• مارچ
1986
ابو حبیب
حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ ﷺتک اللہ کا دین ''اسلام'' ہی رہا ہے او راللہ تعالیٰ ہی نے اس کے ماننے والوں کانام مسلمان رکھا ہے۔ إِنَّ الدّينَ عِندَ اللَّـهِ الإِسلـٰمُ ۔۔۔هُوَ سَمّىٰكُمُ المُسلِمينَ لیکن اس ارشاد کا یہ مطلب قطعاً نہیں کہ اس دین کے نام لیواؤں کو کسی اور وصفی نام سے پکارنا منع ہے۔ کیونکہ قرآن و حدیث میں مختلف مناسبتوں سے انبیاؑء او ران کی امتوں کو دوسرے ناموں سے بھی پکارا گیا ہے۔ جیساکہ زیر نظر
  • مئی
1985
عبدالرشید عراقی
مولانا محمد سعید بنارسی (م1332ہجری)
کنجاہ ضلع گجرات (پنجاب) مولد ومسکن ہے۔پیدائشی سکھ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔مولاناشیخ عبیداللہ صاحب  تحفۃ الہند کی تبلیغ سے مشرف بااسلام ہوئے اورسیدھے دیو بند پہنچے۔یہاں علوم متعارفہ میں تحصیل کی اور بعدہ تحصیل حدیث شروع کی۔جس کی وجہ سے دیو بند سے جواب ہوگیا۔ادھرحضرت شیخ الکل حضرت میاں سید نزیر حسین صاحب محدث دہلوی ؒ کا فیضان جاری تھا۔سیدھے دہلی پہنچے۔تفسیر وحدیث پڑھی اورسند حاصل کی۔اسی زمانہ میں آپ کے والد نے حضر ت شیخ الکل کو ایک خط لکھا کہ:
"میں نے اپنے لڑکے کو ناز ونعمت سے پالا ہے۔اس کو نظر عنایت سے رکھئے گا۔"[1]
حضرت میاں صاحب اس خط کو پڑھ کر آبدیدہ ہوگئے۔
فقہ کی تعلیم مولانا عبداللہ غاذی پوری ؒ(م1337ہجری) سے حاصل کی۔
تکمیل تعلیم کے بعد مدرسہ احمدیہ آگرہ میں مولانا حافظ محمد ابراہیم آروی م1319ہجری کے اصرار پر تدریس فرمائی مگر کچھ عرصہ بعد مدرسہ احمدیہ سے  مستعفی ہوکر بنارس چلے آئے۔اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔1297ہجری میں مدرسہ سعیدیہ کی بنیاد رکھی جس میں مدتوں پڑھاتے رہے۔آپ سے بے شمار اصحاب نے استفادہ کیا ،جن میں سے بعض مسند تدریس کےوارث بھی بنے۔[2]
  • اپریل
1987
عبدالرشید عراقی
مولانا عبدالتّواب ملتان (م1366ھ) 1288ھ میں ملتان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد مولانا قمر الدین ملتانی سے حاصل کی۔اس کے بعد دہلی جاکر شیخ الکل مولانا سید محمدنذیر حسین محدث دہلوی (م1320ھ) سے حدیث کی سند لی۔تکمیل تعلیم کے بعد ملتان میں درس و تدریس شروع کی اور کتابوں کی خرید و فروخت اور اشاعت کا کاروبار شروع کیا۔ بیرون ملک سے کتب حدیث منگوا کر مستحق علماء میں مفت تقسیم کرنا آپ کا
  • جون
1987
ادارہ
قبل ازیں کُل پاکستان مدارس اہل حدیث کنونشن میں مندوبین کی تجاویز کا خلاصہ پیش کرچکے ہیں، جن کو مرتب و منظم کرنے او رعملی شکل دینے کا کام ممتاز علماء اور تجربہ کار اساتذہ پر مشتمل ایک نمائندہ پچیس رکنی کمیٹی کے سپرد ہوا تھا۔ جس کی ابتدائی سفارشات برائے نصاب بھی قارئین ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ بعدازاں متذکرہ بالا ''تجاویز کمیٹی'' نے دو اجلاسوں مورخہ 26۔اپریل اور 7 جون میں نصاب و نظام تعلیم کی وحدت کے لیے
  • جولائی
1987
ادارہ
تحقیق شرط لازم ہے: اصطلاحاً ''وہابی' نام رکھنا، نسبت و اعتقاد کے لحاظ سے اسی طرح غلط ہے جس طرح شیخ محمد اور ان کے متبعین کی طرف منسوب نظریات غلط تھے اور ان لوگوں نے اس سے براءت ظاہر کی ہے۔ سلفی عقیدے کے متلاشی دین اسلام کے دونوں سرچشموں: کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی ہدایات کا مقصد زیادہ بہتر سمجھتے ہیں، اس لیے یہ لقب ان لوگوں کے لیے ناگوار خاطر نہیں ہے کیونکہ وہ سمجھےا ہیں کہ جس
  • جولائی
1985
محمد سلیمان اظہر
مرزا غلام احمد نے بیان کیا ہے کہ:
"کسی شخص کو حضور ر سالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم  کی بارگاہ میں بحالت خواب حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔اس نے دیکھا کہ علماء ہند بھی حاضر دربار ہیں۔پھر مجھے(مرزا صاحب کو) بھی حاضر کیاگیا۔علماء نے میرے بارے میں بتایا کہ یہ شخص خود کومسیح کہتاہے۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری تکفیر پرعلماء کو مبارک باد دی اور مجھے جوتے لگوائے۔"
اس خواب کاتذکرہ کرنے کے  بعد مرزا صاحب نے اس کا  مضحکہ اڑایا ہے۔اور حاضرین مجلس کا بانداز تحقیر یوں ذکر کیا ہے:
" مولوی محمد حسین کی کرسی کے قریب ایک اور کرسی تھی جس پر ایک بڈھا نودسالہ بیٹھا ہوا تھا۔جسے لوگ نزیرحسین کہتے  تھے۔۔۔اور  سب سے پیچھے ایک نابینا وزیرآبادی تھا۔جس کو  عبدالمنان کہتے تھے۔اور اس کی کرسی سے"انا المکفر"کی زور  سے آواز آرہی تھی۔"[1]
  • جنوری
2017
عبدالحمید رحمانی
ایک مختصر نفسیاتی وتاریخی جائزہ
مولانا عبد الحمید رحمانی بر صغیر پاک و ہند کے جید علمامیں شمار ہوتے ہیں۔ جامعہ رحمانیہ بنارس پھر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فراغت کے بعد ملکی و عالمی سطح پر کئی ایک تنظیموں اور جماعتوں میں اہم عہدوں پر فائز رہے ۔ بزرگ علما کے منظورِ نظر تھے ، تو بعد والوں کی عقیدت و احترام کا محور ۔
  • اپریل
1987
اکرام اللہ ساجد
23 مارچ کی رات ظلمتوں کا پیغام لےکر آئی تو 24 مارچ کا سورج خون میں نہاکر نکلا۔ صبح صبح خبر ملی کہ رات اہل حدیث کے جلسہ میں بم کا دھماکہ ہوا، 6۔افراد موقع پر شہید ہوگئے، 100 کے قریب زخمی ہوئے جنہیں میوہسپتال کے ایمر جینسی وارڈ میں داخل کردیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ مولانا حبیب الرحمٰن یزدانی اورعلامہ احسان الٰہی ظہیر کی حالت نازک ہے۔ یہ روح فرسا اور ہولناک خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی او رہرطرف
  • مارچ
1987
اکرام اللہ ساجد
ملک و ملّت کو درپیش جغرافیائی، سیاسی، اخلاقی اور معاشرتی مسائل روز بروز سنگین صورت اختیارکرتے جارہے ہیں، اور اصلاح احوال کی کوئی بھی صورت نظر نہیں آتی۔ الّا یہ کہ اللہ رب العزّت کے حضور گڑ گڑا کر توبہ کی جائے اور ا س کے سچے پیامبر، رسول رحمت، محسن انسانیت، سرور عالم ﷺپر نازل ہونے ان آسمانی تعلیمات کو حرز جان بنا لیا جائے کہ جن کے باعث آج سے چودہ سو برس قبل سرزمین عرب کی خزاؤں کوبہاروں کا
  • ستمبر
2012
یوسف انور
عقیدۂ ختم نبوت ہر مسلمان پرواجب ہے ۔ اُمّتِ مسلمہ کی اجتماعیت اسی عقیدے سے وابستہ ہے۔ اگر کوئی شخص ختم نبوت کی نفی کرتا ہے یا اس میں کمی بیشی کا مرتکب ہوتا ہے تو گویا وہ اسلام کی خوبصورت عمارت میں نقب زنی کرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے :
﴿وَلـٰكِن رَ‌سولَ اللَّهِ وَخاتَمَ النَّبِيّـۧنَ......٤٠﴾..... سورة الاحزاب
  • اپریل
1987
بدیع الدین راشدی
حضرت مولانا سید ابومحمد بدیع الدین راشدی صاحب، صدر جمعیت اہل حدیث (صوبہ سندھ)نے مورخہ 4۔ اپریل 1987ء کو پریس کلب حیدر اباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جس کا متن درج ذیل ہے۔.......................... (ادارہ)جماعت اہل حدیث ایک ایسی جماعت ہے، جو رسول اکرم ﷺ کے دور سے چلی آرہی ہے۔ اس جماعت کا دستور صرف اور صرف کتاب و سنت ہے۔ ہر دور میں اس جماعت نے انہی دو چیزوں کا
  • جولائی
1996
عبدالرشید عراقی
انگریزی اقتدار کی آخری نصف صدی برصغیر کی مذہبی دنیا بہت ہنگامہ خیز گزری ہے۔اس دور میں برصغیر میں مناظروں کا بہت زور تھا۔علمائے اہل حدیث نے سینکڑوں تقریری اور تحریری مناظرے کئے،علمائے اہل حدیث میں مولانا ابو الوفاثناءاللہ امرتسری،مولانا ابوالقاسم بنارسی،مولانا محمد ابراہیم میری سیالکوٹی،مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی،مولانا محمد بشیر سہسوانی اور مولانا محمد جونا گڑھی نے بے شمار تقریری تحریری مناظرے قادیانیوں،آریوں،مقلدین احناف،منکرین حدیث،عیسائیوں اور شیعوں سے کئے۔ذیل میں چند مشہور تحریری مناظروں کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے:
مولانا عبدالحئی بڈہانوی:۔
مولانا شاہ عبدالئی بڈہانوی مولانا شاہد عبدالقادر دہلوی اور مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی کے شاگرد تھے اور مولانا شاہ محمد اسماعیل شہید دہلوی کے ہم درس تھے۔مولانا عبدالئی علوم اسلامیہ کے متبحر عالم تھے۔علامہ محسن بن یحییٰ بہاری فرماتے ہیں۔مولانا شاہ عبدالحئی حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی کے خلفاء   میں سے تھے،جملہ علوم الاسلامیہ بالخصوص فقہ میں ان کو کمال حاصل تھا۔8شعبان 1243ھ علاقہ سوات  بنیر  میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔
مناظرہ:۔
یہ رسالہ اس مناظرہ کی رواداد ہے۔جو مولانا عبدالحئی بڈہانوی اورمولانا رشید الدین کشمیری کے  مابین"شرک وبدعت" کے موضوع پر ہوا تھا۔
مولانا سید عبدالجبار سہسوانی:۔
مولانا سید عبدالباری 1226ھ میں پیدا ہوئے،مولانا سید امیرحسن سہسوانی سے جملہ  علوم اسلامیہ کی تعلیم حاصل کی اور حدیث کی سند شیخ الکل مولانا سید محمد نزیر حسین  دہلوی سے حاصل کی۔فن مناظرہ میں ان کو ید طولیٰ حاصل تھا۔عیسائیوں اور آریوں سے آپ کے بہت مناظرے ہوئے۔ادیان باطلہ میں انہیں کمال حاصل تھا۔سرسید احمد خاں اور مولانا سید نواب صدیق حسن خاں آپ کے علم وفضل کے معترف تھے۔9ذی الحجہ 1303ھ،8 ستمبر 1886ء کو آپ نے انتقال کیا۔
فتح المبین علی اعداء الدین:۔
یہ کتاب اس مناظرہ کی روداد ہ جو مولانا سید عبدالباری سہسوانی اور ایک  عیسائی پادری کے مابین ہواتھا۔عنوان مناظرہ مسئلہ توحید وتثلیث تھا۔
  • اکتوبر
1994
عبدالرشید عراقی
ماضی میں علمائے اہل حدیث نے برصغیر پاک وہند میں دین اسلام کی نشر واشاعت ،کتاب وسنت کی نصرت وحمایت اور شرک وبدعت کی تردید وتوبیخ اور ادیان باطلہ کے خلاف جو علمی کارنامے سرانجام دئیے،وہ ہماری تاریخ اہل حدیث کاایک روشن باب ہے۔
قیام پاکستان سے پہلے ہندوستان میں عیسائی قادیانی آریہ اور منکرین حدیث ایسے گروہ تھے جنہوں نے اسلام کے خلا ف ایک محاذ قائم کیا ہوا تھا ۔علمائے اہلحدیث نے ان کے خلا ف ہر محاذ پر مقابلہ کیا ان سے منا ظرے بھی کئے اور ان کے خلا ف کتابیں بھی لکھیں ۔دوسری طرف علمائے اہلحدیث نے علمی و دینی اور تحقیقی خدمات بھی سر انجا م دیں ۔قرآن مجید کے تراجم بھی کئے اور تفاسیر بھی لکھیں ۔حدیث کی عربی اور اردومیں شرحیں لکھیں فقہ عقائد ،تاریخ اور سیرت نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم   پر متعدد کتابیں تصنیف کیں ۔اس کے علاوہ علمائے اہلحدیث نے اپنے مدارس قائم کر کے کتاب و سنت کی نشرواشاعت میں ایک مثالی کا ر نامہ سر انجام دیا اور پورے برصغیر میں پھیل کرکتاب و سنت کی اشاعت اور شرک و بدعت کی تردید کی۔
  • جولائی
1987
طیب شاہین لودھی
مسئلہ تقلید و اجتہاد اسی زمانے سے معرکة الآراء موضوع بنا ہوا ہے، جب سے اُمت مسلمہ نے بقول مقلدین''تقلید و جمود'' پر اجماع کرلیا ہے۔ کہنے کو تو یہ حضرات کہہ دیتے ہیں کہ ائمہ اربعہ کے عہد کے اختتام پر تمام اُمت نے ان ائمہ کی تقلید پر اتفاق کرلیاتھا، مگر تاریخ کے اوراق ان کے اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ چوتھی صدی ہجری کے اوائل سے لے کر آج تک ہر زمانے میں مقلدین کے علاوہ اہل علم کی ایک معتدبہ
  • اگست
1987
طیب شاہین لودھی
امام ابن خزیمہ کے بارے میں علامہ ابن قیم لکھتے ہیں:''امام محمد بن اسحاق ابن خزیمہ، جو امام الائمہ کے لقب سے ملقب ہیں، فرماتے ہیں کہ ''جب رسول اللہ ﷺ کی حدیث ثابت ہو جائے تو آپؐ کی حدیث کے ساتھ کسی کے قول کی کوئی اہمیت نہیں۔''............ امام ابن خزیمہ مقلد نہ تھے وہ ایک مستقل امام تھے۔ بہت .............. سےمحدثین اپنے آپ کو ابن خزیمہ سے منسوب کرتے تھے۔ چنانچہ........... بیہقی نے ''''المدخل'' میں
  • مئی
2002
عبدالرشید عراقی
عموماً دونظام ہائے تعلیم کو مسلمانانِ برصغیر کے تعلیمی رجحانات کی بنیاد بنایا جاتا ہے، ایک مدرسہ علی گڑھ اور دوسرا دار العلوم دیوبند۔ انہی کے حوالے سے آگے تعلیمی اور فکری ارتقا کی بحث کی جاتی ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ دینی مدارس اور سکول وکالج کا یہی نقطہ آغاز تھا۔ جبکہ تاریخی طور پر یہ بات درست نہیں،
  • مئی
1987
عبدالسلام فتح پوری
''وفاق المدارس السلفیہ پاکستان '' کی اہمیت ظاہر و باہر ہے۔ گورنمنٹ پاکستان نے اس کے آخری امتحان کو ایم۔اے کے مساوی تسلیم کیاہے۔ تاہم اس کی سند کی معیاری حیثیت عملاً اسی وقت تسلیم کروائی جاسکتی ہے، جبکہ اس آخری امتحان سے قبل کے تین امتحانات مساوی میٹرک، ایف۔اے اور بی ۔ اے کی اسناد کا اجراء بھی کیا جائے او رجس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ تمام اہلحدیث مدارس کےان چاروں تعلیمی مراحل یعنی میٹرک،