• جنوری
2002
عطاء اللہ صدیقی
یونانی فلسفی ارسطو نے کہا تھا کہ انسان 'سماجی حیوان' ہے جو سماج کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتا، اسے ہر صورت میں اپنے جیسے انسانوں سے ربط و تعلق استوار رکھنا پڑتا ہے۔ اہل مغرب کو ارسطو کایہ حکیمانہ قول اس قدر پسندآیا ہے کہ انہوں نے اس کی بنیادپر اپنا پورا فلسفہ حیات مرتب کرنے کی کوشش کی ہی۔ وہ اسے ایک'آفاقی حقیقت'کا درجہ دیتے ہیں۔
  • جنوری
2002
شیخ علی طنطاوی
اسلامی ممالک کی صورت حال عام طور پر یہ ہے کہ مغرب کی تقلید میں انہوں نے بھی تعلیم کے لیے مخلوط کالج اور یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے بنا لیے جن میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے پڑھتے اور رہتے سہتے ہیں- پارکوں میں وہ جس طرح ایک دوسرے کے ساتھ بیہودہ اور فحش حرکات کرتے ہیں، وہ یقیناً ایک مسلم معاشرے کے لیے باعث شرم اور نہایت قابل مذمت ہے۔
  • دسمبر
1983
رفیق حسین نیازی
4۔ جہاں تک چوتھےنقطہ نظر کاتعلق ہے تو یہ انتہائی خصوصی اہمیت کا حامل ہے اور ایک لحاظ سے اسے حکومتی نقطہ نظر سے گردانا جاسکتا ہے کیونکہ حکومت کے شرعی اداروں سے وابستہ ارکان اس کے سب سے بڑےمؤید ہیں۔ ان کے نزدیک اصل کام معاشرہ میں قوانین شرعیہ کی عملداری کا ہے، اس لیے موجودہ دور کے تقاضوں سے کماحقہ عہدہ برآ ہونے اور ترقی پذیر دنیا کے ساتھ قدم بہ قدم چلنے کے لیے کسی حد تک ناگزیر ہے کہ
  • نومبر
1983
رفیق حسین نیازی
وطن عزیز میں شریعت کی عملداری میں جو رکاوٹیں آج درپیش ہیں، ان سے کچھ کا تعلق تو براہ راست حکومت سے ہے۔لیکن اصل رکاوٹ جو ایک بہت بڑے بند کی طرح اس کا راستہ روکے ہوئے ہے وہ مختلف مکاتب فکر کے درمیان پائے جانے والے متنوع فقہی اختلافات ہیں۔ جب کہ چند فرقوں کا اس ضمن میں روّیہ بھی متشددانہ ہے۔ حکومت یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ یہ وہ مسئلہ ہے جس کا حل علم دین کے دعویداروں اور
  • جنوری
2004
اظہر امرتسری
اسلام اور کفر کی کشمکش صدیوں سے چلی آرہی ہے ۔مسیحی یورپ اس دشمنی میں سب سے پیش پیش ہے۔ اس نے اسلام کے خلاف طرح طرح کے منصوبے بنائے، ہر طرح کے حربے استعمال کئے، حتیٰ کہ اپنی معصوم بیٹیوں کو گناہ کی تربیت دی اور ان کی عصمتیں دائو پر لگائیں ۔ زروجواہرات، شراب اور دلکش لڑکیوں کے ذریعے مسلمان قوم میں غداری کا بیج بویا، خانہ جنگی کرائی اور پھر صلیبی فوجیں طوفان کی طرح پھیل گئیں ۔
  • ستمبر
1998
صلاح الدین یوسف
عالم اسلام کےلئے چیلنج اور لمحہ فکریہ

20اور21اگست کی درمیانی رات کو امریکہ نے افغانستان کےمتعددمقامات پر اور سوڈان کی ایک دواساز فیکٹری پر بمباری کرکے جس بربریت بہمیت اور دہشت گردی کابدترین مظاہر ہ کیا ہے وہ عالم اسلام کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہونا چاہئے ۔امریکہ نے اس درندگی کامظاہر کرکے
  • جنوری
1988
اکرام اللہ ساجد
اپنے افغان بھائیوں کی مدد کرنا مسلمانانِ عالم کی ضرورت بھی ہے اور دینی فریضہ بھی۔

قازان، استرخان، زرقشان، آذربائیجان، سائبریا، کریمیا، قفقاز، خوقند، قوقند، اور سمرقند و بخارا وغیرہ میں ظلم و بربریت کے وحشیانہ مظاہروں کے بعد اب سرخ شیطان افغانستان میں ننگا ناچ رہا ہے۔۔۔27 دسمبر سئہ 1979ء کو روسی فوجوں نے افغانستان میں اپنے ناپاک قدم رکھے
  • جولائی
1996
غزل کاشمیری
غیر مسلم اقوام میں انسانی حقوق کی مختصر تاریخ:۔
کہا جاتا ہے کہ انسانی حقوق کا تحفظ سب سے پہلے بایل کے بادشاہ حمورابی 2130ھ تا2088ق م) کے کوڈ آف لاء میں ملتا ہے۔یہ صرف دعویٰ ہے کہ کیونکہ جس قانون کی زبان صفحہ ہستی سے نابود ہوچکی ہو۔اور جس کے خالق کے حالات زندگی کا کچھ پتہ نہ ہو اس کے بارے میں یہ کیسے یقین کیا جاسکتا ہے کہ وہ حقوق انسانی کا پہلا علمبردار تھا۔خود اس کوڈ آف لاء کے بعض حصے اتنے ظالمانہ اور وحشیانہ ہیں کہ ان سے بنیادی حقوق کے تصور کو شدید دھچکا لگتا ہے۔
اس طرح رومی سلطنت کے کچھ قوانین ملتے ہیں۔جس کی رو سے ان حقوق سے صرف  رومی شہری ہی مستفید ہوسکتے تھے،غیر رومی بہر اندوز نہیں ہوسکتے تھے بعد میں انہی رومی قوانین کو یورپی اقوام نے اپنایا۔(1) چنانچہ اٹھارویں صدی کے آخر عشروں  میں انہیں فرانس میں"Droito Del Homme " کے نام سے مدون کیا گیا۔اسی صدی میں برطانیہ میں چند مبہم اور غیر واضح قوانین کا نشان ملتا ہے۔انیسویں صدی میں امریکہ نےانہی قوانین کو اپنے دستور میں شامل کیا :بیسوی صدی کو انہی قوانین کو افریقہ اور ایشیا کے ممالک نے اختیار کیا،وہ بھی صدیوں کی انسانی جدوجہد اور کئی خونی انقلابات کے بعد۔ان قوانین میں زیادہ  تر شادی،خاندان،عدل ،تکریم انسانیت اور کچھ سیاسی وشخصی قوانین شامل تھے۔1917ء میں روسی دستور میں انسانی حقوق کو شامل کیا گیا مگر وہ زیادہ تر مزدورطبقہ کے معاشی وسیاسی حقوق کی یکطرفہ آواز تھی۔
  • مئی
2012
عاطف بیگ

1۔ 21ستمبر2001ء:... وائس آف امریکہ VOA کی ریڈیو پشتو سروس کا نمائندہ بذریعہ سٹیلائیٹ فون ملا عمر سے پوچھتا ہے:
VOA: آپ اسامہ بن لادن کو نکال کیوں نہیں دیتے؟
ملّا عمر: اسامہ بن لادن کا مسئلہ نہیں ہے،مسئلہ' اسلام' کاہے۔ اسلام کی شان و شوکت کا سوال ہے اور افغانوں کی روایت کا۔

  • دسمبر
2007
حسن مدنی
انسانی تاریخ کا یہ دور مغرب (یورپ اور امریکہ) کی برتری، تحکم، تسلط اور حکومت و اِقتدار سے عبارت ہے۔ یہ امر ایک مسلمہ حقیقت ہے اور مستقبل کا مؤرخ جب بھی موجودہ دور کی تاریخ لکھے گا تو وہ بھی یہی رائے دینے پر مجبور ہوگا۔ بالخصوص عالم اسلام بڑی شدت سے اسی صورتحال کا سامنا کررہا ہے۔
  • مئی
2009
محمد زبیر
۱۹۲۳ء میں سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کی صورت میں خلافتِ اسلامیہ کا ادارہ ختم ہو گیا۔ ملحد و سیکولر ترک رہنما مصطفیٰ کمال پاشا نے اپنی ایک تقریر کے دوران آسمان کی طرف اپنا مکا لہراتے ہوئے خدا کو دکھایا او مسلمانوں میں پہلی دفعہ خدا کے تصور کو ریاست سے جدا کرنے کی بدعت کا آغاز فرمایا۔
  • مئی
2005
عبد الرحمن مدنی
گذشتہ شمارے ميں بعض اُصولى تصورات كے نكهاركے بعد اس موضوع كے نماياں پہلووں كو چند سوالات (تنقیحات) كى صورت ميں ہم پيش كرتے ہيں جن پرمستقل بحث آگے آرہى ہے :
1. پارلیمانى اجتہاد سے مقصودپہلى مدوّن فقہوں پر كسى نئى تدوين كا اضافہ ہے يا كسى نئى فقہ كو قانونى حيثيت دے كر لوگوں كو اس كا پابند بنانا؟ جسے عربى ميں تقنين كہتے ہيں-
  • مارچ
2002
صلاح الدین یوسف
پہلے حصے یا سوال کا جواب بالکل واضح ہے کہ اس وقت مسلمانانِ عالم کا کوئی عالمی کردار نہیں ہے۔ یعنی کہنے کو تو مسلمانوں کی ۶۰ مملکتیں ہیں اور ان میں اور دیگر ملکوں میں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد بھی ایک اَرب سے متجاوز ہے۔ علاوہ ازیں مسلمان افرادی قوت اور متعدد قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہیں، ان کا جغرافیائی محل وقوع بھی نہایت اہمیت کا حامل اور تقریباً باہم پیوست ہے
  • جنوری
1987
عبدالرحمن مدنی
اس بل کو منظوری کے نفاد شریعت ایک مجریہ 1986ء کہا جائے گا۔○............ یہ سارے پاکستان پر فی الفور لاگو ہوگا۔شریعت بل کی تعریف: شریعت سے مراد اسلام کے وہ تمام اصول ہیں جیسا کہ قرآن وسنت میں درج ہیں۔شریعت کی بالادستی: کسی عدالت کے سامنے کسی معاملے کی سماعت کے دوران کوئی بھی فریق یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ قانون یا قانون کی کوئی شق، جس کا سماعت سے تعلق ہے، شریعت کے منافی ہے اس
  • اپریل
1986
اکرام اللہ ساجد
16۔اکتوبر 1985ء کو یہ قرار داد قومی اسمبلی نے اپنے اجلاس میں حکومتی پارٹی اور آزاد گروپ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت متفقہ طور پر منظور کی۔(1)  قومی اسمبلی متفقہ طور پر یہ قرار داد منظور کرتی ہے کہ اس کے آئندہ اجلاس میں ایک نئے دستوری ترمیمی بل کے ذریعے درج ذیل دستوری ترامیم کی جائیں۔(الف) : آرٹیکل نمبر 2 میں ''اسلام پاکستان کا سرکاری مذہب ہے'' کے بعد اضافہ کیا جائے کہ ''قرآن و سنت
  • اکتوبر
2014
زاہد الراشدی
اسلام آبادکے دھرنوں کے اثرات پاکستان اور اس خطے پر کیا مرتب ہوتے ہیں، یہ جاننے کے لیے ابھی مزید انتظار کرنا ہو گا، لیکن یمن کے دار الحکومت صنعا کے گرد حوثی قبائل کا ایک ماہ سے زیادہ جاری رہنے والا دھرنا کامیاب ہو گیا ہے اور 17؍اگست سے شروع ہونے والے دھرنے کو 21؍ستمبرکے روز اقوامِ متحدہ کے ایلچی جمال بن عمر کی نگرانی میں ہونے والے اس معاہدے نے تکمیل تک پہنچا دیا ہے کہ حکومت مستعفی ہو جائے گی اور اس کی جگہ ٹیکنوکریٹ حکومت قائم ہوگی۔
  • اکتوبر
  • نومبر
2002
کوکب نورانی
دہشت گردی کسے کہتے ہیں؟ کیا دین اسلام میں اس کا کوئی تصور ہے...؟
جنوبی افریقہ کے رِچ اَم کُھن ڈو، نیویارک ٹائمز کے سرج شِمے مان، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا راروائن کے مارک لیوائن، معروف صحافی رے بکا سکاروف اور مارک ڈیری، افسانہ نگار رچرڈ فورڈ، کوئنز کالج اور گریجویٹ سینٹر کولم، بیایونیورسٹی کے پروفیسر جان جیریسی،
  • اپریل
2009
شیخ مزمل احسن
پرویز جب مشرف بہ حکم رانی ہوا کہ فضا سے زندہ اترا تھا تو بالکل حق کے اُس ضیاء کے برعکس جو فضا میں راہیٔ ملک بقا ہوا تھا، پاکستان کو روشن خیال بنانے کے لیے ہم پیالہ و نوالہ و خیالوں کواکٹھا کیا تو انہوں نے بے حیاؤں کی دوڑیں لگوا دیں یہ کہہ کر حیا والے آنکھیں اور گھروں کے در بند کرلیں یا بے حیاؤں کے ساتھ مل کر حکم رانوں کو راضی کرلیں ۔ چاہے عرش عظیم کا رب مالک الملک ناراض ہوجائے۔
  • مئی
2011
اقبال کیلانی
مارچ 2011ء کے ماہنامہ 'محدث' لاہور، شمارہ نمبر 345 میں ''عہد ِرسالت اور سائنس وٹیکنالوجی'' کے عنوان سے شائع ہونے والا مقالہ ایسے ہی دل درد مند کی ایک پکار ہے جس میں مقالہ نگار محترم ڈاکٹر نعمان ندوی نے قرآنی آیات اور سیرتِ طیبہ کے حوالہ سے یہ ثابت کیا ہے کہ موجودہ زوالِ اُمت ہمارے ضعفِ ایمان کا نتیجہ ہے۔
  • اگست
2007
حسن مدنی
لال مسجد میں ہونے والی ظلم وبربریت پر پوری قوم یک آواز ہے۔ ایسے سنگین واقعات برسوں کیا، صدیوں میں رونما ہوتے ہیں۔ اس سانحہ پر تبصرے تجزیے اور تاثرات لکھنے والوں سے اخبارات ورسائل بھرے پڑے ہیں۔ ہرکوئی اس ملی المیہ کو اپنے انداز سے بیان کررہا ہے۔ جامعہ حفصہ کو دہشت وہلاکت کی یادگار بنانے والوں کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان کی یہ سازش لال مسجد کو حیاتِ دوام عطا کردے گی۔
  • اگست
2007
ادارہ
مولانا محمد عبداللہ مرحوم اپنے چھوٹے صاحب زادے عبدالرشید غازی سے اکثر شاکی رہتے تھے۔ مولانا صاحب مرکزی رؤیت ِہلال کمیٹی کے سربراہ تھے اور ملک بھر کے علما میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اُنہوں نے اپنے دونوں بیٹوں عبدالعزیز اور عبدالرشید کو بھی عالم دین بنانے کا فیصلہ کیا۔
  • جنوری
1993
محمد اسحاق
سعودی عرب کا دستور جدیث مارچ 1992ء سے مملکت میں نافذ العمل ہے۔ ہر چند کہ اخبارات و جرائد میں اس کا بے حد چرچا رہا لیکن اکثریت اس کی بنیادی خاکہ سے بھی ناواقف ہے۔ چند ایک ترجمے بھی شائع ہوئے لیکن وہ مترجمین کے مخصوص نظریات کے بھینٹ چڑھ گئے۔ دستور تاحال اپنی اصلی روح کے ساتھ منظر عام پر نہیں آیا۔ اسی ضرورت کے مدنظر ادارہ ہذا نے اس کے ترجمے کا اہتمام کیاہے تاکہ نہ صرف اسلامک لاء سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بلکہ قارئین محدث کے لئے بھی 
  • دسمبر
2001
عطاء اللہ صدیقی
ایک فرد کی مزاحمت مہلک امراض کے جراثیم کے خلاف ہو یا ایک قوم کی مزاحمت طاقتور قوم کے مہلک ہتھیاروں کے خلاف، اس کی بہرحال ایک حد ضرور ہوتی ہے۔ طالبان جس قدر بھی قوتِ ایمانی سے سرشار ہوں یا بقول ایک امریکی جرنیل کے جس قدر بھی 'سخت جان' ہوں، مگر جب ارضِ افغانستان کا چپہ چپہ کارپٹ بمباری سے اُدھیڑا جارہا ہو،
  • جون
2009
ادارہ
آج پاکستان خاک و خون میں نہا رہا ہے۔ ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہمارادشمن کون ہے۔ جب تک یہ تعین نہیں کرتے۔ ہم حالات کاصحیح جائزہ نہ لے سکیں گے۔ مندرجہ ذیل حقائق کو مدنظر رکھیں : جب سوات آپریشن شروع ہوا۔ ہمارے صدر امریکہ میں تھے۔اس کے بعد برطانیہ کے گورڈن براؤن کے ساتھ معانقے ہورہے تھے۔فرانس کے صدر کے ساتھ دوستیاں بڑھائی جارہی تھیں ۔
  • جون
2009
عامر لیاقت حسین
مدیر اعلیٰ 'محدث' حافظ عبدالرحمن مدنی حفظہ اللہ ایک اہم ملی مشن کی تکمیل کے لئے مئی ۲۰۰۹ء کے وسط میں عرب امارات کے دورے پر تھے۔ شارجہ میں 'جیو نیوز' کے مشہور پروگرام 'عالم آن لائن' میں اُنہیں سوات کی صورتحال پر تبادلہ خیال کی دعوت دی گئی۔ ملکی سطح پر اس انٹرویو کو خو ب سراہا گیا اور کئی بار نشر کیا گیا،