• جنوری
2005
نامعلوم
انسان اللہ تعالىٰ كى نافرمانى كرتے ہوئے اس بات كو بهول جاتا ہيں كہ اللہ تعالىٰ رحيم وكريم ہونے كے ساتھ سب سے بڑا عدل وانصاف كرنے والا اور اپنے وعدوں كو سب سے زيادہ پورا كرنے والا بهى ہے- چنانچہ وہ اپنے نافرمانوں اور اطاعت كرنے والوں كے ما بين بهى پورا پورا انصاف كرے گا اور حسب ِوعدہ بھلائى اور برائى كے ايك ايك ذرّے كا اللہ تعالى حساب لے گا اور اس كا بدلہ عطا كرے گا۔
  • مارچ
2005
نامعلوم
دوزخيوں كو جہنم ميں جسمانى اور باطنى ہر دو قسم كے عذابوں سے دوچار ہونا پڑے گا- حسى عذاب كى يہ صورتيں ہوں گى :
(1)آگ جو اب لاكهوں ہزار سال جلنے كے بعد كالى سياہ ہوچكى ہے، جہنمیوں كے چہرے بهى اسى طرح كالے سياہ ہوجائيں گے :
وْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْ‌تُم بَعْدَ إِيمَـٰنِكُمْ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُ‌ونَ ﴿١٠٦...سورۃ آل عمران
  • جنوری
1993
ممتاز احمد
آخرت ، اسلام کا ایک اہم سیاسی تصور جو انسانوں کی فکر و سوچ اور معاشی روّیوں پر بہت گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آخرت کی زندگی ہی حقیقی اور لافانی زندگی ہے۔ انسان کی کامیابی کا مطلوب و مقصود اسی زندگی میں سرخروئ ہے یہ دنیا انسان کے لیے ہے لیکن انسان آخرت کے لیے ہے۔ خالق و مالک کائنات نے اس دنیا پر انسان کو آزمائش کے لیے بھیجا ہے۔ یہ دنیا دراصل دارالامتحان ہے موت و حیات کا سلسلہ اسی مقصد کے لیے بنایا گیا ہے۔
  • نومبر
1983
عبدالرحمن کیلانی
صاحب مضمون مولانا عبدالرحمٰن کیلانی زید مجدہ کا یہ مقالہ دراصل محمد صادق صاحب (کراچی) کے اس مراسلہ کا جواب ہے۔ جس میں انہوں نے لکھا ہے:''حال ہی میں ماہنامہ ''المعارف'' لاہور (شمارہ دسمبر 1982ء) میں جناب شہیر نیازی صاحب کا مضمون ''آدم جنت ارضی میں'' پڑھ کر ذہنی الجھن میں مبتلا ہوگیا ہوں کہ قرآن و احادیث صحیحہ کی رو سے صحیح حقیقت کیاہے؟چنانچہ میں اس مضمون کی عکسی نقل آپ کے پاس بغرض علمی
  • اپریل
2008
اختر علی
بھلائی کاکوئی کام ایسا نہیں جس کی طرف شریعت ِمطہرہ نے ہماری رہنمائی نہ کی اور ہمیں اس کی رغبت نہ دلائی ہو۔ اوربرائی کا کوئی بھی کام ایسا نہیں ہے جس سے شریعت نے ہمیں ڈرایااور اس سے منع نہ کیا ہو۔ شریعت نے خیر وشر ہردو پر عمل کرنے والے شخص کا انجام بالکل واضح کردیا ہے۔ چنانچہ ایسا شخص جو بھیانک انجام سے ڈرنے والا ہو،
  • جولائی
1996
جان پلِگر
حدیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  پر ایمان لانا ایمانیات میں شامل ہے۔
عذاب القبر کا عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک ہے اور باطل فرقوں کے علاوہ کسی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا۔اور جن فرقوں نے اس عقیدہ کا اظہار کیا۔انہیں اس مقصد کے لئے حدیث کا بھی انکار کرناپڑا۔حالانکہ احادیث صحیحہ کا انکار قرآن ہی کا انکار ہے۔قرآن وحدیث دونوں ہی ہیں۔اور ان میں سے کسی ایک انکار وحی کا انکار ہے اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:
﴿اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ ﴿٣﴾...الاعراف
"جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی اتباع کرو۔اور اس کے علاوہ دوسرے اولیاء کی اتباع نہ کرو۔مگرتم نصیحت کم ہی مانتے ہو۔"(الاعراف:3)
معلوم ہو اکہ اتباع صرف اسی کی ہے۔جو رب کی طرف سے نازل کیاگیا۔اس کے سوا کسی اور کی اتباع ممنوع ہے۔مگر اس نصیحت کو کم ہی لوگ مانتے ہیں۔کیونکہ کوئی اپنے بڑوں کی اتباع وپیروی کرتاہے۔کوئی اپنے اماموں اور علماء کی اتباع کرتاہے اور کوئی اپنے نفس کی اتباع کرتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ ﴿٣٣﴾...محمد
"اے ایمان والو!  اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت کرو رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی۔اور ان کی اطاعت سے منہ موڑ کر اپنے اعمال ضائع نہ کرو"
اللہ تعالیٰ یا رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  میں سے کسی ایک کی اطاعت سے انکار،اعمال کو ضائع(برباد) کرنے کے مترادف ہے۔اوراطاعت کے لحاظ سے دونوں اطاعتوں میں کوئی فرق نہیں  کیونکہ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی اطاعت بھی اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے:
  • اپریل
2007
محمد ارشد کمال
اسلامی عقائد میں سے ایک عقیدہ عذابِ قبر کا بھی ہے جو نہ صرف قرآنِ مجید بلکہ صحیح اور متواتر احادیث سے قطعیت کے ساتھ ثابت ہے، نیز عام اہل سنت کا اس پر اجماع ہے کہ مرنے کے بعد ہرانسان سے عالم برزخ میں سوالات ہونے ہیں ، خواہ اسے قبر میں دفن کیا جائے یا نہیں ، اسے درندے کھا جائیں یا پھر آگ میں جلا کر ہوا میں اُڑا دیا جائے یا وہ پانی میں ڈوب کر مرجائے اور اسے مچھلیاں اپنی خوراک بنالیں۔
  • نومبر
1982
اکرام اللہ ساجد
آپ نے اکثر شام کے وقت غروب آفتاب کامنظر دیکھاہوگا..... اتنابڑا سورج جوآپ کی زمیں سے بھی کئی گنابڑا ہے اپنے دن بھر کے سفر کےبعد مغرب کے رخ دور بہت دور درختوں مکانون پہاڑیوں یا بادل کے چند ٹکڑوں کی اوٹ میں اتنی سعادتمندی سے چھپ جاتا ہے جھک جاتاہے اس تیزی سے زمین کی گود میں گرتا ہوا محسوس ہوتا ہے یوں جیسے کہ کسی بہت ہی مقتدر اور اعلیٰ تیزی زمین کی گود میں گرتا ہوا محسوس ہوتا ہے
  • نومبر
2000
صفی الرحمن مبارک پوری
برصغیر(پاک وہند) کی ملت اسلامیہ کی بدقسمتی یا آزمائش کہہ لیجئے کہ یہ پورا خطہ پرسوز طرح طرح کے دینی  فتنوں کی آماجگاہ ہے اور یہاں خودمسلمان کے اندرسے اسلام دشمن فتنے جنم لیتے رہتے ہیں۔کوئی صدی  بھر سے ر سول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث کو دین سے بے دخل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس سلسلے میں تشکیک کے نت نئے پہلو سامنےآتے رہتے ہیں۔کچھ دنوں سے یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ قبر کےعذاب وثواب کاعقیدہ غلط اور قرآن کے خلاف ہے۔
پیش نظر کتابچہ میں اسی خیال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ عقیدہ حدیث ہی کی طرح قرآن سے ثابت ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس عقیدہ کو نہ ماننے والے حدیث کے تو منکر ہیں ہی،قرآن کے بھی منکر ہیں۔یعنی ایسے لوگ نہ قرآن کو سمجھتے ہیں اور نہ اس پر ایمان رکھتے ہیں۔پہلے یہ بات ذہن نشین کرلیجے کہ عذاب وثواب قبر کامطلب ہے :مردے کو برزخ میں(موت کے بعد) اورقیامت سے  پہلے کی مدت میں عذاب یاثواب ملنا۔اتنی سی بات ذہن میں رکھ کر قرآن مجید سے اس کا ثبوت سنیے:
  • جولائی
1990
سعید مجتبیٰ سعیدی
عام طور پر لوگوں میں مشہور ہے کہ قیامت کے روز لوگوں کو والد ہ کی طرف نسبت کر کے پکارا جا ئے گا ۔مگر یہ بات عقلاً غیر معقول ہے۔
چونکہ انسان کا نسب والد کی طرف سے چلتا ہے نہ کہ والدہ کی طرف سے اس لیے جس طرح دنیا میں انسان کی نسبت والد کی طرف ہو تی ہے اسی طرح آخرت میں بھی ہر انسان کو والد ہی کی طرف نسبت کر کے پکارا جا ئے گا ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادیت چونکہ معجزانہ طور پر والد کے بغیر ہوئی تھی ۔اس لیے ان کی نسبت والدہ ہی کی طرف ہو گی ۔
ان کے علاوہ عام انسانوں کو والدہ کی نسبت سے پکارے جا نے کے بارے میں مندرجہ ذیل ایک حدیث روایت کی جاتی ہے۔
  • فروری
1989
عبدالغفور عاجز
موت اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ آئینی جابطہ ہے جس سے کسی ذی روح کو فرار میسر نہیں۔ ہر انسان اپنی زندگی کے مکتلف ادوار بچپن، جوانی یا بڑھاپا۔ کسی حصہ میں بھی کسی وقت بھی اچانک اس آئین کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اس آئین کے تفصیلی پہلوؤں میں سے ایک تو یہ ہے کہ اس کا اطلاق ہر جاندار پر بلا تخصص و استثناء ہوتا ہے۔ چاہے وہ خود صاحبِ آئین اللہ جل شانہ، کا برگزیدہ رسول یا نبی ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ارشاد ہوتا ہے:
﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ ﴿٣٠﴾ ... الزمر 
"آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے۔"
  • اپریل
1985
عبدالرحمن کیلانی
مولانا عبد الرحمن کیلانی صاحب کے قرآن مجید سے انکار سماع سے متعلق دلائل اور ان کا تجزیہ
دلیل نمبر 1:
﴿والذين يدعون .......... ﴾ترجمہ ۔ ’’ اور جنہیں خدا کے سوا یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ پیدا نہیں کر سکتے ۔ بلکہ وہ خود پیدا شدہ ہیں وہ لاشیں ہیں بےجان ۔
کیالنی صاحب نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اموات غیر احیاء کا اطلاق نہ جنوں پر ہو سکتا ہے نہ فرشتوں پر ....... باقی صرف فوت شدہ بزرگ رہ جاتے ہیں جن پر اس آیت کا اطلاق ہو سکتا ہے ۔
کیلانی صاحب کا اخذ کردہ یہ نتیجہ چند وجوہ کی بنا پر باطل ہے ۔ فوت شدہ بزرگوں میں انبیاء کرام ، صدیقین ، شہداء ، صالحین بھی داخل ہیں ۔ انبیاء کرام کی حیات قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
﴿واسئل من ارسلنا من قبلك من رسلنا اجعلنا من دون الرحمن يعبدون ﴾(1) 
ترجمہ : وہ رسول و نبی جو ہم نے آپ سے پہلے مبعوث فرمائے ان سے پوچھ(9حوالہ) لیجئے کہ ہم نے ذات رحمن جل وعلی کے بغیر کئی معبود مقرر کیے ہیں جن کی عبادت کی جائے یقینا ایسا نہیں ۔
  • مارچ
1985
عبدالرحمن کیلانی
(سماع موتیٰ سے یکسر انکار کرنے والوں کےبعد اب سماع موتیٰ کے قائلین کی طرف سے اعتراضات کی باری آئی۔اس سلسلے میں چوہدری محمد علی صاحب حنفی(پکا ڈیرہ ورائچاں کوٹ رنجیت ضلع شیخو پورہ) کی طرف سے ادارہ محدث کے نام ایک طویل ترین خط موصول ہوا۔جو خط سے زیادہ مضمون کی حیثیت رکھتا ہے۔اور ساتھ ہی آخر میں یہ آرزو کی گئی ہے کہ:
"آخر میں میں اُمید کرتا ہوں کہ ادارہ"محدث" جو کتاب وسنت کی روشنی میں آزادانہ بحث وتحقیق کا حامی ہے تصویر کا دوسرا رخ بھی شائع کرنے کی زحمت گوارا کر ے گا۔تاکہ"محدث" کا مطالعہ کرنے والے حق وباطل کوخود پرکھ سکیں۔"
یہ خط یا مضمون فل سکیپ کے مکمل دس صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔تحریر گنجان ہے جو محدث کے کم وبیش 25 صفحات کا متقاضی ہے۔
  • مئی
1985
عبدالرحمن کیلانی
ثبوت سماع موتیٰ احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے!
1۔سماع موتیٰ کے باب میں قلیب بدر والی حدیث مشہور ومعروف ہے۔جو حضرت عبداللہ ابن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت عمر ابن خطاب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت ابو طلحہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت انس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت  عبداللہ ابن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  جیسے کبار صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  سے مروی ہے۔ان کی روایات بخاری مسلم شریف میں موجود ہیں۔
2۔میت جوتیوں کی آہٹ کی آوازسنتا ہے۔یہ حدیث بھی سماع موتیٰ پر دلالت کرتی ہے یہ حضرت انس بن مالک  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت براء بن عازب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سےمروی ہے۔
3۔ترجمہ۔طبرانی نے اوسط میں عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے نقل کیا اور حاکم وبیہقی نے حضرت ابو ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت کیا حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب احد سے مراجعت فرماہوئے توحضرت مصعب ابن عمیر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور ان کے ساتھیوں کے مزارات پرتشریف لے گئے اور فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کے نزدیک زندہ ہو پر اپنے امتیوں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور بعد میں آنے والوں کوحکم فرمایا کہ ان شہداء کرام کی زیارت کرو...
  • اپریل
  • مئی
1984
اکرام اللہ ساجد
ان القبر اول منزل من منازل الاخرة(الحديث)

پُر رونق اور زندگی سے بھر پور بستیوں میں سے رہنے والوں میں سے شائد ہی کوئی شخص ایسا ہوگاجس نے کسی شہر خموشاں کا نظارہ نہ کیا ہوگا۔۔۔۔اورشائد ہی کوئی بستی ایسی ہوگی،جس کے دامن میں مشاغل حیات سے لا تعلق اور زندگی کے ہنگاموں سے بے نیاز،مہیب اورجامد سناٹوں کے درمیان ہُو کے عالم میں،
  • اکتوبر
  • نومبر
1985
عبدالرحمن کیلانی
اگست 85ء کے شمارہ میں شاہ فاروق ہاشمی صاحب کے دو سوالات کے جوابات مدیر محدث حافظ عبد الرحمن مدنی کے قلم سے شائع ہوئے تھے ۔ اب ہاشمی صاحب کے بقیہ سوالات اور ان کے جوابات مولانا عبد الرحمن کیلانی کی طرف سے ہدیہ قارئین ہیں ۔ ( ادارہ )
ہاشمی صاحب لکھتے ہیں کہ :
3۔ تیسرا سوال یہ ہے کے موت کے بعد انسان کی روح کا مستقر جنت ہے یا دوزخ یا عالم برزخ ؟
بعض حضرات کا خیال ہے کہ موت کے بعد انسان اپنے اعمال کے مطابق روحانی طور پر جنت یا دوزخ میں چلا جاتا ہے ( قبر یا عالم برزخ میں نہیں جاتا ) ان کا استدلال درج ذیل آیات و احادیث سے ہے :
( الف )﴿ حَتَّىٰ إِذَا جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ قَالُوا أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ ۖ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا وَشَهِدُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا كَافِرِينَ﴿٣٧﴾قَالَ ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ فِي النَّارِ ﴾( الاعراف 37:38)
  • دسمبر
2007
محمد ارشد کمال
زیر نظر مضمون میں اِعادۂ روح سے ہماری مراد قبر میں منکر و نکیر کے سوالات کے وقت میت کی طرف اس کی روح کا لوٹایا جانا ہے اور علماے اہل سنت والجماعت کا بھی یہی مذہب ہے کہ دفن کے بعد میت کی طرف اس کی روح کو سوال و جواب کے وقت لوٹا دیا جاتا ہے۔ قبر میں سوالات کے وقت روح کا بدن میں لوٹایا جانا ایک ثابت شدہ امر ہے جس سے انکار کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں،
  • مئی
2006
عبدالرؤف
بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کے والد کے نام سے بلایا جائے گا یا والدہ کے نام سے ؟ استاذِ محترم شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہ اللہ کے فتـاویٰ ثنائیـہ مدنیـہ میں بھی یہ سوال موجود ہے اوراُنہوں نے اس کا مختصر سا جواب دیا ہے کیونکہ فتاویٰ کا عام طور پریہی اُسلوب ہے۔