• جون
1988
غازی عزیر
اس مشہور روایت کو امام ابوالفرج ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے "حسن بن عطیہ عن ابی عاتکہ عن انس رضی اللہ عنہ" کے طریق سے یوں ذکر فرمایا ہے:

«انبانا محمد بن ناصر قال انبانا محمد بن على بن ميمون قال انبانا محمد بن على العلوى قال انبانا على بن محمد بن بيان قال حدثنا احمد بن خالد المرهبى قال حدثنا محمد بن على بن حبيب قال حدثنا العباس بن اسماعيل قال حدثنا الحسن بن عطية الكوفى عن ابى عاتكة عن انس قال قال رسول اللهﷺ : اطلبوا العلم ولو بالصين»
  • اکتوبر
1992
صلاح الدین یوسف
زکواۃ کا انکار؟

حدیث سے انحراف اور قرآن میں تحریف!

مسٹر غلام احمد صاحب پرویز کے نظریات کا پرچارک ماہنامہ"طلوع اسلام" جس کا مشن ہی اسلامی مسلمات کا انکار اور ان کی دوراز کارکیک تاویلات ہے۔
  • اگست
1993
اسحاق زاہد
ہفت روزہ "الاعتصام"لاہور مجریہ یکم جنوری 1993ء میں شیخ الحدیث حافظ ثناءاللہ مدنی کافتویٰ بعنوان"مکروہ اوقات میں تحیۃ المسجد پڑھنے کاجواز" شائع ہواتھا۔جس پر جامعہ عربیہ(حنفیہ) گوجرانوالہ کے ایک فاضل مدرس مولانا محمد امیر نواز نے تعاقب فرمایا ہے جس میں انہوں نے احناف کے اس موقف کو ترجیح دینے کی بھر پور کوشش کی ہے کہ مکروہ اوقات میں تحیۃ المسجد پڑھنا درست نہیں ہے۔
  • نومبر
1976
محمد سلیمان اظہر
قارئین محترم! کسی گذشتہ شمارے میں ہم آپ کے سامنے پریوی کونسل لندن کا ایک تاریخی فیصلہ پیش کرچکے ہیں۔ آپ کو اندازہ ہوچکا ہوگا کہ آج کے بریلوی احباب کا واویلا بعد از مرگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تقلید و عدم تقلید ، رفع الیدین، آمین بالجہر یاقرأت فاتحہ خلف الامام ایسے امور نہیں ہیں کہ ان کاقائل و عامل اہل سنت سے خارج کردیا جائے یا ایسے شخص کی اقتداء میں نماز ناجائز یا مکرہ ہو۔
  • اگست
1979
محمد رمضان سلفی
ماہنامہ "محدث" کی مئی 89ء کی اشاعت میں ہم نے حدیث:
«اوتيت القرآن ومثله معه»
کی صحت کا  تذکرہ کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی تھی کہ منکرین حدیث نے اس حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرکے اُس کی جگہ عملی  طور پر ایسی چیزوں کو"«مثله معه»" یعنی قرآن کی مثل بنا لیا ہے۔جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ اس کے منافی ہیں۔اور جنھیں قرآنی تفسیر میں اختیار کرنے سے حقیقی مسلمان کی روح تک کانپ اٹھتی ہے ۔اسی لئے اہل اسلام قرآنی مطالب متعین کرنے کے لئے شروع سے لے کر آج تک صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات وہدایات(حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف رجوع کرتے رہے کیونکہ کلام الٰہی(یعنی قرآن کریم) سے مراد الٰہی کاتعین کرنے والی حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی وحی ہونے میں قرآن کی مثل ہے۔اگرچہ وحی کی دوسری قسم یعنی وحی غیر متلو کے قبیل سے ہے
  • مئی
  • جون
1982
سعید مجتبیٰ سعیدی
وہ مقدس اور مبارک شہر جس میں مسلمانانِ عالم کا قبلہ، بیت اللہ شریف ہے،مکہ مکرمہ کہلاتا ہے۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت اسی شہر میں ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کی 53 بہاریں اسی شہر میں گزارین۔ بعدہ، جب قریش مکہ کے ظلم و ستم حد سے گزر گئے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو اولا حبشہ کی طرف اور پھر مدینہ کی طرف، ہجرت کی اجازت مرحمت فرمائی۔
  • اپریل
1980
ایم- ایم- اے
مضبوط حکومت کےلئے نئے سے نئے جنگی اورزارا ایجاد  کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ نئے سے نئے آلات موسیقی :
آیات بالا میں حضرت داؤد کی حکومت سے متعلق خبر دی گئی ہے ’’شددنا ملک‘‘ کہ ہم نے ان کی حکومت  کو مضبوط پایا تو اس پر سوال پیدا ہوتا کہ مضبوط  حکومت کے لیے نیا سے نیا اسلحہ ایجادکرنے کی ضرورت ہے یا نئے سے نئے آلات موسیقی  یعنی طبلے طنبورے ،سرنگیاں ،ستاریں ،اکتارے ،کھنجریاں اور گھنگرو ایجاد کرنے کی ؟ سورہ سباء میں حضرت داؤد کے متعلق خبر دی گئی ہے :
﴿وَلَقَد ءاتَينا داوۥدَ مِنّا فَضلًا يـٰجِبالُ أَوِّبى مَعَهُ وَالطَّيرَ وَأَلَنّا لَهُ الحَديدَ ﴿١٠﴾أَنِ اعمَل سـٰبِغـٰتٍ وَقَدِّر فِى السَّردِ وَاعمَلوا صـٰلِحًا إِنّى بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ ﴿١١﴾...سبإ
’’اور بلاشبہ ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے (خلافت ارضی کی )فضیلت  عطا فرمائی  اور اس کی مضبوط جنگی قوت کی بدولت ہم نے اپنے قانون کی زبان سے کہہ دیاکہ ) اے پہاڑی لوگوں ! اور اے  آزاد قبائل ،سب اس کے ساتھ مل کر میرے مطیع ہو جاؤ اور ہم نے اس کےلئے  لوہے کو نرم پایا (اور حکم دیا کہ ) تو زرہیں بنا یا کر اور ان کے حلقوں میں صحیح صحیح  اندازے رکھا کر یعنی تم (لوہے سے جنگی سامان تیار کر کے )صلاحیت بخش عمل کیا کرو۔ بیشک تم جوبھی عمل کرتے ہو میں اسے بہت اچھی طرح دیکھنے والا ہوں !
  • اکتوبر
1976
محمد سلیمان اظہر
ان دنوں بدقسمتی سے ہمارے ملک میں یہ ناخوشگوار بحث چل نکلی ہے کہ وہابی (نجدی) یا اہلحدیث کی اقتداء میں حنفی خصوصاً بریلوی نماز پرھ سکتے ہیں یا نہیں۔ اگر کوئی پڑھ لے تو اس کی نماز ہوجاتی ہے یا نہیں۔ حرمین شریفین کے عالی قدر اماموں کی پاکستان میں آمد اور عوام کی طرف سے ان کی بے پناہ پذیراوی سے بوکھلا کر ہمارے کرم فرماؤں نے یہ بحث شروع کررکھی ہے اور فتویٰ بازی کا بازار گرم ہے۔
  • فروری
1985
غازی عزیر
تاریخِ اسلام کے ابتدائی دور سے ہی کسی نہ کسی شکل میں کچھ گروہ، دین کی تخریب کاری اور امتِ مسلمہ میں انتشار و افتراق کے ذمہ دار رہے ہیں۔ اس گروہ کے مختلف طبقات میں سے ہمیں دو طبقے ایسے نظر آتے ہیں جنہوں نے ادعائے اسلام کے باوجود اسلامی تعلیمات کو شدید مجروح کیا اور اپنی مشقِ ستم کا نشانہ بنایا ہے۔ ان میں سے ایک طبقہ "اہل تشیع" یا "شیعہ" کے نام سے معروف ہے۔ اور دوسرا "اہل تصوف" یا "صوفیاء" کے نام سے۔
  • مارچ
1985
غازی عزیر
امیر المومنین حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے متعلق خمینی کے جو افکار ہیں وہ بھی قابل ذکر ہیں۔ذیل میں ان کی تحریر سے چند اقتباسات نقل کئے جارہے ہیں:
"ایسے حاکم کو عامۃ الناس پر تدبیر مملکت اور تنفیذ احکام کے وہ تمام اختیارات حاصل ہوں گے۔جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور امیر المومنین حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کو حاصل تھے۔خصوصاً بوجہ اس فضیلت اور علو مرتبت [1] کے جو اول الذکر کو رسول خدا اور ثانی الذکر کو امام ہونے کی حیثیت سے حاصل تھا۔"(الحکومۃ الاسلامیہ للخمینی ترجمہ مولانا محمد نصر اللہ خاں ص117) اورفرماتے ہیں کہ:"اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جملہ اہل ایمان کا ولی بنایا ہے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی  یہ روایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے ہر شخص پرحاوی [2]ہے۔"آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امام(حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  )  اہل ایمان کے ولی ہیں۔دونوں کی ولایت کا مطلب یہ ہے کہ ان کے شرعی احکام جملہ اہل ایمان پر نافذ ہیں۔ولایۃ وقضاۃ کا تقرر بھی انہی کے ہاتھ میں ہے اور حالات کے تقاضے کےمطابق ان کی نگرانی اور معزولی بھی انہی کے دارئرۃ اختیار میں ہے۔"(الحکومت الاسلامیہ للخمینی ص119)
  • جنوری
1992
غازی عزیر
غار جبل الثور کے دہانہ پر رونما ہونے والے معجزات کا جائزہ

عام طور پرمشہور ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی جانب سے ہجرت کا اذن مل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے آغاذ میں اپنے رفیق سفر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جبل الثورکے غار میں تین رات تک پوشیدہ رہے
  • اپریل
1985
غازی عزیر
ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ قرآن کریم میں کچھ اس طرح بیان ہوا ہے ،سورۃ البقرۃ میں ارشاد ہوا ہے۔

﴿ وَقُلنا يـٰـٔادَمُ اسكُن أَنتَ وَزَوجُكَ الجَنَّةَ وَكُلا مِنها رَ‌غَدًا حَيثُ شِئتُما وَلا تَقرَ‌با هـٰذِهِ الشَّجَرَ‌ةَ فَتَكونا مِنَ الظّـٰلِمينَ ﴿٣٥﴾ فَأَزَلَّهُمَا الشَّيطـٰنُ عَنها فَأَخرَ‌جَهُما مِمّا كانا فيهِ وَقُلنَا اهبِطوا بَعضُكُم لِبَعضٍ عَدُوٌّ وَلَكُم فِى الأَر‌ضِ مُستَقَرٌّ‌ وَمَتـٰعٌ إِلىٰ حينٍ ﴿٣٦﴾... سورة البقرة
  • فروری
2009
محمد زبیر
'اجتہاد' اور' جہاد' عصر حاضر کی دو مظلوم اصطلاحیں ہیں ۔ معاصراسلامی معاشروں میں جس قدرذہنی انتشار و فکری بگاڑ بڑھ رہا ہے، اس کی بڑی وجہ متجددین کاتصورِ اجتہاد ہے جبکہ دوسری طرف جتنی بھی منہج و عمل کی کج روی ہے، وہ متشددین کے نظریہ'جہاد'سے پھوٹتی ہے۔ویسے تو دنیا بھر میں ہی آئے روز نت نئے عجوبے پیدا ہوتے رہتے ہیں لیکن برصغیر پاک وہند اور مصر کوعالم اسلام میں اس لحاظ سے خصوصی امتیاز حاصل رہا ہے
  • جون
1988
سعید مجتبیٰ سعیدی
فروری سئہ 88ء کا محدث پیش نظر ہے۔ مذکورہ مضمون "معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر منکرینِ معجزات کے اعتراضات کا جائزہ" میں مولانا کیلانی نے:

1۔ تاریخِ مدینہ کی معتبر کتاب "وفاء الوفاء" کے مصنف سمہودی (م 911ھ) کے متعلق لکھا ہے:

"صاحبِ وفاء الوفاء سمہودی دسویں صدی ہجری کے ایک مصنف ہیں، جنہوں نے مدینہ منورہ کے 94 نام لکھ مارے ہیں۔ اس سے "سمہودی" کی بے کار دماغ سوزی کا پتہ چلتا ہے۔"
  • جنوری
1996
عبدالقوی لقمان
مسئلہ خلق قرآن

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفات میں سے ایک صفت اور غیر مخلوق ہے۔ سلف صالحین رحمة اللہ علیھم اور ائمہ اہل السنة والجماعة کا یہی عقیدہ ہے۔ جبکہ جھمیة اور معتزلہ نے اپنے "اصول توحید" کے پس پردہ اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا بھی انکار کرتے ہوئے اسے مخلوق گردانا ہے اور کہتے ہیں کہ
  • نومبر
1995
عبدالقوی لقمان
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَما لَهُم بِهِ مِن عِلمٍ ۖ إِن يَتَّبِعونَ إِلَّا الظَّنَّ ۖ وَإِنَّ الظَّنَّ لا يُغنى مِنَ الحَقِّ شَيـًٔا ﴿٢٨﴾ فَأَعرِ‌ض عَن مَن تَوَلّىٰ عَن ذِكرِ‌نا وَلَم يُرِ‌د إِلَّا الحَيو‌ٰةَ الدُّنيا ﴿٢٩﴾ ذ‌ٰلِكَ مَبلَغُهُم مِنَ العِلمِ ۚ إِنَّ رَ‌بَّكَ هُوَ أَعلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبيلِهِ وَهُوَ أَعلَمُ بِمَنِ اهتَدىٰ ﴿٣٠﴾... سورةالنجم
  • مارچ
  • اپریل
1976
فلپ کے ہٹی
(ڈاکٹر ہٹی (PHILIP K. HITTI) عربی زبان اور تاریخ کے مشہور ماہر ہونے کی حیثیت سے مغربی دنیا میں مشرقِ قریب کے مسائل پر سند سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے عرب اور اسلام کے موضوعات پر متعدد کتابیں لکھی ہیں اور مختلف انسائیکلو پیڈیا کے مقالہ نگار ہیں۔ ان کی کتابیں یورپ اور ایشیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوتی رہی ہیں۔ وہ مختلف یونیورسٹیوں میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہے ہیں۔
  • اگست
1993
عبدالقوی لقمان
ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَدَّ كَثيرٌ‌ مِن أَهلِ الكِتـٰبِ لَو يَرُ‌دّونَكُم مِن بَعدِ إيمـٰنِكُم كُفّارً‌ا حَسَدًا مِن عِندِ أَنفُسِهِم مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُمُ الحَقُّ...﴿١٠٩﴾... سورة البقرة

ترجمہ بہت سے ہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کا فر بنا دیں ۔حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے۔
  • اکتوبر
1995
عبداللہ دامانوی
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی راہنمائی اور قیادت کے لئے انبیاء کرام علیھم السلام جیسی مقدس اور پاکیزہ ہستیوں کو مبعوث فرمایا اور اس کی ابتداء ابوالبشر جناب آدم علیہ السلام سے فرمائی اور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ مقرر فرمایا:

﴿وَإِذ قالَ رَ‌بُّكَ لِلمَلـٰئِكَةِ إِنّى جاعِلٌ فِى الأَر‌ضِ خَليفَةً...﴿٣٠﴾... سور ة البقرة
  • جنوری
1994
ابوبکر الجزائری
(مولانا کوثر نیازی کے جواب میں)

سب سے پہلے عورت کی سر براہی کے جواز یا عدم کے بارے میں اس وقت کی مختلف علمی شخصیتوں نے اخبارات و رسائل میں مضائین لکھنا شروع کئے جب محترمہ فاطمہ جناح صدر محمد ایوب خان کے مقابلہ میں میدان سیاست میں اتریں ۔
  • مئی
1978
برق التوحیدی
پچھلی مرتبہ ہم نے قاضی صاحب کی خدمت میں چند ایک گزارشات پیش کی تھیں اور چند خدشات کی طرف اشارہ بھی کیا تھا لیکن جب قاضی صاحب کے مضمون کی دوسری قسط (جوسرقہ کے متعلق ترجمان القرآن شمارہ 4 جلد88 میں ہے) سامنے آئی تو حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بعینہ وہ خطرات منڈ لا رہے ہیں او روہی مفسدات و منکرات سراٹھاتے نظر آتے ہیں جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا تھا۔
  • جنوری
1985
عبدالمجیب
جب سے پاکستان میں اقامتِ دین کا موجودہ عمل ہوا ہے، اس وقت سے ہمارے چند دانشور ایک الجھن اور خلجان میں مبتلا ہیں۔ ان کی ذہنی پریشانی یہ ہے کہ وہ ایک طرف تو اسلام سے محبت کرتے ہیں اور دوسری طرف معاصر فکر و فلسفہ سے بھی متاثر ہیں۔۔۔اسلام سے تعلقِ خاطر رکھنے کے باوجود عصرِ جدید کے نظریات و نطامہائے حیات اور مغربی تہذیب و تمدن سے ترک، تعلق آسان کام نہیں ہے۔ اور اسی کشمکش میں وہ آج کل اپنے آپ کو ایک دوراہے پر کھڑا پاتے ہیں۔
  • اکتوبر
1995
عبدالرحمن کیلانی
جھاد اسلام کی بلند چوٹی ہے لہذا اس کا جذبہ اسلام کی بقاء اور ترقی کی کلید ہے۔ مسلمان اقلیتوں (بلکہ بوسنیا اور چیچنیا وغیرہ مسلمان اکثریت والے علاقوں) کے خلاف ننگی جارحیت کا اعتراف تو سیکولر ممالک بھی کرنے پر مجبور ہیں لیکن دوسری طرف یہی لادین قوتیں (اقوام متحدہ جیسے مشترکہ عالمی ادارے سمیت) نہ صرف اس ظلم و ستم کے خلاف کوئی عملی کاروائی کرنے سے گریز کر رہی ہے بلکہ اس سلسلہ میں "جہاد" کے نام پر کاروائیاں انجام دینے والوں کو دہشت گرد قرار دینے سے بھی نہیں چوکتیں۔
  • دسمبر
1988
پروفیسر محمد دین قاسمی
پاکستان کی مذہبی فضا  میں غلام احمد پرویز ایک ایسی شخصیت واقع ہوئے ہیں جس نے اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش میں مغربی افکار و کردار کو اصل قرار دے کر قرآن کے نام پر اجتہاد کی قینچی سے اسلام کی کتربیونت میں وہ کچھ کیا ہے جو پاکستان میں کوئی اور شخص نہیں کر سکا۔ یہاں تک کہ اشتراکیت کو من و عن قبول کر کے، اسے عین اسلام ثابت کرنے کے لئے قرآن کریم کو جس طرح عمر بھر تکتہ مشق بنائے رکھا اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ پرویز صاحب نے مارکسزم کو قرآن کریم کے جعلی پرمٹ درآمد کرنے کے لئے جو پاپڑ بیلے ہیں اور جو اشتراکیت کو بہا لانے کے لئے قرآنی تعلیمات میں مسخ و تحریف کی راہ میں جو کوہ کنی کی ہے، پروفیسر محمد دین قاسمی صاحب نے اس کا خوب جائزہ لیا ہے، انہوں نے اس طویل جائزے میں اس امر کو بے نقان کر دیا ہے کہ پرویز صاحب نے کس طرح تصریفِ آیات کے نام پر صرفِ آیات سے کام لیا ہے اور محاورات عرب کی پابندی کے التزام کا دعویٰ کر کے کس طرح اس سے گریز کیا ہے اور قرآنی الفاظ کے قطعی ہونے کی دہائی دے کر کس طرح ان الفاظ میں اپنے خود ساکتہ معانی داخل کئے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے یہ جائزہ منکرینِ حدیث کی مخصوص ذہنی ساخت کے پیشِ نظر صرف قرآن کریم کی روشنی میں لیا ہے۔ اس ماہ سے ہم ماہنامہ "محدث" میں اس جائزے لے کر بالاقساط پیش کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادارہ
  • جون
1989
محمد دین قاسمی
سوشلزم یا کمیونزم کیسا نظام ہے؟پرویز صاحب نے اس کا جواب بڑی تفصیل سے اپنی مختلف کتب میں دیا ہے۔

کمیونزم کا جوتجربہ روس میں ہورہا ہے نوع انسانی کے لئے بدترین تجربہ ہے۔جس میں اول تو انسانی زندگی اور حیوانی زندگی میں فرق نہیں کیا جاسکتا۔دونوں کی زندگی محض طبعی زندگی سمجھی جاتی ہے۔جس کاخاتمہ موت کردیتی ہے۔لہذا اس میں انسانیت کے تقاضے طبعی تقاضوں سے زیادہ کچھ نہیں سمجھے جاتے۔