• ستمبر
1982
عبدالرشید عراقی
جامع صحیح کامقصد ومقصود اعظم : 
                عام نظروں میں امام بخاری ﷫ صرف محدث ہیں اورمحدثین کےمتعلق یہ سمجھ لیاگیا ہےکہ یہ بیچارے صرف جامع ہیں ۔فقہ واستدلال سےان کاکوئی لگاؤ نہیں بلکہ حدیث کا جامع ہونا کچھ ایساعیب سمجھا جاتاہےکہ اس کےساتھ فقہ واستدلال کی خوبیاں بالکل جمع نہیں ہوپاتیں ۔(علوم حدیث میں کم مائیگی کوچھپانے کےلیے یہ کتنی اچھوتی توجیہ ہے؟) یہی وجہ ہےکہ ان لوگوں نےمحدثین کرام کےعطاراورفقہائے کرام کوطبیب (جانچ پڑتال کرنےوالے) کہہ کر اپنی کمزوریوں کوچھپانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ان سب لوگوں کےلیے صحیح بخاری کامطالعہ بہترین جواب ہے۔
  • اپریل
2010
ثریا بتول علوی
اُستاد اپنی بات اپنے شاگردوں تک اسی زبان میں پہنچاتا ہے جس کو وہ بخوبی سمجھ سکیں۔ اگر متعلّم اپنے اُستاد کی بات ہی کونہ سمجھ سکے تو تعلیمی عمل زوال کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو جب کسی قوم کی طرف مبعوث کیا تو وہ ان سے ان کی زبان میں ہی گفتگو کرتا تھا۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے:
  • اپریل
1983
عبدالرشید عراقی
برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث نے اسلام کی سربلندی ، اشاعت ، توحید و سنت نبوی ﷺ کےلیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے او رعلمائے اہلحدیث نے مسلک صحیحہ کی اشاعت و ترویج میں جو فارمولا پیش کیا اس سے کسی بھی پڑھے لکھے انسان نے انکار نہیں کیا او ربمصداق اس شعر کےآزاد رَو ہوں اور میرا مسلک ہے صلح کل ہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے !
  • اکتوبر
  • نومبر
1985
عبدالرشید عراقی
مولانا غلام نبی الربانی کے فرزند ارجمند مولانا حافظ عبد المنان محدث وزیر آبادی م 1334ھ کے داماد اور جماعت اہلحدیث کے مشہور عالم ، واعظ ، خطیب اور صحافی مولانا عبد المجید خادم سوہدروی  م 1379ھ کے والد ماجد تھے ۔
ابتدائی کتابیں اپنے والد مولانا غلام نبی الربانی م 1348ھ سے پڑھیں ۔ اس کے بعد صحاح ستہ بشمول موطا امام مالک ، مشکوۃ المصابیح استاذ پنجاب مولانا حافظ عبد المنان صاحب محدث وزیر آبادی سے پڑھیں ۔
وزیر آباد میں تکمیل کے بعد حضرت شیخ الکل میاں سید محمد نذیر حسین صاحب محدث دہلوی م 1330 ھ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حدیث میں سند حاصل کی ۔ دہلی میں تکمیل تعلیم کے بعد مولانا شمس الحق ڈیانوی عظیم آبادی صاحب عون المعبود فی شرح سنن ابی داؤد م 1329ھ اور علامہ حسین عرب یمانی م 1327 ھ سے سند و اجازہ حاصل کیا ۔
  • جولائی
1983
عبدالرشید عراقی
حضرت شیخ محمد طاہر پٹنی کے بعد علم حدیث کی نشرواشاعت کےسلسلہ میں شیخ عبدالحق بن سیف الدین بخاری کا نام آتاہے۔حضرت شیخ عبدالحق 958ھ (بمطابق 1551ء )کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد شیخ سیف الدین سے حاصل کی، اس کے بعد مختلف اساتذہ کرام سے اکتساب فیض کیا۔ 22 سال کی عمر میں تکمیل تعلیم کے بعد حرمین شریفین کے لیے روانہ ہوئے۔ راستہ میں احمد آباد میں شیخ وجیہ الدین علوی گجراتی (م998ھ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کی صحبت سے فیض حاصل کیا۔
  • جنوری
1986
عبدالرحمن عزیز
چند ماہ پیشتر ''اوّل جیش'' کے تحت جہاد قسطنطنیہ میں یزید کی شمولیت و عدم شمولیت اور قیادت پرطبع آزمائی شروع ہوئی، تو اس کے باعث قارئین میں اضطراب کا تموج پیدا ہوا اور مختلف زبانیں استعمال ہونے لگیں۔ جناب اللہ یار صاحب کی تحقیق یہ تھی کہ یزید اس لشکر میں شامل نہ تھا۔ ان کا یہ مضمون ہفت روزہ ''اہلحدیث'' میں شا ئع ہوا۔اس پر محترم صاحبزادہ برق التوحیدی نےاس موضوع پر قلم اٹھایا اور حتی الوسع یزید کو لشکر مغفور
  • نومبر
  • دسمبر
1975
منظور احسن عباسی
اس پرچہ کے مرقومات چار عنوانوں پر مشتمل ہیں۔

1۔ لمعات

2۔ قربانی کے بارے میں علمائے الجزائر کا فتویٰ
  • مئی
2009
عبدالجبار سلفی
امیر المؤمنین عبد الملک بن مروان قریشی اُموی نے شعراء و اُدبا کے اعزاز میں دی جانے والی دعوتِ عام میں سرد و شیریں مشروبات، لذیذ ترین ماکولات اور رس بھرے تازہ ثمرات اتنی وافر مقدار میں مہیا کئے کہ دربارِ خلافت کے مہمانوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ان میں علماء بھی تھے اور اُمرا بھی، شعرا بھی تھے اور ادبا بھی، مہذب شہری بھی تھے اور گنوار دیہاتی بھی۔
  • جنوری
1983
عبدالرؤف ظفر
معاشرتی احوال و ظروف کے بدلنے کے ساتھ ساتھ اقوام عالم اپنے تجارتی انداز اور ڈھنگ بھی بدلتی رہتی ہیں۔ ہر دور کے اپنے ذرائع پیداوار اور پرکشش سامان ہوتے ہیں۔ زمانہ قبل از اسلام عربوں کے ہاں تجارت کیسی تھی؟ ربوں کا برگزیدہ قبیلہ قریش، ان کی تجارت میں کس مقام پر فائز تھا؟ اس دور میں منڈیاں کیسی تھیں؟ دیگر ممالک کے ساتھ ان کے تجارتی روابط کیسے تھے؟ مختلف موسموں میں وہ کون سے تجارتی سفر کرتے تھے؟ 
  • فروری
2009
زاہد صدیق مغل
دنیا کے ۵ درجن کے لگ بھگ مسلم ممالک میں اس وقت کس نوعیت کا اجتماعی نظام مؤثر طور پر کار فرما ہے، اور یہاں کے 'مسلم'معاشرے کن اساسی تصورات کے تحت تشکیل پارہے ہیں ؟ یہ اس دور کے باشعور مسلمان کے لئے بنیادی اہمیت کا سوال ہے۔ اس بارے میں ایک واضح موقف اختیار کرنے کے بعد ہی معاشرتی اصلاح کے دینی فریضے سے عہدہ برا ہونے کے لئے موزوں لائحہ عمل تجویز اور اختیار کیا جاسکتا ہے۔