• اگست
1984
اکرام اللہ ساجد
ایک شوراٹھا،ایک طوفان برپا ہوا کہ"عورت کی نصف گواہی نا منظور!" اور وہ جو ہمیشہ سے عورت کو چراغِ خانہ کی بجائے شمع محفل بنانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔چادر اور چار دیواری کے تقدس کو اپنی عیاشیوں کے راستے کا روڑا خیال کرتے۔اور کتاب وسنت کی فضاؤں میں اپنی خواہشات کا دم گھٹتا محسوس کرتے تھے۔اس نعرہ"مستانہ" کو سن کر میدان میں آگئے۔
  • دسمبر
2014
حسن مدنی
کیا غیرت کے نام پر ہونے والے ہر قتل کی سزا قصاص ہے؟

اسلام اور اس کی جدید تجربہ گاہ کے نام پر سینۂ ارضی پر وجود میں آنے والی ریاست پاکستان اپنے قیام کے 65 برس بھی تشخص اورشناخت کے بحران میں مبتلا ہے۔ عظیم اکثریت کا نمائندہ طبقۂ اہل علم اس ملک کو اس کی اصل بنیاد اور اسلامی تقاضوں کی طرف لے جانا چاہتا ہے
  • مئی
2010
ادارہ
قرآن وسنت کو پاکستان کا بالا تر(Supreme)قانون بنانا مقصود ہے اورآئین کی نویں ترمیم چونکہ شریعت کے مطابق قانون سازی کے تقاضے پورے نہیں کرتی، اس لیے ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس (پا کستان زون)نے آئین میں ترمیم کے لیے حسب ِذیل سفارشات مرتب کی ہیں تا کہ نویں آئینی ترمیمی بل کو اس کے مطابق بنایا جائے یا پھر اس کو پرائیویٹ بل کی صورت میں قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے۔
  • مئی
  • جون
1979
برق التوحیدی
قاضی بشیر احمد صاحب نے اپنے مضمون کی قسط 12 سے احکام صلح کے متعلق خامہ فرسائی شروع کی ہے لیکن آپ اس مبحث میں بھی تضاد ، لغت دانی اور حدیث شناسی کے متعدد عجوبے او رنمونے پائیں گے۔ چنانچہ موصوف تشریح 12 ش 4 میں فرماتے ہیں۔ اگر مجنون کو قصاص کا حق حاصل ہو خواہ قصاص نفس کا ہو یا دون النفس کا تو اس کے باپ دادا کو اختیار ہوگا کہ وہ مجنون کی جانب سے قصاص لیں اور اس کو صلح کرنے کابھی اختیار ہے البتہ وہ معاف کرنے کا مجاز نہ ہوگا۔ ''
  • جولائی
  • اگست
1979
برق التوحیدی
قولہ: قاضی صاحب موصوف نے دفعہ نمبر 6 ش12 میں لکھا ہے کہ ''مرد اور عورت کے درمیان نفس سے کم میں قصاص جاری نہ ہوگا۔'' (ترجمان القرآن جلد 90 ع 4 ص21)

اقول: اس مسئلہ میں احناف او رمالکیہ و شوافع کے درمیان اختلاف ہے او راس اختلاف کی اصل بنیاد اس بات پر ہ کہ کیا عورت او رمرد کے اعضاء میں مماثلت ہے یا نہیں؟ احناف کے نزدیک یہ مماثلت مفقود ہے جبکہ جمہور کے نزدیک مماثلت و مساوت موجود ہے۔
  • نومبر
2003
ظفر علی راجا
جب سے نئی اسمبلیاں تشکیل پائی ہیں ، ایل ایف او کا بحران شدید سے شدید تر ہوتا جارہا ہے، متحدہ مجلس عمل اور دیگرسیاسی جماعتوں کے آئے دن حکومت سے مذاکرات کی خبریں اخبارات میں چھپتی رہتی ہیں لیکن مذاکرات کا یہ اونٹ ابھی تک کسی کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آتا۔ ایل ایف او کیا ہے؟ اور دینی وسیاسی جماعتوں کو اسے تسلیم کرنے میں کن مشکلات کا سامنا ہے؟
  • جون
2005
حافظ ثناء اللہ مدنی
گذشتہ دنوں امريكہ ميں ايك مسلم خاتون نے جرأتِ رندانہ سے كام لے كر مردوں اور عورتوں كى ايك مخلوط جماعت كى امامت كيا كى كہ پورى دنيا ميں اس كى مخالفت اور حمايت كا بازار گرم ہوگيا- علمااور فقہا نے اس كے خلاف فتوے ديے اور اسے ناجائز عمل بتايا تو روشن خيال مسلم دانشوروں نے اس كى حمايت كى اور اسے ايك انقلابى اقدام قرار ديا-
  • جون
2005
حسن مدنی
18/مارچ 2005ء كو نيويارك كے ايك چرچ ميں ڈاكٹر امينہ ودود نے جمعہ كى خطابت اور اس كے بعد نمازكى امامت كرا كے ذرائع ابلاغ ميں ايك نئى بحث كا آغاز كرديا- اس سے اگلے جمعے 25/مارچ كو كينيڈا ميں بهى سليمہ علاؤ الدين نامى ايك عورت نے جمعہ كے ايسے ہى ايك اجتماع كى امامت وخطابت كى- پہلے اجتماع ميں 120 اور دوسرے ميں 200 كے لگ بھگ مرد و زَن نے شركت كى-
  • ستمبر
1983
اکرام اللہ ساجد
دور حاضر کا ایک بہت بڑا فتنہ مغربی سیاست کے تسلط کے باعث ذہنی مرعوبیت بلکہ ذہنی غلامی کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی معروف اسلامی فکر کا ٹکراؤ مغرب کے فریب خوردہ ذہن سے ہوتا ہے تو کوشش یہ کی جاتی ہے کہ کسی طرح اسلامی نقطہ نظر کی ہم آہنگی مغربی نظریات سے تلاش کی جائے جس کے بعث نہ صرف تاویل و الحاد کا دروازہ کھل جاتا ہے بلکہ اصل اسلامی فکر پس پردہ چلا جاتا ہے اور ایک بالکل غلط نظریہ  
  • جنوری
2001
محمد رفیق چودھری
اللہ تعالیٰ کالاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے آج ہمیں یہاں ایک ایسے مقصد کی خاطر جمع کیاجس کا تعلق امت ِ مسلمہ کے تشخص، اس کے اجتماعی مفادات، ملی نصب ُالعین اور اس سے وابستہ سوا اَرب انسانوں کے حال اور مستقبل سے ہے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کافضل و کرم ہے کہ آج کی مضطرب دنیا میں کچھ دردمند حضرات کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ انہوں نے اس عالمی مجلس کا اہتمام کیا
  • مئی
1973
عبدالعزیز کھلنوی
اُمت مسلمہ بڑی مشقت سے بنی ہے، اس کو امت بنانے میں حضور ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے بڑی مشقتیں اُٹھائی ہیں اور اُن کے دشمنوں یہود و نصاریٰ نے ہمیشہ اس کی کوششیں کی ہیں کہ مسلمان ایک امت نہ رہیں بلکہ ٹکڑے ٹکڑے ہوں۔ اب مسلمان اپنے اُمّت ہونے کی صفت کھو چکے ہیں۔ جب تک یہ اُمّت بنے ہوئے تھے چند لاکھ ساری دنیا پر بھاری تھے۔ ایک پکّا مکان نہیں تھا۔ مسجد تک پکی نہیں تھی۔
  • جنوری
1978
ادارہ
بنی اسرائیل میں ایک شخص قتل ہوگیا۔ قاتل کی تلاش شروع ہوگئی تو بات یہاں آکر رُکی کہ ایک ''گائے'' کوذبح کرکے اس کا ایک عضو مقتول کو لگایا جائے، قاتل کاسراغ مل جائے گا، بات سیدھی اور صاف تھی، چاہتےتو کوئی سی گائے ذبح کرکے اپنامقصد حاصل کرسکتے تھے، لیکن اصل بات ذہنیت اور نیت کےفتور کی تھی، اس لیے ''چونکہ چنانچہ'' کے ہیرپھیر میں رہے۔ اس سلسلے کااگر آخری موقع کھو دیتے تو پھر اس کا فیصلہ قیامت کو ہی ہوتا۔
  • جنوری
1993
ثریا بتول علوی
موجودہ دور میں عالمی میڈیا پر صیہونیت کی حکمرانی ہے۔ ان کے ناپاک عزائم میں اُمت مسلمہ کو جہاں ہر محاذ پر نیچا دکھانا ہے وہاں مسلمانوں کے قلوب میں ان کے دین کی بابت بدگمانی راسخ کرنا بھی ایک بھرپور مشن ہے۔ ''حدود اسلامی'' کے ضمن میں بین الاقوامی میڈیا کافی عرصہ سے یہ پراپیگنڈہ کررہا ہے کہ ''اسلامی سزائیں وحشیانہ اور دور ظلم کی یادگار ہیں۔''حال ہی میں پاکستان میں بھی اس پراپیگنڈہ کی بازگشت سنائی دی، اور بعض طبقات اس آواز سے متاثر ہوکر اس نظریہ کی اشاعت میں بھی
  • اگست
2009
زاہد صدیق مغل
اسلام فرد کی آزادی کا حامی ہے یا انفرادی آزادی کی تقدیس اسلام کا اہم اُصول ہے۔اسلام فرد کے اس حق کو مانتا ہے کہ وہ خیر و شر کی جو تعبیر اختیار کرنا چاہے، کرے۔اسلام غیر مسلموں کو مساوی معاشرتی حیثیت دیتا ہے ۔اسلام امن و رواداری کا مذہب ہے ۔
  • مئی
2009
زاہد صدیق مغل
اسلام عدل اور متوازن عمل کا مذہب ہے یا توازن اور عدل کا حصول شریعت کا اہم مقصد ہے۔شریعت ہر طریقے میں انصاف اور عدل کے راستے کا انتخاب کرتی ہے۔فلاں بات یا کام شریعت کی غلط تعبیر ہے، کیونکہ یہ عدل کے خلاف ہے۔اسلام دین فطرت ہے یا دین کی ہر بات فطرتِ انسانی کے مطابق ہوتی ہے۔فلاں بات یا کام شریعت نہیں ہو سکتی، کیونکہ یہ فطرتِ انسانی کے خلاف ہے اور اسلام دین فطرت ہے۔
  • مئی
2010
ادارہ
۳۰؍ اگست ۱۹۸۶ء کو لاہور میں 'متحدہ شریعت محاذ پاکستان' کے زیر اہتمام جملہ دینی مکاتبِ فکر کی نمائندہ کمیٹی نے شریعت بل کے ترمیم شدہ مسودے پر اتفاق کیا اور مؤرخہ ۲۶ء اکتوبر ۱۹۸۶ء جامعہ نعیمیہ، لاہور میں ہزاروں اور مشائخ کے عظیم الشان کنونشن میں مولانا سمیع الحق کی طرف سے، قاضی عبد اللطیف کی تائید سے ترمیمی شریعت بل کے لئے قرار داد پیش کی گئی جو متفقہ طور پر منظور ہوئی۔
  • ستمبر
2006
محمد آصف احسان
اس حقیقت سے ہر صاحب ِفہم و ذکالازمی طور پراتفاق کرے گاکہ اخلاقی بے راہ روی اور مادر پدر آزادی حضرت انسان کو 'اشرف المخلوقات' کے رتبہ ٔ عالی شان سے گرا کر عقل و شعور سے عاری حیوانات کی صف میں لاکھڑا کرتی ہیں اور انسان کی سماجی زندگی کے ان گوناگوں محاسن و محامد کو پیوند ِخاک کردیتی ہیں جو جملہ بشریت کا اندوختہ گراں مایہ اور اثاثہ ٔ بے مثل ہیں ۔
  • جون
2006
عبد الرحمن مدنی
انصاف: حدود اللہ اور حدود آرڈیننس میں آپ کیا فرق سمجھتے ہیں ؟
مولانا مدنی:حدود اللہ سے مراد وہ سزائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمائی ہیں تاکہ معاشرے سے بدکاری اور بے حیائی ختم ہو اور لوگ امن و امان اور عزت سے زندگی گزار سکیں ۔ اللہ تعالیٰ کل انسانیت کے خالق ہیں اور اللہ کو ہی بہتر علم ہے کہ انسانی معاشرے کو بگاڑ سے بچانے کا طریق کارکیا ہے؟ وہ علاج اللہ نے کتاب و سنت کی شکل میں ہمیں دیا ہے جس میں حدود اللہ بھی شامل ہیں ۔ 
  • اگست
2006
عبد الرحمن مدنی
1979ء میں نفاذِ شریعت کے پیش نظرپانچ آرڈیننس جاری کئے گئے تھے جن میں سے آرڈیننس نمبرVIIجرمِ زنا سے متعلق ہے اور جرمِ قذف (تہمت ِزنا) وغیرہ سے تعلق رکھنے والا آرڈیننسVIIIہے۔ اس وقت جرمِ زنا آرڈیننس نمبرVIIزیر بحث ہے اور کسی قدر جرمِ قذف آرڈیننس VIII...جو مستقل قانون ہے... کو بھی لپیٹ میں لیا جارہا ہے۔
  • ستمبر
2006
حسن مدنی
آخر کارحدود آرڈیننس میں اس 'روشن خیال 'ترمیم کے چہرے سے پردہ اُٹھ ہی گیا جس کے بارے میں تمام ذمہ داران کو اسمبلی میں باقاعدہ پیش ہونے سے قبل مخفی رکھنے کی تاکید کی گئی تھی۔ اور اس ترمیمی بل کے لئے فضا کو ساز گار بنانے کے غرض سے 3 ماہ سے قوم کو مضحکہ خیز اور یک طرفہ پروپیگنڈ ے کے بخار میں مبتلا کیا گیا تھا جس پر بظاہر تو ایک اخباری گروپ نظر آرہا تھا لیکن اس کی پشت پناہی کے لئے حکومت کی پوری ابلاغی مشینری متحرک تھی۔
  • جنوری
2004
ظفر علی راجا
2003ء میں وطن ِعزیز کو جہاں آئین اور جمہوریت کے حوالے سے گونا گوں صدمات برداشت کرنا پڑے، وہاں پاکستان میں 1980ء کی دہائی میں نافذ ہونے والے اسلامی قوانین پر بھی مغرب نواز حلقوں کی جانب سے حکومتی سطح پر نفوذ کرنے اور ان قوانین کو ختم کروانے کی مؤثر کوششیں کی گئیں ۔
  • جون
2006
حسن مدنی
پاکستان اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا اور اسلام کی رو سے کسی مملکت کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے میں بنیادی اہمیت اس امر کو حاصل ہے کہ وہاں اللہ کا قانون نافذ ہو اور عدل وانصاف کے لئے اللہ کی قائم کردہ میزان پر فیصلے کئے جاتے ہوں۔ قیامِ پاکستان کے کئی عشروں بعد اسلامیانِ پاکستان کو اس امر کی توفیق ملی کہ وہ مملکت ِخداداد میں بعض اسلامی قوانین کا نفاذ (گو بظاہرہی) کرسکیں۔ پاکستان میں اسلامی قوانین کو لاگو کرنے کے لئے اب تک تین آرڈیننس نافذ کئے جا چکے ہیں
  • اپریل
1986
عبدالغفار حسن
حد ِ رجم کے بارے میں ایک مسلک تو یہ ہے کہ شادی شدہ زانی کے لیے رجم ہے او رغیر شادی شدہ کے لیے سو کوڑے ہیں۔ اس مسلک کی طرف اشارات قرآن مجید میں ملتے ہین، جن کی تفصیل ایک الگ مستقل مضمون میں بیان کی جائے گی۔ ان شاء اللہ اور احادیث میں صراحت کے ساتھ حدِ رجم کا بیان موجود ہے۔ تقریباً چالیس صحابہؓ سے رجم کی روایات ملتی ہیں۔ پھر ہر دور میں ان روایات کو نقل کرنے والے کثیر تعداد میں پائے
  • مئی
1986
عبدالغفار حسن
رسالہ ''تدبر'' شمارہ 3 صفحہ 33 پر سنن ابی داؤد کے حوالے سے حدیث بیان کی گئی ہے کہ:(ترجمہ) '' اس واقعہ (ماعزؓ کے رجم ہونے) کے بعد حضورﷺ نے اپنے اصحاب میں سے دو آدمیوں کو ایک دوسرے سے یہ کہتے ہوئے سنا: اس بدبخت کو دیکھو، اللہ نے اس کا پردہ ڈھانکے رکھا تھا، لیکن اس کے نفس نے اس کو نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ کتے کی طرح سنگسار کردیا گیا۔''لیکن اس حدیث کے آخری جملے چھوڑ دیئے گئے
  • اکتوبر
2007
صلاح الدین یوسف
وطنِ عزیز کے حالیہ المناک حالات بلاشبہ بداعمالیوں اور کوتاہیوں کا لازمی نتیجہ ہیں ۔ جن دشمنوں کو خوش کرنے کے لئے اپنوں کو بے دردی سے ہلاکت وبربادی کی بھینٹ چڑھایا گیا، آج وہی عراق وافغانستان کی طرح اُسامہ بن لادن کی یہاں موجودگی کا الزام لگاتے ہوئے ہم پر حملہ کے لئے پر تول رہے ہیں ۔