• جولائی
2004
عاصم عبداللہ قریوتی
2. شریعت ِاسلامیہ میں مزاح کا حکم
مزاح سے مراد کسی سے شغل کرنا ہے۔ اس سے اس کا دل دکھانا یا ایذا دینا مقصود نہ ہو بلکہ دل خوش کرنا اور محبت کا اظہار ہو۔ اس مفہوم کی روشنی میں مزاح اور استہزا میں فرق ہے۔
  • دسمبر
2006
محمد رمضان سلفی
حنفیہ کے ہاں طلاق کی اقسام : ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین قرار دینے والوں کے دلائل کا جائزہ لینے سے قبل حنفی مذہب میں طلاق کی اقسام کو سمجھ لینا مناسب ہے، تاکہ آنے والے دلائل کی مراد سمجھنے میں آسانی رہے۔ حنفیہ کے ہاں طلاق کی تین اقسام ہیں :(1) احسن (2) حسن (3) بدعی
  • اگست
2005
محمد حماد لکھوی
محدث كے گذشتہ شمارے ميں 'فیملى پلاننگ سے مغربى مفادات' كے موضوع پر ايك مضمون شائع كيا گيا تها، اسى مضمون ميں پيش كردہ بعض نكات كى مزيد تصديق وتكميل كيلئے حسب ِذيل مقالہ خصوصى اہميت ركهتا ہے- اس مقالہ ميں مغربى مفكرين كے خيالات كى روشنى ميں ترقى اور نشو ونما كے باب ميں آبادى كے مثبت كرداركا جائزہ پيش كيا گيا ہے۔
  • جولائی
2005
حسن مدنی
يورپ ميں نكاح كے بغير جنسى تعلقات معمول كى بات ہے- نسب كے تحفظ كے ذرائع اختيار نہ كرنے كى بنا پر اُنہوں نے نسب كے تعين كے لئے طبعى ذرائع پرانحصار كرركها ہے، جس ميں جديد سائنسى طريقہDNA بڑا كارآمد ثابت ہوا ہے- وہاں جنسى بے راہ روى اس حد تك ہے كہ كوئى انسان يقين سے اپنے باپ كى نشاندہى نہيں كرسكتا، يہى وجہ ہے كہ اب باپ كے بجائے ماں كے نام كو زيادہ اہميت حاصل ہوتى جارہى ہے-
  • اکتوبر
  • نومبر
1978
برق التوحیدی
قاضی بشیر احمد صاحب اسلام کے قانون سرقہ پر بحث ختم کرچکے ہیں اور قسط نمبر 7 سے انہوں نے فصل دوم یعنی قتل کے احکام کا ذکر شروع کیا ہے۔ بحث کے سیاق و سباق کو دیکھنےسے اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف فقہ حنفی کی روشنی میں عصمت مال کی طرح عصمت دم کو بھی اورؤالمحدود بالشبہات کی نذر فرما رہے ہیں۔ ہمارے کہے بغیر انشاء اللہ قارئین خود محسوس فرمائیں گے کہ سابقہ روایات کے مطابق اسلامی جذبات و احساسات سے صرف نظر کرتے ہوئے موصوف نے عصمت دم کو فقہ حنفی کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کی ہے
  • اکتوبر
1996
عبدالرحمن مدنی
نکاح جو ایک خاندان کو تشکیل دیتا ہے، انبیاء کی سنت ہے جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی اہمیت دی کہ نکاح سے بے رغبتی کو اپنی ملت سے خروج قرار دیا۔ قرآن کریم میں اسلام کے عائلی نظام کے اصولی مباحث کے ساتھ ساتھ احادیث مبارکہ میں اس کی سیر حاصل تفصیلات موجود ہیں۔ خود تعامل امت بھی اس مقدس "رسم" کو تحفظ دئیے ہوئے ہے۔ مغربی سامراج کی اس قلعہ پر بیرونی یلغار کے علاوہ اندرون مشرق بھی اس کے ایجنٹ طرح طرح سے اسلامی تہذیب و ثقافت کی دیواروں میں شگاف ڈالنے کے لئے کوشاں ہیں جس کا ایک حربہ خاندانوں میں منظم شادیوں کے بجائے معاشقے لڑا کر شریف گھرانوں کی بچیوں کی عصمت دری ہے۔ پھر بعض سادہ لوح لوگوں کو "دعوت کی نام نہاد آزادی" کے نعرہ سے ہمنوا بنانے کے لئے فقہائے امت میں اختلافات کا شوشہ بھی چھوڑا جاتا ہے حالانکہ کوئی دانا بینا مسلمان مفرور کی شادی کی حمایت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اسی عرف شرعی کے پیش نظر سطور ذیل میں اسلام کے عائلی نظام کو درپیش خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس نظام کے جزوی مسائل کے لئے کتب احادیث کے متعلقہ ابواب ہمارا سرمایہ افتخار ہیں۔ (مدیر)
  • جولائی
2005
قاضی کاشف نیاز
برطانيہ ميں آج زيادہ تر عورتيں وہ ہيں جو 40 سال كے بعدبچہ پيدا كرتى ہيں اور ان ميں شرح پيدائش نوجوان عورتوں سے بهى زيادہ ہے كيونكہ نوجوان عورتيں تو بچہ چاہتى ہى نہيں- BBC كے مطابق 40 سال كى زچہ عورتوں كى تعداد ميں گزشتہ دس سال ميں دگنا اضافہ ہوگيا ہے-شمالى آئرلينڈ والے بهى پريشان ہيں كہ ان كى آبادى كى شرح كم ترين سطح تك پہنچ گئى ہے۔
  • اکتوبر
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
میاں محمد صدیق مغل قادری رضوی 9/11 دہلی کالونی کراچی نمبر 6 سے لکھتے ہیں:
"محترم و مکرم حضرت مولانا مفتی صاحب مدظلہ العالی۔۔۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عرض یہ ہے کہ اکثر جگہ یہ رسم ہے کہ جب کسی کی وفات ہو جاتی ہے تو ابھی میت کو اول منزل بھی نہیں کیا جاتا کہ اہل میت کو کھانا وغیرہ پکوانے کی فکر اور میت کے اعزہ و اقارب و احباب کی عورتوں کے لیے پان چھالیہ وغیرہ کی فکر ہو جاتی ہے۔ اور بعد اول منزل کے قبرستان میں ہی اعلان دعوت کر دیا جاتا ہے کہ تمام شامل حضرات ٹکڑا توڑ کر جائیں۔ اس طرح پہلے ہی دن جبکہ اہل میت رنج و الم میں مبتلا ہوتے ہیں، انہیں اس طرح یہ اہتمام کرنا پڑتا ہے جیسے خوشی کے موقع پر کیا جاتا ہے۔ پھر اسی طرح تیسرے دن پھر آٹھویں دن۔ اس طرح یہ سلسلہ چالیس دن تک چلتا رہتا ہے۔ بعد چالیس دن کے "چالیسویں" کے نام سے ایک دعوت اس طرح ہوتی ہے کہ اس میں پرتکلف کھانے، چائے، سگریٹ، پان چھالیہ کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں شادی کی کوئی تقریب ہے۔
محترم آپ یہ فرمائیے کہ اہل میت کی طرف سے کھانے کی دعوت کرنا کیا شرعا جائز ہے، جبکہ اہل میت اس دعوت سے ذہنی اور مالی طور پر کافی پریشان اور زیر، بار ہوتے ہیں، وہ بھی مجبورا اس رسم کو نبھانے کے لیے قرض لیتے ہیں اور بعد میں قرض اتارنے کے لیے گھر کا سامان تک فروخت کرنا پڑتا ہے اور اس طرح مفلسی مستقل طور پر ان کے ہاں اپنا ڈیرہ ڈال لیتی ہے۔ اگر ان کو منع کیا جائے تو وہ جوابا کہتے ہیں کہ تم یہ چاہتے ہو کہ برادری میں ہماری ناک کٹ جائے اور تمام عمر ہم اپنے رشتہ داروں کے طعنے سنیں۔
  • اگست
2000
ادارہ
قرآن مجید میں ارشاد بار تعالیٰ ہے:"ہم نے انسان کو بہترین خلقت (فطرت) پر پیدا کیا ہے۔"(سورۃتین)۔۔۔قرآنی تصور کے مطابق انسانی فطرت کا خمیر نیکی سے اٹھاہے۔انسانی اعمال میں کجی اور برائی کا ظہور دراصل سماجی عوامل اور معاشرتی تربیت کا نتیجہ ہے جناب رسالت مآب  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہےَ"ہر بچہ اپنی فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے نصرانی یا یہودی بنادیتے ہیں "بچے اپنی معصومیت کے اعتبار سے انسانی فطرت کی اصلیت کی صحیح عکاسی کرتے ہیں بچے بے حد معصوم پیارے اور اپنے والدین کی آنکھوں کا نور ہوتے ہیں ان کے اندر مچلتی تمناؤں اور امنگوں کا ایک خزینہ پوشیدہ ہوتا ہے ان کی سادگی اور معصومیت کائنات کے حسن کا پرتو ہے۔انسانی بچے اپنی نشو ونما کے مراحل میں والدین اور عزیز و اقارب کی بے پایا ں شفقت ،محبت اور توجہ کے جس قدر متقاضی ہوتے ہیں کسی اور مخلوق کے بچوں کو شاید اتنی نگہداشت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔بچوں کے اندر اس جسمانی کمزوری کی حکمت شاید یہ ہے کہاوائل عمر ہی میں بچے اور والدین کے مابین تعلق کے گہرے رشتوں کی بنیاد رکھ دی جائے۔ یہ ایک فطری امرہے کہ انسان جس چیز متواتر اپنی الفتیں نچھاور کرتا ہے اور اس کا خیال رکھتا ہے اس کے دل میں اس کے متعلق شدید محبت اور انس کے جذبات موجزن ہوجاتے ہیں ۔پیدائش سے لے کر رضاعت اور پھر بچپن میں انحصاریت کا طویل دورانیہ بچوں کے بارے میں والدین کے دلوں محبت اور وارفتگی کے سچے جذبات کو پیدا کرنے کاباعث بنتا ہے۔
  • اپریل
1992
عبدالرحمن کیلانی
قاری عبدالحفیظ صاحب ریسرچ اسسٹنٹ ادارہ"منہاج" کے تعاقب کے جواب میں
سہہ ماہی مجلہ "منہاج" اشاعت اپریل 1987ء میں میرا ایک مضمون بعنوان "خلفائے راشدین کی شرعی تبدیلیاں"شائع ہوا تھا۔اس مضمون میں میں  نے پرویز صاحب اور جعفر صاحب پھلواروی کے اس اعتراض کا جواب پیش کیا تھا۔"خلفائے راشدین  رضوان اللہ عنھم اجمعین  بالعموم اور حضرت عمر فاروق بالخصوص اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تبدیلیاں کرتے رہے ہیں۔"پھر ان حضرات نے نتیجہ یہ پیش فرمایا تھا کہ:۔
"اگر خلفائے راشدین اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق پچیس تیس سنت ہائے رسول میں تبدیلیاں کرسکتے ہیں تو آخر ہم اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق ایسی تبدیلیاں کیوں نہیں کرسکتے۔"
  • اپریل
1985
شبیر احمد نورانی
کتا ب و سنت کی روشنی میں          احکام عقیقہ:
8۔ہر مسلمان کو حتیٰ الوسع اپنی اولاد(مذکریا  مؤنث)کا  عقیقہ کرنا چایئے ۔کیونکہ حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ )روایت کرتے ہیں :کہ" میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا ۔آپﷺ فرماتے تھے لڑکے کا عقیقہ ہے اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس سے تکلیف کو دور کر دو!"
9۔عقیقہ کرنا واجب یا فرض نہیں بلکہ سنت ہے کیو نکہ آپﷺ نے خود حضرت حسن  و حضرت حسین   کا عقیقہ  کی چنانچہ حضرت برید  ﷜ روایت کرتے ہیں :کہ"رسول اللہ ﷺ نے حضرات حسن وحسین  ﷢ کا عقیقہ کیا !"
اسی طرح آپﷺ نے دوسروں کو عقیقے کا حکم دیا ۔ چنانچہ حضرت عائشہ ؓ  سے روایت ہے "کہ"رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ لڑکے کی طرف سے دو ایک جیسی بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کر کے عقیقہ کریں ۔اور دوسروں کو رغبت دلانے کے ساتھ آپ ﷺ نے ایسا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار بھی دیا ۔لہٰذا عقیقہ کو فرض یا واجب کہنا دلا ئل کی روشنی میں ثابت نہیں ہو تا جیسا کہ مندرجہ احادیث سے ثابت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر ما یا :
کہ" جس کے ہاں بچہ پیدا ہو پس وہ اپنے بچے کا عقیقہ کرنا چا ہے تو کرے۔"
  • مارچ
1985
شبیر احمد نورانی
اولاد کی پرورش کرنا:
1۔نیک اولاد انسان کے لئے دنیا میں سکون وامن کا باعث ہے۔لہذا اللہ تعالیٰ سے انتہائی عجز وانکسار کے ساتھ نیک اولاد کی دعا کرنی چاہیے!
ارشاد ربانی ہے:
﴿فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّـهُ لَكُمْ﴾
"اب تم اپنی بیویوں سے شب باشی کیا کرو،اور اللہ تعالیٰ نے جو  تمہارے لکھ دیا ہے اسے تلاش کرو"
حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بیان فرماتے ہیں کہ:"(ما كتب الله ) سے مراد اولاد ہے"[1]اسی لئے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ اولاد کی  صلاحیت والی عورتوں سےنکاح کا حکم دیا ہے
  • نومبر
2006
محمد رمضان سلفی
طلاق دینا پسندیدہ فعل نہیں ہے۔ اسلام نے انتہائی کٹھن حالات میں طلاق کی اجازت دی ہے جبکہ صلح اور باہمی اتفاق کی کوئی صورت باقی نہ رہ جائے۔ معمولی بات پر طلاق، طلاق کہہ دینا با عزت اور باوقار لوگوں کا شیوہ نہیں ہے۔ میاں، بیوی میں جدائی اور تفریق ہی وہ جرم ہے جو کہ شیطان کو باقی تمام جرائم سے بڑھ کر پسند ہے۔
  • جولائی
2012
امین اللہ پشاوری
جامعہ لاہور اسلامیہ کی جوہر ٹاؤن، لاہور میں واقع برانچ البیت العتیق میں مؤرخہ 2؍جون 2012ء کو مشکوٰۃ المصابیح کے اختتام کے مبارک موقع پرمشکوٰۃ کی آخری حدیث پر درس کے لئے پشاور کے نامور عالم اور مفتی مولانا امین اللہ ﷾ کودعوت دی گئی۔مولانا موصوف نے اپنے درسِ حدیث میں اس فرمان نبویؐ کے حوالے سے وقیع اور اہم نکات بیان فرمائے۔
  • اکتوبر
1994
محمود الرحمن فیصل
(((سیکولرزم انسانی زندگی کو چھ حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔
1۔افکارونظریات۔2۔پوجا پاٹ۔3۔رسوم ورواج۔4۔معاشرت۔5۔معیشت۔6۔سیاست
پہلے تین حصوں میں وہ مذہبی آزادی کا قائل ہے۔جبکہ بقیہ تین حصوں:معاشرت ،معیشت،اور سیاست میں وہ انسانیت کے نام پر سختی سے الہامی ہدایات کو مسترد کرنے پر زور دیتا ہے۔اس وقت عالمی سطح پر اسلام اورسیکولر ازم کی فکری کشمکش چل رہی ہے،چونکہ زیادہ تر  رسوم ورواج کا  تعلق خاندان سے ہے۔ جو معاشرت کی بنیادہے۔ لہذا یہ مرحلہ سیکولرازم اور اسلام کے درمیان پل بن گیا ہے۔جس نے یہ پل پار کرلیا وہ جنگ جیت گیا۔خاندانی منصوبہ بندی کا مسئلہ درحقیقت زیادہ تر فقہی نہیں ہے بلکہ عائلی تصورات کے نام پر اسلامی عقائد پر حملہ ہے۔
  • نومبر
2004
ثریا بتول علوی
علم نور ہے اورجہالت گمراہی !

انسانی معاشرہ کی تعمیر و ترقی کے لئے تعلیم و تربیت، علم و آگہی اور شعور بنیادی اہمیت کے حامل ہیں، دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ طبقہ نسواں معاشرے کا نصف حصہ ہیں۔ لہٰذا اس طبقہ نسواں کی تعلیم و تربیت معاشرے کی صلاح و فلاح کے لئے از بس ضروری اور ناگزیر ہے۔
  • جون
2000
حافظ ثناء اللہ مدنی
سوال۔میری شادی ام کلثوم سے 1971ء میں ہوئی جبکہ حق مہر صرف بتیس روپے مقرر ہوا۔گھریلو اختلافات کی وجہ سے میں نے 1986ء میں ایک طلاق دے دی تھی۔پھر کوئی طلاق نہ دی۔اس کے بطن سے ایک بچی بھی ہے۔چند  سال بعد 1990ء میں ،میں نے دوسری شادی کرلی۔تقریباً چھ سال بعد 1992ء میں ام کلثوم سے میں نے دوبارہ نکاح کرلیا۔آیا یہ شرعاً جائز تھا،کیا اس میں حلالہ کی ضرورت تھی یا نہیں؟(محمد گلزار،لاہور)
جواب۔اس شکل میں طلاق  رجعی کی صورت میں  علیحدگی ہوئی تھی جس کا مفہوم یہ ہے کہ عدت کے اندرشوہر رجوع کرسکتا ہے۔اور عدت گزرنے کی صورت میں د وبارہ نکاح بھی ہوسکتا ہے۔چنانچہ بالفعل دوبارہ ام کلثوم سے نکاح ہوگیا ہے جو درست فعل ہے۔اس امر کی واضح دلیل حضرت معقل بن یسار کی ہمشیرہ کا قصہ ہے۔اس کے شوہر نے طلاق دے کر دوبارہ عدت کے بعد نکاح کرنا چاہا تو معقل درمیان میں رکاوٹ بن گئے
  • جولائی
1990
عبدالرحمن مدنی
خطبہ مسنونہ:
اما بعد فاعوذ بالله من الشيطن الرجيم﴿ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّـهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّـهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿٢٧٥﴾...البقرة
"یعنی سود خور شیطانی جنون سے خبطی بن جا تے ہیں کیونکہ وہ بیع اور سود کو یکساں بتاتے ہیں ۔حالانکہ خریدو فروخت اللہ نے حلال کی ہے جبکہ سود کو حرام قرار دیا ہے پس جو شخص رب تعا لیٰ سے نصیحت ملنے پر باز آجا ئے تو اس کا سابقہ کیا کرایا معاف ہو کر معاملہ اللہ کے سپرد ہو گیا لیکن جو لوگ پھر بھی باز نہ آئیں تو وہ دائمی جہنمی ہیں ۔"
  • مئی
1987
غازی عزیر
شادی بیاہ کی تقریبات او راس کے خود ساختہ لوازم و رسوم نے دور حاضر میں جس بڑے پیمانے پر معاشرتی بُرائی کی صورت اختیار کرلی ہے، اس کا شدید احساس ہر صاحب نظر اور ملک و ملّت کے بیشتر دردمند حضرات کو ہے۔آپ کو اپنے ہی علاقہ میں متوسط طبقہ کے ایسے بے شمار گھر مل جائیں گے جہاں مسلمان بیٹیاں او ربہنیں شادی کے بغیر صرف اس لیے بیٹھی اپنی عمریں ضائع کررہی ہیں کہ ان کے والدین اور سرپرست اپنی معاشی
  • جون
1987
غازی عزیر
لفظ ''ولیمہ'' ''ولم'' سے مشتق ہے۔ ''ولم'' یا ''أولم'' کامعنی عربی لغت میں ''مأدبة'' ہوتا ہے۔ جسے اردو زبان میں ''دعوت طعام'' انگریری میں "Feast" یا "Banquet" کہتے ہیں۔1 ولیمہ کی تعریف بیان کرنےمیں علماء مختلف الآراء ہیں، بعض کہتے ہیں کہ ہر خوشی کی تقریب (خواہ شادی بیاہ ہو یا ختنہ و عقیقہ وغیرہ) پر دعوت طعام ولیمہ کہلاتی ہے، بعض کہتے ہیں کہ ولیمہ صرف طعام العرس کے لیے خاص ہے اور بعض کہتے ہیں ، طعام
  • جولائی
1987
غازی عزیر
 9۔آخری علت یہ ہے کہ سرور و خوشی اور فرحت و تزویج کے مواقع پر دعوت طعام کرنا انبیاء علیہم السلام کا شیوہ او ران کی سنت رہی ہے۔ چنانچہ بادشاہ حبشہ نجاشی کے کلام سے مستفاد ہوتا ہے، جسے طبری نے سیر میں اس طرح نقل کیا ہے:
  • فروری
1986
غازی عزیر
تمام مستند احادیث اور روایات کے مطالعہ سے یہ بات وثوق کی حد تک پہنچ جاتی ہےکہ عہد نبویؐ اور خلفائے راشدینؓ کے ادوار خلافت میں تمام صحابہؓ و تابعینi کا اس سنت پر عمل رہا ہے، بعد کے ادوار میں بھی تمام اہل علم او رعامل بالحدیث طبقہ میں اس سنت پر سختی کے ساتھ عمل کیا جاتا رہا ہے، نیز اس پر خود رسولﷺ کا عمل کرنا اور آج تک اس پر تواتر کے ساتھ عمل ہوتے چلے آنا بذات خود اس کی مشروعیت کی واضح دلیل
  • اپریل
1986
غازی عزیر
عقیقہ صرف بکری، مینڈھا اور دنبہ سے ہی کیا جانا چاہیے جیساکہ اوپر ذکر کیا گیا ہے۔بھینس ، گائے اور اونٹ ذبح کیے جانے کے متعلق کووی صحیح او رقابل اعتماد حدیث موجود نہیں ہے۔لہٰذا اس مسئلہ میں اکثر علمائے سلف و خلف، ائمہ حدیث اور مجتہدین کا عمل اور فتویٰ یہی ہے کہ بھیڑ،یا بکری یا دُنبہ کے علاوہ کسی دوسرے جانور سے عقیقہ کرنا سنت مطہرہ سے ثابت اور صحیح نہیں ہے۔عقیقہ میں اونٹ ذبح کرنے کے متعلق حضرت
  • مئی
1986
غازی عزیر
اگر ذبح کرنے والا شخص عقیقہ کے متعلق صرف نیت کرلے اور ''بسم اللہ اللہ اکبر'' پڑھ کر ذبح کرڈالے او رمولود کا نام نہ لے تو بھی عقیقہ ہوجائے گا۔
عقیقہ کے گوشت کی تقسیم اور استعمال
عقیقہ کے گوشت کی تقسیم و استعمال کے متعلق جو ذبیحہ اضحیہ کے احکام ہیں، وہی ذبیحہ عقیقہ کے بھی ہیں۔ یعنی اس میں سے خود اہل خانہ کھائیں،
  • جنوری
1986
غازی عزیر
یہ مضمون لکھنے کا داعیہ جناب مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب کا ایک فتویٰ پڑھ کر پیدا ہوا۔ جو آں موصوف نے ، ماہناہ ''اقراء ڈائجسٹ'' کراچی کے مجریہ ماہ جولائی 1985ء میں''دینی مسائل کا فقہی حل'' کے مستقل عنوان کے تحت، ایک مستفتی کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا، انہوں نے لکھا ہے کہ:''جن جانوروں کی قربانی جائز ہے ان سے عقیقہ بھی جائز ہے۔بھینس بھی ان جانوروں میں شامل ہے۔اسی طرح جن جانوروں میں