھا جاسکے اور ثواب بہت ہو۔
  • اکتوبر
1976
عزیز زبیدی
سٹلائٹ ٹاؤن جھنگ سے انصاری صاحب لکھتے ہیں کہ:

جھنگ میں جماعت اہل حدیث کے ایک بزرگ نے یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ عام لوگوں میں جو یہ بات مشہو رہے کہ پہلے لوگ انبیاء کو قتل کردیتے تھے قطعی طور پر غلط ہے کیونکہ کوئی بھی نبی قتل نہیں ہوا ہے
  • جون
1978
عزیز زبیدی
زید ایک پیدائشی مجنونہ لڑکی سے اس کے والدین کی اجازت سے نکاح کر لیتا ہے نکاح کے بد بھی لڑکی کی حالت بدستور پہلے جیسی ہے۔ زید امامت کے فرائض بھی سر انجام دے رہا ہے۔

مقتدی معترض ہیں کہ امام کی بیوی مجنونہ ہے اور وہ ایسی حرکات کرتی ہے جو شرم و حیا سے خالی ہیں بلکہ مقتدی متنفر ہیں۔ کیا ان حالات میں زید کا نکاح جائز ہے؟
  • دسمبر
1978
عبدالقادر عارف حصاری
کیا حکم ہے شریعت محمدیہ کا دریں مسئلہ کہ اس عہد ضلالت میں بے نمازوں کی نہایت کثرت ہے۔بعض لوگ تو بالکل ہی نماز نہیں پڑھتے۔ پانچوں نمازوں کے بالکلیہ تارک ہیں او ربعض دس بیس دن پڑھ لیتے ہیں۔ پھر دس بیس دن چھوڑ دیتے ہیں۔ بعض صرف عید، جنازہ کی نماز پڑھ لیتے ہیں او رباقی صلوات خمسہ نہیں پڑھتے۔ بعض یہ اقرار کرتے ہیں کہ واقعی نماز فرض ہے اور نہ پڑھنا گناہ ہے اور بعض کہتے ہیں کہ نمازوں میں کیادھرا ہے۔ اللہ نکتہ نواز ہے اور وہ اپنی رحمت سے بخش دے گا۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1979
عزیز زبیدی
ضلع تھرپار کر سے ایک طالب علم لکھتے ہیں:

1۔ ہمارے ایک مولوی صاحب برسی کی دعوت میں شریک ہوئے ، وہاں سے کھانے کھایا، نیز کھانا اور مٹھائی قبر پر لے گئے جہاں قرآن خوانی کی گئی پھر وہ مٹھائی اور کھانا تقسیم کیا، میں نے کہا کہ یہ سنت کے خلاف ہے، بدعت ہے۔انہوں نے فرمایا کہ اس کے خلاف کوئی دلیل نہیں، اگر ہو تو پیش کرو، پھر مجھے مدرسہ سے نکال دیا۔
  • جولائی
  • اگست
1977
عزیز زبیدی
حدیث اور مولانا مودودی، تین جھوٹ، درود کے معنی

ایک صاحب لکھتے ہیں کہ:

طلوع اسلام کنوینشن منعقدہ اکتوبر 1976ء میں پرویز صاحب نے ایک مقالہ ''اسلام اور پاکستان کے خلاف گہری سازش'' کے عنوان سے پڑھا تھا۔ جو ارسال خدمت ہے۔ نام کے نیچے یہ عبارت درج ہے جو خاص طور پر کھٹکتی ہے:
  • جنوری
1988
سعید مجتبیٰ سعیدی
جناب محمد رفیع صاحب علی پور چٹھہ (ضلع گوجرانوالہ) سے لکھتے ہیں:

"محترمی مولانا صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

سائل برص کا مریض ہے۔ میں دیوبندی مکتبِ فکر کی ایک مسجد میں نماز پڑھتا تھا۔
  • ستمبر
1998
محمد اصغر اسد
(ایک جائز تجارتی سکیم )

اسلام دین رحمت ہے اس نے زندگی کے تمام شعبوں کے لیے ایسے اصول وضوابط مقرر کیے ہیں کہ اگر ان پر عمل کیے جائے تو مسلمان زندگی کی دوڑمیں کبھی بھی پیچھے نہیںرہ سکتے۔ تجارت زندگی کا اہم ترین اور بہت با عزت پیشہ ہے،
  • مارچ
1984
سیف الرحمن الفلاح
فقہ کے لغوی معنی مطلق فہم ہے لیکن شرعی اصطلاح میں اس سے مراد وہ فروعی علم ہے جو بعض شرعی احکام پر غور و خوض کرنے اور اس سے استدلال پکڑنے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ اسلامی فقہ سے مراد دین کا وہ علم ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غوروفکر کرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے اسلامی فقہ کی بنیادیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مسعود میں ہی رکھی گئی تھیں
  • جون
2013
حسن مدنی
صدر ایوب خاں کے دورِحکومت 1962ء میں قائم کی جانے والی 'اسلامی مشاورتی کونسل' کو ترقی دے کر 1973ء کے دستور میں 'اسلامی نظریاتی کونسل' کا نام دیا گیا اور کسی بھی قانون کی شرعی حیثیت جانچنے کے لئے اُس کو آئینی کردار سونپا گیا۔ستمبر 1977ء میں اس دستوری ادارے کے کردار کو مؤثر کرتے ہوئے،اس کے 20؍ ارکان مقرر کئے گئے اور ضروری قرار دیا گیا کہ اس کے کم ازکم چار ارکان ایسے ہوں گے
  • ستمبر
2001
عبداللہ بن محمد المعتاز
مادّیت کے اس دو رمیں انسان کے وجود پرمادّی حوالے سے بہت کچھ لکھا جارہا ہے لیکن 'انسان' پر روحانی پہلو سے توجہ نہیں دی جارہی، نہ اس ضمن میں وحی الٰہی سے فائدہ اُٹھایا جارہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان مادّی طور پر کسی حد تک مطمئن ہوجانے کے باوجود روحانی حوالے سے بہت کھوکھلا اور تشنہ ہے۔
  • دسمبر
1987
عبدالرحمن کیلانی
لادین معاشروں سے جو طریقے درآمد ہوتے ہیں ان کو بلا حیل و حجت "ترقی" کے نام پر اپنانے کے آزادانہ طرزِ عمل کی حوصلہ افزائی تو نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ دورِ حاضر میں مادہ پرستی کے فروغ نے ایمان و اخلاق کی اقدار کا دیوالیہ نکال دیا ہے۔ تاہم رب العالمین کی شریعت میں ہر نوع کی ایجادات اور تبدیلیوں کے لیے مکمل ہدایات موجود ہیں، جو اس کے کمال و دوام کا ثبوت بھی ہیں۔
  • مئی
  • جون
1978
عزیز زبیدی
ضلع ساہیوال سےمولانا سیف الرحمٰن بی اے لکھتے ہیں:

1۔ نابینا والی حدیث میں: واتوجہ الیک بنبیک محمد نبی الرحمۃ یا محمد انی اتوجہ بک الی ربی فی حاجتی ھذہ لتقضی لی اللھم شفعہ فی(ترمذی وغیرہ)

اس سے غیر اللہ سے توسل ، استغاثہ او رندائے غیب کا ثبوت ملتا ہے۔ صحیح کیا ہے؟