• مئی
1985
قادر بخش
(ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے کچھ عرصہ قبل "تنظیم اسلامی" کےنام سے ایک جماعت قائم کی ہے جس کی بنیاد ان سے گہری وابستگی اور مشہور اسلامی مسئلہ بیعت "پر رکھی ہے۔برصغیر کی تقسیم سے قبل بھی دہلی میں ایک عالم دین کی  طرف سے "امامت" کی بنیاد پر ایک جماعت غرباء قائم کی گئی تھی۔اور اس وقت اس مسئلے پر مختلف علماء کی طرف سے اظہار خیال بھی ہوا تھا۔چنانچہ زیر نظر مقالہ میں حافظ عبداللہ محدث روپڑی ؒ کے  ایک  فاضل شاگرد نے اسی مسئلہ کا جائزہ کتاب وسنت کی روشنی میں پیش کیا تھا۔اور جو حالات کی مناسبت سے آج بھی ہدیہ قارئین ہے۔(ادارہ))
  • دسمبر
1988
سعید مجتبیٰ سعیدی
تحریر: حافظ ابن رجب              

آداب دین و دنیا                        قسط 3 (آخری)
دوسری قسم اس شخص کی ہے، جو اپنے علم و عمل اور زہد و تقویٰ کی نمائش کے ذریعہ دوسروں پر اپنے آپ کو بالاتر ہونے کی چھاپ بٹھانے کی کوشش کرے۔ لوگوں کو اپنا مطیع، فرمانبردار، سرنگوں اور ہر وقت اپنی طرف مودبانہ متوجہ دیکھنا چاہے۔ دوسروں پر اپنے علمی تفوق کی دھاک بٹھانے کے لئے ہر ایک سے اپنی ہمہ دانی کا چرچا کرتا پھرے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ اعمال تھے، جو اسے صرف اللہ کی رضا کے لئے کرنا چاہئے تھے، مگر اس نے انہیں دنیا کی جاہ و دولت کے لئے استعمال کیا، ایسے مجرموں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُجَارِيَّ بِهِ الْعُلَمَاءَ ، أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ ، أَوْ يَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ "
"جو بھی شخص جاہلوں سے مقابلہ کرنے کے علماء سے جھگڑنے یا لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی نیت سے علم حاصل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کریں گے۔"
اس حدیث کو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے حجرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا۔ امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہما کے حوالے سے "(فهو فى النار)" کے الفاظ بیان کئے ہیں، یعنی ایسا شخص جہنم میں ہو گا۔
  • اکتوبر
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
موضوع کا تقاضا ہے کہ ہم وسیلہ کا بیان ایک مستقل فصل میں کریں، خواہ وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو، تاکہ اس موضوع کے بارہ میں صحیح بات واضح ہو سکے۔
توسل کا لغوی معنیٰ: مطلوبہ چیز کا قرب، اور شوق کے ساتھ اس تک پہنچنا، توسل کہلاتا ہے۔
وسیلہ اس ذریعہ کو کہتے ہیں جس کے ذریعے قرب حاصل ہو۔۔۔دعا کرنے والا جب یہ سمجھے کہ اس سے حقوق اللہ کے بارہ میں کوتاہیاں ہو چکی ہیں، اور وہ اللہ کی ممنوعہ حدود کا مرتکب ہو چکا ہے، تو جس شخص کو اپنے سے افضل سمجھتا ہو وہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ دعا زیادہ سے زیادہ فضیلت والی ہو، اور جلد قبول ہو جائے۔ چونکہ توسل بھی عبادت کے ضمن میں ہے، اس لیے اس کی دو قسمیں ہو جاتی ہیں:
1۔ اس کی ایک قسم مشروع ہے، جس کا ثبوت قرآن کریم اور سنت صحیحہ سے ملتا ہے۔
2۔ اور دوسری قسم غیر مشروع ہے، جس کا جواز قرآن کریم اور سنت صحیحہ سے نہیں ملتا، بلکہ کتاب و سنت سے اس کا شرک ہونا ظاہر و باہر ہے۔
  • اکتوبر
1990
غازی عزیر
ابلیس کے جس کی اصل جن ہے،کےلغوی معنی پر ر وشنی ڈالتے ہوئے ابو یعلیٰ ؒ فرماتے ہیں:
"جن یعنی مستور اصلاً،استتار،سے مشتق ہے۔جن سے جنین یعنی وہ بچہ جو ماں کے رحم میں ہو اور نظر نہ آئے،اور مجنون الفاظ نکلے ہیں کیونکہ پاگل کا خبال عقل مستور ہوتا ہے۔ 
اس طرح "بہشت" کو "جنت" بھی اس لئے کہاجاتا ہے کہ وہ مستور ہے اور ہماری نظریں اسے دیکھنے سے قاصر ہیں۔
عام طور پر یہ بات مشہور ہے کہ"ابلیس" پہلے فرشتوں میں انتہائی عابد،پرہیز گار،عالم،اور مجتہد بلکہ دربارالٰہی کا مقرب ترین فرشتہ تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرنئ کرنے کی وجہ مسے مردود ٹھہرا۔بعض لوگ اسے معلم الملکوت طاؤس الملائکۃ،خازن الجنت،اشرف الملائکہ ،رئیس الملائکہ اور نہ جانے کیا کیا بتاتے ہیں لیکن فی الواقع ملائکہ میں اس کی فضیلت تودرکنار بنیادی طور پر اس کا فرشتہ ہونا بھی انتہائی مشکوک بات ہے۔
  • اگست
1985
اکرام اللہ ساجد
اسلام دین کامل ہے۔یہ آج سے چودہ صدیاں قبل مکمل ہوا۔اورآج تک کتاب وسنت میں مکمل ،جوں کاتوں موجود ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے رخصت ہوتے وقت اپنی امت کو یہ وصیت فرمائی تھی:
"میں تم میں دو چیزیں چھوڑ چلاہوں۔جن کو اگر تم نے مضبوطی سے تھامےرکھا تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے ان میں سے پہلی چیز کتاب اللہ ہے اور دوسری اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت!"
زبان نبوت سے ادا ہونے والے یہ پاکیزہ اور قیمتی الفاظ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلامی تعلیمات کوابدیت حاصل ہے۔تاقیامت ہمیں نہ کسی دوسرے شریعت کی ضرورت پیش آئے گی۔اور نہ ہی شریعت محمدیہ میں کسی قسم کی کمی بیشی یاتبدیلی کی گنجائش ہے!۔قیامت تک اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین اور خاتم المرسلین ہونے کا یہی نتیجہ ہے کہ شریعت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہر دور میں ہماری راہنمائی ہوگی!
  • جنوری
  • فروری
1974
زاہد علی واسطی
یورپی مستشرقین نےحضرت نبی کریمﷺ کی کثرت ازواج مطہرات پربہت سے اعتراض کیے ہیں او راب بھی بعض مکتب فکر کے لوگ جو حقیقت حال سےناواقف ہوتے ہیں۔ واقعات کا دیانت دارانہ جائز لئے بغیر رحمۃ للعالمینؐ کی عظمت و منصب کا لحاظ رکھے بغیر اشارتاً یا کنایتاً ایسے خیالات کا اظہا رکرتے رہتے ہیں۔ از روئے انصاف و عقل بہتر طریقہ یہ ہوتا ہے کہ کسی مسئلہ کے ہرایک پہلو کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے۔
  • جنوری
  • فروری
1980
عزیز زبیدی
لودھراں سےایک صاحب لکھتے ہیں کہ !
$11.                 ایک عورت جس کو تین طلاق ہو گئی  ہیں ۔ وہ  اب صرف اس لیے حلالہ کراتی ہے کہ وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے ۔ کیا ایسا حلالہ شرعی حلالہ کہلائے گا اور وہ اس طرح پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی ؟
$12.                  کیا بے نماز عورت کا نکاح نمازی مرد سے ہو سکتا ہے ؟
ایک اور صاحب پوچھتے ہیں کہ :
$13.                 نماز میں جہراً ’’بسم اللہ ‘‘ پڑھنا ثابت ہے ؟
$14.                  کیا خطبہ غیر عربی میں ہو سکتا ہے ؟
ضلع پشارو سے گل مان شاہ صاحب تحریر کرتے ہیں کہ :
$15.                 نماز میں سینہ پر یازیر ناف ہاتھ باندھنے میں سے صحیح کیا ہے ؟
$16.                  قرأت فاتحہ خلف الامام جائز ہے یا نا جائز ؟
$17.                  جیسا کہ حنفی حضرات وتر پڑھتے ہیں ، میں بھی ویسے وتر تین  رکعت پڑھتا آرہا ہوں ۔ کیا یہ درست ہے ؟ 
قرآن و حدیث کے ساتھ جواب عنایت فرمایا جائے ۔
  • اکتوبر
1998
عطاء اللہ صدیقی
گذشتہ دنوں ادارہ تحقیقات ِ اسلامی کےزیرِ اہمتام '' مسلمانوں کےبارے میں مغرب کاتصور اورمغرب کےبارے میں مسلمانوں کاتصور، ، کےعنوان پر سےمنعقدہ سیمینار میں وزیرِ اعظم پاکستان میاں نواز شریف نےخطاب کرتےہوئےکہا کہ اسلام کےسیاسی فلسفہ کی بنیاد جمہوریت ک‎پر مبنی ہے۔ انہوں نےواضح کیاکہ'' اسلام کےخلاف نظریاتی تنازعہ مکمل طورپر غیرضروری ہ ے۔وہ لوگ جواسلام کی مغرب کادشمن سمجھتےہیں اورمغرب اوراسلام میں جنگ دیکھتے ہیں وہ ایک محدود تاریخی پس منظر رکھتےہیں ۔ انہوں نےکہا کہ اسلامی بنیادپرستی کومغرب نےبڑھا چڑھا کر پیش کیااور اسے شکست دینے پرزور دیا ، اسلام کی بنیاد پرستی پرمسلمانوں کوفخر ہے۔ وہ بنیادیں یہ ہیں : توحید ، رسالت ، نماز، روزہ ، زکوۃ ، اورحج ، ان پرعمل کرکےبہت سے مسلمان اپنے آ پ کو سچا مسلمان گردانتے ہیں ، کیا یہ بنیاد پرستی ہے؟ ہرگز نہیں ! انہوں نےکہا کہ بنیاد پرستی (فنڈا میشلزم ) کی اصطلاح عیسائیت سےآئی ہےلیکن اسے اسلام پرتھوپ دیا گیا ،، - ( روزنامہ جنگ ،،لاہور 70۔اکتوبر 1997ء )
  • اکتوبر
1996
صوبیدار لطیف اللہ
توبہ کا مفہوم
توبہ کے اصل معنی رجوع کرنے اور پلٹنے کے ہیں۔ بندہ کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ سرکشی سے باز آ گیا، طریق بندگی کی طرف پلٹ آیا اور خدا کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے شرمسار غلام کی طرف رحمت کے ساتھ متوجہ ہو گیا۔ پھر سے بنظر عنایت اس کی طرف مائل ہو گیا۔(1)
جب کہا تاب العبد تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ "(رجع الى طاعة ربه)" سرکشی چھوڑ کر وہ اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بن گیا اور اگر تاب کا فاعل اللہ تعالیٰ ہو تو پھر معنی یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نادم اور شرمسار بندے کی طرف نظر رحمت فرمائی اور اس کا قصور معاف فرما دیا۔(2)
جب توبہ کی نسبت بندہ کی طرف جاتی ہے تو اس کے معنی تین چیزوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔
اول: اپنے کئے ہوئے گناہ کو گناہ سمجھنا اور اس پر نادم و شرمندہ ہونا۔
دوسرے: اس گناہ کو بالکل چھوڑ دینا۔
تیسرے: آئندہ کے لئے دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عزم و ارادہ کرنا۔ اگر ان تین چیزوں میں سے ایک کی بھی کمی ہوئی تو وہ توبہ نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ محض زبان سے "اللہ توبہ" کے الفاظ بول دینا نجات کے لئے کافی نہیں جب تک یہ تینوں چیزیں  جمع نہ ہوں یعنی گزشتہ پر ندامت اور حال میں اس کا ترک اور مستقبل میں اس کے نہ کرنے کا عزم و ارادہ۔(3)
  • جولائی
  • اگست
1974
ادارہ
مدیر اعلیٰ نے یہ تقریری ۱۹ مئی ۱۹۷۴ء کو ریڈیو پاکستان سے کی، جو چند ضروری اضافوں کے ساتھ ہدیۂ قارئین ہے۔ (ادارہ)

کلمہ طیبہ 'لا له لا الله محمد رسول الله'نہ صرف مسلمانوں کا مذہبی شعار ہے بلکہ ان کی دینی و اخلاقی، انفرادی و اجتماعی اور سیاسی و معاشی جملہ قسم کی سر بلندیوں اور ترقیوں کا ضامن ہے۔ وحدتِ انسانیت اور عروج بشریت کی بے مثال تاریخ اس سے وابستہ ہے۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1974
ادارہ
پچھلے سال رمضان المبارک 1393ھ میں مکہ مکرمہ میں رابطۂ عالمِ اسلامی نے دنیائے اسلام کے ماہرین فلکیات کو دعوتِ غور و فکر دی کہ ہجری کیلنڈر، معیاری وقت اور اسلامی مہینوں کے تعین کے بارے میں جو دقتیں در پیش ہیں انہیں کس طرح دور کیا جائے۔ چنانچہ تین دن تک بحث مباحثے کے بعد متفقہ طور پر کئی اور امور کے علاوہ ایک اسلامی رصد گاہ کے قیام کا بھی فیصلہ ہوا جو مکہ مکرمہ کے قریب قائم کی گئی ہے۔
  • اپریل
1980
منظور احمد
اگر قرآن حکیم ،مستند روایات اور اسلامی تاریخ کا دیانت و بصیرت کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو یہ  بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن مجید کے بعد اسلامی قانون کا دوسرا قابل اعتماد سر چشمہ رسو ل اللہ کی احادیث ہیں ،قرآن کریم میں ارشاد باری ہے :
﴿وَمَن يُشاقِقِ الرَّسولَ مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُ الهُدىٰ وَيَتَّبِع غَيرَ سَبيلِ المُؤمِنينَ نُوَلِّهِ ما تَوَلّىٰ وَنُصلِهِ جَهَنَّمَ وَساءَت مَصيرًا ﴿١١٥﴾...النساء
’’ جو ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد رسول اللہ کے مخالفت پر تل جاتا ہے ،اور سبیل المؤمنین کی بجائے دوسری راہ اختیار  کرتا ہے  تو ہم اسے اس طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پلٹ گیا ہے اورہم اسے جہنم میں جھونکیں گے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے ۔‘‘
اس آیت میں دو باتوں کی مذمت کی گئی ہے ۔ رسو  ل اللہ کی مخالفت  اور آپ ﷺ کے احکام سے سرتابی ،دوسرا سبیل اللہ سے انحراف کرتے ہوئے دوسرے راستہ کی پیروی ۔ظاہر ہے کہ اگر رسو  ل اللہ کے احکام و فرامین جو احادیث کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں ،اگر ان کی صرف حیثیت تاریخ دین کی ہے تو اس پر اس قدر وعید نہ ہونی  چاہیے تھی گویا یشاقق الرسول ‘‘ کا مفہوم ایک ہی ہے یعنی جو سنت رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتا ہے اسے جہنم کی وعید سنائی جارہی ہے ۔ اس آیت میں دوسرا جرم جس پرعذاب کی دہمکی دی گئی ہے ،
  • ستمبر
2013
ناصر الدین البانی
زیر نظر خطاب میں محدث العصر شیخ البانی ﷫نے اس اہم سوال کا جواب دیا ہے کہ وہ کیا طریقۂ دعوت ہے جو مسلمانوں کو عروج کی طرف گامزن کردے اور وہ کیا راستہ ہے کہ جسے اختیار کرنے پر اﷲ تعالیٰ اُنہیں زمین پر غلبہ عطا کرے گا اور دیگر اُمّتوں کے درمیان جو اُن کا شایانِ شان مقام ہے، اس پر فائز کرے گا؟...اس کے جواب میں اُنہوں نے دعوتی موضوعات کی ترتیب کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے
  • اکتوبر
  • نومبر
1973
محمد امین
1. میرے قدیم آبائی مذہب کے متعلق میرے شکوک اور اس مذہب کے بے دلیل عقائد نے مجھے مذہب سے بے زار کر کے دینی حدود میں دھکیل دیا تھا لیکن اسلام کی حقائق آفریں تعلیمات کی روشنی مجھے لا دینی سے سلامتی کی راہ پر لے آئی ہے۔ صمیمِ قلب کے ساتھ خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اسی نے مجھے ظلمت سے نور کی طرف کھینچا اور بہیمانہ زندگی سے نکل کر حیاتِ انسانی کی آغوش میں پہنچ گیا۔
  • مارچ
1989
پروفیسر محمد دین قاسمی
زکوٰہ سے کیا مراد ہے؟ یہ وہ مخصوص مقدارِ مال ہے جو اسلامی مملکت، مسلم اغنیاء سے وصول کرتی ہے اور اُسے امتِ مسلمہ کے اہلِ حاجت کی طرف لوٹا دیتی ہے۔ تاکہ اُن کی ضروریات بھی پوری ہوں اور وہ بھی معاشی خوشحالی کی طرف گامزن ہو سکیں۔ چودہ صدیوں پر مشتمل اسلامی ادب، زکوٰۃ کا یہی مفہوم تواتر اور تسلسل کے ساتھ پیش کرتا رہا ہے۔ چونکہ زکوٰۃ کا یہ مفہوم بجائے خود فاضلہ دولت کی شخصی ملکیت کا ثبوت ہے۔ اس لیے بانی طلوعِ اسلام کو اصطلاحِ زکوٰۃ سے یہ مفہوم خارج کرنے کے لیے اور اس کی جگہ نیا مفہوم داخل کرنے کے لیے خاصی کوہ کنی کرنی پڑی ہے۔ نئے دور میں "زکوٰۃ" کا ماڈرن مفہوم اب کمیونزم اور مارکس ازم سے ہم آہنگ ہو کر رہ گیا ہے۔ چنانچہ پرویز رقم طراز ہیں:
"قرآن کریم کے پیش کردہ[1] معاشی نظام کی رو سے مملکت کی ساری آمدنی "زکوٰۃ" ہے کیونکہ اسے نوعِ انسانی کی نشوونما کے لیے صرف کیا جاتا ہے (ایتاء زکوٰۃ کے معنی نشوونما دینا ہوتا ہے) جسے آج کل زکوٰۃ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اس کا ذکر تک نہیں ہے۔" (تفسیر مطالب الفرقان ج6 ص 68)
  • جنوری
1989
پروفیسر محمد دین قاسمی
قسط : 2
ملکیت مال ۔۔۔ اور ۔۔۔ قرآن مجید
دلیلِ پرویز: پرویز صاحب نے ملکیتِ اراضی کی نفی کی دلیل " ألأرض لله" سے کشید کی تھی، مال و دولت کی شخصی ملکیت کا بطلان وہ درج ذیل آیت سے اخذ کرتے ہیں:
﴿وَاللَّـهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ ۚ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَىٰ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ ۚ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَجْحَدُونَ ﴿٧١﴾ ...النحل
"اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ پھر جن لوگوں کو یہ فضیلت دی گئی ہے وہ ایسے نہیں ہیں کہ اپنا رزق، غلاموں کی طرف پھیر دیا کریں تاکہ وہ سب اس رزق میں برابر کے حصہ دار بن جائیں تو کیا اللہ ہی کا احسان ماننے سے ان کو انکار ہے۔"
اس آیت میں غور طلب بات یہ ہے کہ لوگوں میں معیشت اور رزق کا باہمی فرق و تفاضل خود منشائے ایزدی ہے " ﴿وَاللَّـهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ...﴿٧١﴾ ...النحل " کے الفاظ اس حقیقت پر دال ہیں۔ خود پرویز صاحب نے ایک مقام پر اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ:
"وہ (یعنی اسلام "مؤلف") ایسی اشتراکیت کا حامی نہیں ہو سکتا، جس میں خدا کی ہستی کا انکار ہو اور مساواتِ انسانی کی بنیاد، مساواتِ شکم قرار دی جائے۔ قرآن کریم کی رُو سے رزق میں ایک دوسرے پر فضیلت جائز ہے۔" (معارف القرآن، ج1، ص 121)
  • اپریل
1989
پروفیسر محمد دین قاسمی
قرآن کریم نے جگہ جگہ لوگوں کو انفاقِ اموال کا حکم دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ حکم ذاتی ملکیتِ مال کو متضمن ہے۔ پرویز صاحب نے اس لفظ سے اس لزوم اور تضمن کو خارج کرنے کے لیے اس کے مفہوم کو قطعی طور پر تبدیل کر دیا ہے چنانچہ ﴿ مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ﴿٣﴾...البقرة " کے تحت انہوں نے لکھا ہے کہ:
"ان الفاظ کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔۔ "جو روزی ہم نے انہیں دی ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔" یہ ظاہر ہے کہ ہر شخص اپنے مال و دولت کو کرچ کرتا ہی ہے۔ لہذا اس میں متعین کی کیا خصوصیت ہے جو ان کے متعلق یہ کہنے کی ضرورت پڑی کہ متقی وہ ہیں جو اپنے مال و دولت کو خرچ کرتے ہیں اس کے لئے زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دینا کافی تھا کہ وہ اپنے روپے پیسے کو احتیاط سے خرچ کرتے ہیں اور فضول خرچی (اسراف و تبذیر) سے بچتے ہیں۔" (تفسیر مطالب الفرقان ج1 ص 205)
  • دسمبر
1999
غازی عزیر
اعتکاف رمضان المبارک کا ایک اہم عمل ہے۔جس کے مسائل اکثر لوگ پوچھتے رہتے ہیں بعض مساجد کی انتظامیہ معتکف حضرات کی سرگرمیوں سے شاکی بھی ہوتی ہے۔ذیل میں مسجد کے انتظام وانصرام سے وابستہ ایک صاحب نے تفصیلی طور پر چند چیزوں کے بارے میں علماء سے استفسار کیا ہے کہ ان امور کی قرآن وسنت کی روشنی میں شرعی حیثیت کی وضاحت کی جائے۔ان استفسارات میں سے راقم کی نگاہ میں اہم نکات صرف یہ ہیں:
1۔کیا مسجد میں چھوٹے بڑے حتیٰ کہ غیر روزہ دار بچوں کا  جمع کرنا جائز ہے؟
2۔کیامعتکف(اعتکاف کرنے والے) کے لیے ان بچوں کے ساتھ مشغول ہونا درست ہے؟
3۔کیا تمام اہل خاندانکا کسی تقریب کے مثل مسجد میں جمع ہوکر کھانا پینا درست ہے؟
4۔بچوں کا مسجد میں شوروغوغا کرنا اور اپنی چیخ پکار سے نمازیوں اور اعتکاف کرنے والوں کو اذیت دینا کیسا ہے؟
5۔معتکفین کا اپنے اہل خانہ کے ساتھ دیر تک گفتگو بلکہ گپ شپ  میں مصروف رہنا کیا ہے؟
6۔ایسے بچوں کا مسجد میں لانا جو وہاں  پیشاب کردیتے ہوں ،کیسا ہے؟
7۔معتکف کے لیے بچوں کو ابتدائی اردو یا قرآن وغیرہ کادرس دینا کیسا ہے؟
8۔بچوں کے ساتھ پیارومحبت کرنا کیسا ہے؟
9۔معتکف کے لیے معلمی،خیاطی یا جلد سازی کرنے کا کیا حکم ہے؟
  • اپریل
1983
اکرام اللہ ساجد
ایک آواز سنائی دی ہے کہ مسلمان کو توحید کی نشرواشاعت ، شرک کی بیخ کنی اور بدعات و لغویات کی تردید کے علاوہ بھی تبلیغ دین کی ضرورت ہے۔ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت اور اخلاق و عادات کے لیے بھی اسلامی تعلیمات درکار ہیں۔ حقوق و فرائض سے ناواقفیت بھی ناگزیر ہے۔ معاشرت، معیشت اور سیاسیات سے آگاہ ہونا بھی از بس ضروری ہے۔ ادھر رُوس ہماری شہ رگ کو دبائے بیٹھا ہے، اس کے مقابلےکے لیے جہاد کی 
  • مارچ
1999
حمیداللہ عبدالقادر
نام و نسب
مالک نام، کنیت ابو عبداللہ، امام دارالهجرة لقب اور باپ کا نام انس تھا۔ سلسلہ نسب یہ ہے: مالک بن انس بن مالک بن ابی عامر بن عمرو بن الحارث بن غیلان بن حشد بن عمرو بن الحارث (1)
بلاشک آپ رحمۃ اللہ علیہ دارِ ہجرت (مدینہ منورہ) کے امام، شیخ الاسلام اور کبار ائمہ میں سے ہیں۔ آپ حجاز مقدس میں حدیث اور فقہ کے امام مانے جاتے تھے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے علم حاصل کیا اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ کی مجالس علمی میں شریک ہوتے رہے۔
پیدائش و وفات
آپ 93ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تاریخ پیدائش میں مؤرخین نے اختلاف کیا ہے لیکن امام ابو زہرہ کی تحقیق کے مطابق زیادہ صحیح تاریخ پیدائش 93ھ ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مقام پیدائش مدینۃ النبی ہی ہے۔ (2)
آپ رحمۃ اللہ علیہ 179ھ میں مدینہ منورہ میں ہی فوت ہوئے، چھیاسی سال کی عمر پائی۔ 117ھ میں مسند درس پر قدم رکھا اور باسٹھ برس تک علم و دین کی خدمت انجام دی۔ امام رحمۃ اللہ علیہ کا جسدِ مبارک جنتُ البقیع میں مدفون ہے۔ (3)
  • مارچ
1999
عطاء اللہ صدیقی
بیسویں صدی محیر العقول سائنسی ایجادات، علمی تحقیقات و اکتشافات کے بے نظیر کارناموں کی صدی ہے۔ اس صدی کے ایک ایک عشرے کے دوران انسانی تہذیب و تمدن اور علوم و فنون میں جو تیز رفتار ترقی دیکھنے میں آئی، وہ معلوم انسانی تاریخ کے پورے عرصہ کی اجتماعی ترقی کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔ لیکن سیاسی اور اخلاقی ترقی کی رفتار کا جائزہ لیا جائے تو اکیسویں صدی کی دہلیز پر پہنچی روشن خیال یک قطبی دنیا اٹھارویں اور انیسویں صدی کی استعماری ظلمتوں میں ابھی تک محصور دکھائی دیتی ہے۔ آزادی، مساوات، جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کے ضخیم دفاتر کی روشنائیاں، وحشت و بربریت، ظلم و ناانصافی، جارحیت و بہیمیت کی سیاہیوں کا اثر زائل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ ظلم و جبر کے بوجھ تلے سسکتی انسانیت آج بھی ابلیسیت کے ہاتھوں زخم خوردہ ہے۔ سائنسی ایجادات نے زماں و مکاں کے فاصلے سمیٹ کر دنیا کو "انسانی بستی" کی شکل تو عطا کر دی ہے لیکن وائے افسوس! انسانی قلوب کے فاصلوں کو ختم نہیں کر سکی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ "عالمی بستی" بھی عملا ایک روایتی بستی سے مختلف نہیں ہے، اس میں بھی طاقت و وسائل پر قابض وڈیرے موجود ہیں اور ذلت و پستی کی گہرائی میں ڈوبے ہوئے ہاری بھی باقی ہیں۔ عالمی وڈیرہ سائنسی ترقی کے تکبر میں اندھا ہو کر کمزور ہاریوں کو جب چاہے، وحشت و بربریت کا نشانہ بنا ڈلے، مگر اس کے ظالم ہاتھوں کو روکنے والا کوئی نہیں۔
  • اکتوبر
1976
عزیز زبیدی
﴿انا بلونھم کما بلونا اصحٰب الجنۃ اذ اقسموا لیصر منھا مصبحین ولا یستثنون ۔ فطاف علیھا طآئف من ربک وھم نائمون ۔ فاصبحت کالصریم۔ فتنا دوا مصبحین ان اغدوا علی حرثکم ان کنتم صارمین۔ فانطلقوا وھم یتخافتون۔ ان لایدخلنا الیوم علیکم مسکین۔ وغداوا علی حرد قدرین فامان راوھا قالوا انا لضالون۔ بل نحن محرومون۔ قال اوسطھم الم اقل لکم لولا تسبحون۔ قالوا سبحٰن ربنا انا کنا ظلمین۔ فاقبل بعضھم علی بعض یتلا ومون۔ قالوا یویلنا انا کنا طغین۔ عسیٰ ربنا ان یبدلنا خیرا منھا انا الی ربنا راغبون۔کذلک العذاب والعذاب الاخرۃ اکبر لوکانوا یعلمون﴾ (پ29۔ القلم ع1)
  • فروری
1984
عبدالرشید عراقی
شیخ نورالحق دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (1073ھ)

حضرت شیخ نورالحق حضرت شیخ عبدالحق کے صاجزادے تھے۔ آپ 983ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے مکمل تعلیم اپنے نامور باپ سے حاصل کی۔ تکمیلِ تعلیم کے بعد آپ کو عہدہ قضاء پیش کیا گیا جس کو آپ نے قبول کر لیا اور آپ نے یہ کام بخیر و خوبی سر انجام دیا۔ مگر اس عہدۃ جلیلہ پر زیادہ عرصہ تک متمکن نہ رہے۔
  • جنوری
1985
عبدالرشید عراقی
حضرت الامام السید مولانا عبدالجبار غزنوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1331ھ)

1268ھ میں غزنوی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے بھائی مولانا محمد بن عبداللہ غزنوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1293ھ) اور مولانا احمد بن عبداللہ غزنوی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد دہلی تشریف لے گئے اور شیخ الکل حضرت مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1320ھ) سے حدیث کی سند حاصل کی۔
  • مارچ
  • اپریل
1988
عبدالرشید عراقی
مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ (م سئہ 1375ھ)

مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار اہل حدیث کے اکابرین میں ہوتا ہے۔ مشہور مناظر، شعلہ نوا خطیب، مفسرِ قرآن، علم و فضل اور زہد و تقویٰ میں اعلیٰ نمونہ تھے۔