• فروری
2009
عبدالرزاق ملیح آبادی
امام شافعی رحمة اللہ علیہ کا یہ سفر نامہ ان کے مشہور شاگرد ربیع بن سلیمان نے روایت کیا ہے اور یہاں ابن حجہ کی کتاب ثمرات الأوراق طبع مصر سے ترجمہ کیا گیا ہے۔امام شافعی نے فرمایا:مکہ سے جب میں روانہ ہوا تو میری عمر چودہ برس کی تھی، منہ پر ابھی سبزہ نمودار نہیں ہوا تھا، دویمنی چادریں میرے جسم پر تھیں ۔ ذی طویٰ پہنچا توایک پڑاؤ دکھائی دیا، میں نے صاحب سلامت کی۔ ایک بڑے میاں ، میری طرف بڑھے اور لجاجت سے کہنے لگے: ''تمہیں خدا کا واسطہ،ہمارے کھانے میں ضرور
  • اگست
2005
عبدالجبار سلفی
چمنستانِ رسالت كا يہ بلبل تقريباً ستاسى سال قبل، یعنى 1918ء ميں اس دنيا ميں تشريف لايا اور تقريباً پینسٹھ سال تك مختلف گلستانوں ميں چہچہاتا رہا اور وما جعلنا لبشر من قبلك الخُلد كے ازلى قانون كے تحت 6/اگست 2005ء ميں ہميشہ كے لئے خاموش ہوگيا- آپ كو اللہ تبارك و تعالىٰ نے لحن داوٴدى عطا فرمايا تها اور جب آپ اپنى رسیلى اور سُريلى آواز سے قرآن كى آيات اور حضرت رسالت مآب كى مدح ميں اشعار پڑهتے تو لاكهوں سامعين وجد ميں آكر جهومنے لگتے-
  • اگست
2010
عبدالرشید عراقی
اہل حدیث جماعت میں یہ خبر بڑے رنج و غم سے سنی جائے گی کہ برصغیر کے نامور عالم دین اور واعظ ومبلغ حضرت مولانا عبدالمجید خادم سوہدرویؒ کے پوتے حکیم مولوی محمد ادریس فاروقی ۵؍جون ۲۰۱۰ء کو ۶۶ برس کی عمر میں حرکت قلب بند ہوجانے سے لاہور میں انتقال کرگئے۔ إنا ﷲ وإنا الیہ راجعون
  • دسمبر
2006
حافظ صلاح الدین
عمر ہا در کعبہ و بت خانہ می نالد حیات        تازِ بزم عشق یک داناے راز آید بروں
علم ہوا ہے کہ مولاناصفی الرحمن مبارک پوری؛ مصنف 'الرحیق المختوم' اپنے آبائی قصبے حسین پور (مبارک پور، اعظم گڑھ، بھارت) میں یکم دسمبر 2006ء بروز جمعتہ المبارک دنیاے فانی سے رہ گراے عالم بقا ہوگئے۔ اناﷲ وانا الیہ اجعون!
  • فروری
  • مارچ
2010
حافظ محمد طارق

نام ونسب:

ابو عبیدقاسمؒ دوسری صدی ہجری کے معروف فقیہ ، نحوی اور عالم قرآن تھے ۔ آپ کا نام قاسم، کنیت ابو عبید اور باپ کا نام سلام تھا۔ ابن ندیم نے اپنی معروف تصنیف الفہرست میں اتنا اور اضافہ کیا ہے: «قیل سلام بن مسکین بن زید»

  • اپریل
1992
عبدالرشید عراقی
محدثین کے گروہ میں امام محمد بن اسماعیل بخاری کو جو خاص مقام حاصل ہے ا س سے کون واقف نہیں ہے؟امام بخاری ؒ وہ شخص ہیں جنھوں نے اپنی ساری زندگی خدمت حدیث میں صرف کردی ہے۔ اور اس میں جس قدر ان کو کامیابی ہوئی اس سے ہر وہ شخص جو تاریخ سے معمولی سی واقفیت رکھتا ہے۔وہ اس کو بخوبی جانتا ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ امام المحدثین اور"امیر المومنین فی الحدیث" کے لقب سے ملقب ہوئے اور ان کی پرکھی ہوئی حدیثوں اور اور جانچے ہوئے راویوں پر کمال وثوق کیا گیا اور ان کی مشہور کتاب الجامع الصحیح بخاری کو "اصح الکتب بعد کتاب اللہ"کاخطاب  دیاگیا۔
  • مارچ
1990
عبدالرشید عراقی
544ہجری اور 606ہجری
اُن کی علمی خدمات

( ابن اثیر کے نام سے دو بھائیوں نے شہرت پائی! ایک مجدد الدین مبارک صاحب النہایہ فی غریب الحدیث والآثر (م606ہجری) دوسرے عزالدین ساحب اسدالغابہ (م630ھ) اس مقالہ میں مجد الدین ابن اثیرؒ کے حالات اور علمی خدمات کا تذکرہ پیش خدمت ہے۔(عراقی)
  • جولائی
1990
عبدالرشید عراقی
امام ابن العربیؒ کا شمار اُندلس کے ممتاز محدثین کرام میں ہو تا ہے ان کی بدولت اُندلس میں احادیث و اسناد کے علم کو بڑا فروغ حاصل ہوا ۔امام ابن العربیؒ تقات واثبات میں مشہور تھے ۔ارباب سیر نے ان کے حفظ و جبط ،ذکاوت و ذہانت کا اعتراف کیا ہے ۔اور حدیث میں ان کو متبحر عالم تسلیم کیا ہے ۔ امام ابن العربی ؒ علوم اسلامیہ میں مہارت نامہ رکھتے تھے ۔تفسیر القرآن ،حدیث اصول حدیث،فقہ اصول فقہ ،تاریخ ادب وبلاغت ،صرف و نحواور علم کلام میں ماہر تھے ۔علامہ شمس الدین ذہبیؒ (م748ھ)لکھتے ہیں ۔
  • ستمبر
2004
محمد اسحاق بھٹی
امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے دودمانِ بلند مرتبت کے سلسلۃ الذہب کی ایسی درخشندہ کڑی ہیں جن کی ضیا پاشیاں اُفق عالم کو ہمیشہ منور رکھیں گی اور جن کے علم و ادراک کی فراوانیوں اور فضل وکمال کی وسعتوں سے کشور ِ ذہن مصروفِ استفادہ اور اقلیم ِقلب مشغولِ استفاضہ رہیں گے۔ ان کے جد ِامجد مجدالدین کو حنابلہ کے ائمہ واکابر میں گردانا جاتا تھا اور اہل علم کے ایک بہت بڑے حلقے نے ان کو مجتہد ِمطلق کے پرشکوہ لقب سے ملقب کیا ہے۔
  • جون
1971
محمد اسحاق
نام اور کنیت:

محمد بن جریر نام، ابو جعفر کنیت، طبرستان کے شہر آمل میں ۲۲۴؁ھ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ جب ہوش سنبھالا تو ہر طرف علم و فضل کے چرچے اور زہد و ورع کی حکائتیں عام تھیں، ہوش سنبھالت ہی یہ بھی کسبِ علوم و کمال کی خاطر گھر سے نکل پڑے، دور دراز کے سفر ط کئے اور وقت کے علما و فضلا سے شرفِ تلمذ حاصل کیا، تعلیمی اسفار کے دوران میں آپ کے والد آپ کو باقاعدہ خرچ پہنچاتے رہے۔
  • نومبر
1989
عبدالرشید عراقی
امام ابو الحسن دارقطنیؒ کا شمار ممتا ز محدثین کرام میں ہوتا ہے۔آپ ایک بلند پایہ محدث،متجرعالم اورجُملہ علوم اسلامیہ میں کامل دستگاہ رکھتے تھے۔امام دارقطنیؒ کی شہرت،حدیث میں بدرجہ اتم کمال حاصل کرنے سے ہوئی۔ائمہ فن اور نامور محدثین کرام نے اُن کے عظیم المرتبت اور صاحب کمال ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

علامہ خطیب بغدادی (م463ھ) لکھتے ہیں ،کہ:
  • جنوری
1990
عبدالرشید عراقی
امام ابو القاسم طبرانیؒ ایک بلند پایہ محدث علم و فضل کے جامع حفظ و ضبط ثقاہت واتقان میں بلند مرتبہ تھے ان کے معاصر علمائے کرام اور ارباب کمال محدثین نے ان کے حفظ وضبط اور ثقاہت کا اعتراف کیا ہے اور ان کے صدق و ثقات پر علمائے فن کا اتفاق ہے ۔علامہ شمس الدین ذہبیؒ (م748ھ) فر ما تے ہیں ۔کہ)

"امام ابو القاسم طبرانی ؒ ضبط و ثقاہت اورصدق وامانت کے ساتھ بڑے عظیم رتبہ اور شان کے محدث تھے
  • اگست
1989
عبدالرشید عراقی
امام ابو محمد عبداللہ کا شمارممتاز محدثین کرام میں ہوتا ہے۔قدرت نے ان کو غیر معمولی حفظ وضبط کا ملکہ عطا کیا تھا۔ارباب سیر اورائمہ حق نے اُن کی جلالت ۔قدر۔اورعظمت کا اعتراف کیا ہے۔امام ابو بکر خطیب بغدادی (م643ھ) لکھتے ہیں کہ:
"امام  دارمی ؒ ان علمائے اعلام اور حفاظ حدیث میں سے ایک تھے جو احادیث کے حفظ وجمع کے لئے مشہور تھے۔"[1]
امام دارمی ؒ کی ثقاہت وعدالت کے بھی علمائے فن اور ارباب کمال معترف ہیں۔حافظ ابن حجرؒ (م852ھ) نے تہذیب التہذیب میں امام ابو حاتم رازی ؒ (م264ھ) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ "دارمی ؒ سب سے زیادہ ثقہ وثابت تھے۔"[2]
امام دارمیؒ احادیث کی معرفت وتمیز میں بھی بہت مشہور تھے۔روایت کی طرح درایت میں بھی اُن کا مقام بہت بلند تھا۔ ر وایت اوردرایت میں اُن کی واقفیت غیر معمولی اور نظر بڑی وسیع اور گہری تھی۔
  • اپریل
1985
عبدالرشید عراقی
امام ابو نعیم اصفہانی ؒ جن کا نام احمد بن عبد اللہ تھا ان کا شمار ممتاز محدثین کرام میں ہوتا ہے تفسیر حدیث ،فقہ اور جملہ علوماسلامیہ مہارت تامہ رکھتے تھے حدیث اور متعلقات حدیث کے علوم میں ان کو کمال کا درجہ حاصل تھا حدیث کی جمع روایت اور معرفت و روایت میں شرت وامتیاز رکھتے تھے علوئے اسناد حفظ حدیث اور جملہ فنون حدیث میں تبحر کے لحاظ سے پوری دنیا میں ممتاز تھے ۔
  • مئی
1990
عبدالرشید عراقی
تابعین کے فیض  تربیت سے جولوگ بہر ور  ہوئے۔اوراُن کے بعد علوم دینیہ کی ترقی وترویج میں ایک اہم کردار ادا کیا،اُن میں اسحاق بن راھویہ ؒ کا شمار صف اول میں ہوتا ہے۔آپ علمائے اسلام میں سے تھے۔اہل علم اورآپ کے معاصرین نے آپ کے علم وفضل کا اعتراف کیا ہے۔امام اسحاق بن راھویہؒ نہ صرف علم وحدیث میں بلند مقام کے حامل تھے۔بلکہ دوسرے علوم اسلامیہ یعنی تفسیر ،فقہ،اصول فقہ، ادب ولغت،تاریخ وانساب اور صرف ونحو میں بھی ید طولیٰ رکھتے تھے۔
امام خطیب بغدادی ؒ(م463ھ) لکھتے ہیں کہ:
"امام اسحاق بن راھویہؒ حدیث وفقہ کے جامع تھے۔ جب وہ قرآن کی تفسیر بیان کرتے تھے تو اس میں بھی سند کاتذکرہ کرتے تھے۔[1]
حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ(م852ھ) نے تہذیب التہذیب میں امام ابو حاتم رازی ؒ (م264ھ) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ:
"حدیث کے سلسلہ میں روایت اور الفاظ کا یاد کرنا تفسیر کے مقابلہ میں آسان ہے۔ابن راہویہ ؒ میں یہ کمال ہے کہ وہ تفسیر کے سلسلہ سند کو بھی یاد کرلیتے تھے۔[2]
  • اگست
1984
غازی عزیز
احیاء علم کی تائید میں علماء کی چند آرا:

حافظ زید الدین العراقی صاحب "الفیہ"(م806ھ) جنہوں نے "احیاء علوم الدین" کی احادیث کی تخریج یعنی راوی اور حدیث کادرجہ اور اس کی حیثیت بیان کی ہے کہتے ہیں کہ امام غزالی ؒ کی احیاء العلوم اسلام کی اعلیٰ تصنیفات سے ہے۔عبدالغافر فارسی جو امام غزالی ؒ کے معاصر اور امام الحرمین کے شاگردتھے۔کہتے ہیں۔
  • جولائی
1984
غازی عزیز
تحریر کا پس منظر:

امام غزالی کی شخصیت امت کے نزدیک ایک مختلف فیہ شخصیت رہی ہے۔بعض کے نزدیک یہ جس قدرومنزلت کی حامل ہے اس کے لئے ان کے خوش عقیدگان کی تصانیف کے ہزار صفحات شاہد ہیں۔ لیکن ان بے شمار صفحات کے مطالعہ سے جس چیز کا اندازہ ہوتا ہے۔
  • اکتوبر
1984
غازی عزیر
(قسط 4)

ذیل میں امام غزالی کے کچھ تصوف آمیز اقوال اور ان پر بعض اکابرین کی آراء نقل کی جا رہی ہیں:

امام غزالی کی ایک اہم کتاب جس کی نسبت کے متعلق کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں۔ "المنقذ من الضلال" ہے۔ اس کتاب میں امام غزالی فرماتے ہیں:
  • اکتوبر
1992
عبدالرشید عراقی
امام اسحاق بن راہویہ:امام اسحاق بن راہویہ کا شمار ان اساطین امت میں ہوتا ہے جنھوں نے دینی علوم خصوصاً تفسیر حدیث کی بے بہا خدمات سر انجام دیں۔آپ کے اساتذہ میں امام عبداللہ بن مبارک (م181ھ) امام وکیع بن الجراح اور امام یحییٰ بن آدم کے نام ملتے ہیں۔امام اسحاق بن راہویہ کو ابتداء ہی سے علم حدیث سے شغف تھا۔لیکن اس کے ساتھ ان کو تفسیر وفقہ میں دسترس تھی۔
  • جنوری
1992
عبدالرشید عراقی
دوسری صدی ہجری میں جن ممتاز تبع تابعین نے توحید وسنت کے اشاعت وترویج اور شرک بدعت کی تردید ویبخ کنی میں کارہائے نمایاں سر انجام دیئے۔ان میں امام وکیع بن الجراح ؒ (196ھ) کا نام بھی آتا ہے۔امام وکیع بن الجراحؒ کی تصانیف کے سلسلہ میں ارباب سیر اورتذکرہ نگاروں نے خاموشی اختیار کی ہے لیکن ان کے علم وفضل،عدالت وثقاہت ،ذہانت وفطانت اور زہدوورع کا اعتراف کیا ہے۔امام وکیع بن الجراح ؒ کے علوئے مرتبت اور جلالت شان کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے
  • جون
1989
عبدالرشید عراقی
631ہجری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔676ہجری

امام یحییٰ بن شرف نووی ؒ کا شمار بلند پایہ محدثین کرام میں ہوتا ہے۔ائمہ فن اور تذکرہ نگاروں نے ان کے حنظ وضبط اور عدالت وثقاہت کا اعتراف کیا ہے۔علم حدیث اور اس کے متعلقات سے انہیں غیر معمولی شغف تھا۔اوران کاشمار ممتاز (لفظ مٹا ہوا ہے) حدیث میں ہوتا ہے۔
  • مئی
2010
عطاء اللہ صدیقی
۱۴؍ اپریل کی صبح تقریباً تین بجے دین و ملت کا ایک شاہ بلوط اس دارِ فانی سے ٹوٹ کر اس عالم فنا میں غائب ہو گیا جہاں سے واپس کوئی نہیں آتا۔صبح کو جب اہل لاہور کی آنکھ کھلی تو وہ عالم اسلام کی نامور شخصیت ڈاکٹر اسرار احمد کے انتقال کی خبر سن کر دلی صدمہ سے دو چار ہو ئے۔ شہر لاہور جو اپنے دامن میں علما و فضلا کی موجودگی پر ہمیشہ نازاں رہا ہے،
0
عبدالسلام فتح پوری
دنیا میں حافظِ قرآن تو بہت ہیں لیکن حافظِ نماز بہت کم دیکھنے میں آئے ہیں۔ ان میں سے ایک حضرت مولانا عبد اللہ صاحب کلسویؒ بھی تھے، جو ۱۱ جنوری ۱۹۷۱؁ بروز پیر کی صبح سے چند گھنٹے پہلے ہمیں ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دے گئے۔ انا لله وانا الیه رٰجعون۔

یہ حقیقت ہے کہ ایسے عالم باعمل کے اُٹھ جانے سے جو خلا پیدا ہو چکا ہے وہ مشکل سے ہی پورا ہو گا۔ چند ہی سالوں میں ہم سے علم و عمل کے بیش بہا موتی،
  • مئی
2010
محمد زبیر
راقم الحروف کا محترم جناب ڈاکٹر اسرار احمد سے پہلا شعوری تعارف گریجویشن کے دوران ۱۹۹۸ء میں ہوا۔ اور اس کا ذریعہ، شرک پر ان کی چھ عدد آڈیو کیسٹس بنیں۔ توحید و شرک کے موضوع پر ان کا یہ خطاب اس قدر جامع مانع تھا کہ اس نے ڈاکٹر صاحب ؒ سے ایک تعلق قائم کردیا۔ اس کے بعداپنے گاؤں پنڈی گھیپ، ضلع اٹک میں ہی ڈاکٹر صاحب کی قائم کردہ تنظیم اسلامی کی چھوٹی سی لائبریری سے رابطہ قائم ہوا
  • اپریل
2010
عبدالرشید عراقی
پروفیسر رشیداحمد صدیقی اپنی کتاب 'گنج ہائے گراں مایہ' میں لکھتے ہیں کہ ''موت سے کسی کو مفر نہیں، لیکن جو لوگ ملی مقاصد کی تائید وحصول میں تادمِ آخر کام کرتے رہتے ہیں، وہ کتنی ہی طویل عمر کیوں نہ پائیں، ان کی وفات قبل از وقت اور تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے۔''

شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانبازؒ پر یہ جملہ مکمل طور پر صادق آتاہے جو ۱۳؍ دسمبر۲۰۰۸ء مطابق ۱۴؍ذی الحجہ ۱۴۲۹ھ بروز ہفتہ رات آٹھ بجے سیالکوٹ میں اس دنیاے فانی سے رحلت فرماگئے۔ إنا ﷲ وإنا الیه راجعون!