• ستمبر
1976
عزیز زبیدی
ایک صاحب پوچھتے ہیں کہ:

رمضان المبارک آرہا ہے: یہ عبادت کا مہینہ ہے مگر لوگ رکعتوں کاجھگڑا کرکے بدمزہ کردیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ:

1۔ صحیح کتنی رکعتیں ہیں؟ کیا ان سے کم و بیش بھی پڑھی جاسکتی ہیں؟
  • جنوری
2007
ابو الکلام آزاد
اہل عرب نے اگرچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مجموعہ تعلیم ہدایت کو بالکل بھلا دیا تھا، لیکن اُنہوں نے خانہ کعبہ کے کنگرے پر چڑھ کر تمام دنیا کو جو دعوتِ عام دی تھی، اس کی صداے بازگشت اب تک عرب کے در ودیوار سے آ رہی تھی :
وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَ‌ٰ‌هِيمَ مَكَانَ ٱلْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِ‌كْ بِى شَيْـًٔا وَطَهِّرْ‌ بَيْتِىَ لِلطَّآئِفِينَ وَٱلْقَآئِمِينَ وَٱلرُّ‌كَّعِ ٱلسُّجُودِ ﴿٢٦﴾ وَأَذِّن فِى ٱلنَّاسِ بِٱلْحَجِّ يَأْتُوكَ رِ‌جَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ‌ۢ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ﴿٢٧...سورۃ الحج
  • جنوری
2005
عبداللہ دامانوی
(1) عن ابن عباس عن النبیﷺ أنه قال: (ما العمل في أيام (العشر) أفضل منها في هذا) قالوا: ولا الجهاد؟ قال: (ولا الجهاد ، إلا رجل خرج يخاطر وبنفسه وماله فلم يرجع بشيئ)
“جناب عبداللہ بن عباس نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی دن میں عمل ان دس دنوں میں عمل کرنے سے بڑھ کر نہیں ہے، لوگوں نے عرض کیا: جہاد بھی نہیں۔
  • مئی
2017
حسن مدنی
رمضان المبارک ایسا عظیم اوربابرکت مہینہ ہے جس میں مسلمانوں کے دل اللّٰہ کی بندگی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اس ماہ میں شیاطین کی جکڑبندی، بارانِ رحمت کے نزول، روزے کی کیفیت اور تراویح وغیرہ میں قرآن کریم پڑھنے پڑھانے سے ماحول پر تقدس کی فضا چھا جاتی اور نیکیوں کی طرف توجہ بڑھ جاتی ہے۔اس ماہ میں انفرادی اور اجتماعی طور پر بھی بہت سے نیک اعمال انجام دیے جاتے ہیں۔
  • نومبر
2001
سید داؤد غزنوی

نزول قرآن مجید کی یادگار اور اسوۂ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کےقیام کے ہدایت:

﴿شَهرُ‌ رَ‌مَضانَ الَّذى أُنزِلَ فيهِ القُر‌ءانُ هُدًى لِلنّاسِ وَبَيِّنـٰتٍ مِنَ الهُدىٰ وَالفُر‌قانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهرَ‌ فَليَصُمهُ ۖ وَمَن كانَ مَر‌يضًا أَو عَلىٰ سَفَرٍ‌ فَعِدَّةٌ مِن أَيّامٍ أُخَرَ‌ ۗ يُر‌يدُ اللَّهُ بِكُمُ اليُسرَ‌ وَلا يُر‌يدُ بِكُمُ العُسرَ‌ وَلِتُكمِلُوا العِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُ‌وا اللَّهَ عَلىٰ ما هَدىٰكُم وَلَعَلَّكُم تَشكُر‌ونَ ١٨٥ ﴾... سور ةالبقرة

  • دسمبر
2001
محمد اختر صدیق
رمضان المبارک میں نیکی کا اجر کئی گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔ رغبت رکھنے والے ہر انسان کے لئے بھلائی کے تمام دروازے کھلے ہوئے ملتے ہیں۔ اسی بابرکت مہینہ میں قرآنِ مجید نازل ہوا۔ اس کا پہلا حصہ رحمت ، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا ہے۔ ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی ا نے فرمایا:
"جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں،جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں
  • اگست
2010
کامران طاہر

رمضان کامہینہ مسلمانوں پرعطیۂ خداوندی ہے۔اس کے تمام تراَحکامات اور حدود و قیود شارع کی حکمت ِبالغہ کی آئینہ دار اور یقینا اس کے پیداکردہ بندوں کے حق میں بہتر ہیں، تبھی تو ربّ العالمین نے اس پر مہینے کے روزوںکو اپنے بندوں پرفرض قرار دیا ہے۔ فرمانِ ربانی ہے:

{یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ} (البقرہ:۱۸۴)

  • جنوری
2001
ابو الکلام آزاد

رمضانُ المبارک کابابرکت مہینہ ایک بارپھر اپنی برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہے۔ لیکن افسوس اس بابرکت مہینہ سے فیض اُٹھانے اور اس مقدس ماہ میں اَحکامِ الٰہی کے مطابق چلنے والے مسلمان خال خالہی نظر آتے ہیں۔ ایک اسلامی معاشرے میں رمضان پر عمل کس طور سے کیا جاتاہے، اس کی ایک تصویر کشی مولانا ابو الکلام آزاد نے آج سے ۸۶ برس قبل کی تھی ۔

  • جون
2015
شیخ صالح المنجد
رمضان میں شیطانوں کا جکڑا جانا؟

سوال: رمضان میں شیطانوں کو قیدکردیا جاتا ہے،اس کے باوجود رمضان میں برائیاں کیوں ہوتی ہیں؟

جواب: جی ہاں رمضان کریم میں بھی ہوسکتا ہے کہ شیطان وسوسہ ڈالیں اور اسی طرح جادوگربھی رمضان میں کام کرتے ہیں
  • اگست
2009
محمد ارشد کمال
رمضان اسلامی سال کا نواں قمری مہینہ ہے۔ اس کا تلفظ یوں ہے: رَ مَ ضَ تینوں مفتوح (زبر کے ساتھ) جبکہ الف ساکن ہے یعنی رَمَضَان۔ یہ رمض سے مشتق ہے جو باب ضَرَبَ یَضْرِبُ، نَصَرَ یَنْصُرُ اور سَمِعَ یَسْمَعُ سے مصدر آتاہیـ اس کا معنی شدید گرمی، دھوپ کی شدت سے تپ جانے والی زمین یاپتھر، نیزے کی نوک کو تیز کرنا اور گرمی کی شدت سے کسی کا جلنا وغیرہ آتاہے۔
  • جولائی
2012
اُمِّ عبدالرب
1۔ یہ روزہ کا مہینہ ہے:
﴿فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهرَ‌ فَليَصُمهُ -- ١٨٥ ﴾.... سورة البقرة
'' تم میں سے جوکوئی رمضان کا مہینہ پائے تو وہ روزے رکھے۔''
  • نومبر
1971
اسماعیل روپڑی
احباب کے زیر مطالعہ مجلہ ''محدث'' شیخ التفسیر حافظ محمد حسین صاحب روپڑی، شیخ الحدیث حافظ عبد اللہ صاحب روپڑی اور خطیب ملت حافظ محمد اسماعیل صاحب روپڑی رحمۃاللہ علیہم اجمعین کے باقیات صالحات سے ہے۔ اس لئے رمضان المبارک کے احکام و مسائل میں ہم خطیب ملت حضرت مولانا حافظ محمد اسمٰعیل صاحب روپڑی کا یادگار مضمون ہدیہ قارئین کر رہے ہیں
  • جنوری
1999
صلاح الدین یوسف
الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه الى يوم الدين
اس مضمون میں روزے سے متعلق ضروری احکام و مسائل بیان کیے گئے ہیں، مثلا ۔۔ روزے کے واجبات و آداب کیا ہیں؟ رمضان المبارک میں کون سی دعائیں مسنون ہیں؟ اس کے فوائد اور فضائل کیا ہیں؟ روزن کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے اور کن چیزوں سے نہیں ٹوٹتا؟ اور اسلام میں اس کی اہمیت کیا ہے؟ وغیرہ، مختصر ان باتوں کا ذکر ہو گا۔ وباللہ التوفیق ۔۔
روزے کی اہمیت
روزے کی اہمیت تو اسی سے واضح ہے کہ یہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
بني الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمداً رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وصوم رمضان، وحج البيت
(صحیح بخاری، الایمان، باب، رقم الحدیث 8 ۔ مسلم، الایمان، باب ارکان الاسلام، رقم 16)
  • اکتوبر
2007
محمد بن صالح المنجد
اپنے آپ اور اپنے ماحول کو عبادت کے لئے تیار کرنا، توبہ و استغفار کی طرف جلدی کرنا، رمضان کے آنے پر خوشی منانا اور پورے ادب کے ساتھ روزے رکھنا، تراویح میں دل جمعی اور خشوع کا خیال رکھنا، سستی سے باز رہنا، خصوصاً آخری دس دن میں شب ِقدر کی تلاش میں لگے رہنا، تدبر و تفکرکے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرنا اوراسے ایک سے زائد بار مکمل کرنے کی کوشش کرنا رمضان المبارک کے اہم کام ہیں۔
  • نومبر
1971
صدیق حسن خان

یہ مہینہ صیام و قیام کا ہے۔ پورا مہینہ روزے رکھنا ارکانِ اسلام میں سے ایک رکن ہے۔ اس ماہ کے صیام و قیام کی فرضیت اور فضیلت کتاب و سنت سے ثابت ہے۔ احکام، صیام و قیام کے متعلق بہت سے رسائل لکھے گئے ہیں۔ ہمارا رسالہ ''تعلیم الصوم'' بھی انہی احکام پر مشتمل ہے۔

شعبان کے آخری روز سررِ و عالم ﷺ نے صحابہؓ کو خطاب فرمایا

  • جنوری
2001
حفیظ الرحمن لکھوی

صوم کا لغوی اور شرعی معنی:صَوْم جسے اُردو زبان میں روزہ سے تعبیر کرتے ہیں، کالغوی معنی رک جانا ہے اور اس کا شرعی معنی طلوعِ فجر سے لے کر غروبِ آفتاب تک تمام مُفطرات (روزہ توڑنے والی چیزوں) سے بحالت ِایمان اجر و ثواب کی نیت سے رُک جاناہے۔

روزہ کامقام: اسلام کی عمارت جن پانچ ستونوں پر استوار کی گئی ہے، ان میں ایک روزہ ہے جومرتبہ کے اعتبار سے چوتھے درجہ پرہے

  • نومبر
1971
عبدالسلام کیلانی

لغوی معنی:

قرآن مجید، حدیث نبوی اور عربی لغت میں روزے کے لئے لفظ صوم استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان کی یہ خصوصیت ہے کہ کسی چیز کا نام رکھتے وقت اس کے اصلی وصف کا پورا لحاظ ہوتا ہے۔ یہی حال صوم کا ہے جس کے اصلی معنی رکنے کے ہیں۔ چنانچہ امام لغت ابو عبیدہؒ فرماتے ہیں:

  • جولائی
1985
اکرام اللہ ساجد
روزہ خور توجہ فرمائیں
ع۔(تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں؟)
روزوشب:
ماہ وصال تو گزر ہی جاتے ہیں لیکن یہی روز وشب بھی ماہ وسال کسی کے لئے انتہائی مبارک ثابت ہوتے ہیں تو کسی کے لئے محرومیوں اور حسرتوں کا  پیغام چھوڑ جاتے ہیں۔رمضان المبارک کا بابرکت اور پرعظمت مہینہ آیا اور رخصت بھی ہوگیا چنانچہ جن لوگوں نے اس ماہ مقدس میں دن کو روزہ رکھا تلاوت قرآن مجید اور نماز باجماعت کا خصوصی اہتمام کیا اور راتوں میں قیام ورکوع وسجدہ کے زریعے اپنے رب کی بارگاہ میں حاضری دے کر اپنی خطاؤں پر آنسو بہائے،اظہار ندامت کیا،وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی مغفرت ورحمت کے مستحق بھی ہوئے اور جہنم سے آزادی کی نوید بھی انھوں نے حاصل کرلی!۔لیکن جن لوگوں نے اس مبارک مہینے کے تقاضوں کو نہ صرف ملحوظ نہ رکھا۔بلکہ اس کی حرمتوں کو پامال اور اس کے تقدس کو مجروح کیا۔بلاشبہ انھوں نے اللہ کے غضب کوللکارا اور اپنی نفسانی خواہشات پر اُخروی فوائد کو قربان کرتے ہوئے سراسر گھاٹے کاسود کیا ہے۔لیکن اس خسارے کا آج بھی انھیں احساس نہیں ہے۔
  • اپریل
1990
ادارہ
متکلین کے ہاں اس مسئلہ پر کافی بحثیں رہی ہیں کہ گناہ اور معصیت کا مرتکب مومن رہتا ہے یانہ ؟آئمہ اہل السنتہ وا لجماعت کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ مومن ہی رہتا ہے

دراصل یہ خالص علمی کلامی اور فلسفایانہ بحثیں تھیں اور ایک خاص پس منظر میں اٹھیں اور چلتی بنیں معتزلہ اور خوارج وغیرہ ان بحثوں سے مطمئن ہو ئے یا نہ ؟لیکن یہ بات یقینی ہے کہ :اس سے مسلمانوں کے اعمال کردار اور افکار پر غلط اثرات ضرور نمایاں اور مرتب ہو ئے ۔
  • جنوری
2001
محمد اسماعیل سلفی
عہد قدیم سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ سال بھر میں ایک یا ایک سے زیادہ دن ایسے ہونے چاہئیں جن میں لوگ روز مرہ کاروبارِ حیات کومعطل کرکے عمدہ لباس پہن کر کسی مرکزی جگہ اکٹھے ہوں اور مختلف تقریبات منعقد کرکے اپنی حیثیت و شوکت کی نمائش کریں۔ایسے تہواروں کو مختلف ناموں سے پکارا گیا ہے اور تاریخ و دن کاتعین قوموں نے اپنی تاریخ کے اہم واقعات کی یادتازہ رکھنے کے لئے کیا ہے۔
  • جنوری
2006
سید داؤد غزنوی
جس طرح کسی قوم کی ملی سیاست اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کے تمام انتظامی اُمور کے لئے اوقات مخصوص اور معین نہ کردیے جائیں ۔ اسی طرح سیاست ِشرعیہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کی عبادات اور اطاعات کے لئے اوقات و ایام مخصوص نہ کرلئے جائیں ۔
  • فروری
2004
عمران ایوب لاہوری
شریعت كے وہ چند مسائل جو ہمارى توجہ كسى نہ كسى تاريخى واقعہ كى طرف مبذول كرتے ہيں ان ميں سے ايك قربانى بهى ہے- ايسے مسائل سے مقصود محض انہيں مقررہ وقت پر كر لينا ہى كافى نہيں ہے بلكہ ان تاريخى واقعات پر گہرى نگاہ ڈالتے ہوئے اس جذبہ عبادت اور قربانى كى ناقابل فراموش كنہ وحقيقت كو سمجھ كر اپنانے كى كوشش كرنابهى ضرورى ہے جس كے باعث يہ مسائل ہمارى اسلامى روايات ميں جزوِلاينفك كى حيثيت اختيار كر گئے۔
  • جنوری
2007
فیض احمد بھٹی
اللہ کریم کو اپنے بندوں سے بہت محبت ہے اوروہ نہیں چاہتا کہ اس کا کوئی بندہ نارِ جہنم کا ایندھن بنے، اِسی لئے اس نے اپنے انبیاے کرام کے ذریعے اپنے بندوں کے لئے جنت کے راستے ہموار کئے اور ایسے ایسے عظیم اور آسان طریقے اور ذرائع مقرر کئے کہ جنہیں اپناکر انسان اللہ تعالیٰ کے قریب ہوجاتا ہے، دنیا و آخرت کی ذلت و رسوائی سے محفوظ ہوجاتاہے اور جنت الفردوس اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
  • جنوری
2006
اختر حسین عزمی
انسانی فطرت ہے کہ وہ جسے ملجا و ماویٰ سمجھتا ہے، اسی کے سامنے نذرونیاز پیش کرتا ہے۔ غیر اللہ کے لئے ایسا کرنا اللہ نے 'شرک' قرار دے کر منع کیا تو اس کے ساتھ ہی انسان کے اس فطری جذبے کی تسکین کا راستہ بھی بنا دیا۔ انسان اگر غیر اللہ کو سجدہ کرتا تھا تو اللہ نے جہاں غیراللہ کو سجدہ کرنا حرام ٹھہرایا، وہاں اس کے متبادل کے طور پر نماز کو فرض کردیا۔
  • جولائی
  • اگست
1975
ادارہ
قرب ووصال کی گھڑیاں، ایام صیام کی ساعتیں

دنیا اپنا ایک مزاج اور اسلوب رکھتی ہے ، جس طرح اس کوبالکلیہ نظر انداز کرنا اس کے فطری حقوق اور احترام کے بالکل منافی ہے ، اسی طرح اس کو بالکلیہ آزاد اور آوارہ چھوڑ دینا بھی نادان کے ہاتھوں میں چُھری تھما دینے کےمترادف ہے۔