• مارچ
2008
حسن مدنی
ان دنوں اہانت ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم پر دنیا بھر میں ایک ہنگامہ برپا ہے، اور عالم کفر اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر یہ 'حق' چھیننے پر تلا بیٹھا ہے کہ وہ دنیا کی مقدس ومتبرک ترین شخصیت کی من مانی توہین کی اجازت حاصل کرے۔ اس مسئلہ کی دیگر تفصیلات سے قطع نظر ذیل میں ان احادیث کو ذکر کیا جاتا ہے جن میں دورِ نبویؐ میں توہین رسالت کرنے والوں کے واقعات درج ہیں
  • دسمبر
1989
شاہ بلیغ الدین
طریقہ طعام:
اُمت مسلمہ کو بہت سا علم امہات المومنین سے ملا۔خاص طور پر حضرت عائشہ   رضی اللہ تعالیٰ عنہا  ،حضرت حفصہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا ،اور حضرت امہ سلمہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے۔سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غذا کھانے پینے کے طریقے اور اس سےتعلق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند یا نا پسند کے بارے میں بھی اُمت کو بہت سی باتیں اُمت کی ماؤں سے معلوم ہوئیں الشفاء میں قاضی عیاض ؒ نے حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کی ایک روایت بیان کی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کھانا پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔اس میں کیا مصلحت تھی۔اس بارے میں حضرت مقدام بن معدی کرب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی ایک روایت ملتی ہے ۔ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  ہے۔اولاد آ دمؑ نے پیٹ سے بڑھ کر بڑا کوئی برتن  نہیں بھرا۔حالانکہ آدمی کے لئے چند لقمے کافی ہیں۔جو اس کی زندگی باقی رکھ سکتے ہیں۔بہتر ہے کہ وہ اپنی بھوک کے تین حصے کرے۔ایک تہائی غذا کےلئے ایک تہائی پانی کے لئے اور ایک تہائی سانس لینے کے لئے چھوڑدے۔نیند کی زیادتی در اصل کھانے پینے کی زیادتی کی وجہ سے ہوتی ہے اس سے مرض بڑھتا ہے۔اور آدمی مکروفریب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
  • اکتوبر
1990
احمد خالد عمر
عقلی علوم وفنون کی مختلف انواع میں سے ایک نوع عقائد انسانی سے بھی متعلق ہے۔اس "علم" کے تحت متعدد ادوار میں بسنے والی انسانی نسلوں کے خیالات سے بحث کی جاتی ہے۔انگریزی میں اس علم کے لیے جو لفظ مخصوص ہے وہ ایک ایسے لفظ سے مشتق ہے۔جو "بت پرستی" کامترادف ہے۔ اور یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ فرنگی علماء عرصہ دراز تک یہی نعرہ لگاتے رہے کہ عالم انسانی کا اولین مذہب"بت پرستی" رہا ہے۔لیکن آپ کو یہ سن کر تعجب ہوگا کہ ماضی قریب کے معدودے چند مفکرین نے ،جو علم انسان،کے چوٹی کے ماہرین فن مانے جاتے ہیں۔برسوں کی تحقیق وتدقیق کے بعد اب یہ فتویٰ صادر کردیا ہے کہ درحقیقت کائنات انسانی کا اولین عقیدہ توحید تھا۔اور اب تک کی ساری ،تحقیقات،کو دلائل قطعی کے ذریعہ رد کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ پہلا انسان موحد تھا !آیئے ان فرنگیوں کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے اس رب الارباب کی بارگاہ الوہیت میں سر بسجود ہوجائیں جس نے صدیوں پہلے ہی اپنے آخری رسول کے ذریعہ اس تاریخی حقیقت کا اعلان کردیا تھا۔کہ پہلا انسان آدمؑ موحد ہی نہیں بلکہ خدا کا پہلا پیغامبر تھا۔
  • مارچ
2006
عبدالجبار سلفی
دنیا میں محبت کی بہت سی وجوہات ہیں، مثلاً ہم وطن ہونا، ہم جماعت ہونا، ہم پیشہ ہونا اورہم قوم ہونا وغیرہ وغیرہ، لیکن ان وجوہات کی بنا پر کسی سے محبت کرنا، فرض ہے نہ واجب ! جبکہ ایمان کی وجہ سے مؤمن بھائیوں اور بہنوں سے محبت کرنا فرض ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے:
وَٱلْمُؤْمِنُونَ وَٱلْمُؤْمِنَـٰتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُ‌ونَ بِٱلْمَعْرُ‌وفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ‌ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَو‌ٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَو‌ٰةَ وَيُطِيعُونَ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُ...﴿٧١﴾...سورۃ التوبہ
''اور مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں باہم ایک دوسرے کے غمگسار اور ہمدرد ہیں، وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، اور نمازقائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔''
  • جون
2000
ادارہ
دینی جماعتوں ،شمع رسالت کے پروانوں اور حکومت کے درمیان بڑھتا ہوا تصادم فوری طورپر ٹل گیا ہے 16/مئی 2000ءکو جنرل پرویز مشرف نے ترکمانستان کے دورہ سے واپسی پر قانون تو ہین رسالت (295۔سی)کے تحت FIRدرج کرانے کے پرانے طریقے کو بحال کرنے کا اعلان کیا۔17/مئی کے تمام اردو اخبارات نے ماسوائے ایک کثیر الاشاعت روزنامے کے، اس اعلان کو شہ سرخی کی شکل میں شائع کیا۔جنرل پرویز مشرف نے اعلان کیا کہ
"حکومت نے توہین رسالت ایکٹ میں کوئی ترمیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ علماء کرام ومشائخ عظام متفقہ طور پر چاہتے ہیں کہ ایف آئی آر براہ راست ایس ایچ او کےپاس درج ہو۔ انھوں نے کہاکہ مجھے ان سب کا احترام ہے اور اس سے بڑھ کر عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ ایف آئی آر کے طریقہ کارمیں تبدیلی نہ ہو۔ میں نے فیصلہ کیا کہ تمام کا یہی فیصلہ ہے کہ اب بھی ایس ایچ اوکے پاس ہی براہ راست ایف آئی آر درج ہو سکے۔
  • مارچ
2008
انور غازی
''ذرادائیں بائیں نظر دوڑائیں تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ ہم کس طرف جارہے ہیں ؟ بادیٔ النظر میں آپ کو یہ ہرگز معلوم نہیں ہوگا کہ جس ملک میں آپ رہ رہے ہیں ، اس میں اندر ہی اندر ایک مسلسل جنگ چل رہی ہے، لیکن تھوڑا سا ذرا غور کرنے سے آپ جان جائیں گے کہ ایک جنگ جاری ہے اور اس میں ہمیں اپنا دفاع کرنا ہوگا۔
  • اپریل
2006
عبدالجبار سلفی
سب تعریفیں اللہ ربّ العزت کے لئے اور لاکھوں درود و سلام سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل و اصحاب پر ... ڈنمارک میں ہونے والے اُن واقعات کو کسی طرح بھی قبول نہیں کیا جاسکتا جن میں اہانت ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارتکاب کیا گیا اور ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو نشانہ بنایاگیا ہے۔
  • مارچ
2006
حسن مدنی
مسلمان دنیا بھر میں ان دنوں توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف پرزور احتجاج کررہے ہیں اور اس سلسلے میں میڈیا پر ہرطرح کی خبریں، مظاہرے ومباحثے، مضامین اور مقالات شائع ہو رہے ہیں اورعملاً یہ احتجاج روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔اس کے بالمقابل اس ظلم کا ارتکاب کرنے والے اپنی زیادتی پر بھی اصرار جاری رکھے ہوئے ہیں۔
  • جنوری
2011
ابتسام الہی ظہیر
توہین رسالت کا مسئلہ قرآن وسنت میں بڑی شرح وبسط سے بیان ہوچکاہے ، اور اجماع امت سے اس کی توثیق ہوچکی ہے ۔ توہین رسالت کے حوالے سے جو اعتراضات بالعموم اُٹھائے جاتے ہیں، ان کا حقیقت میں نہ علم سے تعلق ہے اور نہ ہی قرآن کے متون سے ان کا کوئی دور کا واسطہ ہے ۔ اسی طرح تفسیر وحدیث اور نہ ہی اجماعِ اُمت اس کی تائید کرتے ہیں ۔ 
  • جولائی
1986
اکرام اللہ ساجد
یہ افسوسناک واقعہ 17 مئی کی شام کو اسلام آباد ہوٹل میں ایک سیمینار کے دوران پیش آیا۔ روزنامہ جسارت کے الفاظ ہیں: ''خواتین محاذ عمل اسلام آباد کے ایک جلسے میں صورت حال اس وقت سنگین ہوگئی، جب ایک خاتون مقرر عاصمہ جیلانی نے شریعت بل کے خلاف تقریر کرتے ہوئے سرور کائناتؐ کے بارے میں غیر محتاط زبان استعمال کی۔ اس پر ایک مقامی وکیل نے احتجاج کیا اور کہا کہ رسول خداؐ کے بارے میں گفتگو کرتے
  • فروری
2011
حسن مدنی
توہین رسالت کےحوالہ سے ملک بھر میں جاری بحث مباحثہ میں بعض ایسے اعتراضات بھی اُٹھائے جارہے ہیں جن سے یہ تاثر دیا جاسکے کہ توہین رسالت کی سزا یا تو شرعی طورپر ایک مسلمہ امر نہیں، یا اس کا اطلاق موجودہ حالات پر نہیں ہوتا۔ اس نوعیت کے اعتراضات نے چونکہ میڈیا کے ذریعے ہر عام وخاص کو متاثر کیا ہے، اس لئے ان کے بارے میں شریعت ِاسلامیہ کے موقف کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔
  • مارچ
2006
محمد علی جانباز
اسلام ذاتِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھومتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکات پر ایمان لانے کے بعد ہی انسان حلقہ اسلام میں داخل ہوتا ہے اور نبی آخر الزمانؐ سے دنیا جہاں سے بڑھ کر محبت رکھنا ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ دین کے تمام احکامات کے ہمارے علم میں آنے اور خود قرآن کے معلوم ہونے کا مصدر ومحور بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ذاتِ گرامی ہے۔پھر قرآن کریم میں جابجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت ہی قرار دیا گیا ہے۔
  • جولائی
1990
غازی عزیر
(ج)حضرت آدم علیہ السلام کی وسیلہ اختیار کرنے والی حدیث کے آخر میں (عربی)(یعنی اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہو تے تو میں تم کو بھی پیدا نہ کرتا )وارد ہے جو عقائد سے متعلق ایک اہم ترین مسئلہ ہے چونکہ اسے لیے کو ئی متواتر نص موجود نہیں ہے لہذا کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی صحت ثابت کرنا محال ہے اس حدیث کو مختلف لوگ مختلف الفاظ اور مختلف مضامین کے ساتھ بیان کرتے ہیں شعیہ حضرات اور باطنیہ فرقہ کے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ :
  • جنوری
2011
امین اللہ پشاوری
اللہ تبارک وتعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو دنیا وآخرت کی تمام خیرات وبرکات، بھلائیوں اور خوشیوں کے حصول کا سبب بنایا ہے۔ اور یہ بھلائی اور خوشنودی انسان کو نبی ﷺ کے توسط کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی ۔ ان بھلائیوں وبرکات میں سرفہرست یہ کہ
1.آپ ہدایت یافتہ رحمت ہیں ۔ جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے:
  • مارچ
2006
شیخ راشد الخالد
خطبہ مسنونہ کے بعد ...
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْ‌سَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرً‌ا وَنَذِيرً‌ا ﴿٤٥﴾ وَدَاعِيًا إِلَى اللَّـهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَ‌اجًا مُّنِيرً‌ا ﴿٤٦﴾ وَبَشِّرِ‌ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُم مِّنَ اللَّـهِ فَضْلًا كَبِيرً‌ا ﴿٤٧﴾ وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِ‌ينَ وَالْمُنَافِقِينَ وَدَعْ أَذَاهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ وَكِيلًا ﴿٤٨...سورۃ الاحزاب
''اے نبیؐ، ہم نے تمہیں بھیجا ہے گواہ بنا کر، بشارت دینے والا اور ڈرانے والابناکر، اس کی اجازت سے اس کی طرف دعوت دینے والا بنا کر اور روشن چراغ بناکر۔ آپ ان لوگوں کو بشارت دیں جوآپ پر ایمان لائے ہیں کہ ان کے لئے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے اور آپ کفار و منافقین سے ہرگز نہ دبیں اور ان کی اذیت رسائی کی کوئی پرواہ نہ کریں ، اور اللہ پر ہی بھروسہ کریں، اللہ ہی اس کے لئے کافی ہے۔''
  • فروری
1986
طیب شاہین لودھی
اللہ تعالیٰ نے کسی نسلی یا جغرافیائی تخصص و امتیاز کے بغیر، تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے اپنے آخری نبی حضرت محمدﷺ کو مبعوث فرمایا۔ تمام انسانوں کو آپؐ کے ذریعے نجات کی راہ بتلائی۔ آپؐ کی اتباع اور آپؐ کی محبت کو لازمہ ایمان قرار دیا۔ مومن ہونے کے لیے تمام اہل ایمان پر لازم اور واجب ٹھہرایا کہ وہ اپنی جان و مال، ماں باپ، اولاد اور دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر آپؐ سے محبت کریں۔
  • مارچ
1986
طیب شاہین لودھی
''اگر کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ یا کسی نبی کو گالی دے تو یہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب ہے۔ آپؐ کی تکذیب کفر و ارتداد ہے۔ ایسے شخص سے توبہ کروائی جائے اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو اسے قتل کردیا جائے اور اگر کوئی ذمی کھلے عام، اعلانیہ، اللہ تعالیٰ یا کسی نبی کو گالی دیتا ہے تو یہ عہد شکنی ہے، لہٰذا اسے قتل کرو۔''
  • جنوری
1982
اکرام اللہ ساجد
ربِ ذوالجلال والاکرام کے لیے یہ کچھ مشکل نہ تھا کہ چھٹی صدی عیسوی کے وہ لوگ جو دینِ حنیف کو چھوڑ کر شرک کی بھول بھلیوں میں گم ہو چکے اور معبودِ حقیقی سے منہ موڑ کر سینکڑوں خود ساختہ خداؤں کے سامنے اپنی پیشانیاں رگڑ رہے تھے، اچانک ایک ایسی زور دار آواز سے ۔۔۔ کہ جس کو وقت کا ہر ذی شعور سن اور سمجھ سکتا ۔۔۔ چونک اٹھتے کہ: "لوگو، فلاں مقام پر ایک کتاب موجود ہے، جاؤ اسے تلاش کر کے اس پر عمل کرو اور اس میں اپنی دنیاوی اور اخروی فلاح کے سامان تلاش کرو کہ یہ کتاب کتابِ ہدایت ہے ۔۔۔ اور اس کے کتابِ الہی ہونے میں کچھ بھی شک نہیں" ۔۔۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔
پھر یہ بھی نہیں ہوا کہ ایک خاص وقت میں ایک کتاب آسمانوں سے اس طرح اترتی کہ اس کے نزول کی کیفیت کو وقت کا ہر انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ۔۔۔ اور اس بناء پر لوگوں کو اس کے "منزل من اللہ" ہونے کا یقین ہو جاتا تاکہ وہ اپنی زندگیاں اس کی ہدایات کے تحت بسر کر سکیں ۔۔۔ یہ، اور ایسی کسی بھی صورت کو واقعات اور عقل تسلیم کے لیے تیار نہیں ہیں!
  • مارچ
2017
مفتی محمد خان قادری
روزنامہ ’جنگ‘ کی اشاعت مؤرخہ 13؍جنوری 2017ء کی وساطت سے معلوم ہوا کہ سینٹ آف پاکستان کی ’قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق‘ قانونِ توہین رسالت کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے چوبیس سالہ پرانی تجاویز پر غوروفکر کرنے لگی ہے ۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ اس قانون کے تحت جھوٹے مقدمات کی روک تھام کے لیے غوروفکر کیا جائے اور اگر ضروری سمجھا جائے تو ضوابطی قوانین (Procedural laws) میں تبدیلیاں بھی لائی جائیں
  • مارچ
2017
حسن مدنی
’اہانتِ رسول کامسئلہ‘ ان دنوں پھر میڈیا میں زوروں پر ہے، ایک طرف قانون توہین رسالت کو رگیدا جارہا ہے تو دوسری طرف اُس کے غلط استعمال کی دہائی دی جارہی ہے۔ کچھ لوگ اس قانون کے نمائشی ہونے کا شکوہ کررہے ہیں کہ سیکڑوں مقدمات کے باوجود اس کی بنا پر آج تک کسی کو سزا نہیں ہوسکی اور ان کا موقف ہے کہ معاشرے میں پھیلی انارکی کی وجہ دراصل عدالتی عمل کا تعطل یا اس پر بے اعتمادی ہے۔
  • جنوری
2005
محمد اسماعیل قریشی
مملكت ِ خداداد ِ پاكستان كے صدر جنرل پرويز مشرف نے 21/ مئى 2000ء ميں اعلان كيا تها كہ توہين رسالت كے قانون كا غلط استعمال ہورہا ہے، اس لئے اس كے ضابطہ كار (Procedural Law) كو تبديل كرنا چاہئے- راقم نے اس تجويز سے اختلاف كرتے ہوئے اس پر گہرى تشويش كا اظہار كيا تها كہ موجودہ طريق كار ميں تبديلى توہين رسالت كے قانون كو غير موٴثر بنانے كى ناروا كوشش ہے- شروع ہى سے اس كے پس پردہ امريكہ اور يورپ كى متعصب عيسائى ذہنيت كار فرما رہى ہے اور ايسى كوشش قومى اشتعال انگيزى كا باعث ہوگى- چنانچہ يہى ہواكہ پاكستان كى دينى اور سياسى جماعتوں نے اس ترميم كى مخالفت كرتے ہوئے اس كے خلاف ملك بهر ميں احتجاجى مظاہرے شروع كرديے-
 
  • جنوری
2005
محمد اسماعیل قریشی
مملكت ِ خداداد ِ پاكستان كے صدر جنرل پرويز مشرف نے 21/ مئى 2000ء ميں اعلان كيا تها كہ توہين رسالت كے قانون كا غلط استعمال ہورہا ہے، اس لئے اس كے ضابطہ كار (Procedural Law) كو تبديل كرنا چاہئے- راقم نے اس تجويز سے اختلاف كرتے ہوئے اس پر گہرى تشويش كا اظہار كيا تها كہ موجودہ طريق كار ميں تبديلى توہين رسالت كے قانون كو غير موٴثر بنانے كى ناروا كوشش ہے۔
  • جنوری
2011
حسن مدنی
سیکولر لابی کے لگاتار دباؤاور عالمی قوتوں کے پرزور اِصرارکا مقصدیہ ہے کہ پاکستان میں اسکو کتابِ قانون سے حذف یاکم ازکم غیرمؤثر کردیا جائے۔جبکہ ایک اسلامی ریاست ہونے کے ناطے حکومت کا یہ بنیادی فرض بنتاہے کہ یہاں براہِ راست کتاب وسنت کو نافذ کرکے پاکستان کے مقصد ِوجود کے مطابق ضروری اقدامات کئے جائیں۔
  • جنوری
2011
خالد حسین
ملک کی دِگرگوں حالت اور دین اسلام پر اُٹھنے والے تند وتیز اعتراضات اور حدودِ شرعیہ سے متعلق اُٹھائے جانے والے احمقانہ سوالات نے اُمتِ مسلمہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اُمت کے ایک عام فرد کے لئے حق وباطل میں تمیز مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے ۔ اس طوفانِ بدتمیزی کی انتہا یہاں آکر ختم ہوتی ہے
  • جنوری
2011
مسعود احمد
قرآن وسنت، اجماع اور ائمہ امت کے اقوال کی روشنی میں
حمد وثنا کے بعد! رسو ل اکرم ﷺ کے اکرام واحترام، تعظیم وتوقیر کے حوالے سے اُمت مسلمہ کی جو ذمہ داری ہے،قرآنِ مجید میں اس کوواضح طور پر بیان کردیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اُمت کو کس طرح ان فرائض کو ادا کرنا چاہئے ۔