• نومبر
2009
محمد شاہد حنیف
مجلہ المیزان ایک علمی و دینی مجلہ تھا جو صرف ۱۶ شماروں کے بعد بند ہوگیا۔ اس میں قرآنِ کریم کے علوم و معارف کے حوالے سے بعض نادر اور اہم مضامین شائع ہوئے تھے۔ یہ مجلہ جناب محمد امین شہیدی نے شروع کیا لیکن مشکل حالات میں آپ اس کی اشاعت جاری نہ رکھ سکے۔ پرچے کے آغاز کے بارے شہیدی صاحب لکھتے ہیں:
  • اکتوبر
1990
عبدالرشید عراقی
دوسری صدی ہجری کے اوائل میں جن تبع تابعین نے علم وعمل کی قندیلیں روشن کیں۔ان میں ایک امام یزید بن ہارون اسلمی ؒ بھی تھے۔ جو جملہ علوم اسلامیہ یعنی تفسیر،حدیث ،فقہ،اصول فقہ وغیرہ میں مہارت تامہ رکھنے کے ساتھ سیرت کردار کردار کے اعلیٰ مرتبے پر فائز تھے ان کے جلالت قدر حفظ وضبط عدالت وثقاہت ذکاوت وفطانت ،زہد وورع ،بے نفسی،خشیت الٰہی تبحر علمی کا اندازہ ان کے اساتذہ وتلامذہ کی فہرست سے لگایا جاسکتاہے۔
اساتذہ:
تابعین کرام میں امام یزید بن ہارون اسلمی ؒ کے اساتذہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ (م93ہجری) کے تلمیذ رشید حضرت یحییٰ بن سعید ؒ(م143ھ) اورحضرت سلیمان بن طرخاںؒ تیمی(م143ھ) شامل ہیں۔
امام یحیٰ بن سعید ؒ (م143ھ) علمی اعتبار سے اپنے دور کے ممتاز ترین تابعین میں تھے۔ ان کی جلالت علمی پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے۔امام نوویؒ (م676ھ) لکھتے ہیں کہ ان کی توثیق جلالت اور امامت پر سب کا اجماع ہے۔ حافظ شمس الدین ذہبی ؒ (م847ھ) نے ان کو امام اورشیخ الاسلام کے القاب سے یاد کیا ہے۔
  • فروری
2000
عطاء اللہ صدیقی
1999ء جسے بیسویں صدی کا آخری سال قرار دیا جا رہا ہے۔ ملت اسلامیہ کے لیے عام الحزن ثابت ہوا کہ اسے یکے بعد دیگر متعدد نابغہ ہائے عصر اور اساطین علم و ادب کے داغ ہائے مفارقت سہنے پڑے ۔ان میں تین گراں قدر ہستیاں تو ایسی ہیں کہ جن کی رحلت نے ملت اسلامیہ کو علمی اعتبار سے فی الواقع یتیم اور ویران کر کے رکھ دیا ہے ۔جون 99ء میں سعودی عری کے مفتی اعظم سماحۃالشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز کے سانحہ ارتحال سے ملت اسلامیہ ایک عظیم عالم دین اور مدبر سے محروم ہوگئی2/اکتوبر کو علمائے سلف کی یادگار فخر روزگار علامہ محمد ناصر الدین البانی کے انتقال کی صاعقہ اثر خبر نے پورے عالم اسلام کو محزون و ملول کردیا ۔
  • جنوری
1995
حمیداللہ عبدالقادر
آپ صوبہ بہار کے ایک مروم خیز گا ؤں دیسنہ (ضلع پٹنہ) میں 23صفر1302ھ/22نومبر1884ءکو پیدا ہو ئے ،ابتدا ئی تعلیم گھر پر حا صل کرنے کے بعد پھلواری اور دربھنگہ میں تحصیل علم کے لیے مقیم رہے۔
1901ءمیں "دارالعلوم ندوۃ العلماء "لکھنؤمیں داخل ہو ئے""ندوۃ" میں ان کے ادبی و علمی ذوق کی جلا ہو ئی ۔ان کا سب سے پہلا مضمون1903ءمیں " وقت " کے عنوان سے رسالہ "مخزن "لاہور میں چھپا،جس کے ایڈاس وقت کے مشہور اہل قلم شیخ عبد القادر تھے۔ اسی سال ان کا دوسرا مضمون "علم اور اسلام" کے عنوان سے "علی گڑھ میگزین "میں بھی تعریفی نوٹ کے ساتھ شائع ہوا۔(1)سید سلیمان ندویؒ عربی مضامین اخبارات و رسائل کا مطالعہ کیا کرتے تھے اس طرح ان میں جدید عربی ادب کا ذوق پیدا ہوا۔شبلی نعمانی نے مجلہ الندوۃ (ماہانہ رسالہ )سید صاحب کے سپرد کر دیا ایک مرتبہ سید صاحب نے بہترین فصیح و بلیغ انداز میں عربی زبان میں تقریر کی، اس کو سن کر ان کے استاد گرا می شبلی نعمانی اتنے خوش ہو ئے کہ اپنے سرسے عمامہ اتار کر اپنے شاگرد رشید (ندوی صاحب ) کے سر پر باند ھ دیا۔
  • جنوری
1998
عبدالرشید عراقی
برصغیر کے علمائے حدیث میں شیخ محمد بن طاہر پٹنی کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ آپ ایک بلند پایہ محدث تھے۔ حدیث میں وہ بالخصوص بہت ممتاز اور بلند مرتبہ تھے اور اس فن کے امام تھے۔ جس علاقہ (گجرات) سے ان کا تعلق تھا وہاں ان کے درجہ کا کوئی اور محدث نہیں گزرا۔ ان کے فضل و کمال کے تمام لوگ معترف تھے۔ اس لئے کہ انہوں نے حدیث میں بے نظیر کمال حاصل کیا اور اپنی زندگی اس فن کی خدمت میں بسر کر دی۔ ان کا شمار برصغیر کے ممتاز محدثین کرام میں ہوتا ہے اور ان کو رئیس المحدثین کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ علم حدیث میں ان کے فضل و کمال کا شہرہ صرف ہندوستان ہی میں نہ تھا، بلکہ عالم اسلام میں بھی ان کے علم و فضل اور حدیث کے کمال و امتیاز کا شہرہ تھا۔ (1)
  • مارچ
1996
محمد بشیر
پاسبان مسلک اہلحدیث اور قوم کا عظیم سرمایہ جو کہ ایک ایک کر کے ہم سے جدا ہو گئے،

علم کے گوہر اور مدبرانہ صلاحیتوں کی مالک وہ مسلک حقہ کی روح رواں شخصیات چند ہی ہفتو ں میں جماعت کو یتیم کر گئیں ۔ ابھی ایک "غم بساط" اکٹھی بھی نہیں ہوتی تھی تو دوسری دل فرسا خبر سنی جاتی رہی، جن کے غموں سے مرکزی جمعیت اہلحدیث کی کمر ٹیٹرھی ہو کر رہ گئی ہے۔
  • فروری
2000
عبدالرشید عراقی
بلا شن و شبہ موت بر حق ہے اور موت کا ایک وقت مقرر ہے اور تمام لوگوں کومرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔"ہرجان موت چکھنے والی ہے" لیکن اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور اللہ کی طرف بلانے والے داعی کی موت عام آدمی سے مختلف ہوتی ہے۔ عالم کی موت مصیبت اور غمناک ہوتی ہے۔ عالم کی موت اسلام میں ایسارخنہ اور دراڑ پیدا کر دیتی ہے۔ جو بآسانی پر نہیں کی جاسکتی ۔اللہ نے فرمایا :
﴿أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا... ﴿٤١﴾...الرعد
"کیا انھوں نے نے دیکھا اور جانا نہیں کہ ہم زمین کی طرف آتے (نظر کرتے)ہیں اور اس کے اطراف و جوانب سے اسے کم کرتے ہیں۔کہا گیا ہے کہ زمین کو اطراف سے کم کرنے سے مراد "علماء حق کی موت "ہے۔اور بخاری و مسلم  رحمۃ اللہ علیہ  نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی حدیث روایت کی ہے جس میں ہے کہ میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنا فرماتے ہیں ۔"یقیناً اللہ تعالیٰ علم کو بندوں کے سینوں سے نہیں کھینچےگا لیکن علم کو علماء کو فوت کرنے کے ساتھ قبض فرمائے گا۔"
  • جولائی
2000
عبدالرشید عراقی
مولانا عبدالرحمٰن مبارکپوری بن مولانا حافظ عبدالرحیم مبارکپوری محدث جید عالم فقیہ اور مفتی تھے علم حدیث میں تبحر و امامت کا درجہ رکھتے تھے ۔روایت کے ساتھ روایت کے ماہر اور جملہ علوم آلیہ و عالیہ میں یگانہ روزگارتھے قوت حافظہ بھی خداداد تھی حدیث اور متعلقات حدیث پر ان کی نظر وسیع تھی۔مولانا سید عبد الحی حسنی (م1341ھ)لکھتے ہیں ۔
كان ﻣﺘﻀﻠﱢﻌﺎً ﻓﻲ ﻋﻠﻮم اﻟﺤﺪﻳﺚ. ،. ﻣﺘﻤﻴﱢﺰاً. ﺑﻤﻌﺮﻓﺔ أﻧﻮاﻋﻪ وﻋﻠﻠﻪ. ،. وﻛﺎن ﻟﻪ ﻛﻌﺐ ﻋﺎل ﻓﻲ ﻣﻌﺮﻓﺔ أﺳﻤﺎء اﻟﺮﺟﺎل. فن جرح وتعدیل وطبقات المحدثين وتخرج الاحاديث(1)
"علم حدیث میں تبحر علمی کا درجہ رکھتے تھے اور معرفت حدیث انواع حدیث وعلل میں ان کی نظروسیع تھی اسماء الرجال اور جرح و تعدیل طبقات محدثین اور تخریج احادیث  میں ان کو کمال حاصل تھا۔
مولانا براہ راست عامل بالحدیث تھے صفات باری تعالیٰ کے سلسلے میں ماوردبہ الکتاب والسنۃ پر ایمان رکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو علم و عمل سے بھر پورنواز اتھا ۔مدت ذہین ذکاوت طبع اور کثرت مطالعہ کے اوصاف و کمالات نے آپ کو جامع شخصیت بنا دیا تھا (2)صاحب نزہۃ الخواطر نے ان کو علمائے ربانیین میں شمار کیا ہے(3)مولانا ابو یحییٰ امام خان نو شہروی (1966ء)لکھتے ہیں کہ۔
  • جنوری
1995
مفتی محمد عبدہ الفلاح

1270ھ 1854ء کو ایک بڑے زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔والد گرامی کا نام شیخ احمداللہ اوروالدہ کانام بی بی بھی مخدومن ہے۔عمر کے 13ویں سال میں قرآن پاک حفظ کیا۔اس کے بعد عربی ،فارسی کی کتابیں پڑھنا شروع کریں جو اس دور میں رائج تھیں۔مختلف اساتذہ کرام سے ابتدائی کتابیں تحصیل کیں،ان اساتذہ میں مولوی عظمت اللہ ،مولوی محمودعالم رامپوری (1302ھ) اور مولوی محمد یحییٰ عظیم آبادی کےاسماءگرامی خاص طور پر مذکور ہیں۔(1)
اعلیٰ تعلیم کے لئے رحلت:۔
پھر 1290 ہجری کو بیس سال کی عمر میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے حضرت شیخ الکل محدث اعظم سید نزیر حسین دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے کیونکہ اس سے پہلے ان کے بڑے بھائی شیخ عبدالرحیم بھی اسی درس گاہ سے فیض یاب ہوچکے تھے۔دہلی میں دو سال قیام کے دوران حضرت میاں صاحب سےصحاح ستہ،موطا امام مالک،سنن دارمی ،جامع صغیر ہدایہ،جلالین اور اصول حدیث کی کتابیں پڑھیں۔(2) اور دو سال کی قلیل مدت میں تکمیل کے بعد 1292ھ کو حضرت میاں صاحب سےسند لے کر وطن و اپس ہوئے۔(
  • اکتوبر
2010
صلاح الدین یوسف
مولانا مرحوم کی زیارت اور ملاقات کی شدید خواہش تھی، لیکن پاک و ہند کی غیر انسانی حکومتوں اور ان کی سیاسی آویزشوں نے آنے جانے کی راہ میں جو غیر ضروری رکاوٹیں کھڑی کررکھی ہیں، قربِ مکانی کے باوجود اُنہوں نے مشکلات کے ہما لیے کھڑے کردیئے ہیں جنہیں عبور کرنااہلِ علم کے لئے کارے دارد ہے۔
  • اکتوبر
1994
حمیداللہ عبدالقادر
پیدائش 1248ھ/1832ء ۔وفات 1307ھ/1889ء
سید ابو طیب صدیق حسن خان  رحمۃ اللہ علیہ  اکتوبر 1832ء کو بمقام بریلی پیدا ہو ئے ،آپ اردو ،عربی اور فارسی کے نامور ادیب ، عالم دین اور شاعر ،دوسو بائیس کتابوں کے مصنف اور علم و فضل کے اعتبار سے بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں ۔
حسینی سادات کے چشم و چراغ سلسلہ نسب تتیس (33)واسطوں سے جناب سید البشر حضرت نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  تک پہنچتا ہے (1)
ان کے والد گرا می نواب سید اولاد حسن نے دیگر اساتذہ کے علاوہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  سے اکتساب علم کیا تھا ،نواب سید اولاد علی آپ کے دادا تھے جو حیدر آباد (دکن ) میں جاگیرداری کے علاوہ انور جنگ بہادر کے خطاب سے سر فراز تھے(2 )
  • ستمبر
2013
یوسف انور
اگست 1947ء میں تقسیم ملک کےوقت متحدہ ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع لاہور کےمتعلق قیاس آرائیاں یہی تھیں کہ یہ ساراضلع پاکستان میں شامل ہوگا لیکن ہوا یہ کہ ضلع کی تحصیل قصور کے چار تھانے: کھیم کرن، گھڑیالہ، ولٹوعہ اور پٹی شرقی پنجاب میں شامل کردیے گئے۔ ان تھانوں میں سے 'پٹّی' ایک بڑا با رونق قصبہ تھا،آبادی او رپھیلاؤ کےلحاظ سے بھی وسعت رکھتا تھا، پرانے اور نئے شہر کے دو بڑے بازار کاروباری مراکز تھے۔
  • مارچ
1980
اکرام اللہ ساجد
عرب جاہل تھے ،گنوار تھے ، تہذیب و تمدن کی روشنی  سے کوسوں دور وہ  ایک ایسے خطہ کے مکین تھے جس کی تاریخ خاندانی جھگڑوں یا قبائلی جنگوں سے عبارت تھی----- لیکن انھیں اپنے اس اندو ہناک ماضی پر فخر تھا اور اپنے حال کی پستیوں پر ناز ! ---کوئی برائی جو انہیں اپنے  حال کی پستیوں پر ناز ! ------کوئی برائی جو انہیں اپنے آباؤ اجداد سے ورثہ میں ملی تھی، ان کی نظر میں قابل نفرت ، اور کوئی نیکی جسے ان کے آباؤ  اجداد ٹھکرا چکے تھے ، ان کے نزدیک قابل التفات نہ تھی  ----ان کا و جود زندگی کی ہر سعاد ت کی نفی  کرتا تھا ------وہ جس روش پر چل  رہے تھے اسی پر چلتے رہنا چاہتے تھے ----ان کے ماحول کی ظلمتوں کو کسی روشنی کی احتیاج نہ تھی لیکن یہی و ہ ظلمت کدہ تھا جو آئندہ کے لیے روشنی کے ہر جویا کی نگاہوں کا مرکز بننے والا تھا -----اوریہی وہ افق تھا جس کی تاریکیاں آفتاب رسالت کی ضیاء پاشیوں کی اولین مستحق سمجھی گئی تھیں ----ہاں وہ ربع الاول ہی کی ایک صبح درخشاں تھی جس نے مدتوں سے بھیانک تاریکیوں ارو بے نشان راستے پر چلنے والی انسانیت کو ایک نئی روشنی کا پیغام دیا -----اور -----جس نے تاریک رات کے مسافروں کو چونکا دیا تھا :
آفتاب رسالت فاران کی چوٹیوں پر سے نمودار ہو ا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری کائنات کو ایک ایسی  روشنی سے منور کر گیا کہ جس کی تابندگی و تابانی ، زوال و غروب کے الفاظ سے کبھی آشنا نہ ہو سکی اور آئندہ کبھی ہو سکے گی :
﴿هُوَ الَّذى أَرسَلَ رَسولَهُ بِالهُدىٰ وَدينِ الحَقِّ لِيُظهِرَهُ عَلَى الدّينِ كُلِّهِ وَلَو كَرِهَ المُشرِكونَ ﴿٣٣﴾...التوبة
  • جولائی
2005
ادارہ
1. اس وقت صف ِ اوّل كے جو چند علمى، دينى اور اصلاحى ماہنامے پاكستان سے شائع ہوتے ہيں ماہنامہ 'محدث' لاہور ان ميں سے ايك ہے- اس رسالے ميں جو عمدگى ہے، وہ اس كى زندہ مسائل پر اسلامى نقطہ نظر سے وقيع رہنمائى ہے- ابهى جو نيا فتنہ 'عورت كى امامت كا' اسلام دشمن گروہ نے اُٹهايا ہے، ماہ جون كا پورا شمارہ اسى قضيے كے لئے مختص كيا گيا ہے اور اس مسئلے كے ہر گوشے پر سير حاصل بحث كى گئى ہے۔